🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-09-1444 ᴴ | 05-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-09-1444 ᴴ | 05-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
۱۴ رمضان المبارک ۱۵۳ھ میں بمقام مدینہ طیّبہ ولادت ہوئی۔ ربیع الاوّل ۱۹۸ھ میں ہوئی ـ


خلافت:
اپنے والدِ گرامی سے خلافت پائی ۔

وصال:
ماہِ ربیع الآخر ۲۱۴ھ میں بروز جمعہ وصال فرمایا ۔

مزار شریف:
مرقد پاک مدینہ منوّرہ میں ہے۔

( شریفُ التواریخ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-moosa

#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک
#یوم_وصال_ماہ_ربیع_الآخر 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/48217
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا مخدوم غلام محمد ملکانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
غلام محمد ۔ لقب: قبیلہ ملکانی بلوچ کی نسبت سے "ملکانی" کہلاتے ہیں ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 رمضان المبارک 1276ھ / مطابق اپریل 1860ء کو درگاہ ملکانی شریف ضلع دادو سندھ پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدا میں حضرت مخدوم جنید علیہ الرحمۃ کے خاندان کے اخوند عبدالکریم کے مکتب میں قرآن کریم ناظرہ پڑھا۔ اس کے بعد ایک دوسرے گوٹھ میں فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ دادو کے پرائمری اسکول میں سندھی کی سات جماعت کی تکمیل فرمائی۔اس کے بعد دینی تعلیم کی جانب رخ کیا۔ اس سلسلہ میں حضرت علامہ مولانا محمد حسن قریشی کے حیدرآباد والے مدرسہ میں داخلہ لیا اور پچیس برس کی عمر میں 1302ھ میں دستار فضیلت سے سر فراز ہوئے۔ علامہ محمد حسن علیہ الرحمہ کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی ان کے علاوہ دیگر نامور اکابر علماء سے استفادہ کیا ان میں دو نام قابل ذکر ہیں:مخدوم ملت استاد الاساتذہ، علامہ الزمان، بحر العلوم مخدوم حسن اللہ صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔استاد العلماء حضرت علامہ عطا اللہ فیروزی شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔ہمارےاکابرمیں تعلیم حاصل کرنےکایہ جذبہ تھاکہ عالم بن چکےتھے۔لیکن حفظ قرآن نہیں کیاتھا۔جب 1908ء میں پنجاب کا سفر کیا، ملتان شریف تشریف لے گئے جہاں سید القراء حضرت حافظ عبدالحکیم کے حلقہ درس میں شامل ہوئے اور چھ ماہ کے مختصر و قلیل عرصے میں قرآن پاک تجوید کے ساتھ حفظ کیا۔ اس کے بعد وطن واپس ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
1307ھ میں میں حجاز مقدس و عراق معلیٰ کا سفر کیا۔ بغداد شریف میں حضورغوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی پیران پیر دستگیر سید عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے دربار عالیہ قادریہ میں کئی روز تک فیضیاب ہوتے رہے۔ خانقاہ قادریہ کے سجادہ نشین قطب زمان حضرت پیر سید مصطفی قادری گیلانی علیہ الرحمۃ کے دست اقدست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔ مرشد کریم کی صحبت میں رہ کر سلوک طے کیا اور آخر خلافت سے نوازے گئے۔پھرحضرت خواجہ عبدالرحمن فاروقی سرہندی علیہ الرحمۃسے سلسلہ نقشبندیہ میں خلافت حاصل کی۔حضرت خواجہ صاحب کے وصال کے بعد آپ نے باطنی اشارے پر حضرت خواجہ ولی محمد کاتیاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(خانقاہ ملا کا تیار ضلع حیدرآباد)کے حلقہ میں شامل ہوئے اور سلسلہ نقشبندیہ اور سہروردیہ میں تکمیل خلافت پائی۔پیر طریقت حضرت خواجہ محمد قاسم نقشبندی قدس سرہ (دربار موہڑہ شریف تحصیل کوہ مری، اسلام آباد) سے بھی نقشبندیہ سلسلہ میں خلافت ملی۔قطب زمان، فاتح قادیانیت حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ جیلانی چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(خانقاہ گولڑہ شریف ، اسلام آباد) کے حلقہ ارادت میں شامل ہو کر سلسہ چشتیہ میں خلافت حاصل کی۔چاروں سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی لیکن آپ سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت لیتے تھے اور اسی سلسلہ کو پھیلایا۔

