حضرت ملّا حامد قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
جامع علومِ ظاہر و باطن اور واقفِ رموز طریقت و حقیقت تھے۔ قرآن خوانی میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ شروع شروع میں حضرت شیخ محمد میاں میر کے فضل و کمال کے منکر تھے۔ پھر ان کی روحانی کشش سے حاضرِ خدمت ہوکر حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عبادت و ریاضت میں ہمہ تن مشغول ہوگئے اور کمالاتِ ولایت بڑی جلد حاصل کرلیے۔ تھوڑی ہی مدت میں عالمِ ملکوت کے اسرار و رموز آپ پر منکشف ہوگئے۔
وصال:
۱۷؍ رمضان ۱۰۴۴ھ میں وفات پائی۔ مرقد مرشد کے روضہ کے احاطہ کے اندر ہے۔
جناب شیخ حامد پیرِ حق ہیں!!
چو تاریخِ وصال او بجستم
شہِ دیں پیشوائے اہلِ جنت
عیاں شد ’’مقتدائے اہل جنت‘‘
۴۴ ھ ۱۰
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mulla-hamid-qadri-lahori
جامع علومِ ظاہر و باطن اور واقفِ رموز طریقت و حقیقت تھے۔ قرآن خوانی میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ شروع شروع میں حضرت شیخ محمد میاں میر کے فضل و کمال کے منکر تھے۔ پھر ان کی روحانی کشش سے حاضرِ خدمت ہوکر حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عبادت و ریاضت میں ہمہ تن مشغول ہوگئے اور کمالاتِ ولایت بڑی جلد حاصل کرلیے۔ تھوڑی ہی مدت میں عالمِ ملکوت کے اسرار و رموز آپ پر منکشف ہوگئے۔
وصال:
۱۷؍ رمضان ۱۰۴۴ھ میں وفات پائی۔ مرقد مرشد کے روضہ کے احاطہ کے اندر ہے۔
جناب شیخ حامد پیرِ حق ہیں!!
چو تاریخِ وصال او بجستم
شہِ دیں پیشوائے اہلِ جنت
عیاں شد ’’مقتدائے اہل جنت‘‘
۴۴ ھ ۱۰
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mulla-hamid-qadri-lahori
scholars.pk
Hazrat Mulla Hamid Qadri Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید اخلاص حسین ۔پھپھوند علاقے کی نسبت سے ’’پھپھوندوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندوی بن سید انوار حسین بن سید غالب حسین ۔ علیہم الرحمۃ ۔
خاندانی تعلق قطب المشائخ حضر ت خواجہ ابو یوسف چشتی علیہ الرحمہ سےہے۔مولانا خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ آپ کےبرادر عم زاد اور’’ علمائے اہل سنت‘‘ کے مستقل صدر تھے۔انہوں نے آپ کی ولادت سے پہلے ہی آپ کانام اخلاص حسین ،اور اپنی چچی کو برکت کےلئے اپنا کرتہ پیش کردیا تھا۔اسی طرح آپ کا سارا خاندان علم و فضل، ورع و تقویٰ میں اپنی مثال آپ ہے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:29)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 1281ھ، مطابق 1865ء کو اپنے آبائی مکان سید واڑہ سہسوان ضلع بدایوں (انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کا گھرانہ علم وفضل میں مشہور تھا۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔چار برس کے ہوئے تو حضرت مولانا خواجہ عبد الصمد ابدال علیہ الرحمہ آپ کو اپنے ہمراہ پھپھوند لے آئے اور علوم نقلیہ و عقلیہ،وتصوف کی تعلیم دی۔طب کا درس مولانا حکیم مومن سجادسے لیا۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے بھائی اور خسر حضرت مولانا خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے،اور خلافت سےمشرف ہوئے۔سفر وحضر میں ہمہ وقت خدمتِ مرشد میں مصروف رہتے تھے۔
سیرت و خصائص:
جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، عالم وعارف، فاضلِ اکمل، حضرت علامہ مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ خاندان سادات کےروشن چشم وچراغ تھے۔علم وفضل تقویٰ وپرہیزگاری، خلوص، اور اخلاقِ مصطفوی ﷺ سے مالا مال تھے۔ انتہائی حلیم الطبع، ملنسار، اور جامع کمال شخصیت تھے۔ ابتداء سےہی انتہائی نیک ومتقی،اورجوانی میں ایسی عبادت وریاضت کہ متقدمین صوفیاءکی یاد تازہ ہوجاتی۔
آپ کےکمالات ِ ظاہری وباطنی کااندازہ اس سےبآسانی لگایا جاسکتاہے کہ جب اکیس سال عمر ہوئی توحضرت العلام خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ نےاپنی صاحبزادی کاعقد آپ سےکردیا۔آپ کی ذات ایسی تھی کہ چڑیاں بھی مانوس تھیں،شانوں پر ہاتھوں پر آکر بیٹھی رہتیں لوگ متعجبانہ پوچھتے کہ حضرت یہ خوب مل گئی ہیں،ہنس کر فرماتے کہ میری آدمیت غائب ہوگئی ہے،اس لیے آجاتی ہیں۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:29)
16شوال 1337ھ کو گھر سے روانہ ہوکر ممبئی پہنچے،اور 13ذی قعد کو حج کے لیے روانہ ہوئے،حج کے بعد مدینہ طیبہ میں معتکف ہوگئے ۔آپ نہایت ہی صابر وقانع تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 17/رمضان المبارک 1338ھ کو مدینۃ المنورہ میں بحالتِ اعتکاف ہوا،اورجنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون اور سیدنا ابراہیمبن رسول اللہ ﷺ کے قرب میں دفن کیے گئے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ikhlas-hussain-phaphondvi-badayuni
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید اخلاص حسین ۔پھپھوند علاقے کی نسبت سے ’’پھپھوندوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندوی بن سید انوار حسین بن سید غالب حسین ۔ علیہم الرحمۃ ۔
خاندانی تعلق قطب المشائخ حضر ت خواجہ ابو یوسف چشتی علیہ الرحمہ سےہے۔مولانا خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ آپ کےبرادر عم زاد اور’’ علمائے اہل سنت‘‘ کے مستقل صدر تھے۔انہوں نے آپ کی ولادت سے پہلے ہی آپ کانام اخلاص حسین ،اور اپنی چچی کو برکت کےلئے اپنا کرتہ پیش کردیا تھا۔اسی طرح آپ کا سارا خاندان علم و فضل، ورع و تقویٰ میں اپنی مثال آپ ہے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:29)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 1281ھ، مطابق 1865ء کو اپنے آبائی مکان سید واڑہ سہسوان ضلع بدایوں (انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کا گھرانہ علم وفضل میں مشہور تھا۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔چار برس کے ہوئے تو حضرت مولانا خواجہ عبد الصمد ابدال علیہ الرحمہ آپ کو اپنے ہمراہ پھپھوند لے آئے اور علوم نقلیہ و عقلیہ،وتصوف کی تعلیم دی۔طب کا درس مولانا حکیم مومن سجادسے لیا۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے بھائی اور خسر حضرت مولانا خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے،اور خلافت سےمشرف ہوئے۔سفر وحضر میں ہمہ وقت خدمتِ مرشد میں مصروف رہتے تھے۔
