🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمدقمرالدین سیالوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی: خواجہ محمدقمرالدین سیالوی۔لقب:شیخ الاسلام والمسلمین۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے: شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی،بن قدوۃ السالکین خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی ،بن عارف کبیر خواجہ محمد الدین سیالوی،بن شیخ المشائخ خواجہ محمدشمس الدین سیالوی۔علیہم الرحمہ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت15، جمادی الاول، 1324ھ، بمطابق1905ء، کو قدوۃ السالکین خواجہ محمد ضیاءالدین سیالوی علیہ الرحمہ کے گھرسیال شریف ضلع سرگودھا پنجاب میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے جد امجدخواجہ محمدالدین سیالوی علیہ الرحمہ کے زیرِ سایہ ہوئی۔ابھی آپ کی عمر مبارک 4سال کی تھی توجدامجد کا انتقال ہوگیا۔ جب آپ چار سال، چارماہ، دس دن کے ہوئے تواس وقت کے معروف حافظِ قرآن، حافظ عبدالکریم کی خدمت میں حفظِ قرآنِ مجید کیلئے بٹھادیا گیا۔اپنی خانقاہ کے مدرسہ ضیاء شمس الاسلام کے اساتذہ اور والد ماجد سے اکثر درسی کتب کا درس لینے کے بعد 1346ھ میں دار الخیر اجمیر پہنچے،اور جامع المنقولِ والمعقول حضرت مولانا معین الدین اجمیر ی علیہ الرحمہ سے شرفِ تلمذ اختیار کیا، اسی سن میں چند ماہ کے بعد آپ کے والد ماجد نے مولانا اجمیری کو سیال شریف آنے کی دعوت دی، تو آپ بھی اُن کے ساتھ وطن آگئے، اور پورے انہماک کے ساتھ اُن سے کسب علم میں مشغول ہوگئے، اور1351ھ، بمطابق1932ء میں تکمیل ِدرسیات کر کے سندِفراغت حاصل کی۔1356ھ، بمطابق 1938ء میں بموقع حج وزیارت علماء حرمین شریفین سے بھی سندیں حاصل کیں۔

بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی قدوۃالسالکین خواجہ محمد ضیاءالدین سیالوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت وخلافت حاصل ہوئی۔

سیرت وخصائص:
مجسمۂ روحانیت ،آفتابِ شریعت، ماہتابِ طریقت، اقلیمِ فقر کے تاجدار، عاشقِ نبی مختار،عارف باللہ ،مردِحقیقت آگاہ ،وارث علوم حضرت پیر سیال لجپال، شیخ الاسلام و المسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ نے ہزاروں گم کردہ را ہوں کو راہ ِہدایت سے ہمکنار فرمایا۔بد نصیبوں کو سکون و طمانیت کی دولت عطا کی۔ انگنت نفوس آپ کے انفاس طیبہ کی وجہ سے اللہ کریم اور حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے انوار سے چمک اٹھے۔آپ سیدھے سادھے مسلمانوں کے ایمان اور خوش عقیدگی کے تحفظ کی خاطر ہمیشہ فرقہائے باطلہ کی تردید میں سینہ سپر رہے۔ حضرت شیخ الاسلام عربی فارسی اردوسرائیکی اور پنجابی زبانوں میں تسلسل کے ساتھ گفتگو فرمالیا کرتے تھے۔ عربی میں کمال درجے کا شغف رکھنے کے علاوہ آپ اس زبان میں بلا تکلف مضمون لکھنے کی بھی مہارت تامہ حاصل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس غضب کا حافظہ عطا کیا تھا کہ سالوں پہلے پڑھی ہوئی کتابوں کے مضامین آپ کے پیش نظر رہتے تھے۔آپ کے استاد محترمہ علامہ معین الدین اجمیری آپ ذہانت و ذکاوت کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے۔ آپ کو تقابلِ ادیان پر بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ نے اپنے زور علم اور زور بیان سے عیسائیوں کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کئے جس میں بڑے بڑے عیسائی پادرویوں کو منہ کی کھانی پڑی۔آپ حُسن اخلاق کےپیکر اور اپنے بزرگوں کےسچے جانشین تھے۔ علماءومشائخ کے طبقہ میں یکساں مقبول تھے، پاکستان کے مسلمانوں کی عظیم دینی و سیاسی تنظیم جمعیت علماء پاکستان کے 1970کےشدید بُحران اور اختلاف کی فضاء میں باتفاق رائے صدر منتخب کیے گئے۔ آپ کی قیادت میں جمعیۃ علماء پاکستان نے بہترین کارہائے نمایاںسر انجام دیئےتھے۔

حضرت خواجہ سیالوی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کشمیر میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ اور فرنٹیئر کے سرحدی علاقوں سے بیش قیمت اسلحہ خرید کر مجاہدین میں تقسیم فرمایا۔جہاد کشمیر کےلیے آپ نے ملک گیر مہم چلائی اور لوگوں کو اس جہاد میں شامل ہونے کی طرف راغب گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جوق در جوق جہاد کشمیر میں شامل ہونے لگے۔حضرت خواجہ سیالوی نے مہاجرین کی آباد کاری میں بھر پور حصہ لیا اور حکومت کا ہاتھ ہٹانے بٹانے کے علاوہ اپنے ذاتی فنڈ سے بے شمار مہاجروں کے گھروں کو آباد گیا۔1965ء کی جنگ کے موقع پر آپ نے اپنی تمام جمع پونجی دفاعی فنڈ میں جمع کرادی اور اپنے مریدین اور معتقدین کو بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حکم دیا۔آپ کے ایثار و قربانی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے زیورات بھی ملک پر قربان کر دیئے اور اپنے احباب کو قنوت نازلہ پڑھنے کا حکم دیا۔آپ علیہ الرحمہ بیحدخودداراورغیورتھے۔کبھی بھی ذات مفادات آپ کی رکاوٹ نہ بن سکے،اوریہی اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کاخاصہ ہوتاہے۔
1
حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ آلو مہار شریف ضلع سیالکوٹ والے فرماتے ہیں: کہ ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے موقع پر ایک سرمایہ دار اور جاگیر دار شخص جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کا خواہش مند تھا۔اس تمنا کی تکمیل کے لیے وہ حضرت خواجہ صاحب کی خدمت میں سیال شریف حاضر ہوا۔ آپ نے اس کی خواہش سنی تو فرمایا یہ نشست تو ہم نے ایک عالم کو دی ہے۔ تاکہ وہ الیکشن میں کامیاب ہوجائے اور دین کی خدمت کرے ۔یہ سن کر مذکورہ جاگیر دار بہت مایوس ہوا اور ناکام واپس چلاگیا۔اس بات کے کچھ ہی دنوں بعد وہ تین لاکھ روپےکی خطیر رقم کا چیک لیکر خواجہ صاحب کے پاس دوبارہ آیا اور عرض کی حضرت یہ رقم ناچیز کی طرف سے قبول کرلیجئے تاکہ لنگر کے خرچ میں کام آئے۔ حضرت خواجہ صاحب سمجھ گئے کہ اس دنیا دار کا مقصد کیا ہے۔ آپ کو اس سرمایہ دار کی اس حرکت پر اتنا طیش آیا کہ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا کہ اے دولت مند انسان !یہ اپنی دولت لے جا اور یہ بوٹی کسی دنیا کےکتے کے آگے ڈال دینا۔ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وہ شخص شرمندہ ہوکر چلاگیا۔آپ نےساری زندگی پاکستان میں نظام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کےلیے بیحد کوششیں فرمائیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر جسٹس تنزیل الرحمٰن نے انکشاف کیا کہ حضرت شیخ الاسلام نے اسلامی نظریات کونسل کےلیے ہمیشہ تنخواہ کے بغیر کام کیا ہے۔حتیٰ کہ سفر کےاخراجات کےلیے بھی آپ نےکبھی بھی حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔

وصال:
آپ 17 رمضان المبارک 1401ھ، بمطابق 20 جولائی 1981ء، کواپنے خالق حقیق سے جا ملے ۔ سیال شریف ضلع سرگودھا میں آپ کا مزار پر انوار مرجع خاص و عام ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-qamaruddin-sialvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مولانا ابو النور محد صدیق چشتی ابن مولانا ابو الصدیق احمد دین (قدس سرہما) پاک سیرت اور صوفی مشرب عالم تے۔آپ کے آباء واجداد ضلع فیروز پور (بھارت) کے رہنے والے تھے سکول کے عہد میں منتقل ہو کر یہ بزرگ ضلع ساہیوال میں آباد ہو گئے۔ اس خاندان نے علوم دینیہ کی اشاعت میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔آپ کے جد اعلیٰ حضرت مولانا ابو الجمال حافظ محمد حبیب اللہ المعروف بر قع پوش قدس سرہ بلند پایہ عالم اور ولی کامل تھے، چہرئہ انور پر حجاب ڈالے رہتے اور حسن اتفاق سے تدفین کے دوسرے روز آپ کے مرقد پاک کو بھی سبزہ زار نے ڈھانپ کر آپ کی عادت کریمہ کی اتباع کا حق ادا کردیا۔

آپ کے والد ماجد اپنے دور کے ممتاز عالم تھے،فارسی زبان میں مہارت تامہ رکھتے تھے چنانچہ آپ نے علوم عربیہ اور فارسی کی تعلیم انہی سے حاصل کی اور دورئہ حدیث پاک کی تحصیل کے لئے اپنے فرزند ارجمند فقیہ عصر مولانا ابو الخیر محمد نور اللہ نعیمی مدطلہ العالی کی حوصلہ افزائی فرمائی۔آپ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سچے عاشق تھے،ذکر مصطفی سنکر آپ کا جسم لرز جاتا تھا۔ایک مرتبہ دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور کے سالانہ جلسہ پر شیخ القرآن علامہ ابو الحقائق محمد عبد الغفور ہزاروی قدس سرہ اپنے خاص انداز میں تقریری شروع کی،آپ بہت علیل تھے،علامہ ہزاروی کی آواز سنکر مجھے جلسہ گاہ میں لے چلو چنانچہ دو آدمی کندھوں پر آپ کو جلسہ گاہ میں لائے اور تین فٹ اونچے اسٹیچ پر بٹھادیا۔علامہ ہزاروی نے امام اہل سنت امام احمد رضا بریلوی قدس کا یہ شعر پڑھا۔ ؎

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلادئے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسادئے ہیں

تو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ی اس مخصوس مہک سے محفوظ ہوکر آپ پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی چنانچہ آپ بری روانی سے ذکر کرتے ہوئے اسٹیچ سے نیچے اتر آئے آپ نے ۱۹۴۸ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔

مولانا ابو النور سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے مشہور بزرگ قدوۃ السالکین حضرت خواجہ حافظ جان محمدقدس سرہ (چک ۳۹ ساہیوال) سے بیعت اور مجاز تھے نیز دوسرے سلسلہ ہائے طریقت کے بزرگوں سے بھی مستفید تھے۔آپ کے مریدین کا حلقہ وسیع تھا۔

آپ کے فرزند اجمند حضرت فقیہ اعظم جب محقق دوراں علامہ سید دیدار علی شاہ قدس سرہ سے سند درس حدیث لیکر آئے تو آپ نے فرید پور جاگیر(ساہیوال) میں دار العلوم کے قیام کا مشورہ دیا چنانچہ ۱۳۴۲ھ میں یہان دار العلوم قائم کردیا گیا اور پھر ۱۳۶۵ھ میں اسے بصیر پور منتقل کردیا گیا۔مولانا ابو النور نے اس دار العلوم کے ذریعہ دینی خدمات کا تمام تراجر خاتم الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نذر کردیا تھا او ر فرمایا کرتے تھے کہ روز محشر ہم خالی ہاتھ جاکر اپنا دامن حضور ہی کی عنایات سے بھریں گے۔دارالعلوم کی ترقی میں آپ کی مساعی نا قابل فراموش ہیں۔

آخر عمر میں مثانہ کے موذی مرض میں مبتلا ہوئے،شدید ترین تکلیف کے با وجود آپ احکام شرعیہ پر سختی سے عمل پیرار ہے۔آپ کو سول ہسپتال (منٹگمری) میں داخل کیا گیامگر اپریشن کے باوجود بھی مرض میں کمی واقع نہ ہوئی۔آخری لمحات میں آپ نے اپنے فرزند رشید فقیہ عصر مدظلہ العالی سے رازدار نہ باتیں کیں،اس دوران کمر تک رشتۂ زیست ٹوٹ چکا تھا لیکن آپ برق رفتاری سے کلمۂ طیبہ کا ذکر کر رہے تھے چنانچہ اسی کیفیت میں ۱۷رمضان المبارک،۱۵ مارچ(۱۳۸۰ھ؍۱۹۲۱ئ) بروز اتوار آپ نے سفر آخرت فرمایا اور دارالعلوم کے وسیع احاطہ میں آپ کا مرقد انور مأمن مریدین و معتقدین ہے۔

آپ نے دو شادیاں کیں جن سے متعدد صاحبزادیوں کے علاوہ(۱)ابو الخیر محمد نور اللہ نعیمی مدظہ،شیخ الحدیث وبانی دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصر پور،مولانا ۲ابو البقاء محمد حبیب اللہ نور،مولانا ابو الحامد۳ محمد احمد چشتی،مولوی۴ محمود احمد اور حافظ۵ مقصود احمد صاحبزادگان آپ کے خلف ہیں[1]

بصد حسرت بگویم دو ستاں را
کہ رحلت مولانا صدیق فرمود

مجاہد عابد و عاشق رسولے
فقیہ وہم تقی وہم صفی بود

گذشتہ عمر اودرخدمت خلق
برفت از مابحق خر سندہ خوشنود

زدل تاریخ پر سیدیم و گفتہ
فگندہ شش جہت ’’مغفور و مودود‘‘

[1] یہ حالات مولانا شاہ محمد چشتی قصوری حاصل ہوئے

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abun-noor-muhammad-siddiq-chishti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ملّا حامد قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

جامع علومِ ظاہر و باطن اور واقفِ رموز طریقت و حقیقت تھے۔ قرآن خوانی میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ شروع شروع میں حضرت شیخ محمد میاں میر کے فضل و کمال کے منکر تھے۔ پھر ان کی روحانی کشش سے حاضرِ خدمت ہوکر حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عبادت و ریاضت میں ہمہ تن مشغول ہوگئے اور کمالاتِ ولایت بڑی جلد حاصل کرلیے۔ تھوڑی ہی مدت میں عالمِ ملکوت کے اسرار و رموز آپ پر منکشف ہوگئے۔

وصال:
۱۷؍ رمضان ۱۰۴۴ھ میں وفات پائی۔ مرقد مرشد کے روضہ کے احاطہ کے اندر ہے۔

جناب شیخ حامد پیرِ حق ہیں!!
چو تاریخِ وصال او بجستم

شہِ دیں پیشوائے اہلِ جنت
عیاں شد ’’مقتدائے اہل جنت‘‘
۴۴ ھ ۱۰

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mulla-hamid-qadri-lahori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید اخلاص حسین ۔پھپھوند علاقے کی نسبت سے ’’پھپھوندوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندوی بن سید انوار حسین بن سید غالب حسین ۔ علیہم الرحمۃ ۔

خاندانی تعلق قطب المشائخ حضر ت خواجہ ابو یوسف چشتی علیہ الرحمہ سےہے۔مولانا خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ آپ کےبرادر عم زاد اور’’ علمائے اہل سنت‘‘ کے مستقل صدر تھے۔انہوں نے آپ کی ولادت سے پہلے ہی آپ کانام اخلاص حسین ،اور اپنی چچی کو برکت کےلئے اپنا کرتہ پیش کردیا تھا۔اسی طرح آپ کا سارا خاندان علم و فضل، ورع و تقویٰ میں اپنی مثال آپ ہے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:29)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 1281ھ، مطابق 1865ء کو اپنے آبائی مکان سید واڑہ سہسوان ضلع بدایوں (انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ کا گھرانہ علم وفضل میں مشہور تھا۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔چار برس کے ہوئے تو حضرت مولانا خواجہ عبد الصمد ابدال علیہ الرحمہ آپ کو اپنے ہمراہ پھپھوند لے آئے اور علوم نقلیہ و عقلیہ،وتصوف کی تعلیم دی۔طب کا درس مولانا حکیم مومن سجادسے لیا۔

بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے بھائی اور خسر حضرت مولانا خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے،اور خلافت سےمشرف ہوئے۔سفر وحضر میں ہمہ وقت خدمتِ مرشد میں مصروف رہتے تھے۔

سیرت و خصائص:
جامع علوم عقلیہ ونقلیہ، عالم وعارف، فاضلِ اکمل، حضرت علامہ مولانا سید اخلاص حسین پھپھوندی رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ علیہ الرحمہ خاندان سادات کےروشن چشم وچراغ تھے۔علم وفضل تقویٰ وپرہیزگاری، خلوص، اور اخلاقِ مصطفوی ﷺ سے مالا مال تھے۔ انتہائی حلیم الطبع، ملنسار، اور جامع کمال شخصیت تھے۔ ابتداء سےہی انتہائی نیک ومتقی،اورجوانی میں ایسی عبادت وریاضت کہ متقدمین صوفیاءکی یاد تازہ ہوجاتی۔

آپ کےکمالات ِ ظاہری وباطنی کااندازہ اس سےبآسانی لگایا جاسکتاہے کہ جب اکیس سال عمر ہوئی توحضرت العلام خواجہ سید عبدالصمد ابدال علیہ الرحمہ نےاپنی صاحبزادی کاعقد آپ سےکردیا۔آپ کی ذات ایسی تھی کہ چڑیاں بھی مانوس تھیں،شانوں پر ہاتھوں پر آکر بیٹھی رہتیں لوگ متعجبانہ پوچھتے کہ حضرت یہ خوب مل گئی ہیں،ہنس کر فرماتے کہ میری آدمیت غائب ہوگئی ہے،اس لیے آجاتی ہیں۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت:29)

16شوال 1337ھ کو گھر سے روانہ ہوکر ممبئی پہنچے،اور 13ذی قعد کو حج کے لیے روانہ ہوئے،حج کے بعد مدینہ طیبہ میں معتکف ہوگئے ۔آپ نہایت ہی صابر وقانع تھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 17/رمضان المبارک 1338ھ کو مدینۃ المنورہ میں بحالتِ اعتکاف ہوا،اورجنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون اور سیدنا ابراہیمبن رسول اللہ ﷺ کے قرب میں دفن کیے گئے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ikhlas-hussain-phaphondvi-badayuni
1