سیرت و خصائص:
پیر طریقت، رہبرِ شریعت، عالمِ ربانی، عاشق مصطفیٰ ﷺ، حضرت مولانا غلام محمد ملکانی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین، اور مشہور صوفی بزرگ تھے۔ساری زندگی دینِ اسلام کی تبلیغ فرمائی۔علماء حق کاساتھ دیا۔آپ کی ذات کثیرالبرکات سےخطۂ سندھ میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کوبڑافروغ حاصل ہوا۔آپ کی صحبت نےعلماء وعرفاء کی ایک جماعت پیدافرمائی۔

سیر و سیاحت:
1307ھ کومشائخ ِ پاک وہندکےمزارات کی زیارت کرتےہوئے عراق،شام سےزیارت کرتےہوئےحجازِ مقدس پہنچے،وہاں ایساسکون وراحت نصیب ہواکہ بقیہ زندگی نور مجسم،ہادی عالم،شفیع اعظم،شفیع المذنبینﷺ کے مزار پر انوار پر مدینہ منورہ میں گزارنے کا تہیہ کیا۔ اور تقریباً ڈیڑھ سال مدینہ منورہ میں رہ کر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ اس عرصے میں کبھی کبھار مکہ معظمہ بھی جاتے تھے۔ جہاں نامور علماءدین حضرت علامہ مفتی سید احمد زینی دحلان شافعی علیہ الرحمۃ (مؤلف الدر ر السنیۃ فی الرد علی الوھابیہ)اور مکہ معظمہ کی مشہور دینی درسگاہ "مدرسہ صولتیہ"کے بانی و شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کرتے۔وہاں شام کےایک عظیم عالم شیخ ابونصرعلیہ الرحمہ سےملاقات فرمائی،اوران سےبہت متأثرہوئے۔آپ فرماتے تھے:کہ میں نےشیخ ابونصرجیساعالم نہیں دیکھا،اُن کوبارہ ہزارحدیثیں یادتھیں۔
1
سیاسی خدمات:
اس زمانےمیں جتنی سیاسی تحریکیں چلیں اس میں آپ نےبھرپورحصہ لیا۔1920ءمیں جب تحریکِ خلافت کا زور ہوا تو حیدرآباد سندھ میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقدہوئی اس کانفرنس میں بڑےبڑےاکابرعلماء ومشائخ نےشرکت فرمائی ۔اس کی صدارت کےلئےآپ کی ذات گرامی کومنتخب کیاگیا۔آپ نے اس کانفرنس میں جوصدارتی خطبہ ارشادفرمایاوہ آپ کی سیاسی وعلمی بصیرت کی ایک عمدہ مثال تھا۔بعدمیں کتابی شکل میں شائع بھی ہوا۔

اسی طرح اسی زمانےایک مسئلہ ترک مولات کابھی اپنےعروج پرتھا۔بہت سےدانشوروں کاخیال تھاکہ مسلمان ہندوستان سےہجرت کرکےمسلم ممالک کی طرف چلےجائیں، اوریہ علاقے انگریز اورہندوؤں کےسپردکردیں۔آپ نےاس کی زبردست مخالفت کی اورمسلمانوں کویہیں پررہنےپرمجبورکیا۔اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کابھی یہی نظریہ تھا۔اگرخدانخواستہ ان دانشوروں کافیصلہ سادہ عوام قبول کرکےہجرت کرکےچلےجاتے توپاکستان کاخواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیرنہ ہوتا۔

شان و شوکت:
چونکہ انگریزوں کادوردورہ تھا۔اس لئے آپ اسلام کی شان وشوکت دکھانےکےکہ خاطرایک خاص اندازکےساتھ زندگی بسرکرتےتھے۔خوبصورت شاہانہ لباس اورایک شاہی تاج کی مانندایک سنہری کلاہ سرپرزیبِ تن فرماتےتھے۔جب آپ کہیں تشریف لےجاتےتو

گھوڑےاوراونٹ سواراورپیادہ لوگوں کاایک لشکرساتھ ہوتاتھا۔آگےپیچھےلوگ وردکرتےہوئےنعتیں اورنعرےلگاتےہوئے جاتےتھے۔آپ کےجلوس کودیکھ کرہندواپنی دکانیں بندکردیتےتھے،اوربہت سوں کواسلام کی دولت بھی نصیب ہوجاتی تھی۔

