🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرت_امام_حسن ❶ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ ولادت ۱۵ رمضان المبارک ۳ھ شہادت: ۲۸ صفر المظفر ۰۵ ھ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_حضرت_امام_حسن ❻
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
یوم ولادت: ۱۵ رمضان المبارک ۳ھ
یوم شہادت: ۲۸ صفر المظفر ۵۰ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
یوم ولادت: ۱۵ رمضان المبارک ۳ھ
یوم شہادت: ۲۸ صفر المظفر ۵۰ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_حضرت_امام_حسن ❻ رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ یوم ولادت: ۱۵ رمضان المبارک ۳ھ یوم شہادت: ۲۸ صفر المظفر ۵۰ھ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_حضرت_امام_حسن ❼
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
یوم ولادت: ۱۵ رمضان المبارک ۳ھ
یوم شہادت: ۲۸ صفر المظفر ۵۰ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
یوم ولادت: ۱۵ رمضان المبارک ۳ھ
یوم شہادت: ۲۸ صفر المظفر ۵۰ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
مولانا شاہ عبد الکریم نقشبندی قادری
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد عبدالکریم علیہ الرحمہ (والدِ گرامی: شاہ عبدالسلام جبل پوری علیہ الرحمہ ) ۔ لقب: امام الحکماء ، استاذ العلماء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمٰن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ علیہ الرحمہ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے ہے ۔
چھٹی پشت میں آپ کے جد اعلیٰ، حضرت شاہ عبد الوہاب صدیقی علیہ الرحمہ سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی ۔
یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے ۔
آپ علیہ الرحمہ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا ۔ (برہانِ ملت کی حیات و خدمات: 23)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1233ھ مطابق 1818ء کو ’’حیدر آباد دکن‘‘ میں ہوئی ۔جہاں آپ کے آباؤ اجداد کو حکومتِ آصفیہ کی جانب سے زمین بطورِ جاگیر ملی ہوئی تھی ۔ (ایضا: 23)
تحصیلِ علم:
مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی قادری علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے جد امجد مولانا شاہ محمد عبد الرحیم علیہ الرحمہ اور اپنے والد ماجد مولانا شاہ محمد عبد الرحمن علیہ الرحمہ سے ہی حاصل کی ۔ پھر بعد میں مولانا شاہ دبلے محی الدین صاحب سے تعلیم حاصل کی ۔
فقہ و حدیث، منطق، ادب، معانی، بیان، وغیرہ علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ مولانا عبد الحلیم صاحب فرنگی محلی لکھنوی علیہ الرحمہ (م1284ھ) سے حیدر آباد دکن میں حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے استاذِ محترم مولانا شاہ دبلے محی الدین رائے ویلوری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے ۔ اور حضرت مولانا شاہ سید ابو القاسم یوسف حسن بخاری علیہ الرحمہ سے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ اجازت و خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔ طالبانِ حق کو ہمیشہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت فرماتے ۔ (ایضا:23)
