🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_حضرت_عائشہ_صدیقہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهَا⓳
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهَا⓳
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرت_سیدتنا_رقیہ ❶ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَـا
#فیضان_حضرت_سیدتنا_رقیہ ❸
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَـا
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهَـا
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍1
حضرت مولانا محمد عابد لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا محمد عابد لاہوری:
بڑے عالم فاضل، فقیہ، اہل بیت علم سے تھے یہاں تک کہ علم و عمل اور ورع و تقوےٰ میں علمائے عصر اور اولیائے وقت سے سبقت لے گئے تھے ۔ آپ کا نسب آبائی حضرت ابا بکر صدیق پر منتہیٰ ہوتا ہے، ہر رات نماز تہجد میں ساٹھ دفعہ سورۂ یٰس پڑھتے تھے اور مرض الموت میں جو آپ کو اسہال کی بیماری تھی آپ نے ہر رات نماز تہجد میں ۳۵ بار سورۂ یٰسن اور ۲۰ ہزار بار ذکر کلمۂ طیبہ اور ہزار بار ذکر نفی واثبات بہ حبس دم اور تلاوت ایک منزل قرآن شریف و ہزار بار درو شریف روز مرہ وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا۔آپ کے حلقۂ مجلس میں روزانہ قریب دوسو کے علماء وصلحاء بیٹھا کرتے تھے ۔آپ نہایت اشتیاق سے پا پیادہ لاہور سے حرمین شریفین میں پہنچے اور حج و زیارت روضہ رسول مقبول سے مشرف ہوکر واپس آئے اور اٹھارہویں ماہ رمضان ۱۱۶۰ھ میں لاہور میں وفات پائی ۔ ’’فخر بزرگان‘‘ تاریخ وفات ہے ۔ تصنیفات بھی آپ نے بہت کی جس میں سے حاشیہ بیضاوی نا تمام، شرح خلاصہ کیدانی بزبان فارسی، شرح قصیدہ بانت سعاد، رسالہ دربارہ وجوہ اعجاز قرآن، رسالہ فی الاربعۃ الاحتیاط بعد صلوٰۃ الجمعہ، العشرہ المبشرۃ فی فضائل الامۃ المرحومۃ [1] مشہور و معروف ہیں۔
1۔ سید عبد الحی ھسنی رائے بریلوی نے نزہۃ الخواطر میں لکھا ہے کہ ان تمام تصانیف کا ذکر حدائق الحنفیہ کے علاوہ اور کسی کتاب میں نہیں ملتا ۔ (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-abid-lahori
مولانا محمد عابد لاہوری:
بڑے عالم فاضل، فقیہ، اہل بیت علم سے تھے یہاں تک کہ علم و عمل اور ورع و تقوےٰ میں علمائے عصر اور اولیائے وقت سے سبقت لے گئے تھے ۔ آپ کا نسب آبائی حضرت ابا بکر صدیق پر منتہیٰ ہوتا ہے، ہر رات نماز تہجد میں ساٹھ دفعہ سورۂ یٰس پڑھتے تھے اور مرض الموت میں جو آپ کو اسہال کی بیماری تھی آپ نے ہر رات نماز تہجد میں ۳۵ بار سورۂ یٰسن اور ۲۰ ہزار بار ذکر کلمۂ طیبہ اور ہزار بار ذکر نفی واثبات بہ حبس دم اور تلاوت ایک منزل قرآن شریف و ہزار بار درو شریف روز مرہ وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا۔آپ کے حلقۂ مجلس میں روزانہ قریب دوسو کے علماء وصلحاء بیٹھا کرتے تھے ۔آپ نہایت اشتیاق سے پا پیادہ لاہور سے حرمین شریفین میں پہنچے اور حج و زیارت روضہ رسول مقبول سے مشرف ہوکر واپس آئے اور اٹھارہویں ماہ رمضان ۱۱۶۰ھ میں لاہور میں وفات پائی ۔ ’’فخر بزرگان‘‘ تاریخ وفات ہے ۔ تصنیفات بھی آپ نے بہت کی جس میں سے حاشیہ بیضاوی نا تمام، شرح خلاصہ کیدانی بزبان فارسی، شرح قصیدہ بانت سعاد، رسالہ دربارہ وجوہ اعجاز قرآن، رسالہ فی الاربعۃ الاحتیاط بعد صلوٰۃ الجمعہ، العشرہ المبشرۃ فی فضائل الامۃ المرحومۃ [1] مشہور و معروف ہیں۔
1۔ سید عبد الحی ھسنی رائے بریلوی نے نزہۃ الخواطر میں لکھا ہے کہ ان تمام تصانیف کا ذکر حدائق الحنفیہ کے علاوہ اور کسی کتاب میں نہیں ملتا ۔ (مرتب)
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-abid-lahori
scholars.pk
Abid Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1