🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت سیدنا عبد اللہ المحض بن سیدنا امام حسن مثنی رحمۃ اللہ علیہ

۱۱ / ربیع الآخر بروز دو شنبہ ۹۲ھ میں اپنے والدِ گرامی حضرت حسن مثنیٰ سے خلافت پائی ۔

۱۰ / رمضان المبارک ۱۴۵ھ میں وفات پائی اور جنّت البقیع میں دفن ہوئے۔

( شریفُ التواریخ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdullah-al-mahaz

#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
https://t.me/islaamic_Knowledge/48001
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قاضی ابو المحاسن بہاؤ الدین یوسف بن رافع اسدی المعروف بابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور معروف ہوئے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ِ باسعادت 10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا۔موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نےمختلف ممالک کا سفر بھی کیا۔

سیرت و خصائص:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے۔ آپ کی خداداد صلاحیتوں کی بناء پر سلطان نے آپ کوعہدۂ قضاء سپرد کیااور آپ نے اس عہدے کو خوش دلی سے قبول بھی کیااور خوش اسلوبی سے ادا بھی کیا۔ آپ کے زمانے کے کثیر علماء نے آپ کی مدح وتعریف کے پل باندھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ابنِ شداد اپنے وقت کے امام اور ثقہ عالم وفاضل تھے۔ دین اوردنیا دونوں کی کامل معرفت رکھتے تھے ۔آپ کے عدل وانصاف کے فیصلے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک درس وتدریس ، افتاء و تصنیف میں مشغول رہے۔

تاریخِ وصال:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ نے 14 صفر المظفر 632 ھ / بمطابق نومبر 1234 ء میں انتقال فرمایا ۔

ماخذ و مراجع : سیر اعلام النبلاء

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abul-mahasin-yousuf-bin-rafay-al-asadi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شہزادۂ صدر الشریعہ، حضرت علامہ حکیم شمس الہدیٰ اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان

یوم وصال: 10 رمضان المبارک

آپ محلہ کریم الدین پور گھوسی ضلع اعظم گڑھ حال مئو میں پیدا ہوئے

آپ کی پیدائش پر صدر الشریعہ نے فرمایا تھا کہ

"اگر میرا یہ بیٹا دین کا. عالم ہوجائے گا تو میرے خاندان میں دس پشتوں سے مسلسل عالم ہوجائیں گے"

آپ نے والد گرامی کی نگرانی میں منشی مولوی، عالم، فاضل کیا. طب و حکمت بھی حاصل کیا.. اور جید عالم وحکیم ہوئے.

آپ بڑے علم دوست تھے. فراغت کے بعد والد گرامی نے گھر ہی رہنے کا حکم دیا اور اس وقت گھوسی میں کوئی اسلامی مکتب نہیں تھا اپ نے اپنی سعی سے ایک مکتب اپنی آبائی زمین پر قائم کیا جہاں اس وقت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا مزار پر انوار ہے.

پھر آپ نے نوجوانوں کی تعلیم کی طرف توجہ مبذول کی اور لوگوں سے مشورہ کے بعد اپنے والد کی ایک زمین جو ان کی زمینداری میں تھی مدرسے کے لیے مقرر کردی اور فرمایا

"آپ سب لوگ مل کر اس زمین پر مدرسہ قائم کرو"

لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ مٹی گارے کے ذریعے مدرسہ کی تعمیر کی.

جس میں آپ مغرب سے عشاء تک درس دیتے تھے.

مکتب اور یہ ادارہ دونوں کامیابی کے ساتھ چلتے رہے.

تقریباً چالیس سال کی عمر میں حکیم شمس الہدی علیہ الرحمہ کا وصال ہوگیا

مگر ان کا قائم کیا ہوا مدرسہ چلتا رہا

ایک طویل عرصے کے بعد رئیس الاذکیا علامہ غلام یزدانی اعظمی گھوسوی علیہ الرحمہ نے ارادہ کیا کہ یہاں ایک باقاعدہ دینی درسگاہ ہونی چاہیے تو گھوسی کے سربرآوردہ حضرات کو اپنے اردے سے آگاہ کیا، لوگوں نے بھی ہمنوائی کی اور حاجی شکر اللہ مرحوم نے دو منڈہ زمین مدرسے کے لیے وقف کی اور بنیاد رکھنے کی تیاری بھی مکمل ہوگئی آخر میں یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ مدرسہ کا نام کیا رکھا جائے تو مولانا غلام یزدانی علیہ الرحمہ نے فرمایا "گھوسی میں تعلیم و تربیت کے میدان میں حکیم شمس الہدی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اس لئے ان کے نام سے" شمس العلوم " نام رکھا جائے.

