🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-09-1444 ᴴ | 06-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-09-1444 ᴴ | 06-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید محمد غوث گوالیاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ بر صغیر پاک و ہند کے متاخرین اولیاء کرام اور مشائخ عظام میں سے تھے آپ کا سلسلۂ طریقت حاجی حمید حضرت قاذن شاہ قدس سرہ کے خلفاء مامدار میں سے تھے۔ ملتا ہے شاہ قاذن نے حضرت عبداللہ شطاری﷫ سے خرقۂ خلافت حاصل کیا تھا سلسلۂ ظاہری کے ساتھ ساتھ آپ کو باطنی طور پر حضرت پیر پیراں سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ سے فیضاں روحانی میسر تھا۔ آپ ہی کے فیض سے مرتبہ غوثیت اور اقطابیت پر پہنچے تھے آپ کے دادا نیشا پور کے سادات میں سے تھے۔ آپ نیشاپور سے ہندوستان تشریف لائے یہاں ہی قیام پذیر ہوئے۔

کہتے ہیں کہ سید محمد غوث گوالیاری چودہ (۱۴) وہ سلسلہائے تصوف کے مقتداء تھے۔ کائنات ارض کی سیاحت کی۔ دنیا بھر کے روحانی خانوادوں سے فیض پایا تھا اور بعض حضرات سے خرقہ خلافت حاصل کیا تھا۔ سفر کے دوران ایک کوزہ کندھے پر اٹھائے رکھتے تھے۔ مصلّٰی بغل میں ہوتا تھا اور ایک عصا ہاتھ میں رکھتے جسمانی طور پر بڑے نازک و لطیف تھے۔

صاحب اخبارالاخیار لکھتے ہیں۔ کہ شیخ محمد غوث‎﷫ نے پہلے دن حضرت شیخ حمید کی خدمت میں حاضری دی تو حضرت شیخ استقبال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ سے بغل گیر ہوکر کہنے لگے ’’محمد غوث آؤ! مرحبا! مرحبا!‘‘ حاضرین مجلس نے آپ کا یہ سلوک دیکھا تو پوچھا۔ اس شخص کو غوث کے رتبہ پر پہنچنے سے پہلے ہی غوث کہہ کر پکارنا کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا۔ یہ نیک فال ہے کہ اس کے والد نے پہلے ہی اس کا نام غوث رکھا ہے جس طرح بیٹے کا نام شاہ عالم رکھا جائے تو ابتداء میں وہی شاۂِ عالم نہیں ہوتا۔مگر ایک دن آتا ہے کہ اُسے شنشاہی ملتی ہے۔

کہتے ہیں کہ ابتدائی عمر میں شیخ محمد غوث اہل دعوت سے تعلق رکھتے تھے آپ ریاضت میں اسمائے اللہ کی دعوت میں مشغول رہتے اس کام کو آپ نے اس مقام تک پہنچایا۔ کہ سارے برصغیر میں آپ کا ثانی نہیں تھا۔ یہی اسماء خدا وند آپ کے باطن پر اثر انداز ہوتے چلے گئے اور آپ قطب وقت بن گئے۔ نصیرالدین ہی یوں بادشاہ آپ کے عقیدت مندوں میں سے تھا۔ آپ نے ایک کتاب معراج نامہ تصنیف کی تھی۔ جس میں اپنے عروج اور روحانی کمالات کا ذکر کیا تھا ہمایوں سلطنت ہند سے محروم ہوا۔ اور اپنا ملک چھوڑ کر ایران چلاگیا۔ تو درباری حاسدوں نے شیر شاہ سوری کے کان بھرے اور معراج نامہ پیش کر کے کہا اس میں کفریہ کلمات درج ہیں شیر شاہ آپ کو سزا دینا چاہتا تھا۔ آپ گوالیار سے ہجرت کرکے گجرات چلے گئے۔ گجرات کے علماء نے بھی آپ کی مخالفت کی اور ایک محضر نامہ لکھ کر آپ کے قتل کا فتویٰ دیا۔ شیخ وحیدالدین نے جو اس وقت علماء گجرات میں بہت بلند مقام رکھتے تھے۔شیخ سے عقیدت و ارادت رکھتے تھے علماء کی مجلس میں یہ نکتہ اٹھایا کہ معراج نامہ میں جتنے واقعات درج کیے گئے ہیں وہ تو عالمِ خواب کے واقعات ہیں بیداری اور عام حالات میں یہ واقعات و احوال رونما نہیں ہوئے۔ غرض یہ کہ اس مجلس میں آپ کا نکتۂ نظر پوری شہرت سے پیش ہوا۔ اور آپ نے فرمایا۔ یہ احوال عالم صحو و سُکر میں ہیں۔ علماء کرام نے اپنا محضر نامہ واپس لے لیا۔

آپ کے ایک بھائی حضرت بہلول نامی بھی صاحب ارشاد و کرامت بزرگ تھے۔ ہمایوں بادشاہ کو ان سے بے حد عقیدت تھی۔ مگر مرزا ہندال نے آپ کو شہید کردیا۔

حضرت شیخ محمد غوث گوالیاری بڑے صاحب تصانیف عالیہ تھے۔ ان میں سے جواہر خمسہ اور اوغوثیہ۔ اور بحرحیات بہت مشہور ہیں۔

آپ کی وفات ۱۵؍رمضان ۹۷۰ھ میں واقع ہوئی تھی۔ مزار پر انوار گوالیار میں ہے۔

محمد غوث سید قطب عالم
بتاریخ وصالش گفت سرور

چودر وصل حذاگر دید موصول
محمد متقی سلطان مقبول
۹۷۰ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-muhammad-ghous-gwaliori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ الحاج مفتی میر محمد جتوئی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

علامہ الحاج مفتی میر محمد بن حضرت علامہ الحاج قاضی ابو الخیر عبداللہ جتوئی گوٹھ آمری ( تحصیل جاتی ضلع ٹھٹھہ ) میں ۱۸۵۶ء کو تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی۔ اس کے بعد حضرت علامہ محمد ہاشم کھتری دھوبی اور علامہ خادم حسین جتوئی ( رتودیرو ضلع لاڑکانہ ) سے تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔

بیعت:
سلسلہ نقشنبدیہ مجددیہ میں پیر طریقت حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی ؒ کے مرید اور خلیفہ تھے ـ( بروایت مولانا عبد الحئی جتوئی)

درس و تدریس:
اپنے والد صاحب کی وفات کے بعد قضاء کے عہدے پر فائز ہوئے اور شرعی فتاویٰ جاری فرما کرامت مسلمہ کی رہنمائی فرمائی ۔ والد صاحب کے قائم کردہ مدرسہ میں درس و تدریس میں مشغول رہے۔

عادات و خصائل:
علامہ جتوئی انتہائی خدارسیدہ ، پرہیز گار ، سنت بنوی کے پابند ، عشق رسول سے سر شار ، کھانا پینا ، اوڑھنا بچھونا ، سادہ لباس سنت کے مطابق اور حسن اخلاق کے مجسم تھے۔

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں سے چند نام معلوم ہو سکے وہ درج ذیل ہیں :

۱۔ صاحبزادہ مولانا عبدالستار جتوئی ( وفات ۱۹۸۲ء )
۲۔ مولانا محمد تھیم
۳۔ مولوی عبدالرحمن جتوئی خطیب جامع مسجد چوہڑ جمالی
۴۔ مولوی محمد خاصخیلی

وصال:
مولانا الحاج مفتی میر محمد جتوئی نے بحالت روزہ بروز جمعۃ المبارک ۱۵، رمضان المبارک ۱۳۹۰ھ بمطابق ۱۹۷۰ء کو انتقال کیا ۔ آخری آرامگاہ گوٹھ مولانا حاجی عبد اللہ جتوئی نزد آمری تحصیل جاتی میں واقع ہے۔

( بشکر یہ حافظ حبیب سندھی )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-alhaj-mufti-meer-muhammad-jatoi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام محدثِ اعظم حجاز علامہ ڈاکٹر سیّد محمد بن علوی مالکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب:
پیدائشی نام: سیّد محمد حسن ۔ بعد ازاں فقط ’’ محمد ‘‘ کے نام سے جانے گئے ۔ مکمّل نام: شیخ سیّد محمد بن علوی مالکی ہے۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد حسن بن علوی بن عباس بن عبد العزیز بن عباس بن عبد العزیز بن محمد بن قاسم بن علی بن عربی بن ابراہیم بن عمر بن عبدالرحیم بن عبد العزیز بن ہارون بن علوشی بن مندیل بن علی بن عبدالرحمٰن بن عیسیٰ بن احمد بن محمد بن عیسیٰ بن ادریس بن عبد اللہ الکامل بن الحسن المثنّٰی بن الحسن المجتبیٰ بن علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ۔ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔

آپ کا خاندانی تعلّق ساداتِ کرام سے ہے۔28 واسطوں سے سلسلۂ نسب حضرت خاتونِ جنّت سیّدہ فاطمۃ الزہرا سَلَامُ اللہِ عَلَیْہَا تک منتہی ہوتا ہے ۔ (مفتیِ اعظم ہند اور ان کے خلفا ص:510)

آپ کےجدِّ اعلیٰ، حضرت سیّد ادریس بن عبد اللہ کامل حسنی علیہ الرحمۃ (متوفیٰ177ھ/793ء) سلطنتِ ادریسیہ مراکش کے بانی واوّلین حکمران اور مشہور ولی اللہ تھے۔ اس خطے میں انہیں وہی مقام حاصل ہے جو پاک وہند میں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمۃ کوہے۔آپ کے بیٹے سیّد ابوالقاسم ادریس بن ادریس بن عبداللہ کامل حسنی (متوفیٰ 213) مراکش کے اہم شہر ’’فاس‘‘ کےبانی تھے،جہاں ان کامزار واقع ہے۔’’قطب ِ فاس‘‘ اور ’’مولائی ادریس ثانی‘‘ کے القاب سے مشہور ہیں۔ (محدثِ اعظم حجاز:23)

محدثِ اعظم حجاز کے والدِ گرامی شیخ سیّد علوی بن عباس علوی مالکی حرم مکی کےنامْورمدرسین میں سے تھے۔ انھوں نے چالیس برس تک حرم شریف میں علومِ اسلامیہ کے درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔آپ کے دادا سیّد عباس علوی مالکی علیہ الرحمۃ سلطنتِ عثمانیہ و ہاشمیہ میں مکۃ المکرمہ کے قاضی اور امام وخطیب کے منصب پر فائز تھے۔ آپ کے دادا کے علاوہ آپ کے اجداد میں پانچ بزرگ سلطنتِ عثمانیہ کےدور میں حرم مکی میں مالکی ائمہ وخطبا رہ چکے ہیں۔(روشن دریچے:262)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 1362ھ مطابق 1943ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔(محدثِ اعظم حجاز:24)

تحصیلِ علم:
کم سنی ہی میں حفظِ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل کی، ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی اور مکہ مکرمہ میں مسجدِ حرام میں مختلف علمائے کرام کے حلقہ ہائے درس میں شریک ہو کر، کتبِ متدوالہ کی تکمیل کی۔ علاوہ ازیں اسکول کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ مکۂ مکرمہ کے معروف مدرسہ الصولتیہ میں باقاعدہ تحصیلِ علم میں مشغول رہے۔ اس کے علاوہ جدّہ کے الفلاح اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی، ان کی ذہانت و ذکاوت کا عالم یہ تھا کہ صرف پندرہ برس کی عمر میں اپنے والدِ گرامی کے حکم سے مسجدِ حرام میں طلبہ کو علومِ اسلامیہ کی بعض کتب کی تدریس شروع کر دی تھی۔ بعد ازاں جامعۃ الازہر مصر کے کلیہ اصول الدین سے اصول ِدین کے مضمون میں ایم اے اور پچیس برس کی عمر میں ڈاکٹریٹ کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ جامعہ ازہر سے پی ایچ ڈی کرنے والے یہ پہلے کم عمر سعودی طالب علم تھے۔ (روشن دریچے:261)

آپ نے مکہ مکرمہ میں تعلیم پانے کےبعد مراکش،مصر اور پاکستان و ہندکےسفر کرکےتحصیلِ علم کیا۔

بیعت و خلافت:
سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے والدِ گرامی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، انھوں جمیع علومِ اسلامیہ اور سلسلۂ قادریہ و شاذلیہ میں خلافت عطا فرمائی۔ نیز مکۃ المکرمہ کےپانچ مشائخ نے آپ کو مختلف سلاسل میں خلافتیں عطا فرمائیں، شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان نوری علیہ الرحمۃ نے آخری حج 1390ھ/1971ء کے موقع پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی علیہ الرحمۃ سے سلسلۂ قادریہ اور مولانا عبدالغفور مہاجر مدنی علیہ الرحمۃسے سلسلۂ نقشبندیہ میں اجازت وخلافت پائی (محدثِ اعظم حجاز:27)۔

تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضاخاں قادری ، ماہرِ رضویات ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی، علامہ عبد الحکیم شرف قادری، مولانا علی احمد سندیلوی، مولانا یٰسین اختر مصباحی وغیرہ جیّد علمائے کرام کو آپ سے اجازتیں حاصل ہیں۔

سیرت و خصائص:
مجدد الاسلام، شیخ الاسلام، عاشقِ خیر الانام ﷺ، محدثِ اعظم حجاز، شیخ العلما، قاطعِ وہابیت و نجدیت، حامیِ سنّت، آفتابِ شریعت، ماہتابِ طریقت، زینت الحرم، وارثِ علوم و معارفِ اَسلاف، مفتیِ مذاہبِ اربعہ، جامع العلوم والمحاسن، مدرّس، مبلغ، متقی، عارف، علامہ سیّد ڈاکٹر محمد بن علوی مالکی مکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔

محنت، جدّ و جہد، ذکاوت و فطانت اور علمی استعداد و صلاحیت کے لحاظ سے زمانۂ تحصیل علم ہی میں تمام درسی طلبہ پر علامہ سیّد محمد علوی مالکی کو فوقیت اور برتری حاصل تھی
1
اسی لیے اپنے والدِ ماجد کے حکم پر ختم ہونے والی ہر درسی کتاب کا دوسرے طلبہ کو درس بھی دیا کرتے تھے۔ علم سے فطری مناسبت اور خدا داد لیاقت و صلاحیت ہی کا فیضان تھا کہ علامہ سیّد محمد علوی مالکی آگے چل کر حضرت العلام سیّد علوی بن عباس مالکی علیہ الرحمۃ کے سچے جانشیں ثابت ہوئے۔ حرمینِ طیبین میں بالخصوص اور عالم اسلام میں بالعموم آپ کو بے پناہ قدر و منزلت حاصل ہے۔ عالم اسلام کے علما ومشائخ آپ کی مؤثر شخصیت اور صلاحیت، جلالتِ شان کے معترف ہیں۔ علم وفضل کے ساتھ ساتھ سرزمینِ حجازِ مقدس میں علامہ سیّد محمد علوی مالکی علیہ الرحمۃ عشق و محبّت نبوی ﷺ کے وارث وامین، عظمتِ انبیا و مرسلین کے علم بردار، اولیا و صلحائے امّت کی جلالتِ شان کے قدر شناس اور ان کی تعظیم و تکریم کے داعی ومبلغ تھے۔

اَسلافِ کرام کی شان میں انگشت نمائی اور زبان درازی کرنے والوں سے سخت نفرت رکھتے اور انھیں ان کی غلط حرکتوں سے باز رکھنے کی کوشش بھی فرماتے ہیں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ کے علم و فضل کے بڑے مدّاح تھے ۔ پاک و ہند کے علما و مشائخ میں سے جو آپ کی بارگاہ میں امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے اپنی علمی و روحانی نسبت کا تذکرہ کرتا، فوراً کھڑے ہو کر معانقہ کرتے اور پیشانی پر بوسہ دیتے اور بے حد تعظیم وتکریم فرماتے، اور والہانہ انداز میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمۃ کا ذکرِ خیر فرماتے ۔ (مفتیِ اعظم اور اُن کے خلفا ص: 516)

موصوف کا شمار عالم اسلام کی ان کی چیدہ وبرگزیدہ ہستیوں میں ہوتاہے،جو اپنے علم وفضل،زہد وتقویٰ،تحقیق وتصنیف،اور وسعتِ علمی وفکری کےپیشِ نظر امّت ِ مسلمہ کی عقیدتوں، محبتوں کامحور ومرکز رہیں۔ آپ بلاشبہ جلیل القدر عالمِ دین، عظیم محقق، صاحبِ طرز مصنّف، تجربہ کار مدرّس، بلند پایہ مقرر اور عظیم مفکر،مرجع الخلائق قائد، اور رسوخ فی العلم والعمل میں اپنی نظیر آپ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمِ عرب وعجم میں شاید ہی کوئی ایسا ہوجو ان کی تصنیفات اور خدماتِ جلیلہ سے نا واقف ہو۔ آپ نے سعودی عرب میں رہتے ہوئےعلی الاعلان مسلکِ اہلِ سنّت کے موقف کی بھر پور حمایت اور زندگی بھر دلائل کے ساتھ مردانہ وار دفاع کیا۔آپ کے علم ودلائل کی قوت سے قلعۂ نجد کی دیواریں ہل گئیں، تمام دنیا کےریال خور مولوی اور بلکہ خود’’شیخ ِ نجد‘‘ آپ کے علم کی تاب نہ لاسکے، آپ کی کتب میں علم وعرفاں کی بہاریں، قرآن وحدیث کا نور، دلائل واستنباط کاگلستاں، جب کہ اُدھر سے گندی زبان اور غلیظ گالیوں کا استعمال، مثلاً: آپ کی تصنیفِ لطیف: ’’مفاہیم یجب ان تصحح‘‘ کےجواب میں مدرسۂ اثریہ پشاورکےبانی ڈاکٹر شمس الدین سلطانی نے مدینۂ منورہ یونیورسٹی سعودی عرب سےP.H.D.کی،ان کا مقالۂ ڈاکٹریٹ: ’’جہود علماء الحنفیۃ فی ابطال عقائد القبوریۃ‘‘ کےنام سےریاض سعودی عرب سے شائع ہوا۔ یہ مقالہ عداوتِ صلحا،بغضِ انبیاء،بے ہودہ الفاظ و اصطلاحات اور مغلظات کا مجموعہ ہے۔یہی حال تمام ذرّیت کا ہے۔

تلبیسِ ابلیس:
اللہ جَلَّ شَانُہٗ نےآپ کوعرب دنیامیں معیارِ حق بنایا تھا۔آپ اہلِ سنّت کی پہچان وعلامت تھے۔اس لیے کچھ ابن الوقت وہابیہ ودیابنہ نے، جن کی ابن الوقتی ہر میدان میں معروف ہے، اپنے آپ کو ’’اہلِ سنّت‘‘ ثابت کرنے کےلیے دروغ گوئی،منافقت،اور دجل وفریب سے کام لیتے ہوئے،اَسناد لیں،اور سستی شہرت کےلیے اُن کی کتب کے اردو میں اپنے من پسند ترجمے کیے اور عوام کو بےوقوف بنایا۔(جس طرح حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمۃ کےنام پر گمراہ کررہے ہیں،اور’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ کوبڑی بے حیائی وڈھٹائی کے ساتھ ہضم کرگئے۔تونسوی غُفِرَلَہٗ)۔جیسے مفاہیم یجب ان تصحح کاترجمہ بنام’’اصلاحِ مفاہیم،مفتی انیس احمد مظاہری‘‘ شائع ہوا،لیکن حقیقت اس طرح عیاں ہوئی کہ جب ان کی جماعت کےبعض ریال خور وں نے گورنمنٹ سعودیہ سے شکایت کی،انھوں نے ان کے بڑوں سے باز پرس کی اور حقِ نمک یاد دلایا، تو ان کی صفوں میں وسیع جدل برپا ہوا۔ تفصیل کےلیے دیکھیے: ’’حقیقی مسلک ومشرب/تحفّظِ عقائدِ اہلِ سنّت/مجموعۂ تحریرات ِ اکابر1994ء/1995ء کے جرائد ورسائل‘‘۔حضرت محدث ِ اعظم حجاز،شیخ الاسلام سیّد محمد بن علوی مالکی مکی علیہ الرحمۃ کاشمار دنیائے اسلام کے سرخیل علما میں ہوتا ہے،آپ عالمی شہرت یافتہ مصنّف،محقق،اور عظیم دانشورعالم ِ دین اور عارف باللہ صوفی تھے۔اس مختصر تذکرےمیں آپ کی خدمات کا احاطہ ناممکن ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال بروز جمعۃ المبارک ، 15؍ رمضان المبارک 1425ھ مطابق 29؍ اکتوبر 2004ء کو مکۃ المکرمہ میں ہوا۔جنّت المعلیٰ میں سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے قریب مدفون ہوئے۔

ماخذ و مراجع:
محدثِ اعظم حجاز کی وفات اور سعودی صحافت؛ مفتیِ اعظم اور اُن کے خلفا؛ روشن دریچے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-muhammad-bin-alvi-maliki-makki
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مبلغ اعظم علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام محمد عبد العلیم اور والد کا نام محمد عبد الحکیم ہے ۔ آپ علیہ الرحمۃ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔

تاریخ و مقامِ ولادت:
حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی قادری 15؍ رمضان المبارک 1310ھ کو محلہ مشائخاں میرٹھ میں تولّد ہوئے۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی ، چار سال دس ماہ کی عمر میں قرآن ِ پاک ختم کیا ۔ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم والدِ گرامی ہی سے حاصل کی، بعدازاں جامعہ قومیہ میرٹھ میں داخل ہوئے اور سولہ سال کی عمر میں درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔آپ نے علومِ عربیہ کی تکمیل کے بعد علومِ جدیدہ کی تحصیل کا ارادہ کیا۔ اولاً اٹا وہ ہائی اسکول اور بعد میں میرٹھ کالج کے اندر انگریزی علوم کی تحصیل فرمائی۔ آپ اُردو، عربی، فارسی، انگریزی وغیرہ کئی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔

بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
مولانا عبد العلیم صدّیقی میرٹھی نے مذہبی اور سیاسی سطح پر بڑے بڑے کارہائے نما انجام دیے۔ آپ نے کئی ممالک کا دورہ کیااور ہزاروں غیر مسلموں کومشرف بہ اسلام کیا۔ آپ اردو، عربی، فارسی کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی حیرت انگیز عبور رکھتے تھے۔ مختلف ممالک میں سینکڑوں تعلیمی،دینی اور رفاہی ادارے قائم کیے، مدارس و مساجد بنوائیں، کتب خانے قائم کیے، اخبارات ورسائل اور مجلات جاری کرائے۔آپ نے سیاست میں بھی حصّہ لیا۔تحریکِ خلافت، تحریکِ مولات اور تحریکِ ختمِ نبوّت کے سلسلے میں کئی ماہ قید ومشقت بھی اٹھائی۔ 1940ء میں قراردادِ پاکستان ہونے کے بعدپاکستان کے لیے جدّ و جہدکی۔ 1946ء کی آل انڈیاسنّی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ 1948ء میں پاکستان کے لیے مسوّدۂ آئین کی تیاری کے سلسلے میں سعی فرمائی۔آپ شعلہ بیان خطیب، بلند پایہ ادیب، اور عظیم مفکرِ اسلام تھے۔جب آپ نغمہ ریز آواز میں دلائل و براہین سے اسلام کی حقانیت بیان کرتے تو حاضرین پر سکوت چھاجاتااور بڑے بڑے سائنسدان،فلاسفر اور دہریہ قسم کے لوگ آپ کے دستِ اقدس پر حلقہ بگوشِ اسلام ہوجاتے۔ آپ تقریباً دنیا کی ہر زبان میں اس روانی سے تقریر کرتے تھے کہ اہلِ لسان ورطۂ حیرت میں رہ جاتے۔ آپ نے پوری قوت اور بےباکی سےدینِ فطرت اسلام کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا،جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔

وصال:
چالیس سال تک دنیا بھر میں تبلیغِ اسلام کا فریضہ انجام دے کر 22؍ ذو الحجہ (23ویں شب، بعدِ مغرب) 1373ھ مطابق 22؍ اگست 1954ء کو مدینۂ منوّرہ میں اپنےخالقِ حقیقی سے جا ملے اور تعلیماتِ اسلامیہ کی تبلیغ واشاعت کے انعام کے طور پر جنّت البقیع میں تدفین کے لیے جگہ ملی۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-muhammad-abdul-aleem-siddiqui
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند، حضور فیضِ ملّت، حضرت علامہ مفتی فیض احمد اویسی رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔ کنیت: ابو الصالح۔ لقب: فیضِ ملت، محدث بہاولپوری، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا فیض احمد اویسی بن مولانا نور احمد بن مولانا محمد حامد بن محمد کمال علیہم الرحمۃ والرحمٰن ۔

آپ کا تعلّق قوم ’’ لاڑ ‘‘ سے ہے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضور ﷺ کے چچا محترم سیّدنا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ تک منتہی ہوتا ہے، اس لیے نسبتاً ’’عباسی‘‘ ہیں ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت: ص40؛ مظلوم مصنّف، ص12)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 1351ھ مطابق 1932ء کو گاؤں ’’حامد آباد‘‘ تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان، پنجاب پاکستان میں ہوئی ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت ص:40)

تحصیلِ علم:
والدِ گرامی دینی علوم سے بہرہ ور تھے، ابتدائی دینی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر اپنے قریبی قصبہ ترنڈہ میر خان میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخل ہوئے اور پانچ جماعت تک اسکول کی تعلیم حاصل کی اور 1942ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا ۔ والدِ گرامی کی خواہش کے مطابق حفظِ قرآن مجید کے لیے حافظ جان محمد صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور ان سے آٹھ پارے حفظ کیے، اور پھر مولانا حافظ سراج احمد علیہ الرحمۃ سے اٹھارہ پارے حفظ کیے، اور خیر پور ٹامیوالی میں مولانا حافظ غلام یسین علیہ الرحمۃ سے 1947ء میں مکمّل قرآنِ مجید حفظ کیا ۔

آپ فرماتے ہیں: میں نے1947ء کے سال پہلی مرتبہ تراویح کی صورت میں قرآن مجید سنایا، اور 27 ویں شب ختم قرآن کی تقریب بھی تھی اور قیام پاکستان کی خوشی بھی ۔ حفظِ قرآن کے بعد درسِ نظامی کا آغاز کیا، فارسی کی ابتدائی کتب مولانا اللہ بخش علیہ الرحمۃ سے پڑھیں، اور صرف و نحو، ہدایہ، مختصر المعانی، شرحِ جامی وغیرہ ، امام الواعظین، واعظِ شیریں بیاں، عاشقِ رسول ﷺ، حضرت علامہ مولانا خورشید احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے پڑھیں، بقیہ کتب علامہ مولانا عبد الکریم علیہ الرحمۃ سے پڑھیں، 1952ء کو جامعہ رضویہ فیصل آباد میں محدثِ اعظم پاکستان حضرت شیخ الحدیث مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے دورۂ حدیث مکمّل کیا اور اُن کے مبارک ہاتھوں سے دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغ حاصل فرمائی۔(تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص 40)

بیعت و خلافت:
دورانِ تعلیم سلسلۂ عالیہ اُویسیہ میں حضرت محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے سجادہ نشیں، حضرت مولانا خواجہ محمد الدین سیرانی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اُن کے وصال کے بعد حضرت علامہ مولانا حسن علی رضوی کے توسّط سے شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور مفتیِ اعظم ہند ، حضرت علامہ مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ حضرت مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
فیضِ ملّت، مفسرِ اعظم پاکستان، مصنّفِ اعظم، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، شیخ التفسیر و الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ۔

حضرت قبلہ فیض احمد اویسی علیہ الرحمۃ اپنے وقت کے جیّد عالم ِ دین، عظیم مصنّف، مایۂ ناز مدرّس، اور بے مثال محقق تھے ۔ ساری زندگی اشاعتِ دینِ مصطفیٰ ﷺ میں بسر فرمائی؛ پاکستان میں مختلف مقامات پر، دُروسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ شروع فرمایا، جو آخری دم تک بر قرار رہا ۔ بہاولپور کے دور دراز اور پسماندہ علاقے میں دینی مدرسے کی بنیاد ڈالی جس کا نام ’’مدرسۂ منبع الفیوض‘‘ رکھا، جس میں حفظِ قرآن، اور دینی کتب کی تعلیم فی سبیل اللہ دی جاتی؛ دور دراز علاقوں سے طلبہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اس مدرسے میں آنے لگے، دیہات کے ماحول میں ان کا انتظام بہت مشکل تھا، لیکن اس ویران مقام میں علما و حفّاظ و قراء کی جماعت تیار فرمائی جو آج پوری دنیا میں خدمتِ دینِ متین اور ترویج و اشاعتِ مسلکِ حق میں مصروف ہیں۔

1963ء میں حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ نے بہاولپور میں جامعہ اویسیہ رضویہ اور جامع مسجد سیرانی کی بنیاد رکھی، جو الحمد للہ اس وقت اہلِ سنّت کی عظیم دینی درس گاہ ہے، جہاں تمام مروّجہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اِن کے علاوہ مختلف مقامات پر درجنوں مدارس آپ کی زیرِ نگرانی چلتے رہے اور اب آپ کی اولاد و تلامذہ ان کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں ۔

تصنیف و تالیف اور تدریس کے علاوہ، حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ ملکی سیاست سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے، چناں چہ آپ مملکت ِخدا داد پاکستان میں نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ و تحفّظِ مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی خاطر قائدِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد نورانی صدّیقی علیہ الرحمۃ کی قیادت میں مصروفِ عمل اور جمعیت سے منسلک رہے ۔ (تعارف علمائے اہلِ سنّت، ص40)
1
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ اپنے وقت کے ایک مایۂ ناز مدرّس تھے؛ آپ کو تمام کتب اور تمام علوم و فنون میں یک ساں مہارتِ تامّہ حاصل تھی ۔ کوئی بھی کتاب اُن کے سامنے مشکل نہ تھی، آپ کی تدریس کا انداز ایسا سہل اور دل نشیں تھا کہ غبی و مبتدی طلبہ بھی بآسانی سمجھ لیتے تھے ۔ تعلیم کے ساتھ تربیت اور طلبہ کی ذہن سازی بھی فرماتے تھے، طلبہ میں دینِ متین کی خدمت کا جذبہ اور تصلّب فی الدین، مسلکِ حق کی خدمت فی سبیل اللہ کرنے کا جذبہ اور علماء و طلبہ میں خود داری، تقویٰ و خلوص کوٹ کوٹ کر بھر دیتے تھے ۔

حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے، بلکہ فنا فی الرسول ﷺ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر سال ماہِ رمضان دیارِ مصطفیٰ ﷺ میں گزارتے تھے ۔ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر شریف، یا مدینۂ منوّرہ کی یادیں تازہ ہوتیں تو آنکھوں سے موتیوں کی برسات شروع ہو جاتی، اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ عشق ِمصطفیٰ ﷺ اور یادِ مدینہ میں ایسے بے قرار رہتے تھے، جیسے ماہیِ بے آب، اور حقیقتاً یہی زندگی اور یہی بندگی ہے ۔

آپ علیہ الرحمہ جب اپنا نام تحریر کرتے تو اس طرح تحریر کرتے: ’’ مدینے کا بھکاری، فقیر فیض احمد اویسی غُفِرَلَہٗ ‘‘ ـ

ایسا بڑا مصنّف، جن کے ہزاروں شاگرد و مریدین ہوں، لیکن سادگی ایسی تھی کہ اکابرین کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔ فی زمانہ تمام دینی شعبہ جات میں بقول’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ القاب کی بہتات ہے، اِلَّا مَاشَآءَ اللہ؛مگر حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ کے ہاں ایسے القاب کی کوئی رو رعایت نہیں تھی ۔ دنیاوی آلائشوں سے دامن بچا کر آپ مقصدِ حیات میں کامیاب رہے ۔

تدریس کے ساتھ ساتھ، وعظ و نصیحت، مختلف مقامات پر مُناظروں کے چیلنج قبول کرکے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے مناظرہ کرنا، اور اپنا وقت بچا کر تحریر و تصنیف میں مصروف رہنا، یہ اس پرفتن اور نفسا نفسی کے عالم میں علماء کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے ۔

تقریباً 5 ہزار تصنیفات:
حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ واقعی فیضِ ملّت تھے ۔ کون سا ایسا موضوع اور کون سا ایسا فن ہے جس میں حضرت نے قلم کشائی نہ فرمائی ہو ۔ تمام مروّجہ علوم و فنون، عربی و فارسی زبان میں کتب کا اردو ترجمہ، اور قدیم و جدید موضوعات پر تقریباً پانچ ہزار کتب تصنیف فرمائی ہیں ـ

بلکہ موجودہ وقت میں یہ آپ کا عالمی ریکارڈ بھی ہے ۔ حضرت فیضِ ملّت علیہ الرحمۃ کی زندگی آج کے نوجوان علماء و طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ خلوص و للہیت سے دین کی خدمت، تدریس، تصنیف، کے ساتھ دینی مدارس کا قیام اہل سنّت کے بقا و عروج کے لیے لازم ہے ۔ اگر تمام علماء مقدور بھر کوشش کریں تو کوئی بعید نہیں کہ اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالیٰ ہر طرف دین کی بہاریں نظر آئیں گی ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصالِ باکمال 15 رمضان المبارک 1431ھ مطابق 26 اگست 2010ء ، بروز جمعرات، بوقت 6:15 صبح جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور میں ہوا ۔ جامعہ ہی میں ابدی آرام فرما ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہلِ سنّت ، مظلوم مصنّف ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-muhammad-faiz-ahmed-owaisi-rizvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1