🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-09-1444 ᴴ | 04-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-09-1444 ᴴ | 04-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت ابو عبد اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
۱۳ رمضان المبارک ۳۶۵ھ میں گیلان میں پیدا ہوئے۔
بیعت و خلافت:
۲۴ رجب المرجب ۳۸۷ھ میں اپنے والد مکرم سے بیعت ہو کر خلافت حاصل کی۔
وصال:
ربیع الاوّل ۴۷۳ھ میں وصال فرمایا اور گیلان میں دفن ہوئے ۔
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah
#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک
#یوم_وصال_ماہ_ربیع_الاول 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/48165
ولادت:
۱۳ رمضان المبارک ۳۶۵ھ میں گیلان میں پیدا ہوئے۔
بیعت و خلافت:
۲۴ رجب المرجب ۳۸۷ھ میں اپنے والد مکرم سے بیعت ہو کر خلافت حاصل کی۔
وصال:
ربیع الاوّل ۴۷۳ھ میں وصال فرمایا اور گیلان میں دفن ہوئے ۔
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah
#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک
#یوم_وصال_ماہ_ربیع_الاول 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/48165
❤1
امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حضرت مولا علی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔
خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔
سیرت و خصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے ۔ عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے، کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیر معمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اور اس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہو کر بہت بلند مقام و مرتبہ پائے گا ۔ اور ہوا ایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح و بلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے ۔ آپ کا کلام و بیان، وعظ و نصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب تو پیدا کر ہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہو جاتا ۔ اسلام کی نشر و اشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی و اخلاقی و روحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔
اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماں ﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی، جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیدا ہو چکے اور ان کی وفات بھی ہو چکی ہے ۔ لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)
وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حضرت مولا علی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔
خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔
سیرت و خصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے ۔ عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے، کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیر معمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اور اس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہو کر بہت بلند مقام و مرتبہ پائے گا ۔ اور ہوا ایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح و بلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے ۔ آپ کا کلام و بیان، وعظ و نصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب تو پیدا کر ہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہو جاتا ۔ اسلام کی نشر و اشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی و اخلاقی و روحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔
اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماں ﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی، جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیدا ہو چکے اور ان کی وفات بھی ہو چکی ہے ۔ لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)
وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
scholars.pk
Hazrat Imam Abul Qasim Muhammad Mehdi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍1
حضرت بو علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ شرف الدین ۔لقب: بو علی قلندر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر بن سالار فخر الدین زبیر بن سالار حسن بن سالار عزیز بن ابو بکر غازی بن فارس بن عبدالرحمٰن بن عبد الرحیم بن دانک بن امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ (اقتباس الانوار: 516) ۔
آپ علیہ الرحمہ پانی پت کے قدیم باشندے ہیں ۔ چنانچہ آپ کے والدین یعنی سالار فخر الدین اور بی بی حافظہ جمال کے مزارات پانی پت کے شمال کی طرف اب بھی موجود ہیں ۔ (ایضا:516)
بو علی قلندر کہلانے کی وجہ تسمیہ:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب آپ کو دریا سے باہر نکالا آپ اسی وقت سے مست الست ہو گئے، ہر وقت حالتِ جذب میں رہنے لگے، اور اسی دن سے شرف الدین بو علی قلندر کہلانے لگے ۔ (تذکرہ اولیائے پاک و ہند ص:87) ۔
( رافضی ملنگوں نے عوام میں یہ مشہور کیا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شرف الدین قلندر سے پوچھا مانگ کیا مانگتا ہے: حضرت قلندر نے عرض کیا باری تعالیٰ! مجھے مولا علی جیسا بنا دے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: علی نہیں بن سکتا ۔تجھے علی جیسا بنانے کے لئے مجھے دوسرا کعبہ بنانا پڑےگا۔لہذا تجھے ’’بو علی‘‘ بنادیتا ہوں،مولا علی کی خوشبو۔یعنی مولا علی بنانا تو آسان ؟، اور کعبہ مشکل ہے ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ تونسوی غفرلہ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 605ھ، مطابق 1209ء کو پانی پت (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اکتسابِ علم میں بہت کوشش کی ۔ حدیث، فقہ، صرف و نحو، تفسیر میں اعلیٰ قابلیت حاصل کی، عربی و فارسی زبان میں عبور حاصل تھا، آپ نے جلد ہی تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی ۔ آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہو کر رُشد و ہدایت میں مشغول ہوئے ۔مسجد قوت الاسلام میں وعظ فرماتے تھے اور یہ سلسلہ بارہ سال تک جاری رہا ۔
بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت و خلافت میں بہت اختلاف ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ مرید و خلیفہ قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی (رحمتہ اللہ علیہ) اور تعلیم یافتہ حضرت شیخ شہاب الدین کے عاشق تھے ۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ مرید و خلیفہ حضرت نجم الدین قلندر کے تھے ۔ بعض کے نزدیک آپ مرید و خلیفہ حضرت شیخ شہاب الدین عاشق خدا کے تھے، جو مرید و خلیفہ حضرت امام الدین ابدال کے تھے اور وہ مرید و خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (رحمۃ اللہ علیہ) کے تھے ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ مرید و خلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء (رحمتہ اللہ علیہ) کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کو عصر کے وقت جمنا کے کنارے بیعت سے مشرف فرمایا ۔(تذکرہ اولیائے پاک و ہند ص: 88 / اقتباس الانوار ص:517 / اخبار الاخیار ص:335)
سیرت و خصائص:
غواص بحرِ عشق ومحبت،سالار قافلۂ میخانۂ وحدت،امام العارفین،قدوۃ السالکین،عارف اسرارِ رحمانی،واصل انوار ربانی،حضرت شیخ شرف الدین بوعلی قلندر رحمۃ اللہ علیہ۔حضرت بو علی قلندر علیہ الرحمہ اولیائے کبار،اور مشائخِ نامدار میں سے ہیں۔آپ علیہ الرحمہ صاحبِ کرامت وفضیلت بزرگ ہیں۔آپ خاندانی،نسبی،علمی شرافتوں اورفضیلتوں سے مالا مال تھے۔آپ کے والد گرامی اور والدہ ماجدہ صاحبِ تقویٰ وکرامت تھے۔آپ کے والدین نےآپ کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی،آپ کاشمار اس وقت کےفاضلین وواعظین میں ہونے لگا۔آپ نے تیس سال تک قطب مینار دہلی میں تدریس فرمائی۔(اقتباس الانوار:517)۔