اس طرح گھوسی میں تعلیم و تربیت کی جو بھی جلوہ ریزیاں ہیں وہ صدر الشریعہ اور ان کے شہزادگان کی برکت ہے.

وصال:
رمضان المبارک کی دسویں شب ١٣٥٩ھ کو آپ نے پردہ فرمایا.

اس وقت حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نماز تراویح ادا فرما رہے تھے، اطلاع دی گئی تشریف لائے، انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا "ابھی آٹھ رکعت باقی ہے" اور پھر نماز میں مصروف ہوگئے.

آپ نے اپنے پیچھے تین صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ چھوڑا.

آپ کے صاحبزادے حضرت علامہ قمر الہدی علیہ الرحمہ بھی اپنے والد ماجد اور جد کریم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی پوری زندگی علم دین کی نشر و اشاعت اور مسلک اعلی حضرت کی ترویج کے لئے وقف کر دی.

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hakeem-shams-ul-huda
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رضی الله تعالیٰ عنہا

نام و نسب:
اسمِ گرامی: خدیجۃ الکبریٰ ۔ کنیت: اُمِّ ہند ۔ لقب: سیّدہ ، طاہرہ ۔

نسب:
حضرت سیّدتنا اُمّ المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:

خدیجہ بنتِ خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی ۔

سیّدہ کا نسب حضور ﷺ سے قصی پر مل جاتا ہے ۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنتِ زائدہ بن الاصم بنی عامر بن لوی سے تھیں ۔

ولادت:
سیّدتنا حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا شرافت ، امانت ، ایفائے عہد ، سخاوت ، غریب پروری ، فراخ دلی اور عفّت و حیاجیسی اعلیٰ صفات اور خوبیوں کے ساتھ واقعۂ فیل سے 15 سال پہلے، 555ء میں اس دنیا میں تشریف لائیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوبیاں آپ کی طبیعت کا لازمی جز بن گئیں اور پورے عرب میں آپ کی اعلیٰ خوبیوں کا چرچا ہونے لگا ۔

اسلام کی خاتونِ اوّل اور نبی اکرم ﷺ کی زوجۂ اوّل حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا عورتوں، بلکہ سب سے پہلے ایمان لانے والی اور نبی مکرم ﷺ کی پہلی زوجۂ محترمہ تھیں ۔ دوسرے الفاظ میں آپ اسلام کی بھی خاتونِ اوّل تھیں اور نبی مکرم ﷺ کی بھی ۔ شادی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پچیس سال رہیں ۔ اُن کی زندگی میں آپ ﷺ نے کسی سے شادی نہیں کی ۔

اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:

’’لَمْ یَتَزَوَّجِ النَّبِیُّ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی خَدِیْجَةَ حَتّٰی مَاتَتْ۔‘‘

ترجمہ: ’’نبی اکرم ﷺ نے حضرت خدیجہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئیں۔‘‘

سیرت و خصائص:
حضور سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں جن عورتوں کو زوجیت کا شرف حاصل ہوا، حق سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی نے اپنے حبیب ﷺ کی نسبت کی بنا پر اُن کو ’’اُمّہات المومنین‘‘ فرمایا ہے یعنی مومنوں کی مائیں۔

اَلنَّبِیُّ اَوْ لٰی بِالْمُؤْمِنِیْنِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُھُمْ (پ 21، الاحزاب :6)

ترجمۂ کنز الایمان: ’’یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘

آپ رسول ﷲ ﷺ کی سب سے پہلی زوجۂ محترمہ اور رفیقۂ حیات ہیں ۔ یہ خاندانِ قریش کی بہت ہی با وقار و ممتاز خاتون ہیں ۔ ان کی شرافت اور پاک دامنی کی بنا پر تمام مکہ والے ان کو ’’طاہرہ‘‘ کے لقب سے پکارا کرتے تھے ۔

انہوں نے حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے اَخلاق و عادات اور جمالِ صورت و کمالِ سیرت کو دیکھ کر خود ہی آپ سے نکاح کی رغبت ظاہر کی ۔

چنانچہ اَشرافِ قریش کے مجمع میں باقاعدہ نکاح ہوا ۔ یہ رسول الله ﷺ کی بہت ہی جاں نثار اور وفا شعار بیوی ہیں اور حضورِ اقدس ﷺ کو ان سے بہت ہی بے پناہ محبت تھی ۔

چنانچہ جب تک یہ زندہ رہیں آپ ﷺ نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور یہ مسلسل پچیس سال تک محبوبِ خدا کی جاں نثاری و خدمت گزاری کے شرف سے سرفراز رہیں۔

حضور علیہ الصلاۃ و السلام کو بھی ان سے اس قدر محبّت تھی کہ ان کی وفات کے بعد، اپنی محبوب ترین بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا کرتے تھے کہ

’’خدا کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی ۔ جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لیے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شکم سے ﷲ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔‘‘ (شرح العلامۃ الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، حضرت خدیجہ اُمّ المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا، ج۴، ص۳۶۳؛ الاستیعاب، کتاب النساء، ۳۳۴۷، خدیجہ بنتِ خویلد، ج۴، ص۳۷۹)

اِس بات پر ساری اُمّت کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے حضور ﷺ کی نبوّت پر یہی ایمان لائیں اور ابتدائے اسلام میں جب کہ ہر طرف آپ ﷺ کی مخالفت کا طوفان اٹھا ہوا تھا ایسے خوف ناک اور کٹھن وقت میں صرف ایک حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی ہی ذات تھی جو پروانوں کی طرح حضور ﷺ پر قربان ہو رہی تھیں اور اتنے خطرناک اوقات میں جس استقلال و استقامت کے ساتھ انہوں نے خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اس خصوصیت میں تمام ازواجِ مطہرات پر ان کو ایک ممتاز فضیلت حاصل ہے۔

ان کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی آئی ہیں۔

چنانچہ حضورِ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ

’’ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے
زیادہ اچھی اور باکمال چار بیبیاں ہیں:

ایک حضرت مریم ، دوسری آسیہ فرعون کی بیوی، تیسری حضرت خدیجہ، چوتھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہن ۔‘‘
2
ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دربارِ نبوّت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ

’’اے محمد ﷺ یہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ہیں جو آپ ﷺ وسلم کے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں ۔ جب یہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام کہہ دیجیےگا اور ان کو یہ خوش خبری سنا دیجیےگا کہ جنّت میں ان کے لیے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی ۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ، حدیث نمبر ۳۸۲۰، ج۲، ص۵۶۵)

حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا:

وما رأیتہا ولٰکن کان النبی صلی اللٰہ علیہ و الہ وسلم یکثر ذکرھا و ربماذبح الشاۃ ثم یقطعہا اعضآء ثم یبعثھا فی صدآئق خدیجۃ فربما قلت لہٗ کا نہٗ لم یکن فی الدنیا امرأۃ الا خدیجۃ فیقول انھا کانت وکانت وکان لی منھا ولد ۔ (بخاری، جلد اوّل، ص۳۹؛ مسلم، جلد دوم، ص ۲۸۴؛ ترمذی، جلد ۲، ص۴۶۵)

’’ترجمہ: رسول اللہ ﷺ اکثر سیّدہ خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر فرماتے تھے، بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اَعضا کاٹتے پھر وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے تو میں کبھی آپ سے کہہ دیتی تھی گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں اور کوئی عورت ہی نہیں تھیں تو آپ فرماتے وہ ایسی ہی تھیں اور ان سے میری اولاد بھی ہوئی۔‘‘

سرکارِ دو جہاں ﷺ نے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا، لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی محبّت آخرِ عمر تک آپ ﷺ کے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضور ﷺ کے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ ﷺ بار بار حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔

وصالِ پُر ملال:
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات، 10؍رمضان المبارک 10؍ نبوی کو، ہجرت سے تین برس قبل، مکۂ مکرّمہ میں ہوئی ۔

وصال کے وقت آپ کی عمر شریف 65؍ برس تھی ۔ آپ کی وفات سے تین یا پانچ دن پہلے حضورِ اقدس ﷺ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا تھا ۔ ابھی آپ ﷺ چچا کی وفات کے صدمے سے گزر ہی رہے تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا انتقال ہو گیا ۔ اِس سانحے کا قلبِ مبارک پر اتنا گہرا اَثر ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے اُس سال کا نام ہی ’’ عام الحزن ‘‘ (غم کا سال) رکھ دیا ۔

نمازِ جنازہ:
اُس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے آپ ﷺ نے اُن کی نماز نہیں پڑھائی ۔

تدفین:
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مکۂ مکرّمہ کے مشہور قبرستان ’’جنّت المعلیٰ‘‘ کے مقبرہ حجون میں استراحت فرما ہیں ۔ خود حضورِ اقدس ﷺ نے اُن کی قبرِ اَنور میں اُتر کر اپنے مقدّس ہاتھوں سے ان کو سپردِ خاک فرمایا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-khadija-bint-khuwaylid
3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-09-1444 ᴴ | 01-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-09-1444 ᴴ | 02-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2