ولادت وفات بزرگان دین عَلَیۡہِمُ الرَّحۡمَہۡ
بتاریخ ۲۷ صفرالمظفر 🌹 Safar 27
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=27&month=02&year=&page=1
بتاریخ ۲۷ صفرالمظفر 🌹 Safar 27
https://www.ziaetaiba.com/en/scholar/gotodate?bd=2&day=27&month=02&year=&page=1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
میری لڑکی کی شادی ہے
میں بہت غریب ہوں اور میری لڑکی کی شادی ہے، آپ سب مدد کیجیے..........،
سلام پھیرتے ہی کانوں میں یہ آواز آئی اور یہ پہلی بار نہیں تھا بلکہ ہفتے میں ایک دو بار یہ سننے کو ملتا ہی رہتا ہے۔
اگر میں صحیح ہوں تو آپ نے بھی مسجدوں میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو اپنی لڑکی کی شادی کے لیے بھیک مانگتے ہیں۔ لڑکے کو گاڑی، جہیز، نقدی دینے اور باراتیوں کو کھانا کھلانے کے لیے ایک غریب شخص آخر مانگنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے۔
میں نے دیکھا ہے کہ لوگ پانچ دس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا لیکن یہ مدد کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔
اگر آپ واقعی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ نیت کر لیں کہ جب میں شادی کروں گا تو ایک روپے بھی نہیں لوں گا تاکہ میری وجہ سے کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
اگر آپ اسے ہزار روپے دیتے ہیں اور پھر اپنی یا اپنے بچوں کی شادی میں لڑکی والوں سے ان چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ مدد نہیں بلکہ ایک مذاق ہے۔
عبد مصطفی
میں بہت غریب ہوں اور میری لڑکی کی شادی ہے، آپ سب مدد کیجیے..........،
سلام پھیرتے ہی کانوں میں یہ آواز آئی اور یہ پہلی بار نہیں تھا بلکہ ہفتے میں ایک دو بار یہ سننے کو ملتا ہی رہتا ہے۔
اگر میں صحیح ہوں تو آپ نے بھی مسجدوں میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو اپنی لڑکی کی شادی کے لیے بھیک مانگتے ہیں۔ لڑکے کو گاڑی، جہیز، نقدی دینے اور باراتیوں کو کھانا کھلانے کے لیے ایک غریب شخص آخر مانگنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے۔
میں نے دیکھا ہے کہ لوگ پانچ دس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا لیکن یہ مدد کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔
اگر آپ واقعی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ نیت کر لیں کہ جب میں شادی کروں گا تو ایک روپے بھی نہیں لوں گا تاکہ میری وجہ سے کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
اگر آپ اسے ہزار روپے دیتے ہیں اور پھر اپنی یا اپنے بچوں کی شادی میں لڑکی والوں سے ان چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ مدد نہیں بلکہ ایک مذاق ہے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
عالِم اور عشق
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ بغداد کا ایک بہت بڑا عالم اپنے طلبہ کے ساتھ حج کے سفر پر روانہ ہوا۔ دوران سفر پانی نہ ملنے کی وجہ سے سب نڈھال ہو کر ایک گرجا گھر کے سائے میں آرام کرنے لگے۔ طلبہ سائے تلے سو گئے لیکن استاد صاحب پانی کی تلاش میں نکل پڑے۔
پانی کی تلاش میں گھوم رہے تھے کہ ایک عیسائی لڑکی پر نظر پڑی جو چمکتے ہوئے سورج کی طرح خوب صورت تھی۔ اب پانی کو بھول کر استاد صاحب اسی کی فکر میں لگ گئے پھر اس لڑکی کے گھر پہنچ کر اس کے باپ سے بات کی تو اس نے کہا کہ اگر تم ہمارا دین قبول کر لو تو ہی کچھ ہو سکتا ہے۔
استاد صاحب نے نصرانیت کو قبول کر لیا؛ اِدھر طلبہ ابھی سو رہے تھے۔
پھر جب شادی کے لیے مہر کی بات آئی تو لڑکی نے کہا کہ تم ان خنزیروں کو ایک سال چراؤ تو یہی میرا مہر ہوگا۔ استاد صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے کہ ایک سال تک تم اپنا چہرہ مجھ سے نہیں چھپاؤ گی۔ لڑکی بولی کہ منظور ہے۔ استاد صاحب نے خطبہ دینے والا عصا اٹھایا اور خنزیروں کو چرانے نکل پڑے!