ایک مرتبہ آپ مسجد میں لوگوں کو وعظ فرمارہےتھےکہ مسجدمیں ایک درویش آیااوربآوازبلندیہ کہہ کر چلاگیاکہ "شرف الدین جس کام کےلئےپیداہواہےاس کوبھول گیا،کب تک اس قیل وقال میں رہےگا"۔یعنی حال کی طرف کب آؤ گے۔بس اس فقیر کی صدا ایک چوٹ بن کر دل پر لگی ۔ویرانے کی طرف عبادت وریاضت میں مشغول ہوگئے،پھرطبیعت پر جذب کی کیفیت کا غلبہ ہوگیا۔جب جذب و سکر کی انتہا ہوگئی تو اپنی تمام کتابوں اور قلمی یاد داشتوں کو دریا میں پھینک دیا،اور دریا میں مصروفِ عبادت ہوگئے۔آپ ایک عرصے تک دریامیں کھڑےرہے۔پنڈلیوں کاگوشت مچھلیاں کھاگئیں۔حضرت خضر علیہ السلام سےملاقات ہوئی،اسی طرح بارہ سال گزرگئے۔
ایک روزغیب سےآواز آئی۔"شرف الدین!تیری عبادت قبول کی،مانگ کیامانگتاہے"۔دوبارہ پھرآوازآئی کہ۔"اچھاپانی سےتونکل"۔آپ نےعرض کیاکہ"خودنہیں نکلوں گاتواپنےہاتھ سےنکال"۔توحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نےاپنے ہاتھ مبارک سےآپ کودریا سےنکالا۔اس سےوجدانی کیفیت اوراستغراق میں مزید اضافہ ہوگیا۔ آخر آپ مجذوب ہوگئے اور جذب و شوق میں اس قدر مستغرق ہوئے کہ دائرہ تکلیف شرعی سے باہر ہوگئے۔۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ شرف الدین ۔لقب: بو علی قلندر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر بن سالار فخر الدین زبیر بن سالار حسن بن سالار عزیز بن ابو بکر غازی بن فارس بن عبدالرحمٰن بن عبد الرحیم بن دانک بن امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ (اقتباس الانوار: 516) ۔
آپ علیہ الرحمہ پانی پت کے قدیم باشندے ہیں ۔ چنانچہ آپ کے والدین یعنی سالار فخر الدین اور بی بی حافظہ جمال کے مزارات پانی پت کے شمال کی طرف اب بھی موجود ہیں ۔ (ایضا:516)
بو علی قلندر کہلانے کی وجہ تسمیہ:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب آپ کو دریا سے باہر نکالا آپ اسی وقت سے مست الست ہو گئے، ہر وقت حالتِ جذب میں رہنے لگے، اور اسی دن سے شرف الدین بو علی قلندر کہلانے لگے ۔ (تذکرہ اولیائے پاک و ہند ص:87) ۔
( رافضی ملنگوں نے عوام میں یہ مشہور کیا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شرف الدین قلندر سے پوچھا مانگ کیا مانگتا ہے: حضرت قلندر نے عرض کیا باری تعالیٰ! مجھے مولا علی جیسا بنا دے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: علی نہیں بن سکتا ۔تجھے علی جیسا بنانے کے لئے مجھے دوسرا کعبہ بنانا پڑےگا۔لہذا تجھے ’’بو علی‘‘ بنادیتا ہوں،مولا علی کی خوشبو۔یعنی مولا علی بنانا تو آسان ؟، اور کعبہ مشکل ہے ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ تونسوی غفرلہ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 605ھ، مطابق 1209ء کو پانی پت (ہند) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اکتسابِ علم میں بہت کوشش کی ۔ حدیث، فقہ، صرف و نحو، تفسیر میں اعلیٰ قابلیت حاصل کی، عربی و فارسی زبان میں عبور حاصل تھا، آپ نے جلد ہی تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی ۔ آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہو کر رُشد و ہدایت میں مشغول ہوئے ۔مسجد قوت الاسلام میں وعظ فرماتے تھے اور یہ سلسلہ بارہ سال تک جاری رہا ۔
بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت و خلافت میں بہت اختلاف ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ مرید و خلیفہ قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی (رحمتہ اللہ علیہ) اور تعلیم یافتہ حضرت شیخ شہاب الدین کے عاشق تھے ۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ مرید و خلیفہ حضرت نجم الدین قلندر کے تھے ۔ بعض کے نزدیک آپ مرید و خلیفہ حضرت شیخ شہاب الدین عاشق خدا کے تھے، جو مرید و خلیفہ حضرت امام الدین ابدال کے تھے اور وہ مرید و خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (رحمۃ اللہ علیہ) کے تھے ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ مرید و خلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء (رحمتہ اللہ علیہ) کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کو عصر کے وقت جمنا کے کنارے بیعت سے مشرف فرمایا ۔(تذکرہ اولیائے پاک و ہند ص: 88 / اقتباس الانوار ص:517 / اخبار الاخیار ص:335)
سیرت و خصائص:
غواص بحرِ عشق ومحبت،سالار قافلۂ میخانۂ وحدت،امام العارفین،قدوۃ السالکین،عارف اسرارِ رحمانی،واصل انوار ربانی،حضرت شیخ شرف الدین بوعلی قلندر رحمۃ اللہ علیہ۔حضرت بو علی قلندر علیہ الرحمہ اولیائے کبار،اور مشائخِ نامدار میں سے ہیں۔آپ علیہ الرحمہ صاحبِ کرامت وفضیلت بزرگ ہیں۔آپ خاندانی،نسبی،علمی شرافتوں اورفضیلتوں سے مالا مال تھے۔آپ کے والد گرامی اور والدہ ماجدہ صاحبِ تقویٰ وکرامت تھے۔آپ کے والدین نےآپ کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی،آپ کاشمار اس وقت کےفاضلین وواعظین میں ہونے لگا۔آپ نے تیس سال تک قطب مینار دہلی میں تدریس فرمائی۔(اقتباس الانوار:517)۔
ایک مرتبہ آپ مسجد میں لوگوں کو وعظ فرمارہےتھےکہ مسجدمیں ایک درویش آیااوربآوازبلندیہ کہہ کر چلاگیاکہ "شرف الدین جس کام کےلئےپیداہواہےاس کوبھول گیا،کب تک اس قیل وقال میں رہےگا"۔یعنی حال کی طرف کب آؤ گے۔بس اس فقیر کی صدا ایک چوٹ بن کر دل پر لگی ۔ویرانے کی طرف عبادت وریاضت میں مشغول ہوگئے،پھرطبیعت پر جذب کی کیفیت کا غلبہ ہوگیا۔جب جذب و سکر کی انتہا ہوگئی تو اپنی تمام کتابوں اور قلمی یاد داشتوں کو دریا میں پھینک دیا،اور دریا میں مصروفِ عبادت ہوگئے۔آپ ایک عرصے تک دریامیں کھڑےرہے۔پنڈلیوں کاگوشت مچھلیاں کھاگئیں۔حضرت خضر علیہ السلام سےملاقات ہوئی،اسی طرح بارہ سال گزرگئے۔
ایک روزغیب سےآواز آئی۔"شرف الدین!تیری عبادت قبول کی،مانگ کیامانگتاہے"۔دوبارہ پھرآوازآئی کہ۔"اچھاپانی سےتونکل"۔آپ نےعرض کیاکہ"خودنہیں نکلوں گاتواپنےہاتھ سےنکال"۔توحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نےاپنے ہاتھ مبارک سےآپ کودریا سےنکالا۔اس سےوجدانی کیفیت اوراستغراق میں مزید اضافہ ہوگیا۔ آخر آپ مجذوب ہوگئے اور جذب و شوق میں اس قدر مستغرق ہوئے کہ دائرہ تکلیف شرعی سے باہر ہوگئے۔۔
شیخ محمد اکرم قدوسی صاحبِ اقتباس الانوار فرماتے ہیں: ’’حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فردِ کامل اور مظہر کل تھے اور آپ کا تفرد کلی (مکمل فرد ہونا) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے طفیل تھا کیونکہ آپ کو حضرت امیرالمومنین علی سے بلاواسطہ تربیّت حاصل ہوئی تھی۔ جس کی بدولت آپ جمیع کمالات و ولایت و خلافت ِکبریٰ پر فائز ہوئے۔اسی طرح حضرت بو علی قلندر کی نسبت اویسیہ حاصل ہوئی، اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپ کے مربی تھے۔ اس فقیر راقم الحروف کو ابتدائے سلوک میں جس قدر فیوض و برکات حضرت بوعلی قلندر سے حاصل ہوئے اگر انکو بیان کیا جائے تو ایک مستقل کتاب وجود میں آجائیگی‘‘۔(اقتباس الانوار:518)