سیرت و خصائص:
جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، عالم وعارف، فاضلِ اکمل، حضرت علامہ مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ خاندان سادات کےروشن چشم وچراغ تھے۔علم وفضل تقویٰ وپرہیزگاری، خلوص، اور اخلاقِ مصطفوی ﷺ سے مالا مال تھے۔ انتہائی حلیم الطبع، ملنسار، اور جامع کمال شخصیت تھے۔ ابتداء سےہی انتہائی نیک ومتقی،اورجوانی میں ایسی عبادت وریاضت کہ متقدمین صوفیاءکی یاد تازہ ہوجاتی۔
آپ کےکمالات ِ ظاہری وباطنی کااندازہ اس سےبآسانی لگایا جاسکتاہے کہ جب اکیس سال عمر ہوئی توحضرت العلام خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ نےاپنی صاحبزادی کاعقد آپ سےکردیا۔آپ کی ذات ایسی تھی کہ چڑیاں بھی مانوس تھیں،شانوں پر ہاتھوں پر آکر بیٹھی رہتیں لوگ متعجبانہ پوچھتے کہ حضرت یہ خوب مل گئی ہیں،ہنس کر فرماتے کہ میری آدمیت غائب ہوگئی ہے،اس لیے آجاتی ہیں۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:29)
16شوال 1337ھ کو گھر سے روانہ ہوکر ممبئی پہنچے،اور 13ذی قعد کو حج کے لیے روانہ ہوئے،حج کے بعد مدینہ طیبہ میں معتکف ہوگئے ۔آپ نہایت ہی صابر وقانع تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 17/رمضان المبارک 1338ھ کو مدینۃ المنورہ میں بحالتِ اعتکاف ہوا،اورجنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون اور سیدنا ابراہیمبن رسول اللہ ﷺ کے قرب میں دفن کیے گئے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ikhlas-hussain-phaphondvi-badayuni
scholars.pk
Hazrat Syed Ikhlas Hussain Phaphondvi Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حافظ قاری ممتاز احمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: قاری متاز احمد ۔ لقب: رحمانی ۔ سلسلہ نسب: قاری ممتاز احمد بن سراج الدین بن صلاح الدین ۔ (علہم الرحمہ)
آپ کے آباؤاجداد عرب شریف سے نقل مکانی کر کے ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔ آپ کا ددھیال قریشی اور ننھیال صدیقی ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ 17/رمضان المبارک 1345ھ، بمطابق 25/فروری 1929ء ،بروز پیر بوقتِ فجر (محلہ پہاڑگنج دہلی انڈیا) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
حکیم حافظ افتخار احمد نقشبندی سے ۹ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ مسجد فتح پوری دہلی کے مدرسہ میں قاری حامد حسین دہلوی سے قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی عربی فارسی اور چند درس نظامی کی کتب حضرت مولانا قاضی زین العابدین دہلوی سے پڑھیں ۔
بیعت و خلافت:
شیخ طریقت حضرت پیر محمد فاروق رحمانی رحمۃ اللہ علیہ( آستانہ فاروقیہ جہانگیر روڈ )سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابر یہ رحمانیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں1962ء کو خلافت سے نواز ے گئے ۔ حضرت پیر فاروق صاحب ، سلسلہ رحمانیہ کے بانی حضرت انعام الرحمن قدوسی سہارنپوری سے فیض یاب تھے۔
سیرت و خصائص:
حضرت حافظ قاری پیر ممتاز احمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ باعمل حافظِ قرٓان تھے۔ دینِ متین کی تبلیغ کیلئے ہروقت کوشاں رہتے تھے۔ آپ شیخِ کامل تھے،لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح پیری مریدی کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا بلکہ زرگرری کا کام سیکھ کر صرافہ بازار میں تجارت کرتے تھے۔1959ء سے قبل مدینہ مسجد بی ایریا ملیر میں صوفی احمد حسین امامت کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ کو مقرر کیا گیا۔ آپ مندر اسٹاپ ملیر سٹی سے ملیر بی ایریا مدینہ مسجد سائیکل پر آتے جاتے تھے۔ مدینہ مسجد کو آپ نے مرکزی حیثیت عطا کی، صبح کو حفظ و ناظرہ کا مدرسہ "مکتب رحمانی" خود پڑھاتے، ظہر تا شام سائلین کو دم درود و تعویذ دیتے تھے اور رات میں حلقہ ذکر مراقبہ محفل نعت وغیرہ برپا کرتے،آپ کے سارے کام فی سبیل اللہ ہوتے تھے، اور شب و روز مسجد شریف میں دین اسلام اور دکھی انسانیت کی خدمت میں بسر ہوتے ۔ مسجد کے متصل مدرسہ ، لائبریری وغیرہ آپ کی یاد گار ہیں ۔ جمعہ کے رو ز خود وعظ کیا کرتے تھے۔ وسیع حلقہ آپ سے ارادت و عقیدت رکھتا ہے۔ آپ کے مدرسہ کی شاخیں ملیر میں پھیلی ہوئی ہیں۔"اشاعت قرآن " کی خوب خدمات سر انجام دیں ۔ آپ قرآن پاک کی جب قرأت کرتے تو اجتماع پر سکوت طاری ہو جاتا۔ سوزو گداز سے بھری ہوئی آواز سے مسلمانوں کے قلوب دھل جاتے تھے، اور محفل پر ایک روحانی کیفیت کا سماں ہوتا تھا۔گناہوں کے مرض میں مبتلا آپ کے روحانی شفاخانہ سے شفاء پاتے تھے ، اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کے سچے غلام بن جاتے تھے۔
وصال:
17/ذوالقعدہ 1410ھ، بمطابق 11/جون 1990ء، بروز پیر بوقت عشاء 63 سال کی عمر میں واصل الی اللہ ہوئے۔آپ کامزار مدینہ مسجد بی ایریا ملیر کراچی کے احاطے میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-qari-mumtaz-ahmad-rehmani
نام و نسب:
اسمِ گرامی: قاری متاز احمد ۔ لقب: رحمانی ۔ سلسلہ نسب: قاری ممتاز احمد بن سراج الدین بن صلاح الدین ۔ (علہم الرحمہ)
آپ کے آباؤاجداد عرب شریف سے نقل مکانی کر کے ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔ آپ کا ددھیال قریشی اور ننھیال صدیقی ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ 17/رمضان المبارک 1345ھ، بمطابق 25/فروری 1929ء ،بروز پیر بوقتِ فجر (محلہ پہاڑگنج دہلی انڈیا) میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
