ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دربارِ نبوّت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ
’’اے محمد ﷺ یہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ہیں جو آپ ﷺ وسلم کے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں ۔ جب یہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام کہہ دیجیےگا اور ان کو یہ خوش خبری سنا دیجیےگا کہ جنّت میں ان کے لیے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی ۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ، حدیث نمبر ۳۸۲۰، ج۲، ص۵۶۵)
حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا:
وما رأیتہا ولٰکن کان النبی صلی اللٰہ علیہ و الہ وسلم یکثر ذکرھا و ربماذبح الشاۃ ثم یقطعہا اعضآء ثم یبعثھا فی صدآئق خدیجۃ فربما قلت لہٗ کا نہٗ لم یکن فی الدنیا امرأۃ الا خدیجۃ فیقول انھا کانت وکانت وکان لی منھا ولد ۔ (بخاری، جلد اوّل، ص۳۹؛ مسلم، جلد دوم، ص ۲۸۴؛ ترمذی، جلد ۲، ص۴۶۵)
’’ترجمہ: رسول اللہ ﷺ اکثر سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر فرماتے تھے، بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اَعضا کاٹتے پھر وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے تو میں کبھی آپ سے کہہ دیتی تھی گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں اور کوئی عورت ہی نہیں تھیں تو آپ فرماتے وہ ایسی ہی تھیں اور ان سے میری اولاد بھی ہوئی۔‘‘
سرکارِ دو جہاں ﷺ نے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا، لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی محبّت آخرِ عمر تک آپ ﷺ کے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضور ﷺ کے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ ﷺ بار بار حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔
وصالِ پُر ملال:
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات، 10؍رمضان المبارک 10؍ نبوی کو، ہجرت سے تین برس قبل، مکۂ مکرّمہ میں ہوئی ۔
وصال کے وقت آپ کی عمر شریف 65؍ برس تھی ۔ آپ کی وفات سے تین یا پانچ دن پہلے حضورِ اقدس ﷺ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا تھا ۔ ابھی آپ ﷺ چچا کی وفات کے صدمے سے گزر ہی رہے تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا انتقال ہو گیا ۔ اِس سانحے کا قلبِ مبارک پر اتنا گہرا اَثر ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے اُس سال کا نام ہی ’’ عام الحزن ‘‘ (غم کا سال) رکھ دیا ۔
نمازِ جنازہ:
اُس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے آپ ﷺ نے اُن کی نماز نہیں پڑھائی ۔
تدفین:
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مکۂ مکرّمہ کے مشہور قبرستان ’’جنّت المعلیٰ‘‘ کے مقبرہ حجون میں استراحت فرما ہیں ۔ خود حضورِ اقدس ﷺ نے اُن کی قبرِ اَنور میں اُتر کر اپنے مقدّس ہاتھوں سے ان کو سپردِ خاک فرمایا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-khadija-bint-khuwaylid
’’اے محمد ﷺ یہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ہیں جو آپ ﷺ وسلم کے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں ۔ جب یہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام کہہ دیجیےگا اور ان کو یہ خوش خبری سنا دیجیےگا کہ جنّت میں ان کے لیے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی ۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ، حدیث نمبر ۳۸۲۰، ج۲، ص۵۶۵)
حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا:
وما رأیتہا ولٰکن کان النبی صلی اللٰہ علیہ و الہ وسلم یکثر ذکرھا و ربماذبح الشاۃ ثم یقطعہا اعضآء ثم یبعثھا فی صدآئق خدیجۃ فربما قلت لہٗ کا نہٗ لم یکن فی الدنیا امرأۃ الا خدیجۃ فیقول انھا کانت وکانت وکان لی منھا ولد ۔ (بخاری، جلد اوّل، ص۳۹؛ مسلم، جلد دوم، ص ۲۸۴؛ ترمذی، جلد ۲، ص۴۶۵)
’’ترجمہ: رسول اللہ ﷺ اکثر سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر فرماتے تھے، بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اَعضا کاٹتے پھر وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے تو میں کبھی آپ سے کہہ دیتی تھی گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں اور کوئی عورت ہی نہیں تھیں تو آپ فرماتے وہ ایسی ہی تھیں اور ان سے میری اولاد بھی ہوئی۔‘‘
سرکارِ دو جہاں ﷺ نے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا، لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی محبّت آخرِ عمر تک آپ ﷺ کے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضور ﷺ کے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ ﷺ بار بار حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔
وصالِ پُر ملال:
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات، 10؍رمضان المبارک 10؍ نبوی کو، ہجرت سے تین برس قبل، مکۂ مکرّمہ میں ہوئی ۔
وصال کے وقت آپ کی عمر شریف 65؍ برس تھی ۔ آپ کی وفات سے تین یا پانچ دن پہلے حضورِ اقدس ﷺ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا تھا ۔ ابھی آپ ﷺ چچا کی وفات کے صدمے سے گزر ہی رہے تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا انتقال ہو گیا ۔ اِس سانحے کا قلبِ مبارک پر اتنا گہرا اَثر ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے اُس سال کا نام ہی ’’ عام الحزن ‘‘ (غم کا سال) رکھ دیا ۔
نمازِ جنازہ:
اُس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے آپ ﷺ نے اُن کی نماز نہیں پڑھائی ۔
تدفین:
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مکۂ مکرّمہ کے مشہور قبرستان ’’جنّت المعلیٰ‘‘ کے مقبرہ حجون میں استراحت فرما ہیں ۔ خود حضورِ اقدس ﷺ نے اُن کی قبرِ اَنور میں اُتر کر اپنے مقدّس ہاتھوں سے ان کو سپردِ خاک فرمایا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-khadija-bint-khuwaylid
scholars.pk
Biography of Hazrat Khadija RA,Wives of the Prophet Muhammad (SAW), Ummul Momineen Hazrat Khadija (RA) Islamic Story in Urdu, Family…
Wife of Holy Prophet Muhammad Khadija Bint Khuwaylid
❤3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-09-1444 ᴴ | 01-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-09-1444 ᴴ | 02-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-09-1444 ᴴ | 02-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-09-1444 ᴴ | 02-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2