🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرت_سیدتنا_رقیہ ❶ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَـا
#فیضان_حضرت_سیدتنا_رقیہ ❸
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَـا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَـا
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍1
حضرت مولانا محمد عابد لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا محمد عابد لاہوری:
بڑے عالم فاضل، فقیہ، اہل بیت علم سے تھے یہاں تک کہ علم و عمل اور ورع و تقوےٰ میں علمائے عصر اور اولیائے وقت سے سبقت لے گئے تھے ۔ آپ کا نسب آبائی حضرت ابا بکر صدیق پر منتہیٰ ہوتا ہے، ہر رات نماز تہجد میں ساٹھ دفعہ سورۂ یٰس پڑھتے تھے اور مرض الموت میں جو آپ کو اسہال کی بیماری تھی آپ نے ہر رات نماز تہجد میں ۳۵ بار سورۂ یٰسن اور ۲۰ ہزار بار ذکر کلمۂ طیبہ اور ہزار بار ذکر نفی واثبات بہ حبس دم اور تلاوت ایک منزل قرآن شریف و ہزار بار درو شریف روز مرہ وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا۔آپ کے حلقۂ مجلس میں روزانہ قریب دوسو کے علماء وصلحاء بیٹھا کرتے تھے ۔آپ نہایت اشتیاق سے پا پیادہ لاہور سے حرمین شریفین میں پہنچے اور حج و زیارت روضہ رسول مقبول سے مشرف ہوکر واپس آئے اور اٹھارہویں ماہ رمضان ۱۱۶۰ھ میں لاہور میں وفات پائی ۔ ’’فخر بزرگان‘‘ تاریخ وفات ہے ۔ تصنیفات بھی آپ نے بہت کی جس میں سے حاشیہ بیضاوی نا تمام، شرح خلاصہ کیدانی بزبان فارسی، شرح قصیدہ بانت سعاد، رسالہ دربارہ وجوہ اعجاز قرآن، رسالہ فی الاربعۃ الاحتیاط بعد صلوٰۃ الجمعہ، العشرہ المبشرۃ فی فضائل الامۃ المرحومۃ [1] مشہور و معروف ہیں۔
1۔ سید عبد الحی ھسنی رائے بریلوی نے نزہۃ الخواطر میں لکھا ہے کہ ان تمام تصانیف کا ذکر حدائق الحنفیہ کے علاوہ اور کسی کتاب میں نہیں ملتا ۔ (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-abid-lahori
مولانا محمد عابد لاہوری:
بڑے عالم فاضل، فقیہ، اہل بیت علم سے تھے یہاں تک کہ علم و عمل اور ورع و تقوےٰ میں علمائے عصر اور اولیائے وقت سے سبقت لے گئے تھے ۔ آپ کا نسب آبائی حضرت ابا بکر صدیق پر منتہیٰ ہوتا ہے، ہر رات نماز تہجد میں ساٹھ دفعہ سورۂ یٰس پڑھتے تھے اور مرض الموت میں جو آپ کو اسہال کی بیماری تھی آپ نے ہر رات نماز تہجد میں ۳۵ بار سورۂ یٰسن اور ۲۰ ہزار بار ذکر کلمۂ طیبہ اور ہزار بار ذکر نفی واثبات بہ حبس دم اور تلاوت ایک منزل قرآن شریف و ہزار بار درو شریف روز مرہ وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا۔آپ کے حلقۂ مجلس میں روزانہ قریب دوسو کے علماء وصلحاء بیٹھا کرتے تھے ۔آپ نہایت اشتیاق سے پا پیادہ لاہور سے حرمین شریفین میں پہنچے اور حج و زیارت روضہ رسول مقبول سے مشرف ہوکر واپس آئے اور اٹھارہویں ماہ رمضان ۱۱۶۰ھ میں لاہور میں وفات پائی ۔ ’’فخر بزرگان‘‘ تاریخ وفات ہے ۔ تصنیفات بھی آپ نے بہت کی جس میں سے حاشیہ بیضاوی نا تمام، شرح خلاصہ کیدانی بزبان فارسی، شرح قصیدہ بانت سعاد، رسالہ دربارہ وجوہ اعجاز قرآن، رسالہ فی الاربعۃ الاحتیاط بعد صلوٰۃ الجمعہ، العشرہ المبشرۃ فی فضائل الامۃ المرحومۃ [1] مشہور و معروف ہیں۔
1۔ سید عبد الحی ھسنی رائے بریلوی نے نزہۃ الخواطر میں لکھا ہے کہ ان تمام تصانیف کا ذکر حدائق الحنفیہ کے علاوہ اور کسی کتاب میں نہیں ملتا ۔ (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-abid-lahori
scholars.pk
Abid Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید نصیر الدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید نصیر الدین محمود ۔لقب: چراغ دہلی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ سید نصیر الدین چراغ دہلی بن سید یحیٰ بن سید عبد اللطیف یزدی ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا خاندانی تعلق حسنی ساداتِ کرام سے ہے ۔ آپ کے جد امجد خراسان سے لاہور تشریف لائے، اور پھر لاہور سے ہجرت کرکے اودھ مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ (خزینۃ الاصفیاء:219)
چراغ دہلی کی وجہ تسمیہ:
لقب ’’چراغ دہلی‘‘ کی وجہ بعض سیرت نگاروں نے یہ لکھی ہے کہ ایک دن چند درویش سیر و سیاحت کرتے ہوئے حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کی خدمت میں پہنچے اور آپ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں حضرت خواجہ نصیر الدین محمود تشریف لائے اور کھڑے ہو گئے ۔ حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا بیٹھ جاؤ آپ نے عرض کیا کہ درویش بیٹھے ہوئے ہیں انکی طرف پشت ہوتی ہے ۔ حضرت اقدس نے فرمایا چراغ کے لیے پشت اور منہ نہیں ہے ۔ آپ حضرت محبوب الہی کا حکم مان کر بیٹھ گئے ۔ اُسی دن سے آپکے آگے اور پیچھے کی سمت برابر ہو گئی ۔ یعنی سامنے اور پیچھے کی طرف یکساں دیکھ سکتے تھے اور اُسی روز سے آپ کا لقب چراغ دہلی ہو گیا ۔ ایک اور کتاب میں اس لقب کی وجہ یہ درج کی گئی ہے کہ ایک رات حضرت سلطان المشائخ کے عرس کے موقع پر بادشاہِ وقت نے حسد کی بنا پر بازار میں سارا تیل ضبط کر لیا اور حضرت شیخ نصیر الدین محمود نے تمام چراغوں کو پانی سے روشن فرمایا ۔ اُسی روز سے آپ کا لقب چراغ دہلی ہو گیا ۔ (اقتباس الانوار ص:482)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 673ھ، مطابق 1274ء کو ’’فیض آباد‘‘ یوپی (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی عمر شریف نو سال کی تھی کہ والد گرامی کا انتقال ہوگیا، آپ کی تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری آپ کی والدہ محترمہ پر آگئی۔آپ کی والدہ محترمہ سیدہ زمانہ اور عارفہ وقت تھیں،انہوں نے آپ کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی۔علوم ِ دینیہ مولانا عبد الکریم شیروانی سے حاصل کیے،ان کے وصال کےبعد مولانا سید افتخار الدین گیلانی سے تکمیل فرمائی۔آپ علیہ الرحمہ تمام علوم ظاہرہ کے ماہر اکمل تھے۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ میں قطب الوقت، محبوب الہی، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء بدایونی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافتِ عالیہ سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
پیشوائے مشائخِ کبار، مستغرق در بحر اسرار، سلطان الاصفیاء، چراغِ شریعت و طریقت، چراغِ چشت اہل بہشت، صاحبِ مقاماتِ مسعود، حضرت خواجہ سید نصیر الدین چراغ محمود چشتی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ، اور ہندوستان کے اکابر اولیاء میں ہوتا ہے ۔ حضرت محبوب الہی علیہ الرحمہ کے بعد آپ ہی کا نام نامی اسم گرامی آتا ہے ۔
آپ نے سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے فروغ میں بڑا کردار ادا کیا ۔ نوجوانی میں ہی ترک و تجرید کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے محاسنِ اخلاق اور مجاہدٔہ نفس کی روشنیاں ظاہر ہونے لگیں سنِ بلوغت کے بعد ایک نماز بھی جماعت کے بغیر ادا نہ کی اور ہمیشہ روزہ رکھتے تھے ۔ (خزینۃ الاصفیاء:219)
آپکی شان بہت بلند، علم بے پایاں اور احوال (پوشیدہ) کے مالک تھے اور ابتدائے سلوک سے لے کر انتہا تک مسلسل ریاضت و مجاہدات میں مشغول رہے۔تسلیم و رضا میں آپ کا ثانی نہیں تھا ۔ آپ حضرت سلطان المشائخ کے بزرگ ترین خلیفہ ہیں اور آپ کے وصال کے بعد دہلی میں آپ سجادۂ خلافت پر متمکن ہوکر ایک جہان کے لیے منبع رشد و ہدایت بنے رہے ۔ اور بے شمار بزرگوں کو آپکے فیض صحبت سے مرتبہ تکمیل و ارشاد حاصل ہوا ۔
مرآ ۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی قدس سرہٗ نے پچیس سال کی عمر میں مجاہد ہنفس شروع کیا اور ساری عمر سخت ریاضت و مجاہدہ میں گذاری ۔ آپ سات سال تک ایک درویش کے ساتھ اس علاقے کے جنگلوں میں مجاہدی کرتے رہے اور اکثر اوقات آپ سنبھالو اور کریل کے پتوں سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ اکتالیس سال کی عمر میں اپ اودھ سے دہلی پہنچے اور حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہو کر شرف بیعت حاصل کیا ۔ اور مدت دراز تک حضرت شیخ کی خدمت میں کمر بستہ رہے ۔ حضرت شیخ نصیر الدین قدس سرہٗ اپنے شیخ کی محبت میں اس قدر بے اختیار تھے کہ اپنے ارادہ اور اختیار کو بالکل ترک کر کے حضرت شیخ کی ذات با برکات کے سوا ہر مطلب و مقصد سے فارغ ہوگئے تھے ۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت شیخ نصیر الدین کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ سے باریابی نصیب ہوئی (یعنی انکی روحانیت سے) تو فرمان ہوا کہ جو کچھ مانگتے ہو مانگو۔ آپ نے درخواست کی کہ ہمارا پیر قطب جہاں بن جائے۔ فرمان ہوا کہ تمہارے پیر کو ہم نے قطب ِجہان بنادیا اور یہ فرمان تین مرتبہ ہوا ۔ (اقتباس الانوار:483) ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: سید نصیر الدین محمود ۔لقب: چراغ دہلی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ سید نصیر الدین چراغ دہلی بن سید یحیٰ بن سید عبد اللطیف یزدی ۔ علیہم الرحمہ ۔
آپ کا خاندانی تعلق حسنی ساداتِ کرام سے ہے ۔ آپ کے جد امجد خراسان سے لاہور تشریف لائے، اور پھر لاہور سے ہجرت کرکے اودھ مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ (خزینۃ الاصفیاء:219)
چراغ دہلی کی وجہ تسمیہ:
لقب ’’چراغ دہلی‘‘ کی وجہ بعض سیرت نگاروں نے یہ لکھی ہے کہ ایک دن چند درویش سیر و سیاحت کرتے ہوئے حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کی خدمت میں پہنچے اور آپ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں حضرت خواجہ نصیر الدین محمود تشریف لائے اور کھڑے ہو گئے ۔ حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا بیٹھ جاؤ آپ نے عرض کیا کہ درویش بیٹھے ہوئے ہیں انکی طرف پشت ہوتی ہے ۔ حضرت اقدس نے فرمایا چراغ کے لیے پشت اور منہ نہیں ہے ۔ آپ حضرت محبوب الہی کا حکم مان کر بیٹھ گئے ۔ اُسی دن سے آپکے آگے اور پیچھے کی سمت برابر ہو گئی ۔ یعنی سامنے اور پیچھے کی طرف یکساں دیکھ سکتے تھے اور اُسی روز سے آپ کا لقب چراغ دہلی ہو گیا ۔ ایک اور کتاب میں اس لقب کی وجہ یہ درج کی گئی ہے کہ ایک رات حضرت سلطان المشائخ کے عرس کے موقع پر بادشاہِ وقت نے حسد کی بنا پر بازار میں سارا تیل ضبط کر لیا اور حضرت شیخ نصیر الدین محمود نے تمام چراغوں کو پانی سے روشن فرمایا ۔ اُسی روز سے آپ کا لقب چراغ دہلی ہو گیا ۔ (اقتباس الانوار ص:482)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 673ھ، مطابق 1274ء کو ’’فیض آباد‘‘ یوپی (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی عمر شریف نو سال کی تھی کہ والد گرامی کا انتقال ہوگیا، آپ کی تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری آپ کی والدہ محترمہ پر آگئی۔آپ کی والدہ محترمہ سیدہ زمانہ اور عارفہ وقت تھیں،انہوں نے آپ کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی۔علوم ِ دینیہ مولانا عبد الکریم شیروانی سے حاصل کیے،ان کے وصال کےبعد مولانا سید افتخار الدین گیلانی سے تکمیل فرمائی۔آپ علیہ الرحمہ تمام علوم ظاہرہ کے ماہر اکمل تھے۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ میں قطب الوقت، محبوب الہی، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء بدایونی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافتِ عالیہ سے مشرف کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
پیشوائے مشائخِ کبار، مستغرق در بحر اسرار، سلطان الاصفیاء، چراغِ شریعت و طریقت، چراغِ چشت اہل بہشت، صاحبِ مقاماتِ مسعود، حضرت خواجہ سید نصیر الدین چراغ محمود چشتی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ کا شمار سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ، اور ہندوستان کے اکابر اولیاء میں ہوتا ہے ۔ حضرت محبوب الہی علیہ الرحمہ کے بعد آپ ہی کا نام نامی اسم گرامی آتا ہے ۔
آپ نے سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے فروغ میں بڑا کردار ادا کیا ۔ نوجوانی میں ہی ترک و تجرید کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے محاسنِ اخلاق اور مجاہدٔہ نفس کی روشنیاں ظاہر ہونے لگیں سنِ بلوغت کے بعد ایک نماز بھی جماعت کے بغیر ادا نہ کی اور ہمیشہ روزہ رکھتے تھے ۔ (خزینۃ الاصفیاء:219)
آپکی شان بہت بلند، علم بے پایاں اور احوال (پوشیدہ) کے مالک تھے اور ابتدائے سلوک سے لے کر انتہا تک مسلسل ریاضت و مجاہدات میں مشغول رہے۔تسلیم و رضا میں آپ کا ثانی نہیں تھا ۔ آپ حضرت سلطان المشائخ کے بزرگ ترین خلیفہ ہیں اور آپ کے وصال کے بعد دہلی میں آپ سجادۂ خلافت پر متمکن ہوکر ایک جہان کے لیے منبع رشد و ہدایت بنے رہے ۔ اور بے شمار بزرگوں کو آپکے فیض صحبت سے مرتبہ تکمیل و ارشاد حاصل ہوا ۔
مرآ ۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی قدس سرہٗ نے پچیس سال کی عمر میں مجاہد ہنفس شروع کیا اور ساری عمر سخت ریاضت و مجاہدہ میں گذاری ۔ آپ سات سال تک ایک درویش کے ساتھ اس علاقے کے جنگلوں میں مجاہدی کرتے رہے اور اکثر اوقات آپ سنبھالو اور کریل کے پتوں سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ اکتالیس سال کی عمر میں اپ اودھ سے دہلی پہنچے اور حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہو کر شرف بیعت حاصل کیا ۔ اور مدت دراز تک حضرت شیخ کی خدمت میں کمر بستہ رہے ۔ حضرت شیخ نصیر الدین قدس سرہٗ اپنے شیخ کی محبت میں اس قدر بے اختیار تھے کہ اپنے ارادہ اور اختیار کو بالکل ترک کر کے حضرت شیخ کی ذات با برکات کے سوا ہر مطلب و مقصد سے فارغ ہوگئے تھے ۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت شیخ نصیر الدین کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ سے باریابی نصیب ہوئی (یعنی انکی روحانیت سے) تو فرمان ہوا کہ جو کچھ مانگتے ہو مانگو۔ آپ نے درخواست کی کہ ہمارا پیر قطب جہاں بن جائے۔ فرمان ہوا کہ تمہارے پیر کو ہم نے قطب ِجہان بنادیا اور یہ فرمان تین مرتبہ ہوا ۔ (اقتباس الانوار:483) ۔
❤1
حضرت محبوب الہی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ان کے صدقے و وسیلے سے مقام ولایت و قطبیت کے مقام ِ رفیع پر آپ فائز ہوئے ۔
حضرت شیخ مزامیر کے ساتھ قوالی نہیں سنتے تھے: حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: سیرالاولیا میں ہے کہ شیخ نظام الدین اولیاء کی محفل سماع میں مزامیر (باجے) وغیرہ نہ ہوتے تھے اور نہ ہی تالیاں بجائی جاتی تھیں، اگر آپ سے کوئی کسی کے متعلق یہ کہتا کہ فلاں باجے وغیرہ سنتا ہے تو آپ اسے منع فرمادیتے اور فرماتے کہ باجے وغیرہ سننا شریعت میں ناجائز اور ممنوع ہیں۔ خیر المجالس میں ہے کہ ایک شخص نے شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی سے آکر پوچھا کہ یہ کہاں جائز ہے کہ محفل سماع میں دف،بانسری،ستار، باجے وغیرہ بجائے جائیں اور صوفی ناچیں اور رقص کریں، آپ نے جواب دیا کہ باجے وغیرہ تو بالاتفاق اور بالاجماع ناجائز و گناہ ہیں، اگر کوئی طریقت سے نکل جانا چاہے تو شریعت میں رہنا ضروری ہے اور اگر شریعت سے بھی نکلنا چاہے تو پھر کہاں جائے گا؟ اولاً تو سماع ہی زیر بحث ہے اور علماء کا اس میں اختلاف ہے، اگر چند شرائط کے ساتھ جائز بھی کرلیا جائے تب بھی ہمہ قسم کے باجے وغیرہ بالاتفاق ناجائز و حرام ہیں۔ (اخبار الاخیار ص:219 / خزینۃ الاصفیاء ص:221 / تذکرہ اولیائے بر صغیر پاک و ہند ص:173)
