حضرت مولانا محمد عمر رام پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عمر رام پوری ۔ تلخص: صولت ۔ لقب: امام المناظرین، فصیح الکلام ۔
سیرت و خصائص:
عالم فاضل،جامع معقول و منقول،ذکی،فہیم،مناظر، اصولی،جد لی،غالب،حضرت علامہ مولانا محمد عمر رامپوری علیہ الرحمہ ۔آپ علیہ الرحمہ اپنےوقت کےاہلسنت وجماعت کےجید عالم اور عظیم مناظر تھے،بالخصوص غیر مقلدین وہابیہ پر سیف بے نیام تھے۔ان کا مناظرہ کئی گھنٹوں پر مشتمل نہیں ہوتا تھا،جیساکہ فی زمانہ ہے بلکہ ابتدائی مرحلے میں فریقِ مخالف کوساکت ومبہوت کردیتے تھے۔غیر مقلدین ان کا نام سن کر ہی بھاگ جاتےتھے ۔ (تذکرہ علمائے ہند:390)
صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں: عربی و فارسی میں فصیح و بلیغ اشعار کہتے تھے۔وعظ میں ایسی عبارت مقفٰی و مسجع بولتے کہ باعث استعجاب اہل علم ہوتا تھا ،اور مناظرہ میں وہ خدا دادا ملکہ تھا کہ غیر مقلدین کو پہلے ہی مرحلہ میں ساکت کردیتے تھے جن کے ہنگام تکلم پہ یہ شعر صادق آتا تھا۔
؏:
اک بات میں تمام ہے یاں کار مدعی
کس کی بلا ہو بارکشِ امتنانِ تیغ
عینی شرح ہدایہ پر حواشی آپ کے یادگار ہیں، اور نیز ایک رسالہ’’طنطنۂ صولت ‘‘سماع کے باب میں اور ایک رسالہ’’ عشرہ مبشرہ‘‘ ان دس سوالوں کے جواب میں تصنیف کیا جو مولوی محمد حسین لاہوری امام غیر مقلدنے مشتہر کیے تھے اور علمائے اہلِ اسلام عرب و عجم و خراسان و عراق و ہندوستان وغیرہ سے ان کے جواب چاہے تھے پس فاضل مبرور نے ایک ایک سوال کے متعدد جواب اس خوبی و صراحت سے دیے کہ صاحبان ذی علم وانصاف منش پر اظہر من الشمس ہیں ۔ (حدائق الحنفیہ:507) ـ
تاریخِ وصال:
افسوس عین عالمِ شباب یعنی چھتیس سال کی عمر میں 13 رمضان المبارک 1295ھ، مطابق ماہ ستمبر 1878ء کو دہلی میں اس فاضلِ جلیل کا انتقال ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-muhammad-umar-rampuri
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عمر رام پوری ۔ تلخص: صولت ۔ لقب: امام المناظرین، فصیح الکلام ۔
سیرت و خصائص:
عالم فاضل،جامع معقول و منقول،ذکی،فہیم،مناظر، اصولی،جد لی،غالب،حضرت علامہ مولانا محمد عمر رامپوری علیہ الرحمہ ۔آپ علیہ الرحمہ اپنےوقت کےاہلسنت وجماعت کےجید عالم اور عظیم مناظر تھے،بالخصوص غیر مقلدین وہابیہ پر سیف بے نیام تھے۔ان کا مناظرہ کئی گھنٹوں پر مشتمل نہیں ہوتا تھا،جیساکہ فی زمانہ ہے بلکہ ابتدائی مرحلے میں فریقِ مخالف کوساکت ومبہوت کردیتے تھے۔غیر مقلدین ان کا نام سن کر ہی بھاگ جاتےتھے ۔ (تذکرہ علمائے ہند:390)
صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں: عربی و فارسی میں فصیح و بلیغ اشعار کہتے تھے۔وعظ میں ایسی عبارت مقفٰی و مسجع بولتے کہ باعث استعجاب اہل علم ہوتا تھا ،اور مناظرہ میں وہ خدا دادا ملکہ تھا کہ غیر مقلدین کو پہلے ہی مرحلہ میں ساکت کردیتے تھے جن کے ہنگام تکلم پہ یہ شعر صادق آتا تھا۔
؏:
اک بات میں تمام ہے یاں کار مدعی
کس کی بلا ہو بارکشِ امتنانِ تیغ
