🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قبلۂ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی:خواجہ نورمحمد ۔پیدائشی نام:بابل۔ لقب:قبلۂ عالم۔علاقہ مہار شریف کی نسبت سے"مہاروی" کہلاتے ہیں۔والد کا اسمِ گرامی:ہندال تھا۔سلسلہ نسب: خواجہ نورمحمد مہاروی بن ہندال بن طاطاربن فتح بن محمودبن مرہ بن عزیزبن داتا ۔الیٰ آخرہ۔ سلسلہ نسب مشہور عادل بادشاہ "نوشیرواں" سے ملتا ہے۔ آپ کاتعلق "قوم کھرل " سے ہے۔

تاریخِ ولادت: آپ 14/رمضان المبارک 1142ھ، بمطابق اپریل/1730ء کو موضع "چوٹالہ"(یہ جگہ مہارشریف سے تقریباً10کلومیٹرکے فاصلے پرہے۔) میں پیداہوئے۔

تحصیلِ علم: جب آپ کی عمر شریف پانچ برس کی ہوئی تو آپ کو حافظ محمدمسعود مہاروی رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس قرآن مجید پڑھنے کے لئے بٹھایا گیا،انہی سے آپ نے قرآن پاک حفظ کیا ایک دن حضرت شیخ احمد(دودی والہ )رحمہ اللہ تعالیٰ مولانا محمد مسعود کے مدرسہ میں تشریف لائے حضرت خواجہ صاحب کو دیکھا تو فرمایا:"سبحان اللہ! ایک زمانہ آئے گا کہ اس بچے کے در پر بادشاہ سر رکھیں گے۔"پھر"موضع بڈ ہیراں" تشریف لے گئے۔کچھ عرصہ بعد" موضع ببلانہ" میں شیخ احمد کھوکھر رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو کر علم حاصل کرتے رہے،بعد ازاں"ڈیرہ غازی خاں" چلے گئے اور شرح جامی تک کتابیں پڑھیں۔کچھ عرصہ بعدشیخ محکم الدین سیرانی قدس سرہ کے ساتھ لاہور تشریف لے گئے۔لاہور میں آپ کو بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن علم کے ذوق و شوق میں کبھی کمی نہ آئی۔ تکمیل علوم کے لئے دہلی تشریف لے گئے اور نواب غازی الدین خان کے مشہور مدرسہ میں داخل ہو کر حافظ بر خورد دارجی سے تعلیم حاصل کرنے لگے۔ان دنوں آپ کو پتہ چلا کہ حضرت مولانا خواجہ فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ دکن سے دہلی تشریف لائے ہیں اور وہ بہت بڑے عالم ہیں،شوق علمی کشاں کشاں ان کے دربار میں لے گیا۔حضرت شاہ فخرالدین قدس سرہ نے الطاف خسروانہ سے نوازا،اگر چہ آپ ایک عرصہ سے درس و تدریس کا سلسلہ منقطع فرما چکے تھے ،مگر اس جو ہر قابل کی تکمیل کی خاطر بہ نفس نفیس پڑھانا منظور فرمالیا ۔ حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ نے پوری محنت سے اکتساب علوم کیا اور سند حدیث حاصل کی۔آپ شاہ صاحب کے تبحر علمی کو دیکھ کر حیران رہ گئے،اور بے ساختہ پکاراٹھے :"سبحان اللہ بحرِ علوم بودند "

بیعت وخلافت:آپ حضرت خواجہ فخرالدین فخرِجہاں دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر" مزار حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ" پر بیعت ہوئے،اور قطب العالم حضرت خواجہ فریدالدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف پر خلافت سے نوازے گئے۔

سیرت وخصائص:شیخ المشائخ،مخزنِ ہدایت،منبعِ کرامت،رازدار اسرارِ شریعت وطریقت وحقیقت،فخرالمتقدمین،پیشوائے متأخرین،سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے سالارِ اعظم ،قبلۂ عالم حضرت خواجہ نورمحمد مہاروی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ۔علم ، تواضع ،شفقت ،حلم وعفو، حیاءو وقار،عبادت وریاضت،زہدوتقویٰ،عفوووفا،جودوسخا،نصیحت و شفقت،الفت و مروت، بردباری،کسرنفسی اوراخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔حضرت قبلۂ عالم بلامبالغہ علم و معرفت کے ایک بحرِ بے کنار تھے۔یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ حضرت خواجہ فرید الدین گنجشکر قدس سرہ کے پنجاب میں سلسلۂ عالیہ چشتیہ کی ترویج و اشاعت میں سب سے زیادہ حصہ حضرت قبلۂ عالم کی مساعیِ جمیلہ کا ہے،دنیا کا کونسا ایسا حصہ ہے جہاں آپ کے با لواسطہ اور بلا واسطہ مریدین اور نیاز مند نہیں ہیں،آپ کے خلفاء کاملین کا حلقہ بہت وسیع ہے۔

حدیقۃ الاخیار میں ہے: کہ حضرت خواجہ صاحب وضو کرتے وقت پانی بہت ہی احتیاط سے استعمال فرماتے تھے ۔ ہمیشہ وضو خود کرتے ، کسی سے مدد نہ لیتے۔ ہر وضو کے ساتھ مسواک ضرور فرماتے۔ وضو کے بعد تولیہ استعال کرتے۔ ظہر اور عشاء کے وضو کے بعد ریش مبارک میں شانہ فرماتے ۔ شانہ کرتے وقت سورہ الم نشرح پڑھتے اور فرماتے:یہ فراخیِ رزق کےلیے بہت مفید ہے۔نماز ہمیشہ با جماعت ادا فرماتے اور تعدیل ارکان اور آداب نماز کا بہت خیال رکھتے۔ حتٰی کہ مستحب بھی ترک نہ کرتے تھے۔ بعد نماز عشاء ہمیشہ سرمہ لگاتے۔ تین سلائی ایک آنکھ میں اور تین سلائی دوسری آنکھ میں ،کھانا کم کھاتے تھے۔ اکثر گندم کی روٹی شور بے کے ساتھ کھاتے تھے ۔مونگ کی دال اور شلغم بھی پسند کرتے۔ ہر لقمہ پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے تھے۔دن کو روٹی پر گھی ڈالکر چھاچھہ سے کھاتے ۔ دودھ نصف کٹورہ سے زیادہ نہ پیتے تھے ۔ فرمایا کرتے تھے کہ قلت طعام، قلت کلام اورصحیح گفتگو انسان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ کھانے سے فارغ ہوکر ہاتھ دھرتے اور تولیہ سے صاف کرتے۔ دانتوں کا خلال کرتے اور دعا پڑھتے۔ ہمیشہ سادہ لباس زیب تن فرماتے۔سر پر کلاہ قادری، جس کے کنارے پر مغزی لگی ہوتی تھی پہنتے تھے۔ سفر میں دستار باندھتے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے میرے شیخ سے فرمان ہوا تھا کہ لباس اور غذا لطیف استعمال کرنا۔

تمام لوگو
1
ں کی عرض بڑی توجہ سے سنتے ،ہرسائل کوجواب دیتے،ہرایک کی دلجوئی کرتے،بے کسوں پر شفقت فرماتے،اقرباء سے حسن سلوک کرتے،علماء وساداتِ کرام کی بہت عزت کرتے،آپ کے لنگر سے ہرغریب ومسکین کوکھانا ملتا تھا۔آپ کافیض امیر وغریب ہرقسم کے افراد کیلئے یکساں تھا،بلکہ غریبوں پر زیادہ کرم فرماتے تھے۔

علم دوستی کا یہ عالم تھا: کہ مطالعہ بہت کرتے تھے،لوائح،نفحات الانس،فقرات،شرح لمعات،اور فصوص الحکم اکثرمطالعے میں رہتیں تھیں۔

غوثِ زماں خواجہ شاہ محمد سلیماں تونسوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص آپ کے دست اقدس پر بیعت ہوتا اس کے ظاہر و باطن میں حیرت انگیز انقلاب برپا ہو جاتا تھا، اور اس کی دنیا بدل جاتی تھی۔حضرت خواجہ فخرِ جہاں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: اگر یہ پنجابی میرے پاس نہ آتا تو میں اس دنیا سے اپنے ارمان اپنے دل میں ہی لے کر چلاجاتا۔(بہارِ چشت:131)

آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ تمام معاملات میں سنتِ مصطفیٰﷺ کالحاظ بہت تھا۔آپ فرماتے تھے: جوفعل خلاف سنت ہووہ مردود ہے۔

چونکہ ہر معاملہ میں سنت نبوی کا خیال رکھتے تھے اس لیے عمر شریف بھی سنت کے مطابق تریسٹھ برس پائی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

وصال:آپ کاوصال 3/ذوالحجہ 1205ھ،بمطابق جولائی/1792ءکوہوا۔آپ کامزارپرانوارچشتیاں شریف(ضلع بہاول نگر،پنجاب،پاکستان)میں مرجعِ خاص وعام ہے۔

ماخذومراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تذکرہ اولیائے پاکستان۔ماہنامہ ضیائے حرم۔بہارِ چشت۔

https://scholars.pk/ur/scholar/qibla-e-aalam-hazrat-khawaja-noor-muhammad-maharvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
نعمان ثانی حضرت علامہ مخدوم عبدالواحد سیو ہانی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: علامہ مخدوم عبدا لواحد ۔لقب:علمی فقاہت وثقاہت کی بنیاد پر’’نعمان ثانی‘‘اور علاقہ سیہون شریف کی نسبت سے’’سیوہانی/سیستانی‘‘اور میاں محمد احسان کےنام سے بھی معروف ہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: علامہ مخدوم عبدالواحدسیوہانی بن شیخ الاسلام حضرت علامہ مخدوم دین محمد صدیقی بن مفتی اعظم سندھ مخدوم عبدالواحد کبیر صدیقی بن عبدالرحمن بن مولانا محمود السہروردی بن مولانا شیخ عیسیٰ ثانی بن مخدوم حسن قاری بن شیخ شہراللہ رمضان بن مسیح الاولیاء شیخ عیسیٰ جنداللہ بن شیخ قاسم بن شیخ الاسلام یوسف سندھی بن شیخ رکن الدین شیخ معروف پاٹائی بن شیخ شہاب الدین سندھی بن مسیح الاولیاء شیخ عیسیٰ عین المعانی (یہ پاٹ شہر کےبانی تھے) بن نورالدین بن شیخ سراج الدین بن شیخ وحید الدین بن شیخ مسعود بن رضی الدین بن شیخ قاسم بن محمد معرف بہ عمادالدین بن شیخ ابوحفص عمر بن شہاب الدین سہروردی ،جو خلیفۂ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سےتھے۔رحمھم اللہ تعالیٰ ۔(فقہاء سندھ کی علمی خدمات:164)

مخدوم صاحب علیہ الرحمہ کا خاندان ایک علمی وروحانی خاندان تھا۔آپ کےوالد گرامی اور جد امجداپنے وقت کےعظیم عالم اور داعیِ دینِ مصطفیٰﷺ تھے۔سندھ کےمشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ سےگہرے مراسم اوردوستانہ تعلقات تھے۔اس وقت کاحاکمِ سندھ نورمحمد کلہوڑوخاص معتقدین میں سے تھا۔(سندھ کے صوفیاء نقشبند:482)۔قاضی دین محمد صدیقی علیہ الرحمہ کلہوڑہ دورِ حکومت میں وزیر مذہبی امورتھے۔(فقہائے سندھ کی علمی خدمات:164)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1150ھ،مطابق 1738ء کوسیہون شریف سندھ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: جس وقت حضرت مخدوم کی ولادت اس وقت سیہون شریف علم وفن کاعظیم مرکزتھا،دور درازسےطالبان ِ علم اپنی علمی پیاس بجھاتےتھے۔بڑے بڑے علماء وفضلاء اس شہر میں جلوہ گر تھے،اور خود آپ کا خاندان بھی علماء وصوفیاء سےبھراہواتھا۔آپ کےوالدِگرامی کاعلمی دنیا میں ایک مقام تھا۔ایسےپرنور ماحول اور حضرت لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ کی درگاہ میںاپنےوالدِ گرامی کی زیرنگرانی ابتداء ہوئی اور انہیں سےتکمیل فرمائی۔ شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی علیہ الرحمہ کےوصال کےوقت آپ نوجوان تھے،اورآپ کی عمر مبارک اس وقت صرف 25برس تھی۔ان کےبعد فن تحریر اور فقہ میں اپنی مثال آپ تھے۔

بیعت وخلافت: تحصیل علم کے بعد وقت کے نامو ر شیخ ِطریقت عارف باللہ حضرت خواجہ صفی اللہ مجددی قند ھاری رحمتہ اللہ علیہ کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ)۔آپ کی بیعت واقعہ بھی بڑا عجیب ہےکہ جب حضرت خواجہ صفی اللہ مجددی حج کے ارادے سے سیہون شریف میں منزل انداز ہوئے تو خواب میں امیر المومنین حضرت سید نا ابو بکر صدیق کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ آپ نے فرمایا: ’’صفی اللہ ! میرے بیٹے عبدالواحد کو اپنے سلسلہ میں داخل فرمائیں۔ جب صبح ہوئی خواجہ صاحب نے مخدوم صاحب سے ملاقات کر کے انہیں خواب سنایا اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل کیا‘‘۔(ایضاً)

سیرت وخصائص: فقیہ اعظم سندھ،مفتیِ اعظم سندھ،جامع العلوم،بحرالعلوم،عارف باللہ ،شیخ الاسلام،نعمانِ ثانی حضرت علامہ مولانا عبدالواحد سیوہانی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ سندھ کےنامور عالم،اور مشہورفقیہ،محقق ومدقق،مفتی ومتقی،صوفیِ باصفا اور صاحبِ کشف وکرامت بزرگ تھے۔آپ خاندانِ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےروشن چراغ تھے۔تمام علوم میں باالعموم اور فقہ حنفی میں باالخصوص بلند مقام حاصل تھا ۔ سینکڑ وں مسائل آپ کی تحقیقات کا انمول خزانہ ہیں ۔ آپ اپنے وقت میں اہل سنت و جماعت کے امام اور مرجع علماء تھے۔آپ کی تحریر ات نادرہ اورنایاب فتاویٰ کو آپ کے شاگرد ارشد مولانا محمد افضل صاحب نے جمع کیا اس مجموعہ کا نام ’’ جمع المسائل علی حسب النوازل ‘‘ تجویز ہوا جو کہ تین جلدوں پر مشتمل ہے اور انہیں ’’ بیا ض واحدی ‘‘ کے نام سے شہرت حاصل ہے ۔ ( تذکرۃمشاہیر سندھ )

مخدوم صاحب علیہ الرحمہ صحیح العقیدہ سنی عالم دین تھے۔ہر قسم کےگمراہ اور باطل فرقوں کےنظریات کا شدت سے رد فرماتےتھے۔فتنہ ٔ وہابیہ دجالیہ اس وقت ہندوستان میں نیا نیا وارد ہواتھا،اور سندھ میں رافضی بھی تھے،آپ نےاپنے فتاویٰ میں ان دونوں کا دلائل ِ شرعیہ سےرد فرمایا۔اسی طرح آپ علیہ الرحمہ عاشقِ صادق،اور خوش مزاج شخصیت کے حامل تھے۔میلاد شریف میں خوش الحانی کےبارے میں کسی نےسوال کیا کہ آیا اس طرح خوش الحانی میں مولود شریف پڑھناجائز ہے یا نہیں؟۔

اس کےجواب میں آپ نےارشاد فرمایا:’’ الظاہر ان انشاء المولود بالاصوات المطرب من مستحسنات اہل المحبۃ والالتذاذ بسماع اسمہ الشریف من علامۃ المحبۃ ۔قال فی مواہب اللدنیہ محبتہ ﷺ ان یتلذذ بذکرہ الشریف،الخ ‘‘۔(سندھ کے صوفیاء نقشبند:484)

یعنی آپ کے عقیدہ اور مسلک میں میلاد شریف کاخوش الح
1👍1
انی کےساتھ پڑھنا،اور سننا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن عمل تھا۔اس پر دلیل آپ نےعشق کےرنگ میں ڈوب کر دی ہےکہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کے ذکر سےانسان لطف اندوز ہو، لہذا ایک عاشق کےسامنے اس کےمحبوب آقاﷺ کا جب ذکر کیا جائےگا،اور وہ بھی لحن داؤدی اور اچھی آواز کےساتھ تو لطف ولذت دوگنی ہوجائیگی اور کیف وسرور دوبالا ہوجائے گا،اور عشاق کاایمان تازہ ہوجائےگا۔

قاضی محمد شکارپوری آپ کاہم عصراور متعصب وہابی تھا،اولیاء اللہ کی دشمنی تو ابلیس کی طرف سے انہیں ورثے میں ملی ہے۔مزارات اولیاء کی حاضری کو شرک وبدعت سےکم کسی درجےپر راضی نہ تھا،ادھر مخدوم عبدالواحد علیہ الرحمہ بڑےاحتشام وعقیدت کےساتھ اولیاء اللہ کےمزارات کی حاضری کےلئے سفر بھی کرتے تھے۔اس وقت سندھ میں علمی وروحانی اعتبار سے ان پر کسی کوفوقیت حاصل نہ تھی،قاضی شکار پوری نےآپ کوخط لکھا،جس میں بطور طعن اس لقب سے یاد کیا:’’عابدالاوثان،میاں محمد احسان‘‘یعنی بتوں کےپجاری میاں محمد احسان۔(اس بدباطن نےبتوں اوراولیاء اللہ میں ،اسی طرح عبادت اور زیارت میں فرق نہیں کیا۔تونسوی غفرلہ)۔آپ علیہ الرحمہ نےاس کےجواب میں سندھی میں شعر لکھ کرارسال کیا۔شعر یہ تھا۔

؏: نہ تو سرکی پیتی،نہ تو آئی چت۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھیں پیوانھن ساں،جنہیں پیتا مت

یعنی تم نے شراب معرفت کاایک قطرہ تک چکھا نہیں،اور تم چلے ہو اس کامقابلہ کرنےکےلئےجس نےشرابِ معرفت کےمٹکےکےمٹکے پئے ہوئے ہیں۔تمہیں اس کی لذت ہی نہیں معلوم،تو پھر اعتراض کیوں کرتےہو۔(ایضا:491)

آپ کوتصنیف وتحریر میں خاص ملکہ حاصل تھا۔آپ نےمسائل اس انداز میں بیان کیے ہیں کہ عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔آپ نے مختلف موضوعات پر عربی میں 22 مفید کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی دینی خدمات اور علمی ثقاہت کےپیش نظر مختلف جامعات نےپی۔ایچ۔ڈی کی ڈگریاں جاری کی ہیں۔تین اشخاص آپ پر ڈاکٹریٹ کرچکے ہیں۔

تاریخِ وصال: آپ کا وصال 14/رمضان المبارک 1224ھ،مطابق اکتوبر/1809ء کوہوا۔درگاہ حضرت لعل شہبازسےجنوب کی سیہون شریف کی محمد بن قاسم عید گاہ کےقریب قبرستان میں دفن کیا گیا۔

ماخذومراجع: انوار علمائے اہل سنت سندھ۔فقہائے سندھ کی علمی خدمات۔سندھ کےصوفیاء نقشبند۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-makhdoom-abdul-wahid-siddiqui
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سچل سرمست رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حافظ عبدالوہاب فاروقی۔لقب:سچل سرمست۔ سلسلہ ٔنسب اس طرح ہے: حضرت حافظ عبد الوہاب المعروف سچل سرمست بن میاں صلاح الدین بن میاں محمد حافظ المعروف میاں صاحب ڈنو۔علیہم الرحمہ۔

سچل سرمست لقب کی وجہ تسمیہ:’’ ہمیشہ گفتگو میں سچائی،کردار میں عظمت،اور ذاتِ حق میں استغراق کی بنیاد پر آپ ’’سچل سرمست‘‘ کےلقب سےعالم میں مشہور ہوگئے‘‘۔سچل سرمست کےدادا محترم علم وفضل،تقویٰ وشرافت میں مشہور تھے۔اپنے علاقے میں علم دین عام کیا۔آپ کےجد اعلیٰ شیخ شہاب الدین بن عبدالعزیز بن عبداللہ ،فاتحِ سندھ حضرت محمد بن قاسم کےساتھ جہاد میں تشریف لائے تھے۔انہوں نے آپ کو سیوستان کاحاکم مقرر کیا،پھر وہ یہیں مقیم ہوگئے۔حضرت سچل سرمست کا سلسلہ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سےاڑتیسویں پشت میں ملتا ہے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1152ھ،مطابق 1739ء کوقصبہ درازن،ضلع خیر پور میرس سندھ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: آپ کےوالد گرامی میاں صلاح الدین علیہ الرحمہ کاان کے بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ان کی تعلیم وتربیت ان کی والدہ محترمہ اور عم بزرگوارکے زیر سایہ ہوئی۔دونوں حضرات نے ان کی تعلیم وتربیت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔بچپن میں ہی آثار ِ فطانت ظاہر تھے،چھوٹی سی عمر میں حافظ عبد اللہ قریشی علیہ الرحمہ کےپاس قرآنِ مجید حفظ کرلیا۔اس کے بعد اپنے چچا عبدالحق کے پاس علوم متداولہ کے ساتھ ساتھ تصوف و سلوک کی تکمیل کی۔

بیعت وخلافت: آپ کےچچا محترم اپنے وقت کےمتبحر عالم دین اور صاحبِ تقویٰ وکرامت بزرگ تھے،انہوں نےتکمیل سلوک کےبعد اپنےہاتھ پر بیعت کیا،اور اجازت وخلافت عطاء فرمائی۔

سیرت وخصائص:امام العارفین،سیدالعاشقین،سندالمتقین،عارف باللہ،واصل بااللہ،منصورِثانی،شاعر ِہفت زباں،حضرت عبدالوہاب فاروقی،المعروف سچل سرمست رحمۃ اللہ علیہ۔حضرت سچل سرمست علیہ الرحمہ سندھ کےاکابرین اولیاء ،اور نامور مشائخ میں سےہیں۔آپ کےعلم وفضل،تقویٰ وفضیلت،اور دینِ اسلام پر ہمیشگی،کردار میں عظمت،اخلاق ِ نبویﷺ کی بنیاد پر بےشمار غیر مسلم آپ کےدست ِ اقدس پر مسلمان ہوئے،آپ کےوجود مسعود سےاسلام کوتقویت وفروغ حاصل ہوا۔

حضرت حافظ سچل سرمست رحمہ اللہ کو شیخ فرید الدین عطار،حضرت شمس تبریزی، حضرت بایزید بسطامی،شیخ منصور حلاج علیہم الرحمہ وغیرہ سے غائبانہ زبردست عقیدت و محبت تھی۔ یہی سبب ہے کہ آپ نے ان بزرگوں کو اپنے کلام میں خصوصی جگہ دی ہے۔ اپنے جوانی کے ایام میں پابندی کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور اواردو وظائف میں مشغول رہتے تھے۔ جب آپ کی عمر بچاس برس کی ہوئی تو موج ومستی میں بے خود ہوجاتے تھے۔ لیکن آخر عمر تک کبھی بھی شریعت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

آپ کے متعلق یہ روایت حدتواتر کو پہنچی ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ سرتاج الشعراء حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمہ اللہ آپ کےچچا کےہاں تشریف لے گئے، حضرت سچل سرمست علیہ الرحمۃ کے چچا علامہمیاں عبدالحق آپ کو حضرت شاہ بھٹائی کی خدمت میں دعا کرانے کی غرض سے لے کر آئے حضرت شاہ صاحب نے چہرہ دیکھ کر پہچان لیا اور فرمایا: کہ ’’جو دیگ ہم نے چڑھا دی ہے اس کا ڈھکن سچل اتاریں گے‘‘۔ یعنی جو عشق الہٰی کی دیگ ہم نے چڑھائی ہے اس کا ڈھکن سچل اتاریں گے۔ حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کی پیش گوئی حقیقت بن کر سامنے آئی ۔ کہ حضرت سچل نے صرف ڈھکنا ہی نہیں اتارا بلکہ دیگ میں سے بانٹتے بھی رہے۔(تذکرہ اولیاء سندھ:234/سچل سرمست:9)

آپ کا قدردرمیانہ رنگ گندمی ، پیشانی کشادہ اور خوب صورت خدوخال تھے۔ سر کے بال بہت لمبے ہوتے تھےسر پر ہمیشہ سبز رنگ کی ٹوپی رکھتے تھے۔ سفید دھوتی پہنتے ، عالم مستی میں اکثر ننگے پاؤں پھرا کرتے تھے ہاتھ میں ہمیشہ لمبی لکڑی رہتی تھی۔ بہت کم سوتے ، کم کھاتے زیادہ تر روزہ رکھتے ، اکثر لکڑی کی چوکی پر مراقبہ کی حالت میں بیٹھے رہتے۔بہت رحم دل اور سخی تھے۔ شریعت کے سختی سے پابند تھے۔ پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے تھے۔ بعض اوقات مستی میں اونچی آواز میں کلام پڑھتے ۔اپنا بہت سا کلام دریا برد کرا دیا تاکہ کہیں لوگ اس کے مطلب کوغلط رنگ دےکر راہ حق سے بھٹک نہ جائیں، بہت زیادہ تعداد میں آپ کے مرید تھے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی آپ کے عقیدت مند تھے۔ آپ کو مختلف زبانوں پر دسترس حاصل تھی آپ کو شاعر ہفت زبان بھی کہا جاتا ہے۔(ایضا:)

حضرت حافظ عبدالوہاب سچل سرمست نے سندھی سرائیکی اور اردو میں کلام فرمایا ہے، دیوان آشکار،سوزنامہ،گداز نامہ،عشق نامہ، آپ کے کلام کے مجموعے ہیں۔ آپ کبھی مستی و جذب کی حالت میں بے ساختہ حضرت منصور حلاج، عطار اور تبریزی کی طرح شطحیات کلام بھی کہہ جاتے تھے۔ آپ کا پورا کلام سوز،گداز، درد اور غم سے بھرا ہوا ہے۔شاعر ہفت زباں حضرت سچل سرمست کا کلام بھی حق و صداقت،خلوص و محبت،ایثارو قربانی،ہمدردی و رواداری،عدل و احسان اور اخوت و م
1
ساوات کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے نہ صرف سندھی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا بلکہ وہ اردو فارسی،سرائیکی اور ہندی کے بھی ممتاز شاعر تھے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت سچل سرمست کو فکری بلندی،اور عشقِ خداوندی کی بدولت منصور ِ ثانی کہاجائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔

تاریخِ وصال: آپ کا وصال باکمال 14/رمضان المبارک 1242ھ،مطابق اپریل/1827ء کو’’خیر پور میرس‘‘ میں ہوا۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے سندھ۔حضرت سچل سر مست۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-abdul-wahab-sachal-sarmast
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مفتی محمد سعد اللہ مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی:مولانا مفتی محمد سعدا للہ مرادآبادی/رام پوری۔تلخص: آشفتہ۔لقب: جامع العلوم،امام العلماء،مرجع الفضلاء،قاضی الوقت۔والد کا اسم گرامی: مولانا نظام الدین علیہ الرحمہ۔شیخ قوم سے تعلق تھا۔آپ کے والدگرامی اپنے وقت کےجید عالم وعارف تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور:151)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 17/رجب المرجب 1219ھ،مطابق اکتوبر/1804ء کو’’محلہ کسرول،مولسری والی مسجد کےعقب میں اپنےموروثی مکان،مرادآباد(انڈیا) میں ہوئی‘‘۔(ایضا :151)۔تاریخِ پیدائش لفظ ِ ’’ظہورِ حق‘‘اور ’’بیدار بخت‘‘ سےنکلتی ہے۔(تذکرہ علمائے ہند:197)

تحصیلِ علم: آپ کے والد گرامی مولانا نظام الدین کا بچپن میں انتقال ہوگیا،بڑے بھائی نے تربیت و تعلیم دی،بھاوج کی معمولی شکایت پر بھائی نے ایسی سختی کی کہ گھر سے چلے گئے،اور حصول ِعلم کے لئےمختلف شہروں کی خاک چھانی،نجیب آباد میں مولانا عبدالرحمن قہستانی سے شرح جامی پڑھی،اخوند شیر محمد ولائتی،مولانامحمد حیات پنجابی،سےمختلف علوم حاصل کیے۔ ان کے اساتذہ میں بڑے بڑے نام ہیں:مولانا شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی،مولانا شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی،مولانا مفتی صدر الدین آزردہ،مولانا ظہور اللہ فرنگی محلی،مرزا محمد ہاشم محدث لکھنوی،مولانا حسن لکھنوی(تلمیذ شاہ ولی اللہ دہلوی)،وغیرہ بزرگوں سے تعلیم پائی۔1243ھ میں فارغ التحصیل ہوئے۔فراغت کے بعد گھر والوں کو خبر کی، 1250ھ میں گھر آئے۔آپ نےتحصیل علم میں ایسا کمال حاصل کیا کہ اس وقت کےجید علماء وفضلاء میں شامل ہونے لگے۔

بیعت وخلافت: عارف باللہ حضرت شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی علیہ الرحمہ سےبیعت ہوئے۔

سیرت وخصائص: امام العلماء،مرجع الفضلاء،جامع علوم ِ عقلیہ ونقلیہ،مرج البحرین،مرجع الفریقین،عارف اسرار ربانی حضرت علامہ مولانا مفتی محمد سعد اللہ مرادآبادی ثم رام پوری علیہ الرحمہ۔مفتی صاحب علیہ الرحمہ تیرہویں صدی ہجری کےجیداور عظیم عالم ِدین وفقیہ تھے۔عالمِ اجل،شیخِ فاضل،ادیب اریب،منطقی،اصولی منقول و معقول کےامام تھے۔فقہ،عربی وفارسی ادب میں فرید العصر تھے۔

تحصیل علم کےبعد مدرسہ شاہی لکھنؤ میں مدرس ہوئے،تاج اللغات ترجمہ قاموس کی بعض جلدوں کی تالیف کی،اور اس کےبعد کچہری لکھنؤ میں مفتی کےعہدے پر فائز ہوئے۔اسی عہدے پر29سال خدمات انجام دیں،اسی عرصے میں حج کی سعادت حاصل ہوئی۔وہاں شیخ جمال مکی علیہ الرحمہ سےسند حدیث حاصل کی،نواب یوسف علی خان کی التجاء پر رام پور تشریف لےگئےوہاں عہدۂ قضاء وافتاء پر فائز ہوئے۔نواب کلب علی کےزمانے تک اسی عہدے پرمقرر رہے۔

حضرت مفتی سعداللہ علیہ الرحمہ دن کو تدریس اورساری ساری رات مطالعے میں گزار دیتے تھے۔آپ کی زوجہ محترمہ مرحومہ کے بقول چھت میں ایک رسی لٹکا رکھی تھی،شب کو وہ رسی اپنے بالوں میں باندھ لیتے تھے تاکہ رات کونیند نہ آئے۔(تذکرہ کاملان رام پور:153)۔

آپ علیہ الرحمہ کو تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف میں بھی مہارتِ تامہ حاصل تھی،مختلف علوم وفنون پرکتب،رسائل،حاشیےایک سو سےزائد تحریر فرمائے ہیں۔اسی طرح عربی وفارسی ،نظم ونثر میں ایسی مہارت اس وقت ان کی جامعیت کا کوئی شخص نہیں تھا۔فارسی میں ’’آشفتہ‘‘ تخلص رکھتے تھے۔آپ کےشاگردوں میں نامی گرامی علماء کےنام آتے ہیں۔مولانا مفتی لطف اللہ رام پوری(صاحبزادہ)،مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی،مولانا ہادی علی خان لکھنوی،مولانا شاہ عبد الحق کانپوری،وغیرہ شامل ہیں۔مولانا کےکتب خانہ میں 800کتب کاذخیرہ موجود تھا۔

تاریخِ وصال: آپ کا وصال 14/رمضان المبارک 1294ھ،مطابق 23/ستمبر1877ء،بروز اتوار،داعی اجل کو لبیک کہا۔رام پور میں مزار حضرت سید عبداللہ بغدادی علیہ الرحمہ میں مدفون ہیں۔

ماخذومراجع: تذکرہ علمائے اہل سنت۔تذکرہ کاملان رام پور۔تذکرہ علمائے ہند۔حدائق الحنفیہ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-mufti-muhammad-saadullah-muradabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا ابو الشاہ محمد عبد القادرشہید رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: مولانا محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ۔کنیت: ابوالشاہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا الحاج ابو الشاہ محمد عبد القادر بن مولانا علامہ حکیم غلام محی الدین بن حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الرحیم (تلمیذ ارشد اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی )۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔

تاریخِ ولادت: 27/رجب المرجب1340ھ،مطابق 27/مارچ 1922ء کو مدینۃ الاولیاء احمد آباد شریف میں پیدا ہوئے ۔

تحصیل ِ علم: ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی اس کے بعد انجمن اسلامیہ ہائی سکول احمد سکول احمد آباد میں داخل ہوئے اور میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ 1946ء میں گجرات کالج احمد آباد سے ایف ۔اے کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا ۔انہی دنوں محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد آباد چشتی قادری،بریلی شریف سے مولوی سلطان حسن سنبھلی سے مناظرہ کرنے کے لئے احمد آباد تشریف لائے،مناظرہ میں کامیابی کے بعد وعظ و تقریرکا سلسلہ شروع ہوا ۔ چونکہ حضرت شیخ الحدیث کا قیام مولانا عبد القادر کے جدامجد کے ہاں تھا اس لئے انہیں حاضری اور خدمت کے زیادہ مواقع مہیا ہوئے۔ نگاہ ِحضرت شیخ الحدیث کا اثر یہ ہوا کہ مولانا عبدالقادر دنیاوی تعلیم کو خیر باد کہہ کر سر چشمہ علم و حکمت بریلی شریف چلے گئے۔