حکیم حافظ افتخار احمد نقشبندی سے ۹ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ مسجد فتح پوری دہلی کے مدرسہ میں قاری حامد حسین دہلوی سے قرأت و تجوید کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی عربی فارسی اور چند درس نظامی کی کتب حضرت مولانا قاضی زین العابدین دہلوی سے پڑھیں ۔
بیعت و خلافت:
شیخ طریقت حضرت پیر محمد فاروق رحمانی رحمۃ اللہ علیہ( آستانہ فاروقیہ جہانگیر روڈ )سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابر یہ رحمانیہ میں بیعت ہوئے اور بعد میں1962ء کو خلافت سے نواز ے گئے ۔ حضرت پیر فاروق صاحب ، سلسلہ رحمانیہ کے بانی حضرت انعام الرحمن قدوسی سہارنپوری سے فیض یاب تھے۔
سیرت و خصائص:
حضرت حافظ قاری پیر ممتاز احمد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ باعمل حافظِ قرٓان تھے۔ دینِ متین کی تبلیغ کیلئے ہروقت کوشاں رہتے تھے۔ آپ شیخِ کامل تھے،لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح پیری مریدی کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا بلکہ زرگرری کا کام سیکھ کر صرافہ بازار میں تجارت کرتے تھے۔1959ء سے قبل مدینہ مسجد بی ایریا ملیر میں صوفی احمد حسین امامت کے فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ کو مقرر کیا گیا۔ آپ مندر اسٹاپ ملیر سٹی سے ملیر بی ایریا مدینہ مسجد سائیکل پر آتے جاتے تھے۔ مدینہ مسجد کو آپ نے مرکزی حیثیت عطا کی، صبح کو حفظ و ناظرہ کا مدرسہ "مکتب رحمانی" خود پڑھاتے، ظہر تا شام سائلین کو دم درود و تعویذ دیتے تھے اور رات میں حلقہ ذکر مراقبہ محفل نعت وغیرہ برپا کرتے،آپ کے سارے کام فی سبیل اللہ ہوتے تھے، اور شب و روز مسجد شریف میں دین اسلام اور دکھی انسانیت کی خدمت میں بسر ہوتے ۔ مسجد کے متصل مدرسہ ، لائبریری وغیرہ آپ کی یاد گار ہیں ۔ جمعہ کے رو ز خود وعظ کیا کرتے تھے۔ وسیع حلقہ آپ سے ارادت و عقیدت رکھتا ہے۔ آپ کے مدرسہ کی شاخیں ملیر میں پھیلی ہوئی ہیں۔"اشاعت قرآن " کی خوب خدمات سر انجام دیں ۔ آپ قرآن پاک کی جب قرأت کرتے تو اجتماع پر سکوت طاری ہو جاتا۔ سوزو گداز سے بھری ہوئی آواز سے مسلمانوں کے قلوب دھل جاتے تھے، اور محفل پر ایک روحانی کیفیت کا سماں ہوتا تھا۔گناہوں کے مرض میں مبتلا آپ کے روحانی شفاخانہ سے شفاء پاتے تھے ، اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کے سچے غلام بن جاتے تھے۔
وصال:
17/ذوالقعدہ 1410ھ، بمطابق 11/جون 1990ء، بروز پیر بوقت عشاء 63 سال کی عمر میں واصل الی اللہ ہوئے۔آپ کامزار مدینہ مسجد بی ایریا ملیر کراچی کے احاطے میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-qari-mumtaz-ahmad-rehmani
scholars.pk
Hazrat Hafiz Qari Mumtaz Ahmad Rehmani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
قائد اہلسنت، قائد ملت اسلامیہ، حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی ۔ القابات: قائدِ اہلِ سنّت ، قائدِ ملّتِ اسلامیہ، امامِ انقلاب، مجاہدِ اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازیِ ختم نبوّت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گارِ اسلاف ۔
سلسلۂ نسب:
علامہ شاہ احمد نورانی بن شیخ الاسلام مولانا عبد العلیم صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم صدّیقی (علیہم الرحمۃ) ۔
آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کی والدۂ محترمہ بھی صدّیقی تھیں ۔ اس لحاظ سے آپ نجیب الطرفین ’’ صدّیقی ‘‘ ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک 1344ھ، بمطابق یکم اپریل 1926ء کو محلّہ مشائخاں ’’ میرٹھ ‘‘ ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی نے آٹھ سال کی عمر میں قرآنِ پاک حفظ کرلیا تھا۔ حفظِ قرآن کے بعد ثانوی تعلیم کے لیے ایسے اسکول میں داخلہ لیا جہاں ذریعۂ تعلیم عربی تھی ۔ عربک کالج میرٹھ سے بھی ڈگریاں حاصل کیں ۔ درسِ نظامی کی کتبِ متداولہ مدرسۂ اسلامیہ قومیہ میرٹھ میں استاذ العلماء امام النحو حضرت علامہ مولانا سیّد غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ سے پڑھیں ۔
دستار بندی کے موقع پر ایک پُر وقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں آپ کے استادِ محترم حضرت علامہ مولانا سیّد غلام جیلانی میرٹھی، آپ کے والدِ ماجد مولانا شاہ عبدالعلیم صدّیقی قادری اور صدر الافاضل مولانا سیّد نعیم الدین مراد آبادی کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں (علیہم الرحمہ) بھی مسند افروز تھے ۔
آپ پاکستان کے واحد سیاست دان تھے جن کو سترہ زبانوں پر عبور حاصل تھا۔
بیعت و خلافت:
عالمی مبلغِ اسلام خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ عبد العلیم صدّیقی کے مرید و خلیفہ اور جانشینِ صادق تھے، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت قطبِ مدینہ شاہ ضیاء الدین احمد قادری مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے بھی آپ کو خلافت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
قائدِ اہلِ سنّت، قائدِ ملتِ اسلامیہ، امام ِانقلاب ، مجاہدِ اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازیِ ختمِ نبوّت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گارِ اسلاف، نابغۂٔ روزگار، خاندانِ صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے رجلِ رشید حضرت علامہ مولانا امام الشاہ احمد نورانی صدّیقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اسمِ بامسمّٰی تھے ۔ آپ اپنےنام کی طرح قول و عمل اورسیرت و کردار کے بھی نورانی تھے ۔ آپ جامع الکمالات اور جامع الصفات شخصیت کے مالک تھے ۔ قرآنِ حکیم و قصیدۂ بُردہ شریف اور دلائل الخیرات و حزب البحر کے عامل، شیخِ کامل، سادہ طبیعت، نرم مزاج، دھیمی آواز، شیریں گفتار، گورا رنگ، باریک ہونٹ، نورانی چہرہ ، سنّتِ نبوی سے آراستہ، اخلاقِ مصطفوی ﷺ کے پیکر، اخلاص کی جیتی جاگتی تصویر، مہمان نواز، غریب پرور، متوکّل، خوفِ خدا و عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سر شار، مدبّرانہ سوچ ، قائدانہ صلاحتیوں سے ممتاز تھے ۔
