Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت خواجہ گل محمد تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ گل محمد تونسوی ۔ لقب: جگر گوشۂ پیر پٹھان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ گل محمد تونسوی بن خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبدالوہاب بن عمر خان بن خان محمد ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1210ھ ؍ مطابق 1795ء کو تونسہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی ۔پھر علوم مروجہ کی تحصیل کے لئے میاں گل محمد دامانی اور حافظ حسن صاحب، اور مولانا نور محمد کےسامنے زانوئے تلمذ تہ کیے ۔ علومِ تصوف و اخلاق والدِ ماجد سے حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
تکمیلِ علوم و سلوک کے بعد سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے والد گرامی حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ گل محمد تونسوی نہایت عبادت گزار، منکسر المزاج، اور با اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ حضرت خواجہ تونسوی کے درویشوں کی خود خدمت کیا کرتے تھے ۔ شہرِ تونسہ میں کسی بھی مسلمان شخص کا انتقال ہو جاتا تو تعزیت کے لئے ضرور تشریف لے جاتے ۔
آپ بےحد سخی تھے ۔ خفیہ طور پر ہر نیک و بد کو نوازتے ۔ سماع سے خصوصی شغف تھا ۔ ایک مرتبہ والد ماجد کے ہمراہ پاک پتن عرس شریف پر حاضر ہوئے ۔مجلس سماع میں آپ پر ایسا وجد طاری ہوا کہ بے ہوش گئے، اور ظہر تک بے ہوش رہے ۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نے آپ کو سماع سے منع کر دیا ۔
آپ کی شادی عمر خان ہیروی کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ عمر خان حضرت حافظ محمد جمال اللہ ملتانی کے خلیفہ تھے ۔ حضرت حافظ صاحب نے حضرت خواجہ تونسوی سے فرمایا: ’’محمد عمر خان کی بیٹیاں میری بیٹیاں ہیں، اور گل محمد، درویش محمد میرے بیٹے ہیں ۔میری بیٹیوں کی شادی میرے بیٹوں سے ہوگی ۔ خواجہ سلیمان نے فرمایا؛ قبول ہے ‘‘ ۔ درویش محمد شادی سے پہلے وصال فرما گئے، اور خواجہ گل محمد کی شادی محمد عمر خان کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ ان سےآپ کی پانچ اولادیں ہوئیں ۔ پہلے تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں، اور پھر خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی اور خواجہ خیر محمد تونسوی پیدا ہوئے ۔
تاریخِ وصال:
ایک دن آپ کی گردن پر ایک پھوڑا نکلا ۔اس کی تکلیف کی وجہ سے چند دن علیل رہے ۔ علاج کرایا گیا، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا ۔ 11 رمضان المبارک 1260ھ ؍ مطابق 24 ؍ ستمبر 1844ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ اس وقت آپ کی عمر پچاس سال تھی ۔ آپ کے مزار کے تعمیر کے لئے نواب آف بہاول پور نے پانچ سو معماروں اور مزدوروں کی ٹیم بھیجی ۔ مگر حضرت تونسوی نے منع فرما دیا ۔ آپ تونسہ شریف کے غربی بڑے قبرستان میں اپنے برادر خواجہ درویش محمد کے پہلو میں آرام فرماہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ خواجگانِ چشت اہل بہشت جلد سوم، ص:88 ( مؤلف: خواجہ غیاث اللہ سلیمانی )
https://scholars.pk/ur/scholar/khwaja-gul-muhammad
نام و نسب:
اسم گرامی: خواجہ گل محمد تونسوی ۔ لقب: جگر گوشۂ پیر پٹھان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
خواجہ گل محمد تونسوی بن خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبدالوہاب بن عمر خان بن خان محمد ۔ علیہم الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1210ھ ؍ مطابق 1795ء کو تونسہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی ۔پھر علوم مروجہ کی تحصیل کے لئے میاں گل محمد دامانی اور حافظ حسن صاحب، اور مولانا نور محمد کےسامنے زانوئے تلمذ تہ کیے ۔ علومِ تصوف و اخلاق والدِ ماجد سے حاصل کیے ۔
بیعت و خلافت:
تکمیلِ علوم و سلوک کے بعد سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے والد گرامی حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ گل محمد تونسوی نہایت عبادت گزار، منکسر المزاج، اور با اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ حضرت خواجہ تونسوی کے درویشوں کی خود خدمت کیا کرتے تھے ۔ شہرِ تونسہ میں کسی بھی مسلمان شخص کا انتقال ہو جاتا تو تعزیت کے لئے ضرور تشریف لے جاتے ۔
آپ بےحد سخی تھے ۔ خفیہ طور پر ہر نیک و بد کو نوازتے ۔ سماع سے خصوصی شغف تھا ۔ ایک مرتبہ والد ماجد کے ہمراہ پاک پتن عرس شریف پر حاضر ہوئے ۔مجلس سماع میں آپ پر ایسا وجد طاری ہوا کہ بے ہوش گئے، اور ظہر تک بے ہوش رہے ۔ اس کے بعد خواجہ صاحب نے آپ کو سماع سے منع کر دیا ۔
آپ کی شادی عمر خان ہیروی کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ عمر خان حضرت حافظ محمد جمال اللہ ملتانی کے خلیفہ تھے ۔ حضرت حافظ صاحب نے حضرت خواجہ تونسوی سے فرمایا: ’’محمد عمر خان کی بیٹیاں میری بیٹیاں ہیں، اور گل محمد، درویش محمد میرے بیٹے ہیں ۔میری بیٹیوں کی شادی میرے بیٹوں سے ہوگی ۔ خواجہ سلیمان نے فرمایا؛ قبول ہے ‘‘ ۔ درویش محمد شادی سے پہلے وصال فرما گئے، اور خواجہ گل محمد کی شادی محمد عمر خان کی صاحبزادی سے ہوئی ۔ ان سےآپ کی پانچ اولادیں ہوئیں ۔ پہلے تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں، اور پھر خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی اور خواجہ خیر محمد تونسوی پیدا ہوئے ۔
تاریخِ وصال:
ایک دن آپ کی گردن پر ایک پھوڑا نکلا ۔اس کی تکلیف کی وجہ سے چند دن علیل رہے ۔ علاج کرایا گیا، مگر کوئی افاقہ نہ ہوا ۔ 11 رمضان المبارک 1260ھ ؍ مطابق 24 ؍ ستمبر 1844ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ اس وقت آپ کی عمر پچاس سال تھی ۔ آپ کے مزار کے تعمیر کے لئے نواب آف بہاول پور نے پانچ سو معماروں اور مزدوروں کی ٹیم بھیجی ۔ مگر حضرت تونسوی نے منع فرما دیا ۔ آپ تونسہ شریف کے غربی بڑے قبرستان میں اپنے برادر خواجہ درویش محمد کے پہلو میں آرام فرماہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ خواجگانِ چشت اہل بہشت جلد سوم، ص:88 ( مؤلف: خواجہ غیاث اللہ سلیمانی )
https://scholars.pk/ur/scholar/khwaja-gul-muhammad
scholars.pk
Khwaja Gul Muhammad
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2