🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-09-1444 ᴴ | 01-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-09-1444 ᴴ | 01-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-09-1444 ᴴ | 01-04-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-09-1444 ᴴ | 01-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
شیخ ڈاکٹر مفسر محدث فقیہ عارف باللہ
رجب صبحی دیب (دمشق، شام) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ملک شام کے معروف عالم دین اور سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت شیخ ڈاکٹر محدث مفسر فقیہ عارف باللہ حضرت رجب صبحی دیب ۱۰ رمضان المبارک وقت عصر ۱۴۳۷ھ بمطابق ۱۵ جون ۲۰۱۶ء اس دارِ فانی سے انتقال فرما گئے ۔
حضرت کی نمازِ جنازہ ۱۱ رمضان المبارک ۱۴۳۷ھ بمطابق ۱۶ جون ۲۰۱۶ء جامعہ ابو النور میں ادا کی جائے گی اور ان کے خاندانی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائےگا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-dr--mufassir-muhaddis-rajab-subhi-deeb-syria-
#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
https://t.me/islaamic_Knowledge/47999
رجب صبحی دیب (دمشق، شام) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ملک شام کے معروف عالم دین اور سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت شیخ ڈاکٹر محدث مفسر فقیہ عارف باللہ حضرت رجب صبحی دیب ۱۰ رمضان المبارک وقت عصر ۱۴۳۷ھ بمطابق ۱۵ جون ۲۰۱۶ء اس دارِ فانی سے انتقال فرما گئے ۔
حضرت کی نمازِ جنازہ ۱۱ رمضان المبارک ۱۴۳۷ھ بمطابق ۱۶ جون ۲۰۱۶ء جامعہ ابو النور میں ادا کی جائے گی اور ان کے خاندانی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائےگا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sheikh-dr--mufassir-muhaddis-rajab-subhi-deeb-syria-
#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
https://t.me/islaamic_Knowledge/47999
❤1👍1
حضرت سیدنا عبد اللہ المحض بن سیدنا امام حسن مثنی رحمۃ اللہ علیہ
۱۱ / ربیع الآخر بروز دو شنبہ ۹۲ھ میں اپنے والدِ گرامی حضرت حسن مثنیٰ سے خلافت پائی ۔
۱۰ / رمضان المبارک ۱۴۵ھ میں وفات پائی اور جنّت البقیع میں دفن ہوئے۔
( شریفُ التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdullah-al-mahaz
#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
https://t.me/islaamic_Knowledge/48001
۱۱ / ربیع الآخر بروز دو شنبہ ۹۲ھ میں اپنے والدِ گرامی حضرت حسن مثنیٰ سے خلافت پائی ۔
۱۰ / رمضان المبارک ۱۴۵ھ میں وفات پائی اور جنّت البقیع میں دفن ہوئے۔
( شریفُ التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abdullah-al-mahaz
#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
https://t.me/islaamic_Knowledge/48001
❤1
قاضی ابو المحاسن بہاؤ الدین یوسف بن رافع اسدی المعروف بابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ِ باسعادت 10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا۔موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نےمختلف ممالک کا سفر بھی کیا۔
سیرت و خصائص:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے۔ آپ کی خداداد صلاحیتوں کی بناء پر سلطان نے آپ کوعہدۂ قضاء سپرد کیااور آپ نے اس عہدے کو خوش دلی سے قبول بھی کیااور خوش اسلوبی سے ادا بھی کیا۔ آپ کے زمانے کے کثیر علماء نے آپ کی مدح وتعریف کے پل باندھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ابنِ شداد اپنے وقت کے امام اور ثقہ عالم وفاضل تھے۔ دین اوردنیا دونوں کی کامل معرفت رکھتے تھے ۔آپ کے عدل وانصاف کے فیصلے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک درس وتدریس ، افتاء و تصنیف میں مشغول رہے۔
تاریخِ وصال:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ نے 14 صفر المظفر 632 ھ / بمطابق نومبر 1234 ء میں انتقال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع : سیر اعلام النبلاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abul-mahasin-yousuf-bin-rafay-al-asadi
اسمِ گرامی:
يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ِ باسعادت 10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا۔موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نےمختلف ممالک کا سفر بھی کیا۔
سیرت و خصائص:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے۔ آپ کی خداداد صلاحیتوں کی بناء پر سلطان نے آپ کوعہدۂ قضاء سپرد کیااور آپ نے اس عہدے کو خوش دلی سے قبول بھی کیااور خوش اسلوبی سے ادا بھی کیا۔ آپ کے زمانے کے کثیر علماء نے آپ کی مدح وتعریف کے پل باندھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ابنِ شداد اپنے وقت کے امام اور ثقہ عالم وفاضل تھے۔ دین اوردنیا دونوں کی کامل معرفت رکھتے تھے ۔آپ کے عدل وانصاف کے فیصلے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک درس وتدریس ، افتاء و تصنیف میں مشغول رہے۔
تاریخِ وصال:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ نے 14 صفر المظفر 632 ھ / بمطابق نومبر 1234 ء میں انتقال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع : سیر اعلام النبلاء
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abul-mahasin-yousuf-bin-rafay-al-asadi
scholars.pk
Hazrat Qazi Abul Mahasin Yousuf Bin Rafay Al Asadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
شہزادۂ صدر الشریعہ، حضرت علامہ حکیم شمس الہدیٰ اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان
یوم وصال: 10 رمضان المبارک
آپ محلہ کریم الدین پور گھوسی ضلع اعظم گڑھ حال مئو میں پیدا ہوئے
آپ کی پیدائش پر صدر الشریعہ نے فرمایا تھا کہ
"اگر میرا یہ بیٹا دین کا. عالم ہوجائے گا تو میرے خاندان میں دس پشتوں سے مسلسل عالم ہوجائیں گے"
آپ نے والد گرامی کی نگرانی میں منشی مولوی، عالم، فاضل کیا. طب و حکمت بھی حاصل کیا.. اور جید عالم وحکیم ہوئے.
آپ بڑے علم دوست تھے. فراغت کے بعد والد گرامی نے گھر ہی رہنے کا حکم دیا اور اس وقت گھوسی میں کوئی اسلامی مکتب نہیں تھا اپ نے اپنی سعی سے ایک مکتب اپنی آبائی زمین پر قائم کیا جہاں اس وقت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا مزار پر انوار ہے.
پھر آپ نے نوجوانوں کی تعلیم کی طرف توجہ مبذول کی اور لوگوں سے مشورہ کے بعد اپنے والد کی ایک زمین جو ان کی زمینداری میں تھی مدرسے کے لیے مقرر کردی اور فرمایا
"آپ سب لوگ مل کر اس زمین پر مدرسہ قائم کرو"
لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ مٹی گارے کے ذریعے مدرسہ کی تعمیر کی.
جس میں آپ مغرب سے عشاء تک درس دیتے تھے.
مکتب اور یہ ادارہ دونوں کامیابی کے ساتھ چلتے رہے.
تقریباً چالیس سال کی عمر میں حکیم شمس الہدی علیہ الرحمہ کا وصال ہوگیا
مگر ان کا قائم کیا ہوا مدرسہ چلتا رہا
ایک طویل عرصے کے بعد رئیس الاذکیا علامہ غلام یزدانی اعظمی گھوسوی علیہ الرحمہ نے ارادہ کیا کہ یہاں ایک باقاعدہ دینی درسگاہ ہونی چاہیے تو گھوسی کے سربرآوردہ حضرات کو اپنے اردے سے آگاہ کیا، لوگوں نے بھی ہمنوائی کی اور حاجی شکر اللہ مرحوم نے دو منڈہ زمین مدرسے کے لیے وقف کی اور بنیاد رکھنے کی تیاری بھی مکمل ہوگئی آخر میں یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ مدرسہ کا نام کیا رکھا جائے تو مولانا غلام یزدانی علیہ الرحمہ نے فرمایا "گھوسی میں تعلیم و تربیت کے میدان میں حکیم شمس الہدی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اس لئے ان کے نام سے" شمس العلوم " نام رکھا جائے.
اس طرح گھوسی میں تعلیم و تربیت کی جو بھی جلوہ ریزیاں ہیں وہ صدر الشریعہ اور ان کے شہزادگان کی برکت ہے.
وصال:
رمضان المبارک کی دسویں شب ١٣٥٩ھ کو آپ نے پردہ فرمایا.
اس وقت حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نماز تراویح ادا فرما رہے تھے، اطلاع دی گئی تشریف لائے، انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا "ابھی آٹھ رکعت باقی ہے" اور پھر نماز میں مصروف ہوگئے.
آپ نے اپنے پیچھے تین صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ چھوڑا.
آپ کے صاحبزادے حضرت علامہ قمر الہدی علیہ الرحمہ بھی اپنے والد ماجد اور جد کریم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی پوری زندگی علم دین کی نشر و اشاعت اور مسلک اعلی حضرت کی ترویج کے لئے وقف کر دی.
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hakeem-shams-ul-huda
یوم وصال: 10 رمضان المبارک
آپ محلہ کریم الدین پور گھوسی ضلع اعظم گڑھ حال مئو میں پیدا ہوئے
آپ کی پیدائش پر صدر الشریعہ نے فرمایا تھا کہ
"اگر میرا یہ بیٹا دین کا. عالم ہوجائے گا تو میرے خاندان میں دس پشتوں سے مسلسل عالم ہوجائیں گے"
آپ نے والد گرامی کی نگرانی میں منشی مولوی، عالم، فاضل کیا. طب و حکمت بھی حاصل کیا.. اور جید عالم وحکیم ہوئے.
آپ بڑے علم دوست تھے. فراغت کے بعد والد گرامی نے گھر ہی رہنے کا حکم دیا اور اس وقت گھوسی میں کوئی اسلامی مکتب نہیں تھا اپ نے اپنی سعی سے ایک مکتب اپنی آبائی زمین پر قائم کیا جہاں اس وقت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا مزار پر انوار ہے.
پھر آپ نے نوجوانوں کی تعلیم کی طرف توجہ مبذول کی اور لوگوں سے مشورہ کے بعد اپنے والد کی ایک زمین جو ان کی زمینداری میں تھی مدرسے کے لیے مقرر کردی اور فرمایا
"آپ سب لوگ مل کر اس زمین پر مدرسہ قائم کرو"
لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ مٹی گارے کے ذریعے مدرسہ کی تعمیر کی.
جس میں آپ مغرب سے عشاء تک درس دیتے تھے.
مکتب اور یہ ادارہ دونوں کامیابی کے ساتھ چلتے رہے.
تقریباً چالیس سال کی عمر میں حکیم شمس الہدی علیہ الرحمہ کا وصال ہوگیا
مگر ان کا قائم کیا ہوا مدرسہ چلتا رہا
ایک طویل عرصے کے بعد رئیس الاذکیا علامہ غلام یزدانی اعظمی گھوسوی علیہ الرحمہ نے ارادہ کیا کہ یہاں ایک باقاعدہ دینی درسگاہ ہونی چاہیے تو گھوسی کے سربرآوردہ حضرات کو اپنے اردے سے آگاہ کیا، لوگوں نے بھی ہمنوائی کی اور حاجی شکر اللہ مرحوم نے دو منڈہ زمین مدرسے کے لیے وقف کی اور بنیاد رکھنے کی تیاری بھی مکمل ہوگئی آخر میں یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ مدرسہ کا نام کیا رکھا جائے تو مولانا غلام یزدانی علیہ الرحمہ نے فرمایا "گھوسی میں تعلیم و تربیت کے میدان میں حکیم شمس الہدی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اس لئے ان کے نام سے" شمس العلوم " نام رکھا جائے.
اس طرح گھوسی میں تعلیم و تربیت کی جو بھی جلوہ ریزیاں ہیں وہ صدر الشریعہ اور ان کے شہزادگان کی برکت ہے.
وصال:
رمضان المبارک کی دسویں شب ١٣٥٩ھ کو آپ نے پردہ فرمایا.
اس وقت حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نماز تراویح ادا فرما رہے تھے، اطلاع دی گئی تشریف لائے، انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا "ابھی آٹھ رکعت باقی ہے" اور پھر نماز میں مصروف ہوگئے.
آپ نے اپنے پیچھے تین صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ چھوڑا.
آپ کے صاحبزادے حضرت علامہ قمر الہدی علیہ الرحمہ بھی اپنے والد ماجد اور جد کریم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی پوری زندگی علم دین کی نشر و اشاعت اور مسلک اعلی حضرت کی ترویج کے لئے وقف کر دی.
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hakeem-shams-ul-huda
scholars.pk
Hazrat Hakeem Shams ul Huda
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2