اس قدرعظمت وشان کےباوجودآپ میں اس قدرتواضع وانکساری تھی کہ کوئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتاخواہ امیرہو یاغریب آپ اس سےبغل گیرہوکراسےاپنےسینہ بےکینہ سےلگالیاکرتےتھے۔بعض کوتووجدکی کیفیت طاری ہوجاتی،اورذکرِ قلبی جاری ہوجاتا تھا۔آپ کےحلقۂ تدریس سے بے شمار جیدعلماء کرام پیدا ہوئے جنہوں نےدینِ متین کی خوب خدمت فرمائی ہے۔تدریس کےساتھ ساتھ آپ نےبہت عمدہ تصانیف بھی فرمائی ہیں اکثرعربی وفارسی میں ہیں۔تقریباً ساٹھ تصنیفات ہیں۔آپ شاعرانہ ذوق بھی رکھتےتھے۔کبھی بھی سندھی میں اشعارکہاکرتےتھےجورنگِ تصوف میں ڈوبےہوئےہوتےتھے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 22 جمادی الاخری 1354ھ / مطابق 22 ستمبر 1935ء بروز اتوار کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار درگاہ ملکانی شریف ضلع دادو سندھ میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ سندھ کے صوفیائے نقشبند ، ج:1 ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-makhdoom-ghulam-muhammad-malkani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قبلۂ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی:خواجہ نورمحمد ۔پیدائشی نام:بابل۔ لقب:قبلۂ عالم۔علاقہ مہار شریف کی نسبت سے"مہاروی" کہلاتے ہیں۔والد کا اسمِ گرامی:ہندال تھا۔سلسلہ نسب: خواجہ نورمحمد مہاروی بن ہندال بن طاطاربن فتح بن محمودبن مرہ بن عزیزبن داتا ۔الیٰ آخرہ۔ سلسلہ نسب مشہور عادل بادشاہ "نوشیرواں" سے ملتا ہے۔ آپ کاتعلق "قوم کھرل " سے ہے۔

تاریخِ ولادت: آپ 14/رمضان المبارک 1142ھ، بمطابق اپریل/1730ء کو موضع "چوٹالہ"(یہ جگہ مہارشریف سے تقریباً10کلومیٹرکے فاصلے پرہے۔) میں پیداہوئے۔

تحصیلِ علم: جب آپ کی عمر شریف پانچ برس کی ہوئی تو آپ کو حافظ محمدمسعود مہاروی رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس قرآن مجید پڑھنے کے لئے بٹھایا گیا،انہی سے آپ نے قرآن پاک حفظ کیا ایک دن حضرت شیخ احمد(دودی والہ )رحمہ اللہ تعالیٰ مولانا محمد مسعود کے مدرسہ میں تشریف لائے حضرت خواجہ صاحب کو دیکھا تو فرمایا:"سبحان اللہ! ایک زمانہ آئے گا کہ اس بچے کے در پر بادشاہ سر رکھیں گے۔"پھر"موضع بڈ ہیراں" تشریف لے گئے۔کچھ عرصہ بعد" موضع ببلانہ" میں شیخ احمد کھوکھر رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو کر علم حاصل کرتے رہے،بعد ازاں"ڈیرہ غازی خاں" چلے گئے اور شرح جامی تک کتابیں پڑھیں۔کچھ عرصہ بعدشیخ محکم الدین سیرانی قدس سرہ کے ساتھ لاہور تشریف لے گئے۔لاہور میں آپ کو بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن علم کے ذوق و شوق میں کبھی کمی نہ آئی۔ تکمیل علوم کے لئے دہلی تشریف لے گئے اور نواب غازی الدین خان کے مشہور مدرسہ میں داخل ہو کر حافظ بر خورد دارجی سے تعلیم حاصل کرنے لگے۔ان دنوں آپ کو پتہ چلا کہ حضرت مولانا خواجہ فخر الدین رحمہ اللہ تعالیٰ دکن سے دہلی تشریف لائے ہیں اور وہ بہت بڑے عالم ہیں،شوق علمی کشاں کشاں ان کے دربار میں لے گیا۔حضرت شاہ فخرالدین قدس سرہ نے الطاف خسروانہ سے نوازا،اگر چہ آپ ایک عرصہ سے درس و تدریس کا سلسلہ منقطع فرما چکے تھے ،مگر اس جو ہر قابل کی تکمیل کی خاطر بہ نفس نفیس پڑھانا منظور فرمالیا ۔ حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ نے پوری محنت سے اکتساب علوم کیا اور سند حدیث حاصل کی۔آپ شاہ صاحب کے تبحر علمی کو دیکھ کر حیران رہ گئے،اور بے ساختہ پکاراٹھے :"سبحان اللہ بحرِ علوم بودند "

