🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
استاد العلماء حضرت مولانا عبدالرحمن سہڑو  رحمۃ اللہ علیہ

استاد العلماء حضرت مولانا عبدالرحمن سہڑو بن محمد عمر بن خیر محمد گوٹھ کندھرا سہڑا (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۳۴۰ھ؍ ۱۹۲۲ء (شناختی کارڈ کے مطابق ) کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجا میں علامہ تاج محمد آریجوی سے حاصل کی اس کے بعد مدرسہ دارالفیض سونہ جتوئی میں غالبا علامہ دوست علی جتوئی سے بعض اسباق پڑھے ، بعد ازاں جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ مشوری شریف میں حضرت فقیہ اعظم علامہ مفتی محمد قاسم مشوری سے بعض کتابیں پڑھی اس کے بعد ہمایوں شریف کا رخ کیا جہاں غالبا مفتی عبدالباقی ہمایونی سے تعلیم حاصل کی اور بالآخر استاد اول علامہ تاج محمد آریجوی کے پاس آئے وہیں نصاب کی تکمیل کے بعد ۱۹۶۵ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔ بعد فراغت جامعہ رضویہ مظہر الا سلام فیصل آباد میں حضرت علامہ محمد سردار احمد محدث لائلپوری سے دورہ حدیث پڑھا ۔

بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبداللہ جان سر ہندی ؒ ( ٹنڈو سائینداد) سے دست بیعت ہوئے ۔

اولاد:
آپ کو دو بیٹے اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔

۱۔      محمد علی سہڑو             

۲۔     قربان علی سہڑو اور مصباح الدین سہڑو آپ کے داماد ہیں ۔

درس و تدریس:
بعد فراغت آپ نے مادر علمی مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجا میں چار سال تدریس سے وابستہ رہے ۔ جیلانی مسجد و مدرسہ ڈوکری میں پانچ سال، مدرسہ گڑھی خیر و (ضلع جیکب آباد ) میں پانچ سال ، اپنے گوٹھ میں سات سال اور عمر کے آخری آٹھ سال ہمایونی شریف کے مدرسہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہو کر علم کی روشنی پھیلائی ۔ یعنی ۲۹ سال مسلسل علم کے پیاسوں کو سیراب کیا۔

تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ میں درج ذیل اسماء پیش کئے جا سکتے ہیں :

ٔ٭     مولانا علامہ ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ حسنیہ رضویہ خیر محمد آریجہ

٭     مولانا فضل محمد جمالی مدرس مدرسہ گڑھی خیرو

٭     میاں عبدالباقی ہمایونی موجودہ سجادہ نشین درگاہ ہمایوں شریف

٭     مولانا نصر اللہ بن مولانا تاج محمد آریجوی

٭     مولانا فیض محمد سانگھرو تحصیل ڈوکری

سفر حرمین شریفین:
۱۹۷۵ء کو مکہ مکرمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت سے سر فراز ہوئے ۔

عادات و خصائل:
مولانا نرم طبیعت ، خوش اخلاق ، اوڑھنا بچھونا سادہ ، وقت کا قدردان ، طلباء پر مہربان ، اساتذہ کا سراپا احترام ، زندگی درس و تدریس میں بسر کی۔ حلیہ میں چہرہ نورانی ، رنگ صاف، داڑھی گھنی سفید بمطابق سنت مبارکہ ، سر پر سفید عمامہ اور قد کے دراز تھے ۔

وصال:
حضرت علامہ عبدالرحمن سہڑو نے درگاہ ہمایون شریف میں دوران تدریس نڈھال ہو گئے علالت و نفاہت تو پہلے ہی طبیعت پر اثر انداز تھی ۔ جس کے باعث انہیں سول ہسپتال لاڑ کانہ (سندھ ) میں داخل کرادیا گیا اور ۹، رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ بمطابق ۲۶، اپریل ۱۹۸۸ء بروز منگل ، ۶۸سال کی عمر میں انتقال کیا۔ قاری شاہنواز بروہی ، امام و خطیب جامع مسجد ڈوکری نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے او ر آخری آرام گاہ کندھرا سہڑا کے قبرستان میں واقع ہے۔

[فقیر غلام شبیر جیسر (تحصیل ڈوکری) نے مولانا مرحوم کے بیٹوں اور عزیز رشتہ داروں سے مل کر حالات جمع کر کے بھجوائے اور فقیر نے مضمون ترتیب دیا۔]

(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rahman-sahru
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی شاہ رکن عالم ملتانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
نام: رکن الدین ۔ کنیت: ابو الفتح ۔ لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے :ابوالفتح شیخ رکن الدین ،بن عارفِ کامل شیخ صدرالدین عارف،بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی(علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک ،9 / رمضان المبارک 649ھ ، بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لیکر تکمیل تک ،اور پھر تعلیم کیساتھ تربیت ،آپکے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ)کی زیرِ نگرانی ہوئی۔

بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت وخلافت حاصل ہے۔

سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِنا متناہی ،ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ، لولوئے دریائے غیب ، ز بدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین،سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابوالفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔"خاندانِ غوثیہ" کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اوراس نومولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربااور مساکین کے دامن زرو جواہر سے بھر دئیے تھے ۔

آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں ،اور روزانہ قرآن ِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں ،اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے۔رات کو بی بی صاحبہ جب تہجدکے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے۔ جب قطب الا قطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلےجو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ "اللہ جل جلالہ "کا اسم گرامی تھا۔سات سال کی عمر سےنمازاورروزہ کےپابندہو گئے تھے۔رمضان کےعلاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے ۔ ذکرخفی وجلی ومراقبہ محاسبہ آپ کےمعمولات میں سے تھے۔ریاضت،عبادت اورمجاہدہ میں مشغول رہتےتھے۔ کشف ِقلوب،طےارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمرسے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتاخالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتےتھے۔اس واسطے لوگوں میں آپ "قبلۂ حاجات" مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے۔

علم ، تواضع ،شفقت ،حلم و عفو، حیاءو وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، بردباری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔آپ نے مکاشفہ ومحاسبہ میں اتنے مدارج طے کرلیئے تھے کہ آپ کو" ابوالفتح "کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔آپ علماء،فضلاء اور درویشوں کابہت خیال کرتےتھے۔ان کی بہت عزت کرتےتھےاوران کی خاطرمدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتےتھے۔

کسرِ نفسی کایہ عالم تھاکہ جب پالکی میں بیٹھتے توآپ کےدونوں ہاتھ اکثرباہرنکلےہوئےہوتے،اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:کہ شایدکسی بخشےہوئےکاہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائےاور میں بھی بخشا جاؤں۔

وصال:
16/رجب المرجب 735ھ ،بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قاضی حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ لقب: قاضی حمید الدین ۔ اسی لقب سے مشہور ہوئے ۔ والد کا اسم گرامی: عطاء اللہ محمود ۔ بخاراکے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ سلطان معز الدین کے زمانے میں بخارا سے دہلی آئے ۔ (علیہما الرحمہ)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 463ھ / مطابق 1071ء کو "بخارا" (ازبکستان) میں ہوئی ۔ اپنے والد کے ہمراہ دہلی دتشریف لائے۔

تحصیلِ علم:
آپ نے بخارا ، بغداد، اور مدینۃ المنورہ کے علماء و مشائخِ سے علوم حاصل کیے۔ آپ تمام علوم کے جامع تھے ۔ بالخصوص فقہ میں درجہ اجتہاد پر فائز تھے ۔ جب ہندوستان تشریف لائے تو آپ تبحرِ علمی کی وجہ سے "ناگُور" کےقاضی مقرر کیے گئے۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں حضرت شیخ الشیوخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے، اور انہوں نے خلافت سے بھی نوازا تھا ۔ اس لئے سماع کا ذوق تھا۔

سیرت و خصائص:
مقرب احدیت، مقدس صمدیت ، قطبِ زمانہ، شیخِ یگانہ، حضرت خواجہ قاضی حمید الدین ناگوری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کا شمارہندوستان کے مقتدر مشائخِ کرام میں ہوتا ہے۔علوم ظاہری و باطنی میں مکمل دسترس رکھتے تھے۔آپ اگرچہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمۃ کے ساتھی تھے۔ مگر نسبت کے لحاظ سے آپ خاندان سہروردیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اوربعض مورخین کہتے ہیں کہ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوبات میں اس بارے میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں قاضی حمید الدین ناگوری بھی میرے خلیفہ مجاز ہیں۔آپ ریاضت و مجاہدہ میں بے مثال تھے۔آپ صاحبِ جمال و کمال و صاحب کرامت بزرگ تھےآپ کو سماع سے بہت دلچسپی تھی آپ علوم شریعت و طریقت کے حقائق پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ آپ کی طبیعت میں ظرافت اور خوشی طبعی کا ذوق بھی تھا جس کی وجہ سے گاہے بگاہے اپنے مصاحبین سے خوش طبعی کیا کرتے تھے۔

آپ کے خط پر خواجہ گنج شکر کا وجد: ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے سماع سننے کی خواہش ظاہر کی تاکہ کوئی قوالی یا نعت سنیں،لیکن اتفاق سے اس وقت کوئی نعت خواں اور قوال نہ ملا تو حضرت نے شیخ بدر الدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے جو میری طرف خط لکھا وہ اٹھالاؤ۔ چنانچہ حضرت بدر الدین اسحاق اس جگہ سے اٹھے ایک حجرے میں گئے۔ اور وہ بیگ اٹھا کر بابا صاحب کے پاس لےآئے جس میں بہت سے خطوط تھے۔اور حضرت کے سامنے رکھ کر اس میں ہاتھ ڈالا۔تو سب سے اولاً ان کے ہاتھ میں قاضی حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ کا خط آیا ۔ چنانچہ حضرت بدر الدین علیہ الرحمۃ نے وہ خط بابا صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں پیش کردیا۔حضرت صاحب علیہ الرحمۃ نے حضرت شیخ بدر الدین سے فرمایا کہ اسے کھڑے ہوکر پڑھو چنانچہ شیخ بدر الدین اسحاق علیہ الرحمۃ نے کھڑے ہو کر وہ خط پڑھنا شروع کردیا اس میں یہ لکھا تھا کہ "فقیر و حقیر کمزور و ناتواں محمد بن عطاء درویشوں کا خادم و غلام ہے، اور ان کی قدموں کی خاک کو اپنے سر اور آنکھوں پر بطور تبرک ملتا ہے" ۔ حضرت شیخ بدر الدین نے ابھی خط کا اتنا ہی مضمون پڑھا تھا۔کہ شیخ فرید الدین علیہ الرحمۃ پر حال و جد کیفیت طاری ہوگئی ۔ پھر خط کی یہ رباعی بھی پڑھی گئی۔

آں عقل کجا کہ درکمال تو رَسد
آں روح کجا کہ درجلال تورسد

گیرم کہ تو پردہ برگرفتی زجمال
آں دیدۂ کجاکہ درجمال تورسد

ترجمہ:میں وہ عقل کہاں سے لاؤں جو تیرے کمال کی گہرائیوں تک پہنچ سکے اور وہ روح کہاں سے لاؤں جو تیرے جلال کی کہنہ اور حقیقت کو پاسکے۔میں خوب سمجھتا ہوں۔کہ تو نے اپنے جمال سے پردہ اٹھا لیا ہے۔ لیکن وہ آنکھیں کہاں سے لاؤں جو تیرے جمال کو دیکھ سکیں۔

ایک دن قاضی حمید الدین کعبے کا طواف کر رہے تھے انہوں نے ایک بزرگ کو دیکھا کہ وہ بھی طواف کر رہے ہیں۔ آپ اُن کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلنے لگے، اس بزرگ نے منہ پھیر کر کہا، حمیدالدین ظاہری اتباع تو بڑی آسان بات ہے لیکن باطنی اتباع بڑی مشکل ہے۔ عرض کی حضور باطنی اتباع بھی ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا کہ میں طواف کرتے ہوئے ہر قدم پر قرآن پاک ختم کرتا ہوں،اگر تم میری اتباع کرنا چاہتے ہو تو ایسا کرو۔ حضرت قاضی دل میں بڑے حیران ہوئے۔ پھر انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ بزرگ قرآن کے معنی دل میں لاتے ہیں اور اُس کو ختمِ قرآن کا نام دیتے ہیں۔ اُس بزرگ نے آپ کے دل کی اس بات کو پالیا اور فرمایا نہیں نہیں میں حرفاً حرفاً اور لفظاً لفظاً اعراب کی درستگی کے ساتھ اول سے آخر تک (بطورِ کرامت) قرآن پڑھتا ہوں۔
2
قاضی صاحب ساری زندگی حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہے،اس لئے بعض حضرات آپ کو مشائخِ چشتیہ میں شمار کرتے ہیں۔آپ ظاہری وباطنی علوم کے ماہرتھے،اس لئے آپ بہت لطیف نکتے بیان کرتے تھے۔ آپ کے کلام سے عوام وخواص بہت  لطف اندوز ہوتے تھے۔ آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔بہت کتب تصنیف فرمائیں، لیکن ان میں سے زیادہ مشہور " طوالع ۔ لوائح ۔ راحت الارواح ۔ اور مجموعہ رسائل ہیں "۔

وصال:
آپ کا وصال 10 / ربیع الثانی 605ھ، کو ہوا ۔ (اخبار الاخیار فارسی، ص: 40 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ) ۔

مزار شریف دہلی مہرولی انڈیا میں حضرت خواجہ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف کے پاؤں کی سمت آج بھی مرجع و خاص و عام ہے ۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ یاگارِ سہروردیہ ۔ اخبار الاخیار ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-hameeduddin-muhammad-bin-ata-nagori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-09-1444 ᴴ | 31-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-09-1444 ᴴ | 01-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1