🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ی علمائے متحر جمع تھے۔ ان لوگوں نے بادشاہ سے استدعا کی تھی کہ جب خواجہ صاحب آئیں تو ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کریں۔جب حضرت خواجہ وہاں پہنچے تو آپ کی عظمت اور دہشت سے بادشاہ اس قدر متاثر ہوا کہ بیٹھ نہ سکا اور اٹھ کر دروازہ تک استقبال کیا۔ آپ کا ہاتھ چوم کر اغرار واکرام کے ساتھ مجلس کی صدارت پیش کی۔ علماء نے چرب زبانی سے کام لیا اور مشکل سے مشکل سوالات پیش کیے۔ آپ نے اپنے خادم محمد فدا بندہ نے اسی مشکل سوالات کے جواب کتب متداولہ کے مطابق دے دیئے۔

اس کے بعد ایک مسئلہ خودان سے دریافت کیا لیکن وہ تمام علمائے اس کے جواب سے عاجز آگئے اور شرم سار ہوئے۔ بادشاہ نے یہ حالت دیکھ کر مذاق کے طور پر علماء سےکہا کہ اگر اب بھی کوئی سوال باقی ہو تو خاموش نہ رہو۔ لیکن علماء کچھ نہ کہہ سکے۔ کیونکہ علم لدنی کے مقابلہ میں وہ کیا کر سکتے تھے۔ جب حضرت شیخ نے ان پڑھ خادم کا مقابلہ نہ کر سکے تو آپ کا مقابلہ کہاں کر سکتے تھے۔ چنانچہ ان تمام علماء نے اپنے دستار گردن میں ڈال کر حضرت خواجہ کے پاؤں پر گر گئے۔ معافی طلب کی۔ توبہ کی اور مرید ہوگئے امیر نصیر نے آپ سے معافی چاہی اور حضرت کی خدمت میں بے شمار تحائف پیش کیے۔ لیکن آپ نے کوئی چیز قبول نہ فرمائی اور واپس آستانہ مبارک پر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ کی ولایت کی بہت شہرت ہوئی اور ہر طرف سے لوگ جوق در جوق آکر مرید ہونے اور فیض حاصل کرنے لگے۔

ذوق سماع

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت اقدس نیا کپڑا ہر گز نہیں پہنتے تھے اور نہ ہی دنیا داروں کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ آپ حافظ کالم ربانی تھے۔ خواجہ سری سقطی قدس سرہٗ اکثر آپ کی ملاقات کےلیے آیا کرتے تھے اور آپ کی مجالس سماع میں شریک ہوا کرتے تھے۔ آپ کی مجالس سماع میں حاضرین پر عجیب مستی اور مدہوشی کی حالت طاری ہوجاتی تھی۔ قوالوں پر ایسے ذوق وشوق کی حالت طاری ہوجاتی تھی کہ منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوجاتی تھی۔ اور مسد و بے خود ہاجاتے تھے اور قوالوں کو قوالی کی آواز غیب سے سنائی دیتی تھی۔ جس سے ان پر حالت وجد طاری ہوجاتی تھی۔ مجتہدین وقت میں سے کسی کو آپ کے سماع پر اعتراض کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ وقت کے علماء وصلحاء آپ کا کلام سن کرونگ رہ جاتے تھے اور آپ کی بے حد عزت وتکریم کرتے تھے آپ ہر روز ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے۔ جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا آپ کے نور جبیں کو دکھ کر حیران ہوتا تھا۔ جب فضل بن یحییٰ بر مکی[1] نے آپ کے سماع پراعتراض کیا اور آپ کو اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ اگر وہ ناحق اعتراض کرتتا ہے تو سزا پائے گا چنانچہ اس کے فوراً بعد بیمار ہوا۔ اطباء نے جس قدر علاج کیا مرض بڑہتا گیا۔ جب لا علاج ہوا تو حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا اور قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہوا۔ ایک رات اسے آں حضرتﷺ کے جمال جہاں آراء کی زیارت کا شرف ہو ا تو شفا کے لیے عرض کی۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا اے فضل تم نے ابو احمد چشتی کے سماع کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار اس کے مشائخ کا انکار ہے جب تک تم توبہ کر کے اس کی مجلس سماع میں حاضر نہیں ہوگے شفا ممکن نہیں۔ فضل بیدار ہوتے ہی دوڑتا ہوا حضرت اقدس کی خدمت حاضر ہوا اتفاق سے اس وقت آپ مجلس سماع میں تھے۔ فضل وہاں جاکر وستہ بستہ ہوکر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ اتفاق سے ح ضرت شیخ کا وہاں سے گذر ہوا۔ اسے دیکھتے ہی آپ نے تبسم فرمایا اور فرمایا کہ اے فضل تم نے دیکھ لیا کہ سماع سے انکار کی سزا کیا ہے اس نے عرض کیا کہ میں قصور وار ہوں اور سزا پا چکا ہوں حضرت مخدوم کا یہ سماع اسرار الٰہی ہے۔ اس کے بعد حضرت اقدس ن ے اپنا دست شفقت اس کے سر پر رکھا۔ اس سے وہ فورا تندرست ہو ہوگیا۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا کبھی بیمارہی نہیں ہوا تھا۔ یہ کرامت دیکھ کر سات سو کافر مسلمان ہوگئے ار ان میں سے ہر ایک بلند مرتبہ کو پہنچا۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دن آپ دریائے دجلہ کے کنارے تشریف لے گئے ۷۹آدمی آپ کے سات تھے لیکن کشتی موجود نہ تھی۔ آپ نے فرمایا آؤ حلقہ ذکر قائم کرتے ہیں۔ چنانچہ ذکر کرتے ہوئے۔ سب دریائے دجلہ کے پار پہنچ گئے اور کسی کا پاؤں بھی تر نہ ہوا اس وقت وہاں چوبیس کافر موجود تھے۔ یہ کرامت دیکھ کر سب مسلمان ہوگئے۔ ان کو بھی آپ نے اسی طرح پانی سے گذرا۔ وہ ب ھی تھوڑے عرصہ میں مرتبہ کمال کو پہنچے۔