اقلیمِ سیاست کے ایک ایسے عظیم کردار تھے کہ اصول پسندی، حق گوئی و بے باکی اور جرأت ان کا نشان تھا ۔ شخصی حکمرانی ہو یا فوجی آمروں کی من مانیاں، علامہ نے ایک بااصول، راست گو، نڈر سیاسی مدبّر اور قائد کی صورت میں نہ صرف کلمۂ حق ادا کیا بلکہ اس کے لیے ہر طرح کی صعوبت و مشکل برداشت کی ۔ مولانا دنیائے اسلام میں کلمۂ حق بلند کرنے والے کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔ آپ نے دنیاکے کونے کونے میں اسلام کا پیغامِ ہدایت پہنچایا اور ہزاروں بلکہ لاکھوں گم گشتگانِ راہ کو صراطِ مستقیم دکھائی ۔
آپ کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلموں نے دولتِ اسلام سے اپنا دامن بھرا جن میں پادری، راہب، وکلا، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں۔ وہ زیرک سیاست دان، علومِ قدیم و جدید کے ماہر، درویش صفت، متوکّل فقیر کے علاوہ شیخ طریقت بھی تھے، لیکن وہ روایتی پیر نہیں تھے۔ اپنی نمائش وشہرت کے سخت مخالف تھے۔ اپنی نمائش کے لیے انہوں نے کبھی بھی کوئی راہ ہموار نہیں کی۔ ہمیشہ کسر ِنفسی، عاجزی، تواضع و سادگی سے کام لیتے تھے۔ اپنی دینی کاوشوں کو چھپاتے رہتے تھے۔ کسی کے زورداراصرار کے بعد بیعت میں لیتے تھے، لیکن پھر بھی اس سے شریعتِ مطہرہ پر سختی سے پابندی کا عہد لیتے تھے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی ۔ القابات: قائدِ اہلِ سنّت ، قائدِ ملّتِ اسلامیہ، امامِ انقلاب، مجاہدِ اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازیِ ختم نبوّت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گارِ اسلاف ۔
سلسلۂ نسب:
علامہ شاہ احمد نورانی بن شیخ الاسلام مولانا عبد العلیم صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم صدّیقی (علیہم الرحمۃ) ۔
آپ کا سلسلۂ نسب 39 واسطوں سے خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے ۔ آپ کی والدۂ محترمہ بھی صدّیقی تھیں ۔ اس لحاظ سے آپ نجیب الطرفین ’’ صدّیقی ‘‘ ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک 1344ھ، بمطابق یکم اپریل 1926ء کو محلّہ مشائخاں ’’ میرٹھ ‘‘ ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی نے آٹھ سال کی عمر میں قرآنِ پاک حفظ کرلیا تھا۔ حفظِ قرآن کے بعد ثانوی تعلیم کے لیے ایسے اسکول میں داخلہ لیا جہاں ذریعۂ تعلیم عربی تھی ۔ عربک کالج میرٹھ سے بھی ڈگریاں حاصل کیں ۔ درسِ نظامی کی کتبِ متداولہ مدرسۂ اسلامیہ قومیہ میرٹھ میں استاذ العلماء امام النحو حضرت علامہ مولانا سیّد غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ سے پڑھیں ۔
دستار بندی کے موقع پر ایک پُر وقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں آپ کے استادِ محترم حضرت علامہ مولانا سیّد غلام جیلانی میرٹھی، آپ کے والدِ ماجد مولانا شاہ عبدالعلیم صدّیقی قادری اور صدر الافاضل مولانا سیّد نعیم الدین مراد آبادی کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں (علیہم الرحمہ) بھی مسند افروز تھے ۔
آپ پاکستان کے واحد سیاست دان تھے جن کو سترہ زبانوں پر عبور حاصل تھا۔
بیعت و خلافت:
عالمی مبلغِ اسلام خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ عبد العلیم صدّیقی کے مرید و خلیفہ اور جانشینِ صادق تھے، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت قطبِ مدینہ شاہ ضیاء الدین احمد قادری مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے بھی آپ کو خلافت حاصل تھی ۔
سیرت و خصائص:
قائدِ اہلِ سنّت، قائدِ ملتِ اسلامیہ، امام ِانقلاب ، مجاہدِ اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازیِ ختمِ نبوّت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گارِ اسلاف، نابغۂٔ روزگار، خاندانِ صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے رجلِ رشید حضرت علامہ مولانا امام الشاہ احمد نورانی صدّیقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اسمِ بامسمّٰی تھے ۔ آپ اپنےنام کی طرح قول و عمل اورسیرت و کردار کے بھی نورانی تھے ۔ آپ جامع الکمالات اور جامع الصفات شخصیت کے مالک تھے ۔ قرآنِ حکیم و قصیدۂ بُردہ شریف اور دلائل الخیرات و حزب البحر کے عامل، شیخِ کامل، سادہ طبیعت، نرم مزاج، دھیمی آواز، شیریں گفتار، گورا رنگ، باریک ہونٹ، نورانی چہرہ ، سنّتِ نبوی سے آراستہ، اخلاقِ مصطفوی ﷺ کے پیکر، اخلاص کی جیتی جاگتی تصویر، مہمان نواز، غریب پرور، متوکّل، خوفِ خدا و عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سر شار، مدبّرانہ سوچ ، قائدانہ صلاحتیوں سے ممتاز تھے ۔
اقلیمِ سیاست کے ایک ایسے عظیم کردار تھے کہ اصول پسندی، حق گوئی و بے باکی اور جرأت ان کا نشان تھا ۔ شخصی حکمرانی ہو یا فوجی آمروں کی من مانیاں، علامہ نے ایک بااصول، راست گو، نڈر سیاسی مدبّر اور قائد کی صورت میں نہ صرف کلمۂ حق ادا کیا بلکہ اس کے لیے ہر طرح کی صعوبت و مشکل برداشت کی ۔ مولانا دنیائے اسلام میں کلمۂ حق بلند کرنے والے کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔ آپ نے دنیاکے کونے کونے میں اسلام کا پیغامِ ہدایت پہنچایا اور ہزاروں بلکہ لاکھوں گم گشتگانِ راہ کو صراطِ مستقیم دکھائی ۔
آپ کی تبلیغ سے لاکھوں غیر مسلموں نے دولتِ اسلام سے اپنا دامن بھرا جن میں پادری، راہب، وکلا، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں۔ وہ زیرک سیاست دان، علومِ قدیم و جدید کے ماہر، درویش صفت، متوکّل فقیر کے علاوہ شیخ طریقت بھی تھے، لیکن وہ روایتی پیر نہیں تھے۔ اپنی نمائش وشہرت کے سخت مخالف تھے۔ اپنی نمائش کے لیے انہوں نے کبھی بھی کوئی راہ ہموار نہیں کی۔ ہمیشہ کسر ِنفسی، عاجزی، تواضع و سادگی سے کام لیتے تھے۔ اپنی دینی کاوشوں کو چھپاتے رہتے تھے۔ کسی کے زورداراصرار کے بعد بیعت میں لیتے تھے، لیکن پھر بھی اس سے شریعتِ مطہرہ پر سختی سے پابندی کا عہد لیتے تھے ۔
❤2
ہر دور و عہد میں مولانا کو وزارت، گورنری اور پلاٹ پرمٹ کی پیش کش ہوئی۔ اقتدار کی لونڈی نے باربار چوکھٹ پر دستک دی لیکن آپ نے کمالِ استقلال سے ہر بار پیش کش ٹھکرادی۔ کچھی میمن مسجد صدر سے متصل ماسٹر ہاؤس کے ایک پرانے معمولی اور کرائے کے فلیٹ میں پوری زندگی درویشانہ بسر کی ۔
