🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللۃ تعالیٰ علیہ

اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔

اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔

سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔

آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔

تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔

عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:

’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘

جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘

تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔

سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔

آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
👍21
جب نام نہاد ملّاؤں نے غیروں کے اشاروں پر عزّت و عظمتِ مصطفیٰ ﷺ پر رکیک حملے شروع کیے، تو فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ان کے جواب میں ’’ مقامِ رسول ﷺ ‘‘ تالیف کرکے دنیائے سنیت پر احسانِ عظیم فرمایا۔ اس کتاب کا ایک ایک لفظ عظمتِ مصطفیٰ ﷺ اور مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی گواہی دے رہا ہے۔ اس کتاب کو بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔ ایک وہابی نے عدالت میں اس کتاب کو چیلنج کیا تو اللہ جل شانہ نے اُس  مولوی کو عدالت میں ہی جوتے لگوائے ۔

حضرت بیہقیِ وقت اعلیٰ روحانی مقام پر فائز تھے۔ علم و عمل، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے ۔ خدمتِ دین کی بدولت کئی مرتبہ زیارتِ مصطفیٰ ﷺ سے شرف یاب ہوئے ۔

ایک مرتبہ صاحبِ کشف بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عارف صاحب احمدپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےفرمایا:

’’علامہ فیضی صاحب! آج حضرت خضر علیہ السلام نے نمازِ جمعہ آپ کے پیچھے ادا کیا ہے، اور آئندہ جمعہ بھی آپ کو شرف بخشیں گے۔‘‘

واقعی ایساہوا، اگلےجمعۃ المبارک کےدن بہت سےحضرات نے حضرت خضرعلیہ السلام سےمصافحہ کیا۔یہ آپ کوشرف بخشنے،اورآپ کی عظمت ظاہرکرنےکےلیے تشریف لائےتھےجیساکہ بہت سےاولیائے کرام کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔

آپ اپنے اعلیٰ علمی و روحانی مقام ومرتبہ کی وجہ سے نہ صر ف پاک وہند بلکہ پوری دنیا میں علمائے اہلِ سنّت اور مشائخِ اہلِ سنّت کے منظور ِنظر تھے۔اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر اور عظیم مناظر وخطیب ِ لاجواب تھے۔خطیب ایسےکہ جب تک بیان جاری رہتامجمع پرسکون و سکوت کی کیفیت طاری رہتی۔انداز ایسا دل نشیں کہ بات سامعین کےدل میں اترجاتی تھی۔ میں نےایسےافراددیکھےہیں جوعلامہ فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بیانات کی برکت سےباعمل ہوگئے، بلکہ ایک بہترین مناظربھی بن گئے۔ کوئی بھی بدمذہب ان کےسامناکرنےسےکتراتاتھا۔

حضرت فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےساری زندگی درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے گزار دی۔ جب مسند ِعلم پر جلوہ افروز ہوتے اور اپنے ہر قول پر رسولِ اکرم ﷺکے فرامین بیان کرتےتو امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی یاد تازہ ہوجاتی ،اور جب مُناظرے میں گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ اور گستاخانِ صحابہ واہلِ بیت،واولیاء کو پچھاڑتےتو ایسا معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کا شیر میدان میں آیا ہے اور مدِّ مقابل کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آتا۔ آپ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی منکسرالمزاج اور بااخلاق شخصیت کے حامل تھے۔ وعظ ونصیحت، مُناظرہ، مَحافلِ میلادکےلیے کبھی کسی سے معاوضےکےطلب گارنہ ہوئے۔ہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیبﷺکی رضاکےلیےہوتاتھا۔

آپ کی سیرت آج کے علما کےلیے مشعل راہ ہے۔

تاریخِ وصال:
قبلہ بیہقیِ وقت (66 سال، 8 ماہ 11 دن کی عمر میں) یکم جمادی الاخریٰ 1427ھ، مطابق27؍جون2006ء،بروز منگل، شب ِبدھ 8:45 پر عین اذانِ عشا کے وقت اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے۔

ماخذ:
’’ بیہقیِ وقت علامہ مفتی ابو الحسن محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ‘‘، از: مفتی محمد اکرام المحسن فیضی، شائع کردۂ انجمن ضیائے طیبہ، کراچی، جون 2007ء۔

https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-09-1444 ᴴ | 25-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-09-1444 ᴴ | 25-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-09-1444 ᴴ | 25-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1