اسی لیے اپنے والدِ ماجد کے حکم پر ختم ہونے والی ہر درسی کتاب کا دوسرے طلبہ کو درس بھی دیا کرتے تھے۔ علم سے فطری مناسبت اور خدا داد لیاقت و صلاحیت ہی کا فیضان تھا کہ علامہ سیّد محمد علوی مالکی آگے چل کر حضرت العلام سیّد علوی بن عباس مالکی علیہ الرحمۃ کے سچے جانشیں ثابت ہوئے۔ حرمینِ طیبین میں بالخصوص اور عالم اسلام میں بالعموم آپ کو بے پناہ قدر و منزلت حاصل ہے۔ عالم اسلام کے علما ومشائخ آپ کی مؤثر شخصیت اور صلاحیت، جلالتِ شان کے معترف ہیں۔ علم وفضل کے ساتھ ساتھ سرزمینِ حجازِ مقدس میں علامہ سیّد محمد علوی مالکی علیہ الرحمۃ عشق و محبّت نبوی ﷺ کے وارث وامین، عظمتِ انبیا و مرسلین کے علم بردار، اولیا و صلحائے امّت کی جلالتِ شان کے قدر شناس اور ان کی تعظیم و تکریم کے داعی ومبلغ تھے۔
اَسلافِ کرام کی شان میں انگشت نمائی اور زبان درازی کرنے والوں سے سخت نفرت رکھتے اور انھیں ان کی غلط حرکتوں سے باز رکھنے کی کوشش بھی فرماتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ کے علم و فضل کے بڑے مدّاح تھے ۔ پاک و ہند کے علما و مشائخ میں سے جو آپ کی بارگاہ میں امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے اپنی علمی و روحانی نسبت کا تذکرہ کرتا، فوراً کھڑے ہو کر معانقہ کرتے اور پیشانی پر بوسہ دیتے اور بے حد تعظیم وتکریم فرماتے، اور والہانہ انداز میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمۃ کا ذکرِ خیر فرماتے ۔ (مفتیِ اعظم اور اُن کے خلفا ص: 516)
موصوف کا شمار عالم اسلام کی ان کی چیدہ وبرگزیدہ ہستیوں میں ہوتاہے،جو اپنے علم وفضل،زہد وتقویٰ،تحقیق وتصنیف،اور وسعتِ علمی وفکری کےپیشِ نظر امّت ِ مسلمہ کی عقیدتوں، محبتوں کامحور ومرکز رہیں۔ آپ بلاشبہ جلیل القدر عالمِ دین، عظیم محقق، صاحبِ طرز مصنّف، تجربہ کار مدرّس، بلند پایہ مقرر اور عظیم مفکر،مرجع الخلائق قائد، اور رسوخ فی العلم والعمل میں اپنی نظیر آپ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمِ عرب وعجم میں شاید ہی کوئی ایسا ہوجو ان کی تصنیفات اور خدماتِ جلیلہ سے نا واقف ہو۔ آپ نے سعودی عرب میں رہتے ہوئےعلی الاعلان مسلکِ اہلِ سنّت کے موقف کی بھر پور حمایت اور زندگی بھر دلائل کے ساتھ مردانہ وار دفاع کیا۔آپ کے علم ودلائل کی قوت سے قلعۂ نجد کی دیواریں ہل گئیں، تمام دنیا کےریال خور مولوی اور بلکہ خود’’شیخ ِ نجد‘‘ آپ کے علم کی تاب نہ لاسکے، آپ کی کتب میں علم وعرفاں کی بہاریں، قرآن وحدیث کا نور، دلائل واستنباط کاگلستاں، جب کہ اُدھر سے گندی زبان اور غلیظ گالیوں کا استعمال، مثلاً: آپ کی تصنیفِ لطیف: ’’مفاہیم یجب ان تصحح‘‘ کےجواب میں مدرسۂ اثریہ پشاورکےبانی ڈاکٹر شمس الدین سلطانی نے مدینۂ منورہ یونیورسٹی سعودی عرب سےP.H.D.کی،ان کا مقالۂ ڈاکٹریٹ: ’’جہود علماء الحنفیۃ فی ابطال عقائد القبوریۃ‘‘ کےنام سےریاض سعودی عرب سے شائع ہوا۔ یہ مقالہ عداوتِ صلحا،بغضِ انبیاء،بے ہودہ الفاظ و اصطلاحات اور مغلظات کا مجموعہ ہے۔یہی حال تمام ذرّیت کا ہے۔
تلبیسِ ابلیس:
اللہ جَلَّ شَانُہٗ نےآپ کوعرب دنیامیں معیارِ حق بنایا تھا۔آپ اہلِ سنّت کی پہچان وعلامت تھے۔اس لیے کچھ ابن الوقت وہابیہ ودیابنہ نے، جن کی ابن الوقتی ہر میدان میں معروف ہے، اپنے آپ کو ’’اہلِ سنّت‘‘ ثابت کرنے کےلیے دروغ گوئی،منافقت،اور دجل وفریب سے کام لیتے ہوئے،اَسناد لیں،اور سستی شہرت کےلیے اُن کی کتب کے اردو میں اپنے من پسند ترجمے کیے اور عوام کو بےوقوف بنایا۔(جس طرح حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمۃ کےنام پر گمراہ کررہے ہیں،اور’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ کوبڑی بے حیائی وڈھٹائی کے ساتھ ہضم کرگئے۔تونسوی غُفِرَلَہٗ)۔جیسے مفاہیم یجب ان تصحح کاترجمہ بنام’’اصلاحِ مفاہیم،مفتی انیس احمد مظاہری‘‘ شائع ہوا،لیکن حقیقت اس طرح عیاں ہوئی کہ جب ان کی جماعت کےبعض ریال خور وں نے گورنمنٹ سعودیہ سے شکایت کی،انھوں نے ان کے بڑوں سے باز پرس کی اور حقِ نمک یاد دلایا، تو ان کی صفوں میں وسیع جدل برپا ہوا۔ تفصیل کےلیے دیکھیے: ’’حقیقی مسلک ومشرب/تحفّظِ عقائدِ اہلِ سنّت/مجموعۂ تحریرات ِ اکابر1994ء/1995ء کے جرائد ورسائل‘‘۔حضرت محدث ِ اعظم حجاز،شیخ الاسلام سیّد محمد بن علوی مالکی مکی علیہ الرحمۃ کاشمار دنیائے اسلام کے سرخیل علما میں ہوتا ہے،آپ عالمی شہرت یافتہ مصنّف،محقق،اور عظیم دانشورعالم ِ دین اور عارف باللہ صوفی تھے۔اس مختصر تذکرےمیں آپ کی خدمات کا احاطہ ناممکن ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروز جمعۃ المبارک ، 15؍ رمضان المبارک 1425ھ مطابق 29؍ اکتوبر 2004ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا۔جنّت المعلیٰ میں سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے قریب مدفون ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
محدثِ اعظم حجاز کی وفات اور سعودی صحافت؛ مفتیِ اعظم اور اُن کے خلفا؛ روشن دریچے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-muhammad-bin-alvi-maliki-makki
اَسلافِ کرام کی شان میں انگشت نمائی اور زبان درازی کرنے والوں سے سخت نفرت رکھتے اور انھیں ان کی غلط حرکتوں سے باز رکھنے کی کوشش بھی فرماتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ کے علم و فضل کے بڑے مدّاح تھے ۔ پاک و ہند کے علما و مشائخ میں سے جو آپ کی بارگاہ میں امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے اپنی علمی و روحانی نسبت کا تذکرہ کرتا، فوراً کھڑے ہو کر معانقہ کرتے اور پیشانی پر بوسہ دیتے اور بے حد تعظیم وتکریم فرماتے، اور والہانہ انداز میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمۃ کا ذکرِ خیر فرماتے ۔ (مفتیِ اعظم اور اُن کے خلفا ص: 516)
موصوف کا شمار عالم اسلام کی ان کی چیدہ وبرگزیدہ ہستیوں میں ہوتاہے،جو اپنے علم وفضل،زہد وتقویٰ،تحقیق وتصنیف،اور وسعتِ علمی وفکری کےپیشِ نظر امّت ِ مسلمہ کی عقیدتوں، محبتوں کامحور ومرکز رہیں۔ آپ بلاشبہ جلیل القدر عالمِ دین، عظیم محقق، صاحبِ طرز مصنّف، تجربہ کار مدرّس، بلند پایہ مقرر اور عظیم مفکر،مرجع الخلائق قائد، اور رسوخ فی العلم والعمل میں اپنی نظیر آپ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمِ عرب وعجم میں شاید ہی کوئی ایسا ہوجو ان کی تصنیفات اور خدماتِ جلیلہ سے نا واقف ہو۔ آپ نے سعودی عرب میں رہتے ہوئےعلی الاعلان مسلکِ اہلِ سنّت کے موقف کی بھر پور حمایت اور زندگی بھر دلائل کے ساتھ مردانہ وار دفاع کیا۔آپ کے علم ودلائل کی قوت سے قلعۂ نجد کی دیواریں ہل گئیں، تمام دنیا کےریال خور مولوی اور بلکہ خود’’شیخ ِ نجد‘‘ آپ کے علم کی تاب نہ لاسکے، آپ کی کتب میں علم وعرفاں کی بہاریں، قرآن وحدیث کا نور، دلائل واستنباط کاگلستاں، جب کہ اُدھر سے گندی زبان اور غلیظ گالیوں کا استعمال، مثلاً: آپ کی تصنیفِ لطیف: ’’مفاہیم یجب ان تصحح‘‘ کےجواب میں مدرسۂ اثریہ پشاورکےبانی ڈاکٹر شمس الدین سلطانی نے مدینۂ منورہ یونیورسٹی سعودی عرب سےP.H.D.کی،ان کا مقالۂ ڈاکٹریٹ: ’’جہود علماء الحنفیۃ فی ابطال عقائد القبوریۃ‘‘ کےنام سےریاض سعودی عرب سے شائع ہوا۔ یہ مقالہ عداوتِ صلحا،بغضِ انبیاء،بے ہودہ الفاظ و اصطلاحات اور مغلظات کا مجموعہ ہے۔یہی حال تمام ذرّیت کا ہے۔
تلبیسِ ابلیس:
اللہ جَلَّ شَانُہٗ نےآپ کوعرب دنیامیں معیارِ حق بنایا تھا۔آپ اہلِ سنّت کی پہچان وعلامت تھے۔اس لیے کچھ ابن الوقت وہابیہ ودیابنہ نے، جن کی ابن الوقتی ہر میدان میں معروف ہے، اپنے آپ کو ’’اہلِ سنّت‘‘ ثابت کرنے کےلیے دروغ گوئی،منافقت،اور دجل وفریب سے کام لیتے ہوئے،اَسناد لیں،اور سستی شہرت کےلیے اُن کی کتب کے اردو میں اپنے من پسند ترجمے کیے اور عوام کو بےوقوف بنایا۔(جس طرح حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمۃ کےنام پر گمراہ کررہے ہیں،اور’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ کوبڑی بے حیائی وڈھٹائی کے ساتھ ہضم کرگئے۔تونسوی غُفِرَلَہٗ)۔جیسے مفاہیم یجب ان تصحح کاترجمہ بنام’’اصلاحِ مفاہیم،مفتی انیس احمد مظاہری‘‘ شائع ہوا،لیکن حقیقت اس طرح عیاں ہوئی کہ جب ان کی جماعت کےبعض ریال خور وں نے گورنمنٹ سعودیہ سے شکایت کی،انھوں نے ان کے بڑوں سے باز پرس کی اور حقِ نمک یاد دلایا، تو ان کی صفوں میں وسیع جدل برپا ہوا۔ تفصیل کےلیے دیکھیے: ’’حقیقی مسلک ومشرب/تحفّظِ عقائدِ اہلِ سنّت/مجموعۂ تحریرات ِ اکابر1994ء/1995ء کے جرائد ورسائل‘‘۔حضرت محدث ِ اعظم حجاز،شیخ الاسلام سیّد محمد بن علوی مالکی مکی علیہ الرحمۃ کاشمار دنیائے اسلام کے سرخیل علما میں ہوتا ہے،آپ عالمی شہرت یافتہ مصنّف،محقق،اور عظیم دانشورعالم ِ دین اور عارف باللہ صوفی تھے۔اس مختصر تذکرےمیں آپ کی خدمات کا احاطہ ناممکن ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروز جمعۃ المبارک ، 15؍ رمضان المبارک 1425ھ مطابق 29؍ اکتوبر 2004ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا۔جنّت المعلیٰ میں سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے قریب مدفون ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
محدثِ اعظم حجاز کی وفات اور سعودی صحافت؛ مفتیِ اعظم اور اُن کے خلفا؛ روشن دریچے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-muhammad-bin-alvi-maliki-makki
scholars.pk
Hazrat Allama Syed Muhammad Bin Alvi Maliki Makki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مبلغ اعظم علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نام محمد عبد العلیم اور والد کا نام محمد عبد الحکیم ہے ۔ آپ علیہ الرحمۃ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی قادری 15؍ رمضان المبارک 1310ھ کو محلہ مشائخاں میرٹھ میں تولّد ہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی ، چار سال دس ماہ کی عمر میں قرآن ِ پاک ختم کیا ۔ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم والدِ گرامی ہی سے حاصل کی، بعدازاں جامعہ قومیہ میرٹھ میں داخل ہوئے اور سولہ سال کی عمر میں درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔آپ نے علومِ عربیہ کی تکمیل کے بعد علومِ جدیدہ کی تحصیل کا ارادہ کیا۔ اولاً اٹا وہ ہائی اسکول اور بعد میں میرٹھ کالج کے اندر انگریزی علوم کی تحصیل فرمائی۔ آپ اُردو، عربی، فارسی، انگریزی وغیرہ کئی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مولانا عبد العلیم صدّیقی میرٹھی نے مذہبی اور سیاسی سطح پر بڑے بڑے کارہائے نما انجام دیے۔ آپ نے کئی ممالک کا دورہ کیااور ہزاروں غیر مسلموں کومشرف بہ اسلام کیا۔ آپ اردو، عربی، فارسی کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی حیرت انگیز عبور رکھتے تھے۔ مختلف ممالک میں سینکڑوں تعلیمی،دینی اور رفاہی ادارے قائم کیے، مدارس و مساجد بنوائیں، کتب خانے قائم کیے، اخبارات ورسائل اور مجلات جاری کرائے۔آپ نے سیاست میں بھی حصّہ لیا۔تحریکِ خلافت، تحریکِ مولات اور تحریکِ ختمِ نبوّت کے سلسلے میں کئی ماہ قید ومشقت بھی اٹھائی۔ 1940ء میں قراردادِ پاکستان ہونے کے بعدپاکستان کے لیے جدّ و جہدکی۔ 1946ء کی آل انڈیاسنّی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ 1948ء میں پاکستان کے لیے مسوّدۂ آئین کی تیاری کے سلسلے میں سعی فرمائی۔آپ شعلہ بیان خطیب، بلند پایہ ادیب، اور عظیم مفکرِ اسلام تھے۔جب آپ نغمہ ریز آواز میں دلائل و براہین سے اسلام کی حقانیت بیان کرتے تو حاضرین پر سکوت چھاجاتااور بڑے بڑے سائنسدان،فلاسفر اور دہریہ قسم کے لوگ آپ کے دستِ اقدس پر حلقہ بگوشِ اسلام ہوجاتے۔ آپ تقریباً دنیا کی ہر زبان میں اس روانی سے تقریر کرتے تھے کہ اہلِ لسان ورطۂ حیرت میں رہ جاتے۔ آپ نے پوری قوت اور بےباکی سےدینِ فطرت اسلام کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا،جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔
وصال:
چالیس سال تک دنیا بھر میں تبلیغِ اسلام کا فریضہ انجام دے کر 22؍ ذو الحجہ (23ویں شب، بعدِ مغرب) 1373ھ مطابق 22؍ اگست 1954ء کو مدینۂ منوّرہ میں اپنےخالقِ حقیقی سے جا ملے اور تعلیماتِ اسلامیہ کی تبلیغ واشاعت کے انعام کے طور پر جنّت البقیع میں تدفین کے لیے جگہ ملی۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-muhammad-abdul-aleem-siddiqui
نام و نسب:
آپ کا نام محمد عبد العلیم اور والد کا نام محمد عبد الحکیم ہے ۔ آپ علیہ الرحمۃ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی قادری 15؍ رمضان المبارک 1310ھ کو محلہ مشائخاں میرٹھ میں تولّد ہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی ، چار سال دس ماہ کی عمر میں قرآن ِ پاک ختم کیا ۔ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم والدِ گرامی ہی سے حاصل کی، بعدازاں جامعہ قومیہ میرٹھ میں داخل ہوئے اور سولہ سال کی عمر میں درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔آپ نے علومِ عربیہ کی تکمیل کے بعد علومِ جدیدہ کی تحصیل کا ارادہ کیا۔ اولاً اٹا وہ ہائی اسکول اور بعد میں میرٹھ کالج کے اندر انگریزی علوم کی تحصیل فرمائی۔ آپ اُردو، عربی، فارسی، انگریزی وغیرہ کئی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مولانا عبد العلیم صدّیقی میرٹھی نے مذہبی اور سیاسی سطح پر بڑے بڑے کارہائے نما انجام دیے۔ آپ نے کئی ممالک کا دورہ کیااور ہزاروں غیر مسلموں کومشرف بہ اسلام کیا۔ آپ اردو، عربی، فارسی کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی حیرت انگیز عبور رکھتے تھے۔ مختلف ممالک میں سینکڑوں تعلیمی،دینی اور رفاہی ادارے قائم کیے، مدارس و مساجد بنوائیں، کتب خانے قائم کیے، اخبارات ورسائل اور مجلات جاری کرائے۔آپ نے سیاست میں بھی حصّہ لیا۔تحریکِ خلافت، تحریکِ مولات اور تحریکِ ختمِ نبوّت کے سلسلے میں کئی ماہ قید ومشقت بھی اٹھائی۔ 1940ء میں قراردادِ پاکستان ہونے کے بعدپاکستان کے لیے جدّ و جہدکی۔ 1946ء کی آل انڈیاسنّی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ 1948ء میں پاکستان کے لیے مسوّدۂ آئین کی تیاری کے سلسلے میں سعی فرمائی۔آپ شعلہ بیان خطیب، بلند پایہ ادیب، اور عظیم مفکرِ اسلام تھے۔جب آپ نغمہ ریز آواز میں دلائل و براہین سے اسلام کی حقانیت بیان کرتے تو حاضرین پر سکوت چھاجاتااور بڑے بڑے سائنسدان،فلاسفر اور دہریہ قسم کے لوگ آپ کے دستِ اقدس پر حلقہ بگوشِ اسلام ہوجاتے۔ آپ تقریباً دنیا کی ہر زبان میں اس روانی سے تقریر کرتے تھے کہ اہلِ لسان ورطۂ حیرت میں رہ جاتے۔ آپ نے پوری قوت اور بےباکی سےدینِ فطرت اسلام کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا،جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔
وصال:
چالیس سال تک دنیا بھر میں تبلیغِ اسلام کا فریضہ انجام دے کر 22؍ ذو الحجہ (23ویں شب، بعدِ مغرب) 1373ھ مطابق 22؍ اگست 1954ء کو مدینۂ منوّرہ میں اپنےخالقِ حقیقی سے جا ملے اور تعلیماتِ اسلامیہ کی تبلیغ واشاعت کے انعام کے طور پر جنّت البقیع میں تدفین کے لیے جگہ ملی۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-muhammad-abdul-aleem-siddiqui
scholars.pk
Muslim Scholar: Biography of Maulana Shah Muhammad Abdul Aleem Siddiqui, Islamic Scholar, Muslim Scholar,Islamic Teacher , Books…
Hazrat Allama Shah Muhammad Abdul Aleem Siddiqui
❤1
خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند، حضور فیضِ ملّت، حضرت علامہ مفتی فیض احمد اویسی رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔ کنیت: ابو الصالح۔ لقب: فیضِ ملت، محدث بہاولپوری، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی بن مولانا نور احمد بن مولانا محمد حامد بن محمد کمال علیہم الرحمۃ والرحمٰن ۔
آپ کا تعلّق قوم ’’ لاڑ ‘‘ سے ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضور ﷺ کے چچا محترم سیّدنا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ تک منتہی ہوتا ہے، اس لیے نسبتاً ’’عباسی‘‘ ہیں ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت: ص40؛ مظلوم مصنّف، ص12)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 1351ھ مطابق 1932ء کو گاؤں ’’حامد آباد‘‘ تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت ص:40)
تحصیلِ علم:
والدِ گرامی دینی علوم سے بہرہ ور تھے، ابتدائی دینی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر اپنے قریبی قصبہ ترنڈہ میر خان میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخل ہوئے اور پانچ جماعت تک اسکول کی تعلیم حاصل کی اور 1942ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا ۔ والدِ گرامی کی خواہش کے مطابق حفظِ قرآن مجید کے لیے حافظ جان محمد صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور ان سے آٹھ پارے حفظ کیے، اور پھر مولانا حافظ سراج احمد علیہ الرحمۃ سے اٹھارہ پارے حفظ کیے، اور خیر پور ٹامیوالی میں مولانا حافظ غلام یسین علیہ الرحمۃ سے 1947ء میں مکمّل قرآنِ مجید حفظ کیا ۔
آپ فرماتے ہیں: میں نے1947ء کے سال پہلی مرتبہ تراویح کی صورت میں قرآن مجید سنایا، اور 27 ویں شب ختم قرآن کی تقریب بھی تھی اور قیام پاکستان کی خوشی بھی ۔ حفظِ قرآن کے بعد درسِ نظامی کا آغاز کیا، فارسی کی ابتدائی کتب مولانا اللہ بخش علیہ الرحمۃ سے پڑھیں، اور صرف و نحو، ہدایہ، مختصر المعانی، شرحِ جامی وغیرہ ، امام الواعظین، واعظِ شیریں بیاں، عاشقِ رسول ﷺ، حضرت علامہ مولانا خورشید احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے پڑھیں، بقیہ کتب علامہ مولانا عبد الکریم علیہ الرحمۃ سے پڑھیں، 1952ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں محدثِ اعظم پاکستان حضرت شیخ الحدیث مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے دورۂ حدیث مکمّل کیا اور اُن کے مبارک ہاتھوں سے دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغ حاصل فرمائی۔(تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص 40)
بیعت و خلافت:
دورانِ تعلیم سلسلۂ عالیہ اُویسیہ میں حضرت محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے سجادہ نشیں، حضرت مولانا خواجہ محمد الدین سیرانی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت علامہ مولانا حسن علی رضوی کے توسّط سے شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور مفتیِ اعظم ہند ، حضرت علامہ مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
فیضِ ملّت، مفسرِ اعظم پاکستان، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، شیخ التفسیر و الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔
حضرت قبلہ فیض احمد اویسی علیہ الرحمۃ اپنے وقت کے جیّد عالم ِ دین، عظیم مصنّف، مایۂ ناز مدرّس، اور بے مثال محقق تھے ۔ ساری زندگی اشاعتِ دینِ مصطفیٰ ﷺ میں بسر فرمائی؛ پاکستان میں مختلف مقامات پر، دُروسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ شروع فرمایا، جو آخری دم تک بر قرار رہا ۔ بہاولپور کے دور دراز اور پسماندہ علاقے میں دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی جس کا نام ’’مدرسۂ منبع الفیوض‘‘ رکھا، جس میں حفظِ قرآن، اور دینی کتب کی تعلیم فی سبیل اللہ دی جاتی؛ دور دراز علاقوں سے طلبہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس مدرسے میں آنے لگے، دیہات کے ماحول میں ان کا انتظام بہت مشکل تھا، لیکن اس ویران مقام میں علما و حفّاظ و قراء کی جماعت تیار فرمائی جو آج پوری دنیا میں خدمتِ دینِ متین اور ترویج و اشاعتِ مسلکِ حق میں مصروف ہیں۔
1963ء میں حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ نے بہاولپور میں جامعہ اویسیہ رضویہ اور جامع مسجد سیرانی کی بنیاد رکھی، جو الحمد للہ اس وقت اہلِ سنّت کی عظیم دینی درس گاہ ہے، جہاں تمام مروّجہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اِن کے علاوہ مختلف مقامات پر درجنوں مدارس آپ کی زیرِ نگرانی چلتے رہے اور اب آپ کی اولاد و تلامذہ ان کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں ۔
تصنیف و تالیف اور تدریس کے علاوہ، حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ ملکی سیاست سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے، چناں چہ آپ مملکت ِخدا داد پاکستان میں نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ و تحفّظِ مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی خاطر قائدِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد نورانی صدّیقی علیہ الرحمۃ کی قیادت میں مصروفِ عمل اور جمعیت سے منسلک رہے ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص40)
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔ کنیت: ابو الصالح۔ لقب: فیضِ ملت، محدث بہاولپوری، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی بن مولانا نور احمد بن مولانا محمد حامد بن محمد کمال علیہم الرحمۃ والرحمٰن ۔
آپ کا تعلّق قوم ’’ لاڑ ‘‘ سے ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضور ﷺ کے چچا محترم سیّدنا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ تک منتہی ہوتا ہے، اس لیے نسبتاً ’’عباسی‘‘ ہیں ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت: ص40؛ مظلوم مصنّف، ص12)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 1351ھ مطابق 1932ء کو گاؤں ’’حامد آباد‘‘ تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت ص:40)
تحصیلِ علم:
والدِ گرامی دینی علوم سے بہرہ ور تھے، ابتدائی دینی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر اپنے قریبی قصبہ ترنڈہ میر خان میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخل ہوئے اور پانچ جماعت تک اسکول کی تعلیم حاصل کی اور 1942ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا ۔ والدِ گرامی کی خواہش کے مطابق حفظِ قرآن مجید کے لیے حافظ جان محمد صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور ان سے آٹھ پارے حفظ کیے، اور پھر مولانا حافظ سراج احمد علیہ الرحمۃ سے اٹھارہ پارے حفظ کیے، اور خیر پور ٹامیوالی میں مولانا حافظ غلام یسین علیہ الرحمۃ سے 1947ء میں مکمّل قرآنِ مجید حفظ کیا ۔
آپ فرماتے ہیں: میں نے1947ء کے سال پہلی مرتبہ تراویح کی صورت میں قرآن مجید سنایا، اور 27 ویں شب ختم قرآن کی تقریب بھی تھی اور قیام پاکستان کی خوشی بھی ۔ حفظِ قرآن کے بعد درسِ نظامی کا آغاز کیا، فارسی کی ابتدائی کتب مولانا اللہ بخش علیہ الرحمۃ سے پڑھیں، اور صرف و نحو، ہدایہ، مختصر المعانی، شرحِ جامی وغیرہ ، امام الواعظین، واعظِ شیریں بیاں، عاشقِ رسول ﷺ، حضرت علامہ مولانا خورشید احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے پڑھیں، بقیہ کتب علامہ مولانا عبد الکریم علیہ الرحمۃ سے پڑھیں، 1952ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں محدثِ اعظم پاکستان حضرت شیخ الحدیث مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے دورۂ حدیث مکمّل کیا اور اُن کے مبارک ہاتھوں سے دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغ حاصل فرمائی۔(تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص 40)
