🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت شیخ حاجی رمضان چشتی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ خواجہ سلیمان تونسوی قدس سرہ کے مرید  ہیں بڑے زاہد ، عابد، صائم الدھر، اور قائم اللیل ہیں ۔ مخلوق سے دور اور اللہ کے قریب ہیں ۔

ہمیشہ خانۂ خدا میں قیام ہے اور عبادت میں مشغول ہیں ۔ مجالس سماع میں پوری ذمہ داری سے شریک ہوتے ہیں اور وجد و اضطراب میں رہتے ہیں آپ حج بیت اللہ پر بھی گئے تھے خلق خدا سے نیک خلقی اور محبت سے پیش آئے ہیں جو ضرورت در پیش ہو اللہ سے دُعا کرتے ہیں جو قبول ہو جاتی ہے غرض کہ اس زمانہ میں وہ مشہور صوفیاء میں ہیں لیکن گم نام رہنے کے لیے گوشہ نشین رہتے ہیں ۔

آپ رمضان المبارک ۱۲۰۲ھ میں پیدا ہوئے اور تین رمضان ۱۲۸۲ھ میں اسی (۸۰) سال کی عمر میں فوت ہوئے آپ کا مزار لاہور قبرستان میانی صاحب میں شیخ محمد طاہر لاہوری کے مزار کے قریب ہے ۔

حضرت رمضان کہ نام نامیش
بود متبرک چو رمضان بر زبان

آمد اندر ماہ رمضان بر زمین
ہم برمضان شد بر اوج آسمان

گو چراغ حلم سالِ رحلتش ۱۲۸۲ھ
نیز کامل زندہ دل رمضان بخواں ۱۲۸۲ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-haji-ramazan-chishti-lahori

#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک
#یوم_وصال_ماہ_رمضان_المبارک
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
سند المحققین حضرت میر سیّد عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: میر سیّد عبد الواحد بلگرامی ۔ لقب: سند المحققین ۔ ’’ شاہد ‘‘ تخلص فرمایا کرتے تھے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
سیّد شاہ عبد الواحد بن سیّد شاہ ابراہیم بن سیّد شاہ قطب الدین علیہم الرحمۃ ـ

آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیّدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملتا ہے۔

تاریخِ ولادت:
حضرت تاج العلما (علامہ سیّد محمد میاں قادری برکاتی مارہروی) کی تحقیق کے مطابق آپ کی تاریخِ ولادت: 915ھ / یا 916ھ ہے ۔ ایک قول 912ھ کا بھی ہے۔

تحصیلِ علم:
خاندانی روایات کے مطابق آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی ۔ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور صاحبِ تصانیف بزرگ تھے ۔ آپ نے درسِ نظامی کی معروف کتاب ’’ کافیہ ‘‘ کی شرح تا بحث غیر منصرف، تصوف کی اصطلاحات میں حل فرمائی ہے، لیکن بسیار کوشش کے با وجود ہمیں آپ کے اساتذہ کے نام معلوم نہ ہو سکے ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت مخدوم شیخ صفی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور مخدوم شیخ صفی کے خلیفہ حضرت حسین سکندر آبادی علیہ الرحمۃ نے آپ کو خلافت سے شرف یاب فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
بلگرام میں ساداتِ زیدیہ کا خانوادہ اپنی شرافت و نجابت، فضل و کمال، علمِ حقائق و معارف، خدمتِ دین و مذہب اور مخلوقِ خدا کی ظاہری و باطنی اصلاح کے میدانوں میں اپنی ایک نمایاں شان اور خصوصی امتیاز رکھتا ہے ۔ اس خانوادے کا ایک خصوصی امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں ہر دور میں شریعت و طریقت کی جامع شخصیات ظاہر ہوئیں ۔اسی خانوادے کی عظیم و جلیل شخصیت سند المحققین، رئیس المتوکلین، صاحبِ اوصافِ کثیرہ ،فخر اکابرِ چشتیہ حضرت میر سیّد عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات ِمبارکہ بھی ہے ۔ آپ اپنے وقت کے امامِ شریعت و طریقت تھے ۔

اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجددِ دین و ملّت شیخ الاسلام امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

’’ سیّدِ ساداتِ بلگرام حضرت مرجع الفریقین، مجمع الطریقین، حبرِ شریعت، بحرِ طریقت، بقیۃ السلف، حجۃ الخلف، سیّدنا و مولانا میر سیّد عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کتاب مستطاب سبع سنابل شریف تصنیف بود ۔عظیم ترین امتیاز کہ سبع سنابل شریف را حاصل شدایں است، کہ بارگاہِ محبوبِ ربّ العالمین ﷺ مقبول و منظور شد۔ ‘‘ (مقدمہ سبع سنابل شریف)

بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں آپ کا مقام و مرتبہ: مولانا آزاد بلگرامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:

میں نے رمضان المبارک 1135ھ میں دار الخلافہ شاہجہان آباد (دہلی) میں شیخ شاہ کلیم اللہ چشتی قُدِّسَ سِرُّہٗ کی زیارت کی ۔ میر عبد الواحد بلگرامی کا تذکرہ درمیان میں آیا ۔ شیخ دیر تک حضرت میر علیہ الرحمۃ کی تعریف اور ان کے حالات بیان کرتے رہے ۔ اور فرمایا کہ ایک رات میں مدینۂ منورہ میں سونے کے لیے لیٹا، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور سیّد صبغت اللہ بروجی ساتھ ساتھ رسول اکرم ﷺ کی مجلسِ اقدس میں حاضر ہوئے ہیں ۔ صحابۂ کرام اور اولیائے عظام کی ایک جماعت موجود ہے انہیں میں ایک ایسا شخص بھی ہے جس کے ساتھ سرکارِ اقدس ﷺ مسکرا کر گفتگو فرما رہے ہیں، اور سرکار ﷺ پوری طرح اُس کی طرف متوجّہ ہیں ۔ جب مجلس ختم ہوئی تو میں نے سیّد صبغت اللہ سے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں جن کی طرف حضور ﷺ اس طرح متوجہ ہیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ میر عبد الواحد بلگرامی ہیں ۔

وصال:
3 رمضان المبارک 1017ھ کو بلگرام شریف میں آپ کا وصال ہوا اور مزار شریف بھی بلگرام ہی میں مرجعِ خلائق ہے۔ ؎

چو رفت واحد صوری و معنوی گفتم
ہزار و ہفدہ و شبِ جمعہ ماہِ صوم سوم
(1017)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-abdul-wahid-bilgrami
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حکیم الامّت ، مفسرِ قرآن ، حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی احمد یارخان ۔ لقب: حکیم الامت ۔ مفسر قرآن ـ تخلص: سؔالک ۔

نسب:
نسب کے اعتبار سے آپ یوسف زئی پٹھان ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا مفتی احمد یار خان بن مولانا محمد یار خان بدایونی بن مولانا منوّر خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم ۔

ولادت:
۴؍ جمادی الاولیٰ۱۳۲۴ھ مطابق جون ۱۹۰۶، ء بروز جمعرات بوقتِ فجر ’’ قصبہ اوجھیانی ‘‘ ضلع بدایوں (انڈیا) کے ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، پھر مدرسۂ شمس العلوم (بدایوں) میں داخل ہو کر تین سال تک (۱۹۱۶ء تا۱۹۱۹ء) مولانا قدیر بخش بدایونی اور دیگر اساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا ۔ اسی عرصے میں بریلی شریف جاکر مجددِ اسلام حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ پھر مدرسۂ اسلامیہ ، میڈھو (ضلع علی گڑھ) میں داخل ہوئے اور کچھ عرصہ پڑھا ، چوں کہ اس مدرسے کا تعلق دار العلوم دیوبند سے تھا اس لیے وہاں سے تعلیم ترک کرکے مراد آباد چلے گئے ۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخل ہوئے ، حضر ت صدر الافاضل مولانا سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی قُدِّسَ سِرُّہٗ کی مردم شناس نگاہوں نے جوہرِ قابل کو پہچان لیا اور خود پڑھانا شروع کیا ۔ پھر بے پناہ مصروفیات کی بنا پر حضرت علامہ مشتاق احمد کانپوری کو مراد آباد بلا کر مفتی صاحب کی تعلیم ان کے سپرد کر دی ۔ 1344ھ /1925 ء میں درسِ نظامی سے فراغت حاصل کرلی ، اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی ۔

بیعت و خلافت:
حضرت سیّد شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
مفسرِ قرآن، مفکرِاسلام، شارحِ مشکوٰۃ، صاحبِ تصنیفاتِ کثیرہ، محسنِ اہلِ سنّت، حکیم الامّت، عارفِ بدایوں، سالکِ راہِ حق، حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔

آپ ان شہسوارانِ اسلام میں سے ہیں جن پر قومِ مسلم کو ہمیشہ فخر رہا ہے ۔ آپ کا تعلق ان نفوسِ قدسیہ سے ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ملّت کی نگہبانی کا فریضہ سر انجام دیا ۔ آپ عقلِ عرفانی، علمِ ایمانی اور معرفتِ روحانی کے امام تھے ۔ آپ نے ساری زندگی اپنے قلم و زبان، فکر و تدبر سے دینِ اسلام کی ایسی خدمت فرمائی کہ رہتی دنیا تک عام و خاص ان شآء اللہ آپ کے فیض سے مستفید ہوتے رہیں گے ۔

شرفِ ملّت حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:

حضرت مفتی صاحب رَحِمَہُ اللہُ تَعَالیٰ نہایت خوش اخلاق اور خندہ رو شخصیت تھے، سلام میں ہمیشہ پہل کرتے ، معمولات اور وقت کے اتنے پابند تھے کہ جب آپ جمعہ کے روز مبنر پر بیٹھتے تو لوگ اپنی گھڑیوں کا ٹائم ٹھیک کر لیتے تھے، پانچ دفعہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے، ہر وقت دُرود شریف پڑھتے رہتے تھے ۔ حضرت مفتی صاحب نے تقریباً 46 سال کا عرصہ خدمتِ دین میں صرف کیا ۔ سیکڑوں علماء کو فیض یاب فرمانے کے ساتھ ساتھ تصانیف کا معتدبہ حصّہ یاد گار چھوڑا جس سے مسلک اہلِ سنّت و جماعت کو نہایت تقویت ملی ۔

اسی طرح تحریکِ پاکستان میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے ۔ تحریکِ پاکستان کے سلسلے میں صدر الافاضل مولانا سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی نے قرار دادِ پاکستان کی تائید کے لیے جو کوششیں کیں، مفتی صاحب ان میں شریک رہے ۔ مفتی صاحب محض مسلم لیگ کو اوٹ ڈالنے کے لیے گجرات (پنجاب) سے سفر کرکے اوجھیانی (بدایوں) پہنچے تھے، چنانچہ بصورتِ جلوس آپ کو گھر لایا گیا، اور اس علاقے میں آپ کی کوششوں سے مسلم لیگ کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ (تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، صفحہ 55)

وصال:
آپ کا وصال ۳ رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ مطابق ۲۴؍ اکتوبر۱۹۷۱ء بروز اتوار ۷۷؍ سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کی آخری آرام گاہ گجرات (پنجاب، پاکستان) میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-ahmed-yaar-khan-naeemi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
شہزادئ رسول ، ام الحسنین ، خاتون جنت ، سیّدۃ النساء ، حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رضی الله تعالیٰ عنہا

نام و نسب:
اسمِ گرامی: فاطمہ ۔ اَلقاب: سیّدہ، سیّدۃ النساء، خاتونِ جنّت، مخدومۂ کائنات، طیّبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، زہرا، بتول ۔ وغیرہ ۔ کنیت: اُمّ الحسنین۔

نسب:
حضرت سیّدۃ النّسا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:

سیّدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنتِ سیّد الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔

والدہ:
آپ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےبطن سے پیدا ہوئیں اور رسولِ اکرم ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔

فاطمہ کی وجہِ تسمیہ:
سَرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالیٰ فطمھا و محبیھا عن النار ۔ (کَنْزُ الْعُمَّال، ج: 12، حدیث: 34222 )

ترجمہ: ’’میری بیٹی کا نام ’’فاطمہ‘‘ اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کر دیا ہے۔‘‘

ولادت:
اِعلانِ نبوّت سے پانچ سال یا ایک سال قبل مکۃ المکرمہ میں آپ کی ولادت ہوئی ۔ بقولِ بعض آپ کی ولادتِ باسعادت 20؍ جمادی الثانی بروز جمعۃ المبارک ہوئی ۔

فضائل و مناقب:
تصویرِ مصطفیٰ ﷺ: اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :

’’میں نے چال ڈھال، شکل و صورت اور بات چیت میں سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا ۔ ‘‘ (سننِ ابو داؤد)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین ۔ ‘‘

ترجمہ: ’’ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنّت کی عورتوں کی سردار ہو ؟ ‘‘ (بخاری، جلد 1، ص 532؛ مسلم، جلد دوم، ص290)

حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اٰذا ھا۔

’’فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے اُس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا ۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالےاور مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے ۔ (بخاری ، جلد 1، ص 532)

حضور سیّدِ عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی:

اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منادی من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق۔

ترجمہ: ’’قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا پردے میں سے ندا کرے گا ۔ اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکا لو اور اپنے سروں کو جھکا لو یہاں تک کہ سیّدہ فاطمہ بنتِ محمد ﷺ گزر جائیں، چنانچہ سیّدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی ۔ ‘‘ (المستدرک، جلد3، ص161)

سیّدہ فاطمہ رضی الله عنہا کا نکاح:
سن 2؍ ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان میں مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ رضی الله عنه سے آپ کا نکاح ہوا ۔ اُس وقت آپ کی عمر 15 سال اور مولا علی کی عمر 21 سال تھی ۔ رخصتی ذو الحجہ میں ہوئی ۔

سیّدہ کا جہیز:
ایک چادر، ایک تکیہ، چمڑے کا گدّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں اور پانی کے لیے دو مشکیزے ۔

یہ تھا دونوں جہانوں کے سردار ﷺ کی لاڈلی بیٹی کا جہیز یعنی صرف وہ ضروری اَشیا جو روز مرہ استعمال میں آتی ہیں ۔

وصال:
حضورِ اکرم ﷺ کے وصال کے 6 ماہ بعد 3؍ رمضان المبارک 11ھ، منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنّت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔ نمازِ جنازہ سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی ۔

(کنز العمّال، حدیث: 42856؛ شرح العلامۃ الزرقانی، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلاۃ والسلام، ج4، ص342)

https://scholars.pk/ur/scholar/daughter-of-holy-prophet-muhamamd-hazrat-bibi-fatima
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-09-1444 ᴴ | 25-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-09-1444 ᴴ | 26-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍21