اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے محب، و مداح اور قدر دان تھے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بھی آپ کی بہت عزت فرماتے تھے، اور آپ کے مسلکی تصلب اور دینی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ ہمیشہ آپ کے گھرانے کی تعریف فرماتے ۔
1313ھ میں جب مولانا عبد السلام جبل پوری علیہ الرحمہ کو ’’ ندوہ ‘‘ کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا ۔ آپ نے شرکت کے لئے والد گرامی مولانا شاہ محمد عبد الکریم علیہ الرحمہ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت عطا فرما کر یہ نصیحت فرمائی ۔ ’’ ندوہ میں شریک ہو یا نہ ہو ۔ لیکن مولانا احمد رضاؔ خان صاحب سے ضرور ملنا ۔ اس وقت ان کا علم و فضل و کمال اپنی وسعت و تابانی اور تحقیق و تدقیق کے لحاظ سے بے نظیر و بے مثال اور انتہائی عروجِ کمال پر ہے ۔ جس طرح بھی ہو مولانا کی خدمت میں رہ کر جتنا فیض حاصل کر سکو، تمھارے خاندان کے لئے باعثِ رحمت و برکت و سعادت و سر بلندی ہوگا ۔ بریلی میں ندوہ کا یہ اجلاس تمہارے لئے مولانا احمد رضاؔ خاں صاحب سے علم و فضل و سعادت حاصل کرنے کا ان شاء اللہ ذریعہ اور سبب ہے‘‘۔
اولاد:
حضرت مولانا کے سات صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھیں ۔ جن میں چھ صاحبزادے بہترین عالم اور حافظ قرآن ہوئے، تمام حضرات دین کے کاموں میں ساری زندگی مصروفِ عمل رہے۔بِالخصوص اپنے برادر مولانا عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ دینی خدمات انجام دیتے رہے ۔
تاریخِ وصال:
16 رمضان المبارک 1317ھ ، مطابق 1898ء دوپہر 11 بج کر 22 منٹ اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے ۔ عیدگاہ کلاں جبل پور میں ابدی نیند سو رہے ہیں ۔ آپ نے اپنی موت کا وقت بتا دیا تھا ۔ سب رشتے داروں کو جمع کر کے ملاقات فرمائی، سب سے مصافحہ فرمایا، حقوق العباد سے سبکدوشی کے لئے معافی مانگی، اور سب کو رونے دھونے سے منع فرمایا ۔ اپنے صاحبزادوں کو نصیحتیں فرمائیں ۔ دینِ متین کی اشاعت کی تلقین فرمائی، اور حضرت عید الاسلام سے فرمایا: لکھو! ’’ماتَ عَبدُ الکریم فیِ شَوقہٖ‘‘
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی طرف سے قطعۂ تاریخِ وصال:
قیل مات الزکی عبدالکریم
قلت کلا بل احتظیٰ بدوام
بتایا گیا کہ مردِ صالح عبد الکریم کا انتقال ہو گیا ۔ میں نے کہا ہر گز نہیں! بلکہ انہیں دائمی زندگی کا حصہ دیا گیا
حی عن بینۃ فکیف یموت
انما المیت ھالک الاوھام
وہ اپنی نشانی کے ساتھ زندہ ہیں ۔ پھر وہ کیسے مر سکتے ہیں ۔ بے شک ان کا جنازہ صرف وہموں کو دبانے کے لئے ہے
أ یموت الذی لہ خلف
اللہ مثل عبد السلام
کیا وہ شخص مر سکتا ہے، جس کا جانشین عبد السلام جیسا ہو، جسے اللہ ﷻ سلامت رکھے
جبل الدین راسخ بقیامہ
فی جبل فور شامخ الاعلام
وہ عبد السلام جو دین کا پہاڑ ہے، اور جبل پور میں مضبوطی سے کھڑا ہے، جس کی نشانیاں بہت بلند و بالا ہیں ۔
قلت تاریخ عیشہ الابدی
عبد الکریم خلد کرام
میں کہتا ہوں یہ 1317ھ ہمیشہ آرام کرنے کی تاریخ ہے، عبد الکریم عزت والوں کی خلد میں ہمیشہ کے لئے رہیں
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shah-muhammad-abdul-karim-naqshbandi-qadri
1313ھ میں جب مولانا عبد السلام جبل پوری علیہ الرحمہ کو ’’ ندوہ ‘‘ کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا ۔ آپ نے شرکت کے لئے والد گرامی مولانا شاہ محمد عبد الکریم علیہ الرحمہ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت عطا فرما کر یہ نصیحت فرمائی ۔ ’’ ندوہ میں شریک ہو یا نہ ہو ۔ لیکن مولانا احمد رضاؔ خان صاحب سے ضرور ملنا ۔ اس وقت ان کا علم و فضل و کمال اپنی وسعت و تابانی اور تحقیق و تدقیق کے لحاظ سے بے نظیر و بے مثال اور انتہائی عروجِ کمال پر ہے ۔ جس طرح بھی ہو مولانا کی خدمت میں رہ کر جتنا فیض حاصل کر سکو، تمھارے خاندان کے لئے باعثِ رحمت و برکت و سعادت و سر بلندی ہوگا ۔ بریلی میں ندوہ کا یہ اجلاس تمہارے لئے مولانا احمد رضاؔ خاں صاحب سے علم و فضل و سعادت حاصل کرنے کا ان شاء اللہ ذریعہ اور سبب ہے‘‘۔
اولاد:
حضرت مولانا کے سات صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھیں ۔ جن میں چھ صاحبزادے بہترین عالم اور حافظ قرآن ہوئے، تمام حضرات دین کے کاموں میں ساری زندگی مصروفِ عمل رہے۔بِالخصوص اپنے برادر مولانا عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ دینی خدمات انجام دیتے رہے ۔
تاریخِ وصال:
16 رمضان المبارک 1317ھ ، مطابق 1898ء دوپہر 11 بج کر 22 منٹ اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے ۔ عیدگاہ کلاں جبل پور میں ابدی نیند سو رہے ہیں ۔ آپ نے اپنی موت کا وقت بتا دیا تھا ۔ سب رشتے داروں کو جمع کر کے ملاقات فرمائی، سب سے مصافحہ فرمایا، حقوق العباد سے سبکدوشی کے لئے معافی مانگی، اور سب کو رونے دھونے سے منع فرمایا ۔ اپنے صاحبزادوں کو نصیحتیں فرمائیں ۔ دینِ متین کی اشاعت کی تلقین فرمائی، اور حضرت عید الاسلام سے فرمایا: لکھو! ’’ماتَ عَبدُ الکریم فیِ شَوقہٖ‘‘
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی طرف سے قطعۂ تاریخِ وصال:
قیل مات الزکی عبدالکریم
قلت کلا بل احتظیٰ بدوام
بتایا گیا کہ مردِ صالح عبد الکریم کا انتقال ہو گیا ۔ میں نے کہا ہر گز نہیں! بلکہ انہیں دائمی زندگی کا حصہ دیا گیا
حی عن بینۃ فکیف یموت
انما المیت ھالک الاوھام
وہ اپنی نشانی کے ساتھ زندہ ہیں ۔ پھر وہ کیسے مر سکتے ہیں ۔ بے شک ان کا جنازہ صرف وہموں کو دبانے کے لئے ہے
أ یموت الذی لہ خلف
اللہ مثل عبد السلام
کیا وہ شخص مر سکتا ہے، جس کا جانشین عبد السلام جیسا ہو، جسے اللہ ﷻ سلامت رکھے
جبل الدین راسخ بقیامہ
فی جبل فور شامخ الاعلام
وہ عبد السلام جو دین کا پہاڑ ہے، اور جبل پور میں مضبوطی سے کھڑا ہے، جس کی نشانیاں بہت بلند و بالا ہیں ۔
قلت تاریخ عیشہ الابدی
عبد الکریم خلد کرام
میں کہتا ہوں یہ 1317ھ ہمیشہ آرام کرنے کی تاریخ ہے، عبد الکریم عزت والوں کی خلد میں ہمیشہ کے لئے رہیں
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shah-muhammad-abdul-karim-naqshbandi-qadri
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Abdul Karim Hyderabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت مولانا حافظ موسیٰ چشتی مانکپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ اعظم روپڑی کے خلیفہ تھے ابتدائی زندگی میں قلعی گری کیا کرتے تھے۔ دوبیویاں تھیں جب اللہ سے لگن لگی تو دونوں کو طلاق دے دی ایک عرصہ تک ریاضت اور مجاہدہ میں مشغول رہے اور آپ اس عرصہ بہلول پور روپڑ میں قیام پذیر رہے زندگی کے آخری حصہ میں روپڑ سے چل کر مانک پور رہنے لگے یہاں بے پناہ مخلوق آپ کے دروازے پر آنے لگی حالت جذب و مستی یہاں تک پہنچی کہ جو شخص بھی آپ کے دروازے پر آتا جذب و مستی کا حصہ پاتا تھا۔ آپ اس میں جس پر نگاہ ڈالتے اسے اپنا منظور نظر بنالیتے تھے بعض حضرات تو آپ کی ایک نگاہ سے مجذوب بن جاتے تھے۔ چنانچہ کریم شاہ اور محمد شاہ اسی علاقہ کے مشہور مجذوب آپ کی ایک نگاہ کی زد میں آئے اور مجذوب بھی تھے۔
آپ سولہ (۱۶) ماہ رمضان المبارک بروز ہفتہ ۱۲۴۷ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار مانک پور میں زیارت گاہ عوام و خواص ہے آپ کے با کمال خلفاء میں سے مولوی امانت علی امروہوی غلام معین الدین المعروف شاہ خاموش دکنی خواجہ عبداللہ امرو ہی امیر امانت علی ثانی محمد بخش سہگاوالہ اور پیر شاہ سجادہ نشین جیسے کئی بزرگ اس سلسلہ پر کار بند رہے۔
بہر دیدار حق چو از دُنیا
رفت در ملک جاوداں موسیٰ
کن رقم سال رحلتش سرور
زیب دین حظ مار جہاں موسیٰ
۱۲۴۷ھ
خزینۃ الاصفیاء چشتیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-moosa-chishti
آپ اعظم روپڑی کے خلیفہ تھے ابتدائی زندگی میں قلعی گری کیا کرتے تھے۔ دوبیویاں تھیں جب اللہ سے لگن لگی تو دونوں کو طلاق دے دی ایک عرصہ تک ریاضت اور مجاہدہ میں مشغول رہے اور آپ اس عرصہ بہلول پور روپڑ میں قیام پذیر رہے زندگی کے آخری حصہ میں روپڑ سے چل کر مانک پور رہنے لگے یہاں بے پناہ مخلوق آپ کے دروازے پر آنے لگی حالت جذب و مستی یہاں تک پہنچی کہ جو شخص بھی آپ کے دروازے پر آتا جذب و مستی کا حصہ پاتا تھا۔ آپ اس میں جس پر نگاہ ڈالتے اسے اپنا منظور نظر بنالیتے تھے بعض حضرات تو آپ کی ایک نگاہ سے مجذوب بن جاتے تھے۔ چنانچہ کریم شاہ اور محمد شاہ اسی علاقہ کے مشہور مجذوب آپ کی ایک نگاہ کی زد میں آئے اور مجذوب بھی تھے۔
آپ سولہ (۱۶) ماہ رمضان المبارک بروز ہفتہ ۱۲۴۷ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار مانک پور میں زیارت گاہ عوام و خواص ہے آپ کے با کمال خلفاء میں سے مولوی امانت علی امروہوی غلام معین الدین المعروف شاہ خاموش دکنی خواجہ عبداللہ امرو ہی امیر امانت علی ثانی محمد بخش سہگاوالہ اور پیر شاہ سجادہ نشین جیسے کئی بزرگ اس سلسلہ پر کار بند رہے۔
بہر دیدار حق چو از دُنیا
رفت در ملک جاوداں موسیٰ
کن رقم سال رحلتش سرور
زیب دین حظ مار جہاں موسیٰ
۱۲۴۷ھ
خزینۃ الاصفیاء چشتیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-moosa-chishti
scholars.pk
Hazrat Hafiz Moosa Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
برہان الموحدین، سید شاہ آل محمد مارہروی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید شاہ آل محمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: برہان الموحدین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ بروز بدھ، 18 رمضان المبارک، 1111 ہجری کو بلگرام میں سید شاہ برکت اللہ کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
تمام ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم و تکمیل اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، آپ اپنے وقت کے شیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ علومِ شریعت کے بھی ماہرِ کامل تھے ۔ آپ کا اکثر وقت اپنے والدِ گرامی اور دیگر اکابرینِ امت کی تصنیف کردہ کتب کے مطالعہ میں گزرتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا تھا ۔ آپ کو حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی بیعت و ارشاد کا حکم فرما دیا تھا ۔ چنانچہ جب کوئی طالب ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تو فرماتے: آل محمد کے پاس جاؤ، اس نے میرے سر سے بہت بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور مجھے بہت راحت و آرام بخشا ہے ۔ نیز سند ِخلافت و دستارِ نیابت حضرت سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی سے بھی ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
برہان الموحدین، رئیس المتوکلین، سید العارفین، جامع شریعت وطریقت ابو البرکات سید شاہ آل محمد مارہروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کے بڑے صاحبزادے تھے ۔ آپ مکمل 3 سال تک اعتکاف میں خلوت گزیں رہے اور جو کی روٹی سے افطار کیا کرتے تھے ۔ والد صاحب کی زندگی میں ہی مسندِ مشیخیت و سجادہ پر فائز ہو گئے تھے ۔ شریعت کی انتہائی نگہداشت کرتے تھے ۔ امراضِ قلبی کے ازالہ میں آپ مسیحائی فرماتے تھے، اور ویرانۂ وادیِ شوق کو مقام ‘‘ تلوین ’’ پر پہنچا کر قرار و تسکین بخشتے تھے ـ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں سر گرم و کوشاں رہتے تھے، اور ہر وقت ترویجِ شریعتِ مطہرہ میں مصروفِ عمل رہتے تھے ۔ خلافِ سنت کوئی عمل برداشت نہیں کرتے تھے ۔ اکثر اوقات تصوف کی کتابوں، خصوصاً اپنے والد ماجد کی تالیفات کے مطالعہ میں بسر فرماتے ۔ آپ کی برکت سے مارہرہ مطہرہ اور اس کے اطراف و اکناف سے بہت لوگ مستفید ہو کر شرفِ ارادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ آپ کی ذات سے تمام سلاسل کو بالعموم اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو بالخصوص فروغ حاصل ہوا ۔
وصال:
16 رمضان المبارک 1164ھ بروز پیر کی رات کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ مبارک مارہرہ شریف (انڈیا) مرجعِ خاص و عام ہے ۔
چراغ آلِ عبا وود مانِ علا
فزود جلوۂِ او رونق حریم بہشت
اِفادۂ کردبمن سال رحلتش ہاتف
نصیب آ ل محمد بود نعیم بہشت
1164ہجری
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aal-e-muhammad-marharvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید شاہ آل محمد ۔ کنیت: ابو البرکات ۔ لقب: برہان الموحدین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سید شاہ آل محمد بن صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بلگرامی بن سید شاہ عبد الجلیل بلگرامی بن سید میر عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ بروز بدھ، 18 رمضان المبارک، 1111 ہجری کو بلگرام میں سید شاہ برکت اللہ کے گھر پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
تمام ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم و تکمیل اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، آپ اپنے وقت کے شیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ علومِ شریعت کے بھی ماہرِ کامل تھے ۔ آپ کا اکثر وقت اپنے والدِ گرامی اور دیگر اکابرینِ امت کی تصنیف کردہ کتب کے مطالعہ میں گزرتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا تھا ۔ آپ کو حضرت شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی بیعت و ارشاد کا حکم فرما دیا تھا ۔ چنانچہ جب کوئی طالب ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تو فرماتے: آل محمد کے پاس جاؤ، اس نے میرے سر سے بہت بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور مجھے بہت راحت و آرام بخشا ہے ۔ نیز سند ِخلافت و دستارِ نیابت حضرت سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی سے بھی ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
برہان الموحدین، رئیس المتوکلین، سید العارفین، جامع شریعت وطریقت ابو البرکات سید شاہ آل محمد مارہروی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کے بڑے صاحبزادے تھے ۔ آپ مکمل 3 سال تک اعتکاف میں خلوت گزیں رہے اور جو کی روٹی سے افطار کیا کرتے تھے ۔ والد صاحب کی زندگی میں ہی مسندِ مشیخیت و سجادہ پر فائز ہو گئے تھے ۔ شریعت کی انتہائی نگہداشت کرتے تھے ۔ امراضِ قلبی کے ازالہ میں آپ مسیحائی فرماتے تھے، اور ویرانۂ وادیِ شوق کو مقام ‘‘ تلوین ’’ پر پہنچا کر قرار و تسکین بخشتے تھے ـ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں سر گرم و کوشاں رہتے تھے، اور ہر وقت ترویجِ شریعتِ مطہرہ میں مصروفِ عمل رہتے تھے ۔ خلافِ سنت کوئی عمل برداشت نہیں کرتے تھے ۔ اکثر اوقات تصوف کی کتابوں، خصوصاً اپنے والد ماجد کی تالیفات کے مطالعہ میں بسر فرماتے ۔ آپ کی برکت سے مارہرہ مطہرہ اور اس کے اطراف و اکناف سے بہت لوگ مستفید ہو کر شرفِ ارادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ آپ کی ذات سے تمام سلاسل کو بالعموم اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو بالخصوص فروغ حاصل ہوا ۔
وصال:
16 رمضان المبارک 1164ھ بروز پیر کی رات کو آپ کا وصال ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِ مبارک مارہرہ شریف (انڈیا) مرجعِ خاص و عام ہے ۔
چراغ آلِ عبا وود مانِ علا
فزود جلوۂِ او رونق حریم بہشت
اِفادۂ کردبمن سال رحلتش ہاتف
نصیب آ ل محمد بود نعیم بہشت
1164ہجری
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-aal-e-muhammad-marharvi
scholars.pk
Hazrat Aal-e-Muhammad Marharvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-09-1444 ᴴ | 07-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-09-1444 ᴴ | 08-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-09-1444 ᴴ | 08-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-09-1444 ᴴ | 08-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1