🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-09-1444 ᴴ | 04-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-09-1444 ᴴ | 04-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-09-1444 ᴴ | 04-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-09-1444 ᴴ | 04-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابو عبد اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
۱۳ رمضان المبارک ۳۶۵ھ میں گیلان میں پیدا ہوئے۔

بیعت و خلافت:
۲۴ رجب المرجب ۳۸۷ھ میں اپنے والد مکرم سے بیعت ہو کر خلافت حاصل کی۔

وصال:
ربیع الاوّل ۴۷۳ھ میں وصال فرمایا اور گیلان میں دفن ہوئے ۔

( شریف التواریخ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdullah

#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک
#یوم_وصال_ماہ_ربیع_الاول 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/48165
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حضرت مولا علی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔

خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔

سیرت و خصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے ۔ عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے، کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیر معمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اور اس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہو کر بہت بلند مقام و مرتبہ پائے گا ۔ اور ہوا ایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح و بلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے ۔ آپ کا کلام و بیان، وعظ و نصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب تو پیدا کر ہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہو جاتا ۔ اسلام کی نشر و اشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی و اخلاقی و روحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔

اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماں ﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی، جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیدا ہو چکے اور ان کی وفات بھی ہو چکی ہے ۔ لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)

وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت بو علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت شاہ شرف الدین ۔لقب: بو علی قلندر ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر بن سالار فخر الدین زبیر بن سالار حسن بن سالار عزیز بن ابو بکر غازی بن فارس بن عبدالرحمٰن بن عبد الرحیم بن دانک بن امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ (اقتباس الانوار: 516) ۔

آپ علیہ الرحمہ پانی پت کے قدیم باشندے ہیں ۔ چنانچہ آپ کے والدین یعنی سالار فخر الدین اور بی بی حافظہ جمال کے مزارات پانی پت کے شمال کی طرف اب بھی موجود ہیں ۔ (ایضا:516)

بو علی قلندر کہلانے کی وجہ تسمیہ:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب آپ کو دریا سے باہر نکالا آپ اسی وقت سے مست الست ہو گئے، ہر وقت حالتِ جذب میں رہنے لگے، اور اسی دن سے شرف الدین بو علی قلندر کہلانے لگے ۔ (تذکرہ اولیائے پاک و ہند ص:87) ۔

( رافضی ملنگوں نے عوام میں یہ مشہور کیا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شرف الدین قلندر سے پوچھا مانگ کیا مانگتا ہے: حضرت قلندر نے عرض کیا باری تعالیٰ! مجھے مولا علی جیسا بنا دے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: علی نہیں بن سکتا ۔تجھے علی جیسا بنانے کے لئے مجھے دوسرا کعبہ بنانا پڑےگا۔لہذا تجھے ’’بو علی‘‘ بنادیتا ہوں،مولا علی کی خوشبو۔یعنی مولا علی بنانا تو آسان ؟، اور کعبہ مشکل ہے ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ تونسوی غفرلہ)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 605ھ، مطابق 1209ء کو پانی پت (ہند) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے اکتسابِ علم میں بہت کوشش کی ۔ حدیث، فقہ، صرف و نحو، تفسیر میں اعلیٰ قابلیت حاصل کی، عربی و فارسی زبان میں عبور حاصل تھا، آپ نے جلد ہی تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی ۔ آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہو کر رُشد و ہدایت میں مشغول ہوئے ۔مسجد قوت الاسلام میں وعظ فرماتے تھے اور یہ سلسلہ بارہ سال تک جاری رہا ۔

بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت و خلافت میں بہت اختلاف ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ مرید و خلیفہ قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی (رحمتہ اللہ علیہ) اور تعلیم یافتہ حضرت شیخ شہاب الدین کے عاشق تھے ۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ مرید و خلیفہ حضرت نجم الدین قلندر کے تھے ۔ بعض کے نزدیک آپ مرید و خلیفہ حضرت شیخ شہاب الدین عاشق خدا کے تھے، جو مرید و خلیفہ حضرت امام الدین ابدال کے تھے اور وہ مرید و خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (رحمۃ اللہ علیہ) کے تھے ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ مرید و خلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء (رحمتہ اللہ علیہ) کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) نے آپ کو عصر کے وقت جمنا کے کنارے بیعت سے مشرف فرمایا ۔(تذکرہ اولیائے پاک و ہند ص: 88 / اقتباس الانوار ص:517 / اخبار الاخیار ص:335)

سیرت و خصائص:
غواص بحرِ عشق ومحبت،سالار قافلۂ میخانۂ وحدت،امام العارفین،قدوۃ السالکین،عارف اسرارِ رحمانی،واصل انوار ربانی،حضرت شیخ شرف الدین بوعلی قلندر رحمۃ اللہ علیہ۔حضرت بو علی قلندر علیہ الرحمہ اولیائے کبار،اور مشائخِ نامدار میں سے ہیں۔آپ علیہ الرحمہ صاحبِ کرامت وفضیلت بزرگ ہیں۔آپ خاندانی،نسبی،علمی شرافتوں اورفضیلتوں سے مالا مال تھے۔آپ کے والد گرامی اور والدہ ماجدہ صاحبِ تقویٰ وکرامت تھے۔آپ کے والدین نےآپ کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی،آپ کاشمار اس وقت کےفاضلین وواعظین میں ہونے لگا۔آپ نے تیس سال تک قطب مینار دہلی میں تدریس فرمائی۔(اقتباس الانوار:517)۔

ایک مرتبہ آپ مسجد میں لوگوں کو وعظ فرمارہےتھےکہ مسجدمیں ایک درویش آیااوربآوازبلندیہ کہہ کر چلاگیاکہ "شرف الدین جس کام کےلئےپیداہواہےاس کوبھول گیا،کب تک اس قیل وقال میں رہےگا"۔یعنی حال کی طرف کب آؤ گے۔بس اس فقیر کی صدا ایک چوٹ بن کر دل پر لگی ۔ویرانے کی طرف عبادت وریاضت میں مشغول ہوگئے،پھرطبیعت پر جذب کی کیفیت کا غلبہ ہوگیا۔جب جذب و سکر کی انتہا ہوگئی تو اپنی تمام کتابوں اور قلمی یاد داشتوں کو دریا میں پھینک دیا،اور دریا میں مصروفِ عبادت ہوگئے۔آپ ایک عرصے تک دریامیں کھڑےرہے۔پنڈلیوں کاگوشت مچھلیاں کھاگئیں۔حضرت خضر علیہ السلام سےملاقات ہوئی،اسی طرح بارہ سال گزرگئے۔

ایک روزغیب سےآواز آئی۔"شرف الدین!تیری عبادت قبول کی،مانگ کیامانگتاہے"۔دوبارہ پھرآوازآئی کہ۔"اچھاپانی سےتونکل"۔آپ نےعرض کیاکہ"خودنہیں نکلوں گاتواپنےہاتھ سےنکال"۔توحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نےاپنے ہاتھ مبارک سےآپ کودریا سےنکالا۔اس سےوجدانی کیفیت اوراستغراق میں مزید اضافہ ہوگیا۔ آخر آپ مجذوب ہوگئے اور جذب و شوق میں اس قدر مستغرق ہوئے کہ دائرہ تکلیف شرعی سے باہر ہوگئے۔۔