حضرت حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید عبد اللہ بلگرامی ۔ حنفی المذہب ۔ قادری المشرب ۔
سلسلۂ نسب:
آپ سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الاول 1248ھ، بمطابق 1832ء ، " قصبہ بلگرام " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
سید عبد اللہ بلگرامی علیہ الرحمہ نے 12 سال کی قلیل عمر میں ناظرہ قرآنِ پاک اور فارسی کی مروجہ کتب مکمل فرمالیں تھیں ۔ صرف و نحو اور منطق کی ابتدائی کتابیں جناب مولانا محمد سلامت اللہ بدایونی کانپوری کے بعض شاگردوں سے پڑھیں، اس کے بعد قطبی سے شرح سلم حمد اللہ تک، خاص مولانا سلامت اللہ بدایونی سے پڑھیں، منطق و فلسفہ کی بقیہ کتابیں، عربی قصائد، استاذ الکل مجاہدِ جنگِ آزادی مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے رام پور اور لکھنؤ میں پڑھیں، اس کے بعد فقہ، حدیث اور تفسیر کی دوسری درسی کتابیں ریاست الور میں مولوی نور الحسن کا ندھلوی سے پڑھیں ۔ شیخ الاسلام سید احمد زینی دحلان مفتیِ مکۃ المکرمہ و مدرس مدرسہ بیت الحرام سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی اسناد حاصل کیں، اور ماہ شوال 1276ھ بمطابق 1860ء میں سندِ فر اغ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
حاٖفظ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ خلیفہ سید شاہ آل احمد مارہری علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
معقولات میں سلسلہ خیر آبادیت ، منقولات میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، طریقت میں " مارہرہ مطہرہ " کی جامع الکمال شخصیت ، جامع المعقولِ والمنقول، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محسنِ اسلام، قاطعِ بدعت، شمشیر بر رفض و وہابیت، آلِ نبی اولادِ علی حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ ہندوستان کے ان مشائخ میں سے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی مشکل وقت میں صحیح راہنمائی فرمائی ہے ۔ اس وقت فتنۂ وہابیت نے عالمِ اسلام میں " شرک و بدعت " کی مہم کو برطانوی پشت پناہی اور فنڈز کی قوت سے بڑے زور و شور سے برپا کر رکھا تھا ۔
آپ نے اس فتنے کے سدِ باب کے لئے کئی رسائل تحریر فرمائے ۔ اسی وجہ سے تاج الفحول شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔
آپ کو عربی و فارسی ادب ، نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا ۔ خاص کر عربی قصائد میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کا رنگ نظر آتا تھا ۔ آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی تدریس و تحریر کی صورت میں دینِ اسلام کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔
وصال:
بروز ہفتہ یکم رمضان المبارک ، 1305ھ، بمطابق 1888ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار کانپور میں ہے ۔
؎ نکو سیرت چو عبد اللہ
حافظ ہوئے ملک بقا ناگاہ رفتہ
بسال رحلتش ہاتف ندا
داد بجنت پاک عبد اللہ رفتہ (۱۳۰۵)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdullah-bilgrami
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید عبد اللہ بلگرامی ۔ حنفی المذہب ۔ قادری المشرب ۔
سلسلۂ نسب:
آپ سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الاول 1248ھ، بمطابق 1832ء ، " قصبہ بلگرام " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
سید عبد اللہ بلگرامی علیہ الرحمہ نے 12 سال کی قلیل عمر میں ناظرہ قرآنِ پاک اور فارسی کی مروجہ کتب مکمل فرمالیں تھیں ۔ صرف و نحو اور منطق کی ابتدائی کتابیں جناب مولانا محمد سلامت اللہ بدایونی کانپوری کے بعض شاگردوں سے پڑھیں، اس کے بعد قطبی سے شرح سلم حمد اللہ تک، خاص مولانا سلامت اللہ بدایونی سے پڑھیں، منطق و فلسفہ کی بقیہ کتابیں، عربی قصائد، استاذ الکل مجاہدِ جنگِ آزادی مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے رام پور اور لکھنؤ میں پڑھیں، اس کے بعد فقہ، حدیث اور تفسیر کی دوسری درسی کتابیں ریاست الور میں مولوی نور الحسن کا ندھلوی سے پڑھیں ۔ شیخ الاسلام سید احمد زینی دحلان مفتیِ مکۃ المکرمہ و مدرس مدرسہ بیت الحرام سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی اسناد حاصل کیں، اور ماہ شوال 1276ھ بمطابق 1860ء میں سندِ فر اغ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
حاٖفظ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ خلیفہ سید شاہ آل احمد مارہری علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