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، امام الحکما، مرجع الفضلاء، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، پیر طریقت، رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی قادری علیہ الرحمہ ـ
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم، حاذق حکیم اور شیخِ طریقت تھے ۔خاندانی شرافت کے ساتھ علمی وجاہت میں بھی یکتا تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کا روزانہ کا معمول تھا کہ فجر سے کافی پیشتر مسجد کوتوالی تشریف لے جاتے، تہجد و نوافل اوراد و اذکار سے فرصت پاکر نماز فجر جماعت سے ادا فرمانے کے بعد اکثر و بیشتر نماز اشراق کے بعد اپنے مکان پر تشریف لاتے ۔ مکان پر مردوں اور عورتوں کا ہجوم ہوتا ۔ جو اپنے چھوٹے بچوں اور مریضوں کو دور دراز علاقوں سے دوا کی غرض سے لے آتےتھے ۔ آپ ان کی نبض دیکھ کر دوا تجویز فرماتے ۔ جب مریضوں سے فرصت ہوتی تو دوپہر کے وقت کا کھانا کھا کر قیلولہ فرماتے، پھر اٹھ کر مسجد تشریف لے جاتے ۔ اور اکثر مسجد سے نماز مغرب ادا کرکے واپس آتے ۔ کبھی عشاء کے بعد ہی واپسی ہوتی ۔
تبحرِ علمی:
فقہ میں آپ کو زبردست عبور حاصل تھا ۔ مسائل فقہیہ برجستہ کسی کتاب کی طرف رجوع کیے بغیر تحریر فرماتے ۔ اس وقت فتاویٰ کی باقاعدہ نقل کا کوئی انتظام نہ تھا ۔ اہم اور ضروری مسائل کسی کتاب کے اول یا آخر اوراق میں تحریر فرما دیتے ۔ دونوں قسم کی تحریریں اب بھی دارالافتاء عید الاسلام میں موجود ہیں ۔ وعظ و تقریر فرماتے وقت، تفسیر و حدیث میں دقائقِ نظری کے ساتھ نکات بیان فرماتے ۔ ہر قسم کے نقوش و تعویذات کے لئے آپ کی ذات مرجعِ خلائق تھی ۔ مؤکلات پر بھی آپ کو قابو حاصل تھا ۔ علم طب و حکمت میں بھی مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔ مایوس العلاج مریض ہر طرف سے نا کام ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، دعا اور دوا دونوں لے کر جاتے ۔ شفاء پاتے، اور خوش و خرم رہتے، اور آپ کو دعاؤں سے نوازتے ۔
الللﷻ نے آپ کو تخلیقی ذہن عطاء فرمایا تھا ۔ زندگی کے تمام شعبہ جات کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل تھیں ۔ آپ کا ذہن ایک انجینئر کا ذہن تھا ۔ ہر کام ایک منظم طریقے، اور عمدہ اسلوب سے کرتے تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ عربی، فارسی، اردو، انگریزی، مرہٹی، تیلگو، اور کانگری وغیرہ زبانوں میں بلا تکلف گفتگو فرما لیتے تھے ۔ ان سب خصوصیات کے باوجود سادہ زندگی کے حامل تھے ۔ نام و نمود اور نمائش سے ہمیشہ متنفر رہے ۔ آپ علیہ الرحمہ کے تلامذہ، مریدین، متوسلین اور خلفاء کا وسیع حلقہ رکھتے تھے ۔ بدمذہبوں اور بدعقیدہ مولویوں کی خوب خبر لیتے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد عبدالکریم علیہ الرحمہ (والدِ گرامی: شاہ عبدالسلام جبل پوری علیہ الرحمہ ) ۔ لقب: امام الحکماء ، استاذ العلماء ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبد الرحمٰن بن مولانا شاہ محمد عبد الرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبد الوہاب صدیقی طائفی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔
آپ علیہ الرحمہ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنه سے ہے ۔
چھٹی پشت میں آپ کے جد اعلیٰ، حضرت شاہ عبد الوہاب صدیقی علیہ الرحمہ سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی ۔
یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے ۔
آپ علیہ الرحمہ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا ۔ (برہانِ ملت کی حیات و خدمات: 23)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1233ھ مطابق 1818ء کو ’’حیدر آباد دکن‘‘ میں ہوئی ۔جہاں آپ کے آباؤ اجداد کو حکومتِ آصفیہ کی جانب سے زمین بطورِ جاگیر ملی ہوئی تھی ۔ (ایضا: 23)
تحصیلِ علم:
مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی قادری علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے جد امجد مولانا شاہ محمد عبد الرحیم علیہ الرحمہ اور اپنے والد ماجد مولانا شاہ محمد عبد الرحمن علیہ الرحمہ سے ہی حاصل کی ۔ پھر بعد میں مولانا شاہ دبلے محی الدین صاحب سے تعلیم حاصل کی ۔
فقہ و حدیث، منطق، ادب، معانی، بیان، وغیرہ علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ مولانا عبد الحلیم صاحب فرنگی محلی لکھنوی علیہ الرحمہ (م1284ھ) سے حیدر آباد دکن میں حاصل فرمائی ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے استاذِ محترم مولانا شاہ دبلے محی الدین رائے ویلوری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے ۔ اور حضرت مولانا شاہ سید ابو القاسم یوسف حسن بخاری علیہ الرحمہ سے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ اجازت و خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔ طالبانِ حق کو ہمیشہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت فرماتے ۔ (ایضا:23)
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، امام الحکما، مرجع الفضلاء، جامع کمالات علمیہ و عملیہ، پیر طریقت، رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا شاہ محمد عبد الکریم نقشبندی قادری علیہ الرحمہ ـ
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم، حاذق حکیم اور شیخِ طریقت تھے ۔خاندانی شرافت کے ساتھ علمی وجاہت میں بھی یکتا تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کا روزانہ کا معمول تھا کہ فجر سے کافی پیشتر مسجد کوتوالی تشریف لے جاتے، تہجد و نوافل اوراد و اذکار سے فرصت پاکر نماز فجر جماعت سے ادا فرمانے کے بعد اکثر و بیشتر نماز اشراق کے بعد اپنے مکان پر تشریف لاتے ۔ مکان پر مردوں اور عورتوں کا ہجوم ہوتا ۔ جو اپنے چھوٹے بچوں اور مریضوں کو دور دراز علاقوں سے دوا کی غرض سے لے آتےتھے ۔ آپ ان کی نبض دیکھ کر دوا تجویز فرماتے ۔ جب مریضوں سے فرصت ہوتی تو دوپہر کے وقت کا کھانا کھا کر قیلولہ فرماتے، پھر اٹھ کر مسجد تشریف لے جاتے ۔ اور اکثر مسجد سے نماز مغرب ادا کرکے واپس آتے ۔ کبھی عشاء کے بعد ہی واپسی ہوتی ۔
تبحرِ علمی:
فقہ میں آپ کو زبردست عبور حاصل تھا ۔ مسائل فقہیہ برجستہ کسی کتاب کی طرف رجوع کیے بغیر تحریر فرماتے ۔ اس وقت فتاویٰ کی باقاعدہ نقل کا کوئی انتظام نہ تھا ۔ اہم اور ضروری مسائل کسی کتاب کے اول یا آخر اوراق میں تحریر فرما دیتے ۔ دونوں قسم کی تحریریں اب بھی دارالافتاء عید الاسلام میں موجود ہیں ۔ وعظ و تقریر فرماتے وقت، تفسیر و حدیث میں دقائقِ نظری کے ساتھ نکات بیان فرماتے ۔ ہر قسم کے نقوش و تعویذات کے لئے آپ کی ذات مرجعِ خلائق تھی ۔ مؤکلات پر بھی آپ کو قابو حاصل تھا ۔ علم طب و حکمت میں بھی مہارتِ تامہ حاصل تھی ۔ مایوس العلاج مریض ہر طرف سے نا کام ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، دعا اور دوا دونوں لے کر جاتے ۔ شفاء پاتے، اور خوش و خرم رہتے، اور آپ کو دعاؤں سے نوازتے ۔
الللﷻ نے آپ کو تخلیقی ذہن عطاء فرمایا تھا ۔ زندگی کے تمام شعبہ جات کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل تھیں ۔ آپ کا ذہن ایک انجینئر کا ذہن تھا ۔ ہر کام ایک منظم طریقے، اور عمدہ اسلوب سے کرتے تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ عربی، فارسی، اردو، انگریزی، مرہٹی، تیلگو، اور کانگری وغیرہ زبانوں میں بلا تکلف گفتگو فرما لیتے تھے ۔ ان سب خصوصیات کے باوجود سادہ زندگی کے حامل تھے ۔ نام و نمود اور نمائش سے ہمیشہ متنفر رہے ۔ آپ علیہ الرحمہ کے تلامذہ، مریدین، متوسلین اور خلفاء کا وسیع حلقہ رکھتے تھے ۔ بدمذہبوں اور بدعقیدہ مولویوں کی خوب خبر لیتے ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے محب، و مداح اور قدر دان تھے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بھی آپ کی بہت عزت فرماتے تھے، اور آپ کے مسلکی تصلب اور دینی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ ہمیشہ آپ کے گھرانے کی تعریف فرماتے ۔
1313ھ میں جب مولانا عبد السلام جبل پوری علیہ الرحمہ کو ’’ ندوہ ‘‘ کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا ۔ آپ نے شرکت کے لئے والد گرامی مولانا شاہ محمد عبد الکریم علیہ الرحمہ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت عطا فرما کر یہ نصیحت فرمائی ۔ ’’ ندوہ میں شریک ہو یا نہ ہو ۔ لیکن مولانا احمد رضاؔ خان صاحب سے ضرور ملنا ۔ اس وقت ان کا علم و فضل و کمال اپنی وسعت و تابانی اور تحقیق و تدقیق کے لحاظ سے بے نظیر و بے مثال اور انتہائی عروجِ کمال پر ہے ۔ جس طرح بھی ہو مولانا کی خدمت میں رہ کر جتنا فیض حاصل کر سکو، تمھارے خاندان کے لئے باعثِ رحمت و برکت و سعادت و سر بلندی ہوگا ۔ بریلی میں ندوہ کا یہ اجلاس تمہارے لئے مولانا احمد رضاؔ خاں صاحب سے علم و فضل و سعادت حاصل کرنے کا ان شاء اللہ ذریعہ اور سبب ہے‘‘۔
اولاد:
حضرت مولانا کے سات صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھیں ۔ جن میں چھ صاحبزادے بہترین عالم اور حافظ قرآن ہوئے، تمام حضرات دین کے کاموں میں ساری زندگی مصروفِ عمل رہے۔بِالخصوص اپنے برادر مولانا عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ دینی خدمات انجام دیتے رہے ۔
تاریخِ وصال:
16 رمضان المبارک 1317ھ ، مطابق 1898ء دوپہر 11 بج کر 22 منٹ اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے ۔ عیدگاہ کلاں جبل پور میں ابدی نیند سو رہے ہیں ۔ آپ نے اپنی موت کا وقت بتا دیا تھا ۔ سب رشتے داروں کو جمع کر کے ملاقات فرمائی، سب سے مصافحہ فرمایا، حقوق العباد سے سبکدوشی کے لئے معافی مانگی، اور سب کو رونے دھونے سے منع فرمایا ۔ اپنے صاحبزادوں کو نصیحتیں فرمائیں ۔ دینِ متین کی اشاعت کی تلقین فرمائی، اور حضرت عید الاسلام سے فرمایا: لکھو! ’’ماتَ عَبدُ الکریم فیِ شَوقہٖ‘‘
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی طرف سے قطعۂ تاریخِ وصال:
قیل مات الزکی عبدالکریم
قلت کلا بل احتظیٰ بدوام
بتایا گیا کہ مردِ صالح عبد الکریم کا انتقال ہو گیا ۔ میں نے کہا ہر گز نہیں! بلکہ انہیں دائمی زندگی کا حصہ دیا گیا
حی عن بینۃ فکیف یموت
انما المیت ھالک الاوھام
وہ اپنی نشانی کے ساتھ زندہ ہیں ۔ پھر وہ کیسے مر سکتے ہیں ۔ بے شک ان کا جنازہ صرف وہموں کو دبانے کے لئے ہے
أ یموت الذی لہ خلف
اللہ مثل عبد السلام
کیا وہ شخص مر سکتا ہے، جس کا جانشین عبد السلام جیسا ہو، جسے اللہ ﷻ سلامت رکھے
جبل الدین راسخ بقیامہ
فی جبل فور شامخ الاعلام