؎
لوگ کیا کیا بِک گئے تو نے نہیں بیچے اُصول
تیرے دامن کو بہت ہے دولتِ عشقِ رسولﷺ
آپ ملکی و بین الاقوامی بہت سے اداروں اور تنظیموں کے بانی تھے، جن میں سے ایک دعوتِ اسلامی بھی ہے ۔ آپ نابغۂ روز گار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی شخصیت کا ہر پہلو روشن اور شان دار ہے اور ہر ایک وسعت کا متقاضی ہے ۔
وصال:
قائدِ اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی نے 16 شوّال 1424ھ مطابق 11 دسمبر 2003ء بروزِ جمعرات اسلام آباد میں بارہ بج کر بیس منٹ پر دوپہر کو 80 سال کی عمر میں انتقال کیا۔آپ کی قبرِ انور حضرت عبد اللہ شاہ غازی علیہ الرحمۃ کے مزارکے احاطے میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت (سندھ) تعارف علمائے اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-ahmed-noorani-siddiqui
؎
لوگ کیا کیا بِک گئے تو نے نہیں بیچے اُصول
تیرے دامن کو بہت ہے دولتِ عشقِ رسولﷺ
آپ ملکی و بین الاقوامی بہت سے اداروں اور تنظیموں کے بانی تھے، جن میں سے ایک دعوتِ اسلامی بھی ہے ۔ آپ نابغۂ روز گار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی شخصیت کا ہر پہلو روشن اور شان دار ہے اور ہر ایک وسعت کا متقاضی ہے ۔
وصال:
قائدِ اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدّیقی نے 16 شوّال 1424ھ مطابق 11 دسمبر 2003ء بروزِ جمعرات اسلام آباد میں بارہ بج کر بیس منٹ پر دوپہر کو 80 سال کی عمر میں انتقال کیا۔آپ کی قبرِ انور حضرت عبد اللہ شاہ غازی علیہ الرحمۃ کے مزارکے احاطے میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت (سندھ) تعارف علمائے اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-ahmed-noorani-siddiqui
scholars.pk
Hazrat Allama Shah Ahmed Noorani Siddiqui
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب محی الدین ہے۔ آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیاگیا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔
ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِشیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا۔(کتاب خزینۃالاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ،ص، ۴۷۲)
وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
نام و نسب:
الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب محی الدین ہے۔ آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیاگیا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا۔ مشہور صوفی بزرگ ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔
ولادت:
آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔
بشارتِ غوث الاعظم:
کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِشیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا۔(کتاب خزینۃالاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶) (مہر منیر ،ص، ۴۷۲)
وفات:
۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے ۲۸ ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mohiuddin-ibne-arabi-makki
scholars.pk
Hazrat Mohiuddin Ibne Arabi Makki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
شہزادیِ رسول ﷺ سیّدہ رقیہ
رضی الله تبارک و تعالیٰ عنہا
نام و نسب:
اسمِ گرامی: رُقیہ ۔ کنیت: اُمِّ عبد اللہ۔ والدِ ماجد: حضور نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ ۔ والدۂ ماجدہ: سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا ۔
نسب:
شہزادیِ رسول حضرت سیّدہ رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
سیّدہ رقیہ بنتِ محمدِ مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف۔
ولادت:
آپ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادی ہیں۔آپ کی ولادت حضور نبی کریم ﷺ کی پہلی شہزادی سیّدہ زینب کی ولادت کے تین سال بعد اور اِعلانِ نبوّت سے سات سال قبل، مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔ اُس وقت رسولِ اکرم ﷺ کی عمرِ مبارک کا تینتیسواں (33 واں) سال تھا۔
سیرت و خَصائص:
پہلے آپ کا نکاح ابولہب کے بیٹے ’’عتبہ‘‘ سے ہوا تھا مگر ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی تھی کہ سورۂ تَبَّتْ یَدَا نازل ہوئی۔ اِس پر، غصّے میں آکر، ابو لہب نے اپنے بیٹے عتبہ سے حضرت رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو طلاق دِلوا دی۔ اس کے بعد، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمافرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :
’’اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کا نکاح عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہسے کردوں ۔ ‘‘
چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت رقیہ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کر دیا اور ساتھ ہی رخصتی بھی کردی۔(کَنْزُالْعُمَّال، ج 6 ص 375)
ان دونوں میاں بیوی نے پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینے کی طرف ہجرت کی اور دونوں ’’صَاحِبُ الْہِجْرَتَیْن ‘‘ (دو ہجرتوں والے) کے معزّز لقب سے سرفراز ہوئے۔
رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اَحْسَنُ زَوْجَیْنِ رَاٰہُمَا اِنْسَانٌ: رُقَیَّۃُ وَ زَوْجُہَا عُثْمَانُ۔‘‘
ترجمہ: ’’سب سےحسین جوڑا جو دیکھا گیا وہ سیّدہ رقیہ اور سیّدنا عثمان کا ہے۔‘‘(الاصابۃ)