حضرت محبوب الہی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’قوالی کے جائز ہونے کے لئے چند چیزیں ضروری ہیں ۔ سنانے والا، سننے والا، جو چیز سنائی جا رہی ہے اور آلۂ سماع ، قوالی سنانے والا مرد ہو، بچہ اور عورت نہ ہو ۔ سننے والا یاد حق سے غافل نہ ہو اور جو چیز سنائی جا رہی ہے وہ فحش اور مسخرہ پن نہ ہو اور آلۂ سماع میں ہے جیسے چنگ اور رباب یعنی آلات موسیقی وغیرہ ایسی کوئی چیز درمیان میں نہ ہو ۔ جب یہ شرطیں پائی جائیں تو قوالی حلال ہے‘‘ ۔ (شریعت و طریقت ص:43 ۔ بحوالہ سیر الاولیاء ص ۴۹۱' ۴۹۲) ۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 18 رمضان المبارک 757ھ، مطابق 10 ستمبر 1356ء، بروز جمعۃ المبارک ہوا ۔ آپ کا مزار پرانوار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا توآپ نے فرمائی کہ مجھے دفن کرتے وقت حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین محبوب الہی کا خرقہ میرے سینہ پر رکھ دینا اور میرے پیر و مرشد کا عصا میرے پہلو میں رکھنا۔ حضرت شیخ کی تسبیح میری انگشت شہادت پر ہونی چاہیے اور چوبیں نعلین بغل میں رکھی جائیں۔ آپ کے خدام نے اسی طرح کیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء:225)
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ اخبار الاخیار ۔ سیر الاولیاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے بر صغیر پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-naseeruddin-mahmood-roshan-chiragh
حضرت شیخ مزامیر کے ساتھ قوالی نہیں سنتے تھے: حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: سیرالاولیا میں ہے کہ شیخ نظام الدین اولیاء کی محفل سماع میں مزامیر (باجے) وغیرہ نہ ہوتے تھے اور نہ ہی تالیاں بجائی جاتی تھیں، اگر آپ سے کوئی کسی کے متعلق یہ کہتا کہ فلاں باجے وغیرہ سنتا ہے تو آپ اسے منع فرمادیتے اور فرماتے کہ باجے وغیرہ سننا شریعت میں ناجائز اور ممنوع ہیں۔ خیر المجالس میں ہے کہ ایک شخص نے شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی سے آکر پوچھا کہ یہ کہاں جائز ہے کہ محفل سماع میں دف،بانسری،ستار، باجے وغیرہ بجائے جائیں اور صوفی ناچیں اور رقص کریں، آپ نے جواب دیا کہ باجے وغیرہ تو بالاتفاق اور بالاجماع ناجائز و گناہ ہیں، اگر کوئی طریقت سے نکل جانا چاہے تو شریعت میں رہنا ضروری ہے اور اگر شریعت سے بھی نکلنا چاہے تو پھر کہاں جائے گا؟ اولاً تو سماع ہی زیر بحث ہے اور علماء کا اس میں اختلاف ہے، اگر چند شرائط کے ساتھ جائز بھی کرلیا جائے تب بھی ہمہ قسم کے باجے وغیرہ بالاتفاق ناجائز و حرام ہیں۔ (اخبار الاخیار ص:219 / خزینۃ الاصفیاء ص:221 / تذکرہ اولیائے بر صغیر پاک و ہند ص:173)
حضرت محبوب الہی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’قوالی کے جائز ہونے کے لئے چند چیزیں ضروری ہیں ۔ سنانے والا، سننے والا، جو چیز سنائی جا رہی ہے اور آلۂ سماع ، قوالی سنانے والا مرد ہو، بچہ اور عورت نہ ہو ۔ سننے والا یاد حق سے غافل نہ ہو اور جو چیز سنائی جا رہی ہے وہ فحش اور مسخرہ پن نہ ہو اور آلۂ سماع میں ہے جیسے چنگ اور رباب یعنی آلات موسیقی وغیرہ ایسی کوئی چیز درمیان میں نہ ہو ۔ جب یہ شرطیں پائی جائیں تو قوالی حلال ہے‘‘ ۔ (شریعت و طریقت ص:43 ۔ بحوالہ سیر الاولیاء ص ۴۹۱' ۴۹۲) ۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 18 رمضان المبارک 757ھ، مطابق 10 ستمبر 1356ء، بروز جمعۃ المبارک ہوا ۔ آپ کا مزار پرانوار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا توآپ نے فرمائی کہ مجھے دفن کرتے وقت حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین محبوب الہی کا خرقہ میرے سینہ پر رکھ دینا اور میرے پیر و مرشد کا عصا میرے پہلو میں رکھنا۔ حضرت شیخ کی تسبیح میری انگشت شہادت پر ہونی چاہیے اور چوبیں نعلین بغل میں رکھی جائیں۔ آپ کے خدام نے اسی طرح کیا ۔ (خزینۃ الاصفیاء:225)
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ اخبار الاخیار ۔ سیر الاولیاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے بر صغیر پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-naseeruddin-mahmood-roshan-chiragh
scholars.pk
Hazrat Sheikh Naseeruddin Mahmood Roshan Chiragh
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
برہان الموحدین، سید شاہ آل محمد مارہروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید شاہ آل محمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: برہان الموحدین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ بروز بدھ، 18 رمضان المبارک، 1111 ہجری کو بلگرام میں سید شاہ برکت اللہ کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