عینی شرح ہدایہ پر حواشی آپ کے یادگار ہیں، اور نیز ایک رسالہ’’طنطنۂ صولت ‘‘سماع کے باب میں اور ایک رسالہ’’ عشرہ مبشرہ‘‘ ان دس سوالوں کے جواب میں تصنیف کیا جو مولوی محمد حسین لاہوری امام غیر مقلدنے مشتہر کیے تھے اور علمائے اہلِ اسلام عرب و عجم و خراسان و عراق و ہندوستان وغیرہ سے ان کے جواب چاہے تھے پس فاضل مبرور نے ایک ایک سوال کے متعدد جواب اس خوبی و صراحت سے دیے کہ صاحبان ذی علم وانصاف منش پر اظہر من الشمس ہیں ۔ (حدائق الحنفیہ:507) ـ
تاریخِ وصال:
افسوس عین عالمِ شباب یعنی چھتیس سال کی عمر میں 13 رمضان المبارک 1295ھ، مطابق ماہ ستمبر 1878ء کو دہلی میں اس فاضلِ جلیل کا انتقال ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-muhammad-umar-rampuri
scholars.pk
Hazrat Molvi Muhammad Umar Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔لقب:زبدۃ الموحدین۔بچھراؤں ضلع مراد آباد کے ساکن حضرت مخدوم دائم الحضوری شاہ عبدالغفور صاحب اعظم پوری خلیفہ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہما آپ کی آٹھویں پشت کے بزرگ ہیں۔آپ کے نانا حضرت شاہ مقبول عالم محب النبی حضرت مولانا شاہ محمد فخر الدین فخر جہاں چشتی دہلوی کے خلیفہ ، اور حضرت فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ کی اولاد سے تھے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی درسیات کی تعلیم گھر پر حاصل کی،بعدہٗ رام پور میں حضرت مولانا مفتی شرف الدین سے اور لکھنؤ میں حضرت مولانامرزا حسن علی محدث سے اخذِ علوم کیا۔اپنے وقت کےجیدعالم اور عارف بااللہ صوفی تھے۔
بیعت و خلافت:
حضرت رئیس الموحدین، واقف اسرار قاب قوسین مولانا سید شاہ عبدالرحمٰن صوفی قدس سرہٗ سے مرید ہوئے اجازت وخلافت پائی اور حریم راز کے مَحَرم ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عالم، فاضل، عارف، فلسفی، زبدۃ الموحدین حضرت علامہ مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم اور نامور صوفی تھے۔انتہائی نفیس طبیعت کےمالک اوراپنےوقت کی قدر کرنے والےبزرگ تھے۔تصنیف وتالیف ،وعظ ونصیحت،ذکر واذکار،دینی یا دنیاوی کام میں مصروف نظر آتےتھے۔
مولانا شاہ نور اللہ فریدی علیہ الرحمہ کو اپنےمرشد علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک خاص مقام اور اثر ورسوخ حاصل تھا۔آپ شاہ عبدالرحمن کےمحرم راز تھے۔اپنے مرشد کی خدمت گزاری،اور ان عشق کی حد تک محبت تھی،آپ فنا فی المرشد کےمقام پر فائز تھے۔پھر ایسا تماثل پیدا ہوا کہ جب آپ مسئلہ وحدۃ الوجود پر کلام فرماتے،توحضرت شاہ عبد الرحمن صوفی علیہ الرحمہ کےجاننے والے کہتے کہ مولانا نہیں بلکہ صوفی صاحب کلام فرما رہےہیں۔
عالی مرتبت شیخ اور جید عالم دین ہونےکےساتھ اہم حکومتی عہدوں پرفائز رہے۔غازی الدین حیدر کےزمانہ میں نوسال تک معزز عہدوں اور منصبوں پرقائم رہے،اور مخلوق ِ خداکی خدمت کرتے رہے۔عہدوں،منصبوں،اورتجارتی امورمیں مصروف رہتے ہوئے بھی اللہ جل شانہ کےذکر میں مشغول رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بایں الفاظ یاد فرمایا:
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجٰرَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الْقُلُوۡبُ وَ الْاَبْصٰرُ ﴿٭ۙ۳۷﴾ لِیَجْزِیَہُمُ اللہُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَیَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖؕ وَاللہُ یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾
ترجمہ: وہ مرد جن کو تجارت اور خریدوفروخت اللّٰہ کے ذکر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں اُلَٹ جائیں گے۔تاکہ اللّٰہ انہیں ان کے بہتر کاموں کا بدلہ دے اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا فرمائے اور اللّٰہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا فرماتا ہے۔(سورت النور:37،38)
آپ کی تصانیف بہت عمدہ ،مفید اور مقبول عام وخواص ہیں۔ ’’انوار الرحمٰن‘‘ ملفوظ مولانا سید شاہ عبدالرحمٰن۔’’ نور مطلق شرح کلمۃ الحق ‘‘یہ دونوں اکابر صوفیاء اور علماء میں مقبول و متداول ہیں۔ ھدایۃ الوھابین۔ نغمۂ عشاق فی جو از سماع (محمد اکبر بادشاہ غازی نے اس کتاب کے مطالعہ کے بعد شاہی فرمان کے ذریعے) زبدۃ الموحدین،مشیر الدولہ،محسن الملک مفتی محمد نور اللہ خاں بہادر مناظر جنگ کا’’‘خطابات‘‘ دیئے۔
تاریخِ وصال:
13/رمضان المبارک 1267ھ، مطابق ماہ جولائی/1851ءکو لکھنؤ میں وصال ہوا ۔ اپنے مرشد کے زیرِ قدم دفن کیے گئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-noorullah-faridi
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔لقب:زبدۃ الموحدین۔بچھراؤں ضلع مراد آباد کے ساکن حضرت مخدوم دائم الحضوری شاہ عبدالغفور صاحب اعظم پوری خلیفہ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہما آپ کی آٹھویں پشت کے بزرگ ہیں۔آپ کے نانا حضرت شاہ مقبول عالم محب النبی حضرت مولانا شاہ محمد فخر الدین فخر جہاں چشتی دہلوی کے خلیفہ ، اور حضرت فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ کی اولاد سے تھے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی درسیات کی تعلیم گھر پر حاصل کی،بعدہٗ رام پور میں حضرت مولانا مفتی شرف الدین سے اور لکھنؤ میں حضرت مولانامرزا حسن علی محدث سے اخذِ علوم کیا۔اپنے وقت کےجیدعالم اور عارف بااللہ صوفی تھے۔
بیعت و خلافت:
حضرت رئیس الموحدین، واقف اسرار قاب قوسین مولانا سید شاہ عبدالرحمٰن صوفی قدس سرہٗ سے مرید ہوئے اجازت وخلافت پائی اور حریم راز کے مَحَرم ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عالم، فاضل، عارف، فلسفی، زبدۃ الموحدین حضرت علامہ مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم اور نامور صوفی تھے۔انتہائی نفیس طبیعت کےمالک اوراپنےوقت کی قدر کرنے والےبزرگ تھے۔تصنیف وتالیف ،وعظ ونصیحت،ذکر واذکار،دینی یا دنیاوی کام میں مصروف نظر آتےتھے۔
مولانا شاہ نور اللہ فریدی علیہ الرحمہ کو اپنےمرشد علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک خاص مقام اور اثر ورسوخ حاصل تھا۔آپ شاہ عبدالرحمن کےمحرم راز تھے۔اپنے مرشد کی خدمت گزاری،اور ان عشق کی حد تک محبت تھی،آپ فنا فی المرشد کےمقام پر فائز تھے۔پھر ایسا تماثل پیدا ہوا کہ جب آپ مسئلہ وحدۃ الوجود پر کلام فرماتے،توحضرت شاہ عبد الرحمن صوفی علیہ الرحمہ کےجاننے والے کہتے کہ مولانا نہیں بلکہ صوفی صاحب کلام فرما رہےہیں۔
عالی مرتبت شیخ اور جید عالم دین ہونےکےساتھ اہم حکومتی عہدوں پرفائز رہے۔غازی الدین حیدر کےزمانہ میں نوسال تک معزز عہدوں اور منصبوں پرقائم رہے،اور مخلوق ِ خداکی خدمت کرتے رہے۔عہدوں،منصبوں،اورتجارتی امورمیں مصروف رہتے ہوئے بھی اللہ جل شانہ کےذکر میں مشغول رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بایں الفاظ یاد فرمایا:
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجٰرَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الْقُلُوۡبُ وَ الْاَبْصٰرُ ﴿٭ۙ۳۷﴾ لِیَجْزِیَہُمُ اللہُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَیَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖؕ وَاللہُ یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾
ترجمہ: وہ مرد جن کو تجارت اور خریدوفروخت اللّٰہ کے ذکر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں اُلَٹ جائیں گے۔تاکہ اللّٰہ انہیں ان کے بہتر کاموں کا بدلہ دے اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا فرمائے اور اللّٰہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا فرماتا ہے۔(سورت النور:37،38)
آپ کی تصانیف بہت عمدہ ،مفید اور مقبول عام وخواص ہیں۔ ’’انوار الرحمٰن‘‘ ملفوظ مولانا سید شاہ عبدالرحمٰن۔’’ نور مطلق شرح کلمۃ الحق ‘‘یہ دونوں اکابر صوفیاء اور علماء میں مقبول و متداول ہیں۔ ھدایۃ الوھابین۔ نغمۂ عشاق فی جو از سماع (محمد اکبر بادشاہ غازی نے اس کتاب کے مطالعہ کے بعد شاہی فرمان کے ذریعے) زبدۃ الموحدین،مشیر الدولہ،محسن الملک مفتی محمد نور اللہ خاں بہادر مناظر جنگ کا’’‘خطابات‘‘ دیئے۔
تاریخِ وصال:
13/رمضان المبارک 1267ھ، مطابق ماہ جولائی/1851ءکو لکھنؤ میں وصال ہوا ۔ اپنے مرشد کے زیرِ قدم دفن کیے گئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-noorullah-faridi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Noorullah Faridi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
سری سقطی، سیّدالعارفین سِرُّالدین
اسمِ گرامی: سِرُّالدِّین۔
کنیت: ابوالحسن ۔
سیّدالعارفین حضرت سِرُّالدین ’’سِری سقطی‘‘ کے نام سےمعروف ہیں۔ ’’سقطی‘‘ کا مطلب ’’پرچون فروش‘‘ کے ہیں۔آپ کی بغداد میں پرچون کی دوکان تھی۔
والدِ ماجد: آپ کے والدِ ماجد شیخ مُغَلّسْ( صبح کی نماز کو رات کے اندھیرے میں ادا کرنے والا)تھے۔
ولادت:
سیّدالعارفین حضرت سری سقطی کی ولادت 155ھ/771ءکو بغدادِ معلیٰ میں ہوئی۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص 183)
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے محلہ کے مکتب سے حاصل کی، رجوع الی التصوف کے بعد مختلف شیوخِ کرام سے علمی وروحانی استفادہ فرمایااور بالخصوص حضرت معروف کرخی ،حضرت فضیل بن عیاض،خواجہ حبیب راعی (مصاحبِ خاص حضرت سلمان فارسی) سے اکتسابِ فیض کیا، اور درجۂ کمال پر فائز ہوئے۔
اس اعتبار سے آپ تبعِ تابعی ہیں۔
سیرت وخصائص:
شیخ وقت حضرت سری سقطی سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے دسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں، آپ اہلِ تصوف کےا مام اور تمام اَصناف ِعلوم میں کمال رکھتے تھے۔ علم و ثبات کے پہاڑ اور مروت و شفقت میں یکتائے زماں تھے اور رُموز و اشارات میں یگانۂ روزگار تھے۔ حضرت فضیل ابن عیاض اور حضرت معروف کرخی کے شاگردِ رشید اور حضرت خواجہ حبیب راعی کے خاص صحبت یافتہ تھے۔ آپ تبع تابعین سے تھے۔ سب سے پہلے جس نے حقائق ومعارف کو بغداد میں عام فرمایا وہ آپ ہی ہیں،اور عراق کے بہت سے مشائخ آپ کے سلسلۂ ارادت سے منسلک تھے۔ آپ سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے ماموں اور شیخ طریقت ہیں۔
حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنے شیخ طریقت جیسا کامل کسی کو بھی نہیں دیکھا۔‘‘
حضرت بشر حافی نے فرمایا:
’’میں آپ کے سوا کسی سے سوال نہ کرتا تھا کیوں کہ میں آپ کے زہد و تقویٰ سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ جب آپ کے دستِ مبارک سے کوئی چیز باہر جاتی ہے تو آپ خوش ہوتےہیں۔‘‘
سیّد الطائفہ شیخ جنید بغدادی فرماتے ہیں:
’’میں نے کسی کو عبادت میں سری سقطی سے زیادہ کامل نہیں پایا۔ 70؍سال کامل گزر گئے لیکن سوائے بیماری اور مرض الموت کے زمین پر پہلو تک نہیں رکھا۔‘‘(نفحات الانس)
تصوف کی طرف رجحان:
آپ ابتدا میں بغداد شریف کے بازار میں پرچون کی دُکان پر بیٹھ کرتجارت کرتے تھے۔ایک دن خواجہ حبیب راعیآپ کی دکان کی طرف سے گزرے، آپ نے کچھ چیزیں ان کو پیش کیں کہ فقرا میں تقسیم کر دیں، انہوں نے فرمایا: ’’جَزَاکَ اللہ‘‘۔ اُسی روز سے آپ کے دل سےدنیا کی محبّت محو ہو گئی۔ (شریف التواریخ،ج 1، ص499)
مجاہدہ:
آپ کے برابر کسی نے ریاضت و مجاہدہ نہیں کیا، آپ فرماتے تھے کہ چالیس برس سے میرا نفس شہد کا آرزو مند ہے، مگر میں نے اس کو نہیں دیا۔(شریف التواریخ،ج1،ص501)
خلوت در انجمن:
آپ نے دُکان پر، پردہ ڈال رکھا تھا، وہاں ہر روز ایک ہزار رکعت نمازِ نفل پڑھا کرتے تھے۔ ایک روز ایک شخص آیا اور پردہ اٹھاکر آپ کو سلام کیا، اور کہا: فلاں بزرگ نے کوہِ لبنان سے آپ کو سلام بھیجا ہے۔
فرمایا:
’’وہ پہاڑ میں قیام پذیر ہوئے ہیں؛ اِس میں تو کوئی عمدگی نہیں، مرد وہ ہے کہ بازار کے درمیان بیٹھ کر خدا سے مشغول رہے اور ایک دم اُس سے غائب نہ ہو۔‘‘(شریف التواریخ،ج1،ص501)
حج کی دعا:
شیخ علی بن عبدالحمید الغضائیری فرماتے ہیں کہ آپ نے میرے لیے دعا فرمائی۔ اِس کی برکت سے حق تعالیٰ نے مجھے چالیس حج پا پیادہ روزی کیے، جو میں حلب سے جاکر کرتا رہا۔ (شریف التواریخ،ج1،ص501)
تواضع:
آپ فرماتے تھے کہ
’’میں دن میں چند بار آئینہ دیکھتا ہوں کہ کہیں شامتِ اعمال سے میرا چہرہ سیاہ تو نہیں ہوگیا۔‘‘(شریف التواریخ،ج1،ص501)
قول و فعل میں مطابقت:
حضرت سری سقطی اپنے مشائخِ کرام کے مظہر تھے اور قول و فعل میں اُن کے نقشِ قدم پہ تھے۔
ایک مرتبہ آپ صبر کے موضو ع پر تقریر فرمانے لگے،دورانِ تقریر ایک بچھو آپ کے پاؤں میں ڈنک مارنے لگا تو لوگوں نے کہا: حضور! اس کو مار کر ہٹا دیجیے۔
اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ
’’مجھے شرم آتی ہے کہ میں جس موضوع پر تقریر کر رہا ہوں اس کے خلاف کام کروں‘‘ ( یعنی بچھو کے ڈنک کے مارنے پر بے صبری کا اظہار کروں۔) (شریف التواریخ،ج1،ص 504)
مشہور کرامت:
آپنے ایک مرتبہ ایک شرابی کو دیکھا جو نشے کی حالت میں مدہوش زمین پر گرا ہو ا تھااور اسی نشے کی حالت میں اللہ،اللہ کہہ رہا تھا ۔ آپ نے اُس کا مُنھ پانی سے صاف کیا اور فرمایا کہ اس بے خبر کو کیا خبر کہ ناپاک مُنھ سے کس ذات کا نام لے رہا ہے؟ آپ کے جانے کے بعد جب شرابی ہوش میں آیا تو لوگوں نے اسےبتایا کہ تمہاری بے ہو شی کی حالت میں تمہارے پاس حضرت سری سقطی تشریف لائے تھے اور تمہارامُنھ دھو کر چلے گئے ہیں۔شرابی یہ سن کر بہت ہی شرمندہ ہو ا اور شرم و ندامت سے رونے لگا اور نفس کو ملامت کر تے ہوئےکہنے لگا:اے بے شرم ! اب تو حضرت سری سقطی بھی تمہیں اس حالت میں دیکھ کر چلے گئے
اسمِ گرامی: سِرُّالدِّین۔
کنیت: ابوالحسن ۔
سیّدالعارفین حضرت سِرُّالدین ’’سِری سقطی‘‘ کے نام سےمعروف ہیں۔ ’’سقطی‘‘ کا مطلب ’’پرچون فروش‘‘ کے ہیں۔آپ کی بغداد میں پرچون کی دوکان تھی۔
والدِ ماجد: آپ کے والدِ ماجد شیخ مُغَلّسْ( صبح کی نماز کو رات کے اندھیرے میں ادا کرنے والا)تھے۔
ولادت:
سیّدالعارفین حضرت سری سقطی کی ولادت 155ھ/771ءکو بغدادِ معلیٰ میں ہوئی۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص 183)
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے محلہ کے مکتب سے حاصل کی، رجوع الی التصوف کے بعد مختلف شیوخِ کرام سے علمی وروحانی استفادہ فرمایااور بالخصوص حضرت معروف کرخی ،حضرت فضیل بن عیاض،خواجہ حبیب راعی (مصاحبِ خاص حضرت سلمان فارسی) سے اکتسابِ فیض کیا، اور درجۂ کمال پر فائز ہوئے۔
اس اعتبار سے آپ تبعِ تابعی ہیں۔
سیرت وخصائص:
شیخ وقت حضرت سری سقطی سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے دسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں، آپ اہلِ تصوف کےا مام اور تمام اَصناف ِعلوم میں کمال رکھتے تھے۔ علم و ثبات کے پہاڑ اور مروت و شفقت میں یکتائے زماں تھے اور رُموز و اشارات میں یگانۂ روزگار تھے۔ حضرت فضیل ابن عیاض اور حضرت معروف کرخی کے شاگردِ رشید اور حضرت خواجہ حبیب راعی کے خاص صحبت یافتہ تھے۔ آپ تبع تابعین سے تھے۔ سب سے پہلے جس نے حقائق ومعارف کو بغداد میں عام فرمایا وہ آپ ہی ہیں،اور عراق کے بہت سے مشائخ آپ کے سلسلۂ ارادت سے منسلک تھے۔ آپ سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے ماموں اور شیخ طریقت ہیں۔
حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنے شیخ طریقت جیسا کامل کسی کو بھی نہیں دیکھا۔‘‘
حضرت بشر حافی نے فرمایا:
’’میں آپ کے سوا کسی سے سوال نہ کرتا تھا کیوں کہ میں آپ کے زہد و تقویٰ سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ جب آپ کے دستِ مبارک سے کوئی چیز باہر جاتی ہے تو آپ خوش ہوتےہیں۔‘‘
سیّد الطائفہ شیخ جنید بغدادی فرماتے ہیں:
’’میں نے کسی کو عبادت میں سری سقطی سے زیادہ کامل نہیں پایا۔ 70؍سال کامل گزر گئے لیکن سوائے بیماری اور مرض الموت کے زمین پر پہلو تک نہیں رکھا۔‘‘(نفحات الانس)
تصوف کی طرف رجحان:
آپ ابتدا میں بغداد شریف کے بازار میں پرچون کی دُکان پر بیٹھ کرتجارت کرتے تھے۔ایک دن خواجہ حبیب راعیآپ کی دکان کی طرف سے گزرے، آپ نے کچھ چیزیں ان کو پیش کیں کہ فقرا میں تقسیم کر دیں، انہوں نے فرمایا: ’’جَزَاکَ اللہ‘‘۔ اُسی روز سے آپ کے دل سےدنیا کی محبّت محو ہو گئی۔ (شریف التواریخ،ج 1، ص499)
مجاہدہ:
آپ کے برابر کسی نے ریاضت و مجاہدہ نہیں کیا، آپ فرماتے تھے کہ چالیس برس سے میرا نفس شہد کا آرزو مند ہے، مگر میں نے اس کو نہیں دیا۔(شریف التواریخ،ج1،ص501)
خلوت در انجمن:
آپ نے دُکان پر، پردہ ڈال رکھا تھا، وہاں ہر روز ایک ہزار رکعت نمازِ نفل پڑھا کرتے تھے۔ ایک روز ایک شخص آیا اور پردہ اٹھاکر آپ کو سلام کیا، اور کہا: فلاں بزرگ نے کوہِ لبنان سے آپ کو سلام بھیجا ہے۔
فرمایا:
’’وہ پہاڑ میں قیام پذیر ہوئے ہیں؛ اِس میں تو کوئی عمدگی نہیں، مرد وہ ہے کہ بازار کے درمیان بیٹھ کر خدا سے مشغول رہے اور ایک دم اُس سے غائب نہ ہو۔‘‘(شریف التواریخ،ج1،ص501)
حج کی دعا:
شیخ علی بن عبدالحمید الغضائیری فرماتے ہیں کہ آپ نے میرے لیے دعا فرمائی۔ اِس کی برکت سے حق تعالیٰ نے مجھے چالیس حج پا پیادہ روزی کیے، جو میں حلب سے جاکر کرتا رہا۔ (شریف التواریخ،ج1،ص501)
تواضع:
آپ فرماتے تھے کہ
’’میں دن میں چند بار آئینہ دیکھتا ہوں کہ کہیں شامتِ اعمال سے میرا چہرہ سیاہ تو نہیں ہوگیا۔‘‘(شریف التواریخ،ج1،ص501)
قول و فعل میں مطابقت:
حضرت سری سقطی اپنے مشائخِ کرام کے مظہر تھے اور قول و فعل میں اُن کے نقشِ قدم پہ تھے۔
ایک مرتبہ آپ صبر کے موضو ع پر تقریر فرمانے لگے،دورانِ تقریر ایک بچھو آپ کے پاؤں میں ڈنک مارنے لگا تو لوگوں نے کہا: حضور! اس کو مار کر ہٹا دیجیے۔
اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ
’’مجھے شرم آتی ہے کہ میں جس موضوع پر تقریر کر رہا ہوں اس کے خلاف کام کروں‘‘ ( یعنی بچھو کے ڈنک کے مارنے پر بے صبری کا اظہار کروں۔) (شریف التواریخ،ج1،ص 504)
مشہور کرامت:
آپنے ایک مرتبہ ایک شرابی کو دیکھا جو نشے کی حالت میں مدہوش زمین پر گرا ہو ا تھااور اسی نشے کی حالت میں اللہ،اللہ کہہ رہا تھا ۔ آپ نے اُس کا مُنھ پانی سے صاف کیا اور فرمایا کہ اس بے خبر کو کیا خبر کہ ناپاک مُنھ سے کس ذات کا نام لے رہا ہے؟ آپ کے جانے کے بعد جب شرابی ہوش میں آیا تو لوگوں نے اسےبتایا کہ تمہاری بے ہو شی کی حالت میں تمہارے پاس حضرت سری سقطی تشریف لائے تھے اور تمہارامُنھ دھو کر چلے گئے ہیں۔شرابی یہ سن کر بہت ہی شرمندہ ہو ا اور شرم و ندامت سے رونے لگا اور نفس کو ملامت کر تے ہوئےکہنے لگا:اے بے شرم ! اب تو حضرت سری سقطی بھی تمہیں اس حالت میں دیکھ کر چلے گئے
❤1
ہیں۔ خدا سے ڈر اور آئندہ کے لیے توبہ کر۔
رات کوحضرت سری سقطی نے ایک ندائے غیبی سنی:
’’اے سری سقطی! تم نے ہمارے لیے شرابی کا مُنھ دھویا ہے، ہم نے تمہاری خاطر اُس کا دل دھو دیا۔‘‘
جب حضرت نمازِ تہجد کے لیے مسجد میں گئے تو اُس شرابی کو تہجد کی نماز پڑھتے ہوئے پایا۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تمہارے اندر یہ انقلاب کیسے آ گیا۔تو اس نے جواب دیا کہ آپ مجھ سے کیوں دریافت فرمارہے ہیں جب کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اِس پر آگاہ فرمادیا ہے۔(الروض الفائق،ص244)
وصالِ پُر ملال:
13؍ رمضان المبارک 253ھ/13؍ستمبر867ء، بروزمنگل، صبحِ صادق کے وقت 98برس کی عمر میں واصل باللہ ہوئے۔
مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزار شریف بغداد میں مقامِ شونیزیہ میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کے نمازِ جنازہ میں شرکت کرنےوالے تمام افرادکی مغفرت فرمادی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر)
خلفاء:
1. سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی
2. شیخ ابو الحسن نوری
3. شیخ فتح الموصلی
4. شیخ عبد اللہ احرار
5. شیخ سعید ابرار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-sirri-saqti
رات کوحضرت سری سقطی نے ایک ندائے غیبی سنی:
’’اے سری سقطی! تم نے ہمارے لیے شرابی کا مُنھ دھویا ہے، ہم نے تمہاری خاطر اُس کا دل دھو دیا۔‘‘
جب حضرت نمازِ تہجد کے لیے مسجد میں گئے تو اُس شرابی کو تہجد کی نماز پڑھتے ہوئے پایا۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تمہارے اندر یہ انقلاب کیسے آ گیا۔تو اس نے جواب دیا کہ آپ مجھ سے کیوں دریافت فرمارہے ہیں جب کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اِس پر آگاہ فرمادیا ہے۔(الروض الفائق،ص244)
وصالِ پُر ملال:
13؍ رمضان المبارک 253ھ/13؍ستمبر867ء، بروزمنگل، صبحِ صادق کے وقت 98برس کی عمر میں واصل باللہ ہوئے۔
مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزار شریف بغداد میں مقامِ شونیزیہ میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کے نمازِ جنازہ میں شرکت کرنےوالے تمام افرادکی مغفرت فرمادی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر)
خلفاء:
1. سیّد الطائفہ حضرت جنید بغدادی
2. شیخ ابو الحسن نوری
3. شیخ فتح الموصلی
4. شیخ عبد اللہ احرار
5. شیخ سعید ابرار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-sirri-saqti
scholars.pk
Hazrat Imam Sirri Saqti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-09-1444 ᴴ | 04-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-09-1444 ᴴ | 05-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1