جنگِ بدر کے دنوں میں حضرت رقیہ زیادہ بیمار تھیں، چناں چہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہکو ان کی تیمارداری کے لیے مدینے میں رہنے کا حکم دے دیا اور جنگِ بدر میں جانے سے روک دیا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہجس دن جنگِ بدر میں فتحِ مبین کی خوش خبری لے کر مدینے پہنچے، اُسی دن بی بی رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا بیس برس کی عمر پاکر مدینے میں انتقال ہوا۔ حضور ﷺ جنگِ بدر کی وجہ سے اُن کے جنازے میں شریک نہ ہوسکے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ اگرچہ جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگر حضورﷺنے ان کو جنگِ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مالِ غنیمت میں سے حصّہ بھی عطا فرمایا۔ حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکے شکمِ مبارک سے ایک فرزند پیدا ہوئے تھے، جن کا نام ’’عبداﷲ‘‘ تھا مگر وہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد ۴ھ میں وفات پا گئے۔ بی بی رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکی قبر بھی جنّت البقیع میں ہے۔
(شرح العلامۃ الزرقانی، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ و علیہم الصلاۃ والسلام، ج۴، ص: ۳۲۲۔۳۲۳)
https://scholars.pk/ur/scholar/daughter-of-holy-prophet-hazrat-ruqayyah-bint-muhammad
رضی الله تبارک و تعالیٰ عنہا
نام و نسب:
اسمِ گرامی: رُقیہ ۔ کنیت: اُمِّ عبد اللہ۔ والدِ ماجد: حضور نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ ۔ والدۂ ماجدہ: سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا ۔
نسب:
شہزادیِ رسول حضرت سیّدہ رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
سیّدہ رقیہ بنتِ محمدِ مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف۔
ولادت:
آپ حضور ﷺ کی دوسری صاحبزادی ہیں۔آپ کی ولادت حضور نبی کریم ﷺ کی پہلی شہزادی سیّدہ زینب کی ولادت کے تین سال بعد اور اِعلانِ نبوّت سے سات سال قبل، مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔ اُس وقت رسولِ اکرم ﷺ کی عمرِ مبارک کا تینتیسواں (33 واں) سال تھا۔
سیرت و خَصائص:
پہلے آپ کا نکاح ابولہب کے بیٹے ’’عتبہ‘‘ سے ہوا تھا مگر ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی تھی کہ سورۂ تَبَّتْ یَدَا نازل ہوئی۔ اِس پر، غصّے میں آکر، ابو لہب نے اپنے بیٹے عتبہ سے حضرت رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو طلاق دِلوا دی۔ اس کے بعد، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمافرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :
’’اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کا نکاح عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہسے کردوں ۔ ‘‘
چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت رقیہ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کر دیا اور ساتھ ہی رخصتی بھی کردی۔(کَنْزُالْعُمَّال، ج 6 ص 375)
ان دونوں میاں بیوی نے پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینے کی طرف ہجرت کی اور دونوں ’’صَاحِبُ الْہِجْرَتَیْن ‘‘ (دو ہجرتوں والے) کے معزّز لقب سے سرفراز ہوئے۔
رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اَحْسَنُ زَوْجَیْنِ رَاٰہُمَا اِنْسَانٌ: رُقَیَّۃُ وَ زَوْجُہَا عُثْمَانُ۔‘‘
ترجمہ: ’’سب سےحسین جوڑا جو دیکھا گیا وہ سیّدہ رقیہ اور سیّدنا عثمان کا ہے۔‘‘(الاصابۃ)
جنگِ بدر کے دنوں میں حضرت رقیہ زیادہ بیمار تھیں، چناں چہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہکو ان کی تیمارداری کے لیے مدینے میں رہنے کا حکم دے دیا اور جنگِ بدر میں جانے سے روک دیا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہجس دن جنگِ بدر میں فتحِ مبین کی خوش خبری لے کر مدینے پہنچے، اُسی دن بی بی رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا بیس برس کی عمر پاکر مدینے میں انتقال ہوا۔ حضور ﷺ جنگِ بدر کی وجہ سے اُن کے جنازے میں شریک نہ ہوسکے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ اگرچہ جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگر حضورﷺنے ان کو جنگِ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مالِ غنیمت میں سے حصّہ بھی عطا فرمایا۔ حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکے شکمِ مبارک سے ایک فرزند پیدا ہوئے تھے، جن کا نام ’’عبداﷲ‘‘ تھا مگر وہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد ۴ھ میں وفات پا گئے۔ بی بی رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکی قبر بھی جنّت البقیع میں ہے۔
(شرح العلامۃ الزرقانی، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ و علیہم الصلاۃ والسلام، ج۴، ص: ۳۲۲۔۳۲۳)
https://scholars.pk/ur/scholar/daughter-of-holy-prophet-hazrat-ruqayyah-bint-muhammad
scholars.pk
Daughter of Holy Prophet Hazrat Ruqayyah Bint Muhammad
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی الله تبارک و تعالیٰ عنہا
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سیّدہ عائشہ۔ کنیت: اُمِّ عبداللہ۔ خطاب: اُمّ المؤمنین ۔ اَلقاب: صدّیقہ، عفیفہ، طیّبہ، حَبِیْبَۃُ رَسُوْلِ اللہ، حَبِیْبَۃُ الْحَبِیْب، حُمَیْرَاء ۔
والدِ گرامی: سیّدنا ابو بکر صدّیق رضی الله تبارک و تعالیٰ عنه ۔ والدۂ محترمہ: آپ کی والدۂ محترمہ کا نام ’’زینب‘‘ اور لقب ’’اُمِّ رومان‘‘ تھا ۔
نسب:
اُمّ المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سیّدہ عائشہ بنتِ ابوبکر صدّیق بن ابو قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مُرّہ بن کعب بن لوی ۔
آپ کی والدۂ ماجدہ کا سلسلۂ نسب حضورِ اکرم ﷺ سے کنانہ پر ایک ہو جاتا ہے۔
ولادت:
حضرت عائشہ کی تاریخِ ولادت سے تاریخ و سیر کی کتب خاموش ہیں ۔ بعض مؤرّخین نے 5 نبوی سال کے آخری حصّے میں ولادت تحریر کی ہے ۔ (سیرتِ عائشہ، ص23)
سیرت و خصائص:
آپ امیر المؤمنین حضرت سیّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نورِ نظر اور دخترِنیک اختر ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلانِ نبوّت کے دسویں سال ماہِ شوّال میں ہجرت سے تین سال قبل نکاح فرمایا اور شوّال 2ھ میں مدینۂ منوّرہ کے اندر آپ کاشانۂ نبوّت میں داخل ہو گئیں اور نو برس تک حضور ﷺ کی صحبت سے سرفراز رہیں۔ اَزواجِ مطہرات میں آپ ہی کنواری تھیں اور بارگاہِ نبوّت میں محبوب ترین بیوی تھیں۔