اس کتاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ایک دن حضرت اقدس راستے میں جارہے تھے اور ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں تمام کافر آباد تھے اور جو مسلمان وہاں جاتا تھا۔ان کے ڈر سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اگر ان کو معلام ہوجاتا کہ یہ مسلمان ہے تو بہت شدت سے پیش آتے تھے اور آگ میں جلادیتے تھے جب آپ وہاں پہنچے تو کافروں نے دورک کر آپ کو پکڑلیا اور کہنے لگے کہ کیا تم مسلمان ہو۔ آپ نے فرمایا ہاں مسلمان ہوں ۔ انہوں نے کہا ہم ہر گز مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑتے لیکن اگر تم ہماری گرفت سے بچ سکتے ہو تو ہم یقین کریں گے کہ واقعی تم مسلمان ہو آپ
1👍1
نے فرمایا کہ اگر مسلمان صدق دل سے لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ دے تو اس پر آگ ہر گز اثر نہیں کرتی چنانچہ انہوں نے آگ جلائی اور حضرت اقدس فوراً اس کے اندر چلے گئے اور مصلے بچھاکر نماز میں مشغول ہوگئے۔ اس سے آتش سوزاں فوراً ٹھنڈی ہوگئی۔ یہ دیکھ کر کافروں نے اپنے سرزمین پر رکھ دیئے ور صدق دلس ے سب مسلمان ہوگئے۔ اس بستی میں کل دس ہزار مرد تھے ان میں سے سو آدمیوں نے حضرت شیخ کی صحبت اختیار کرلی اور ہر شخص ولی کامل بن گیا۔ باقی لوگوں نے آپ کے فرمان کے مطابق اسی جگہ سکونت رکھی اور قبیہ عمر عبادت میں بسر کردی۔

وصال

مراۃ الاسرار میں آیا ہے کہ حضرت خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہے کی عمر پچانوے سال تھی۔ آپ کی ولادت خلیفہ معتصم باللہ جو بنی عباس کا آٹھواں خلیفہ تھا کے زمانہ حکومت میں بتاریخ سوم جمادی الثانی ۲۶۰ھ میں ہوئی اور آپ کا وصال چوبیسویں خلیفہ ابو بکر عبدالکریم بن مطیع جس کا لقب طالع تھا کے عہد حکومت میں ۳۵۵ھ میں ہوئی۔ آپ کا مدفن قصبہ چشت ہے جو ہرات سے تیس کوس کے فاصلہ پر ہے۔ صاحب سیر الاقطاب نے آپ کی تاریخ وصال یہ ن کالی ہے: قطب العالمین بود۔

اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود

ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد

[1] ۔ بر مکی خاندان خلفائے بنی عباس کے عہد میں یکے بعد دیگر عہدہ وزارت پر فائز رہے۔ علم و فضل میں بڑے مشہور تھے۔

( اقتباس الانوار )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abu-ahmad-abdal-chishti
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت رمضان علی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ابوالحسان مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری بن حکیم اللہ بخش قریشی ۶؍رمضان المبارک ۱۳۴۰ھ/ ۳؍مئی ۱۹۲۲ء میں بمقام شاہ پور جاجن، تحصیل بٹالہ ضلع گورو اسپور (بھارت) پیدا ہوئے۔

آپ کے نانا حاجی کریم بخش علیہ الرحمۃ نہایت متقی، عابد و زاہد تھے۔

صوم و صلوٰۃ کے پابند اور شب بیدار تہجد گزار تھے۔ تلاوتِ قرآن مجید اور ذکر و فکر آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ قصبہ شاہپور جاجن میں آپ نے پکی مسجد تعمیر کروائی اور اپنی ذاتی رقم سے تمام ضروریاتِ مسجد کا اہتمام کیا۔ مسلمانوں کو نماز کے مسائل سکھا کر نماز پڑھنے کا پابند بنایا۔ بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے کے علاوہ دینیات کی تعلیم بھی دیتے اور حاجت مندوں، یتیموں اور بیواؤں کی حاجت برآری میں کوشاں رہتے۔

تعلیم و تربیت:
مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری نے فارسی میں گلستان، بوستان اور عربی کی تمام کتب درسِ نظامی مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم محلہ کھڈہ کراچی میں پڑھیں۔

۱۹۳۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فارسی کا امتحان ’’منشی‘‘ پاس کیا۔

دورۂ حدیث محدثِ اعظم حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد میں پڑھ کر سندِ حدیث اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

علمِ طب کی ابتدائی کتب مولوی محمد صادق مہتمم مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم کراچی سے پڑھیں اور پھر اپنے والد ماجد سے بقیہ کتبِ طب پڑھنے کے ساتھ عملی تربیت بھی حاصل کی۔ سندِ طب ’’ممتاز الاطباء‘‘ طبیہ کالج طبِ جدید شاہدرہ (لاہور) سے حاصل کی۔

بیعت:
۱۹۳۷ء میں آپ نے حضرت پیر سید جماعت علی شاہ ثانی علیہ الرحمۃ (علی پور سیداں سیالکوٹ) کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ پھر ان کے وصال پر حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ اور پھر پیر طریقت حضرت فضل الٰہی صاحب (چک نمبر ۶۶ ج۔ ب دہاندرہ، فیصل آباد) سے تجدیدِ بیعت کی، موخر الذکر نے آپ کو ۱۹۷۳ء میں خلافت سے نوازتے ہوئے بیعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔

دینی و ملی خدمات:
آپ کے شب و روز تبلیغِ دین اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف قلمی جہاد میں گزرتے ہیں۔ اگست ۱۹۳۶ء سے اگست ۱۹۴۲ء تک چھ سال کا عرصہ اپنے آبائی شاہپور جاجن میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور پھر ۱۹۵۶ء سے تاحال جامع مسجد غوثیہ سنجھور و ضلع سانگھر میں امام و خطیب کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قصبہ شاہپور ضلع گورداسپور میں باوجود یکہ سکھوں اور ہندوؤں کا زور تھا۔ آپ نے پرائمری مسلم لیگ قائم کی جس کا نام مصلحتاً ’’انجمن تنویر الاسلام‘‘ رکھا اور نیشنل گارڈ قائم کرکے اس کا نام ’’غلامانِ رسول‘‘ رکھا۔ آپ جمعہ کے خطبات کے علاوہ پبلک جلسوں میں مسلم لیگی امیدواروں کے حق میں تقاریر کرتے رہے، چنانچہ ان سرگرمیوں کی بنا پر سکھوں اور ہندوؤں نے آپ کو ’’فسادی ملا‘‘ کے نام سے پکارا اور آپ کے قتل کے لیے مبلغ پانچ ہزار روپے مقرر کیے۔

تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ جمعہ کے اجتماعات میں ختمِ نبوت کے موضوع پر تقاریر کے ذریعے عوام کو قادیانیوں کی حقیقت اور عزائم سے روشناس کراتے رہے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرکے حکومت کو بھیجتے رہے۔