جب طلبہ جاگے تو یہ سب جاننے کے بعد نیند کے ساتھ ان کے ہوش بھی اڑ گئے۔ پھر وہ استاد صاحب سے ملنے گئے تو دیکھا کہ وہ خنزیروں کو ادھر ادھر جانے سے روک رہے ہیں۔ طلبہ نے استاد صاحب کو قرآن پاک، اسلام اور نبی کریم ﷺ کے فضائل یاد دلائے تو اس نے کہا کہ مجھ سے دور ہو جاؤ، میں یہ سب تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ آخر کار طلبہ مایوس ہو کر سفر حج پر روانہ ہوگئے۔
حج ادا کرنے کے بعد واپسی پر جب اسی مقام پر پہنچے تو پھر استاد صاحب کی حالت دیکھنے گئے کہ شاید توبہ کر لی ہو لیکن اسے اسی حالت میں پایا۔ طلبہ نے نصیحت کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک بار پھر وہ حسرت زدہ دل لیے واپس ہو لیے۔
جب طلبہ تھوڑی دور نکل گئے تو انھوں نے دیکھا کہ پیچھے کوئی شخص چیخ چیخ کر انھیں روک رہا ہے۔ جب وہ قریب آیا تو معلوم ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ استاد صاحب تھے۔ استاد صاحب نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؛ یہ آزمائش تھی جس سے میں نکل گیا۔
ایک دن طلبہ استاد صاحب کے گھر پر تھے کہ ایک عورت نے دروازے پر دستک دی۔ پوچھا گیا تو کہنے لگی کہ مجھے شیخ سے ملنا ہے، شیخ سے کہو کہ فلاں راہب کی بیٹی اسلام قبول کرنے آئی ہے۔ پھر وہ اندر داخل ہوئی اور بولی:
اے میرے سردار! آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے آئی ہوں۔ جب آپ چلے گئے تو میں نے ایک خواب دیکھا جس میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت ہوئی۔ انھوں نے فرمایا کہ دین محمدی کے علاوہ کوئی دین سچا نہیں پھر فرمایا کہ اللہ تعالی نے تیرے ذریعے ایک بندے کو آزمایا ہے چناں چہ اب میں آپ کے پاس آ گئی ہوں۔
اسلام قبول کرنے کے بعد شیخ نے ان سے نکاح کر لیا۔
(انظر: بحر الدموع اردو، ص128، ملخصاً)
اس واقعے میں کئی اسباق ہیں لیکن ایک بڑا سبق یہ ہے کہ جب کسی کو کسی سے عشق ہو جائے تو اسے پانے کے لیے حد سے آگے نہ بڑھے۔ اگر حد کے اندر رہ کر حاصل نہ کر پائے تو پھر صبر کرے اور اپنے رب سے بہتری کی امید رکھے۔
بے شک اللہ تعالی کے لیے یہ ناممکن نہیں کہ کسی کے دل کو پھیر دے۔ اگر آپ اپنی چاہت میں مخلص ہیں تو اللہ کے فضل سے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور دکھائی دے گا۔
عبد مصطفی
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ بغداد کا ایک بہت بڑا عالم اپنے طلبہ کے ساتھ حج کے سفر پر روانہ ہوا۔ دوران سفر پانی نہ ملنے کی وجہ سے سب نڈھال ہو کر ایک گرجا گھر کے سائے میں آرام کرنے لگے۔ طلبہ سائے تلے سو گئے لیکن استاد صاحب پانی کی تلاش میں نکل پڑے۔
پانی کی تلاش میں گھوم رہے تھے کہ ایک عیسائی لڑکی پر نظر پڑی جو چمکتے ہوئے سورج کی طرح خوب صورت تھی۔ اب پانی کو بھول کر استاد صاحب اسی کی فکر میں لگ گئے پھر اس لڑکی کے گھر پہنچ کر اس کے باپ سے بات کی تو اس نے کہا کہ اگر تم ہمارا دین قبول کر لو تو ہی کچھ ہو سکتا ہے۔
استاد صاحب نے نصرانیت کو قبول کر لیا؛ اِدھر طلبہ ابھی سو رہے تھے۔
پھر جب شادی کے لیے مہر کی بات آئی تو لڑکی نے کہا کہ تم ان خنزیروں کو ایک سال چراؤ تو یہی میرا مہر ہوگا۔ استاد صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے کہ ایک سال تک تم اپنا چہرہ مجھ سے نہیں چھپاؤ گی۔ لڑکی بولی کہ منظور ہے۔ استاد صاحب نے خطبہ دینے والا عصا اٹھایا اور خنزیروں کو چرانے نکل پڑے!
جب طلبہ جاگے تو یہ سب جاننے کے بعد نیند کے ساتھ ان کے ہوش بھی اڑ گئے۔ پھر وہ استاد صاحب سے ملنے گئے تو دیکھا کہ وہ خنزیروں کو ادھر ادھر جانے سے روک رہے ہیں۔ طلبہ نے استاد صاحب کو قرآن پاک، اسلام اور نبی کریم ﷺ کے فضائل یاد دلائے تو اس نے کہا کہ مجھ سے دور ہو جاؤ، میں یہ سب تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ آخر کار طلبہ مایوس ہو کر سفر حج پر روانہ ہوگئے۔
حج ادا کرنے کے بعد واپسی پر جب اسی مقام پر پہنچے تو پھر استاد صاحب کی حالت دیکھنے گئے کہ شاید توبہ کر لی ہو لیکن اسے اسی حالت میں پایا۔ طلبہ نے نصیحت کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک بار پھر وہ حسرت زدہ دل لیے واپس ہو لیے۔
جب طلبہ تھوڑی دور نکل گئے تو انھوں نے دیکھا کہ پیچھے کوئی شخص چیخ چیخ کر انھیں روک رہا ہے۔ جب وہ قریب آیا تو معلوم ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ استاد صاحب تھے۔ استاد صاحب نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؛ یہ آزمائش تھی جس سے میں نکل گیا۔
ایک دن طلبہ استاد صاحب کے گھر پر تھے کہ ایک عورت نے دروازے پر دستک دی۔ پوچھا گیا تو کہنے لگی کہ مجھے شیخ سے ملنا ہے، شیخ سے کہو کہ فلاں راہب کی بیٹی اسلام قبول کرنے آئی ہے۔ پھر وہ اندر داخل ہوئی اور بولی:
اے میرے سردار! آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے آئی ہوں۔ جب آپ چلے گئے تو میں نے ایک خواب دیکھا جس میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت ہوئی۔ انھوں نے فرمایا کہ دین محمدی کے علاوہ کوئی دین سچا نہیں پھر فرمایا کہ اللہ تعالی نے تیرے ذریعے ایک بندے کو آزمایا ہے چناں چہ اب میں آپ کے پاس آ گئی ہوں۔
اسلام قبول کرنے کے بعد شیخ نے ان سے نکاح کر لیا۔
(انظر: بحر الدموع اردو، ص128، ملخصاً)
اس واقعے میں کئی اسباق ہیں لیکن ایک بڑا سبق یہ ہے کہ جب کسی کو کسی سے عشق ہو جائے تو اسے پانے کے لیے حد سے آگے نہ بڑھے۔ اگر حد کے اندر رہ کر حاصل نہ کر پائے تو پھر صبر کرے اور اپنے رب سے بہتری کی امید رکھے۔
بے شک اللہ تعالی کے لیے یہ ناممکن نہیں کہ کسی کے دل کو پھیر دے۔ اگر آپ اپنی چاہت میں مخلص ہیں تو اللہ کے فضل سے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور دکھائی دے گا۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
بھولی بھالی بیوی
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی بیوی کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے۔ پھر وہاں سے اٹھے اور حجرے کی طرف تشریف لے گئے جہاں ان کی باندی تھی اور اس سے مشغول ہو گئے۔
جب ان کی بیوی نے بیدار ہو کر ان کو نہ پایا تو تلاش کے لیے نکلیں اور دیکھا کہ وہ اپنی باندی کے پیٹ پر ہیں تو وہیں سے واپس ہو گئیں اور چھری لے کر باندی کے پاس گئیں! (آج یا تو باندی یا پھر میں)
حضرت عبداللہ نے کہا کہ کیا بات ہے؟ بیوی نے کہا کہ کیا بات! سمجھ لو! میں اگر اِس وقت تم کو اسی حالت میں دیکھتی جس میں تم تھے تو اس چھری سے اس (باندی) کی خبر لیتی۔
حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں کہاں تھا؟ بیوی نے کہا کہ اس باندی کے پیٹ پر؛ حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں کہاں تھا (اور یہ اس انداز میں کہا کہ بیوی کو لگا کہ آپ انکار کر رہے ہیں)۔
بیوی نے (چیک کرنے کے لیے) کہا:
اچھا؛ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حالت جنابت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے (لہذا) اگر تم سچے ہو تو قرآن پڑھ کر سناؤ۔
حضرت عبداللہ نے (قرآن کے لہجے میں) عربی اشعار پڑھ ڈالے۔ جب بیوی نے سنا تو قرآن سمجھ کر کہا کہ میں اللہ پر ایمان لائی اور میری آنکھیں جھوٹی ہیں۔
حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے صبح یہ ماجرا حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو آپ اتنا مسکرائے کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔
(کتاب الاذکیاء لابن جوزی)
بیویوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ شوہروں کے پیچھے پڑی رہتی ہیں اور محبت کی نگاہ سے کم، شک کی نگاہ سے زیادہ دیکھتی ہیں۔ شک کرنے کے لیے انھیں بس ایک چنگاری کی ضرورت ہے، پھر آگ لگنے میں بالکل دیر نہیں لگتی۔
بیویاں ویسے تو اپنے شک میں آ کر شوہروں کی خوب جانچ پڑتال کرتی ہیں لیکن شوہر بھی کم نہیں ہوتے، وہ بھی ہمیشہ دو قدم آگے رہتے ہیں۔
عبد مصطفی
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی بیوی کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے۔ پھر وہاں سے اٹھے اور حجرے کی طرف تشریف لے گئے جہاں ان کی باندی تھی اور اس سے مشغول ہو گئے۔
جب ان کی بیوی نے بیدار ہو کر ان کو نہ پایا تو تلاش کے لیے نکلیں اور دیکھا کہ وہ اپنی باندی کے پیٹ پر ہیں تو وہیں سے واپس ہو گئیں اور چھری لے کر باندی کے پاس گئیں! (آج یا تو باندی یا پھر میں)
حضرت عبداللہ نے کہا کہ کیا بات ہے؟ بیوی نے کہا کہ کیا بات! سمجھ لو! میں اگر اِس وقت تم کو اسی حالت میں دیکھتی جس میں تم تھے تو اس چھری سے اس (باندی) کی خبر لیتی۔
حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں کہاں تھا؟ بیوی نے کہا کہ اس باندی کے پیٹ پر؛ حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں کہاں تھا (اور یہ اس انداز میں کہا کہ بیوی کو لگا کہ آپ انکار کر رہے ہیں)۔
بیوی نے (چیک کرنے کے لیے) کہا:
اچھا؛ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حالت جنابت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے (لہذا) اگر تم سچے ہو تو قرآن پڑھ کر سناؤ۔
حضرت عبداللہ نے (قرآن کے لہجے میں) عربی اشعار پڑھ ڈالے۔ جب بیوی نے سنا تو قرآن سمجھ کر کہا کہ میں اللہ پر ایمان لائی اور میری آنکھیں جھوٹی ہیں۔
حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے صبح یہ ماجرا حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو آپ اتنا مسکرائے کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔
(کتاب الاذکیاء لابن جوزی)
بیویوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ شوہروں کے پیچھے پڑی رہتی ہیں اور محبت کی نگاہ سے کم، شک کی نگاہ سے زیادہ دیکھتی ہیں۔ شک کرنے کے لیے انھیں بس ایک چنگاری کی ضرورت ہے، پھر آگ لگنے میں بالکل دیر نہیں لگتی۔
بیویاں ویسے تو اپنے شک میں آ کر شوہروں کی خوب جانچ پڑتال کرتی ہیں لیکن شوہر بھی کم نہیں ہوتے، وہ بھی ہمیشہ دو قدم آگے رہتے ہیں۔
عبد مصطفی