تمام ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم و تکمیل اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، آپ اپنے وقت کے شیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ علومِ شریعت کے بھی ماہرِ کامل تھے ۔ آپ کا اکثر وقت اپنے والدِ گرامی اور دیگر اکابرینِ امت کی تصنیف کردہ کتب کے مطالعہ میں گزرتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا تھا ۔ آپ کو حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی بیعت و ارشاد کا حکم فرما دیا تھا ۔ چنانچہ جب کوئی طالب ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تو فرماتے: آل محمد کے پاس جاؤ، اس نے میرے سر سے بہت بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور مجھے بہت راحت و آرام بخشا ہے ۔ نیز سند ِخلافت و دستارِ نیابت حضرت سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی سے بھی ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
برہان الموحدین، رئیس المتوکلین، سید العارفین، جامع شریعت وطریقت ابو البرکات سید شاہ آل محمد مارہروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کے بڑے صاحبزادے تھے ۔ آپ مکمل 3 سال تک اعتکاف میں خلوت گزیں رہے اور جو کی روٹی سے افطار کیا کرتے تھے ۔ والد صاحب کی زندگی میں ہی مسندِ مشیخیت و سجادہ پر فائز ہو گئے تھے ۔ شریعت کی انتہائی نگہداشت کرتے تھے ۔ امراضِ قلبی کے ازالہ میں آپ مسیحائی فرماتے تھے، اور ویرانۂ وادیِ شوق کو مقام ‘‘ تلوین ’’ پر پہنچا کر قرار و تسکین بخشتے تھے ـ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں سر گرم و کوشاں رہتے تھے، اور ہر وقت ترویجِ شریعتِ مطہرہ میں مصروفِ عمل رہتے تھے ۔ خلافِ سنت کوئی عمل برداشت نہیں کرتے تھے ۔ اکثر اوقات تصوف کی کتابوں، خصوصاً اپنے والد ماجد کی تالیفات کے مطالعہ میں بسر فرماتے ۔ آپ کی برکت سے مارہرہ مطہرہ اور اس کے اطراف و اکناف سے بہت لوگ مستفید ہو کر شرفِ ارادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ آپ کی ذات سے تمام سلاسل کو بالعموم اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو بالخصوص فروغ حاصل ہوا ۔
وصال:
16 رمضان المبارک 1164ھ بروز پیر کی رات کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ مبارک مارہرہ شریف (انڈیا) مرجعِ خاص و عام ہے ۔
چراغ آلِ عبا وود مانِ علا
فزود جلوۂِ او رونق حریم بہشت
اِفادۂ کردبمن سال رحلتش ہاتف
نصیب آ ل محمد بود نعیم بہشت
1164ہجری
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aal-e-muhammad-marharvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید شاہ آل محمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: برہان الموحدین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ بروز بدھ، 18 رمضان المبارک، 1111 ہجری کو بلگرام میں سید شاہ برکت اللہ کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
تمام ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم و تکمیل اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، آپ اپنے وقت کے شیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ علومِ شریعت کے بھی ماہرِ کامل تھے ۔ آپ کا اکثر وقت اپنے والدِ گرامی اور دیگر اکابرینِ امت کی تصنیف کردہ کتب کے مطالعہ میں گزرتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا تھا ۔ آپ کو حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی بیعت و ارشاد کا حکم فرما دیا تھا ۔ چنانچہ جب کوئی طالب ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تو فرماتے: آل محمد کے پاس جاؤ، اس نے میرے سر سے بہت بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور مجھے بہت راحت و آرام بخشا ہے ۔ نیز سند ِخلافت و دستارِ نیابت حضرت سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی سے بھی ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
برہان الموحدین، رئیس المتوکلین، سید العارفین، جامع شریعت وطریقت ابو البرکات سید شاہ آل محمد مارہروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کے بڑے صاحبزادے تھے ۔ آپ مکمل 3 سال تک اعتکاف میں خلوت گزیں رہے اور جو کی روٹی سے افطار کیا کرتے تھے ۔ والد صاحب کی زندگی میں ہی مسندِ مشیخیت و سجادہ پر فائز ہو گئے تھے ۔ شریعت کی انتہائی نگہداشت کرتے تھے ۔ امراضِ قلبی کے ازالہ میں آپ مسیحائی فرماتے تھے، اور ویرانۂ وادیِ شوق کو مقام ‘‘ تلوین ’’ پر پہنچا کر قرار و تسکین بخشتے تھے ـ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں سر گرم و کوشاں رہتے تھے، اور ہر وقت ترویجِ شریعتِ مطہرہ میں مصروفِ عمل رہتے تھے ۔ خلافِ سنت کوئی عمل برداشت نہیں کرتے تھے ۔ اکثر اوقات تصوف کی کتابوں، خصوصاً اپنے والد ماجد کی تالیفات کے مطالعہ میں بسر فرماتے ۔ آپ کی برکت سے مارہرہ مطہرہ اور اس کے اطراف و اکناف سے بہت لوگ مستفید ہو کر شرفِ ارادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ آپ کی ذات سے تمام سلاسل کو بالعموم اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو بالخصوص فروغ حاصل ہوا ۔
وصال:
16 رمضان المبارک 1164ھ بروز پیر کی رات کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ مبارک مارہرہ شریف (انڈیا) مرجعِ خاص و عام ہے ۔
چراغ آلِ عبا وود مانِ علا
فزود جلوۂِ او رونق حریم بہشت
اِفادۂ کردبمن سال رحلتش ہاتف
نصیب آ ل محمد بود نعیم بہشت
1164ہجری
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aal-e-muhammad-marharvi
scholars.pk
Hazrat Aal-e-Muhammad Marharvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضور ریحان ملت ، علامہ ریحان رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا محمد ریحان رضا خان ۔ لقب: ریحانِ ملت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا محمد ریحان رضا قادری بن مفسرِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 18 ذی الحجہ 1325ھ، مطابق ماہ جنوری 1908ء کو محلہ خواجہ قطب بریلی (انڈیا) میں ہوئی ۔ حضرت ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا علیہ الرحمۃ کی ولادت سے پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ خاندان کے ہر فرد کا چہرہ مسکرانے لگا ۔ چونکہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت مفسرِ اعظم ہند کے یہاں یہ پہلی ولادت تھی، کانوں میں اذان و تکبیر پڑھی گئی ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ نے اپنا لعابِ دہن عطا فرمایا، جو منھ میں رکھ دیا گیا، جد امجد حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ نے نام رکھا، بعدہٗ پکارنے کے لیے ریحان رضا تجویز فرمایا، اسی واقعہ کی طرف نشان دہی کراتے ہوئے حضرت ریحان ملت نے اپنے نعتیہ کلام میں تحریر فرمایا ہے۔
؏: نام یہ جس نے دیا اس کو خبر تھی شاید
ان کا ریحان کہیں دنیا میں چمکتا ہوگا
تحصیلِ علم:
پیدائش کے بعد ریحان ملت نے طفولیت کے ایام علم و حکمت معرفت و طریقت کے خوش گوار ماحول میں گذارے ۔ بچپن ہی سے علم و ادب کے دلدادہ تھے ۔ اعلیٰ ذہانت و فطانت رکھتے تھے ۔ ریحان ملت کی تعلیم گھر پر ہوئی حسب الحکم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمۃ لائل پور پاکستان تشریف لے گئے ۔ وہاں پر جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں داخلہ لے کر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ کی خدمت میں تین سال مسلسل رہ کر معیاری کتابوں کا درس حاصل کیا، پھر وہاں سے واپسی کے بعد دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے با قاعدہ دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغت پائی ۔
اساتذہ:
حضرت ریحان ملت کے اساتذۂ کرام میں مندرجہ ذیل حضرات کے اسماءِ گرامی قابل ذکر ہیں، جنہوں نے شب و روز محبت و شفقت کے ساتھ علمِ دین پڑھایا، اور معرفت و حکمت، علوم و فنون عطا فرما کر مستند عالم بنایا:
۱۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمۃ
۲۔ تاجدارِ اہلسنت حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ
۳۔محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ
۴۔ مفسر اعطم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی بریلوی علیہ الرحمہ
۵۔ امام النحو حضرت مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ
۶۔ محدث منظر اسلام حضرت مولانا احسان علی رضوی علیہ الرحمۃ
۷۔ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری علیہ الرحمۃ
۸۔ حضرت مولانا مفتی جہانگیر خاں رضوی اعظمی مدظلہ ۔
بیعت و خلافت:
حضرت ریحان ملت بیعت و اردت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے رکھتے تھے ۔ 1357ھ / 1938ء کو جد امجد حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ نے ماذون و مجاز فرمایا ۔ 15/جنوری 1962/1381 کو حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے ریحان ملت اور جانشین مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادری بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ کو ساتھ ہی ساتھ خلافت و اجازت عطا فرمائی، اور یہ خلافت میلاد شریف کی مبارک محفل میں عطا ہوئی ۔ خلافت کے وقت شمس العلماء حضرت مولانا قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری علیہ الرحمۃ (مصنف قانونِ شریعت) بھی رونق افروز تھے، اور علاوہ ازیں والد ماجد مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا بریلوی علیہ الرحمۃ سے بھی اجازت حاصل تھی ۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء ص:368)
سیرت و خصائص:
گلشنِ رضویہ کے مہکتے پھول، جامع المنقول والمعقول، استاذ العلماء، سند الفضلاء، ریحانِ ملت، حضرت علامہ مولانا محمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ فاضلِ کامل، اور جید عالم دین تھے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر اس مردِ کامل نے قوم و ملت، اور دینِ اسلام کے لئےکارہائے نمایاں انجام دئیے ۔ جن میں سے اہم کارنامے مرکز ِاسلام ’’منظرِ اسلام‘‘ اور رضا مسجد کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی، اور دار الاقامہ، نشر و اشاعت کے لئے برقی پریس کا اہتمام ہے ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا محمد ریحان رضا خان ۔ لقب: ریحانِ ملت ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا محمد ریحان رضا قادری بن مفسرِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 18 ذی الحجہ 1325ھ، مطابق ماہ جنوری 1908ء کو محلہ خواجہ قطب بریلی (انڈیا) میں ہوئی ۔ حضرت ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا علیہ الرحمۃ کی ولادت سے پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ خاندان کے ہر فرد کا چہرہ مسکرانے لگا ۔ چونکہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت مفسرِ اعظم ہند کے یہاں یہ پہلی ولادت تھی، کانوں میں اذان و تکبیر پڑھی گئی ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ نے اپنا لعابِ دہن عطا فرمایا، جو منھ میں رکھ دیا گیا، جد امجد حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ نے نام رکھا، بعدہٗ پکارنے کے لیے ریحان رضا تجویز فرمایا، اسی واقعہ کی طرف نشان دہی کراتے ہوئے حضرت ریحان ملت نے اپنے نعتیہ کلام میں تحریر فرمایا ہے۔
؏: نام یہ جس نے دیا اس کو خبر تھی شاید
ان کا ریحان کہیں دنیا میں چمکتا ہوگا
تحصیلِ علم:
پیدائش کے بعد ریحان ملت نے طفولیت کے ایام علم و حکمت معرفت و طریقت کے خوش گوار ماحول میں گذارے ۔ بچپن ہی سے علم و ادب کے دلدادہ تھے ۔ اعلیٰ ذہانت و فطانت رکھتے تھے ۔ ریحان ملت کی تعلیم گھر پر ہوئی حسب الحکم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمۃ لائل پور پاکستان تشریف لے گئے ۔ وہاں پر جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں داخلہ لے کر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ کی خدمت میں تین سال مسلسل رہ کر معیاری کتابوں کا درس حاصل کیا، پھر وہاں سے واپسی کے بعد دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے با قاعدہ دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغت پائی ۔
اساتذہ:
حضرت ریحان ملت کے اساتذۂ کرام میں مندرجہ ذیل حضرات کے اسماءِ گرامی قابل ذکر ہیں، جنہوں نے شب و روز محبت و شفقت کے ساتھ علمِ دین پڑھایا، اور معرفت و حکمت، علوم و فنون عطا فرما کر مستند عالم بنایا:
۱۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمۃ
۲۔ تاجدارِ اہلسنت حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ
۳۔محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ
۴۔ مفسر اعطم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی بریلوی علیہ الرحمہ
۵۔ امام النحو حضرت مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ
۶۔ محدث منظر اسلام حضرت مولانا احسان علی رضوی علیہ الرحمۃ
۷۔ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری علیہ الرحمۃ
۸۔ حضرت مولانا مفتی جہانگیر خاں رضوی اعظمی مدظلہ ۔
بیعت و خلافت:
حضرت ریحان ملت بیعت و اردت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے رکھتے تھے ۔ 1357ھ / 1938ء کو جد امجد حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ نے ماذون و مجاز فرمایا ۔ 15/جنوری 1962/1381 کو حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے ریحان ملت اور جانشین مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادری بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ کو ساتھ ہی ساتھ خلافت و اجازت عطا فرمائی، اور یہ خلافت میلاد شریف کی مبارک محفل میں عطا ہوئی ۔ خلافت کے وقت شمس العلماء حضرت مولانا قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری علیہ الرحمۃ (مصنف قانونِ شریعت) بھی رونق افروز تھے، اور علاوہ ازیں والد ماجد مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا بریلوی علیہ الرحمۃ سے بھی اجازت حاصل تھی ۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء ص:368)
سیرت و خصائص:
گلشنِ رضویہ کے مہکتے پھول، جامع المنقول والمعقول، استاذ العلماء، سند الفضلاء، ریحانِ ملت، حضرت علامہ مولانا محمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ فاضلِ کامل، اور جید عالم دین تھے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر اس مردِ کامل نے قوم و ملت، اور دینِ اسلام کے لئےکارہائے نمایاں انجام دئیے ۔ جن میں سے اہم کارنامے مرکز ِاسلام ’’منظرِ اسلام‘‘ اور رضا مسجد کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی، اور دار الاقامہ، نشر و اشاعت کے لئے برقی پریس کا اہتمام ہے ۔
❤1
آپ نے مشن اعلیٰ حضرت کی خوب ترویج فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خوبیوں سے مالا مال کیا تھا ۔ دینی و عصری علوم و فنون سے بہرہ ور تھے ۔اگر چاہتے تو مالی منفعت کی خاطر کسی بھی فیلڈ کو منتخب کر لیتے ۔ لیکن حضرت ریحان ملت سند فراغت حاصل کرنے کے بعد منظر اسلام بریلی میں بحیثیت مدرس بارہ سال تک قلیل مشاہرے پر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اور زبانِ فیض ترجمان سے گوہر فشانی کرتے رہے، اس دوران ریحان ملت نے درسِ نظامی کی مختلف کتابیں پڑھائیں ۔ ادب سے زیادہ دل چسپی تھی ۔
فنِ وعظ گوئی:
حضرت ریحان ملت وقت کے بہترین مقرر اور مایۂ ناز خطیب تھے ۔ کبھی بھی تقریر کرنے سے قبل ذہن میں مضامین کی ترتیب نہیں دی اور نہ ہی تقریر کو لکھ کردیاد کیا بلکہ فی البدیہ تقریر فرماتے ۔
سیاسی گرمیاں:
1976ءمیں عوام وخواص بالخصوص علماءِ کرام کے انبوہ کثیر نے حضرت ریحان ملت کی ذہانت، فطانت، بالغ، نظری، دور اندیشی دیکھ کر بالجبر ریحانِ ملت کو میدانِ سیاست میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا کیا، کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ اور اسمبلی میں کوئی حق بات کہنے والا نہیں تھا، کوئی نمائندہ ایسا نہیں تھا جو مسلمانوں کی صحیح قیادت کر سکے ۔ انہیں حالات کے پیش نظر لوگوں کے اصرار پر راضی ہوئے، میدان سیاست میں رہ کر کارہائے نمایاں انجام دیئے جو اپنی مثال آپ ہیں۔اس میدان میں بڑے بڑے دانشوروں کے قدم لغزش کھا جاتے ہیں، مگر ریحان ملت نے اٹھارہ سال کا طویل عرصہ میدان سیاست میں گزارا ۔ کہیں بھی کسی قسم کا دامنِ سفید پر بد نمائی کا داغ نہیں لگنے دیا، بلکہ کونسل اور اسمبلی میں ایسی بے باکی اور دلیری سے تقریریں کیں کہ خود کانگریس آئی کہ ممبروں کے دانت کھٹے ہو گئے ۔
جلوس محمدی ﷺ کا دوبارہ آغاز:
ہندوستان کی آزادی سے پہلے جلوسِ محمدی ﷺ بریلی میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا تھا، اور لوگ شان و شوکت کے ساتھ جلوس میں شریک ہوتے تھے، لیکن 1947ء سے جلوس محمدی ﷺ کا نکلنا بند ہو گیا تھا ۔ لوگوں کے پیہم اصرار سے ریحان ملت نے اچانک 1980ء میں 12 / ربیع الاول شریف کے موقع پر جلوس محمدی ﷺ نکالنے کا اعلان کر دیا ۔ پولیس والوں نے انتھک کوشش کی کہ جلوسِ محمدی ﷺ نہ نکالا جائے لیکن ریحانِ ملت نے فرمایا: ہر گز نہیں! جلوس ضرور نکلےگا ۔ آج ہمارے رسول سرکارِ مدینہ ﷺ کا یوم ولادت ہے، ہم اس خوشی میں جلوس نکالتے ہیں اور نکالتے رہیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں جیل بھی جانا پڑے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے پوری دنیا میں تبلیغی دورے کیے، جہاں گئے مشنِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو زندہ کرتے گئے، اور عشقِ محمدی ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے گئے، بدمذہبیت و لادینیت کے عفریت کو ختم کرتے گئے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 / رمضان المبارک 1405ھ، مطابق جون/ 1985ء کو ہوا ۔گنبدِ رضا (بریلی شریف) میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور ان کےخلفاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-muhammad-rehan-raza-khan-barelvi
فنِ وعظ گوئی:
حضرت ریحان ملت وقت کے بہترین مقرر اور مایۂ ناز خطیب تھے ۔ کبھی بھی تقریر کرنے سے قبل ذہن میں مضامین کی ترتیب نہیں دی اور نہ ہی تقریر کو لکھ کردیاد کیا بلکہ فی البدیہ تقریر فرماتے ۔
سیاسی گرمیاں:
1976ءمیں عوام وخواص بالخصوص علماءِ کرام کے انبوہ کثیر نے حضرت ریحان ملت کی ذہانت، فطانت، بالغ، نظری، دور اندیشی دیکھ کر بالجبر ریحانِ ملت کو میدانِ سیاست میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا کیا، کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ اور اسمبلی میں کوئی حق بات کہنے والا نہیں تھا، کوئی نمائندہ ایسا نہیں تھا جو مسلمانوں کی صحیح قیادت کر سکے ۔ انہیں حالات کے پیش نظر لوگوں کے اصرار پر راضی ہوئے، میدان سیاست میں رہ کر کارہائے نمایاں انجام دیئے جو اپنی مثال آپ ہیں۔اس میدان میں بڑے بڑے دانشوروں کے قدم لغزش کھا جاتے ہیں، مگر ریحان ملت نے اٹھارہ سال کا طویل عرصہ میدان سیاست میں گزارا ۔ کہیں بھی کسی قسم کا دامنِ سفید پر بد نمائی کا داغ نہیں لگنے دیا، بلکہ کونسل اور اسمبلی میں ایسی بے باکی اور دلیری سے تقریریں کیں کہ خود کانگریس آئی کہ ممبروں کے دانت کھٹے ہو گئے ۔
جلوس محمدی ﷺ کا دوبارہ آغاز:
ہندوستان کی آزادی سے پہلے جلوسِ محمدی ﷺ بریلی میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا تھا، اور لوگ شان و شوکت کے ساتھ جلوس میں شریک ہوتے تھے، لیکن 1947ء سے جلوس محمدی ﷺ کا نکلنا بند ہو گیا تھا ۔ لوگوں کے پیہم اصرار سے ریحان ملت نے اچانک 1980ء میں 12 / ربیع الاول شریف کے موقع پر جلوس محمدی ﷺ نکالنے کا اعلان کر دیا ۔ پولیس والوں نے انتھک کوشش کی کہ جلوسِ محمدی ﷺ نہ نکالا جائے لیکن ریحانِ ملت نے فرمایا: ہر گز نہیں! جلوس ضرور نکلےگا ۔ آج ہمارے رسول سرکارِ مدینہ ﷺ کا یوم ولادت ہے، ہم اس خوشی میں جلوس نکالتے ہیں اور نکالتے رہیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں جیل بھی جانا پڑے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے پوری دنیا میں تبلیغی دورے کیے، جہاں گئے مشنِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو زندہ کرتے گئے، اور عشقِ محمدی ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے گئے، بدمذہبیت و لادینیت کے عفریت کو ختم کرتے گئے ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 / رمضان المبارک 1405ھ، مطابق جون/ 1985ء کو ہوا ۔گنبدِ رضا (بریلی شریف) میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور ان کےخلفاء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-muhammad-rehan-raza-khan-barelvi
scholars.pk
Molana Muhammad Rehan Raza Khan Barelvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1