کتنی بے باک اور درد ناک صورت حال ہے!
مکہ پاک جہاں اولیاء کا جگر خوف سے پھٹ جاتا ہے وہاں سیلفیوں کی کثرت کا الم ناک منظر!
اور مدینہ پاک جہاں جبریل امین بھی با ادب حاضری دیں وہاں بھی سیلفیوں کی کثرت ہوتی ہے!
پہلے کے مسلمان مکہ و مدینہ میں نیکیاں کمانے اور اب شاید جو نیکیاں کما چکے ہوتے ہیں وہ برباد کرنے جاتے ہیں!
ہماری ویب سائٹ کا ضرور وزٹ کریں↶
http://anwarealam.com
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://www.facebook.com/groups/456490489254996/permalink/616346549936055/?mibextid=Nif5oz
مکہ پاک جہاں اولیاء کا جگر خوف سے پھٹ جاتا ہے وہاں سیلفیوں کی کثرت کا الم ناک منظر!
اور مدینہ پاک جہاں جبریل امین بھی با ادب حاضری دیں وہاں بھی سیلفیوں کی کثرت ہوتی ہے!
پہلے کے مسلمان مکہ و مدینہ میں نیکیاں کمانے اور اب شاید جو نیکیاں کما چکے ہوتے ہیں وہ برباد کرنے جاتے ہیں!
ہماری ویب سائٹ کا ضرور وزٹ کریں↶
http://anwarealam.com
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://www.facebook.com/groups/456490489254996/permalink/616346549936055/?mibextid=Nif5oz
😢2👍1
حضرت مولانا سید عبد العزیز انبیٹھوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید عبد العزیز انبیٹھوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: امام العلماء، امام المناطقہ ۔ خاندانی تعلق: سادات و پیر زادگان انبیٹھ ضلع سہارنپور سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت مقامِ انبیٹھ ضلع سہارنپور میں میں خاندانِ سادات میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی،اور مختلف اساتذہ سےابتدائی عربی وفارسی کا درس لینے کےبعد شمس العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالحق خیر آبادی بن مجاہد جنگ آزادی مولانا فضل ِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی خدمت میں بیس سال شب وروز رہ کر جامع علوم عقلیہ ونقلیہ بن کر نکلے۔اس دوران آپ نے حضرت علامہ خیر آبادی کی منطق وحکمت پر اکثر تقریریں زبانی یاد کرلی تھیں۔آپ کاشمار منطق وحکمت کےآئمہ میں ہوتا تھا۔
بیعت وخلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت تھے۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، شمس العرفاء، صاحبِ اوصافِ کثیرہ،مدرس یگانہ، غیظ المنافقین، امامِ علم وحکمت، حضرت علامہ مولانا سید عبد العزیز چشتی صابری انبیٹھوی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ بالخصوص معقولات کےامام مانے جاتے تھے۔خیرآبادی علم وفن کےماہر سمجھے جاتے تھے، اور پھر ساری زندگی علم وفن کی خدمت کرتے رہے۔نواب حامد علی والئِ ریاست رام پور نے آپ کی شاگردی اختیار کی،زمانۂ دراز تک مدرسہ عالیہ رامپور میں صدر مدرس رہے۔اس کےبعد مدرسہ حنفیہ پٹنہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔قاضی عبد الحمید فردوسی علیہ الرحمہ نےآپ سے درسیات کا اکتساب کیا۔ مولانا حکیم سید برکات احمد بہاری ٹونکی نے مسرت العلماء بوفاۃ شمس العلماء میں آپ کا ذکر خیر وقیع الفاظ میں کیا ہے۔ اور آپ کو شمس العلماء کا ممتاز شاگرد وخدمت گذار لکھا ہے۔فخر ِبہار مولانا عبد الوہاب منطقی اور استاذ العلماء مولانا حکیم برکات احمد میں جو تاریخی مناظرہ ہوا تھا آپ بھی اس میں شریک تھے۔
ریاست رام پور کی مجلس علمی سےوابستہ رہے۔اسی طرح ندوۃ العلماء کےابتداءً ممتاز اور سرگرم رکن تھے۔جب احقاق حق ہوگیا،اور ندوہ کاابطال واضح ہوگیا تو آپ حمایتِ حق کےلئے علماء ِ بدایوں اور بریلی کےساتھ ہوگئے۔ندوہ کےخلاف ساری زندگی جہاد کرتے رہے۔آپ اپنے مشائخ عظام اور علماء کرام سے عشق کی حد تک عقیدت رکھتے تھے۔اکابرین اولیاء اللہ اور بزرگان دین کےایام واعراس میں پابندی کےساتھ شرکت کرتےتھے۔سماع میں شغف رکھتےتھے۔اورادو وظائف صوم وصلوٰۃ اور شرع ِ مطہرہ کےخاص پابند تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9/رمضان المبارک 1344ھ،مطابق ستمبر 1925ءکو رام پور میں ہوا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت۔نزہۃ الخواطر۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-aziz-ambethvi
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید عبد العزیز انبیٹھوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: امام العلماء، امام المناطقہ ۔ خاندانی تعلق: سادات و پیر زادگان انبیٹھ ضلع سہارنپور سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت مقامِ انبیٹھ ضلع سہارنپور میں میں خاندانِ سادات میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی،اور مختلف اساتذہ سےابتدائی عربی وفارسی کا درس لینے کےبعد شمس العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالحق خیر آبادی بن مجاہد جنگ آزادی مولانا فضل ِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کی خدمت میں بیس سال شب وروز رہ کر جامع علوم عقلیہ ونقلیہ بن کر نکلے۔اس دوران آپ نے حضرت علامہ خیر آبادی کی منطق وحکمت پر اکثر تقریریں زبانی یاد کرلی تھیں۔آپ کاشمار منطق وحکمت کےآئمہ میں ہوتا تھا۔
بیعت وخلافت:
آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت تھے۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، شمس العرفاء، صاحبِ اوصافِ کثیرہ،مدرس یگانہ، غیظ المنافقین، امامِ علم وحکمت، حضرت علامہ مولانا سید عبد العزیز چشتی صابری انبیٹھوی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ بالخصوص معقولات کےامام مانے جاتے تھے۔خیرآبادی علم وفن کےماہر سمجھے جاتے تھے، اور پھر ساری زندگی علم وفن کی خدمت کرتے رہے۔نواب حامد علی والئِ ریاست رام پور نے آپ کی شاگردی اختیار کی،زمانۂ دراز تک مدرسہ عالیہ رامپور میں صدر مدرس رہے۔اس کےبعد مدرسہ حنفیہ پٹنہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔قاضی عبد الحمید فردوسی علیہ الرحمہ نےآپ سے درسیات کا اکتساب کیا۔ مولانا حکیم سید برکات احمد بہاری ٹونکی نے مسرت العلماء بوفاۃ شمس العلماء میں آپ کا ذکر خیر وقیع الفاظ میں کیا ہے۔ اور آپ کو شمس العلماء کا ممتاز شاگرد وخدمت گذار لکھا ہے۔فخر ِبہار مولانا عبد الوہاب منطقی اور استاذ العلماء مولانا حکیم برکات احمد میں جو تاریخی مناظرہ ہوا تھا آپ بھی اس میں شریک تھے۔
ریاست رام پور کی مجلس علمی سےوابستہ رہے۔اسی طرح ندوۃ العلماء کےابتداءً ممتاز اور سرگرم رکن تھے۔جب احقاق حق ہوگیا،اور ندوہ کاابطال واضح ہوگیا تو آپ حمایتِ حق کےلئے علماء ِ بدایوں اور بریلی کےساتھ ہوگئے۔ندوہ کےخلاف ساری زندگی جہاد کرتے رہے۔آپ اپنے مشائخ عظام اور علماء کرام سے عشق کی حد تک عقیدت رکھتے تھے۔اکابرین اولیاء اللہ اور بزرگان دین کےایام واعراس میں پابندی کےساتھ شرکت کرتےتھے۔سماع میں شغف رکھتےتھے۔اورادو وظائف صوم وصلوٰۃ اور شرع ِ مطہرہ کےخاص پابند تھے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 9/رمضان المبارک 1344ھ،مطابق ستمبر 1925ءکو رام پور میں ہوا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت۔نزہۃ الخواطر۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdul-aziz-ambethvi
scholars.pk
Hazrat Molana Syed Abdul Aziz Ambethvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
استاد العلماء حضرت مولانا عبدالرحمن سہڑو رحمۃ اللہ علیہ
استاد العلماء حضرت مولانا عبدالرحمن سہڑو بن محمد عمر بن خیر محمد گوٹھ کندھرا سہڑا (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۳۴۰ھ؍ ۱۹۲۲ء (شناختی کارڈ کے مطابق ) کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجا میں علامہ تاج محمد آریجوی سے حاصل کی اس کے بعد مدرسہ دارالفیض سونہ جتوئی میں غالبا علامہ دوست علی جتوئی سے بعض اسباق پڑھے ، بعد ازاں جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ مشوری شریف میں حضرت فقیہ اعظم علامہ مفتی محمد قاسم مشوری سے بعض کتابیں پڑھی اس کے بعد ہمایوں شریف کا رخ کیا جہاں غالبا مفتی عبدالباقی ہمایونی سے تعلیم حاصل کی اور بالآخر استاد اول علامہ تاج محمد آریجوی کے پاس آئے وہیں نصاب کی تکمیل کے بعد ۱۹۶۵ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔ بعد فراغت جامعہ رضویہ مظہر الا سلام فیصل آباد میں حضرت علامہ محمد سردار احمد محدث لائلپوری سے دورہ حدیث پڑھا ۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبداللہ جان سر ہندی ؒ ( ٹنڈو سائینداد) سے دست بیعت ہوئے ۔
اولاد:
آپ کو دو بیٹے اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔
۱۔ محمد علی سہڑو
۲۔ قربان علی سہڑو اور مصباح الدین سہڑو آپ کے داماد ہیں ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ نے مادر علمی مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجا میں چار سال تدریس سے وابستہ رہے ۔ جیلانی مسجد و مدرسہ ڈوکری میں پانچ سال، مدرسہ گڑھی خیر و (ضلع جیکب آباد ) میں پانچ سال ، اپنے گوٹھ میں سات سال اور عمر کے آخری آٹھ سال ہمایونی شریف کے مدرسہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہو کر علم کی روشنی پھیلائی ۔ یعنی ۲۹ سال مسلسل علم کے پیاسوں کو سیراب کیا۔
تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ میں درج ذیل اسماء پیش کئے جا سکتے ہیں :
ٔ٭ مولانا علامہ ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ حسنیہ رضویہ خیر محمد آریجہ
٭ مولانا فضل محمد جمالی مدرس مدرسہ گڑھی خیرو
٭ میاں عبدالباقی ہمایونی موجودہ سجادہ نشین درگاہ ہمایوں شریف
٭ مولانا نصر اللہ بن مولانا تاج محمد آریجوی
٭ مولانا فیض محمد سانگھرو تحصیل ڈوکری
سفر حرمین شریفین:
۱۹۷۵ء کو مکہ مکرمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت سے سر فراز ہوئے ۔
عادات و خصائل:
مولانا نرم طبیعت ، خوش اخلاق ، اوڑھنا بچھونا سادہ ، وقت کا قدردان ، طلباء پر مہربان ، اساتذہ کا سراپا احترام ، زندگی درس و تدریس میں بسر کی۔ حلیہ میں چہرہ نورانی ، رنگ صاف، داڑھی گھنی سفید بمطابق سنت مبارکہ ، سر پر سفید عمامہ اور قد کے دراز تھے ۔
وصال:
حضرت علامہ عبدالرحمن سہڑو نے درگاہ ہمایون شریف میں دوران تدریس نڈھال ہو گئے علالت و نفاہت تو پہلے ہی طبیعت پر اثر انداز تھی ۔ جس کے باعث انہیں سول ہسپتال لاڑ کانہ (سندھ ) میں داخل کرادیا گیا اور ۹، رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ بمطابق ۲۶، اپریل ۱۹۸۸ء بروز منگل ، ۶۸سال کی عمر میں انتقال کیا۔ قاری شاہنواز بروہی ، امام و خطیب جامع مسجد ڈوکری نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے او ر آخری آرام گاہ کندھرا سہڑا کے قبرستان میں واقع ہے۔
[فقیر غلام شبیر جیسر (تحصیل ڈوکری) نے مولانا مرحوم کے بیٹوں اور عزیز رشتہ داروں سے مل کر حالات جمع کر کے بھجوائے اور فقیر نے مضمون ترتیب دیا۔]
(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rahman-sahru
استاد العلماء حضرت مولانا عبدالرحمن سہڑو بن محمد عمر بن خیر محمد گوٹھ کندھرا سہڑا (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۳۴۰ھ؍ ۱۹۲۲ء (شناختی کارڈ کے مطابق ) کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجا میں علامہ تاج محمد آریجوی سے حاصل کی اس کے بعد مدرسہ دارالفیض سونہ جتوئی میں غالبا علامہ دوست علی جتوئی سے بعض اسباق پڑھے ، بعد ازاں جامعہ عربیہ قاسم العلوم درگاہ مشوری شریف میں حضرت فقیہ اعظم علامہ مفتی محمد قاسم مشوری سے بعض کتابیں پڑھی اس کے بعد ہمایوں شریف کا رخ کیا جہاں غالبا مفتی عبدالباقی ہمایونی سے تعلیم حاصل کی اور بالآخر استاد اول علامہ تاج محمد آریجوی کے پاس آئے وہیں نصاب کی تکمیل کے بعد ۱۹۶۵ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔ بعد فراغت جامعہ رضویہ مظہر الا سلام فیصل آباد میں حضرت علامہ محمد سردار احمد محدث لائلپوری سے دورہ حدیث پڑھا ۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ عبداللہ جان سر ہندی ؒ ( ٹنڈو سائینداد) سے دست بیعت ہوئے ۔
اولاد:
آپ کو دو بیٹے اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔
۱۔ محمد علی سہڑو
۲۔ قربان علی سہڑو اور مصباح الدین سہڑو آپ کے داماد ہیں ۔
درس و تدریس:
بعد فراغت آپ نے مادر علمی مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجا میں چار سال تدریس سے وابستہ رہے ۔ جیلانی مسجد و مدرسہ ڈوکری میں پانچ سال، مدرسہ گڑھی خیر و (ضلع جیکب آباد ) میں پانچ سال ، اپنے گوٹھ میں سات سال اور عمر کے آخری آٹھ سال ہمایونی شریف کے مدرسہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہو کر علم کی روشنی پھیلائی ۔ یعنی ۲۹ سال مسلسل علم کے پیاسوں کو سیراب کیا۔
تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ میں درج ذیل اسماء پیش کئے جا سکتے ہیں :
ٔ٭ مولانا علامہ ہدایت اللہ آریجوی مہتمم مدرسہ حسنیہ رضویہ خیر محمد آریجہ
٭ مولانا فضل محمد جمالی مدرس مدرسہ گڑھی خیرو
٭ میاں عبدالباقی ہمایونی موجودہ سجادہ نشین درگاہ ہمایوں شریف
٭ مولانا نصر اللہ بن مولانا تاج محمد آریجوی
٭ مولانا فیض محمد سانگھرو تحصیل ڈوکری
سفر حرمین شریفین:
۱۹۷۵ء کو مکہ مکرمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول مقبول ﷺ کی حاضری کی سعادت سے سر فراز ہوئے ۔
عادات و خصائل:
مولانا نرم طبیعت ، خوش اخلاق ، اوڑھنا بچھونا سادہ ، وقت کا قدردان ، طلباء پر مہربان ، اساتذہ کا سراپا احترام ، زندگی درس و تدریس میں بسر کی۔ حلیہ میں چہرہ نورانی ، رنگ صاف، داڑھی گھنی سفید بمطابق سنت مبارکہ ، سر پر سفید عمامہ اور قد کے دراز تھے ۔
وصال:
حضرت علامہ عبدالرحمن سہڑو نے درگاہ ہمایون شریف میں دوران تدریس نڈھال ہو گئے علالت و نفاہت تو پہلے ہی طبیعت پر اثر انداز تھی ۔ جس کے باعث انہیں سول ہسپتال لاڑ کانہ (سندھ ) میں داخل کرادیا گیا اور ۹، رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ بمطابق ۲۶، اپریل ۱۹۸۸ء بروز منگل ، ۶۸سال کی عمر میں انتقال کیا۔ قاری شاہنواز بروہی ، امام و خطیب جامع مسجد ڈوکری نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے او ر آخری آرام گاہ کندھرا سہڑا کے قبرستان میں واقع ہے۔
[فقیر غلام شبیر جیسر (تحصیل ڈوکری) نے مولانا مرحوم کے بیٹوں اور عزیز رشتہ داروں سے مل کر حالات جمع کر کے بھجوائے اور فقیر نے مضمون ترتیب دیا۔]
(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-rahman-sahru
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Rahman Sahru
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
شیخ الاسلام ابو الفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی شاہ رکن عالم ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
نام: رکن الدین ۔ کنیت: ابو الفتح ۔ لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے :ابوالفتح شیخ رکن الدین ،بن عارفِ کامل شیخ صدرالدین عارف،بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی(علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک ،9 / رمضان المبارک 649ھ ، بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لیکر تکمیل تک ،اور پھر تعلیم کیساتھ تربیت ،آپکے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ)کی زیرِ نگرانی ہوئی۔
بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت وخلافت حاصل ہے۔
سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِنا متناہی ،ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ، لولوئے دریائے غیب ، ز بدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین،سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابوالفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔"خاندانِ غوثیہ" کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اوراس نومولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربااور مساکین کے دامن زرو جواہر سے بھر دئیے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں ،اور روزانہ قرآن ِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں ،اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے۔رات کو بی بی صاحبہ جب تہجدکے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے۔ جب قطب الا قطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلےجو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ "اللہ جل جلالہ "کا اسم گرامی تھا۔سات سال کی عمر سےنمازاورروزہ کےپابندہو گئے تھے۔رمضان کےعلاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے ۔ ذکرخفی وجلی ومراقبہ محاسبہ آپ کےمعمولات میں سے تھے۔ریاضت،عبادت اورمجاہدہ میں مشغول رہتےتھے۔ کشف ِقلوب،طےارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمرسے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتاخالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتےتھے۔اس واسطے لوگوں میں آپ "قبلۂ حاجات" مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے۔
علم ، تواضع ،شفقت ،حلم و عفو، حیاءو وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، بردباری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔آپ نے مکاشفہ ومحاسبہ میں اتنے مدارج طے کرلیئے تھے کہ آپ کو" ابوالفتح "کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔آپ علماء،فضلاء اور درویشوں کابہت خیال کرتےتھے۔ان کی بہت عزت کرتےتھےاوران کی خاطرمدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتےتھے۔
کسرِ نفسی کایہ عالم تھاکہ جب پالکی میں بیٹھتے توآپ کےدونوں ہاتھ اکثرباہرنکلےہوئےہوتے،اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:کہ شایدکسی بخشےہوئےکاہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائےاور میں بھی بخشا جاؤں۔
وصال:
16/رجب المرجب 735ھ ،بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
نام و نسب:
نام: رکن الدین ۔ کنیت: ابو الفتح ۔ لقب: رکنِ عالم اور فضل اللہ ہیں ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے :ابوالفتح شیخ رکن الدین ،بن عارفِ کامل شیخ صدرالدین عارف،بن شیخ الاسلام والمسلمین حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی(علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
بروز جمعۃ المبارک ،9 / رمضان المبارک 649ھ ، بمطابق 1251ء میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ابتدائی تعلیم سے لیکر تکمیل تک ،اور پھر تعلیم کیساتھ تربیت ،آپکے والدِ گرامی شیخ صدر الدین عارف اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی (علیہم الرحمہ)کی زیرِ نگرانی ہوئی۔
بیعت و خلافت:
آپ کو اپنے والدِ گرامی اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی دونوں بزرگوں سے اجازت وخلافت حاصل ہے۔
سیرت و خصائص:
مخزن مشہود ِالہیٰ ، منبع جودِنا متناہی ،ادریس ِخلوت وحدت، برجیس ِبرج معرفت ،گوہرِ معدن ،صفات لا ریب ، لولوئے دریائے غیب ، ز بدۃ المشائخ ، مفتاح قفل حق الیقین،سراجِ مشائخِ سہروردیہ شیخ الاسلام ابوالفتح حضرت شیخ رکن الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔"خاندانِ غوثیہ" کا فانوس اس سراج مِنیر کی روشنی سے جگمگا اٹھا اوراس نومولودِ مسعود کی خوشی میں حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا علیہ الرحمہ نے ملتان کے غربااور مساکین کے دامن زرو جواہر سے بھر دئیے تھے ۔
آپ کی والدہ محترمہ بی بی راستی علیہا الرحمہ حافظہ تھیں ،اور روزانہ قرآن ِ مجید کا ختم کیا کرتی تھیں ۔ اس لیے لوری کے بجائے قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتیں ،اسی حالت میں اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو حضرت رکن الدین والعالم دودھ پینا چھوڑ دیتے اور غور سے آذان سننے لگتے۔رات کو بی بی صاحبہ جب تہجدکے لیے بیدار ہوتیں تو حضرت رکن الدین بھی جاگ پڑتے۔ جب قطب الا قطاب بولنے کی قابل ہوئے تو سب سے پہلےجو لفط زبانِ مبارک سے ادا ہوا وہ "اللہ جل جلالہ "کا اسم گرامی تھا۔سات سال کی عمر سےنمازاورروزہ کےپابندہو گئے تھے۔رمضان کےعلاوہ عاشورہ محرم میں بھی روزے رکھتے تھے ۔ ذکرخفی وجلی ومراقبہ محاسبہ آپ کےمعمولات میں سے تھے۔ریاضت،عبادت اورمجاہدہ میں مشغول رہتےتھے۔ کشف ِقلوب،طےارض ، وطے لسان ، دس سال کی عمرسے عطاء ہو گئے تھے ۔ جو حاجت مند آپ کے پاس آتاخالی ہاتھ نہ جاتا، چونکہ آپ لوگوں کی حاجت پوری کرتےتھے۔اس واسطے لوگوں میں آپ "قبلۂ حاجات" مشہور ہوئے، جو نذرانہ آتا، آپ اس کو خرچ کر دیتے تھے۔
علم ، تواضع ،شفقت ،حلم و عفو، حیاءو وقار، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ، عفو و وفا، جود و سخا، نصیحت و شفقت، الفت و مروت، بردباری، کسر نفسی اور اخلاقِ حسنہ ، الغرض جملہ صفاتِ عالیہ ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔آپ نے مکاشفہ ومحاسبہ میں اتنے مدارج طے کرلیئے تھے کہ آپ کو" ابوالفتح "کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔آپ علماء،فضلاء اور درویشوں کابہت خیال کرتےتھے۔ان کی بہت عزت کرتےتھےاوران کی خاطرمدارت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتےتھے۔
کسرِ نفسی کایہ عالم تھاکہ جب پالکی میں بیٹھتے توآپ کےدونوں ہاتھ اکثرباہرنکلےہوئےہوتے،اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:کہ شایدکسی بخشےہوئےکاہاتھ میرے ہاتھ سے لگ جائےاور میں بھی بخشا جاؤں۔
وصال:
16/رجب المرجب 735ھ ،بمطابق 1334ء کو آپ کا وصال ہوا ۔ مزار شریف قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-rukn-e-alam-multani-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ruknuddin Abul Fath
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤2
قاضی حمیدالدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ لقب: قاضی حمید الدین ۔ اسی لقب سے مشہور ہوئے ۔ والد کا اسم گرامی: عطاء اللہ محمود ۔ بخاراکے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ سلطان معز الدین کے زمانے میں بخارا سے دہلی آئے ۔ (علیہما الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 463ھ / مطابق 1071ء کو "بخارا" (ازبکستان) میں ہوئی ۔ اپنے والد کے ہمراہ دہلی دتشریف لائے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بخارا ، بغداد، اور مدینۃ المنورہ کے علماء و مشائخِ سے علوم حاصل کیے۔ آپ تمام علوم کے جامع تھے ۔ بالخصوص فقہ میں درجہ اجتہاد پر فائز تھے ۔ جب ہندوستان تشریف لائے تو آپ تبحرِ علمی کی وجہ سے "ناگُور" کےقاضی مقرر کیے گئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں حضرت شیخ الشیوخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے، اور انہوں نے خلافت سے بھی نوازا تھا ۔ اس لئے سماع کا ذوق تھا۔
سیرت و خصائص:
مقرب احدیت، مقدس صمدیت ، قطبِ زمانہ، شیخِ یگانہ، حضرت خواجہ قاضی حمید الدین ناگوری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کا شمارہندوستان کے مقتدر مشائخِ کرام میں ہوتا ہے۔علوم ظاہری و باطنی میں مکمل دسترس رکھتے تھے۔آپ اگرچہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمۃ کے ساتھی تھے۔ مگر نسبت کے لحاظ سے آپ خاندان سہروردیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اوربعض مورخین کہتے ہیں کہ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوبات میں اس بارے میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں قاضی حمید الدین ناگوری بھی میرے خلیفہ مجاز ہیں۔آپ ریاضت و مجاہدہ میں بے مثال تھے۔آپ صاحبِ جمال و کمال و صاحب کرامت بزرگ تھےآپ کو سماع سے بہت دلچسپی تھی آپ علوم شریعت و طریقت کے حقائق پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ آپ کی طبیعت میں ظرافت اور خوشی طبعی کا ذوق بھی تھا جس کی وجہ سے گاہے بگاہے اپنے مصاحبین سے خوش طبعی کیا کرتے تھے۔
آپ کے خط پر خواجہ گنج شکر کا وجد: ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے سماع سننے کی خواہش ظاہر کی تاکہ کوئی قوالی یا نعت سنیں،لیکن اتفاق سے اس وقت کوئی نعت خواں اور قوال نہ ملا تو حضرت نے شیخ بدر الدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے جو میری طرف خط لکھا وہ اٹھالاؤ۔ چنانچہ حضرت بدر الدین اسحاق اس جگہ سے اٹھے ایک حجرے میں گئے۔ اور وہ بیگ اٹھا کر بابا صاحب کے پاس لےآئے جس میں بہت سے خطوط تھے۔اور حضرت کے سامنے رکھ کر اس میں ہاتھ ڈالا۔تو سب سے اولاً ان کے ہاتھ میں قاضی حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ کا خط آیا ۔ چنانچہ حضرت بدر الدین علیہ الرحمۃ نے وہ خط بابا صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں پیش کردیا۔حضرت صاحب علیہ الرحمۃ نے حضرت شیخ بدر الدین سے فرمایا کہ اسے کھڑے ہوکر پڑھو چنانچہ شیخ بدر الدین اسحاق علیہ الرحمۃ نے کھڑے ہو کر وہ خط پڑھنا شروع کردیا اس میں یہ لکھا تھا کہ "فقیر و حقیر کمزور و ناتواں محمد بن عطاء درویشوں کا خادم و غلام ہے، اور ان کی قدموں کی خاک کو اپنے سر اور آنکھوں پر بطور تبرک ملتا ہے" ۔ حضرت شیخ بدر الدین نے ابھی خط کا اتنا ہی مضمون پڑھا تھا۔کہ شیخ فرید الدین علیہ الرحمۃ پر حال و جد کیفیت طاری ہوگئی ۔ پھر خط کی یہ رباعی بھی پڑھی گئی۔
آں عقل کجا کہ درکمال تو رَسد
آں روح کجا کہ درجلال تورسد
گیرم کہ تو پردہ برگرفتی زجمال
آں دیدۂ کجاکہ درجمال تورسد
ترجمہ:میں وہ عقل کہاں سے لاؤں جو تیرے کمال کی گہرائیوں تک پہنچ سکے اور وہ روح کہاں سے لاؤں جو تیرے جلال کی کہنہ اور حقیقت کو پاسکے۔میں خوب سمجھتا ہوں۔کہ تو نے اپنے جمال سے پردہ اٹھا لیا ہے۔ لیکن وہ آنکھیں کہاں سے لاؤں جو تیرے جمال کو دیکھ سکیں۔
ایک دن قاضی حمید الدین کعبے کا طواف کر رہے تھے انہوں نے ایک بزرگ کو دیکھا کہ وہ بھی طواف کر رہے ہیں۔ آپ اُن کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلنے لگے، اس بزرگ نے منہ پھیر کر کہا، حمیدالدین ظاہری اتباع تو بڑی آسان بات ہے لیکن باطنی اتباع بڑی مشکل ہے۔ عرض کی حضور باطنی اتباع بھی ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا کہ میں طواف کرتے ہوئے ہر قدم پر قرآن پاک ختم کرتا ہوں،اگر تم میری اتباع کرنا چاہتے ہو تو ایسا کرو۔ حضرت قاضی دل میں بڑے حیران ہوئے۔ پھر انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ بزرگ قرآن کے معنی دل میں لاتے ہیں اور اُس کو ختمِ قرآن کا نام دیتے ہیں۔ اُس بزرگ نے آپ کے دل کی اس بات کو پالیا اور فرمایا نہیں نہیں میں حرفاً حرفاً اور لفظاً لفظاً اعراب کی درستگی کے ساتھ اول سے آخر تک (بطورِ کرامت) قرآن پڑھتا ہوں۔
نام و نسب:
اسم گرامی: محمد ۔ لقب: قاضی حمید الدین ۔ اسی لقب سے مشہور ہوئے ۔ والد کا اسم گرامی: عطاء اللہ محمود ۔ بخاراکے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ سلطان معز الدین کے زمانے میں بخارا سے دہلی آئے ۔ (علیہما الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 463ھ / مطابق 1071ء کو "بخارا" (ازبکستان) میں ہوئی ۔ اپنے والد کے ہمراہ دہلی دتشریف لائے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بخارا ، بغداد، اور مدینۃ المنورہ کے علماء و مشائخِ سے علوم حاصل کیے۔ آپ تمام علوم کے جامع تھے ۔ بالخصوص فقہ میں درجہ اجتہاد پر فائز تھے ۔ جب ہندوستان تشریف لائے تو آپ تبحرِ علمی کی وجہ سے "ناگُور" کےقاضی مقرر کیے گئے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں حضرت شیخ الشیوخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ کے مرید و خلیفہ تھے ۔ حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے، اور انہوں نے خلافت سے بھی نوازا تھا ۔ اس لئے سماع کا ذوق تھا۔
سیرت و خصائص:
مقرب احدیت، مقدس صمدیت ، قطبِ زمانہ، شیخِ یگانہ، حضرت خواجہ قاضی حمید الدین ناگوری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کا شمارہندوستان کے مقتدر مشائخِ کرام میں ہوتا ہے۔علوم ظاہری و باطنی میں مکمل دسترس رکھتے تھے۔آپ اگرچہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمۃ کے ساتھی تھے۔ مگر نسبت کے لحاظ سے آپ خاندان سہروردیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اوربعض مورخین کہتے ہیں کہ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ نے اپنے بعض مکتوبات میں اس بارے میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں قاضی حمید الدین ناگوری بھی میرے خلیفہ مجاز ہیں۔آپ ریاضت و مجاہدہ میں بے مثال تھے۔آپ صاحبِ جمال و کمال و صاحب کرامت بزرگ تھےآپ کو سماع سے بہت دلچسپی تھی آپ علوم شریعت و طریقت کے حقائق پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ آپ کی طبیعت میں ظرافت اور خوشی طبعی کا ذوق بھی تھا جس کی وجہ سے گاہے بگاہے اپنے مصاحبین سے خوش طبعی کیا کرتے تھے۔
آپ کے خط پر خواجہ گنج شکر کا وجد: ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے سماع سننے کی خواہش ظاہر کی تاکہ کوئی قوالی یا نعت سنیں،لیکن اتفاق سے اس وقت کوئی نعت خواں اور قوال نہ ملا تو حضرت نے شیخ بدر الدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے جو میری طرف خط لکھا وہ اٹھالاؤ۔ چنانچہ حضرت بدر الدین اسحاق اس جگہ سے اٹھے ایک حجرے میں گئے۔ اور وہ بیگ اٹھا کر بابا صاحب کے پاس لےآئے جس میں بہت سے خطوط تھے۔اور حضرت کے سامنے رکھ کر اس میں ہاتھ ڈالا۔تو سب سے اولاً ان کے ہاتھ میں قاضی حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ کا خط آیا ۔ چنانچہ حضرت بدر الدین علیہ الرحمۃ نے وہ خط بابا صاحب علیہ الرحمۃ کی خدمت عالیہ میں پیش کردیا۔حضرت صاحب علیہ الرحمۃ نے حضرت شیخ بدر الدین سے فرمایا کہ اسے کھڑے ہوکر پڑھو چنانچہ شیخ بدر الدین اسحاق علیہ الرحمۃ نے کھڑے ہو کر وہ خط پڑھنا شروع کردیا اس میں یہ لکھا تھا کہ "فقیر و حقیر کمزور و ناتواں محمد بن عطاء درویشوں کا خادم و غلام ہے، اور ان کی قدموں کی خاک کو اپنے سر اور آنکھوں پر بطور تبرک ملتا ہے" ۔ حضرت شیخ بدر الدین نے ابھی خط کا اتنا ہی مضمون پڑھا تھا۔کہ شیخ فرید الدین علیہ الرحمۃ پر حال و جد کیفیت طاری ہوگئی ۔ پھر خط کی یہ رباعی بھی پڑھی گئی۔
آں عقل کجا کہ درکمال تو رَسد
آں روح کجا کہ درجلال تورسد
گیرم کہ تو پردہ برگرفتی زجمال
آں دیدۂ کجاکہ درجمال تورسد
ترجمہ:میں وہ عقل کہاں سے لاؤں جو تیرے کمال کی گہرائیوں تک پہنچ سکے اور وہ روح کہاں سے لاؤں جو تیرے جلال کی کہنہ اور حقیقت کو پاسکے۔میں خوب سمجھتا ہوں۔کہ تو نے اپنے جمال سے پردہ اٹھا لیا ہے۔ لیکن وہ آنکھیں کہاں سے لاؤں جو تیرے جمال کو دیکھ سکیں۔
ایک دن قاضی حمید الدین کعبے کا طواف کر رہے تھے انہوں نے ایک بزرگ کو دیکھا کہ وہ بھی طواف کر رہے ہیں۔ آپ اُن کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلنے لگے، اس بزرگ نے منہ پھیر کر کہا، حمیدالدین ظاہری اتباع تو بڑی آسان بات ہے لیکن باطنی اتباع بڑی مشکل ہے۔ عرض کی حضور باطنی اتباع بھی ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا کہ میں طواف کرتے ہوئے ہر قدم پر قرآن پاک ختم کرتا ہوں،اگر تم میری اتباع کرنا چاہتے ہو تو ایسا کرو۔ حضرت قاضی دل میں بڑے حیران ہوئے۔ پھر انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ بزرگ قرآن کے معنی دل میں لاتے ہیں اور اُس کو ختمِ قرآن کا نام دیتے ہیں۔ اُس بزرگ نے آپ کے دل کی اس بات کو پالیا اور فرمایا نہیں نہیں میں حرفاً حرفاً اور لفظاً لفظاً اعراب کی درستگی کے ساتھ اول سے آخر تک (بطورِ کرامت) قرآن پڑھتا ہوں۔
❤2
قاضی صاحب ساری زندگی حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہے،اس لئے بعض حضرات آپ کو مشائخِ چشتیہ میں شمار کرتے ہیں۔آپ ظاہری وباطنی علوم کے ماہرتھے،اس لئے آپ بہت لطیف نکتے بیان کرتے تھے۔ آپ کے کلام سے عوام وخواص بہت لطف اندوز ہوتے تھے۔ آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔بہت کتب تصنیف فرمائیں، لیکن ان میں سے زیادہ مشہور " طوالع ۔ لوائح ۔ راحت الارواح ۔ اور مجموعہ رسائل ہیں "۔
وصال:
آپ کا وصال 10 / ربیع الثانی 605ھ، کو ہوا ۔ (اخبار الاخیار فارسی، ص: 40 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ) ۔
مزار شریف دہلی مہرولی انڈیا میں حضرت خواجہ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف کے پاؤں کی سمت آج بھی مرجع و خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ یاگارِ سہروردیہ ۔ اخبار الاخیار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-hameeduddin-muhammad-bin-ata-nagori
وصال:
آپ کا وصال 10 / ربیع الثانی 605ھ، کو ہوا ۔ (اخبار الاخیار فارسی، ص: 40 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ) ۔
مزار شریف دہلی مہرولی انڈیا میں حضرت خواجہ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف کے پاؤں کی سمت آج بھی مرجع و خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ یاگارِ سہروردیہ ۔ اخبار الاخیار ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-hameeduddin-muhammad-bin-ata-nagori
scholars.pk
Hazrat Qazi Hameeduddin Muhammad Bin Ata Nagori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-09-1444 ᴴ | 31-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-09-1444 ᴴ | 01-04-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1