جب پاکستان میں بعض لوگوں نے سوشلزم کا فتنہ کھڑا کیا، تو آپ نے اسی وقت تقاریر، اخبارات میں بیانات اور پمفلٹوں کے ذریعے سوشلزم کے خلاف اور نظام مصطفےٰ کے قیام کے لیے جدوجہد شروع کردی۔

۹؍اکتوبر ۱۹۶۹ء کو شہر میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں نے سوشلزم کے مقابلے کے لیے جمعیۃ مجاہدینِ اسلام کے نام سے ایک محاذ قائم کیا، جس کی صدارت کے لیے آپ کو منتخب کیا گیا۔ اس سلسلے میں آپ نے مختلف عنوانات سے پمفلٹ چھپواکر نہ صرف عوام میں تقسیم کیے، بلکہ تمام وزراء، ہوم سیکرٹریوں، سپریم کوٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں، وکلاء اور بار کونسلوں کے عہدیداروں، سیاسی لیڈروں اور علماء و مشائخ کے نام ارسال کیے۔ ان پمفلٹوں کے عنوانات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘

(اس پمفلٹ میں براہ راست صدرِ پاکستان کو مخاطب کرکے سوشلسٹ عناصر کی سرکوبی اور نظام مصطفےٰ کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا)

۲۔ جناب میر رسول بخش تالپور سے ایک سوال اور پاکستانی عوام کے لیے لمحۂ فکریہ

۳۔ پاکستان میں اسلام نظام کے قیام کے لیے اسلامی کی علمبردار جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے۔

۴۔ مشائخ و علماء پاکستان کی خدمت میں درد مندانہ اپیل۔ ’’صورِ اسرافیل‘‘

۵۔ حکومتِ پاکستان اور لیڈرانِ ملک سے اہم سوال۔
1👍1
مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو برسرِ اقتدار آیا، تو آپ نے ایک تحریک چلائی، جس کے ذریعے ملک میں عملاً اسلام کے نفاذ، مشرقی پاکستان میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے بند کردیے، مارشل لاء کے خاتمے اور بھارت سے پاکستانی جنگی قیدیوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا اور ان مطالبات پر مشتمل ایک پرچہ چھپواکر ملک بھر کی اہم شخصیتوں کو بھیجا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔

۷؍مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخابات میں بھٹو حکومت کی زبردست دھاندلی کے خلاف جب ملک میں تحریک چلی تو اس دوران آپ کو قومی اتحاد سنجھورو (سانگھڑ) کا قائم مقام جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا، چنانچہ اس وقت کے وزیرِ بلدیات جام صادق علی کی ہدایت پر پولیس نے آپ کے خلاف فرضی کیس بناکر ڈی پی آر کے تحت گرفتار کرلیا اور پھر جب حکومت اور قومی اتحاد کے مابین مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ طے پایا، تو ۴؍جون ۱۹۷۷ء کو سپیشل ٹریبونل کراچی نے آپ کو رہا کردیا۔ آپ قائدِ اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی مدظلہ کی زیر قیادت جمعیت علماء پاکستان کے منشور کے مطابق ملک میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر کوشاں رہتے ہیں۔

تحریرات:
حضرت مولانا حکیم محمد رمضان کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات کا مالک بنایا ہے، چنانچہ سیاسی میدان میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر جدوجہد کے ساتھ ساتھ آپ مقامِ مصطفےٰ کے تحفظ کی خاطر اپنی زبان اور قلم کو مصروف رکھنا عین ایمان بلکہ جانِ ایمان سمجھتے ہیں ۔ اسی بناء پر آپ نے مسلکِ اہل سنت کی صداقت اور گستاخانِ رسول علیہ السلام کے خود ساختہ اور بغض و عداوت پر مبنی عقائد کے رد میں چند کتب بھی تحریر فرمائیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ تنویر الایمان بوسیلۃ اولیاءالرحمٰن ۲۴۸ صفحات (اولیاء کرام سے توسل کا جواز)

۲۔ تنویرالبرہان ۱۲۲ صفحات (غیر مقلدین کے چند اعتراضات کے مسکت جوابات)

۳۔ مکمل تاریخ وہابیہ ۲۵۶ صفحات (دورِ حاضر کے خوراج وہابیہ کی نقاب کشائی)

۴۔ تنویر المصابیح فی حدود التراویح (بیس تراویح کا ثبوت)

۵۔ معدنِ اخلاق (غیر مطبوعہ) (اخلاقیات پر جامع کتاب) [۱]

[۱۔ مولانا محمد رمضان علی قادری کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش سندھی متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ کے توسط سے حاصل ہوئے]

تعارف علماء اہلسنّت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ramazan-ali-naqshbandi-qadri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت مولانا شاہ محمد شفیع بدایونی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت شاہ عین الحق عبد المجید بد ایونی قدس سرہٗ کے منجھلے بھائی، محمد شفیع نام، ۶ رمضان المبارک ۱۱۸۴ھ میں پیدا ہوئے،والد ماجد اور حضرت مولانا محمد علی بحر العلوم بد ایونی سے تحصیل علم کیا،نہایت متواضع اور بردبار تھے، ۴؍ ذی الحجہ ۱۲۵۸ھ میں بعد مغرب انتقال ہوا،۔۔۔ ‘‘عالم ذی وقار وباکمال’’ فقرۂ سال وفات ہے،عالم متجر تھے،درس بھی خوب دیتے تھے۔

( اکمل التاریخ جلد اول )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-shafi-badayuni

#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/47717
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت شاہ ابو الخیر نولکھ ہزاری شاہ کوٹی سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

محترم جناب سید شریف احمد شرافت قادری نوشاہی مصنف، شریف التو اریخ، و دیگر کتب کثیرہ نے حضرت شاہ ابو الخیر نولکھی ہزاری سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں راقم کو جو معلومات فراہم کی ہیں من وعن درج ذیل ہیں۔

شاہ ابو الخیر رحمتہ اللہ علیہ کے والد کے نام سید عمر تھا،بخاری نسب کے سادات سے تھے،نولکھ ہزاری کی وجہ تسمیہ یہ ہے،سننے میں آیا ہے کہ آپ نے اپنی عمر میں نو لاکھ اور ایک ہز ار مرتبہ کلام اللہ شریف ختم کیا اسی لیئے آپ اس نام سے مشہور ہوئے۔

بیعت طریقت:
آپ کی بیعت حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑ بندگی سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ سے تھی، وہیں سے خلافت پائی، مجاوران شاہ ابو الخیر رحمتہ اللہ علیہ بتاتے ہیں کہ آپ کی ارادت سلسلہ مد اریہ میں شاہ میٹھ گداری سے تھی ممکن ہے کہ آپ کو ان سے بھی فیض پہنچا ہو۔

سفر ساندل بار:
منقو ل ہے کہ جب شاہ ابوالخیر رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے مرشد صاحب کی طرف سے خلافت ملی اور آپ کوحکم ہواکہ علاقہ سا ندل بار میں جاکر لوگوں کو اپنے فیض سے بہرہ ور کرو تو لاہور سے رخصت ہوکر روانہ ہوگئے اور آپ نے ایک بز خالہ پالا ہوا تھا جہاں جاتے اس کی بھی اپنے ساتھ رکھتے،آپ صائم الدہر رہتے تھے،چلتے چلتے آپ تلو نڈی میں پہنچے وہاں ایک بھٹی نے جو اس وقت علاقہ کا سر دار تھا آپ کا بز خالہ غصب کرکے ذبح کرکے کھا لیا آپ نے اس کے حق میں فرمایا کہ سر داری اس سے چھن جائے گی اور اس کی اولاد بالکل کم ہوگئی اور غیر مالک اور مفلس ہوں گے، جب آپ گاؤں سے باہر نکلے تو ایک لڑکا مویشی چرارہا تھا اس کو پو چھا تیر ا کیا نام ہے اور کون ہے، اس نے عرض کیا کہ میرا نام بلا رہے اور قوم بھٹی سے ہوں اور گاؤں کے سر دار کے مویشی چرا کر روٹی کھا تا ہوں، شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے بارہ سال کا روزہ رکھا ہوا تھا، آج اس کا یوم افطار ہے میرا روزہ تم افطا ر کرو اس نے بصد خوشی حکم قبول فرمایا اور گھر جاکر اپنی بوڑھی والدہ سے ماجرہ بیان کیا کہ ایک درویش مرد تشریف لائے ہیں ان کےلیئے کھانا تیا ر کرو، اس کے پاس صرف سوت کی ایک اٹی تھی وہ اس نے کالو کھتری کی دوکان پر جاکر فروخت کی اس کی قیمت سےر وٹی کےلیئے آٹا گڑ وغیرہ خریدا اور روٹی پکائی،بلا ر نے وہ روٹی شاہ صاحب کے حضور میں جاکر پیش کی، آپ نے شام کے وقت اس سے روزہ افطا ر کیا اور اس کو دعادی کہ اے بلار اس علاقہ کی سر داری ہم نے تم کو دلادی ہے جس قدر اراضی کے گرد تم اپنا گھو ڑا دو ڑ الو وہ سب تم کو مل جائے گی چنا نچہ اس نے بارہ کو س میں اپنا گھو ڑا پھیرا تو وہ زمین اس کو مل گئی اور رائے بلار بھٹی اپنے علاقہ کا سردار ہوگیا اب تک ان تمام مواضعا ت کے بھٹی مثلاً کوٹ حسین بھٹہ،عیسی خیر پور،خونی لکھی والا، میر پور وغیرہ سب اس کی اولاد سے مالک و سردار ہیں اور سالانہ شاہ ابوالخیر رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر شاہ کوٹ میں حاضری دیتے ہیں۔

گر ور نانک کی ولادت:
کالو کھتری ساکن تلو نڈی جو قوم بھٹی کا دھٹر وائی تھا اس نے جب شاہ صاحب کی تشریف آوری اور رائے بلار کے حق میں دعا کرنا سنا تو وہ بھی حاضر خدمت ہوا اور عرض کی کہ شاہ صاحب میرے ہاں کوئی اولاد نہیں آپ میرے حق میں دعا فرمائیں چنا نچہ آ پ نے اس کو بشارت دی کہ خدا تعالیٰ تمہارے ہاں لڑکا عطا کرے گا اس کا نام نانک رکھنا وہ درویش آدمی ہوگا اور اس کا نام زمانہ میں مشہور ہوگا، چنانچہ اس کے بعد کالو کھتری کے ہاں نانک پیدا ہوئے، جو بعد میں لبنام گورو نانک یا بابا نانک مشہور ہوئے اور شاہ ابو الخیر رحمتہ اللہ علیہ کی پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔

رائے بلار بھٹی نے اپنی مملو کہ زمین سے اٹھا رہ ہزار گھما ؤں زمین بابا نانک کودے دی اس غرض سے کہ یہ میرا پیر بھائی ہے اور ہم دونوں ایک ہی بزرگ یعنی شاہ ابوالخیر نولکھ ہزاری رحمتہ اللہ علیہ کے مرید ہیں چنانچہ آج تک وہ زمین گور دو ارہ ننکانہ صاحب کے نام متو ارث چلی آتی ہے، رائے بلار بھٹی کا بیٹا رائے بھو یہ بھٹی بھی اپنے باپ کی جا نشینی میں علاقہ کا سردار گز را ہے۔

نوٹ:
یہ تمام واقعات بھٹیوں کے دیہات میں عام زبان زد ہیں اور متواترات سے ہیں اگرچہ کسی کتاب میں یہ واقعات نہیں دیکھے گئے مگر بحکمِ ماگھر والے کو اپنے گھر کے حالات کا سب سے زیادہ علم ہوتا ہے، رائے بلار بھٹی کی اولاد کے سینکڑوں افراد اپنے آباؤ اجداد کی روایات سے یہ واقعات بیان کرتے ہیں، واللہ علم باالصواب سید شریف احمد شرافت نوشاہی کان اللہ ۱۳ مئی ۱۹۶۹ء
1👍1
تذکرہ قطبیہ، مصنفہ شیخ جمال الدین ابوبکر میں تحریر ہے کہ شاہ ابو الخیر بن سید عمر حسینی سلطان التا رکین شیخ مدار کے مریدوں میں سے تھے، ان پر عالم بے خودی ہر وقت طاری رہا کرتی تھی، آپ کے پیر و مرشد نے فرمایا کہ ان کو حضرت شیخ عبد الجلیل چوہڑ بند گی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں لے جاؤ چنا نچہ آپ کو حضرت قطب عالم رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں لایا گیا تو جو نہی آپ نے دست مبارک سے ان کا کان پکڑاآپ کے ہوش و حواس قائم ہوگئے، آپ مزید کہتے ہیں کہ جب سلطان بہلول لودھی نے اپنی دختر نیک حضرت قطب عالم رحمتہ اللہ علیہ کے نکاح میں دے دی تو اس کے جہیز میں بہت سے مواضعات دیئے گئے جن میں رسول کوٹ آپ نے قبول فرمایا بلکہ وہاں جاکر مقیم بھی ہوگئے مگر بعد میں آپ پھر لاہور میں تشریف لے آئے اور یہ علاقہ حضرت شاہ ابو الخیر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد کر آئے، یہ قصبہ موجود سانگلہ ہل شہر سے بارہ میل کے فاصلے پر ہے، مزید حالات کےلیئے تاریخ جلیلہ مؤلفہ غلام دستگیر نامی ملا حظہ فرمائیں۔

(لاہور کے اولیائے سہروردیہ)

https://scholars.pk/ur/scholar/baba-abul-khair-naulakh-hazari-shahkoti
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
سید ملت حضرت سید شاہ آل رسول حسنین میاں نظمیؔ مارہروی قدس سرہٗ


ولادتِ مبارکہ:
حضرت سید شاہ آلِ رسول حسنین میاں نظمی برکاتی مارہروی کی ولادت 6 رمضان المبارک 1365ھ بمطابق 4 اگست 1946ء کو ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حافظ عبد الرحمن عرف حافظ کلو سے قرآن مجید پڑھا، فارسی اپنے چچا حضور احسن العلماء سے اور انٹر ایم ۔جی۔ ایچ۔ ایم انٹر کالج سے کیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اسلامک اسٹڈیز اور انگلش لٹریچر میں بی ۔ اے ۔ کیا پھر یو ۔پی ۔ ایس ۔ سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ۔

زوجہ کا نام:
سیدہ آمنہ سلطان بشریٰ خاتون ۔

اولادِ امجاد:
تین: (۱) سید سبطین حیدر ـ (۲) سید صفی حیدر ـ (۳) سید ذو الفقار حیدر ۔ (ایک بیٹے کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا) ـ

بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت اپنے والد ماجد حضور سید العلماء سے تھی اور عم مکرم حضور احسن العلماء نے بھی خلافت و اجازت عطا فرمائی ۔

مختلف زبانوں میں مہارت:
عربی، فارسی، اردو، ہندی، انگلش، گجراتی، سنسکرت اور مراٹھی زبانوں میں آپ کو مہارت حاصل تھی ۔

تصانیف و تالیفات:
آپ نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں سے متعدد انگریزی زبان میں ہیں ۔

نمایاں وصف:
نعت گوئی (اعلیٰ حضرت کے کلام کے بعد محفلوں میں سب سے زیادہ آپ کا کلام پڑھا اور سنا جاتا ہے) ۔

مشہور خلفاء:
تینوں صاحب زادگان کے علاوہ (۱) حضرت سید محمد اویس مصطفی صاحب زیدی واسطی، بلگرام شریف (۲) مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی، گھوسی (۳) علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب، گھوسی (۴) الحاج سید الشاہ حسین صاحب، سلطان پور (۵) مولوی شبیر احمد قادری صاحب (۶) قاری محمد اختر برکاتی، مگہر (۷) قاری عبد القادر صاحب ، بمبئی (۸) صوفی محمد اسلام میاں کرلا، ممبئی (۹) مولانا محمد شاکر رضا نوری (۱۰) مفتی محمد زبیر صاحب قادری نوری، ممبئی (۱۱) الحاج محمد شوکت حسین خان صاحب، پاکستان (۱۲) الحاج درویش عبد الہادی صاحب نوری، ڈربن ساؤتھ افریقہ وغیرہم ۔

اہم کارنامے:
انفارمیشن براڈ کاسٹنگ محکمہ میں مختلف اعلی عہدوں پر فائز رہے (۲) شیلانگ میں پریس انفارمیشن بیورو میں بحیثیت ڈائرکٹر سبک دوش ہوئے (۳) کنز الایمان کا ہندی زبان میں بنام ’’ کلام الرحمن ‘‘ ترجمہ کیا ۔

وصالِ پُر ملال:
یکم محرم الحرام 1435ھ بمطابق نومبر 2013ء۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/syed-e-millat-hazrat-syed-shah-aal-e-rasool-hasnain-miyan-nazmi-marehravi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-09-1444 ᴴ | 28-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-09-1444 ᴴ | 29-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1