حالتِ جذب میں احترامِ شریعت: اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حقیقی مجذوب کی علامت یہ ہے کہ حالتِ جذب میں بھی شریعتِ مصطفیٰﷺ کی مخالفت نہیں کرےگا،اور شریعتِ مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کرےگا۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت:217)۔ حضرت بو علی شاہ قلندر پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مجذوب کی پہچان دُرُود شریف سے(بھی) ہوتی ہے۔اس کے سامنے دُرُود پاک پڑھا جائے تو مُؤدَّب (یعنی با ادب)ہوجاتا ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نےتیس سال تک سخت سےسخت مجاہدےکئے۔ہروقت عبادت الٰہی میں مشغول ومستغرق رہتےتھے۔آپ پرجذب الٰہی اس درجہ غالب تھاکہ آپ کو اپنی خبرنہ تھی۔قلندرانہ روش اورمجذوب ہونےکےباوجود آپ شریعت کا بہت احترام کرتےتھے۔ایک مرتبہ ایسا ہواکہ آپ کی مونچھوں کےبال بڑھ گئےکسی کی ہمت نہ تھی کہ آپ سےکہتاکہ مونچھوں کےبال کٹوادیں۔آخرکارمولاناضیاءالدین سنامی سےرہانہ گیا۔مولاناضیاءالدین سنامیرحمتہ اللہ علیہ نےاس کو خلاف ِشرع سمجھ کرآپ کی داڑھی پکڑی اورقینچی ہاتھ میں لےکر آپ کی مونچھوں کےبال کاٹ دیے۔آپ نےکوئی اعتراض نہ کیا۔اس واقعہ کےبعدآپ اپنی داڑھی کو چوماکرتےتھےاورفرماتےتھے:"یہ شریعت محمدی ﷺ کےراستے میں پکڑی جاچکی ہے"۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:92/اقتباس الانوار:521/اخبار الاخیار:336)
آپ نےکئی کتابیں لکھی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "حکم نامہ شرف الدین"کےنام سےمشہورہے۔آپ شاعربھی تھے۔آپ کاکلام حقائق ومعارف ،ترک وتجرید،عشق ومحبت کی چاشنی میں ڈوباہوا ہے۔آپ کےخطوط مشہورہیں۔یہ خطوط آپ نے اختیارالدین کےنام تحریرفرمائےہیں۔آپ کےخطوط تصوف کابیش بہاخزانہ ہیں۔آپ کے مرید اور خلفاء کا ایک سلسلہ تھا جو برصغیر کے علاوہ عالم اسلام میں پھیلاہوا تھا۔ دہلی کے حکمران علاء الدین خلجی اور جلال الدین خلجی بھی آپ کے حلقۂ مریدین میں شامل تھے۔
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 13/رمضان المبارک 724ھ،مطابق ستمبر1324ء کوہوا۔آپ کامزار پرانوار پانی پت میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ اخبار الاخیار ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-sharfuddin-bu-ali-qalandar
حالتِ جذب میں احترامِ شریعت: اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حقیقی مجذوب کی علامت یہ ہے کہ حالتِ جذب میں بھی شریعتِ مصطفیٰﷺ کی مخالفت نہیں کرےگا،اور شریعتِ مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کرےگا۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت:217)۔ حضرت بو علی شاہ قلندر پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مجذوب کی پہچان دُرُود شریف سے(بھی) ہوتی ہے۔اس کے سامنے دُرُود پاک پڑھا جائے تو مُؤدَّب (یعنی با ادب)ہوجاتا ہے ۔
آپ علیہ الرحمہ نےتیس سال تک سخت سےسخت مجاہدےکئے۔ہروقت عبادت الٰہی میں مشغول ومستغرق رہتےتھے۔آپ پرجذب الٰہی اس درجہ غالب تھاکہ آپ کو اپنی خبرنہ تھی۔قلندرانہ روش اورمجذوب ہونےکےباوجود آپ شریعت کا بہت احترام کرتےتھے۔ایک مرتبہ ایسا ہواکہ آپ کی مونچھوں کےبال بڑھ گئےکسی کی ہمت نہ تھی کہ آپ سےکہتاکہ مونچھوں کےبال کٹوادیں۔آخرکارمولاناضیاءالدین سنامی سےرہانہ گیا۔مولاناضیاءالدین سنامیرحمتہ اللہ علیہ نےاس کو خلاف ِشرع سمجھ کرآپ کی داڑھی پکڑی اورقینچی ہاتھ میں لےکر آپ کی مونچھوں کےبال کاٹ دیے۔آپ نےکوئی اعتراض نہ کیا۔اس واقعہ کےبعدآپ اپنی داڑھی کو چوماکرتےتھےاورفرماتےتھے:"یہ شریعت محمدی ﷺ کےراستے میں پکڑی جاچکی ہے"۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:92/اقتباس الانوار:521/اخبار الاخیار:336)
آپ نےکئی کتابیں لکھی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "حکم نامہ شرف الدین"کےنام سےمشہورہے۔آپ شاعربھی تھے۔آپ کاکلام حقائق ومعارف ،ترک وتجرید،عشق ومحبت کی چاشنی میں ڈوباہوا ہے۔آپ کےخطوط مشہورہیں۔یہ خطوط آپ نے اختیارالدین کےنام تحریرفرمائےہیں۔آپ کےخطوط تصوف کابیش بہاخزانہ ہیں۔آپ کے مرید اور خلفاء کا ایک سلسلہ تھا جو برصغیر کے علاوہ عالم اسلام میں پھیلاہوا تھا۔ دہلی کے حکمران علاء الدین خلجی اور جلال الدین خلجی بھی آپ کے حلقۂ مریدین میں شامل تھے۔
تاریخِ وصال: آپ کا وصال 13/رمضان المبارک 724ھ،مطابق ستمبر1324ء کوہوا۔آپ کامزار پرانوار پانی پت میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ اخبار الاخیار ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-sharfuddin-bu-ali-qalandar
scholars.pk
Hazrat Shah Sharfuddin Bu Ali Qalandar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍1
حضرت مولانا محمد عمر رام پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عمر رام پوری ۔ تلخص: صولت ۔ لقب: امام المناظرین، فصیح الکلام ۔
سیرت و خصائص:
عالم فاضل،جامع معقول و منقول،ذکی،فہیم،مناظر، اصولی،جد لی،غالب،حضرت علامہ مولانا محمد عمر رامپوری علیہ الرحمہ ۔آپ علیہ الرحمہ اپنےوقت کےاہلسنت وجماعت کےجید عالم اور عظیم مناظر تھے،بالخصوص غیر مقلدین وہابیہ پر سیف بے نیام تھے۔ان کا مناظرہ کئی گھنٹوں پر مشتمل نہیں ہوتا تھا،جیساکہ فی زمانہ ہے بلکہ ابتدائی مرحلے میں فریقِ مخالف کوساکت ومبہوت کردیتے تھے۔غیر مقلدین ان کا نام سن کر ہی بھاگ جاتےتھے ۔ (تذکرہ علمائے ہند:390)
صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں: عربی و فارسی میں فصیح و بلیغ اشعار کہتے تھے۔وعظ میں ایسی عبارت مقفٰی و مسجع بولتے کہ باعث استعجاب اہل علم ہوتا تھا ،اور مناظرہ میں وہ خدا دادا ملکہ تھا کہ غیر مقلدین کو پہلے ہی مرحلہ میں ساکت کردیتے تھے جن کے ہنگام تکلم پہ یہ شعر صادق آتا تھا۔
؏:
اک بات میں تمام ہے یاں کار مدعی
کس کی بلا ہو بارکشِ امتنانِ تیغ
عینی شرح ہدایہ پر حواشی آپ کے یادگار ہیں، اور نیز ایک رسالہ’’طنطنۂ صولت ‘‘سماع کے باب میں اور ایک رسالہ’’ عشرہ مبشرہ‘‘ ان دس سوالوں کے جواب میں تصنیف کیا جو مولوی محمد حسین لاہوری امام غیر مقلدنے مشتہر کیے تھے اور علمائے اہلِ اسلام عرب و عجم و خراسان و عراق و ہندوستان وغیرہ سے ان کے جواب چاہے تھے پس فاضل مبرور نے ایک ایک سوال کے متعدد جواب اس خوبی و صراحت سے دیے کہ صاحبان ذی علم وانصاف منش پر اظہر من الشمس ہیں ۔ (حدائق الحنفیہ:507) ـ
تاریخِ وصال:
افسوس عین عالمِ شباب یعنی چھتیس سال کی عمر میں 13 رمضان المبارک 1295ھ، مطابق ماہ ستمبر 1878ء کو دہلی میں اس فاضلِ جلیل کا انتقال ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-muhammad-umar-rampuri
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا محمد عمر رام پوری ۔ تلخص: صولت ۔ لقب: امام المناظرین، فصیح الکلام ۔
سیرت و خصائص:
عالم فاضل،جامع معقول و منقول،ذکی،فہیم،مناظر، اصولی،جد لی،غالب،حضرت علامہ مولانا محمد عمر رامپوری علیہ الرحمہ ۔آپ علیہ الرحمہ اپنےوقت کےاہلسنت وجماعت کےجید عالم اور عظیم مناظر تھے،بالخصوص غیر مقلدین وہابیہ پر سیف بے نیام تھے۔ان کا مناظرہ کئی گھنٹوں پر مشتمل نہیں ہوتا تھا،جیساکہ فی زمانہ ہے بلکہ ابتدائی مرحلے میں فریقِ مخالف کوساکت ومبہوت کردیتے تھے۔غیر مقلدین ان کا نام سن کر ہی بھاگ جاتےتھے ۔ (تذکرہ علمائے ہند:390)
صاحبِ حدائق الحنفیہ فرماتے ہیں: عربی و فارسی میں فصیح و بلیغ اشعار کہتے تھے۔وعظ میں ایسی عبارت مقفٰی و مسجع بولتے کہ باعث استعجاب اہل علم ہوتا تھا ،اور مناظرہ میں وہ خدا دادا ملکہ تھا کہ غیر مقلدین کو پہلے ہی مرحلہ میں ساکت کردیتے تھے جن کے ہنگام تکلم پہ یہ شعر صادق آتا تھا۔
؏:
اک بات میں تمام ہے یاں کار مدعی
کس کی بلا ہو بارکشِ امتنانِ تیغ
عینی شرح ہدایہ پر حواشی آپ کے یادگار ہیں، اور نیز ایک رسالہ’’طنطنۂ صولت ‘‘سماع کے باب میں اور ایک رسالہ’’ عشرہ مبشرہ‘‘ ان دس سوالوں کے جواب میں تصنیف کیا جو مولوی محمد حسین لاہوری امام غیر مقلدنے مشتہر کیے تھے اور علمائے اہلِ اسلام عرب و عجم و خراسان و عراق و ہندوستان وغیرہ سے ان کے جواب چاہے تھے پس فاضل مبرور نے ایک ایک سوال کے متعدد جواب اس خوبی و صراحت سے دیے کہ صاحبان ذی علم وانصاف منش پر اظہر من الشمس ہیں ۔ (حدائق الحنفیہ:507) ـ
تاریخِ وصال:
افسوس عین عالمِ شباب یعنی چھتیس سال کی عمر میں 13 رمضان المبارک 1295ھ، مطابق ماہ ستمبر 1878ء کو دہلی میں اس فاضلِ جلیل کا انتقال ہوا ۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-muhammad-umar-rampuri
scholars.pk
Hazrat Molvi Muhammad Umar Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔لقب:زبدۃ الموحدین۔بچھراؤں ضلع مراد آباد کے ساکن حضرت مخدوم دائم الحضوری شاہ عبدالغفور صاحب اعظم پوری خلیفہ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہما آپ کی آٹھویں پشت کے بزرگ ہیں۔آپ کے نانا حضرت شاہ مقبول عالم محب النبی حضرت مولانا شاہ محمد فخر الدین فخر جہاں چشتی دہلوی کے خلیفہ ، اور حضرت فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ کی اولاد سے تھے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی درسیات کی تعلیم گھر پر حاصل کی،بعدہٗ رام پور میں حضرت مولانا مفتی شرف الدین سے اور لکھنؤ میں حضرت مولانامرزا حسن علی محدث سے اخذِ علوم کیا۔اپنے وقت کےجیدعالم اور عارف بااللہ صوفی تھے۔
بیعت و خلافت:
حضرت رئیس الموحدین، واقف اسرار قاب قوسین مولانا سید شاہ عبدالرحمٰن صوفی قدس سرہٗ سے مرید ہوئے اجازت وخلافت پائی اور حریم راز کے مَحَرم ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عالم، فاضل، عارف، فلسفی، زبدۃ الموحدین حضرت علامہ مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم اور نامور صوفی تھے۔انتہائی نفیس طبیعت کےمالک اوراپنےوقت کی قدر کرنے والےبزرگ تھے۔تصنیف وتالیف ،وعظ ونصیحت،ذکر واذکار،دینی یا دنیاوی کام میں مصروف نظر آتےتھے۔
مولانا شاہ نور اللہ فریدی علیہ الرحمہ کو اپنےمرشد علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک خاص مقام اور اثر ورسوخ حاصل تھا۔آپ شاہ عبدالرحمن کےمحرم راز تھے۔اپنے مرشد کی خدمت گزاری،اور ان عشق کی حد تک محبت تھی،آپ فنا فی المرشد کےمقام پر فائز تھے۔پھر ایسا تماثل پیدا ہوا کہ جب آپ مسئلہ وحدۃ الوجود پر کلام فرماتے،توحضرت شاہ عبد الرحمن صوفی علیہ الرحمہ کےجاننے والے کہتے کہ مولانا نہیں بلکہ صوفی صاحب کلام فرما رہےہیں۔
عالی مرتبت شیخ اور جید عالم دین ہونےکےساتھ اہم حکومتی عہدوں پرفائز رہے۔غازی الدین حیدر کےزمانہ میں نوسال تک معزز عہدوں اور منصبوں پرقائم رہے،اور مخلوق ِ خداکی خدمت کرتے رہے۔عہدوں،منصبوں،اورتجارتی امورمیں مصروف رہتے ہوئے بھی اللہ جل شانہ کےذکر میں مشغول رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بایں الفاظ یاد فرمایا:
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجٰرَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الْقُلُوۡبُ وَ الْاَبْصٰرُ ﴿٭ۙ۳۷﴾ لِیَجْزِیَہُمُ اللہُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَیَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖؕ وَاللہُ یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾
ترجمہ: وہ مرد جن کو تجارت اور خریدوفروخت اللّٰہ کے ذکر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں اُلَٹ جائیں گے۔تاکہ اللّٰہ انہیں ان کے بہتر کاموں کا بدلہ دے اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا فرمائے اور اللّٰہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا فرماتا ہے۔(سورت النور:37،38)
آپ کی تصانیف بہت عمدہ ،مفید اور مقبول عام وخواص ہیں۔ ’’انوار الرحمٰن‘‘ ملفوظ مولانا سید شاہ عبدالرحمٰن۔’’ نور مطلق شرح کلمۃ الحق ‘‘یہ دونوں اکابر صوفیاء اور علماء میں مقبول و متداول ہیں۔ ھدایۃ الوھابین۔ نغمۂ عشاق فی جو از سماع (محمد اکبر بادشاہ غازی نے اس کتاب کے مطالعہ کے بعد شاہی فرمان کے ذریعے) زبدۃ الموحدین،مشیر الدولہ،محسن الملک مفتی محمد نور اللہ خاں بہادر مناظر جنگ کا’’‘خطابات‘‘ دیئے۔
تاریخِ وصال:
13/رمضان المبارک 1267ھ، مطابق ماہ جولائی/1851ءکو لکھنؤ میں وصال ہوا ۔ اپنے مرشد کے زیرِ قدم دفن کیے گئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-noorullah-faridi
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔لقب:زبدۃ الموحدین۔بچھراؤں ضلع مراد آباد کے ساکن حضرت مخدوم دائم الحضوری شاہ عبدالغفور صاحب اعظم پوری خلیفہ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہما آپ کی آٹھویں پشت کے بزرگ ہیں۔آپ کے نانا حضرت شاہ مقبول عالم محب النبی حضرت مولانا شاہ محمد فخر الدین فخر جہاں چشتی دہلوی کے خلیفہ ، اور حضرت فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ کی اولاد سے تھے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی درسیات کی تعلیم گھر پر حاصل کی،بعدہٗ رام پور میں حضرت مولانا مفتی شرف الدین سے اور لکھنؤ میں حضرت مولانامرزا حسن علی محدث سے اخذِ علوم کیا۔اپنے وقت کےجیدعالم اور عارف بااللہ صوفی تھے۔
بیعت و خلافت:
حضرت رئیس الموحدین، واقف اسرار قاب قوسین مولانا سید شاہ عبدالرحمٰن صوفی قدس سرہٗ سے مرید ہوئے اجازت وخلافت پائی اور حریم راز کے مَحَرم ہوئے۔
سیرت وخصائص:
عالم، فاضل، عارف، فلسفی، زبدۃ الموحدین حضرت علامہ مولانا شاہ محمد نور اللہ فریدی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم اور نامور صوفی تھے۔انتہائی نفیس طبیعت کےمالک اوراپنےوقت کی قدر کرنے والےبزرگ تھے۔تصنیف وتالیف ،وعظ ونصیحت،ذکر واذکار،دینی یا دنیاوی کام میں مصروف نظر آتےتھے۔
مولانا شاہ نور اللہ فریدی علیہ الرحمہ کو اپنےمرشد علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک خاص مقام اور اثر ورسوخ حاصل تھا۔آپ شاہ عبدالرحمن کےمحرم راز تھے۔اپنے مرشد کی خدمت گزاری،اور ان عشق کی حد تک محبت تھی،آپ فنا فی المرشد کےمقام پر فائز تھے۔پھر ایسا تماثل پیدا ہوا کہ جب آپ مسئلہ وحدۃ الوجود پر کلام فرماتے،توحضرت شاہ عبد الرحمن صوفی علیہ الرحمہ کےجاننے والے کہتے کہ مولانا نہیں بلکہ صوفی صاحب کلام فرما رہےہیں۔
عالی مرتبت شیخ اور جید عالم دین ہونےکےساتھ اہم حکومتی عہدوں پرفائز رہے۔غازی الدین حیدر کےزمانہ میں نوسال تک معزز عہدوں اور منصبوں پرقائم رہے،اور مخلوق ِ خداکی خدمت کرتے رہے۔عہدوں،منصبوں،اورتجارتی امورمیں مصروف رہتے ہوئے بھی اللہ جل شانہ کےذکر میں مشغول رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بایں الفاظ یاد فرمایا:
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجٰرَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الْقُلُوۡبُ وَ الْاَبْصٰرُ ﴿٭ۙ۳۷﴾ لِیَجْزِیَہُمُ اللہُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَیَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖؕ وَاللہُ یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾
ترجمہ: وہ مرد جن کو تجارت اور خریدوفروخت اللّٰہ کے ذکر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں اُلَٹ جائیں گے۔تاکہ اللّٰہ انہیں ان کے بہتر کاموں کا بدلہ دے اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا فرمائے اور اللّٰہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا فرماتا ہے۔(سورت النور:37،38)
آپ کی تصانیف بہت عمدہ ،مفید اور مقبول عام وخواص ہیں۔ ’’انوار الرحمٰن‘‘ ملفوظ مولانا سید شاہ عبدالرحمٰن۔’’ نور مطلق شرح کلمۃ الحق ‘‘یہ دونوں اکابر صوفیاء اور علماء میں مقبول و متداول ہیں۔ ھدایۃ الوھابین۔ نغمۂ عشاق فی جو از سماع (محمد اکبر بادشاہ غازی نے اس کتاب کے مطالعہ کے بعد شاہی فرمان کے ذریعے) زبدۃ الموحدین،مشیر الدولہ،محسن الملک مفتی محمد نور اللہ خاں بہادر مناظر جنگ کا’’‘خطابات‘‘ دیئے۔
تاریخِ وصال:
13/رمضان المبارک 1267ھ، مطابق ماہ جولائی/1851ءکو لکھنؤ میں وصال ہوا ۔ اپنے مرشد کے زیرِ قدم دفن کیے گئے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-noorullah-faridi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Noorullah Faridi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2