حضورِ اقدس ﷺ کا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بارے میں ارشاد ہے:
’’کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نازل نہیں ہوئی مگر عائشہ جب میرے ساتھ بسترِ نبوّت پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں تو اُس حالت میں بھی مجھ پر وحیِ الٰہی اترتی رہتی ہے۔‘‘ (بخاری، جلد اوّل، ص۵۳۲، فضلِ عائشہ)
بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا:
’’تین راتیں میں خواب میں یہ دیکھتا رہا کہ ایک فرشتہ تم کو ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر میرے پاس لاتا رہا اور مجھ سے یہ کہتا رہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو ناگہاں وہ تم ہی تھیں۔ اس کے بعد میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ خواب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس خواب کو پورا کر دکھائے گا۔ ‘‘ ( مشکوٰۃ، جلد۲، ص۵۷۳)
فقہ و حدیث کے علوم میں اَزواجِ مطہرات رضی اللہ تعالٰی عنہن کے اندرآپ کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ دوہزار دو سو دس (2210) حدیثیں آپ نے حضورﷺ سے روایت فرمائی ہیں۔ آپ کی روایت کی ہوئی حدیثوں میں سے ایک سو چوہتر (174) حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور چوّن (54) حدیثیں ایسی ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اڑسٹھ حدیثیں وہ ہیں جن کو صرف امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں تحریر کیا ہے۔ ان کے علاوہ باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں۔
ابنِ سعد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے نقل کیا ہے کہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرمایا کرتی تھیں:
مجھے تمام ازواجِ مطہرات پر ایسی دس فضیلتیں حاصل ہیں جو دوسری اَزواجِ مطہرات کو حاصل نہیں ہوئیں:
1. حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمنے میرے سوا کسی دوسری کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا۔
2. میرے سوا اَزواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں۔
3. ﷲ تعالیٰ نے میری براء ت اور پاک دامنی کا بیان آسمان سے قرآن میں نازل فرمایا۔
4. نکاح سے قبل حضرت جبریل نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دکھلا دی تھی اور آپ تین راتیں خواب میں مجھے دیکھتے رہے۔
5. میں اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک ہی برتن میں سے پانی لے لے کرغسل کیا کرتے تھے۔
یہ شرف میرے سوا اَزواجِ مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا۔
6. حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمنمازِتہجد پڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی رہتی تھی۔ اُمّہات المؤمنین میں سے کوئی بھی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکی اس کریمانہ محبّت سے سرفراز نہیں ہوئی۔
7. میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکے ساتھ ایک لحاف میں سوئی رہتی تھی اور آپ پر اللہ کی وحی نازل ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ اعزازِ خداوندی ہے جو میرے سواحضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکی کسی زوجۂ مطہرہ کو حاصل نہیں ہوا۔
8. وفاتِ اَقدس کے وقت، میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکو اپنی گود میں لیے ہوئے بیٹھی تھی اور آپ کا سرِ اَنور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اِسی حالت میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکا وصال ہوا۔
9. حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمنے میری باری کے دن وفات پائی۔
10. حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکی قبرِ اَنور خاص میرے گھر میں بنی۔(زرقانی، جلد۳، ص۳۲۳)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سیّدہ عائشہ۔ کنیت: اُمِّ عبداللہ۔ خطاب: اُمّ المؤمنین ۔ اَلقاب: صدّیقہ، عفیفہ، طیّبہ، حَبِیْبَۃُ رَسُوْلِ اللہ، حَبِیْبَۃُ الْحَبِیْب، حُمَیْرَاء ۔
والدِ گرامی: سیّدنا ابو بکر صدّیق رضی الله تبارک و تعالیٰ عنه ۔ والدۂ محترمہ: آپ کی والدۂ محترمہ کا نام ’’زینب‘‘ اور لقب ’’اُمِّ رومان‘‘ تھا ۔
نسب:
اُمّ المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سیّدہ عائشہ بنتِ ابوبکر صدّیق بن ابو قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مُرّہ بن کعب بن لوی ۔
آپ کی والدۂ ماجدہ کا سلسلۂ نسب حضورِ اکرم ﷺ سے کنانہ پر ایک ہو جاتا ہے۔
ولادت:
حضرت عائشہ کی تاریخِ ولادت سے تاریخ و سیر کی کتب خاموش ہیں ۔ بعض مؤرّخین نے 5 نبوی سال کے آخری حصّے میں ولادت تحریر کی ہے ۔ (سیرتِ عائشہ، ص23)
سیرت و خصائص:
آپ امیر المؤمنین حضرت سیّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نورِ نظر اور دخترِنیک اختر ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلانِ نبوّت کے دسویں سال ماہِ شوّال میں ہجرت سے تین سال قبل نکاح فرمایا اور شوّال 2ھ میں مدینۂ منوّرہ کے اندر آپ کاشانۂ نبوّت میں داخل ہو گئیں اور نو برس تک حضور ﷺ کی صحبت سے سرفراز رہیں۔ اَزواجِ مطہرات میں آپ ہی کنواری تھیں اور بارگاہِ نبوّت میں محبوب ترین بیوی تھیں۔
حضورِ اقدس ﷺ کا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بارے میں ارشاد ہے:
’’کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نازل نہیں ہوئی مگر عائشہ جب میرے ساتھ بسترِ نبوّت پر سوئی ہوئی ہوتی ہیں تو اُس حالت میں بھی مجھ پر وحیِ الٰہی اترتی رہتی ہے۔‘‘ (بخاری، جلد اوّل، ص۵۳۲، فضلِ عائشہ)
بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا:
’’تین راتیں میں خواب میں یہ دیکھتا رہا کہ ایک فرشتہ تم کو ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر میرے پاس لاتا رہا اور مجھ سے یہ کہتا رہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو ناگہاں وہ تم ہی تھیں۔ اس کے بعد میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ خواب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس خواب کو پورا کر دکھائے گا۔ ‘‘ ( مشکوٰۃ، جلد۲، ص۵۷۳)
