🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
پہنچادیا۔

ملوی میں قیام:

کہرام سےپندرہ کوس کےفاصلےپرموضع ملوی واقع ہے،وہاں ایک درویش مسمی بےنواشاہ قاسم رہتےتھے۔آپ ان کےپاس موضع ملوی چلےگئےاوروہاں قریب ایک سال قیام فرمایا،آپ کے سپرد خدمت تھی کہ بھاڑ کےلئےلکڑیاں جمع کیاکریں۔

ایک دن کا واقعہ ہےکہ بےنواشاہ قاسم نےاپنےگھرکی چھت پاٹنےکےلئے شہتیربنوایا،انہوں نے اپنےمریدوں سےاس شہتیرکےاٹھانےکےلئےفرمایا،وہ شہتیراتناوزنی تھاکہ کسی سےنہیں اٹھا، سب زورکرکےرہ گئے۔آپ نے اس شہتیرکوتن تنہااٹھاکردیوارپر رکھ دیا،وہ شہتیرکسی قدر چھوٹا تھا،آپ کاہاتھ لگنےسےوہ پوراہوگیا۔

یہ بات بےنواشاہ قاسم کےمریدوں کوناگوارگزری۔انہوں نےشکایت کی کہ وہ اتنےدنوں سے ہیں، انہیں کچھ حاصل نہیں ہوااورآپ کےمتعلق کہاکہ اس شخص کواتنی کم مدت میں صاحب تصرف کردیا۔

حضرت شاہ قاسم نےان لوگوں کواس طرح سمجھایاکہ۔۷؎

"قاسم حقیقی حق تعالیٰ ہے،یہ خود سیدزادہ ہیں،باپ داداان کےصاحب کمال تھے،مجھ کودخل اس میں نہیں ہے"۔

رخصت:

اتفاق سےبےنواشاہ قاسم کےپیرومرشدبھی وہاں مقیم تھے،انہوں نےبےنواشاہ قاسم سےفرمایا کہ:

"ہم اورتم حوض صغیرکےہیں اورمیران جی ماننددریائےعظیم کےہیں،ان کی سیرابی ہم سے نہ ہوگی،ان کو رخصت کرو"۔

بےنواشاہ قاسم نےاپنےپیرومرشدکااشارہ پاک رخصت کیا۔

رہنمائی:

اب آپ کےسامنےسوال یہ تھاکہ کہاں جائیں۔۔شاہ بھاول نےآپ کی رہنمائی کی اورآپ سے حضرت شاہ ابوالمعالی کےپاس چلنےکوکہا،آپ نےشاہ بھاول کامشورہ قبول کیااورآپ اورشاہ بھاول اینٹہ روانہ ہوئے،جہاں حضرت شاہ ابوالمعالی رہتےتھے۔

بیعت:

جب اینٹہ کےقریب پہنچے،آپ ایک جگہ بیٹھ کرحقہ پینےلگےاورشاہ بھاول آپ سےپہلے حضرت شاہ ابوالمعالی کی خدمت میں حاضرہوئے۔

حضرت شاہ ابوالمعالی نےان سے پوچھا:

"رفیق کوکہاں چھوڑا"۔

انہوں نےعرض کیاکہ پیچھےآتےہیں۔

تھوڑی دیرکےبعدشاہ بھاول آپ کولینےکی غرض سے وہاں سے اٹھے،آپ راستہ میں مل گئے، دونوں باتیں کرتےہوئےحضرت شاہ ابوالمعالی کےپاس روانہ ہوئے۔راستے میں شاہ بھاول نےآپ کو بتایاکہ حضرت شاہ ابوالمعالی بہ طرف پائیں چارپائی پربیٹھے ہیں۔

آپ جب حضرت شاہ ابوالعالی کی خدمت میں حاضرہوئےتوانہوں نےآپ کودیکھتے ہی فرمایا:

"بیامیران۔من رفیق توکجاست یعنی حقہ"

(آؤ میرےمیران۔تمہارارفیق کہاں ہے،یعنی حقہ)

آپ نےعرض کیاکہ اس کو میں نےچھوڑدیا،اس وقت سے آپ نےحقہ پیناچھوڑدیا۔بعدازاں حضرت ابوالمعالی نےآپ کومریدکیا۔آپ کوتعلیم فرمائی اورذکرکی تلقین کی۔

واپسی:

آپ کےپیرومرشدنےآپ کورخصت کیا۔وہاں سے روانہ ہوکرآپ ملوی پہنچےاوروہاں تین دن بے ہوش رہے۔آپ کےمنہ سے کف جاری تھا۔تین دن کےبعدآپ کوہوش آیا۔

وہاں سےروانہ ہوکرآپ کہرام پہنچےاورمحمد فاضل قانون گوکی مسجدمیں رہنےلگے،کچھ عرصےاس میں قیام کیا،پھرایک دوسری مسجدمیں جوآپ کےمزارکےقریب ہے،رہناشروع کیا۔

آپ نےایک شخص سے کھانےکےواسطے فرمایا،وہ روزانہ آپ کےواسطےکھانالاتاتھا،لیکن آپ چھ سات روزکےبعدایک روٹی پانی میں ترکرکےتناول فرماتےتھے۔

کشف:

ایک دن آپ کوبذریعہ کشف معلوم ہواکہ آپ کےپیرومرشدحضرت شاہ ابوالمعالی کی داڑھی کا ایک بال بوریہ پر گراہے،آپ اس بال کولینےکی غرض سے اینٹہ آئے،تلاش کرکےوہ بال بوریہ پر سے اٹھاکراپنےپاس رکھا۔

آپ کےپیرومرشدکوآپ کی اس بات سے یہ خیال پیداہواکہ کہیں ایسانہ ہو کہ آپ اس قسم کی مکشوفات میں الجھ کررہ جائیں اورمقصد حقیقی سے دوررہ جائیں،چنانچہ آپ کےپیرومرشد نےآپ سے فرمایاکہ۔۸؎