بیعت وخلافت:آپ حضرت خواجہ فخرالدین فخرِجہاں دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر" مزار حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ" پر بیعت ہوئے،اور قطب العالم حضرت خواجہ فریدالدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف پر خلافت سے نوازے گئے۔

سیرت وخصائص:شیخ المشائخ،مخزنِ ہدایت،منبعِ کرامت،رازدار اسرارِ شریعت وطریقت وحقیقت،فخرالمتقدمین،پیشوائے متأخرین،سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے سالارِ اعظم ،قبلۂ عالم حضرت خواجہ نورمحمد مہاروی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ۔علم ، تواضع ،شفقت ،حلم وعفو، حیاءو وقار،عبادت وریاضت،زہدوتقویٰ،عفوووفا،جودوسخا،نصیحت و شفقت،الفت و مروت، بردباری،کسرنفسی اوراخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔حضرت قبلۂ عالم بلامبالغہ علم و معرفت کے ایک بحرِ بے کنار تھے۔یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ حضرت خواجہ فرید الدین گنجشکر قدس سرہ کے پنجاب میں سلسلۂ عالیہ چشتیہ کی ترویج و اشاعت میں سب سے زیادہ حصہ حضرت قبلۂ عالم کی مساعیِ جمیلہ کا ہے،دنیا کا کونسا ایسا حصہ ہے جہاں آپ کے با لواسطہ اور بلا واسطہ مریدین اور نیاز مند نہیں ہیں،آپ کے خلفاء کاملین کا حلقہ بہت وسیع ہے۔

حدیقۃ الاخیار میں ہے: کہ حضرت خواجہ صاحب وضو کرتے وقت پانی بہت ہی احتیاط سے استعمال فرماتے تھے ۔ ہمیشہ وضو خود کرتے ، کسی سے مدد نہ لیتے۔ ہر وضو کے ساتھ مسواک ضرور فرماتے۔ وضو کے بعد تولیہ استعال کرتے۔ ظہر اور عشاء کے وضو کے بعد ریش مبارک میں شانہ فرماتے ۔ شانہ کرتے وقت سورہ الم نشرح پڑھتے اور فرماتے:یہ فراخیِ رزق کےلیے بہت مفید ہے۔نماز ہمیشہ با جماعت ادا فرماتے اور تعدیل ارکان اور آداب نماز کا بہت خیال رکھتے۔ حتٰی کہ مستحب بھی ترک نہ کرتے تھے۔ بعد نماز عشاء ہمیشہ سرمہ لگاتے۔ تین سلائی ایک آنکھ میں اور تین سلائی دوسری آنکھ میں ،کھانا کم کھاتے تھے۔ اکثر گندم کی روٹی شور بے کے ساتھ کھاتے تھے ۔مونگ کی دال اور شلغم بھی پسند کرتے۔ ہر لقمہ پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے تھے۔دن کو روٹی پر گھی ڈالکر چھاچھہ سے کھاتے ۔ دودھ نصف کٹورہ سے زیادہ نہ پیتے تھے ۔ فرمایا کرتے تھے کہ قلت طعام، قلت کلام اورصحیح گفتگو انسان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ کھانے سے فارغ ہوکر ہاتھ دھرتے اور تولیہ سے صاف کرتے۔ دانتوں کا خلال کرتے اور دعا پڑھتے۔ ہمیشہ سادہ لباس زیب تن فرماتے۔سر پر کلاہ قادری، جس کے کنارے پر مغزی لگی ہوتی تھی پہنتے تھے۔ سفر میں دستار باندھتے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے میرے شیخ سے فرمان ہوا تھا کہ لباس اور غذا لطیف استعمال کرنا۔

تمام لوگو
1
ں کی عرض بڑی توجہ سے سنتے ،ہرسائل کوجواب دیتے،ہرایک کی دلجوئی کرتے،بے کسوں پر شفقت فرماتے،اقرباء سے حسن سلوک کرتے،علماء وساداتِ کرام کی بہت عزت کرتے،آپ کے لنگر سے ہرغریب ومسکین کوکھانا ملتا تھا۔آپ کافیض امیر وغریب ہرقسم کے افراد کیلئے یکساں تھا،بلکہ غریبوں پر زیادہ کرم فرماتے تھے۔