بیعت و خلافت:
دورانِ تعلیم سلسلۂ عالیہ اُویسیہ میں حضرت محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے سجادہ نشیں، حضرت مولانا خواجہ محمد الدین سیرانی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت علامہ مولانا حسن علی رضوی کے توسّط سے شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور مفتیِ اعظم ہند ، حضرت علامہ مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
فیضِ ملّت، مفسرِ اعظم پاکستان، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، شیخ التفسیر و الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔
حضرت قبلہ فیض احمد اویسی علیہ الرحمۃ اپنے وقت کے جیّد عالم ِ دین، عظیم مصنّف، مایۂ ناز مدرّس، اور بے مثال محقق تھے ۔ ساری زندگی اشاعتِ دینِ مصطفیٰ ﷺ میں بسر فرمائی؛ پاکستان میں مختلف مقامات پر، دُروسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ شروع فرمایا، جو آخری دم تک بر قرار رہا ۔ بہاولپور کے دور دراز اور پسماندہ علاقے میں دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی جس کا نام ’’مدرسۂ منبع الفیوض‘‘ رکھا، جس میں حفظِ قرآن، اور دینی کتب کی تعلیم فی سبیل اللہ دی جاتی؛ دور دراز علاقوں سے طلبہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس مدرسے میں آنے لگے، دیہات کے ماحول میں ان کا انتظام بہت مشکل تھا، لیکن اس ویران مقام میں علما و حفّاظ و قراء کی جماعت تیار فرمائی جو آج پوری دنیا میں خدمتِ دینِ متین اور ترویج و اشاعتِ مسلکِ حق میں مصروف ہیں۔
1963ء میں حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ نے بہاولپور میں جامعہ اویسیہ رضویہ اور جامع مسجد سیرانی کی بنیاد رکھی، جو الحمد للہ اس وقت اہلِ سنّت کی عظیم دینی درس گاہ ہے، جہاں تمام مروّجہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اِن کے علاوہ مختلف مقامات پر درجنوں مدارس آپ کی زیرِ نگرانی چلتے رہے اور اب آپ کی اولاد و تلامذہ ان کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں ۔
تصنیف و تالیف اور تدریس کے علاوہ، حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ ملکی سیاست سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے، چناں چہ آپ مملکت ِخدا داد پاکستان میں نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ و تحفّظِ مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی خاطر قائدِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد نورانی صدّیقی علیہ الرحمۃ کی قیادت میں مصروفِ عمل اور جمعیت سے منسلک رہے ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص40)
❤1
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ اپنے وقت کے ایک مایۂ ناز مدرّس تھے؛ آپ کو تمام کتب اور تمام علوم و فنون میں یک ساں مہارتِ تامّہ حاصل تھی ۔ کوئی بھی کتاب اُن کے سامنے مشکل نہ تھی، آپ کی تدریس کا انداز ایسا سہل اور دل نشیں تھا کہ غبی و مبتدی طلبہ بھی بآسانی سمجھ لیتے تھے ۔ تعلیم کے ساتھ تربیت اور طلبہ کی ذہن سازی بھی فرماتے تھے، طلبہ میں دینِ متین کی خدمت کا جذبہ اور تصلّب فی الدین، مسلکِ حق کی خدمت فی سبیل اللہ کرنے کا جذبہ اور علماء و طلبہ میں خود داری، تقویٰ و خلوص کوٹ کوٹ کر بھر دیتے تھے ۔
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے، بلکہ فنا فی الرسول ﷺ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر سال ماہِ رمضان دیارِ مصطفیٰ ﷺ میں گزارتے تھے ۔ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر شریف، یا مدینۂ منوّرہ کی یادیں تازہ ہوتیں تو آنکھوں سے موتیوں کی برسات شروع ہو جاتی، اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ عشق ِمصطفیٰ ﷺ اور یادِ مدینہ میں ایسے بے قرار رہتے تھے، جیسے ماہیِ بے آب، اور حقیقتاً یہی زندگی اور یہی بندگی ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ جب اپنا نام تحریر کرتے تو اس طرح تحریر کرتے: ’’ مدینے کا بھکاری، فقیر فیض احمد اویسی غُفِرَلَہٗ ‘‘ ـ
ایسا بڑا مصنّف، جن کے ہزاروں شاگرد و مریدین ہوں، لیکن سادگی ایسی تھی کہ اکابرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔ فی زمانہ تمام دینی شعبہ جات میں بقول’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ القاب کی بہتات ہے، اِلَّا مَاشَآءَ اللہ؛مگر حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ کے ہاں ایسے القاب کی کوئی رو رعایت نہیں تھی ۔ دنیاوی آلائشوں سے دامن بچا کر آپ مقصدِ حیات میں کامیاب رہے ۔
تدریس کے ساتھ ساتھ، وعظ و نصیحت، مختلف مقامات پر مُناظروں کے چیلنج قبول کرکے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے مناظرہ کرنا، اور اپنا وقت بچا کر تحریر و تصنیف میں مصروف رہنا، یہ اس پرفتن اور نفسا نفسی کے عالم میں علماء کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے ۔
تقریباً 5 ہزار تصنیفات:
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ واقعی فیضِ ملّت تھے ۔ کون سا ایسا موضوع اور کون سا ایسا فن ہے جس میں حضرت نے قلم کشائی نہ فرمائی ہو ۔ تمام مروّجہ علوم و فنون، عربی و فارسی زبان میں کتب کا اردو ترجمہ، اور قدیم و جدید موضوعات پر تقریباً پانچ ہزار کتب تصنیف فرمائی ہیں ـ
بلکہ موجودہ وقت میں یہ آپ کا عالمی ریکارڈ بھی ہے ۔ حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ کی زندگی آج کے نوجوان علماء و طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ خلوص و للہیت سے دین کی خدمت، تدریس، تصنیف، کے ساتھ دینی مدارس کا قیام اہل سنّت کے بقا و عروج کے لیے لازم ہے ۔ اگر تمام علماء مقدور بھر کوشش کریں تو کوئی بعید نہیں کہ اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالیٰ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آئیں گی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصالِ باکمال 15 رمضان المبارک 1431ھ مطابق 26 اگست 2010ء ، بروز جمعرات، بوقت 6:15 صبح جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں ہوا ۔ جامعہ ہی میں ابدی آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلِ سنّت ، مظلوم مصنّف ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-faiz-ahmed-owaisi-rizvi
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے، بلکہ فنا فی الرسول ﷺ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر سال ماہِ رمضان دیارِ مصطفیٰ ﷺ میں گزارتے تھے ۔ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر شریف، یا مدینۂ منوّرہ کی یادیں تازہ ہوتیں تو آنکھوں سے موتیوں کی برسات شروع ہو جاتی، اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ عشق ِمصطفیٰ ﷺ اور یادِ مدینہ میں ایسے بے قرار رہتے تھے، جیسے ماہیِ بے آب، اور حقیقتاً یہی زندگی اور یہی بندگی ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ جب اپنا نام تحریر کرتے تو اس طرح تحریر کرتے: ’’ مدینے کا بھکاری، فقیر فیض احمد اویسی غُفِرَلَہٗ ‘‘ ـ
ایسا بڑا مصنّف، جن کے ہزاروں شاگرد و مریدین ہوں، لیکن سادگی ایسی تھی کہ اکابرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔ فی زمانہ تمام دینی شعبہ جات میں بقول’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ القاب کی بہتات ہے، اِلَّا مَاشَآءَ اللہ؛مگر حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ کے ہاں ایسے القاب کی کوئی رو رعایت نہیں تھی ۔ دنیاوی آلائشوں سے دامن بچا کر آپ مقصدِ حیات میں کامیاب رہے ۔
تدریس کے ساتھ ساتھ، وعظ و نصیحت، مختلف مقامات پر مُناظروں کے چیلنج قبول کرکے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے مناظرہ کرنا، اور اپنا وقت بچا کر تحریر و تصنیف میں مصروف رہنا، یہ اس پرفتن اور نفسا نفسی کے عالم میں علماء کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے ۔
تقریباً 5 ہزار تصنیفات:
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ واقعی فیضِ ملّت تھے ۔ کون سا ایسا موضوع اور کون سا ایسا فن ہے جس میں حضرت نے قلم کشائی نہ فرمائی ہو ۔ تمام مروّجہ علوم و فنون، عربی و فارسی زبان میں کتب کا اردو ترجمہ، اور قدیم و جدید موضوعات پر تقریباً پانچ ہزار کتب تصنیف فرمائی ہیں ـ
بلکہ موجودہ وقت میں یہ آپ کا عالمی ریکارڈ بھی ہے ۔ حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ کی زندگی آج کے نوجوان علماء و طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ خلوص و للہیت سے دین کی خدمت، تدریس، تصنیف، کے ساتھ دینی مدارس کا قیام اہل سنّت کے بقا و عروج کے لیے لازم ہے ۔ اگر تمام علماء مقدور بھر کوشش کریں تو کوئی بعید نہیں کہ اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالیٰ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آئیں گی ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصالِ باکمال 15 رمضان المبارک 1431ھ مطابق 26 اگست 2010ء ، بروز جمعرات، بوقت 6:15 صبح جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں ہوا ۔ جامعہ ہی میں ابدی آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلِ سنّت ، مظلوم مصنّف ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-faiz-ahmed-owaisi-rizvi
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Muhammad Faiz Ahmed Owaisi Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حسن ۔ کنیت: ابو محمد ۔القاب: تقی، نقی، زکی، سیّد شباب اہل الجنّۃ، سبطِ رسول، مجتبیٰ، جواد، کریم، شبیہ الرسول، ریحانۃ النبی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام حسن مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف اِلٰٓی اٰخِرِہٖ ۔
والد: سیّدالاولیاء رضی اللہ عنہ ۔
والدہ: سیّدۃ النسآء رضی الله عنہا
نانا: سیّد الانبیاء ﷺ ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
بروز منگل 15 رمضان المبارک 3ھ، مطابق فروری 625ء کو مدینۂ منوّرہ میں پیدا ہوئے ۔ سرورِ کونین ﷺ کو خوش خبری دی گئی ۔ آپ فوراً تشریف لائے، داہنے کان میں اَذان، اور بائیں کان میں اقامت کہی، گھٹی میں لعابِ دہن عطا کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ شہزادہ جنّت کے نوجوانوں کا سردار ہوا ۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنھما فرمایا کرتے تھے:
’’واللہ ما قامت النسآء عن مثلِ الحسن بن علی۔‘‘ اللہ کی قسم کسی عورت نے حسن بن علی کی مثل بچہ نہیں جنا ۔ (البدایۃ والنہایۃ)
سیرت و خصائص:
سیّد الاسخیا، امام الاولیا، صاحبِ جود و سخا، نورِ نظرِ سیّدۃ النسا، جگر گوشۂ علی المرتضیٰ، راکبِ دوشِ مصطفیٰ ﷺ، امام المسلمین حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
آپ بڑے حلیم، سلیم، رحیم، کریم، متواضع، منکسر، صابر، متوکل اور با وقار تھے، زہد و مجاہدۂ نفس میں مشغول رہتے تھے۔ آپ سرورِ عالم ﷺ کے فرمان کے مطابق، آخری خلیفۂ راشد ہیں ۔
حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سر سے سینے تک رسول اللہ ﷺ کے بہت زیادہ مشابہ تھے، اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سینے سے پاؤں مبارک تک بہت زیادہ مشابہ تھے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے کوئی بھی مشابہ نہ تھا ۔
آپ نے پچیس حج پیدل کیے حالاں کہ اعلیٰ نسل کے اونٹ اور گھوڑے دروازے پر موجود ہوتے تھے ۔
بہت سخی تھے، کئی مرتبہ اپنے گھر کا سارا سامان اللہ راہ میں تصدق کر دیا ۔یتیموں، مسکینوں ، اور بیواؤں کی کفالت نصب العین تھا ۔
سیّدنا صدّیقِ اکبر کی امام حسن (رضی اللہ تعالٰی عنہما) سے محبّت: حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ آپ نے امام حسن کو اٹھایا ہوا ہے۔
وھو یقول بابی، شبیہ بالنبی لیس شبیہ بعلی وعلی یضحک ۔ ترجمہ: آپ فرما رہے تھے ۔ میرے ماں باپ قربان ۔ (اے حسن!) تم رسولِ خدا کے مشابہ ہو، اور علی کے مشابہ نہیں، اور یہ (سن کر ) حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہنس پڑے (صحیح البخاری، فی مناقب ِ حسن وحسین:187)۔
عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَّضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: اُرْقُبُوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهٖ۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ سرورِ عالم ﷺ کی خوشنودی آپ کی اہلِ بیت کی محبّت میں ہے ۔ (اَیْضًا)
سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی امام حسن سے محبّت: حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرات حسنین کریمین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ اُن کا وظیفہ تمام صحابۂ کرام کے فرزندوں سے زیادہ مقرر کیا تھا ۔ بدری صحابہ کے فرزندوں کا وظیفہ دو ہزار تھا، مگر حسنین کریمین کا وظیفہ پانچ ہزار تھا ۔ (مناقبِ اہلِ بیت ص:406)
ایک مرتبہ سیّدۃ النساء حضرات حسنین کریمین کو سرورِ عالم ﷺ کے پاس لے کر آئیں، اور عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میرے ان دونوں بچوں کو کچھ عطا فرمائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اما الحسین فلہ ھیبتی وسوددی، و اما الحسین فلہ جرأتی وجودی ۔ یعنی حسن کو ہیبت اور سرداری عطا کی ہے، اور حسین کو شجاعت اور فیاضی عطا کی ہے (مناقبِ اہلِ بیت ص:404) ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من احبنی فلیحبہ، فلیبلغ الشاہد منکم الغائب (ذخائرالعقبٰی : 123)۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: من سرہ ان ینظر الٰی سیّد شباب اہل الجنۃ ،فلینظر الی الحسن۔(الصواعق المحرقۃ ص:192)
حضرت امام حسن کی خلافت:
حضرت مولا علی کی شہادت کے بعد رمضان المبارک 40ھ میں مسلمانوں نے حضرت امام حسن کے دستِ حق پرست پر بیعت کی ۔ جب یہ خبر والیِ شام تک پہنچی انھوں نے لشکر کشی کا ارادہ کیا اور ساٹھ ہزار افراد کا لشکر لے کر عراق فتح کرنے کے لیے نکلے، اور ادھر حضرت امام حسن کو جب یہ خبر پہنچی کہ شام سے ایک لشکر آ رہا ہے، تو آپ دفاع کے لیے ایک لشکر لے کر روانہ ہوئے ،اور مقامِ مسقف، مدائن میں لشکر ٹھہر گیا، فوج نے یہ گمان کر لیا تھا کہ آپ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ جب آپ سے اس امر کی تصدیق کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’’مجھے مسلمانوں کا اتحاد، اور ان کی خوش حالی، اور ان کی جان و اموال، اور ان اکی آپس میں صلح پسندی بہت محبوب ہے۔‘‘
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حسن ۔ کنیت: ابو محمد ۔القاب: تقی، نقی، زکی، سیّد شباب اہل الجنّۃ، سبطِ رسول، مجتبیٰ، جواد، کریم، شبیہ الرسول، ریحانۃ النبی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام حسن مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف اِلٰٓی اٰخِرِہٖ ۔
والد: سیّدالاولیاء رضی اللہ عنہ ۔
والدہ: سیّدۃ النسآء رضی الله عنہا
نانا: سیّد الانبیاء ﷺ ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
بروز منگل 15 رمضان المبارک 3ھ، مطابق فروری 625ء کو مدینۂ منوّرہ میں پیدا ہوئے ۔ سرورِ کونین ﷺ کو خوش خبری دی گئی ۔ آپ فوراً تشریف لائے، داہنے کان میں اَذان، اور بائیں کان میں اقامت کہی، گھٹی میں لعابِ دہن عطا کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ شہزادہ جنّت کے نوجوانوں کا سردار ہوا ۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنھما فرمایا کرتے تھے:
’’واللہ ما قامت النسآء عن مثلِ الحسن بن علی۔‘‘ اللہ کی قسم کسی عورت نے حسن بن علی کی مثل بچہ نہیں جنا ۔ (البدایۃ والنہایۃ)
سیرت و خصائص:
سیّد الاسخیا، امام الاولیا، صاحبِ جود و سخا، نورِ نظرِ سیّدۃ النسا، جگر گوشۂ علی المرتضیٰ، راکبِ دوشِ مصطفیٰ ﷺ، امام المسلمین حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
آپ بڑے حلیم، سلیم، رحیم، کریم، متواضع، منکسر، صابر، متوکل اور با وقار تھے، زہد و مجاہدۂ نفس میں مشغول رہتے تھے۔ آپ سرورِ عالم ﷺ کے فرمان کے مطابق، آخری خلیفۂ راشد ہیں ۔
حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سر سے سینے تک رسول اللہ ﷺ کے بہت زیادہ مشابہ تھے، اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ سینے سے پاؤں مبارک تک بہت زیادہ مشابہ تھے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے کوئی بھی مشابہ نہ تھا ۔
آپ نے پچیس حج پیدل کیے حالاں کہ اعلیٰ نسل کے اونٹ اور گھوڑے دروازے پر موجود ہوتے تھے ۔
بہت سخی تھے، کئی مرتبہ اپنے گھر کا سارا سامان اللہ راہ میں تصدق کر دیا ۔یتیموں، مسکینوں ، اور بیواؤں کی کفالت نصب العین تھا ۔
سیّدنا صدّیقِ اکبر کی امام حسن (رضی اللہ تعالٰی عنہما) سے محبّت: حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ آپ نے امام حسن کو اٹھایا ہوا ہے۔
وھو یقول بابی، شبیہ بالنبی لیس شبیہ بعلی وعلی یضحک ۔ ترجمہ: آپ فرما رہے تھے ۔ میرے ماں باپ قربان ۔ (اے حسن!) تم رسولِ خدا کے مشابہ ہو، اور علی کے مشابہ نہیں، اور یہ (سن کر ) حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہنس پڑے (صحیح البخاری، فی مناقب ِ حسن وحسین:187)۔
عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَّضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: اُرْقُبُوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهٖ۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ سرورِ عالم ﷺ کی خوشنودی آپ کی اہلِ بیت کی محبّت میں ہے ۔ (اَیْضًا)
سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی امام حسن سے محبّت: حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرات حسنین کریمین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ اُن کا وظیفہ تمام صحابۂ کرام کے فرزندوں سے زیادہ مقرر کیا تھا ۔ بدری صحابہ کے فرزندوں کا وظیفہ دو ہزار تھا، مگر حسنین کریمین کا وظیفہ پانچ ہزار تھا ۔ (مناقبِ اہلِ بیت ص:406)
ایک مرتبہ سیّدۃ النساء حضرات حسنین کریمین کو سرورِ عالم ﷺ کے پاس لے کر آئیں، اور عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میرے ان دونوں بچوں کو کچھ عطا فرمائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اما الحسین فلہ ھیبتی وسوددی، و اما الحسین فلہ جرأتی وجودی ۔ یعنی حسن کو ہیبت اور سرداری عطا کی ہے، اور حسین کو شجاعت اور فیاضی عطا کی ہے (مناقبِ اہلِ بیت ص:404) ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من احبنی فلیحبہ، فلیبلغ الشاہد منکم الغائب (ذخائرالعقبٰی : 123)۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: من سرہ ان ینظر الٰی سیّد شباب اہل الجنۃ ،فلینظر الی الحسن۔(الصواعق المحرقۃ ص:192)
حضرت امام حسن کی خلافت:
حضرت مولا علی کی شہادت کے بعد رمضان المبارک 40ھ میں مسلمانوں نے حضرت امام حسن کے دستِ حق پرست پر بیعت کی ۔ جب یہ خبر والیِ شام تک پہنچی انھوں نے لشکر کشی کا ارادہ کیا اور ساٹھ ہزار افراد کا لشکر لے کر عراق فتح کرنے کے لیے نکلے، اور ادھر حضرت امام حسن کو جب یہ خبر پہنچی کہ شام سے ایک لشکر آ رہا ہے، تو آپ دفاع کے لیے ایک لشکر لے کر روانہ ہوئے ،اور مقامِ مسقف، مدائن میں لشکر ٹھہر گیا، فوج نے یہ گمان کر لیا تھا کہ آپ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ جب آپ سے اس امر کی تصدیق کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’’مجھے مسلمانوں کا اتحاد، اور ان کی خوش حالی، اور ان کی جان و اموال، اور ان اکی آپس میں صلح پسندی بہت محبوب ہے۔‘‘
آپ کے ان ارشادات سے آپ کی فوج میں اختلافات ہو گئے ۔ آپ بہت باوقار اور نہایت ہی برد بار شخصیت کے مالک تھے ۔ جذباتیت و انانیت نام کی کوئی چیز آپ کے پاس بھٹکی بھی نہ تھی ۔
آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صلح کر لی اور خلافت سے دست بردار ہو گئے ۔
ہزاروں مسلمانوں کی قیمتی جانیں بچالیں، اور اپنے نانا جان کے فرمانِ عالیشان کے مُصدّق ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انّ ابنی ھٰذا سیّد ولعلّ اللہ ان یصلح بہٖ بین فئتین عظیمتین من المسلمین (بخاری ۔ حدیث: 2704) ترجمہ: یہ میرا فرزند سیّد ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں کے مابین صلح کرا دے گا۔ جب آپ خلافت سے دست بردار ہو گئے تو آپ کے بعض (جذباتی) ساتھی کہنے لگے: ’’یا عار المسلمین!‘‘۔ آپ نے بر جستہ جواب دیا: ’’العارخیرمن النار‘‘۔
ان جملوں میں آج امّتِ مسلمہ کے قائدین کے لیے بہت بڑا سبق ہے ۔ اقتدار کی جنگ میں لاکھوں مسلمانوں کا خون ضائع ہو رہا ہے ۔ عدمِ اتفاق کی وجہ سے آج امّتِ مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے ۔ شاطر دشمن انتشار کے ذریعے امّتِ مسلمہ کو تباہ و برباد کر رہا ہے، اور مسلم حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں ۔ کاش! یہ حکمران حضرت امام حسن کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے اتحاد و امن کے داعی بن جائیں، اور ہمیشہ کے لیے امر ہو جائیں ۔
تاریخِ شہادت:
شہادت کے سن اور تاریخ میں بڑا اختلاف ہے ۔ صحیح قول کے مطابق 28؍ صفر المظفر 49ھ ہے ۔
آپ کی شہادت زہر خورانی سے ہوئی ۔ زہر کس نے دیا تاریخ اس بارے میں خاموش ہے ۔ باقی سب قیاس آرائیاں اور روافض کی ملمع سازیاں ہیں ۔
مزار شریف:
آپ کی قبرِ انور جنّت البقیع میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
البدایہ والنہایہ ۔ الصواعق المحرقہ ۔
مناقبِ اہلِ بیت ۔ آلِ رسول ۔ بارہ امام
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hassan-mujtaba
آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صلح کر لی اور خلافت سے دست بردار ہو گئے ۔
ہزاروں مسلمانوں کی قیمتی جانیں بچالیں، اور اپنے نانا جان کے فرمانِ عالیشان کے مُصدّق ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انّ ابنی ھٰذا سیّد ولعلّ اللہ ان یصلح بہٖ بین فئتین عظیمتین من المسلمین (بخاری ۔ حدیث: 2704) ترجمہ: یہ میرا فرزند سیّد ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں کے مابین صلح کرا دے گا۔ جب آپ خلافت سے دست بردار ہو گئے تو آپ کے بعض (جذباتی) ساتھی کہنے لگے: ’’یا عار المسلمین!‘‘۔ آپ نے بر جستہ جواب دیا: ’’العارخیرمن النار‘‘۔
ان جملوں میں آج امّتِ مسلمہ کے قائدین کے لیے بہت بڑا سبق ہے ۔ اقتدار کی جنگ میں لاکھوں مسلمانوں کا خون ضائع ہو رہا ہے ۔ عدمِ اتفاق کی وجہ سے آج امّتِ مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے ۔ شاطر دشمن انتشار کے ذریعے امّتِ مسلمہ کو تباہ و برباد کر رہا ہے، اور مسلم حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں ۔ کاش! یہ حکمران حضرت امام حسن کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے اتحاد و امن کے داعی بن جائیں، اور ہمیشہ کے لیے امر ہو جائیں ۔
تاریخِ شہادت:
شہادت کے سن اور تاریخ میں بڑا اختلاف ہے ۔ صحیح قول کے مطابق 28؍ صفر المظفر 49ھ ہے ۔
آپ کی شہادت زہر خورانی سے ہوئی ۔ زہر کس نے دیا تاریخ اس بارے میں خاموش ہے ۔ باقی سب قیاس آرائیاں اور روافض کی ملمع سازیاں ہیں ۔
مزار شریف:
آپ کی قبرِ انور جنّت البقیع میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
البدایہ والنہایہ ۔ الصواعق المحرقہ ۔
مناقبِ اہلِ بیت ۔ آلِ رسول ۔ بارہ امام
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hassan-mujtaba
scholars.pk
Hazrat Imam Hassan Mujtaba
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Imam Hassan Mujtaba bin Ali
❤1
بسمہ تعالٰی و تقدس
*ماہِ رمضان میں جمعہ کے دن کوئی ہیبت ناک آواز آنے کا ذکر حدیث پاک میں وارد ہے*
از۔ خلیفۂ حضور بدرِ ملت و حضور تاج الشریعہ و علامہ میلسی صاحب قبلہ٬ حضرت مولانا صوفی *عبدالصمد صاحب قادری رضوی نوری*
قادری منزل٬ رضوی گلی٬ رفیع گنج ٬ ضلع اورنگ آباد٬ بِہار ( انڈیا )
بحمدہ تبارک و تعالٰی فقیر قادری رضوی نوری مسلمانوں کو توبتہ النصوح کی جانب توجہ مبذول کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تحریر قارئین تک پہونچانے کی سعی کر رہا ہے ٬ رب کریم مسلمانوں کو حق سننے ٬ حق سمجھنے ٬ حق بولنے اور حق پر عمل کرنے کا جذبۂ صادق عطا فرمائے ٬ آمین ثم آمین۔۔۔
مجدد اعظم امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ نے فتاویٰ رضویہ قدیم جلد ۱۲ ص ۱۵۹ ( مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی) میں حدیث شریف ذکر کی ہے اور یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ ضروری نہیں کہ فلاں سال یہ حادثہ پیش ہو گا ٬ قیامت تک کبھی بھی پیش آ سکتا ہے اور وہ ماہ رمضان کی پندرہ تاریخ اور جمعہ کا دن ہو گا۔۔۔۔۔۔
راقم سرکار اعلیٰ حضرت کا فتویٰ نقل کرنے سے پہلے بخیر خواہئ مسلمین کچھ ضروری ٬ قیمتی اور اہم باتیں عرض گزار ہے۔۔۔۔
*حق پہ رہو ثابت قدم٬ باطل کا شیدائی نہ ہو*
*تاکہ دنیا٬ آخرت میں تجھ کو رسوائی نہ ہو*
*وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پر تھے*
*کہ روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں*
*اس وقت* ساری دنیا میں مسلمانوں کی تباہی و بربادی کی کوشش ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔ ہر دور میں یہ سرگرمیاں جاری رہیں ٬ اور تمام باطل قوتیں متحد ہو کر سامنے آئیں ٬ لیکن ان کا عروج ہم حال کچھ زیادہ ہی مشاہدہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جن کے متعدد اسباب و وجوہات ہیں۔۔۔۔۔
مثلاً مسلمانوں کو دینی تعلیم و تربیت اور عقائد حقہ سے بہت دوری ٬ فرقہائے باطلہ بدگویوں بے دینوں سے مخالطت و مصاحبت اور رشتہ داری ٬ مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی بے پردگی و بے حیائی کا مظاہرہ ٬ تصویر کشی و ویڈیو گرافی کا زور ٬ شرعی احکام اور مسائل شرعیہ سے عدم واقفیت ٬ مغربی تہذیب و تمدن کا مسلم گھرانے میں بڑھتا ہوا رواج ٬ مغربی زدہ بے راہ روی کے طوفان کی مسلم گھرانوں میں دستک ٬ ٹی وی ویڈیو اور موبائل کے ذریعے فحش سنیما بینی کا وبالِ عام ٬ مالدار طبقوں کی دین سے بے رغبتی اور دنیا طلبی ٬ اکثر مذہبی رہنما کہلانے والے بے حس علماء ٬ خطبا ٬ آئمہ و خانقاہوں کے شیوخ و سجادگان کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے لاپرواہی اور احقاق حق و ابطال باطل سے خاموشی و دوری وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔
انہیں اسباب و علل کے فقدان کے نتیجے میں اس وقت ہمارے ملک میں یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے٬ وہ واقعی تشویشناک و ہولناک ٬ بے چین و مضطرب کر دینے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے مخمصہ کے عالم میں مسلمانوں پر لازم و ضروری ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی کی شان قہاری و جباری کو دھیان رکھتے ہوئے بھینگی آنکھ اور دکھے دل کے ساتھ اپنے جملہ گناہوں سے سچی توبہ کریں اور سنیوں کے سچے مذہب جس کی تعبیر مسلک اعلیٰ حضرت سے کی گئی ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کا پختہ عہد و اقرار کریں نیز کفار و مشرکین ٬ یہود و نصارٰی اور مرتدین زمانہ نجدیوں ٬ وہابیوں ٬ دیوبندیوں ٬ نیچریوں ٬ تبلیغیوں ٬ مودودیوں ٬ رافضیوں ٬ قادیانیوں ٬ ندویوں اور صلح کلیوں وغیرھم سے حکم شرع کے مطابق تنکا توڑ جدا رہیں اور اپنے گھروں میں اسلامی طور و طریقے اور ماحول پیدا کریں ٬٬٬٬٬٬ موبائل کے ذریعے سنیما بینی اور ناچ گانے باجے نیز تصویر کشی کے گناہ کبیرہ سے دور رہیں ٬٬٬٬٬٬٬ گھروں میں عریاں کپڑے پہننے والی بہو٬ بہن ٬ بیٹی ٬ بیوی جو مغربی زدہ دیوی بنی پھرتی ہیں ان کا مغربی لباس اتروا کر ان کو اسلامی لباس پہنائیں ٬ انہیں مومنہ عورت بنائیں ٬ مسلمان نمازی بن کر اپنی مسجدیں آباد کریں ٬ چہرہ پر اسلامی داڑھی رکھیں ٬ داڑھی منڈا کر اسلام کی دیوار نہ ڈھائیں اور اس طرح دشمنانِ اسلام کا حوصلہ نہ بڑھائیں ٬ شریعت کی خلاف ورزی اور سرکشی کر کے قہر ربانی کو دعوت نہ دیں ٬ اللہ و رسول سے ڈریں ٬ اللہ و رسول کی خاطر حقوق العباد کا تصفیہ کریں ٬ گستاخانِ خدا و رسول سے بیزار رہتے ہوئے *الحب فی اللہ والبغض فی اللہ* پر عمل کر کے اللہ و رسول کو راضی کریں۔۔۔۔۔
پھر تائد ربانی اور نصرت رحمانی تمہاری جھولیوں میں ہوں گی ٬٬٬٬٬ یہ وہ ارشادات عالیہ ہیں جن پر عمل کرنے سے کل بھی کامیابی و کامرانی قدم چومِیں اور ان پر آج بھی عمل کیا جائے تو دونوں جہاں کی کامیابی و کامرانی قدموں کو بوسہ دے گی۔۔۔۔۔
پروردگار عالم مسلمانوں کو دین و ایمان کی سلامتی کے ساتھ ہی ساتھ اعمال صالحہ مقبولہ کی خوب خوب توفیق مرحمت فرمائے ٬ آمین ثم آمین۔
مزید پیغام حضور تاج الشریعہ کو پیش نظر ضرور رکھیں
عیش کر لو یہاں منکرو! چار دن
مر کے ترسو گے اس زندگی کے لئے
مسلک اعلیٰ حضرت سلامت رہے
ہے یہ پہچان دین نبی کے لئے
مسلک اعلیٰ حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لئے
*ماہِ رمضان میں جمعہ کے دن کوئی ہیبت ناک آواز آنے کا ذکر حدیث پاک میں وارد ہے*
از۔ خلیفۂ حضور بدرِ ملت و حضور تاج الشریعہ و علامہ میلسی صاحب قبلہ٬ حضرت مولانا صوفی *عبدالصمد صاحب قادری رضوی نوری*
قادری منزل٬ رضوی گلی٬ رفیع گنج ٬ ضلع اورنگ آباد٬ بِہار ( انڈیا )
بحمدہ تبارک و تعالٰی فقیر قادری رضوی نوری مسلمانوں کو توبتہ النصوح کی جانب توجہ مبذول کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تحریر قارئین تک پہونچانے کی سعی کر رہا ہے ٬ رب کریم مسلمانوں کو حق سننے ٬ حق سمجھنے ٬ حق بولنے اور حق پر عمل کرنے کا جذبۂ صادق عطا فرمائے ٬ آمین ثم آمین۔۔۔
مجدد اعظم امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ نے فتاویٰ رضویہ قدیم جلد ۱۲ ص ۱۵۹ ( مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی) میں حدیث شریف ذکر کی ہے اور یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ ضروری نہیں کہ فلاں سال یہ حادثہ پیش ہو گا ٬ قیامت تک کبھی بھی پیش آ سکتا ہے اور وہ ماہ رمضان کی پندرہ تاریخ اور جمعہ کا دن ہو گا۔۔۔۔۔۔
راقم سرکار اعلیٰ حضرت کا فتویٰ نقل کرنے سے پہلے بخیر خواہئ مسلمین کچھ ضروری ٬ قیمتی اور اہم باتیں عرض گزار ہے۔۔۔۔
*حق پہ رہو ثابت قدم٬ باطل کا شیدائی نہ ہو*
*تاکہ دنیا٬ آخرت میں تجھ کو رسوائی نہ ہو*
*وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پر تھے*
*کہ روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں*
*اس وقت* ساری دنیا میں مسلمانوں کی تباہی و بربادی کی کوشش ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔ ہر دور میں یہ سرگرمیاں جاری رہیں ٬ اور تمام باطل قوتیں متحد ہو کر سامنے آئیں ٬ لیکن ان کا عروج ہم حال کچھ زیادہ ہی مشاہدہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جن کے متعدد اسباب و وجوہات ہیں۔۔۔۔۔
مثلاً مسلمانوں کو دینی تعلیم و تربیت اور عقائد حقہ سے بہت دوری ٬ فرقہائے باطلہ بدگویوں بے دینوں سے مخالطت و مصاحبت اور رشتہ داری ٬ مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی بے پردگی و بے حیائی کا مظاہرہ ٬ تصویر کشی و ویڈیو گرافی کا زور ٬ شرعی احکام اور مسائل شرعیہ سے عدم واقفیت ٬ مغربی تہذیب و تمدن کا مسلم گھرانے میں بڑھتا ہوا رواج ٬ مغربی زدہ بے راہ روی کے طوفان کی مسلم گھرانوں میں دستک ٬ ٹی وی ویڈیو اور موبائل کے ذریعے فحش سنیما بینی کا وبالِ عام ٬ مالدار طبقوں کی دین سے بے رغبتی اور دنیا طلبی ٬ اکثر مذہبی رہنما کہلانے والے بے حس علماء ٬ خطبا ٬ آئمہ و خانقاہوں کے شیوخ و سجادگان کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے لاپرواہی اور احقاق حق و ابطال باطل سے خاموشی و دوری وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔
انہیں اسباب و علل کے فقدان کے نتیجے میں اس وقت ہمارے ملک میں یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے٬ وہ واقعی تشویشناک و ہولناک ٬ بے چین و مضطرب کر دینے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے مخمصہ کے عالم میں مسلمانوں پر لازم و ضروری ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی کی شان قہاری و جباری کو دھیان رکھتے ہوئے بھینگی آنکھ اور دکھے دل کے ساتھ اپنے جملہ گناہوں سے سچی توبہ کریں اور سنیوں کے سچے مذہب جس کی تعبیر مسلک اعلیٰ حضرت سے کی گئی ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کا پختہ عہد و اقرار کریں نیز کفار و مشرکین ٬ یہود و نصارٰی اور مرتدین زمانہ نجدیوں ٬ وہابیوں ٬ دیوبندیوں ٬ نیچریوں ٬ تبلیغیوں ٬ مودودیوں ٬ رافضیوں ٬ قادیانیوں ٬ ندویوں اور صلح کلیوں وغیرھم سے حکم شرع کے مطابق تنکا توڑ جدا رہیں اور اپنے گھروں میں اسلامی طور و طریقے اور ماحول پیدا کریں ٬٬٬٬٬٬ موبائل کے ذریعے سنیما بینی اور ناچ گانے باجے نیز تصویر کشی کے گناہ کبیرہ سے دور رہیں ٬٬٬٬٬٬٬ گھروں میں عریاں کپڑے پہننے والی بہو٬ بہن ٬ بیٹی ٬ بیوی جو مغربی زدہ دیوی بنی پھرتی ہیں ان کا مغربی لباس اتروا کر ان کو اسلامی لباس پہنائیں ٬ انہیں مومنہ عورت بنائیں ٬ مسلمان نمازی بن کر اپنی مسجدیں آباد کریں ٬ چہرہ پر اسلامی داڑھی رکھیں ٬ داڑھی منڈا کر اسلام کی دیوار نہ ڈھائیں اور اس طرح دشمنانِ اسلام کا حوصلہ نہ بڑھائیں ٬ شریعت کی خلاف ورزی اور سرکشی کر کے قہر ربانی کو دعوت نہ دیں ٬ اللہ و رسول سے ڈریں ٬ اللہ و رسول کی خاطر حقوق العباد کا تصفیہ کریں ٬ گستاخانِ خدا و رسول سے بیزار رہتے ہوئے *الحب فی اللہ والبغض فی اللہ* پر عمل کر کے اللہ و رسول کو راضی کریں۔۔۔۔۔
پھر تائد ربانی اور نصرت رحمانی تمہاری جھولیوں میں ہوں گی ٬٬٬٬٬ یہ وہ ارشادات عالیہ ہیں جن پر عمل کرنے سے کل بھی کامیابی و کامرانی قدم چومِیں اور ان پر آج بھی عمل کیا جائے تو دونوں جہاں کی کامیابی و کامرانی قدموں کو بوسہ دے گی۔۔۔۔۔
پروردگار عالم مسلمانوں کو دین و ایمان کی سلامتی کے ساتھ ہی ساتھ اعمال صالحہ مقبولہ کی خوب خوب توفیق مرحمت فرمائے ٬ آمین ثم آمین۔
مزید پیغام حضور تاج الشریعہ کو پیش نظر ضرور رکھیں
عیش کر لو یہاں منکرو! چار دن
مر کے ترسو گے اس زندگی کے لئے
مسلک اعلیٰ حضرت سلامت رہے
ہے یہ پہچان دین نبی کے لئے
مسلک اعلیٰ حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لئے
❤1👍1
صلح کلی ٬ نبی کا نہیں ٬ سنیو!
سنی مسلم ہے سچا٬ نبی کے لئے
اختر قادری خلد میں چل دیا
خلد وا ہے ہر اِک قادری کے لئے
قارئین!
امام عشق و محبت سرکار اعلی حضرت کا فتوی ملاحظہ کریں اور آپ نے خوش عقیدہ سنی مسلمانوں کو جن باتوں کی ہدایت کی ہے انہیں ذہن میں محفوظ رکھیں۔۔۔۔
*مسئلہ :---*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کو رمضان المبارک میں کوئی ہیبت ناک بات آنے والی ہے؟ جس کی نسبت حضور کی طرف بعض آدمیوں نے کی ہے کہ مولوی صاحب نے ایسا فرمایا کہ جمعہ کی رات کو ایک ہیبت ناک آواز آئے گی۔۔۔
*الجواب :-*
آئے گی ٬ مگر یہ نہ کہا تھا کہ اسی رمضان میں آئے گی ٬ جب آئے گی تو رمضان ہی ہو گا ٬ جس کی پندرہویں جمعہ کو ہو گی ٬ اس سال زلزلے کثرت سے ہوں گے ٬ اولے کثرت سے پڑیں گے۔ پندرہویں شبِ رمضان شبِ جمعہ ایک دھماکہ ہو گا ٬ صبح کی نماز کے بعد ایک چنگھاڑ سنائی دے گی ٬ حدیث میں آیا ہے کہ اس تاریخ کو نماز صبح پڑھ کر گھروں کے اندر داخل ہو جاؤ اور کواڑ بند کر لو ٬ گھر میں جتنے روزن ہوں بند کر لو٬ کپڑے اوڑھ لو ٬ کان بند کر لو ٬ پھر آواز سنو تو فوراً اللہ عزوجل کے لئے سجدے میں گرو اور یہ کہو " *سبحان القدّوس سبحان القدّوس ربّنا القدّوس* " جو ایسا کرے گا نجات پائے گا اور جو نہ کرے گا ہلاک ہو جائے گا۔ یہ حدیث پاک کا مضمون ہے۔ اس میں یہ تعین نہیں کہ کس سنہ میں ایسا ہو گا ۔ بہت رمضان مبارک گزر گئے جن کی پہلی تاریخ جمعہ کو تھی اور ان شاء اللہ تعالٰی آئندہ بھی گزریں گی۔ ہاں! جو خبر دی گئی ہے وہ ہونے والی ضرور ہے٬ جب کبھی ہو۔ بندۂ مومن کو اللہ تعالٰی سے خوف و امید ہر وقت رکھنا چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم
( فتاوی رضویہ قدیم جلد ۱۲ ص ۱۵۹ )
*پیش کردہ :--‐-*
فقیر قادری عفی عنہ
۵/ رمضان المبارک ۱۴۴۴ھ بمطابق ۲۸/ مارچ ۲۰۲۳ء
+916204351217
سنی مسلم ہے سچا٬ نبی کے لئے
اختر قادری خلد میں چل دیا
خلد وا ہے ہر اِک قادری کے لئے
قارئین!
امام عشق و محبت سرکار اعلی حضرت کا فتوی ملاحظہ کریں اور آپ نے خوش عقیدہ سنی مسلمانوں کو جن باتوں کی ہدایت کی ہے انہیں ذہن میں محفوظ رکھیں۔۔۔۔
*مسئلہ :---*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کو رمضان المبارک میں کوئی ہیبت ناک بات آنے والی ہے؟ جس کی نسبت حضور کی طرف بعض آدمیوں نے کی ہے کہ مولوی صاحب نے ایسا فرمایا کہ جمعہ کی رات کو ایک ہیبت ناک آواز آئے گی۔۔۔
*الجواب :-*
آئے گی ٬ مگر یہ نہ کہا تھا کہ اسی رمضان میں آئے گی ٬ جب آئے گی تو رمضان ہی ہو گا ٬ جس کی پندرہویں جمعہ کو ہو گی ٬ اس سال زلزلے کثرت سے ہوں گے ٬ اولے کثرت سے پڑیں گے۔ پندرہویں شبِ رمضان شبِ جمعہ ایک دھماکہ ہو گا ٬ صبح کی نماز کے بعد ایک چنگھاڑ سنائی دے گی ٬ حدیث میں آیا ہے کہ اس تاریخ کو نماز صبح پڑھ کر گھروں کے اندر داخل ہو جاؤ اور کواڑ بند کر لو ٬ گھر میں جتنے روزن ہوں بند کر لو٬ کپڑے اوڑھ لو ٬ کان بند کر لو ٬ پھر آواز سنو تو فوراً اللہ عزوجل کے لئے سجدے میں گرو اور یہ کہو " *سبحان القدّوس سبحان القدّوس ربّنا القدّوس* " جو ایسا کرے گا نجات پائے گا اور جو نہ کرے گا ہلاک ہو جائے گا۔ یہ حدیث پاک کا مضمون ہے۔ اس میں یہ تعین نہیں کہ کس سنہ میں ایسا ہو گا ۔ بہت رمضان مبارک گزر گئے جن کی پہلی تاریخ جمعہ کو تھی اور ان شاء اللہ تعالٰی آئندہ بھی گزریں گی۔ ہاں! جو خبر دی گئی ہے وہ ہونے والی ضرور ہے٬ جب کبھی ہو۔ بندۂ مومن کو اللہ تعالٰی سے خوف و امید ہر وقت رکھنا چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم
( فتاوی رضویہ قدیم جلد ۱۲ ص ۱۵۹ )
*پیش کردہ :--‐-*
فقیر قادری عفی عنہ
۵/ رمضان المبارک ۱۴۴۴ھ بمطابق ۲۸/ مارچ ۲۰۲۳ء
+916204351217
❤1👍1