وہ عبد السلام جو دین کا پہاڑ ہے، اور جبل پور میں مضبوطی سے کھڑا ہے، جس کی نشانیاں بہت بلند و بالا ہیں ۔
قلت تاریخ عیشہ الابدی
عبد الکریم خلد کرام
میں کہتا ہوں یہ 1317ھ ہمیشہ آرام کرنے کی تاریخ ہے، عبد الکریم عزت والوں کی خلد میں ہمیشہ کے لئے رہیں
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shah-muhammad-abdul-karim-naqshbandi-qadri
1313ھ میں جب مولانا عبد السلام جبل پوری علیہ الرحمہ کو ’’ ندوہ ‘‘ کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا ۔ آپ نے شرکت کے لئے والد گرامی مولانا شاہ محمد عبد الکریم علیہ الرحمہ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت عطا فرما کر یہ نصیحت فرمائی ۔ ’’ ندوہ میں شریک ہو یا نہ ہو ۔ لیکن مولانا احمد رضاؔ خان صاحب سے ضرور ملنا ۔ اس وقت ان کا علم و فضل و کمال اپنی وسعت و تابانی اور تحقیق و تدقیق کے لحاظ سے بے نظیر و بے مثال اور انتہائی عروجِ کمال پر ہے ۔ جس طرح بھی ہو مولانا کی خدمت میں رہ کر جتنا فیض حاصل کر سکو، تمھارے خاندان کے لئے باعثِ رحمت و برکت و سعادت و سر بلندی ہوگا ۔ بریلی میں ندوہ کا یہ اجلاس تمہارے لئے مولانا احمد رضاؔ خاں صاحب سے علم و فضل و سعادت حاصل کرنے کا ان شاء اللہ ذریعہ اور سبب ہے‘‘۔
اولاد:
حضرت مولانا کے سات صاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھیں ۔ جن میں چھ صاحبزادے بہترین عالم اور حافظ قرآن ہوئے، تمام حضرات دین کے کاموں میں ساری زندگی مصروفِ عمل رہے۔بِالخصوص اپنے برادر مولانا عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ دینی خدمات انجام دیتے رہے ۔
تاریخِ وصال:
16 رمضان المبارک 1317ھ ، مطابق 1898ء دوپہر 11 بج کر 22 منٹ اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے ۔ عیدگاہ کلاں جبل پور میں ابدی نیند سو رہے ہیں ۔ آپ نے اپنی موت کا وقت بتا دیا تھا ۔ سب رشتے داروں کو جمع کر کے ملاقات فرمائی، سب سے مصافحہ فرمایا، حقوق العباد سے سبکدوشی کے لئے معافی مانگی، اور سب کو رونے دھونے سے منع فرمایا ۔ اپنے صاحبزادوں کو نصیحتیں فرمائیں ۔ دینِ متین کی اشاعت کی تلقین فرمائی، اور حضرت عید الاسلام سے فرمایا: لکھو! ’’ماتَ عَبدُ الکریم فیِ شَوقہٖ‘‘
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی طرف سے قطعۂ تاریخِ وصال:
قیل مات الزکی عبدالکریم
قلت کلا بل احتظیٰ بدوام
بتایا گیا کہ مردِ صالح عبد الکریم کا انتقال ہو گیا ۔ میں نے کہا ہر گز نہیں! بلکہ انہیں دائمی زندگی کا حصہ دیا گیا
حی عن بینۃ فکیف یموت
انما المیت ھالک الاوھام
وہ اپنی نشانی کے ساتھ زندہ ہیں ۔ پھر وہ کیسے مر سکتے ہیں ۔ بے شک ان کا جنازہ صرف وہموں کو دبانے کے لئے ہے
أ یموت الذی لہ خلف
اللہ مثل عبد السلام
کیا وہ شخص مر سکتا ہے، جس کا جانشین عبد السلام جیسا ہو، جسے اللہ ﷻ سلامت رکھے
جبل الدین راسخ بقیامہ
فی جبل فور شامخ الاعلام
وہ عبد السلام جو دین کا پہاڑ ہے، اور جبل پور میں مضبوطی سے کھڑا ہے، جس کی نشانیاں بہت بلند و بالا ہیں ۔
قلت تاریخ عیشہ الابدی
عبد الکریم خلد کرام
میں کہتا ہوں یہ 1317ھ ہمیشہ آرام کرنے کی تاریخ ہے، عبد الکریم عزت والوں کی خلد میں ہمیشہ کے لئے رہیں
https://scholars.pk/ur/scholar/molana-shah-muhammad-abdul-karim-naqshbandi-qadri
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Abdul Karim Hyderabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs