Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ گل محمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ گل محمد تونسوی ۔ لقب: جگر گوشۂ پیر پٹھان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ گل محمد تونسوی بن خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبدالوہاب بن عمر خان بن خان محمد ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1210ھ ؍ مطابق 1795ء کو تونسہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی ۔پھر علوم مروجہ کی تحصیل کے لئے میاں گل محمد دامانی اور حافظ حسن صاحب، اور مولانا نور محمد کےسامنے زانوئے تلمذ تہ کیے ۔ علومِ تصوف و اخلاق والدِ ماجد سے حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
تکمیلِ علوم و سلوک کے بعد سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے والد گرامی حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ گل محمد تونسوی نہایت عبادت گزار، منکسر المزاج، اور با اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ حضرت خواجہ تونسوی کے درویشوں کی خود خدمت کیا کرتے تھے ۔ شہرِ تونسہ میں کسی بھی مسلمان شخص کا انتقال ہو جاتا تو تعزیت کے لئے ضرور تشریف لے جاتے ۔
آپ بےحد سخی تھے ۔ خفیہ طور پر ہر نیک و بد کو نوازتے ۔ سماع سے خصوصی شغف تھا ۔ ایک مرتبہ والد ماجد کے ہمراہ پاک پتن عرس شریف پر حاضر ہوئے ۔مجلس سماع میں آپ پر ایسا وجد طاری ہوا کہ بے ہوش گئے، اور ظہر تک بے ہوش رہے ۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نے آپ کو سماع سے منع کر دیا ۔
آپ کی شادی عمر خان ہیروی کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ عمر خان حضرت حافظ محمد جمال اللہ ملتانی کے خلیفہ تھے ۔ حضرت حافظ صاحب نے حضرت خواجہ تونسوی سے فرمایا: ’’محمد عمر خان کی بیٹیاں میری بیٹیاں ہیں، اور گل محمد، درویش محمد میرے بیٹے ہیں ۔میری بیٹیوں کی شادی میرے بیٹوں سے ہوگی ۔ خواجہ سلیمان نے فرمایا؛ قبول ہے ‘‘ ۔ درویش محمد شادی سے پہلے وصال فرما گئے، اور خواجہ گل محمد کی شادی محمد عمر خان کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ ان سےآپ کی پانچ اولادیں ہوئیں ۔ پہلے تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں، اور پھر خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی اور خواجہ خیر محمد تونسوی پیدا ہوئے ۔
تاریخِ وصال:
ایک دن آپ کی گردن پر ایک پھوڑا نکلا ۔اس کی تکلیف کی وجہ سے چند دن علیل رہے ۔ علاج کرایا گیا، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا ۔ 11 رمضان المبارک 1260ھ ؍ مطابق 24 ؍ ستمبر 1844ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ اس وقت آپ کی عمر پچاس سال تھی ۔ آپ کے مزار کے تعمیر کے لئے نواب آف بہاول پور نے پانچ سو معماروں اور مزدوروں کی ٹیم بھیجی ۔ مگر حضرت تونسوی نے منع فرما دیا ۔ آپ تونسہ شریف کے غربی بڑے قبرستان میں اپنے برادر خواجہ درویش محمد کے پہلو میں آرام فرماہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ خواجگانِ چشت اہل بہشت جلد سوم، ص:88 ( مؤلف: خواجہ غیاث اللہ سلیمانی )
https://scholars.pk/ur/scholar/khwaja-gul-muhammad
نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ گل محمد تونسوی ۔ لقب: جگر گوشۂ پیر پٹھان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ گل محمد تونسوی بن خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبدالوہاب بن عمر خان بن خان محمد ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1210ھ ؍ مطابق 1795ء کو تونسہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی ۔پھر علوم مروجہ کی تحصیل کے لئے میاں گل محمد دامانی اور حافظ حسن صاحب، اور مولانا نور محمد کےسامنے زانوئے تلمذ تہ کیے ۔ علومِ تصوف و اخلاق والدِ ماجد سے حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
تکمیلِ علوم و سلوک کے بعد سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے والد گرامی حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ گل محمد تونسوی نہایت عبادت گزار، منکسر المزاج، اور با اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ حضرت خواجہ تونسوی کے درویشوں کی خود خدمت کیا کرتے تھے ۔ شہرِ تونسہ میں کسی بھی مسلمان شخص کا انتقال ہو جاتا تو تعزیت کے لئے ضرور تشریف لے جاتے ۔
آپ بےحد سخی تھے ۔ خفیہ طور پر ہر نیک و بد کو نوازتے ۔ سماع سے خصوصی شغف تھا ۔ ایک مرتبہ والد ماجد کے ہمراہ پاک پتن عرس شریف پر حاضر ہوئے ۔مجلس سماع میں آپ پر ایسا وجد طاری ہوا کہ بے ہوش گئے، اور ظہر تک بے ہوش رہے ۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نے آپ کو سماع سے منع کر دیا ۔
آپ کی شادی عمر خان ہیروی کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ عمر خان حضرت حافظ محمد جمال اللہ ملتانی کے خلیفہ تھے ۔ حضرت حافظ صاحب نے حضرت خواجہ تونسوی سے فرمایا: ’’محمد عمر خان کی بیٹیاں میری بیٹیاں ہیں، اور گل محمد، درویش محمد میرے بیٹے ہیں ۔میری بیٹیوں کی شادی میرے بیٹوں سے ہوگی ۔ خواجہ سلیمان نے فرمایا؛ قبول ہے ‘‘ ۔ درویش محمد شادی سے پہلے وصال فرما گئے، اور خواجہ گل محمد کی شادی محمد عمر خان کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ ان سےآپ کی پانچ اولادیں ہوئیں ۔ پہلے تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں، اور پھر خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی اور خواجہ خیر محمد تونسوی پیدا ہوئے ۔
تاریخِ وصال:
ایک دن آپ کی گردن پر ایک پھوڑا نکلا ۔اس کی تکلیف کی وجہ سے چند دن علیل رہے ۔ علاج کرایا گیا، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا ۔ 11 رمضان المبارک 1260ھ ؍ مطابق 24 ؍ ستمبر 1844ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ اس وقت آپ کی عمر پچاس سال تھی ۔ آپ کے مزار کے تعمیر کے لئے نواب آف بہاول پور نے پانچ سو معماروں اور مزدوروں کی ٹیم بھیجی ۔ مگر حضرت تونسوی نے منع فرما دیا ۔ آپ تونسہ شریف کے غربی بڑے قبرستان میں اپنے برادر خواجہ درویش محمد کے پہلو میں آرام فرماہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ خواجگانِ چشت اہل بہشت جلد سوم، ص:88 ( مؤلف: خواجہ غیاث اللہ سلیمانی )
https://scholars.pk/ur/scholar/khwaja-gul-muhammad
scholars.pk
Khwaja Gul Muhammad
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
حضرت مولانا شاہ سید مصباح الحسن پھپھوندوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا شاہ مصباح الحسن ۔لقب: سید العلماء ۔ مقام پھپھوند کی نسبت سے ’’پھپھوندوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندی بن مولانا خواجہ سید عبد الصمد ابدال سہسوانی پھپھوندوی بن سید غالب حسین علیم الرحمہ ۔
خاندانی تعلق قطب المشائخ حضر ت خواجہ ابو یوسف چشتی علیہ الرحمہ سے ہے ۔
شاہ مصباح الحسن کے والد گرامی ’’مجلس علمائے اہل سنت‘‘ کے مستقل صدر تھے ۔ اسی طرح آپ کا سارا خاندان علم و فضل، ورع و تقویٰ میں اپنی مثال آپ ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز منگل 7 جمادی الاول 1304ھ، مطابق یکم فروری 1887ء کو بمقام پھپھوند ضلع اٹاوہ (ہند) میں ہوئی ۔ والدِ گرامی نے ’’منظورِ حق‘‘ اور ’’فوہب اللہ لہ غلاماً زکیا‘‘ سے سن ولادت کا استخراج کیا ۔
تحصیل علم:
قرآن پاک مولانا حافظ اخلاق حسین بن الطاف حسین حالی (مرید مولانا عبد الصمد) سے مکمل کیا، مولانا امیر حسن سہسوانی انصاری مرحوم سے فارسی اور ابتدائی عربی ہدایۃ النحو پڑھی، مولانا مفتی محمد ابراہیم بن حضرت مولانا شاہ محب احمد قادری قدس سرہما سے کافیہ، شرح جامی، شرح وقایہ، شرح تہذیب، برادر عم زاد حضرت مولانا الحاج سید شاہ اخلاص حسین، حکیم مولانا مومن سجاد سے بھی کچھ درس لیا، شرح وقایہ، ملا حسن، نور الانوار، والد ماجد سے پڑھیں ۔ صفر 1323ھ میں جون پور جا کر حضرت استاذ العلماء علامہ محمد ہدایت اللہ خاں قادری رامپوری رحمۃ اللہ علیہ سے کامل تین سال اکتساب فیض کیا ۔ 1326ھ میں حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی قدس سرہٗ سے دورۂ حدیث کیا، اور صحاح ستہ کی سند حاصل کی، والد کے شاگرد و مرید مولانا حکیم مولانا مومن سجاد سے عوارف المعارف کا درس لیا ۔ ، 1328ھ میں علوم ظاہری و باطنی سے فراغ پایا ۔
بیعت و خلافت:
والدِ ماجد صدر جماعت اہل سنت عارف باللہ، امیر شریعت، بحرِ طریقت، استاذ العلماء، سید الاصفیاء، عالم ربانی حضرت علامہ مولانا خواجہ سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کی وصیت کے مطابق ان کے وصال کے بعد جانشین منتخب ہوئے ۔ حضرت خواجہ شاہ یار محمد بختیار (اولاد حضرت قطب الاقطاب خواجہ بختیار کاکی، مرید و خلیفہ حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی) اور حضرت شاہ امتیاز احمد خیر آبادی (سجادہ نشین شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی، استاذ مولانا فضلِ حق خیر آبادی) نے اجازتیں اور خلافتیں عطاء فرمائیں ۔ اسی طرح 1368ھ میں رمضان المبارک، شوال المکرم، ذوالقعدہ تین ماہ مدینہ طیبہ زادہا اللہ شرفا و تکریماً میں مقیم رہے ۔حضرت مولانا شاہ علی حسین خیر آبادی سے سند حدیث حاصل کی ۔
سیرت و خصائص: استاذ العلماء، سند الاولیاء، سید الاتقیاء، حبرِ شریعت، بحرِ طریقت، صاحبِ فضل و منن حضرت علامہ مولانا شاہ مصباح الحسن رحمۃ اللہ علیہ ۔
شاہ صاحب علیہ الرحمہ ساداتِ کرام، اولیاء عظام، اور علماءِ ذو الاحتشام کی عظیم جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تمام اوصافِ حسنہ، صفاتِ عالیہ، اور علوم نقلیہ و عقلیہ، اسرار و معارفِ اصفیاء کے عالم تھے ۔ ساری زندگی دین متین کی خدمت، مسلکِ حق کی اشاعت، درس و تدریس وعظ و نصیحت، میں مصروف عمل رہے ۔ شاہ صاحب کو کبھی کسی نے وقت ضائع کرتے ہوئے نہیں دیکھا، ہمہ وقت کسی نہ کسی کام میں مشغول ہوتے تھے ۔
مطالعہ کا خاص ذوق تھا، والد ماجد کے فراہم کردہ کتب خانہ میں اضافہ اسی ذوق کا نتیجہ تھا، ہر کتاب پر صحت اغلاط، ضروری حواشی، اور تشریح و توضیح اور یادداشت موجود ہے ۔
استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا محمود احمد قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’حفظِ قرآن کے بعد 1377ھ میں اپنے بچپن میں چھ ماہ آپ کے زیرِ کرم رہا، سونے کا شرف آپ کے پائیں گھر میں کمرے کے باہر حاصل تھا، رات میں جب آنکھ کھلتی آپ کو مصروفِ مطالعہ دیکھتا ۔۔۔۔
حضرت کے معمولات میں روزانہ ایک منزل تلاوتِ قرآن پاک تھا، راقمِ سطور کی صغر سنی کے پیش نظر حفظ قرآن کی پختگی کے لیے پاس بٹھا کر تلاوت کراتے اور فرماتے دیکھو پہلے تم منزل ختم کرتے ہو یا میں ۔ کبھی احقر آگے ہوتا، اور کبھی آپ ۔ بہار شریعت جزو اوّل کا کچھ حصہ آپ سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔
آپکو فرقِ ضالہ دیوبندی، وہابی، شیعہ، قادیانی سے سخت نفرت تھی، تصلب فی الدین میں بزرگ اور نامور والد محترم کے قدم بقدم تھے ۔ قومی و ملکی خدمات میں آپ نے عظیم کارنامے انجام دیئے، کاکوری کیس کے امیر آپ ہی تھے، حضرت مولانا حسرت موہانی حضرت مولانا شاہ عبد القادر بدایونی سے خصوصی تعلقات و روابط تھے ۔ مصباح تخلص فرماتے تھے، کلام عربی، فارسی، اُردو تینوں زبانوں میں ہے، سوز و گداز، بلندی، روانی خصوصیت کلام ہے جس کو راقم سطور نے اپنی کتاب بنام ’’فرید عصر مولانا سید مصباح الحسن رحمۃ اللہ علیہ‘‘ میں درج کر دیا ہے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:229) ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا شاہ مصباح الحسن ۔لقب: سید العلماء ۔ مقام پھپھوند کی نسبت سے ’’پھپھوندوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندی بن مولانا خواجہ سید عبد الصمد ابدال سہسوانی پھپھوندوی بن سید غالب حسین علیم الرحمہ ۔
خاندانی تعلق قطب المشائخ حضر ت خواجہ ابو یوسف چشتی علیہ الرحمہ سے ہے ۔
شاہ مصباح الحسن کے والد گرامی ’’مجلس علمائے اہل سنت‘‘ کے مستقل صدر تھے ۔ اسی طرح آپ کا سارا خاندان علم و فضل، ورع و تقویٰ میں اپنی مثال آپ ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز منگل 7 جمادی الاول 1304ھ، مطابق یکم فروری 1887ء کو بمقام پھپھوند ضلع اٹاوہ (ہند) میں ہوئی ۔ والدِ گرامی نے ’’منظورِ حق‘‘ اور ’’فوہب اللہ لہ غلاماً زکیا‘‘ سے سن ولادت کا استخراج کیا ۔
تحصیل علم:
قرآن پاک مولانا حافظ اخلاق حسین بن الطاف حسین حالی (مرید مولانا عبد الصمد) سے مکمل کیا، مولانا امیر حسن سہسوانی انصاری مرحوم سے فارسی اور ابتدائی عربی ہدایۃ النحو پڑھی، مولانا مفتی محمد ابراہیم بن حضرت مولانا شاہ محب احمد قادری قدس سرہما سے کافیہ، شرح جامی، شرح وقایہ، شرح تہذیب، برادر عم زاد حضرت مولانا الحاج سید شاہ اخلاص حسین، حکیم مولانا مومن سجاد سے بھی کچھ درس لیا، شرح وقایہ، ملا حسن، نور الانوار، والد ماجد سے پڑھیں ۔ صفر 1323ھ میں جون پور جا کر حضرت استاذ العلماء علامہ محمد ہدایت اللہ خاں قادری رامپوری رحمۃ اللہ علیہ سے کامل تین سال اکتساب فیض کیا ۔ 1326ھ میں حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی قدس سرہٗ سے دورۂ حدیث کیا، اور صحاح ستہ کی سند حاصل کی، والد کے شاگرد و مرید مولانا حکیم مولانا مومن سجاد سے عوارف المعارف کا درس لیا ۔ ، 1328ھ میں علوم ظاہری و باطنی سے فراغ پایا ۔
بیعت و خلافت:
والدِ ماجد صدر جماعت اہل سنت عارف باللہ، امیر شریعت، بحرِ طریقت، استاذ العلماء، سید الاصفیاء، عالم ربانی حضرت علامہ مولانا خواجہ سید عبد الصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ان کی وصیت کے مطابق ان کے وصال کے بعد جانشین منتخب ہوئے ۔ حضرت خواجہ شاہ یار محمد بختیار (اولاد حضرت قطب الاقطاب خواجہ بختیار کاکی، مرید و خلیفہ حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی) اور حضرت شاہ امتیاز احمد خیر آبادی (سجادہ نشین شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی، استاذ مولانا فضلِ حق خیر آبادی) نے اجازتیں اور خلافتیں عطاء فرمائیں ۔ اسی طرح 1368ھ میں رمضان المبارک، شوال المکرم، ذوالقعدہ تین ماہ مدینہ طیبہ زادہا اللہ شرفا و تکریماً میں مقیم رہے ۔حضرت مولانا شاہ علی حسین خیر آبادی سے سند حدیث حاصل کی ۔
سیرت و خصائص: استاذ العلماء، سند الاولیاء، سید الاتقیاء، حبرِ شریعت، بحرِ طریقت، صاحبِ فضل و منن حضرت علامہ مولانا شاہ مصباح الحسن رحمۃ اللہ علیہ ۔
شاہ صاحب علیہ الرحمہ ساداتِ کرام، اولیاء عظام، اور علماءِ ذو الاحتشام کی عظیم جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تمام اوصافِ حسنہ، صفاتِ عالیہ، اور علوم نقلیہ و عقلیہ، اسرار و معارفِ اصفیاء کے عالم تھے ۔ ساری زندگی دین متین کی خدمت، مسلکِ حق کی اشاعت، درس و تدریس وعظ و نصیحت، میں مصروف عمل رہے ۔ شاہ صاحب کو کبھی کسی نے وقت ضائع کرتے ہوئے نہیں دیکھا، ہمہ وقت کسی نہ کسی کام میں مشغول ہوتے تھے ۔
مطالعہ کا خاص ذوق تھا، والد ماجد کے فراہم کردہ کتب خانہ میں اضافہ اسی ذوق کا نتیجہ تھا، ہر کتاب پر صحت اغلاط، ضروری حواشی، اور تشریح و توضیح اور یادداشت موجود ہے ۔
استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا محمود احمد قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’حفظِ قرآن کے بعد 1377ھ میں اپنے بچپن میں چھ ماہ آپ کے زیرِ کرم رہا، سونے کا شرف آپ کے پائیں گھر میں کمرے کے باہر حاصل تھا، رات میں جب آنکھ کھلتی آپ کو مصروفِ مطالعہ دیکھتا ۔۔۔۔
حضرت کے معمولات میں روزانہ ایک منزل تلاوتِ قرآن پاک تھا، راقمِ سطور کی صغر سنی کے پیش نظر حفظ قرآن کی پختگی کے لیے پاس بٹھا کر تلاوت کراتے اور فرماتے دیکھو پہلے تم منزل ختم کرتے ہو یا میں ۔ کبھی احقر آگے ہوتا، اور کبھی آپ ۔ بہار شریعت جزو اوّل کا کچھ حصہ آپ سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔
آپکو فرقِ ضالہ دیوبندی، وہابی، شیعہ، قادیانی سے سخت نفرت تھی، تصلب فی الدین میں بزرگ اور نامور والد محترم کے قدم بقدم تھے ۔ قومی و ملکی خدمات میں آپ نے عظیم کارنامے انجام دیئے، کاکوری کیس کے امیر آپ ہی تھے، حضرت مولانا حسرت موہانی حضرت مولانا شاہ عبد القادر بدایونی سے خصوصی تعلقات و روابط تھے ۔ مصباح تخلص فرماتے تھے، کلام عربی، فارسی، اُردو تینوں زبانوں میں ہے، سوز و گداز، بلندی، روانی خصوصیت کلام ہے جس کو راقم سطور نے اپنی کتاب بنام ’’فرید عصر مولانا سید مصباح الحسن رحمۃ اللہ علیہ‘‘ میں درج کر دیا ہے ۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت، ص:229) ۔
❤2
حضرت کی علم پروری کی زندہ مثال خانقاہ صمدیہ پھپھوند شریف میں ایک عظیم دینی درسگاہ کی صورت میں موجود ہے ۔ جہاں حفظ و ناظرہ کے ساتھ ساتھ درس نظامی کی ابتدائی کتب سے لے کر تخصص کے درجے تک معیاری تعلیم کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ سجادہ نشین اکبر المشائخ حضرت علامہ سید محمد اکبر میاں چشتی علیہ الرحمہ نے اس ادارے کو چار چاند لگا دئے، اور ان کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت علامہ سید انور چشتی دام ظلہ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں، اور خدمتِ دینِ میں مصروف عمل ہیں ۔ اس جامعہ کا شمار ہند کے بڑے جامعات میں ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ دیگر سجادگان کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے، اور اس ادارے کو مزید عروج عطاء فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11 / رمضان المبارک 1384ھ، مطابق وسط ماہ جنوری / 1965ء کی شب واصل باللہ ہوئے ۔ بدر الکاملین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ نے وصیت کے مطابق نماز جنازہ کی امامت فرمائی ۔ خانقاہِ صمدیہ پھپھوند ضلع اوریا ہند میں والد گرامی کے قدموں میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-misbah-ul-hassan
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11 / رمضان المبارک 1384ھ، مطابق وسط ماہ جنوری / 1965ء کی شب واصل باللہ ہوئے ۔ بدر الکاملین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ نے وصیت کے مطابق نماز جنازہ کی امامت فرمائی ۔ خانقاہِ صمدیہ پھپھوند ضلع اوریا ہند میں والد گرامی کے قدموں میں آرام فرما ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-misbah-ul-hassan
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Misbah-ul-Hassan
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
امام النحو ، حضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
وحید العصر حضرت مولانا غلام جیلانی، بن مولانا حاجی غلام فخر الدین، بن مولانا حکیم سخاوت حسین فخری سلیمانی ۔ آپکے دادا بزرگوار نے آپ کا نام غلام محی الدین جیلانی رکھا ۔
تاریخِ ولادت:
۱۱ رمضان المبارک، ۱۳۱۷ ھ ، بمطابق ۱۹۰۰ ء ، ریاست دادوں ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی، بعد ازاں جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لیا ۔ آپ نے وقت کے مایہ ناز مندرجہ ذیل علماء کرام سے اکتسابِ فیض کیا:
صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان، صدر الشریعہ حکیم محمد امجد علی اعظمی، حضرت مولانا عبد العزیز صاحب فتح پوری، مولانا امتیاز احمد امبیٹھوی، مولانا سید عبد المجید، مولانا عبد الحی افغانی، حضرت مولانا عبد اللہ افغانی، مولانا سید امیر احمد پنجابی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت کا شرف شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی سے حاصل ہے ۔
سیرت و خصائص:
آپ تاحیات درس و تدریس سے منسلک رہے، اپنے علمی خزانہ کے گوہرہائے آبدار کی چمک سے رشد و ہدایات کے مینار تعمیر کئے، علوم و فنون کے دریا بہائے، مسندِ تدریس کو عروج و کمال تک پہنچایا، ترقی کی بلند ترین منازل سے مزین کیا، آپ کی ذات ملجائے خواص و عام اور مرجعِ اصاغر و اکابر تھی، وقت کے ممتاز علماء و فقہاء نے آپ کے سامنے زانوئے علم و ادب تہہ کئے، آپ کی کوششوں سے علوم و فنون کی ترویج ہوئی، آپ کی علمی بصیرت اور دینی خدمات کا زمانہ معترف ہے، آپ کی مثالی اور عبقری شخصیت نے تحقیقی اور تجدیدی خدمات سے علم میں ایک نئی جان ڈال دی ۔ آپ کے تبحّرِ علمی کے پیشِ نظر اس وقت کے کاملین نے آپکو "صدر العلماء " اور "صدر المدرسین" کے خطاب سے نوازا ۔
وصال:
آپ نے ۲۹ جمادی الاولی ۱۳۹۸ ھ بمطابق ۸ مئی ۱۹۷۸ء کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک مدرسہ اسلامیہ عربیہ اندر کوٹ میرٹھ (ہند) میں زیارت گاہِ خواص و عوام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-jilani-merthi
نام و نسب:
وحید العصر حضرت مولانا غلام جیلانی، بن مولانا حاجی غلام فخر الدین، بن مولانا حکیم سخاوت حسین فخری سلیمانی ۔ آپکے دادا بزرگوار نے آپ کا نام غلام محی الدین جیلانی رکھا ۔
تاریخِ ولادت:
۱۱ رمضان المبارک، ۱۳۱۷ ھ ، بمطابق ۱۹۰۰ ء ، ریاست دادوں ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہوئی، بعد ازاں جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لیا ۔ آپ نے وقت کے مایہ ناز مندرجہ ذیل علماء کرام سے اکتسابِ فیض کیا:
صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان، صدر الشریعہ حکیم محمد امجد علی اعظمی، حضرت مولانا عبد العزیز صاحب فتح پوری، مولانا امتیاز احمد امبیٹھوی، مولانا سید عبد المجید، مولانا عبد الحی افغانی، حضرت مولانا عبد اللہ افغانی، مولانا سید امیر احمد پنجابی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت کا شرف شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی سے حاصل ہے ۔
سیرت و خصائص:
آپ تاحیات درس و تدریس سے منسلک رہے، اپنے علمی خزانہ کے گوہرہائے آبدار کی چمک سے رشد و ہدایات کے مینار تعمیر کئے، علوم و فنون کے دریا بہائے، مسندِ تدریس کو عروج و کمال تک پہنچایا، ترقی کی بلند ترین منازل سے مزین کیا، آپ کی ذات ملجائے خواص و عام اور مرجعِ اصاغر و اکابر تھی، وقت کے ممتاز علماء و فقہاء نے آپ کے سامنے زانوئے علم و ادب تہہ کئے، آپ کی کوششوں سے علوم و فنون کی ترویج ہوئی، آپ کی علمی بصیرت اور دینی خدمات کا زمانہ معترف ہے، آپ کی مثالی اور عبقری شخصیت نے تحقیقی اور تجدیدی خدمات سے علم میں ایک نئی جان ڈال دی ۔ آپ کے تبحّرِ علمی کے پیشِ نظر اس وقت کے کاملین نے آپکو "صدر العلماء " اور "صدر المدرسین" کے خطاب سے نوازا ۔
وصال:
آپ نے ۲۹ جمادی الاولی ۱۳۹۸ ھ بمطابق ۸ مئی ۱۹۷۸ء کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک مدرسہ اسلامیہ عربیہ اندر کوٹ میرٹھ (ہند) میں زیارت گاہِ خواص و عوام ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-jilani-merthi
scholars.pk
Hazrat Syed Ghulam Jilani Merthi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-09-1444 ᴴ | 02-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-09-1444 ᴴ | 03-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1