حضرت شیخ الحدیث نے ان کی تعلیم کا معقول انتظام کردیا۔رمضان المبارک کی تعطیلات میں اپنے استاذحضرت مولانا عبد الرشید جھنگوی (علیہ الرحمہ) کے ساتھ جھنگ چلے آئے اور جب مولانا عبد الرشید جھنگوی جامعہ نقشبندیہ علی پور سیداں تشریف لے گئے تو بھی مولانا ان کے ہمراہ تھے، دو سال بعد مولانا عبد القادر پھر بریلی تشریف لے گئے تو بھی مولانا ان کے ہمراہ تھے، دو سال بعد مولانا عبد القادر پھر بریلی تشریف لے گئے اور مولانا علامہ وقار الدین اور حضرت محدث اعظم سے معقول و منقول کی کتابوں کا درس لیا۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت محدث اعظم کے ہمراہ پاکستان چلے آئے اور تحصیل علم کے لئے کچھ عرصہ سر گودھا اور شر قپور رہے ۔جب حضرت محدث اعظم پاکستان نے محلہ سنت پورہ لائل پور(فیصل آباد) میں دورۂ حدیث کا اجراءفرمایا تو مولانا عبد القادر بھی درس حدیث میں شریک ہوئے اور شعبان المعظم 1369ھ/1950ء میں سند فراغت حاصل فرمائی۔

بیعت وخلافت: حضرت محدث اعظم پاکستان شیخ الحدیث مولانا سردار احمد قادری علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف ہوئے۔

سیرت وخصائص: استاذالعلماء،سندالاصفیاء،فیض یافتہ حضور محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ،محسن اہل سنت،مجاہد اہل سنت،حضرت علامہ مولانا ابوالشاہ محمد عبد القادر شہید رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ علیہ الرحمہ نے ابتداءً دنیاوی تعلیم حاصل کی اور حضرت محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ کی نگاہ ِ فیض اثر سےمتأثر ہو کرعلوم دینیہ کی طرف متوجہ ہوئے۔بریلی شریف کےمنظر اسلام میں چشمۂ صافی سےسیراب ہونے کاقدرت نےموقع عطا کیا۔فیضانِ اعلیٰ حضرت سےخوب مستفیض ہوئے،منظر اسلام کا روح پرور ماحول اورمحدث اعظم پاکستان کی تربیت نےایسا دینی جذبہ عطا کیاکہ پھر تادم زیست دین متین کےکاموں میں ایسے مصروف ہوئےجس کی فی زمانہ نظیرملنامشکل ہے۔ حضرت محدث اعظم نے جامعہ رضویہ کی بنیاد رکھی تو آپ کے مخلص احباب کی جماعت میں مولانا عبد القادر بھی تھے شاہی مسجد کی امامت اور جامعہ رضویہ کی نظامت کو اس خوبی سے نبھایا کہ باید و شاید سنی رضوی جامع مسجد کا لینٹر ڈالا گیا تو دوسرے علماء کے ساتھ مولانا عبد القادر بھی سیمنٹ سر پر اٹھا کر شریک کار رہے۔

مولانا عبد القادر کے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ دو سال تک پتو کی منڈی ضلع لاہورجمعہ پڑھانے کے لئےتشریف لے جاتے رہے لیکن کبھی اپنی ذات کے لئےکرائے تک کا مطالبہ نہ کیا ۔ مولانا بہترین مدرس،سلجھے ہوئے مقرر اور بلند مرتبہ منتظم تھے،جلد سازی کے فن سے بھی نجوبی آگاہ تھے،حضرت محدث اعظم کی قابل قدر خدمات انجام دی تھیں، حضرت محدث اعظم کی وصیت کے مطابق فیصل آباد میں آپ کی نماز جنازہ مولانا عبد القادر نے ہی پڑھائی تھی۔فیصل آباد میں عارضی طور پر کار خانہ بازار میں کرائے کے مکان میں جامعہ قادریہ کے نام سے 30اگست 1963ء کو ایک درس گاہ کا اجراء کیا گیا بعد ازاں مصطفی آباد سر گودھا روڈ فیصل آباد میں 77 مرلے زمین لے کر جامعہ قادریہ اور جامع طیبہ کاسنگ بنیاد رکھا گیا۔

14رمضان المبارک ( 1383ھ/1963ء) کو آپ کارخانہ بازار جامعہ قادریہ میں نماز ظہر پڑھانے تشریف لائے۔ آپ نے جامعہ کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ ایک شقی القلب نے پیچھے سے آکر چاقو کے پے در پے وار کر کے شدید زخمی کردیا ۔ ڈاکٹروں نے بہت کوشش کی مگر آپ جانبر نہ ہو سکے اور جام شہادت نوش کر گئے ، دھوبی گھاٹ میں قریباً ایک لاکھ مسلمانوں نے نماز جنازہ ادا کی اور آپ کو جامع مسجد طیبہ کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ مزار پر گنبد تعمیر ہو چکا ہے اور آپ کی عظیم
1
الشان دینی یادگار جامعہ قادریہ راہ ترقی پر گامزن ہے ۔

تاریخِ وصال: 14/رمضان المبارک 1383ھ،مطابق جنوری/1964ء کووصال فرمایا۔آپ کامزار فیصل آباد میں ہے۔

ماخذومراجع: تذکرہ اکابر اہل سنت۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-alhaj-muhammad-abdul-qadir-qadri-shaheed
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1