معقولات میں سلسلہ خیر آبادیت ، منقولات میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، طریقت میں " مارہرہ مطہرہ " کی جامع الکمال شخصیت ، جامع المعقولِ والمنقول، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محسنِ اسلام، قاطعِ بدعت، شمشیر بر رفض و وہابیت، آلِ نبی اولادِ علی حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ ہندوستان کے ان مشائخ میں سے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی مشکل وقت میں صحیح راہنمائی فرمائی ہے ۔ اس وقت فتنۂ وہابیت نے عالمِ اسلام میں " شرک و بدعت " کی مہم کو برطانوی پشت پناہی اور فنڈز کی قوت سے بڑے زور و شور سے برپا کر رکھا تھا ۔
آپ نے اس فتنے کے سدِ باب کے لئے کئی رسائل تحریر فرمائے ۔ اسی وجہ سے تاج الفحول شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔
آپ کو عربی و فارسی ادب ، نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا ۔ خاص کر عربی قصائد میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کا رنگ نظر آتا تھا ۔ آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی تدریس و تحریر کی صورت میں دینِ اسلام کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔
وصال:
بروز ہفتہ یکم رمضان المبارک ، 1305ھ، بمطابق 1888ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار کانپور میں ہے ۔
؎ نکو سیرت چو عبد اللہ
حافظ ہوئے ملک بقا ناگاہ رفتہ
بسال رحلتش ہاتف ندا
داد بجنت پاک عبد اللہ رفتہ (۱۳۰۵)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdullah-bilgrami
❤1👍1
حضرت شیخ محمد بن فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کے دادا کا نام شیخ محمد صدر ہے آپ کے بزرگوں کا نسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے آپ کے بزرگ جون پور میں رہتے تھے مگر شہر گجرات میں پیدا ہوئے چھوٹے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا نوجوانی میں حضرت شیخ گجراتی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خرقہ اجازت پایا مگر مکہ معظمہ چلے گئے وہاں بارہ سال مشائخ متقین کی خدمت میں رہے واپس ہندوستان آئے اور احمد آباد میں قیام کیا وہاں ہی آپ کی شادی ہوئی شیخ الدین گجراتی کی مجلس میں بیٹھ کر ظاہری علم حاصل کیے پھر حضرت شیخ خان جون پوری کی خدمت میں گجرات چلے گئے شیخ خاں نے اُن کے والد ماجد کی زبان سے سناتھا کہ ہمارا بیٹا قطب الوقت ہوگا آپ نے شیخ محمد کی بڑی ہی عزت کی شیخ ابو محمد صفر تیمی آپ کے والد کے مرید تھے اور قلعہ عیسر میں رہتے تھے آپ نے شیخ وحید الدین اور شیخ ماہ کولکھا کہ آپ کا شہباز ابھی پرواز نہیں کر ہا انہوں نے جوب میں لکھا کہ اُس کی پرواز آپ کے ہاتھ میں ہے چنانچہ شیخ محمد کو عیسر بھیج دیا گیا وہاں جاکر وہ روحانی نعمتیں حاصل کیں جو آپ کے والد بزرگوار نے شیخ حضر تیمی کے سپرد کی تھیں وہاں سے واپس آکر برہان پور میں قیام کیا ظاہری اور باطنی علم کا سلسلہ جاری کیا اور چشتیوں کے مشہور بزرگوں میں شمار ہونے لگے شیخ محمد کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اِتنی اِدرت محبت اور اخلاص تھا کہ ہر سال بے اختیار ہوکر مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوجاتے اور کئی منزلیں طے کرنے کے بعد حضور کے حکم سے واپس آتے آپ کی صبح شام سنتِ نبوی اور شریعت محمدی کے مطابق گزرتی تھی جتنے نذرانے آتے اُس کے تین حصے کرلیتے ایک حصہ بیوی بچوں کو دیتے ایک حصہ درویشوں اور مسکینون میں تقسیم کردیتے اور ایک حصہ سارا سال جمع کرکے مدینہ پاک بھیج دیتے۔
سفینۃ الاولیاء کے مصنف نے آپ کی وفات بروز سوموار ۲؍ ماہ رمضان ۱۰۲۵ء (۱۰۲۹) لکھی ہے خواجہ ہاشم رحمۃ اللہ علیہ آپ کی تاریخ وفات ابن فضل اللہ آپ کی عمر ۸۶ سال تھی اور آپ کا مزار مبارک برہان پور میں ہے۔
خزینۃ الصفیاء چشتیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-fazlullah
آپ کے دادا کا نام شیخ محمد صدر ہے آپ کے بزرگوں کا نسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے آپ کے بزرگ جون پور میں رہتے تھے مگر شہر گجرات میں پیدا ہوئے چھوٹے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا نوجوانی میں حضرت شیخ گجراتی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خرقہ اجازت پایا مگر مکہ معظمہ چلے گئے وہاں بارہ سال مشائخ متقین کی خدمت میں رہے واپس ہندوستان آئے اور احمد آباد میں قیام کیا وہاں ہی آپ کی شادی ہوئی شیخ الدین گجراتی کی مجلس میں بیٹھ کر ظاہری علم حاصل کیے پھر حضرت شیخ خان جون پوری کی خدمت میں گجرات چلے گئے شیخ خاں نے اُن کے والد ماجد کی زبان سے سناتھا کہ ہمارا بیٹا قطب الوقت ہوگا آپ نے شیخ محمد کی بڑی ہی عزت کی شیخ ابو محمد صفر تیمی آپ کے والد کے مرید تھے اور قلعہ عیسر میں رہتے تھے آپ نے شیخ وحید الدین اور شیخ ماہ کولکھا کہ آپ کا شہباز ابھی پرواز نہیں کر ہا انہوں نے جوب میں لکھا کہ اُس کی پرواز آپ کے ہاتھ میں ہے چنانچہ شیخ محمد کو عیسر بھیج دیا گیا وہاں جاکر وہ روحانی نعمتیں حاصل کیں جو آپ کے والد بزرگوار نے شیخ حضر تیمی کے سپرد کی تھیں وہاں سے واپس آکر برہان پور میں قیام کیا ظاہری اور باطنی علم کا سلسلہ جاری کیا اور چشتیوں کے مشہور بزرگوں میں شمار ہونے لگے شیخ محمد کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اِتنی اِدرت محبت اور اخلاص تھا کہ ہر سال بے اختیار ہوکر مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوجاتے اور کئی منزلیں طے کرنے کے بعد حضور کے حکم سے واپس آتے آپ کی صبح شام سنتِ نبوی اور شریعت محمدی کے مطابق گزرتی تھی جتنے نذرانے آتے اُس کے تین حصے کرلیتے ایک حصہ بیوی بچوں کو دیتے ایک حصہ درویشوں اور مسکینون میں تقسیم کردیتے اور ایک حصہ سارا سال جمع کرکے مدینہ پاک بھیج دیتے۔
سفینۃ الاولیاء کے مصنف نے آپ کی وفات بروز سوموار ۲؍ ماہ رمضان ۱۰۲۵ء (۱۰۲۹) لکھی ہے خواجہ ہاشم رحمۃ اللہ علیہ آپ کی تاریخ وفات ابن فضل اللہ آپ کی عمر ۸۶ سال تھی اور آپ کا مزار مبارک برہان پور میں ہے۔
خزینۃ الصفیاء چشتیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-fazlullah
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Bin Fazlullah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔لقب: استاذالاساتذہ۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا حکیم احمد الدین چشتی بن مولانا غلام حسین چشتی چکوالی بن قاضی محمد احسن بن محمد حنیف بن محمد بن نور محمد۔علیہم الرحمہ۔خاندانی تعلق قطب شاہی اعوان سے ہے۔آپ کے والد گرامی حضرت مولانا غلام حسین چکوالی اپنے زمانےکےامام الفضلاء تھے۔انہوں نے علوم متداولہ کی تحصیل وتکمیل حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسےکی۔علاوہ ازیں حضرت شیخ احمد سعید مجددی دہلوی،شیخ عبدالغنی مجددی دہلوی اور مفتی صدرالدین سےبھی علمی استفادہ کیا۔بیعت حضرت شمس العارفین سیالویسےتھی۔آپ کاوصال 28/جمادی الثانی 1305ھ کو چکوال میں ہوا۔مزار شریف چکوال میں ہے۔(فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول :570)
تاریخِ ولادت: 2/رمضان المبارک 1268ھ مطابق 8/جولائی 1852ء کوموضع’’بولہ‘‘ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔بعد میں آبائی گاؤں سے منتقل ہوکر چکوال شہر میں مقیم ہوگئے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)
تحصیلِ علم: 24/ محرم الحرام 1274ھ کو باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔تمام علوم اپنے والد گرامی سےحاصل کرکےسند فراغ حاصل کی۔1298ھ میں حرمین شریفین کا قصد کیا۔وہاں پر اپنے والد ماجد کےاستاد حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسے علم التوقیت حاصل کیا۔علاوہ ازیں شیخ عبداللہ سراج مفتیِ مکہ اور شیخ احمد بن زینی دحلان محدث مکہ سے حدیث قرأت، ہئیت، ریبع مجیب اور ربع مقظر وغیرہ علوم وہاں کے جید اساتذہ سے حاصل کرکے تعلیم و تدریس کی اعلیٰ سندیں حاصل کرکے واپس ہوئے۔1872ء کو (یعنی بیس سال کی عمر میں) انگریز حکومت نے علماء کا انٹر ویو لیا، جس میں اول آنے پر آپ کو پچاس روپے(50) نقد اور پندرہ روپے ماہانہ کا وظیفہ مقرر کیا تاکہ اورینٹل کالج لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں لیکن آپ کالج پہنچ کر واپس آگئے کیوں کہ وہاں کا معیار تعلیم بہت پست تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے کہ ایک عربی خاتون نے فرمایا کہ یہ پنجابی قرآن کتنا غلط پڑھ رہاہے۔اس خاتون کے انتباہ پر آپ نےحضرت قاری عبداللہ مکی سے قرات وتجوید حاصل کی۔فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کادرس غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑویسےلیا۔(فوزالمقال: 571)
بیعت و خلافت: 1280ھ کو والد ماجد کے ہمراہ شیخ طریقت حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔ 1310ھ کو بلاد مقدسہ کی زیارت کیلئے سفر کیا اور بغداد شریف میں حضرت نقیب سلمان کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص: استاذا لاساتذہ،مرجع الفضلاء،امام المعقول والمنقول،عالم، حکیم،شاعر،مدرس ،مفکر،منتظم،حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔آپ کا خاندانی تعلق ایک علمی وروحانی خانوادے سے ہے۔آپ خلفِ رشید تھے۔تمام علوم وفنون پر مہارت رکھتے تھے۔اولیاء کرام اور بالخصوص حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی سےنہایت عقیدت رکھتےتھے۔ایک مرتبہ مسجد میں بوقت اشراق اوراد وظائف میں مشغول تھےکہ کسی نے پوچھ لیا کہ حضرت شمس العارفین کےحسن وجمال اور حلیہ کے بارے میں دریافت کیا۔آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ میرے شمس اس آسمانی شمس سے زیادہ نورانی ومنور ہیں۔دیرتک آپ پر کیف ووجدان کی حالت طاری رہی۔(فوزالمقال)
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی دراز قامت،درمیانی جسامت،سرخ وسفید رنگت،صورت وسیرت میں بے حد حسین وجمیل تھے۔اسی طرح لباس بھی نفیس استعمال کرتےتھے۔کرتا شلوار،کندھے پر چادر،سر پر عمامہ ۔لباس سفید رنگ کا استعمال کرتےتھے۔غذاقلیل استعمال کرتےتھے۔
آپ کےروز مرہ معمولات میں درس وتدریس،امامت فتویٰ نویسی،وعظ ونصیحت،اور اوراد و وظائف چشتیہ کی تلاوت وغیرہ شامل تھی۔جمعۃ المبارک کا خطبے میں مسلمانوں کو عمل ِ صالح کی ترغیب دیتےتھے۔
آپبڑے پارسا،پابندِ شریعت، اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔بڑے مستجاب الدعوات،خود دار،اور صابر وشاکر تھے۔جید عالم کےساتھ حاذق حکیم بھی تھے۔مریضوں کا علاج مفت کرتےتھے۔شاعری اور تاریخ گوئی میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔بڑے ذہین وفطین تھے۔پہلے حافظ نہیں تھے بعد میں شوق ہوا تو قرآن کریم حفظ کرکےتراویح میں سنایا کرتےتھے۔بڑی بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔چکوال میں رہتےہوئے اپنی پوری زندگی نہ بازار گئے اور نہ ہی بازار دیکھا۔بڑے حق گو اور بےباک عالم دین تھے۔فقہ،تصوف اور علوم اسلامی سے ان کا سینہ منور تھا۔اکابرین شہر اور حکام آپ کی بہت قدر ومنزلت کرتےتھے۔فرق ِ باطلہ کے سخت مخالف تھے۔ساری زندگی درس وتدریس وعظ ونصیحت اور ذکر الہی میں بسر کی۔قدرت نے آپ کو شاعرانہ طبیعت ودیعت فرمائی تھی۔عربی،فارسی،اور اردو،پنجابی میں بے تکلف شاعرکہتے تھے۔لیکن زیادہ توجہ شاعری ک
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔لقب: استاذالاساتذہ۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا حکیم احمد الدین چشتی بن مولانا غلام حسین چشتی چکوالی بن قاضی محمد احسن بن محمد حنیف بن محمد بن نور محمد۔علیہم الرحمہ۔خاندانی تعلق قطب شاہی اعوان سے ہے۔آپ کے والد گرامی حضرت مولانا غلام حسین چکوالی اپنے زمانےکےامام الفضلاء تھے۔انہوں نے علوم متداولہ کی تحصیل وتکمیل حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسےکی۔علاوہ ازیں حضرت شیخ احمد سعید مجددی دہلوی،شیخ عبدالغنی مجددی دہلوی اور مفتی صدرالدین سےبھی علمی استفادہ کیا۔بیعت حضرت شمس العارفین سیالویسےتھی۔آپ کاوصال 28/جمادی الثانی 1305ھ کو چکوال میں ہوا۔مزار شریف چکوال میں ہے۔(فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول :570)
تاریخِ ولادت: 2/رمضان المبارک 1268ھ مطابق 8/جولائی 1852ء کوموضع’’بولہ‘‘ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔بعد میں آبائی گاؤں سے منتقل ہوکر چکوال شہر میں مقیم ہوگئے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)
تحصیلِ علم: 24/ محرم الحرام 1274ھ کو باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔تمام علوم اپنے والد گرامی سےحاصل کرکےسند فراغ حاصل کی۔1298ھ میں حرمین شریفین کا قصد کیا۔وہاں پر اپنے والد ماجد کےاستاد حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسے علم التوقیت حاصل کیا۔علاوہ ازیں شیخ عبداللہ سراج مفتیِ مکہ اور شیخ احمد بن زینی دحلان محدث مکہ سے حدیث قرأت، ہئیت، ریبع مجیب اور ربع مقظر وغیرہ علوم وہاں کے جید اساتذہ سے حاصل کرکے تعلیم و تدریس کی اعلیٰ سندیں حاصل کرکے واپس ہوئے۔1872ء کو (یعنی بیس سال کی عمر میں) انگریز حکومت نے علماء کا انٹر ویو لیا، جس میں اول آنے پر آپ کو پچاس روپے(50) نقد اور پندرہ روپے ماہانہ کا وظیفہ مقرر کیا تاکہ اورینٹل کالج لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں لیکن آپ کالج پہنچ کر واپس آگئے کیوں کہ وہاں کا معیار تعلیم بہت پست تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے کہ ایک عربی خاتون نے فرمایا کہ یہ پنجابی قرآن کتنا غلط پڑھ رہاہے۔اس خاتون کے انتباہ پر آپ نےحضرت قاری عبداللہ مکی سے قرات وتجوید حاصل کی۔فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کادرس غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑویسےلیا۔(فوزالمقال: 571)
بیعت و خلافت: 1280ھ کو والد ماجد کے ہمراہ شیخ طریقت حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔ 1310ھ کو بلاد مقدسہ کی زیارت کیلئے سفر کیا اور بغداد شریف میں حضرت نقیب سلمان کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص: استاذا لاساتذہ،مرجع الفضلاء،امام المعقول والمنقول،عالم، حکیم،شاعر،مدرس ،مفکر،منتظم،حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔آپ کا خاندانی تعلق ایک علمی وروحانی خانوادے سے ہے۔آپ خلفِ رشید تھے۔تمام علوم وفنون پر مہارت رکھتے تھے۔اولیاء کرام اور بالخصوص حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی سےنہایت عقیدت رکھتےتھے۔ایک مرتبہ مسجد میں بوقت اشراق اوراد وظائف میں مشغول تھےکہ کسی نے پوچھ لیا کہ حضرت شمس العارفین کےحسن وجمال اور حلیہ کے بارے میں دریافت کیا۔آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ میرے شمس اس آسمانی شمس سے زیادہ نورانی ومنور ہیں۔دیرتک آپ پر کیف ووجدان کی حالت طاری رہی۔(فوزالمقال)
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی دراز قامت،درمیانی جسامت،سرخ وسفید رنگت،صورت وسیرت میں بے حد حسین وجمیل تھے۔اسی طرح لباس بھی نفیس استعمال کرتےتھے۔کرتا شلوار،کندھے پر چادر،سر پر عمامہ ۔لباس سفید رنگ کا استعمال کرتےتھے۔غذاقلیل استعمال کرتےتھے۔
آپ کےروز مرہ معمولات میں درس وتدریس،امامت فتویٰ نویسی،وعظ ونصیحت،اور اوراد و وظائف چشتیہ کی تلاوت وغیرہ شامل تھی۔جمعۃ المبارک کا خطبے میں مسلمانوں کو عمل ِ صالح کی ترغیب دیتےتھے۔
آپبڑے پارسا،پابندِ شریعت، اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔بڑے مستجاب الدعوات،خود دار،اور صابر وشاکر تھے۔جید عالم کےساتھ حاذق حکیم بھی تھے۔مریضوں کا علاج مفت کرتےتھے۔شاعری اور تاریخ گوئی میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔بڑے ذہین وفطین تھے۔پہلے حافظ نہیں تھے بعد میں شوق ہوا تو قرآن کریم حفظ کرکےتراویح میں سنایا کرتےتھے۔بڑی بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔چکوال میں رہتےہوئے اپنی پوری زندگی نہ بازار گئے اور نہ ہی بازار دیکھا۔بڑے حق گو اور بےباک عالم دین تھے۔فقہ،تصوف اور علوم اسلامی سے ان کا سینہ منور تھا۔اکابرین شہر اور حکام آپ کی بہت قدر ومنزلت کرتےتھے۔فرق ِ باطلہ کے سخت مخالف تھے۔ساری زندگی درس وتدریس وعظ ونصیحت اور ذکر الہی میں بسر کی۔قدرت نے آپ کو شاعرانہ طبیعت ودیعت فرمائی تھی۔عربی،فارسی،اور اردو،پنجابی میں بے تکلف شاعرکہتے تھے۔لیکن زیادہ توجہ شاعری ک
❤1👍1
ی طرف نہ تھی۔اسی طرح تاریخی مادے بحساب ابجد نکالنے میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔عربی فارسی کلاموں میں تضمین آپ کےلئے کوئی مشکل کام نہ تھا۔’’الداعی‘‘ تخلص تھا۔زیادہ تر کلام فارسی میں ہے۔
درس وتدریس: جب آپ نے چکوال میں مسند تدریس بچھائی تو آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی۔کشمیر،سرحد،اور کابل وقندھار تک کےطلبہ تعلیم حاصل کرتےتھے۔خاص طور پر مثنوی شریف،ربع مجیب،اور ربع مقنطرہ وغیرہ علوم پڑھنے کےلئے دور دراز سے علماء حاضر ہوتے اور شرفِ تلمذ حاصل کرتے۔قدوۃ المحققین حضرت علامہ غلام محمود پپلانوی(محشی تکملہ ومصنف نجم الرحمن) آپ کے ارشد تلامذہ میں سےتھے۔حضرت مفتی دین محمد رتوی نے فقہ، اصول فقہ،طب کی تعلیم آپ سے حاصل کی۔حضرت مولانا عبداللہ کھڈہ مارکیٹ کراچی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم کراچی۔مولوی محمد صادق دیوبندی کانگریسی کھڈہ کراچی۔نامور تلامذہ ہیں۔جنات بھی آپ کے درس میں شریک ہوتےتھے۔
مدرسہ مظہر العلوم کا بانی کون؟: کھڈہ مارکیٹ لیاری کراچی کے دارالعلوم مظہر العلوم کا بانی کون اور قبضہ کس کا؟ کے متعلق درج ذیل مضمون میں اختصار کے ساتھ دلائل درج کئے جارہے ہیں تاکہ تاریخ کے طالب علم پراصل حقائق واضح ہوں۔ مولانا اشرف صاحب لکھتے ہیں: ’’مولانا حمد دین چکوالی1298ھ کو حرمین شریفین سے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرکے واپسی پر کراچی کے محلہ کھڈہ میں مولاناعبداللہ کے پاس کچھ عرصہ قیام کیا اور وہاں ایک دینی مدرسہ مظہر العلوم قائم کیا جو آج بھی موجود ہے‘‘ (تذکرہ اکابر اہل سنت :44)
مولانا عبداللہ سنی حنفی صحیح العقیدہ تھے، مولانا احمد دین کے دوست اور ایک روایت کے مطابق شاگرد بھی تھے اور کراچی کے مشہور قاری حافظ غلام رسول قادری (متوفی1391ھ) کی نماز جنازہ جہانگیر پارک صدر میں مولانا عبداللہ نے پڑھائی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے علماء و مشائخ بھی شریک تھے ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی دیوبندی یا وہابی سے اہل سنت کے عالم و پیر کے جنازے کی امامت جانتے بوجھتے کرائی جائے۔ معلوم یہ ہوا کہ حضرت مولانا عبداللہ اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے تھے مگر آپ کے صاحبزادے اہل سنت سے منحرف ہو کر دیو بندی ہوگئے۔ حضرت مولانا عبداللہ کا لڑکا ’’مولوی محمد صادق‘‘نے والد ماجد کے عقیدے و نظریے سے غداری کرکے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے پکے دیوبندی وہابی بنے، سندھ واپس آکر دیوبندیت کا نگریسیت سے شہرت حاصل کی، متحدہ قومیت(ہندو مسلم اتحاد) کے مبلغ بنے، تحریک ہجرت و کانگریس میں بھر پور کام کیا۔ اس طرح اہل سنت کے مدرسہ پر وہابیت کا نہ فقط قبضہ ہوا بلکہ آج تک مرکز بنا ہوا ہے۔ مولوی صادق کی نسبت سے مدرسے سے پرچہ ’’الصادق‘‘ آج تک جاری ہے۔
ایک اور اہم انشاف یہ سامنے آیا کہ 1907ء کو مدرسہ مظہر العلوم میں ’’دارالافتاء‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کے صدر مفتی مولانا عبداللہ مرحوم تھے اور اس کے نائب مفتی حضرت علامہ عبدالکریم درس تھے جب کہ کراچی کے متعدد مفتی صاحبان مولانا محمد صدیق، مولانا عبدالحق ہالائی، مولانا احمد بخاری وغیرہ اس کے باضابطہ ممبر تھے۔مولانا حکیم احمد الدین کے دو صاحبزادے ان کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے۔۱۔ مولانا حافظ علاء الدین 21 سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔2۔ مولانا حافظ قاضی ضیاء الدین ایم ۔ اے بی ایڈ۔ ڈسٹرکٹ انسپکٹر اسکولز، صحیح العقیدہ سنی تھے، ملازمت کے دوران ایک حادثہ کا شکار ہوگئے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:107)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 / ذوالقعدہ 1347ھ مطابق 8 / مئی 1929ء کو صبح صادق سے پہلےہوا ۔ چکوال میں آبائی قبرستان میں مدفون ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-ahmeduddin-chishti
درس وتدریس: جب آپ نے چکوال میں مسند تدریس بچھائی تو آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی۔کشمیر،سرحد،اور کابل وقندھار تک کےطلبہ تعلیم حاصل کرتےتھے۔خاص طور پر مثنوی شریف،ربع مجیب،اور ربع مقنطرہ وغیرہ علوم پڑھنے کےلئے دور دراز سے علماء حاضر ہوتے اور شرفِ تلمذ حاصل کرتے۔قدوۃ المحققین حضرت علامہ غلام محمود پپلانوی(محشی تکملہ ومصنف نجم الرحمن) آپ کے ارشد تلامذہ میں سےتھے۔حضرت مفتی دین محمد رتوی نے فقہ، اصول فقہ،طب کی تعلیم آپ سے حاصل کی۔حضرت مولانا عبداللہ کھڈہ مارکیٹ کراچی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم کراچی۔مولوی محمد صادق دیوبندی کانگریسی کھڈہ کراچی۔نامور تلامذہ ہیں۔جنات بھی آپ کے درس میں شریک ہوتےتھے۔
مدرسہ مظہر العلوم کا بانی کون؟: کھڈہ مارکیٹ لیاری کراچی کے دارالعلوم مظہر العلوم کا بانی کون اور قبضہ کس کا؟ کے متعلق درج ذیل مضمون میں اختصار کے ساتھ دلائل درج کئے جارہے ہیں تاکہ تاریخ کے طالب علم پراصل حقائق واضح ہوں۔ مولانا اشرف صاحب لکھتے ہیں: ’’مولانا حمد دین چکوالی1298ھ کو حرمین شریفین سے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرکے واپسی پر کراچی کے محلہ کھڈہ میں مولاناعبداللہ کے پاس کچھ عرصہ قیام کیا اور وہاں ایک دینی مدرسہ مظہر العلوم قائم کیا جو آج بھی موجود ہے‘‘ (تذکرہ اکابر اہل سنت :44)
مولانا عبداللہ سنی حنفی صحیح العقیدہ تھے، مولانا احمد دین کے دوست اور ایک روایت کے مطابق شاگرد بھی تھے اور کراچی کے مشہور قاری حافظ غلام رسول قادری (متوفی1391ھ) کی نماز جنازہ جہانگیر پارک صدر میں مولانا عبداللہ نے پڑھائی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے علماء و مشائخ بھی شریک تھے ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی دیوبندی یا وہابی سے اہل سنت کے عالم و پیر کے جنازے کی امامت جانتے بوجھتے کرائی جائے۔ معلوم یہ ہوا کہ حضرت مولانا عبداللہ اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے تھے مگر آپ کے صاحبزادے اہل سنت سے منحرف ہو کر دیو بندی ہوگئے۔ حضرت مولانا عبداللہ کا لڑکا ’’مولوی محمد صادق‘‘نے والد ماجد کے عقیدے و نظریے سے غداری کرکے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے پکے دیوبندی وہابی بنے، سندھ واپس آکر دیوبندیت کا نگریسیت سے شہرت حاصل کی، متحدہ قومیت(ہندو مسلم اتحاد) کے مبلغ بنے، تحریک ہجرت و کانگریس میں بھر پور کام کیا۔ اس طرح اہل سنت کے مدرسہ پر وہابیت کا نہ فقط قبضہ ہوا بلکہ آج تک مرکز بنا ہوا ہے۔ مولوی صادق کی نسبت سے مدرسے سے پرچہ ’’الصادق‘‘ آج تک جاری ہے۔
ایک اور اہم انشاف یہ سامنے آیا کہ 1907ء کو مدرسہ مظہر العلوم میں ’’دارالافتاء‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کے صدر مفتی مولانا عبداللہ مرحوم تھے اور اس کے نائب مفتی حضرت علامہ عبدالکریم درس تھے جب کہ کراچی کے متعدد مفتی صاحبان مولانا محمد صدیق، مولانا عبدالحق ہالائی، مولانا احمد بخاری وغیرہ اس کے باضابطہ ممبر تھے۔مولانا حکیم احمد الدین کے دو صاحبزادے ان کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے۔۱۔ مولانا حافظ علاء الدین 21 سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔2۔ مولانا حافظ قاضی ضیاء الدین ایم ۔ اے بی ایڈ۔ ڈسٹرکٹ انسپکٹر اسکولز، صحیح العقیدہ سنی تھے، ملازمت کے دوران ایک حادثہ کا شکار ہوگئے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:107)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 / ذوالقعدہ 1347ھ مطابق 8 / مئی 1929ء کو صبح صادق سے پہلےہوا ۔ چکوال میں آبائی قبرستان میں مدفون ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-ahmeduddin-chishti
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Ahmeduddin Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللۃ تعالیٰ علیہ
اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔
اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:
’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘
جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘
تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔
سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔
آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔
اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:
’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘
جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘
تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔
سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔
آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
👍2❤1
جب نام نہاد ملّاؤں نے غیروں کے اشاروں پر عزّت و عظمتِ مصطفیٰ ﷺ پر رکیک حملے شروع کیے، تو فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ان کے جواب میں ’’ مقامِ رسول ﷺ ‘‘ تالیف کرکے دنیائے سنیت پر احسانِ عظیم فرمایا۔ اس کتاب کا ایک ایک لفظ عظمتِ مصطفیٰ ﷺ اور مقامِ مصطفیٰ ﷺ کی گواہی دے رہا ہے۔ اس کتاب کو بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔ ایک وہابی نے عدالت میں اس کتاب کو چیلنج کیا تو اللہ جل شانہ نے اُس مولوی کو عدالت میں ہی جوتے لگوائے ۔
حضرت بیہقیِ وقت اعلیٰ روحانی مقام پر فائز تھے۔ علم و عمل، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے ۔ خدمتِ دین کی بدولت کئی مرتبہ زیارتِ مصطفیٰ ﷺ سے شرف یاب ہوئے ۔
ایک مرتبہ صاحبِ کشف بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عارف صاحب احمدپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےفرمایا:
’’علامہ فیضی صاحب! آج حضرت خضر علیہ السلام نے نمازِ جمعہ آپ کے پیچھے ادا کیا ہے، اور آئندہ جمعہ بھی آپ کو شرف بخشیں گے۔‘‘
واقعی ایساہوا، اگلےجمعۃ المبارک کےدن بہت سےحضرات نے حضرت خضرعلیہ السلام سےمصافحہ کیا۔یہ آپ کوشرف بخشنے،اورآپ کی عظمت ظاہرکرنےکےلیے تشریف لائےتھےجیساکہ بہت سےاولیائے کرام کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔
آپ اپنے اعلیٰ علمی و روحانی مقام ومرتبہ کی وجہ سے نہ صر ف پاک وہند بلکہ پوری دنیا میں علمائے اہلِ سنّت اور مشائخِ اہلِ سنّت کے منظور ِنظر تھے۔اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر اور عظیم مناظر وخطیب ِ لاجواب تھے۔خطیب ایسےکہ جب تک بیان جاری رہتامجمع پرسکون و سکوت کی کیفیت طاری رہتی۔انداز ایسا دل نشیں کہ بات سامعین کےدل میں اترجاتی تھی۔ میں نےایسےافراددیکھےہیں جوعلامہ فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بیانات کی برکت سےباعمل ہوگئے، بلکہ ایک بہترین مناظربھی بن گئے۔ کوئی بھی بدمذہب ان کےسامناکرنےسےکتراتاتھا۔
حضرت فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےساری زندگی درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے گزار دی۔ جب مسند ِعلم پر جلوہ افروز ہوتے اور اپنے ہر قول پر رسولِ اکرم ﷺکے فرامین بیان کرتےتو امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی یاد تازہ ہوجاتی ،اور جب مُناظرے میں گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ اور گستاخانِ صحابہ واہلِ بیت،واولیاء کو پچھاڑتےتو ایسا معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کا شیر میدان میں آیا ہے اور مدِّ مقابل کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آتا۔ آپ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی منکسرالمزاج اور بااخلاق شخصیت کے حامل تھے۔ وعظ ونصیحت، مُناظرہ، مَحافلِ میلادکےلیے کبھی کسی سے معاوضےکےطلب گارنہ ہوئے۔ہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیبﷺکی رضاکےلیےہوتاتھا۔
آپ کی سیرت آج کے علما کےلیے مشعل راہ ہے۔
تاریخِ وصال:
قبلہ بیہقیِ وقت (66 سال، 8 ماہ 11 دن کی عمر میں) یکم جمادی الاخریٰ 1427ھ، مطابق27؍جون2006ء،بروز منگل، شب ِبدھ 8:45 پر عین اذانِ عشا کے وقت اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے۔
ماخذ:
’’ بیہقیِ وقت علامہ مفتی ابو الحسن محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ‘‘، از: مفتی محمد اکرام المحسن فیضی، شائع کردۂ انجمن ضیائے طیبہ، کراچی، جون 2007ء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
حضرت بیہقیِ وقت اعلیٰ روحانی مقام پر فائز تھے۔ علم و عمل، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں بے مثال تھے ۔ خدمتِ دین کی بدولت کئی مرتبہ زیارتِ مصطفیٰ ﷺ سے شرف یاب ہوئے ۔
ایک مرتبہ صاحبِ کشف بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا عارف صاحب احمدپوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےفرمایا:
’’علامہ فیضی صاحب! آج حضرت خضر علیہ السلام نے نمازِ جمعہ آپ کے پیچھے ادا کیا ہے، اور آئندہ جمعہ بھی آپ کو شرف بخشیں گے۔‘‘
واقعی ایساہوا، اگلےجمعۃ المبارک کےدن بہت سےحضرات نے حضرت خضرعلیہ السلام سےمصافحہ کیا۔یہ آپ کوشرف بخشنے،اورآپ کی عظمت ظاہرکرنےکےلیے تشریف لائےتھےجیساکہ بہت سےاولیائے کرام کی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔
آپ اپنے اعلیٰ علمی و روحانی مقام ومرتبہ کی وجہ سے نہ صر ف پاک وہند بلکہ پوری دنیا میں علمائے اہلِ سنّت اور مشائخِ اہلِ سنّت کے منظور ِنظر تھے۔اپنے وقت کے عظیم محدث و مفسر اور عظیم مناظر وخطیب ِ لاجواب تھے۔خطیب ایسےکہ جب تک بیان جاری رہتامجمع پرسکون و سکوت کی کیفیت طاری رہتی۔انداز ایسا دل نشیں کہ بات سامعین کےدل میں اترجاتی تھی۔ میں نےایسےافراددیکھےہیں جوعلامہ فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بیانات کی برکت سےباعمل ہوگئے، بلکہ ایک بہترین مناظربھی بن گئے۔ کوئی بھی بدمذہب ان کےسامناکرنےسےکتراتاتھا۔
حضرت فیضی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نےساری زندگی درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے گزار دی۔ جب مسند ِعلم پر جلوہ افروز ہوتے اور اپنے ہر قول پر رسولِ اکرم ﷺکے فرامین بیان کرتےتو امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی یاد تازہ ہوجاتی ،اور جب مُناظرے میں گستاخانِ مصطفیٰ ﷺ اور گستاخانِ صحابہ واہلِ بیت،واولیاء کو پچھاڑتےتو ایسا معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کا شیر میدان میں آیا ہے اور مدِّ مقابل کو راہِ فرار کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آتا۔ آپ ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی منکسرالمزاج اور بااخلاق شخصیت کے حامل تھے۔ وعظ ونصیحت، مُناظرہ، مَحافلِ میلادکےلیے کبھی کسی سے معاوضےکےطلب گارنہ ہوئے۔ہرکام اللہ جل شانہ اوراس کےحبیبﷺکی رضاکےلیےہوتاتھا۔
آپ کی سیرت آج کے علما کےلیے مشعل راہ ہے۔
تاریخِ وصال:
قبلہ بیہقیِ وقت (66 سال، 8 ماہ 11 دن کی عمر میں) یکم جمادی الاخریٰ 1427ھ، مطابق27؍جون2006ء،بروز منگل، شب ِبدھ 8:45 پر عین اذانِ عشا کے وقت اپنے خالق ِحقیقی سے جا ملے۔
ماخذ:
’’ بیہقیِ وقت علامہ مفتی ابو الحسن محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ‘‘، از: مفتی محمد اکرام المحسن فیضی، شائع کردۂ انجمن ضیائے طیبہ، کراچی، جون 2007ء۔
https://scholars.pk/ur/scholar/manzoor-ahmad-faizi-allama-mufti-muhammad
scholars.pk
Mufti Manzoor Ahmed Faizi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Manzoor Ahmad Faizi, Allama Mufti Muhammad
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-09-1444 ᴴ | 25-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1