"میران!یہ فقرنہیں ہے،فقردوسری چیزہے"۔

آپ کےپیرومرشدنےآپ کوایک مرغ مرغن تین روزتک بھون کرکھلایا،اس کےکھانےسے آپ کو صفائی قلب حاصل ہوئی،پھرانہوں نےآپ کو رخصت کیااورآپ کوخداکےساتھ مشغول

رہنےکی ہدایت فرمائی۔

پس آپ کہرام واپس آئےاوریادحق میں مشغول ہوئے۔

طلبی:

چنددنوں کےبعدآپ کےپیرومرشدنےآپ کوایک رقعہ بھیجا۔آپ کواینٹہ طلب فرمایاتھا۔آپ کثرت مجاہدہ،ریاضت اورکم کھانےاورکم سونےکی وجہ سے اتنےکمزورہوگئےتھےکہ آپ کا سفرکرنا دشوارتھا،چنانچہ آپ نےاپنےپیرومرشدکویہی لکھاتھاکہ کمزوری اتنی ہے کہ سفرکی ہمت نہیں،البتہ جلد ہی خدمت بابرکت میں حاضرہوں گے۔

آپ کےرقعہ کاجواب لےکرجب آدمی روانہ ہوگیاتوآپ کو خیال آیا کہ پیرومرشد کےبلانے پر ضرور جاناچاہیے۔اس خیال کےآتے ہی آپ اس آدمی کے پیچھےاینٹہ روانہ ہوگئےاورآفتاب غروب ہونےسے ذراپہلےآپ اینٹہ پہنچ کراپنےپیرومرشدکی قدم بوسی سےمشرف ہوئے۔

آپ کےپیرومرشدجےآپ سے دریافت فرمایاکہ کہرام سےکب چلےتھے۔

آپ نےسب قصہ بیان کیااورعرض کیاکہ آج ہی دوپہرکہرام سے روانہ ہوئے تھے۔پھرآپ کے پیرومرشدنےپوچھاکہ یہ توبتاؤ کہ دریاکس طرح پارکیا؟

آپ نےعرض کیا۔

"پانی کےاوپرچلاآیااورپاؤں میرے ترنہیں ہوئے"۔

سوال وجواب ختم ہوئے،آپ کےپیرومرشدنےآپ کو رخصت کیااورآپ سےفرمایا۔۹؎

"اسباب ظاہرکی رعایت ضروری ہے"۔

عبادت ومجاہدہ:

اینٹہ سے کہرام واپس ہوتے ہوئے کشتی سے
1👍1
دریاپارکیا۔کہرام پہنچ کرعبادت و ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوئے،رات کو کنویں پرایک تختہ بچھاکراس پربیٹھ کرعبادت کرتےاوراپنے نفس کو آگاہ کرتےکہ اگرسویاتوکنویں میں گرےگا،پوشاک کایہ حال تھاکہ پرانےکپڑے گلیوں میں سے اٹھاکر پانی سےدھوکراورسی کر پہنتے تھے۔

خرقہ خلافت:

آپ کےپیرومرشدنےرخصت کرتے وقت آپ کوہدایت فرمائی تھی کہ اینٹہ نہ آئیں،جب مناسب ہوگا،وہ خودہی کہرام آئیں گے۔کچھ عرصےکےبعدآپ کےپیرروشن ضمیرکہرام میں رونق افروزہوئےاورآپ کوپیراہن،کلاہ،جامہ اورچادرعنایت فرمائی۔

آپ نےبصد عاجزی عرض کیا۔۱۰؎

"بندہ کواس لباس کےپہننےکی لیاقت نہیں ہے"۔

آپ کےپیرومرشدنےفرمایاکہ:

"میں کہتاہوں اورتم عذرکرتےہو"۔

بحکم پیرومرشدآپ نےوہ لباس پہنا،آپ کےپیرومرشدنےآپ کو خلافت سے سرفرازفرمایا۔

شاہی دربارسےتعلقات:

محمدشاہ کےعہدمیں ایک سال بارش نہ ہونےکی وجہ سے مخلوق بہت پریشان تھی۔بادشاہ کوآپ کانام بتایاگیاکہ اگرآپ دعاکریں تویقیناًبارش ہو۔محمدشاہ نےسرہندکےحاکم کےنام ایک فرمان جاری کیا، جس میں اس نےآپ کو دہلی لانے کی تاکیدکی اورایک عریضہ آپ کی خدمت میں بھیجا۔آپ نے معذرت چاہی،جس وقت آپ کوخط ملاوہاں خوب بارش ہوئی،محمدشاہ نےآپ کو نذرانہ بھیجا،جوآپ نے بہ مشکل قبول فرمایا۔

ایک مرتبہ محمدشاہ نےنواب روشن الدولہ کوآپ کی خدمت میں بھیجا،آپ کی خدمت میں کچھ مٹھائی اورکچھ کپڑے محتاجوں کوتقسیم کرنےکےلئےبھیجےاورآپ سے اس امرکی دعاچاہی کہ اس کی اولاد میں ہمیشہ سلطنت رہے۔آپ نےمراقبہ کیااورفرمایاکہ محمدشاہ کوحضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کی سفارش سلطنت ملی ہےاورحضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ نےدوپشت سفارش کی تھی ،اس میں کس کی مجال کہ دخل دے۔



وفات:

آپ ۵ رمضان المبارک ۱۱۳۱ ھ کو واصل بحق ہوئے۔ مزار پر انوار کہرام میں حاجت روائے خلق ہے۔

خلفاء:

آپ کےبیالیس خلیفہ تھے،آپ کےمشہورخلفاءحسب ذیل ہیں۔۱۱؎

شاہ محمد باقر،شاہ نظام الدین،سید فاضل،سیدعبدالمومن،شیخ نعمت اللہ۔۔۔۔میاں شاہ اورنگ، خواجہ مظفر،غلام محمد،محمدافضل شاہ لطف اللہ جالندھری،سیدمحمد سالم ترمذی روپڑی۔

سیرت:

آپ اپنےوقت کےقطب تھے۔عبادت،ریاضت اورمجاہدہ میں مشغول رہتے تھے۔نذرانہ جو آتا، اس میں سےخادموں کےخرچ کےواسطے نکال کرباقی اپنےپیرومرشدکوپیش کرتے،آپ کالنگرعام تھا۔

تعلیمات:

ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں آیت کریمہ:

لایمسہ الاالمطھرون

کےمعنی ومضمرات پربحث شروع ہوئی۔ایک عالم جو وہاں موجودتھا،اس نےکہا کہ:

"اس جگہ معنی انشاء میں ہے(یعنی یہ ہیں چاہےکہ نہ چھوئیں قرآشریف کو،لیکن پاک لوگ"جو حدث اصغرسےپاک ہوں")۔

آپ نےیہ سن کرفرمایاکہ"کیاضرورت ہےکہ اخبارکومعنی انشاءمیں حمل کرین،یہ کیوں نہیں کہتے، مس نہیں کرے(قرآن وادراک معنی واسرارکےکو)مگرپاک لوگ(کہ پاک ہوں آلائش بشری سے"۱۲؎

آپ اپنےمریدوں کوآدھی رات سےزیادہ سونےکی اجازت نہیں دیتےتھے۔

فرمان:

پیرکومریدشناسی چاہیے۔

درودووظیفہ:

آپ اپنےمریدوں کوذکراسم ذات جہرکےساتھ تلقین کرتےتھے۔آپ فرماتے ہیں کہ۔

"فقیرکوچاہیے کہ ایک لاکھ مرتبہ ذکراسم ذات کیاکرکے،اگرچالیس مرتبہ ہرروزانہ کرے تواس کو لقمہ درویشی ودلق حرام ہے"۔

کشف و کرامات:

آپ کےپیرومرشدکےحجرےکی چھت خراب ہوگئی۔سب مریدوں نےچھت کی مرمت کی، لیکن چھت ٹھیک نہیں ہوئی،آپ کےپیرومرشدنےمسکراکرفرمایاکہ "میران جی سے چھت درست ہوگی۔آپ اس زمانےمیں چلہ میں تھے۔آپ کوبلایاگیا۔آپ چلہ سے باہر آئےاورچھت درست کرنےمیں مصروف ہوئے۔آپ نےگھاس اکھاڑی،پھرمٹی اورپانی ڈال کرچھت کوکوٹنا شروع کیا،جتنی بارکوٹتےتھے،ہربارہرضرب پرایک مقام ظاہرہوتاتھا۔

آپ کاایک مریدموضع نوندھن میں رہتاتھا،اس کاایک لڑکاتھا،جس کی عمردس سال کی تھی۔ایک دن اس لڑکےکاانتقال ہوگیا،اتفاق سے اسی دن آپ اس موضع میں رونق افروزہوئے۔اس مریدکو جب یہ معلوم ہوا،آپ کواپنےگھرلایااورلڑکےکی نعش کوایک کوٹھری میں بندکردیا،جب آپ کے سامنےکھانالایاگیاتوآپ نےکھانےسےانکارکیااورفرمایا"جب تک اس کالڑکا نہ آئےگااورکھانانہ کھائےگا،آپ بھی کھانانہیں کھائیں گے۔مریدنےبہانہ کیااورعرض کیاکہ لڑکاکہیں کھیلتاہوگا، معلوم نہیں کب آئے۔اس کاانتظار بےکار،آپ نےفرمایاکہ جب بھی آئےگا،تب ہی کھاناکھائیں گے۔اب اس مریدنےمجبورہوکرعرض کیاکہ"لڑکاآپ کےآنےسے دوساعت پہلےمرگیا، اس کی نعش کوٹھری میں رکھی ہے"آپ نےفرمایا"لڑکامرانہیں ہے،جاکردیکھو،اگرسوتاہوگاتوجگاکرلاؤ" وہ شخص جب کوٹھری میں گیاتودیکھاکہ لڑکاسانس لیتاہے،اس کو ہلایا،وہ اٹھ بیٹھااوراپنےباپ کے ساتھ باہر آکرآپ کا قدم بوس ہوا۔

حواشی

۱؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳

۲؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳

۳؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۳

۴؎بستان معرفت ص۱۰۹

۵؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۴

۶؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۴

۷؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۵

۸؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۵

۹؎بستان معرفت ص۱۱۱

۱۰؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۶

۱۱؎انوا
1👍1
رالعارفین(فارسی)ص۴۱۶

۱۲؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۷

۱۳؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۱۷

۱۴؎انوارالعارفین(فارسی)ص۴۲۰،۴۱۴

۱۵؎بستان معرفت ص۱۱۴

(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meeran-syed-shah-bheka
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت پیر سیّد انور حسین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ:

آپ کی ولادت با سعادت ۱۵؍نومبر ۱۹۲۱ء مطابق ۱۴؍ربیع الاول شریف ۱۳۴۰ھ بروز منگل ہوئی۔ مدرسہ نقشبندیہ علی پور شریف سے قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ کئی سال تک ’’مسجد نور‘‘ میں قرآن پاک سنایا۔ آپ بڑے عابد و زاہد، متقی و پرہیزگار اور کامل ولی اللہ تھے۔ آپ کی وفات ۵؍رمضان المبارک ۱۳۹۲ھ مطابق ۴؍اکتوبر ۱۹۷۲ء کو ہوئی اور روضۂ امیر ملّت رحمۃ اللہ علیہ سے ملحقہ حضرے میں اپنی والدہ ماجدہ کے پہلو میں سپرد خاک ہوئے۔

(مزید حالات کے لیے ’’سیرِ انور‘‘ مرتبہ کلیم حیدرآبادی اور راقم الحروف کی کتاب تذکرہ اولیائے علی پور سیّداں‘‘ کا مطالعہ انتہائی سود مند رہے گا۔ قصوؔری)

( تاریخِ مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-anwar-hussain-shah
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مولانا میاں عبدالحلیم شہداد کوٹی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا میاں عبد الحلیم۔شہداد کوٹ کی نسبت سے"شہداد کوٹی"کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: مولانا عبد الحلیم شہداد کوٹی بن مولانا نصیر الدین شہداد کوٹی علیہما الرحمہ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 28/ربیع الاول 1331ھ مطابق مارچ 1913ءکو درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی۔

تحصیل علم:
ابتدا ء سے لے کر آخر تک تعلیم مولانا عبدالغفار کھوسہ بلوچ سے درگاہ شریف صدیقیہ پر حاصل کی۔ اس کے بعد مبلغ اہل سنت،صحافی ونامور شاعر حضرت مولانا قمر الدین عطائی مہیسر سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
بعد فراغت از فراغتِ علم، حضرت پیر طریقت مولانا مخدوم ہادی بخش سجادہ نشین درگاہ محمد پور شریف (پنو عاقل ) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔مجاہدات کے بعد خلافت سے نواز ے گئے اور آپ درگاہ صدیقیہ کے سجادہ نشین دوئم قرار پائے ۔

سیرت و خصائص:
عالم و عارف،مجاہد اہل سنت، محسن اہل سنت،پیر طریقت حضرت علامہ مولانا میاں عبد الحلیم شہداد کوٹی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ نے ساری زندگی دینِ متین کی حقیقی خدمت فرمائی۔مسلک ِ حق کی اشاعت وفروغ میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔روایتی پیری مریدی سے ہٹ کر آپ نے صرف لنگر ونیاز کاکھانا اور مریدین ومتوسلین سےنذرانے وصول نہیں کیے بلکہ پوری زندگی قوم میں علم وعرفاں کی نعمتِ لازوال تقسیم فرماتے رہے۔ایسی دولت جس سےان کےایمان واتقان میں اضافہ ہو،اور ان کی نسلیں ہر قسم کےعفریت سےمحفوظ رہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آپ ہمہ وقت خدمت دین کے لئے سر گرم رہتے تھے ۔ جہالت کی تاریک رات کو تار تار کرنے کیلئے اجالے کی ضرورت کو ہر وقت محسوس کرتے تھے۔ اس لئے علم دین کو عام کرنے اور معاشرے کےسدھار و اصلاح کے لئے قرآن و سنت کی تعلیم کو ہی اسی معاشرے کا انقلاب تصور کرتے تھے ۔ اس لئے مدارس عربیہ کو قائم فرمایا۔صرف شہداد کوٹ میں چار دینی مدارس قائم فرمائے،ان کےعلاوہ دو مدرسے قلات بلوچستان، اور ایک مدرسہ خضدار میں قائم فرمایا۔جہاں مدرسہ ہوگا وہاں بدمذہب کی بدعقیدگی کے جراثیم نہیں پھیل سکیں گے۔آج بدمذہب ناسور کی طرح بڑھ رہےہیں اس کی بنیادی وجہ ان کے مدارس کا قیام ہے، اور ہمارے دینی مدارس کا زوال ہے۔آج کےسجادہ نشین اور اہل سنت کےسرکردہ راہنماؤں کواہل سنت کی بقاء کےلئے اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حضرت میاں صاحب علیہ الرحمہ نے دینی مدارس کے قیام کےساتھ ساتھ پڑھے لکھے لوگوں میں علم دین کی سوغات تقسیم کرنے کے لئے درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ سے 1959ء کوماہنامہ "فیوضاتِ صدیقیہ"جاری فرمایا۔اس مجلہ نے سندھی زبان میں دین اسلام، مسلک اہل سنت اور تعلیمات اولیاء اللہ کی خوب تبلیغ فرمائی۔ معاشرہ کی اصلاح کے حوالہ سے بھی اس مجلہ کی خدمات قابل قدر ہیں ۔

عادات و خصائل :آپ شریعت مطہر ہ کے پابند،صوم صلوٰ ۃ کے پابند،عالم دین،پیر طریقت،نعتیہ شاعر،سادگی پسند،اخلاق محبت کے خوگر،حق گو ،خدمت دین سے سرشار،بلندحوصلہ ،مضبوط ارادہ کے مالک،عربی فارسی،سندھی،سرائیکی اور اردو زبانوں پر عبو ر رکھتے تھے۔ بعد نماز فجراور عشاء قادری ذکر بالجہر پابندی سے مسجد شریف میں جماعت کے حلقہ میں کرانا آپ کے معمول میں سے تھا۔

تاریخِ وصال:
مولانا میاں عبدالحلیم نے 5 ، رمضان المبارک 1399ھ بمطابق 30 جولائی 1979ء کو انتقال فرمایا۔ درگاہ صدیقیہ شہداد کوٹ میں مدفون ہوئے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-haleem-shahdadkoti
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
مفتی اعظم سرحد حضرت مولانا شائستہ گل قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام ونسب: اسم گرامی: مولانا شائستہ گل قادری۔لقب: مفتی اعظم سرحد،شیخ العلماء،فاتحِ سرحد،مجاہدتحریکِ پاکستان،مؤید اہل سنت،مہلک اہل بدعت۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: مولانا مفتی شائستہ گل قادری بن مولانا محمد علی بن ملک العلما مولانا عمر دراز علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کے والدِ ماجد اور جدِّ امجد علمائے ربانیین میں سے تھے۔خاندانی تعلق افغان قبیلہ ’’یوسف زئی‘‘ پٹھانوں سےہے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1308ھ مطابق 1891ء کوبمقام لنڈی شاہ متہ ضلع مردان میں ہوئی۔

تحصیل علم: آپ نے ایک علمی گھرانے میں آنکھیں کھولی تھیں، اس لیے تعلیم کی ابتدا گھر سے ہوئی۔ ابتدائی کتب اپنے والدِ مکرم حضرت مولانا محمد علی (متوفّٰی 1343ھ) سے پڑھیں اور دیگر مختلف علما سے تکمیل کی۔ ایلئ مولانا صاحب جو امام النحو تھے، ان سے نحو پڑھی (ایلئی، بنیر میں ایک گاؤں ہے، اسی مناسبت سے ایلئ مولانا کہلاتے تھے)۔ ان کے درس میں چھ سات سو طلبہ ہوتے تھے،کافیہ کی شرح پشتو میں لکھی ہے)۔ لالہ کالا مولانا صاحب (لالہ کالا بھی ایک گاؤں کا نام ہے،جوپشاور کے نواح میں واقع ہے،نہایت زاہد وعابداور حضرت سوات علیہ الرحمۃ کے خلیفہ تھے) سے صرف پڑھی۔ حضرت قاضی صاحب بڈھنی سے معقول و منقول کی کتب پڑھیں۔ مولانا ڈاگئی یار حسین سے تفسیر اور حدیث کا درس لیا اور سند مولانا عبد العلی دہلوی سے حاصل کی۔ جون پور کے دارالعلوم حنفیہ میں مولانا حامد علی سے بھی دورۂ حدیث کی تکمیل کرکے سندِ فراغت حاصل کی۔ تجوید و قراءت مولانا قاری عبدالسلام بن قاری عبدالرحمٰن پانی پتی سے پڑھی اور اس طرح تقریباً تیس برس کی عمر میں تمام مروجہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں مہارتِ تامّہ حاصل کی۔

بیعت وخلافت: سلسلۂ عالیہ قادریہ زاہدیہ میں عارف باللہ حضرت پیر عبدالوہاب قادری پیر آف مانکی شریف علیہ الرحمۃ کےدست ِ حق پرست پر بیعت کی تھی۔

سیرت وخصائص: مفتیِ اعظم سرحد، شیخ العلما، فاتحِ سرحد،مجاہدِ تحریکِ پاکستان،مؤیّد اہلِ سنّت،مہلک اہلِ بدعت، مصنّفِ کتبِ مفیدہ،صاحبِ اوصافِ حمیدہ،جامع علوم نقلیہ وعقلیہ،امیرِ شریعت، صاحبِ اسرارِ حقیقت حضرت علامہ مولانا مفتی شائستہ گل قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔حضرت مفتی اعظم سرحد علیہ الرحمۃ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ اورصوبۂ سرحد میں اہلِ سنّت کے نیرِ اعظم اور عظیم قائد وترجمان تھے۔آپ کا شمار علمائے حق اور علمائے ربانیین میں ہوتاتھا۔ ملّت کی نگہبانی وسرپرستی کا حق اداکردیا۔مفتیِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا ابوالبرکات سیّد احمد قادری علیہ الرحمۃ نے آپ کو’’مفتیِ اعظم‘‘ سرحد کالقب عطا فرمایا۔ آپ علیہ الرحمۃ تمام علومِ نقلیہ وعقلیہ کے جامع اور ماہرِ کامل تھے۔ آپ نے تحصیلِ علوم سے فراغت کے بعدجو تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا تھا، وہ آج تک بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی جاری ہے۔ اپنے آبائی گاؤں لنڈی شاہ متہ میں ایک دارالعلوم حنفیہ سُنّیہ قائم فرمایا۔ اس دارالعلوم میں آپ سے کثیر ملکی وغیر ملکی طلبہ نےعلمی وروحانی استفادہ کیا۔ تحریکِ پاکستان میں خدمات: عقائدِ حقّہ کی نشر و اشاعت کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی خطّہ (پاکستان) کی خاطر، جہاں مکمل طور پر اسلام نافذ ہو، تحریکِ پاکستان میں بھرپور حصّہ لیا۔ پہلے پہل تحریکِ خدائی خدمت گار میں شامل ہوکر خان عبدالغفار خان کے ساتھ کام کیا، لیکن بعد میں جب خان موصوف نے اس تحریک کو انڈین نیشنل کانگریس میں مدغم کردیا تو آپ نے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کی۔ مسلم لیگ نے پاکستان کا مطالبہ کیا، تو آپ نے نہایت جرأت و ہمّت کے ساتھ اس مطالبے کی حمایت کی، آپ کے مشورے سے حضرت پیر صاحب مانکی شریف (پیر محمد امین الحسنات کی صدارت میں مشائخ و علما کی ایک جمعیت تشکیل دی گئی جس کا نام ’’جمعیۃ الاصفیاء‘‘ رکھا گیا اور آپ اس جماعت کے ناظم مقرر ہوئے۔ آپ نے پیر صاحب کی معیت میں تمام ہندوستان کا دور ہ کیا اور پھر پیر صاحب چورہ شریف کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا اور اس میں ایک قرارداد کے ذریعے یہ مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان میں قرآن و سنت کے مطابق حکومت ہوگی۔چناں چہ قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم اور شہیدِ ملّت لیاقت علی خان مرحوم نے اس مطالبے کو تحریری طور پر تسلیم کیا۔ پاکستان بن جانے کے بعد برسرِ اقتدار طبقے نے ایفائے عہد نہ کیا تو آپ نے یاد دہانی کرائی، لیکن اس کی پاداش میں آپ کو تین دن تک حوالات میں رکھا گیا اور پھر گیارہ ماہ کے لیے پاکستان سے نکال دیا گیا۔پھر آپ سرحد سےسوات تشریف لےگئے۔بقیہ زندگی دینِ متین کی تبلیغ واشاعت اور تصنیف وتالیف میں گزاری۔ اس واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے اَکابر کیسے مخلص اور دین کا سچا جذبہ رکھتے تھے۔ان کی تمام تر کوششیں دنیاوی عہدے اور لالچ سےمبرا ہوتی تھیں۔ صوبۂ سرحد(موجودہ خیبر پختون خواہ) علمائے اہلِ سنّت کی کوششوں سےپاکستان کاحصّہ بنا۔ اگرہمارے علما کی مخلصانہ کوششیں نہ ہوت
1👍1
یں تو یہ علاقہ پاکستان کا حصّہ نہ ہوتا، کیوں کہ یہ کانگریس کا مضبوط گڑھ تھا، جنہوں نےپاکستان کی من گھڑت تاریخ وضع کی ہے۔ ہمارا ان سےصرف ایک سوال ہےکہ مطالعۂ پاکستان میں جن مولویوں کےنام تم نےتحریکِ پاکستان کاحصّہ بنائے،اورقیامِ پاکستان کے بعد جن مولویوں کوتم نےوزارتیں بانٹیں ان کا،یا ان کےاکابر کاتحریکِ پاکستان میں ایک نام بھی بتادو، بلکہ یہ توشروع سے لے کرآج تک قیام پاکستان کےمخالف رہے ہیں، اور جبّہ و دستار اوردین کےنام پر ڈیزل وپٹرول، وزارتیں وپلاٹس اسلام کی قیمت پروصول کر رہےہیں۔آج اس صوبے میں جن لوگوں کومسلط کردیا گیا ہے کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جوکل پاکستان کو’’پلیدستان‘‘ اورپاکستان کو ووٹ ڈالنےوالوں کےنکاح فسخ ہونے کافتویٰ صادر کررہے تھے۔کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نےیہ الفاظ کہے تھے: ’’الحمد للہ! ہم پاکستان بنانےکے گناہ میں شریک نہ ہوئے۔‘‘(بحوالہ،ہفت روزہ الجمعیت راولپنڈی،8؍دسمبر1973ء، ص14) اس وقت پاکستان میں دہشت گردی وانتشار کےذمّے دار یہی ملّا ہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو جسٹس نذیرحسین کی رپورٹ اٹھا کر دیکھیں، اگر ارباب ِ اختیار امن کےمتمنی ہیں تو پاکستان کےوارثین،اسلام کےحقیقی ترجمان علمائے حق کےراستے میں رکاوٹیں نہ ڈالیں بلکہ اُنہیں موقع دیں، اِنْ شَآءَ اللہ جس طرح پاکستان بنایا تھا اُسی طرح پاکستان کی تعمیر بھی کریں گے۔اہلِ سنّت کا اب بھی یہی نعرہ ہے: ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہ،اور ہماری منزل کیا؟ نظام ِ مصطفیٰﷺ)۔ 1370ھ میں آپ نے حج کیا اور امیر الحاج کی حیثیت سے تشریف لے گئے، نیز آپ کو قاضی ِحجاج بھی مقرر کیا گیا، اثنائے سفر میں آپ سے جتنے سوالات پوچھے گئے، اُن سب کے تحریری جوابات آپ نے ’’اِستفتاءُ الحج‘‘ کے نام سے مرتّب کیے۔

تصنیف و تالیف: اس سلسلے میں آپ نے کافی کام کیا ہے۔ بدمذہبوں اور بے دینوں کے رد میں رسائل تحریر کیے اور علمی و تحقیقی کتب بھی تحریر فرمائیں۔ آپ کی تصانیف کچھ مطبوعہ ہیں اور بعض ابھی تک زیوِرِ طبع سے آراستہ نہیں ہوسکیں۔ حاشیۂ مدارک التنزیل عربی میں لکھا ہے،اورتمام تفاسیر کےمطالعے کےبعد تحریر کیا ہے،یہ انتہائی جامع اورمدلل ہے،عقائدِ اہلِ سنّت قرآن وحدیث کی روشنی میں بڑےجامع اور منفرد انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ مفتی صاحب کی تمام کتب کی وسیع اشاعت وقت کی اہم ضرورت ہے، اِسی طرح ان علاقوں میں مسلکِ حق اہلِ سنّت وجماعت کےدینی مدارس ومساجد کاقیام بقیہ اہلِ سنّت کےایمان کی حفاظت کےلیے لازمی ہے۔اس وقت ان علاقوں میں کفر کی طرح بدمذہبیت کو عروج حاصل ہے،اور اہل ِ حق پس ماندگی کا شکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پھر سے اہلِ حق کوعروج عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔

تاریخ ِ وصال: 5؍رمضان المبارک 1401ھ مطابق 7؍جولائی 1981ءبروز منگل ، یہ کوہِ علم وعرفان سرزمینِ مردان میں بارگاہ ِ ربّ العالمین جَلَّ جَلَالُہٗ میں حاضر ہوگیا۔

ماخذ ومراجع: ’’تذکرۂ علما و مشائخِ سرحد‘‘؛ ’’تخلیقِ پاکستان میں علمائے اہلِ سنّت کا کردار‘‘؛ ’’اکابرِ تحریکِ پاکستان‘‘۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shaista-gul-mardan-qadri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت مولانا ہدایت اللہ رامپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام ونسب: آپ کا اسمِ گرامی مولانا ہدایت اللہ بن مولانا رفیع اللہ خان ہے۔ آپ کا آبائی وطن سوات تھا۔

مقامِ ولادت: آپ مولانا رفیع اللہ خان کے گھر محلّہ الف خان رام پور میں پیدا ہوئے، لیکن ہمیں تاریخِ ولادت بسیار کوشش کے باوجود نہ مل سکی۔

تعلیم وتربیت: ابتدائی کتابیں والدِ ماجد سے پڑھیں، صرف ونحوحافظ غلام علی سے اور منطق میر زاہد تک مولانا جلال الدین (المتوفّٰی 1313ھ) سے حاصل کی۔پھرحضرت علامہ مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ کے ورودِ رام پور کے بعد حلقہ تلامذہ میں داخل ہوکر تمام علو م وفنون میں کمال حاصل کیا، اور حدیث مولانا عالم علی حسینی نگینوی (المتوفّٰی 1295ھ) سے حاصل کی۔

بیعت وخلافت: اپنے استاذِگرامی مولانا جلال الدین علیہ الرحمۃ کےبرادرِ اصغر حضرت شاہ چھوٹے میاں علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔

سیرت وخصائص: فاضلِ جلیل، عالمِ نبیل،محقق کبیر، جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ حضرت علامہ مولانا ہدایت اللہ رامپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا شمار رامپور کے جیّد اور مشہور علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ آپ ان علما میں سےتھے جن سے علم و فضل کو شرف حاصل ہوتا ہے، اور دینِ اسلام کو عروج ملتا ہے۔ آپ کا تعلق ان علمائے حق سے ہے جنہوں نے مشکل وقت میں اپنے دین وایمان ،اورملک وملّت کی سلامتی اوربقا کے لیے عظیم قربانیاں دیں ہیں۔آپ اپنے استاذ ِ محترم حضرت علامہ فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمۃ کے فکر ونظریات اور علم وعمل کی بناپر اُن کے عاشق وشیدائی تھے۔ہر جگہ ساتھ رہےاورحضرت خیر آبادی کی خدمت سرانجام دیتے رہے۔ انگریزوں کی مخالفت اور فتوائے جہاد کی وجہ سےحضرت خیر آبادی جب کالاپانی بھیج دیے گئے تب جدائی ہوئی۔ مغموم و محزون وطن واپس آئے اورتدریس شروع کردی ۔مدرسہ عالیہ میں تدریس فرماتے رہے۔ 1870ء میں مدرسۂ حنفیہ جون پور میں صدر مدرّس کی حیثیت سےتشریف لائے۔ فرقہ ضالہ وہابیہ کے ردّ و تنفر میں نامور عالمِ دین حامی ِحق حضرت خیر آبادی کے قدم بَہ قدم رہے۔ 1300ھ میں بمقام مرشد آباد بنگال کے مشہور غیر مقلد بہاری مولوی عبدالعزیزی رحیم آبادی کے مقابلے میں مذہب ِحنفیہ کو دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا اور وہابی مولوی کو اپنے باطل مذہب کے ساتھ راہِ فرار اختیار کرنا پڑی۔آپ وسیع الاخلاق، خندہ رو، دوست آشنا، سادہ وضع، متورع و متقی اور شاگردوں پر نہایت شفیق تھے۔

وصال: بروز ہفتہ 5؍رمضان المبارک 1326ھ کو واصل بحق ہوئے۔ درگاہِ حضرت قطب الاقطاب شیخ عبدالرشید جونپوری علیہ الرحمۃ واقع رشید آباد میں مدفون ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hidayatullah-khan-rampuri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالمصطفیٰ ۔

نسب:
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
محمد عبد المصطفیٰ بن شیخ حافظ عبدالرحیم بن شیخ حاجی عبدالوہاب بن شیخ چمن بن شیخ نور محمد بن شیخ مٹھو بابا رحمہم اللہ تعالٰی۔

والدۂ ماجدہ کا نام حلیمہ بی بی تھا۔

ولادت:
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ ہندوستان کے ضلع اعظم گڑھ کے گنجان آباد قصبہ گھوسی میں ماہِ ذیقعد 1333ھ میں شیخ حافظ عبدالرحیم ﷫ کے گھر پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ اپنے والدِ گرامی سے ابتدائی تعلیم حاصل کر کےمدرسۂاسلامیہ گھوسی میں داخل ہوئے اوراردوفارسی کی مزید تعلیم پائی۔ چند ماہ مدرسۂ ناصر العلوم گھوسی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسۂ معروفیہ معروف پورہ میں میزان سے شرح جامی تک پڑھا۔ پھر1351ھ میں مدرسۂ محمدیّہ حنفیہ امروہہ اورمدرسۂ منظرِاسلام بریلی میں علی الترتیب شیخ العلما حضرت مولانا شاہ اُویس حسن عرف غلام جیلانی اعظمی (شیخ الحدیث دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف (متوفّٰی 1397ھ)، مولانا حکمت اللہ امروہوی،حضرت مولانا سیّد خلیل احمد کاظمی محدث امروہوی، محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد (علیہم الرحمۃ) سے حاصل کی۔ 10؍ شوّال المکرم 1355ھ کو دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ ریاست دادوں علی گڑھ پہنچے، حضرت صدرالشریعہ ﷫سے دورۂ حدیث پڑھا، 1356ھ میں سندِ فضیلت مرحمت ہوئی۔حضرت مولاناسیّد شاہ مصباح الحسن صاحب چشتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے سر پر دستارِ فضیلت باندھی ۔

مذکورۂ بالا مشائخ کے علاوہ، آپ﷫نے اِن نابغۂ روزگار ہستیوں سے بھی علمی و روحانی استفادہ فرمایا:

حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ محمد حامدرضا خاں صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (خلفِ اکبرسرکاراعلیٰ حضرت امام احمد رضا قُدِّسَ سِرُّہٗ) کی خدمت میں حاضری دی اور شرف یاب ہوئے۔ موصوف آپ پر بڑا کرم فرمایا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗکے برادرِخورد حضرت مولانا محمد رضا خاں صاحب عرف ننھے میاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے علم المیراث کی مشق کی اور حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں نوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (زیب سجادہ آستانۂ عالیہ قادریّہ رضویہ بریلی شریف، خلفِ اصغرحضور اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ)کے دارالافتاء میں بھی حاضر ہوتے تھے۔اسی طرح حضر ت مولانا سیّد سلیمان اشرف بہاری پروفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (خلیفۂ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ) کی خدمت میں بھی حاضری دیتے اورعلمی اکتساب فرماتے رہے۔

بیعت و خلافت:
17؍ صفر المظفر 1353ھ میں حضرت حافظ شاہ ابرار حسن خان صاحب نقشبندی شاہجہاں پوری سے سلسلۂ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور 25؍صفر المظفر 1358ھ میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خاں صاحب﷫ نے سلسلۂ قادریہ رضویہ کی خلافت عطا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت مولانا قاضی محبوب احمد عباسی صاحب خلیفۂ حافظ شاہ ابرار حسن صاحب شاہ جہاں پوری نے سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کی خلافت سے سر فراز فرمایا۔

سیرت وخصائص:
حضور فقیہِ ملّت، حضرت علامہ مفتی محمد جَلال الدین احمد امجدی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’ علامۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا الحاج عبد المصطفیٰ صاحب اعظمی مجددی قبلہ مدظلہ العالی، اپنے علمی جاہ و جلال اور فضل و کمال کے اعتبار سے اکابر علمائے اہلِ سنّت میں ایک خصوصی امتیاز کے ساتھ ممتاز ہیں۔

آپ ایک مُسلّم الثبوت، ماہر درسیات، ساحرالبیان اور ایک خصوصی طرزِ تحریر کے موجد و کامیاب مصنّف ہونے کی بنا پر ملک و بیرونِ ملک میں ’’جامع الصفات‘‘ مشہور ہیں۔ چند خاص خاص اور اہم موضوعات پر آپ کی چھوٹی بڑی پندرہ کتابیں طبع ہوکر عوام وخواص سے خراجِ تحسین حاصِل کر چکی ہیں۔‘‘ (تقریظ، جنّتی زیور)

درس و تدریس:
آپ ساری زندگی مدارسِ اہلِ سنّت میں تدریس کے فرائض سر انجام ديتے رہے، اور حقیقی طور پر دینِ متین کی خدمت فرمائی۔ بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی ان درس گاہوں میں سیکڑوں طلبہ آپ کے درس سے فارغ التحصیل ودستار بند ہو کر ہندوستان و پاکستان،بنگلہ دیش، انگلینڈ اور افریقہ میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وعظ و تقریر:
آپ ایک بلند پایہ مقرر تھے۔ وعظ و تقریر کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ زبان میں شیرینی،روانی اور تاثیر تھی۔ملک کے طول وعرض میں آپ کے بیانات کی دھوم مچی ہوئی تھی۔

تصانیف:
آپ کی خاص خاص تصانیف جو بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی طبع ہو کر ملک و بیرون ملک میں مقبولیت ِ عامّہ حاصل کر چکی ہیں۔تقریباً ان کی تعداد 24 ہے۔

سفرِ حج اور آپ کے مشائخ حرمین:
19؍ شوّال المکرم 1378ھ میں حرمین شریفین روانہ ہوئے۔ مکۂ مکرمہ میں حضرت مفتی محمد سعد اللہ المکی نے صحاحِ ستّہ ودلائل الخیرات شریف و حزب البحر کی اجازت دے کر سندیں عطا فرمائیں اور مفتی المالکیہ مولانا سیّد علوی عباس مکی نے صحاحِ ستّہ کی سند عطا فرمائی اور حضرت شیخ الحرم مولانا محمد ابن العربی الجزائری﷫
👍1
نے بخاری اور مؤطاشریف کی سندِ خاص سے سرفراز فرمایااور مدینۂ منوّرہ میں شیخ الدلائل حضرت علامہ یوسف بن محمدبن علی باشبلی حریری مدنی نے اپنی سندِ خاص کے ساتھ دلائل الخیرات شریف کی اجازت عطافرمائی۔ حج کو جاتے وقت آپ نے حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالٰی علیہسے شیخ مذکور کے نام ایک تعارفی خط لکھوالیا تھا، جس سے توجہاتِ عالیہ کو منعطف کرانے میں مدد ملی ۔ شیخ کی بارگاہ میں پہنچ کر جب آپ نے خط پیش کیا اورشیخ اس جملے پر پہنچے:

’’ھٰذا تلمیذ تلمیذ الشیخ مولانا احمد رضا خان الھندی۔‘‘

تو فرمایا:

’’عبدالمصطفیٰ آپ ہی ہیں؟‘‘

آپ نے عرض کیا:

’’ہاں میں ہی ہوں۔‘‘

پھرتو بڑی ہی گرم جوشی سے معانقہ فرمایا اوردعائیں دیں اورکچھ دیر تک سرکار مرشِدی حضور مفتیِ اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیۃ کا ذکر کرتے رہے اور سرکاراعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکا تذکرہ فرمایا، پھر اپنے گھر بلایا۔جب آپ اُن کے گھر پہنچے تو وہ آپ کے ساتھ بہت ہی توجہ اورمہربانی سے پیش آئے اور اپنی تمام تصانیف کی ایک ایک جلد عنایت فرما کر صحاحِ ستّہ کی سندِ حدیث عطافرمائی۔

مولانا الشیخ محمد بن العربی الجزائری کے نام بھی سرکارمفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکا خط لے کر حاضر ہوئے تو آپ کی مسرت کی انتہانہ رہی، بڑے تپاک سے ملے اورصحیح بخاری شریف اورموطاکی سندِ حدیث عطافرمائی اوراعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا تذکرۂجمیل اِن الفاظ میں فرمایا:

’’ہندوستان کا جب کوئی عالم ہم سے ملتا ہے تو ہم اس سے مولانا شیخ احمد رضا خاں ہندی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ اگر اُس نے تعریف کی تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سنّی ہے اوراگر اس نے مذمّت کی تو ہم کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ شخص گمراہ اور بدعتی ہے۔ ہمارے نزدیک یہی کسوٹی ہے۔‘‘

مولانا الشیخ ضیاء الدین مہاجر مدنی خلیفۂ اعلیٰ حضرترحمۃ اللہ تعالٰی علیہما سے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا اورآپ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ آپ ہی نے دیگر حضرات سے بھی ملاقات کرائی جن میں شیخ الدلائل حضرت سیّد یوسف بن محمد المدنی بھی ہیں۔ اُن متعدد شیوخ کی اَسناد کی نقلیں حضرت علامہ اعظمی صاحب نے اپنی کتاب ’’معمولات الابرار‘‘ میں نقل فرمائی ہیں جو کئی صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔

وصال:
وفات سے چھ ماہ قبل شدید بیمار ہوئے، بالآخر 5؍ رمضان المبارک 1406ھ مطابق 15؍ مئی1985ء بروز جمعرات بوقتِ عصر، علم و حکمت اور فضل و کمال کا یہ مہرِ درخشاں ہمیشہ کے ليے غروب ہو گیا۔

تدفین:
دوسرے دن بعد نمازِ جمعہ ہزاروں سوگواروں نے اس پیکرِ علم ودانش اور صاحبِ قلم ہستی کو اُن کی ذاتی زمین میں سپردِ خاک کردیا۔

ماخوذ:
ملخص از ’’ سیرتِ صدر الشریعہ ‘‘۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-mustafa-azmi
👍1