علم دوستی کا یہ عالم تھا: کہ مطالعہ بہت کرتے تھے،لوائح،نفحات الانس،فقرات،شرح لمعات،اور فصوص الحکم اکثرمطالعے میں رہتیں تھیں۔

غوثِ زماں خواجہ شاہ محمد سلیماں تونسوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص آپ کے دست اقدس پر بیعت ہوتا اس کے ظاہر و باطن میں حیرت انگیز انقلاب برپا ہو جاتا تھا، اور اس کی دنیا بدل جاتی تھی۔حضرت خواجہ فخرِ جہاں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: اگر یہ پنجابی میرے پاس نہ آتا تو میں اس دنیا سے اپنے ارمان اپنے دل میں ہی لے کر چلاجاتا۔(بہارِ چشت:131)

آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ تمام معاملات میں سنتِ مصطفیٰﷺ کالحاظ بہت تھا۔آپ فرماتے تھے: جوفعل خلاف سنت ہووہ مردود ہے۔

چونکہ ہر معاملہ میں سنت نبوی کا خیال رکھتے تھے اس لیے عمر شریف بھی سنت کے مطابق تریسٹھ برس پائی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

وصال:آپ کاوصال 3/ذوالحجہ 1205ھ،بمطابق جولائی/1792ءکوہوا۔آپ کامزارپرانوارچشتیاں شریف(ضلع بہاول نگر،پنجاب،پاکستان)میں مرجعِ خاص وعام ہے۔

ماخذومراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت۔ تذکرہ اولیائے پاکستان۔ماہنامہ ضیائے حرم۔بہارِ چشت۔

https://scholars.pk/ur/scholar/qibla-e-aalam-hazrat-khawaja-noor-muhammad-maharvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
نعمان ثانی حضرت علامہ مخدوم عبدالواحد سیو ہانی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: علامہ مخدوم عبدا لواحد ۔لقب:علمی فقاہت وثقاہت کی بنیاد پر’’نعمان ثانی‘‘اور علاقہ سیہون شریف کی نسبت سے’’سیوہانی/سیستانی‘‘اور میاں محمد احسان کےنام سے بھی معروف ہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: علامہ مخدوم عبدالواحدسیوہانی بن شیخ الاسلام حضرت علامہ مخدوم دین محمد صدیقی بن مفتی اعظم سندھ مخدوم عبدالواحد کبیر صدیقی بن عبدالرحمن بن مولانا محمود السہروردی بن مولانا شیخ عیسیٰ ثانی بن مخدوم حسن قاری بن شیخ شہراللہ رمضان بن مسیح الاولیاء شیخ عیسیٰ جنداللہ بن شیخ قاسم بن شیخ الاسلام یوسف سندھی بن شیخ رکن الدین شیخ معروف پاٹائی بن شیخ شہاب الدین سندھی بن مسیح الاولیاء شیخ عیسیٰ عین المعانی (یہ پاٹ شہر کےبانی تھے) بن نورالدین بن شیخ سراج الدین بن شیخ وحید الدین بن شیخ مسعود بن رضی الدین بن شیخ قاسم بن محمد معرف بہ عمادالدین بن شیخ ابوحفص عمر بن شہاب الدین سہروردی ،جو خلیفۂ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سےتھے۔رحمھم اللہ تعالیٰ ۔(فقہاء سندھ کی علمی خدمات:164)

مخدوم صاحب علیہ الرحمہ کا خاندان ایک علمی وروحانی خاندان تھا۔آپ کےوالد گرامی اور جد امجداپنے وقت کےعظیم عالم اور داعیِ دینِ مصطفیٰﷺ تھے۔سندھ کےمشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ سےگہرے مراسم اوردوستانہ تعلقات تھے۔اس وقت کاحاکمِ سندھ نورمحمد کلہوڑوخاص معتقدین میں سے تھا۔(سندھ کے صوفیاء نقشبند:482)۔قاضی دین محمد صدیقی علیہ الرحمہ کلہوڑہ دورِ حکومت میں وزیر مذہبی امورتھے۔(فقہائے سندھ کی علمی خدمات:164)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1150ھ،مطابق 1738ء کوسیہون شریف سندھ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: جس وقت حضرت مخدوم کی ولادت اس وقت سیہون شریف علم وفن کاعظیم مرکزتھا،دور درازسےطالبان ِ علم اپنی علمی پیاس بجھاتےتھے۔بڑے بڑے علماء وفضلاء اس شہر میں جلوہ گر تھے،اور خود آپ کا خاندان بھی علماء وصوفیاء سےبھراہواتھا۔آپ کےوالدِگرامی کاعلمی دنیا میں ایک مقام تھا۔ایسےپرنور ماحول اور حضرت لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ کی درگاہ میںاپنےوالدِ گرامی کی زیرنگرانی ابتداء ہوئی اور انہیں سےتکمیل فرمائی۔ شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی علیہ الرحمہ کےوصال کےوقت آپ نوجوان تھے،اورآپ کی عمر مبارک اس وقت صرف 25برس تھی۔ان کےبعد فن تحریر اور فقہ میں اپنی مثال آپ تھے۔

بیعت وخلافت: تحصیل علم کے بعد وقت کے نامو ر شیخ ِطریقت عارف باللہ حضرت خواجہ صفی اللہ مجددی قند ھاری رحمتہ اللہ علیہ کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ)۔آپ کی بیعت واقعہ بھی بڑا عجیب ہےکہ جب حضرت خواجہ صفی اللہ مجددی حج کے ارادے سے سیہون شریف میں منزل انداز ہوئے تو خواب میں امیر المومنین حضرت سید نا ابو بکر صدیق کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ آپ نے فرمایا: ’’صفی اللہ ! میرے بیٹے عبدالواحد کو اپنے سلسلہ میں داخل فرمائیں۔ جب صبح ہوئی خواجہ صاحب نے مخدوم صاحب سے ملاقات کر کے انہیں خواب سنایا اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل کیا‘‘۔(ایضاً)

سیرت وخصائص: فقیہ اعظم سندھ،مفتیِ اعظم سندھ،جامع العلوم،بحرالعلوم،عارف باللہ ،شیخ الاسلام،نعمانِ ثانی حضرت علامہ مولانا عبدالواحد سیوہانی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ سندھ کےنامور عالم،اور مشہورفقیہ،محقق ومدقق،مفتی ومتقی،صوفیِ باصفا اور صاحبِ کشف وکرامت بزرگ تھے۔آپ خاندانِ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےروشن چراغ تھے۔تمام علوم میں باالعموم اور فقہ حنفی میں باالخصوص بلند مقام حاصل تھا ۔ سینکڑ وں مسائل آپ کی تحقیقات کا انمول خزانہ ہیں ۔ آپ اپنے وقت میں اہل سنت و جماعت کے امام اور مرجع علماء تھے۔آپ کی تحریر ات نادرہ اورنایاب فتاویٰ کو آپ کے شاگرد ارشد مولانا محمد افضل صاحب نے جمع کیا اس مجموعہ کا نام ’’ جمع المسائل علی حسب النوازل ‘‘ تجویز ہوا جو کہ تین جلدوں پر مشتمل ہے اور انہیں ’’ بیا ض واحدی ‘‘ کے نام سے شہرت حاصل ہے ۔ ( تذکرۃمشاہیر سندھ )

مخدوم صاحب علیہ الرحمہ صحیح العقیدہ سنی عالم دین تھے۔ہر قسم کےگمراہ اور باطل فرقوں کےنظریات کا شدت سے رد فرماتےتھے۔فتنہ ٔ وہابیہ دجالیہ اس وقت ہندوستان میں نیا نیا وارد ہواتھا،اور سندھ میں رافضی بھی تھے،آپ نےاپنے فتاویٰ میں ان دونوں کا دلائل ِ شرعیہ سےرد فرمایا۔اسی طرح آپ علیہ الرحمہ عاشقِ صادق،اور خوش مزاج شخصیت کے حامل تھے۔میلاد شریف میں خوش الحانی کےبارے میں کسی نےسوال کیا کہ آیا اس طرح خوش الحانی میں مولود شریف پڑھناجائز ہے یا نہیں؟۔

اس کےجواب میں آپ نےارشاد فرمایا:’’ الظاہر ان انشاء المولود بالاصوات المطرب من مستحسنات اہل المحبۃ والالتذاذ بسماع اسمہ الشریف من علامۃ المحبۃ ۔قال فی مواہب اللدنیہ محبتہ ﷺ ان یتلذذ بذکرہ الشریف،الخ ‘‘۔(سندھ کے صوفیاء نقشبند:484)

یعنی آپ کے عقیدہ اور مسلک میں میلاد شریف کاخوش الح
1👍1