فقہ و حدیث کے علوم میں اَزواجِ مطہرات رضی اللہ تعالٰی عنہن کے اندرآپ کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ دوہزار دو سو دس (2210) حدیثیں آپ نے حضورﷺ سے روایت فرمائی ہیں۔ آپ کی روایت کی ہوئی حدیثوں میں سے ایک سو چوہتر (174) حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور چوّن (54) حدیثیں ایسی ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اڑسٹھ حدیثیں وہ ہیں جن کو صرف امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں تحریر کیا ہے۔ ان کے علاوہ باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں۔
ابنِ سعد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے نقل کیا ہے کہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرمایا کرتی تھیں:
مجھے تمام ازواجِ مطہرات پر ایسی دس فضیلتیں حاصل ہیں جو دوسری اَزواجِ مطہرات کو حاصل نہیں ہوئیں:
1. حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمنے میرے سوا کسی دوسری کنواری عورت سے نکاح نہیں فرمایا۔
2. میرے سوا اَزواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں۔
3. ﷲ تعالیٰ نے میری براء ت اور پاک دامنی کا بیان آسمان سے قرآن میں نازل فرمایا۔
4. نکاح سے قبل حضرت جبریل نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لا کر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دکھلا دی تھی اور آپ تین راتیں خواب میں مجھے دیکھتے رہے۔
5. میں اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک ہی برتن میں سے پانی لے لے کرغسل کیا کرتے تھے۔
یہ شرف میرے سوا اَزواجِ مطہرات میں سے کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا۔
6. حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمنمازِتہجد پڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی رہتی تھی۔ اُمّہات المؤمنین میں سے کوئی بھی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکی اس کریمانہ محبّت سے سرفراز نہیں ہوئی۔
7. میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکے ساتھ ایک لحاف میں سوئی رہتی تھی اور آپ پر اللہ کی وحی نازل ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ اعزازِ خداوندی ہے جو میرے سواحضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکی کسی زوجۂ مطہرہ کو حاصل نہیں ہوا۔
8. وفاتِ اَقدس کے وقت، میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکو اپنی گود میں لیے ہوئے بیٹھی تھی اور آپ کا سرِ اَنور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اِسی حالت میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکا وصال ہوا۔
9. حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمنے میری باری کے دن وفات پائی۔
10. حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمکی قبرِ اَنور خاص میرے گھر میں بنی۔(زرقانی، جلد۳، ص۳۲۳)
❤1
عبادت میں بھی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مرتبہ بہت ہی بلند ہے۔ آپ کے بھتیجے حضرت امام قاسم بن محمد بن ابوبکر صدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہم کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا روزانہ بلا ناغہ نمازِ تہجد پڑھنے کی پابند تھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہا کرتی تھیں۔ سخاوت اور صدقات و خیرات کے معاملے میں بھی تمام اُمّہات المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہنمیں خاص طور پر بہت ممتاز تھیں۔
اُمِ دُرّہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکہتی ہیں:
’’ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکے پاس تھی اُس وقت ایک لاکھ درہم کہیں سے آپ کے پاس آئے، آپ نے اُسی وقت اُن سب درہموں کو لوگوں میں تقسیم کر دیا اور ایک درہم بھی گھر میں باقی نہیں چھوڑا۔ اُس دن میں اور وہ روزہ دار تھیں، میں نے عرض کیا کہ آپ نے سب درہموں کو بانٹ دیا اور ایک درہم بھی باقی نہیں رکھا کہ آپ گوشت خرید کرروزہ افطار کرتیں۔‘‘
تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہانے فرمایا:
’’تم نے اگرمجھ سے پہلے کہا ہوتا تو میں ایک درہم کا گوشت منگا لیتی۔‘‘(الطبقات الکبریٰ لابن سعد ، باب ذکر ازواج رسول اللہ ، ج۸، ص ۵۰۔۵۱)
وصال:
اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا وصال شبِ 17؍ رمضان المبارک 57ھ یا 58ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ جنّت البقیع میں آرام فرما ہیں ۔ (سیرتِ مصطفیٰ ﷺ، ص662)
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-ayesha-siddiqa
اُمِ دُرّہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکہتی ہیں:
’’ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکے پاس تھی اُس وقت ایک لاکھ درہم کہیں سے آپ کے پاس آئے، آپ نے اُسی وقت اُن سب درہموں کو لوگوں میں تقسیم کر دیا اور ایک درہم بھی گھر میں باقی نہیں چھوڑا۔ اُس دن میں اور وہ روزہ دار تھیں، میں نے عرض کیا کہ آپ نے سب درہموں کو بانٹ دیا اور ایک درہم بھی باقی نہیں رکھا کہ آپ گوشت خرید کرروزہ افطار کرتیں۔‘‘
تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہانے فرمایا:
’’تم نے اگرمجھ سے پہلے کہا ہوتا تو میں ایک درہم کا گوشت منگا لیتی۔‘‘(الطبقات الکبریٰ لابن سعد ، باب ذکر ازواج رسول اللہ ، ج۸، ص ۵۰۔۵۱)
وصال:
اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا وصال شبِ 17؍ رمضان المبارک 57ھ یا 58ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ جنّت البقیع میں آرام فرما ہیں ۔ (سیرتِ مصطفیٰ ﷺ، ص662)
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-ayesha-siddiqa
scholars.pk
Biography of Hazrat Aisha bint Abi Bakr (RA), Wives of the Prophet Muhammad (SAW), Ummul Momineen Hazrat Ayesha Siddiqa (RA), A'isha…
Wife of Holy Prophet Muhammad Hazrat Ayesha Siddiqa
❤1👍1