فقیہِ اعظم علامہ مفتی پیر محمد قاسم مشوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی محمد قاسم مشوری علیہ الرحمۃ۔ لقب: فقیہِ اعظم سندھ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری بن حاجی محمد عثمان بن نہال خان بن اللہ بخش بن یار محمد بن پیارو خان بن شاہ محمد مشوری (علیہم الرحمۃ)۔ آپ کا خاندانی تعلّق: ’’ رندبلوچ‘‘ کی شاخ ’’مشوری‘‘سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر، 12؍ربیع الاوّل 1316ھ مطابق یکم اگست 1898ء کو درگاہِ عالیہ مشوری شریف ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ نہایت ہی ذہین وفطین تھے ۔ اپنی والدہ محترمہ سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا ۔ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ ، زاہدہ اور شب خیز اور قرآن مجید کی عاملہ خاتون تھیں ۔ اس کے بعد قریب ہی ’’گوٹھ ملا ابڑا‘‘ میں صوفیِ باصفا حضرت مولانا محمد عالم ابڑو سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔بَعْدَہٗ بارہ سال کی عمر میں اس وقت کی سندھ کی مشہور دینی درس گاہ ’’مدرسہ دارالفیض‘‘ گوٹھ سونہ جتوئی (ضلع لاڑکانہ ) میں داخلہ لیا۔ حضرت علامہ مفتی غلام محمد جتوئی اور سراج الفقہاء استاذ الاساتذہ عارف باللہ علامہ مولانا مفتی ابوالفیض غلام عمر جتوئی (علیہما الرحمۃ) سے 1339ھ/ 1920ء میں تحصیل علم کرکے سندِ فراغ حاصل فرمائی۔ آپ کی دستارِ فضیلت میں اس وقت کےجیّد علما ومشائخ نےشرکت فرمائی تھی۔
بیعت و خلافت:
امام العرفا،رئیس الصلحا، عارف باللہ حضرت خواجہ سیّد محمد امام الدین شاہ راشدی قادری علیہ الرحمۃ (درگاہِ ٹھلا شریف لاڑکانہ) کے دستِ حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیّہ میں بیعت ہوئے اور 1931ء میں خلافت واجازت اورتبرکات سےسرفراز ہوئے۔
سیرت و خصائص:
فقیہ العصر، مفتیِ اعظم سندھ، عالم و عارف، استاذ العلما، رئیس الصلحا، محققِ دوراں، قاسم العلمِ والعرفاں، فقیہِ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی محمد قاسم مشوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمۃ اُن نفوسِ قدسیّہ میں سے ہیں جنہوں نے باب الاسلام سرزمینِ اولیا سندھ میں دینِ اسلام کی آبیاری فرمائی، مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کی ساری زندگی درس وتدریس تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت اور مسلکِ حق اہلِ سنّت و جماعت کی ترویج واشاعت میں گزری۔ مفتی صاحب کا فیضان عام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے اکثر علما بلا واسطہ یابالواسطہ آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں۔ آپ نے تحصیلِ علم کے بعد اپنےاستاذِ محترم سراج الفقہا حضرت علامہ مولانا غلام عمر جتوئی کےارشاد پر،مدرسۂ جامعہ عربیہ قاسم العلوم قائم کیا۔ دیگر مدارس کے برعکس آپ کا طریقۂ کاریکسر منفرد تھا۔ آپ کے ہاں طلبہ کے داخلے کا رجسٹر تھا اور نہ ہی روزانہ حاضری کا معمول ، طلبہ کاشش ماہی یا سالانہ امتحان ہوتا تھا اور فارغ ہونے والے فضلا کو سند بھی نہیں دی جاتی تھی، اس کے باوجود نتیجہ سو فیصد ہوتا، وہاں سے فارغ ہونے والا ہر فاضل تدریس کے قابل ہوتا۔ دور دراز علاقوں سے طلبہ سفر کرکے حاضرِ خدمت ہوتے اورعلم کی لازوال دولت سےمشرف ہوکراپنے علاقوں کی طرف لوٹتے تھے۔اس درس گاہ سے آج تک علم و عرفان کی نہریں جاری ہیں جن سے بے شمار تشنگان ِعلمِ ظاہری و باطنی اپنی پیاس بجھا رہے ہیں۔ بے شمار علما فارغ التحصیل ہوئے اور اس جامعہ کی سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں کئی شاخیں سرگرم ہیں۔ جب آپ نے فارسی کی تعلیم مکمّل کی تو آپ کے والدِ ماجد حاجی محمد عثمان مشوری اپنے صاحبزادے کو اپنے خاندانی مُرشِد، عارف باللہ، سراج العارفین حضرت خواجہ سیّد امام الدین شاہ راشدی کے حضور دعا کے واسطے لے آئے اور عرض کیا: ’’قبلۂ من! میں اپنے بچے کو عالم دین بنانا چاہتا ہوں آپ اجازت بھی عنایت فرمائیں اور دعا بھی فرمائیں۔‘‘ حضرت قبلہ نے آپ کی طرف نظر کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’بیٹا!علم دین پڑھ،لیکن خشک ملا نہ ہونا‘‘یعنی علم دین کے ساتھ ساتھ راہِ سلوک بھی طے کرنا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ علم کےساتھ عرفان کی دولت سےبھی مالا مال تھے۔قدرت نےحُسنِ ظاہری کے ساتھ ساتھ جمال ِ باطنی سےبھی خوب نوازا تھا۔ آپ کے حسن و جمال میں ایسی کشش تھی جس سے دنیا کے صاحبِ حسن و جمال میں آپ ممتاز و منفرد نظر آتے تھے، گفتگو و تبسم میں چہرے پر ایسانور چمکتا تھا کہ دلوں کی تاریکیاں دھل جاتی تھیں۔ روحانی طور پر ایسا جلال و جمال ، آنکھوں میں حشمت وہیبت تھی کہ بڑے سے بڑے جاگیردار، وزیر،مشیر، بیورو کریٹ بھی سامنے بات کرنے سے پہلے بار بار سوچتے تھے کہ کوئی ناگوار بات منہ سے نہ نکل جائے ، اور بات کرنے کی ہمت نہ پاتے تھے اور بولنے میں ان کی زبان ان کا ساتھ نہ دیتی تھی، وہ لڑکھڑاتے اور ڈرتے ڈرتے بات کرتے تھے۔ آپ کا سینۂ اطہر تجلیاتِ الٰہیہ کامرکز تھا۔ آپ کا قلبِ مبارک معارفِ خدا وندی کا گنجینہ تھا۔ نگاہوں میں حُسنِ یار کے جلوے تھے، دل میں محبّتِ خدا وندی اور عشقِ نبوی کا دریا موجزن تھا۔ غرض یہ کہ آپ کا ہر عمل تسلیم ورضا کا گوہرِ نایاب تھا۔ آپ رحم و کرم اور عفوو
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی محمد قاسم مشوری علیہ الرحمۃ۔ لقب: فقیہِ اعظم سندھ ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری بن حاجی محمد عثمان بن نہال خان بن اللہ بخش بن یار محمد بن پیارو خان بن شاہ محمد مشوری (علیہم الرحمۃ)۔ آپ کا خاندانی تعلّق: ’’ رندبلوچ‘‘ کی شاخ ’’مشوری‘‘سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر، 12؍ربیع الاوّل 1316ھ مطابق یکم اگست 1898ء کو درگاہِ عالیہ مشوری شریف ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ نہایت ہی ذہین وفطین تھے ۔ اپنی والدہ محترمہ سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا ۔ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ ، زاہدہ اور شب خیز اور قرآن مجید کی عاملہ خاتون تھیں ۔ اس کے بعد قریب ہی ’’گوٹھ ملا ابڑا‘‘ میں صوفیِ باصفا حضرت مولانا محمد عالم ابڑو سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔بَعْدَہٗ بارہ سال کی عمر میں اس وقت کی سندھ کی مشہور دینی درس گاہ ’’مدرسہ دارالفیض‘‘ گوٹھ سونہ جتوئی (ضلع لاڑکانہ ) میں داخلہ لیا۔ حضرت علامہ مفتی غلام محمد جتوئی اور سراج الفقہاء استاذ الاساتذہ عارف باللہ علامہ مولانا مفتی ابوالفیض غلام عمر جتوئی (علیہما الرحمۃ) سے 1339ھ/ 1920ء میں تحصیل علم کرکے سندِ فراغ حاصل فرمائی۔ آپ کی دستارِ فضیلت میں اس وقت کےجیّد علما ومشائخ نےشرکت فرمائی تھی۔
بیعت و خلافت:
امام العرفا،رئیس الصلحا، عارف باللہ حضرت خواجہ سیّد محمد امام الدین شاہ راشدی قادری علیہ الرحمۃ (درگاہِ ٹھلا شریف لاڑکانہ) کے دستِ حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیّہ میں بیعت ہوئے اور 1931ء میں خلافت واجازت اورتبرکات سےسرفراز ہوئے۔
سیرت و خصائص:
فقیہ العصر، مفتیِ اعظم سندھ، عالم و عارف، استاذ العلما، رئیس الصلحا، محققِ دوراں، قاسم العلمِ والعرفاں، فقیہِ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی محمد قاسم مشوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمۃ اُن نفوسِ قدسیّہ میں سے ہیں جنہوں نے باب الاسلام سرزمینِ اولیا سندھ میں دینِ اسلام کی آبیاری فرمائی، مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کی ساری زندگی درس وتدریس تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت اور مسلکِ حق اہلِ سنّت و جماعت کی ترویج واشاعت میں گزری۔ مفتی صاحب کا فیضان عام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے اکثر علما بلا واسطہ یابالواسطہ آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں۔ آپ نے تحصیلِ علم کے بعد اپنےاستاذِ محترم سراج الفقہا حضرت علامہ مولانا غلام عمر جتوئی کےارشاد پر،مدرسۂ جامعہ عربیہ قاسم العلوم قائم کیا۔ دیگر مدارس کے برعکس آپ کا طریقۂ کاریکسر منفرد تھا۔ آپ کے ہاں طلبہ کے داخلے کا رجسٹر تھا اور نہ ہی روزانہ حاضری کا معمول ، طلبہ کاشش ماہی یا سالانہ امتحان ہوتا تھا اور فارغ ہونے والے فضلا کو سند بھی نہیں دی جاتی تھی، اس کے باوجود نتیجہ سو فیصد ہوتا، وہاں سے فارغ ہونے والا ہر فاضل تدریس کے قابل ہوتا۔ دور دراز علاقوں سے طلبہ سفر کرکے حاضرِ خدمت ہوتے اورعلم کی لازوال دولت سےمشرف ہوکراپنے علاقوں کی طرف لوٹتے تھے۔اس درس گاہ سے آج تک علم و عرفان کی نہریں جاری ہیں جن سے بے شمار تشنگان ِعلمِ ظاہری و باطنی اپنی پیاس بجھا رہے ہیں۔ بے شمار علما فارغ التحصیل ہوئے اور اس جامعہ کی سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں کئی شاخیں سرگرم ہیں۔ جب آپ نے فارسی کی تعلیم مکمّل کی تو آپ کے والدِ ماجد حاجی محمد عثمان مشوری اپنے صاحبزادے کو اپنے خاندانی مُرشِد، عارف باللہ، سراج العارفین حضرت خواجہ سیّد امام الدین شاہ راشدی کے حضور دعا کے واسطے لے آئے اور عرض کیا: ’’قبلۂ من! میں اپنے بچے کو عالم دین بنانا چاہتا ہوں آپ اجازت بھی عنایت فرمائیں اور دعا بھی فرمائیں۔‘‘ حضرت قبلہ نے آپ کی طرف نظر کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’بیٹا!علم دین پڑھ،لیکن خشک ملا نہ ہونا‘‘یعنی علم دین کے ساتھ ساتھ راہِ سلوک بھی طے کرنا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ علم کےساتھ عرفان کی دولت سےبھی مالا مال تھے۔قدرت نےحُسنِ ظاہری کے ساتھ ساتھ جمال ِ باطنی سےبھی خوب نوازا تھا۔ آپ کے حسن و جمال میں ایسی کشش تھی جس سے دنیا کے صاحبِ حسن و جمال میں آپ ممتاز و منفرد نظر آتے تھے، گفتگو و تبسم میں چہرے پر ایسانور چمکتا تھا کہ دلوں کی تاریکیاں دھل جاتی تھیں۔ روحانی طور پر ایسا جلال و جمال ، آنکھوں میں حشمت وہیبت تھی کہ بڑے سے بڑے جاگیردار، وزیر،مشیر، بیورو کریٹ بھی سامنے بات کرنے سے پہلے بار بار سوچتے تھے کہ کوئی ناگوار بات منہ سے نہ نکل جائے ، اور بات کرنے کی ہمت نہ پاتے تھے اور بولنے میں ان کی زبان ان کا ساتھ نہ دیتی تھی، وہ لڑکھڑاتے اور ڈرتے ڈرتے بات کرتے تھے۔ آپ کا سینۂ اطہر تجلیاتِ الٰہیہ کامرکز تھا۔ آپ کا قلبِ مبارک معارفِ خدا وندی کا گنجینہ تھا۔ نگاہوں میں حُسنِ یار کے جلوے تھے، دل میں محبّتِ خدا وندی اور عشقِ نبوی کا دریا موجزن تھا۔ غرض یہ کہ آپ کا ہر عمل تسلیم ورضا کا گوہرِ نایاب تھا۔ آپ رحم و کرم اور عفوو
❤1👍1
درگذر کا پیکرِ جمیل تھے۔ وعظ و نصیحت ، درس و تدریس ، فتویٰ نویسی ، دعا و تعویذ، تلقین و ارشاد ، اوراد و وظائف اور شب بیداری وغیرہ مشاغل آپ کے ہاں نہایت وسیع وسعت رکھتے ہیں ۔ اتنے مشاغل کثیرہ کے باوجود آپ نے تیس سےزائددینی،تحقیقی و ادبی تصانیف تحریر فرمائیں جو کہ اسلام کا عظیم سرمایہ ہیں۔آپ کی کتب ورسائل کوعام کرنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کی صورت میں جوآپ نے ایک مشن دیا تھا اس کو آباد کرنے کی ضرورت ہے۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رمضان المبارک 1410ھ، مطابق 28؍ مارچ 1990ء بروز بدھ، صبح تقریباً چھ بجے روزے کی حالت میں اِس طرح ہوا کہ آپ اسم ذات ’’ اللہ اللہ ‘‘ کا ورد کرتے ہوئے روح ربّ العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہو گئی ۔درگاہِ عالیہ مشوری شریف میں تدفین ہوئی، مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔
ماٰخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-muhammad-qasim-mashoori
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رمضان المبارک 1410ھ، مطابق 28؍ مارچ 1990ء بروز بدھ، صبح تقریباً چھ بجے روزے کی حالت میں اِس طرح ہوا کہ آپ اسم ذات ’’ اللہ اللہ ‘‘ کا ورد کرتے ہوئے روح ربّ العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہو گئی ۔درگاہِ عالیہ مشوری شریف میں تدفین ہوئی، مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔
ماٰخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-muhammad-qasim-mashoori
❤1👍1
ادیب رائے پوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سیّد حسین علی۔ لقب: ادیبِ اہلسنّت ۔ آپ ’’ادیب رائے پوری‘‘ سے معروف تھے۔
سلسلۂ نسب:
سیّد حسین علی المعروف ادیب رائے پوری بن حکیم سیّد یعقوب علی۔ رحمۃ اللہ علیہما۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 1928ء مطابق 1346ھ کو ’’رائے پور‘‘ مدھیہ پردیش، ہند میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم رائے پور میں حاصل کی۔ فارسی آپ کے گھر کی زبان تھی اور خاندانی پیشہ طب تھا۔ اس لیے بچپن سے ہی فارسی سے گہرا تعلق رہا۔ فارسی زبان کے دو قابلِ قدر اُستاد مولانا عبدالرحمٰن الٰہ آبادی اور ماسٹر شیو پرشاد سے آپ نے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔فنِ شاعری میں آپ کو دہلی کے عظیم شاعر حضرت بے خوؔد دہلوی کے شاگردِ رشید حضرت فدؔا خالد دہلوی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ وہ ایم اے (اردو) تھے۔ ا ِس کے علاوہ علمائے اہلِ سنّت کی صحبت سے کبھی رو گردانی نہیں کی، ہمیشہ ان کی صحبت میں رہ کر استفادہ کرتے رہے۔
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ سہروردیّہ میں حضرت پیر آفاق سہروردی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت تھے۔ حضرت آفاق کا مزارِ مبارک دہلی سے قریب ایک مقام ’’رٹول‘‘ میں ہے، جہاں کے آم ’’انور رٹول‘‘ مشہور ہیں۔
پاکستان آمد:
سر زمینِ پاک پر آپ کی آمد کی تاریخ بھی یادگار ہے۔ قیامِ پاکستان سے صرف ایک رات قبل یعنی 13؍ اگست 1947ء کو پاکستان تشریف لائے اور کراچی (سندھ) میں مستقل سکونت اختیار کی۔
نعتیہ خدمات:
جہانِ حمد و نعت کی مایۂ ناز شخصیت ادیب رائے پوری کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ آپ نے نعت گوئی کے علاوہ نعت خوانی اور فروغِ نعت کے لیے شان دار و یادگار خدمات انجام دی ہیں۔ یہ نعتیہ خدمات ان خطوط پر استوار ہیں جنہیں ہر زمانے اور ہر دور میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
(1) ماہ نامہ نوائے نعت کراچی:
ادیب رائے پوری کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے نعتیہ ادب کو فروغ دینے کے لیے1980ء میں کراچی سے سب سے پہلا ماہ نامہ ’’نوائے نعت‘‘ جاری کیا۔ آپ کی ادارت میں اِس ماہ نامے نے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے 8 سال مکمّل کیے۔ اپنوں کی لاتعلقی و عدم دل چسپی کی وجہ سے یہ ماہ نامہ بند ہوگیا،لیکن ادیب رائے پوری صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اردو زبان میں نعت کےلیے یہ پہلاماہ نامہ ہے۔ بعد میں پورے ملک میں جہاں بھی یہ سلسلہ شروع ہوایہ سب اسی سلسلے کی مبارک کڑیاں ہیں۔
(2) پاکستان نعت کونسل:
1970ء کو پاکستان نعت کونسل کی بنیاد رکھی گئی۔ اس ادارے کے تحت عظیم الشان نعتیہ خدمات انجام دی گئیں۔ یادگار تقریبات کا اہتمام ہوتا رہا۔ اس ادارے کے زیرِ اہتمام ہونے والی تقریبات نے وطنِ عزیز میں فروغِ نعت کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا۔
(3) نعت اکیڈمی کا قیام:
1980ء کو ’’پاکستان نعت اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک نئے ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پاکستان نعت اکیڈمی کے بانی و صدر ادیب رائے پوری نے 1982ءمیں کراچی میں اس اکیڈمی کے تحت برِّصغیر (پاک و ہند و بنگلہ دیش) کی تاریخ میں سب سے پہلی ’’عالمی نعت کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا۔ اپنی نوعیت کے حوالے سے ہونے والی اس منفرد کانفرنس میں امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، ساؤتھ ایشیا، افریقہ اور برِّ صغیر کی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ 1984ءمیں پاکستان نعت اکیڈمی کے زیرِ اہتمام برطانیہ کے تین شہروں لندن، برمنگھم اور بریڈ فورڈ میں عالمی نعت کانفرنس کے تین یادگار اجتماعات منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ دسمبر 1984ء ہی میں ویسٹ انڈیز کے شہر ’’ٹرینی ڈاڈ‘‘ میں ’’نعت کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ اس شہر کی پہلی نعت کانفرنس تھی جسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ سلور جوبلی ایوارڈ 1992ء برِّصغیر میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی نعتیہ ایوارڈ تقریب تھی، جس میں ایک سو ایوارڈ تقسیم کیے گئے۔ پہلی مرتبہ کسی ایک چھت کے نیچے دنیائے نعت کے تقریباً تمام ملکی وغیر ملکی سرکردہ حضرات موجود تھے۔ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی دوسری تقریب ایسی منعقد ہوسکی۔ برِّصغیر میں نعت کے موضوع پر، پی ۔ ایچ۔ڈی کرنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ شعرائے کرام ، نعت خواں حضرات، ریڈیو، ٹی وی کے پروڈیوسرز، مختلف انجمنوں کے صدور سربراہ اور دیگر معززین کو چیئرمین سینٹ آف پاکستان جناب وسیم سجاد صاحب نے انعامات تقسیم کیے۔ دنیائے نعت میں ادیب رائے پوری کی اس نمایاں نعتیہ خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
نعتیہ شاعری:
شاعری تازگی، توانا لہجہ، موثر انداز، وسیع مطالعہ اور قدیم و جدید اسالیب پر گرفت آپ کی شاعری کے بنیادی اوصاف ہیں۔ آپ کے کلام کو شعر و ادب کے حلقوں میں بے اتنہا پسند کیا جاتا ہے۔ آپ کی زیادہ تر نعتیں مقبولیت کے مقام پر فائز ہیں۔ ادیب ایک پختہ گو اور کہنہ مشق نعت گو شاعر کی حیثیت رکھتے تھے۔
تصنیف و تالیف:
آپ نے تصنیف و تحقیق کے حوالے سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ اِن میں سے بعض کے نام درجِ ذیل ہیں:
نام و نسب:
اسم گرامی: سیّد حسین علی۔ لقب: ادیبِ اہلسنّت ۔ آپ ’’ادیب رائے پوری‘‘ سے معروف تھے۔
سلسلۂ نسب:
سیّد حسین علی المعروف ادیب رائے پوری بن حکیم سیّد یعقوب علی۔ رحمۃ اللہ علیہما۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 1928ء مطابق 1346ھ کو ’’رائے پور‘‘ مدھیہ پردیش، ہند میں ہوئی۔
تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم رائے پور میں حاصل کی۔ فارسی آپ کے گھر کی زبان تھی اور خاندانی پیشہ طب تھا۔ اس لیے بچپن سے ہی فارسی سے گہرا تعلق رہا۔ فارسی زبان کے دو قابلِ قدر اُستاد مولانا عبدالرحمٰن الٰہ آبادی اور ماسٹر شیو پرشاد سے آپ نے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔فنِ شاعری میں آپ کو دہلی کے عظیم شاعر حضرت بے خوؔد دہلوی کے شاگردِ رشید حضرت فدؔا خالد دہلوی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ وہ ایم اے (اردو) تھے۔ ا ِس کے علاوہ علمائے اہلِ سنّت کی صحبت سے کبھی رو گردانی نہیں کی، ہمیشہ ان کی صحبت میں رہ کر استفادہ کرتے رہے۔
بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ سہروردیّہ میں حضرت پیر آفاق سہروردی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت تھے۔ حضرت آفاق کا مزارِ مبارک دہلی سے قریب ایک مقام ’’رٹول‘‘ میں ہے، جہاں کے آم ’’انور رٹول‘‘ مشہور ہیں۔
پاکستان آمد:
سر زمینِ پاک پر آپ کی آمد کی تاریخ بھی یادگار ہے۔ قیامِ پاکستان سے صرف ایک رات قبل یعنی 13؍ اگست 1947ء کو پاکستان تشریف لائے اور کراچی (سندھ) میں مستقل سکونت اختیار کی۔
نعتیہ خدمات:
جہانِ حمد و نعت کی مایۂ ناز شخصیت ادیب رائے پوری کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ آپ نے نعت گوئی کے علاوہ نعت خوانی اور فروغِ نعت کے لیے شان دار و یادگار خدمات انجام دی ہیں۔ یہ نعتیہ خدمات ان خطوط پر استوار ہیں جنہیں ہر زمانے اور ہر دور میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
(1) ماہ نامہ نوائے نعت کراچی:
ادیب رائے پوری کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے نعتیہ ادب کو فروغ دینے کے لیے1980ء میں کراچی سے سب سے پہلا ماہ نامہ ’’نوائے نعت‘‘ جاری کیا۔ آپ کی ادارت میں اِس ماہ نامے نے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے 8 سال مکمّل کیے۔ اپنوں کی لاتعلقی و عدم دل چسپی کی وجہ سے یہ ماہ نامہ بند ہوگیا،لیکن ادیب رائے پوری صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اردو زبان میں نعت کےلیے یہ پہلاماہ نامہ ہے۔ بعد میں پورے ملک میں جہاں بھی یہ سلسلہ شروع ہوایہ سب اسی سلسلے کی مبارک کڑیاں ہیں۔
(2) پاکستان نعت کونسل:
1970ء کو پاکستان نعت کونسل کی بنیاد رکھی گئی۔ اس ادارے کے تحت عظیم الشان نعتیہ خدمات انجام دی گئیں۔ یادگار تقریبات کا اہتمام ہوتا رہا۔ اس ادارے کے زیرِ اہتمام ہونے والی تقریبات نے وطنِ عزیز میں فروغِ نعت کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا۔
(3) نعت اکیڈمی کا قیام:
1980ء کو ’’پاکستان نعت اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک نئے ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پاکستان نعت اکیڈمی کے بانی و صدر ادیب رائے پوری نے 1982ءمیں کراچی میں اس اکیڈمی کے تحت برِّصغیر (پاک و ہند و بنگلہ دیش) کی تاریخ میں سب سے پہلی ’’عالمی نعت کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا۔ اپنی نوعیت کے حوالے سے ہونے والی اس منفرد کانفرنس میں امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، ساؤتھ ایشیا، افریقہ اور برِّ صغیر کی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ 1984ءمیں پاکستان نعت اکیڈمی کے زیرِ اہتمام برطانیہ کے تین شہروں لندن، برمنگھم اور بریڈ فورڈ میں عالمی نعت کانفرنس کے تین یادگار اجتماعات منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ دسمبر 1984ء ہی میں ویسٹ انڈیز کے شہر ’’ٹرینی ڈاڈ‘‘ میں ’’نعت کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ اس شہر کی پہلی نعت کانفرنس تھی جسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ سلور جوبلی ایوارڈ 1992ء برِّصغیر میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی نعتیہ ایوارڈ تقریب تھی، جس میں ایک سو ایوارڈ تقسیم کیے گئے۔ پہلی مرتبہ کسی ایک چھت کے نیچے دنیائے نعت کے تقریباً تمام ملکی وغیر ملکی سرکردہ حضرات موجود تھے۔ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی دوسری تقریب ایسی منعقد ہوسکی۔ برِّصغیر میں نعت کے موضوع پر، پی ۔ ایچ۔ڈی کرنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ شعرائے کرام ، نعت خواں حضرات، ریڈیو، ٹی وی کے پروڈیوسرز، مختلف انجمنوں کے صدور سربراہ اور دیگر معززین کو چیئرمین سینٹ آف پاکستان جناب وسیم سجاد صاحب نے انعامات تقسیم کیے۔ دنیائے نعت میں ادیب رائے پوری کی اس نمایاں نعتیہ خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
نعتیہ شاعری:
شاعری تازگی، توانا لہجہ، موثر انداز، وسیع مطالعہ اور قدیم و جدید اسالیب پر گرفت آپ کی شاعری کے بنیادی اوصاف ہیں۔ آپ کے کلام کو شعر و ادب کے حلقوں میں بے اتنہا پسند کیا جاتا ہے۔ آپ کی زیادہ تر نعتیں مقبولیت کے مقام پر فائز ہیں۔ ادیب ایک پختہ گو اور کہنہ مشق نعت گو شاعر کی حیثیت رکھتے تھے۔
تصنیف و تالیف:
آپ نے تصنیف و تحقیق کے حوالے سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ اِن میں سے بعض کے نام درجِ ذیل ہیں:
❤1👍1
1۔ اس قدم کے نشاں: آپ کا سب سے پہلا مجموعۂ نعت ہے ۔ 1977ء کو آپ نے خود شائع کیا۔ مدینۂ منوّرہ کی حاضری کے موقع پر جب ادیب نے یہ کتاب حضرت قطبِ مدینہ کی خدمت میں پیش کی تو انھوں نے فرمایا:’’نعت گوئی ایک مقدّس فن ہے، جس سے وہی شاعر حقیقی طور پر عہدہ برآ ہوسکتا ہے جس کے دل میں عشقِ رسالت مآبﷺ کار فرما ہو۔ ’’ایمان‘‘ سرکارِ دو عالَم ﷺ کی محبّت کا نام ہے۔ جب تک دل میں ایمان کی روشنی نہ ہو، طبیعت اس طرف مائل نہیں ہوسکتی۔ وہ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جو اس وقت مشعلِ نعت ہاتھوں میں اٹھائے تاریکیوں کو روشنیوں میں بدل رہے ہیں۔ الحاد، بے دینی اور بے یقینی نے روحانی اَقدار پر قبضہ جمائے رکھا ہے، اِس شر کا مقابلہ کرنے کے لیے شہنشاہِ کون و مکاں ﷺ کی سیرت کے پہلو، اور حُبِّ رسول ﷺکی تبلیغ ، وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔عزیز اَدیب رائے پوری سَلَّمَہٗ اِس فریضے کو نہایت عقیدت، جذبے اور محبّت سے انجام دے رہے ہیں۔ مجھے جس قدر بھی اِن کا کلام دیکھنے اور سننے کا موقع ملا، اُس میں والہانہ عقیدت، ذوق و شوق، سوزو گداز ، اور جذبات کی گہرائی پائی جاتی ہے، وہ اپنے ان پاکیزہ جذبات کے ساتھ ساتھ زبان و بیان پر پوری دسترس رکھتے ہیں اور شعری محاسن سے بھی خوب واقف ہیں۔ میری دعا ہے کہ مولائے کریم از طفیلِ سرورِ کونین، صاحبِ قَابَ قَوْسَیْن ﷺ ادیب کے ذوق و شوق میں ترقی عطا فرمائے اور ان کا کلام مقبولِ بارگاہ ِرسالت مآب ہو۔آمین ثم آمین۔‘‘
2۔ تصوّرِ کمالِ محبّت:دوسرا مجموعۂ نعت جو کہ 1979ء کو شائع ہوا۔
3۔ مَدارج النعت: اِس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عہدِ حاضر تک نعت کا تدریجی ارتقا ہے، جس میں قرآنِ حکیم کے علاوہ دیگر کتبِ سماوی کے حوالوں نے موضوع کی اہمیت میں چار چاندلگادیے ہیں۔ عبرانی زبان کے نمونے، چینی زبان کے وہ نایاب نمونے جو اب تک نظر سے نہیں گزرے اور دیگر معلومات پر مشتمل یہ کتاب 1986ء میں شائع ہوئی۔
4۔ مشکوٰۃ النعت: ادیب کی یہ دوسری علمی و تحقیقی کاوش ہے جس میں عربی کی نعتیہ شاعری کا تاریخی و تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے اور یہ 1993ء کو اشاعت پذیر ہوئی۔
5۔ دُرودِ تاج (تحقیق و تشریح): نام سے موضوع ظاہر ہے۔ یہ ضخیم کتاب 1997ء کو کراچی سے شائع ہوئی۔
6۔ مقصود کائنات: آپ کا تیسرا نعتیہ کلام ہے۔ اس میں نئے کلام کے علاوہ ادیب کے اس سے پہلے شائع ہونے والے دو نعتیہ شعری مجموعے ’’اس قدم کے نشاں‘‘ اور ’’تصورِ کمالِ محبت‘‘ کا بھی تمام تر کلام موجود ہے۔
7۔نعتیہ ادب میں تنقید اور مشکلاتِ تنقید (تنقیدی کتاب) مطبوعہ 1999ء
8۔ موجِ اِضطراب (قرآنی مضامین کا انتخاب 2004ء)
9۔ اردو زبان و ادب کا ارتقا، تصوف کی روشنی میں
10۔ مرزا غالب کی نعتیہ شاعری
11۔ مقالاتِ ادیب رائے پوری (مختلف موضوعات پر فکر انگیز مضامین)
12۔ ستاروں سے آگے جہاں (نعتیہ اسٹیج ڈرامہ)
13۔ خاک آلود ستارے (ظلم و جبر کے خلاف قلمی بغاوت)
سفرِ حرمینِ شریفین:
آپ نے کئی بار حج و عمرہ کی سعادت حاصل کی۔
شادی و اولاد:
شادی ہوئی، مگر کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
وصال:
یکم رمضان المبارک 1425ھ مطابق 16؍ اکتوبر 2004ء بروز ہفتہ 76 سال کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رحلت فرما گئے میوہ شاہ قبرستان (کراچی) میں اپنے خاندانی اَفراد کے برابر مدفون ہوئے۔(ماخذ: ارمغانِ ادیب (انتخابِ کلام) مرتّبہ شہزاد احمد، مطبوعۂ قطبِ مدینہ پبلشرز، کراچی، 2002ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/adeeb-e-ahlesunnat-adeeb-raipuri
2۔ تصوّرِ کمالِ محبّت:دوسرا مجموعۂ نعت جو کہ 1979ء کو شائع ہوا۔
3۔ مَدارج النعت: اِس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عہدِ حاضر تک نعت کا تدریجی ارتقا ہے، جس میں قرآنِ حکیم کے علاوہ دیگر کتبِ سماوی کے حوالوں نے موضوع کی اہمیت میں چار چاندلگادیے ہیں۔ عبرانی زبان کے نمونے، چینی زبان کے وہ نایاب نمونے جو اب تک نظر سے نہیں گزرے اور دیگر معلومات پر مشتمل یہ کتاب 1986ء میں شائع ہوئی۔
4۔ مشکوٰۃ النعت: ادیب کی یہ دوسری علمی و تحقیقی کاوش ہے جس میں عربی کی نعتیہ شاعری کا تاریخی و تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے اور یہ 1993ء کو اشاعت پذیر ہوئی۔
5۔ دُرودِ تاج (تحقیق و تشریح): نام سے موضوع ظاہر ہے۔ یہ ضخیم کتاب 1997ء کو کراچی سے شائع ہوئی۔
6۔ مقصود کائنات: آپ کا تیسرا نعتیہ کلام ہے۔ اس میں نئے کلام کے علاوہ ادیب کے اس سے پہلے شائع ہونے والے دو نعتیہ شعری مجموعے ’’اس قدم کے نشاں‘‘ اور ’’تصورِ کمالِ محبت‘‘ کا بھی تمام تر کلام موجود ہے۔
7۔نعتیہ ادب میں تنقید اور مشکلاتِ تنقید (تنقیدی کتاب) مطبوعہ 1999ء
8۔ موجِ اِضطراب (قرآنی مضامین کا انتخاب 2004ء)
9۔ اردو زبان و ادب کا ارتقا، تصوف کی روشنی میں
10۔ مرزا غالب کی نعتیہ شاعری
11۔ مقالاتِ ادیب رائے پوری (مختلف موضوعات پر فکر انگیز مضامین)
12۔ ستاروں سے آگے جہاں (نعتیہ اسٹیج ڈرامہ)
13۔ خاک آلود ستارے (ظلم و جبر کے خلاف قلمی بغاوت)
سفرِ حرمینِ شریفین:
آپ نے کئی بار حج و عمرہ کی سعادت حاصل کی۔
شادی و اولاد:
شادی ہوئی، مگر کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
وصال:
یکم رمضان المبارک 1425ھ مطابق 16؍ اکتوبر 2004ء بروز ہفتہ 76 سال کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رحلت فرما گئے میوہ شاہ قبرستان (کراچی) میں اپنے خاندانی اَفراد کے برابر مدفون ہوئے۔(ماخذ: ارمغانِ ادیب (انتخابِ کلام) مرتّبہ شہزاد احمد، مطبوعۂ قطبِ مدینہ پبلشرز، کراچی، 2002ء)
https://scholars.pk/ur/scholar/adeeb-e-ahlesunnat-adeeb-raipuri
👍2❤1
حضرت حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید عبد اللہ بلگرامی ۔ حنفی المذہب ۔ قادری المشرب ۔
سلسلۂ نسب:
آپ سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الاول 1248ھ، بمطابق 1832ء ، " قصبہ بلگرام " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
سید عبد اللہ بلگرامی علیہ الرحمہ نے 12 سال کی قلیل عمر میں ناظرہ قرآنِ پاک اور فارسی کی مروجہ کتب مکمل فرمالیں تھیں ۔ صرف و نحو اور منطق کی ابتدائی کتابیں جناب مولانا محمد سلامت اللہ بدایونی کانپوری کے بعض شاگردوں سے پڑھیں، اس کے بعد قطبی سے شرح سلم حمد اللہ تک، خاص مولانا سلامت اللہ بدایونی سے پڑھیں، منطق و فلسفہ کی بقیہ کتابیں، عربی قصائد، استاذ الکل مجاہدِ جنگِ آزادی مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے رام پور اور لکھنؤ میں پڑھیں، اس کے بعد فقہ، حدیث اور تفسیر کی دوسری درسی کتابیں ریاست الور میں مولوی نور الحسن کا ندھلوی سے پڑھیں ۔ شیخ الاسلام سید احمد زینی دحلان مفتیِ مکۃ المکرمہ و مدرس مدرسہ بیت الحرام سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی اسناد حاصل کیں، اور ماہ شوال 1276ھ بمطابق 1860ء میں سندِ فر اغ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
حاٖفظ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ خلیفہ سید شاہ آل احمد مارہری علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
معقولات میں سلسلہ خیر آبادیت ، منقولات میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، طریقت میں " مارہرہ مطہرہ " کی جامع الکمال شخصیت ، جامع المعقولِ والمنقول، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محسنِ اسلام، قاطعِ بدعت، شمشیر بر رفض و وہابیت، آلِ نبی اولادِ علی حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ ہندوستان کے ان مشائخ میں سے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی مشکل وقت میں صحیح راہنمائی فرمائی ہے ۔ اس وقت فتنۂ وہابیت نے عالمِ اسلام میں " شرک و بدعت " کی مہم کو برطانوی پشت پناہی اور فنڈز کی قوت سے بڑے زور و شور سے برپا کر رکھا تھا ۔
آپ نے اس فتنے کے سدِ باب کے لئے کئی رسائل تحریر فرمائے ۔ اسی وجہ سے تاج الفحول شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔
آپ کو عربی و فارسی ادب ، نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا ۔ خاص کر عربی قصائد میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کا رنگ نظر آتا تھا ۔ آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی تدریس و تحریر کی صورت میں دینِ اسلام کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔
وصال:
بروز ہفتہ یکم رمضان المبارک ، 1305ھ، بمطابق 1888ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار کانپور میں ہے ۔
؎ نکو سیرت چو عبد اللہ
حافظ ہوئے ملک بقا ناگاہ رفتہ
بسال رحلتش ہاتف ندا
داد بجنت پاک عبد اللہ رفتہ (۱۳۰۵)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdullah-bilgrami
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید عبد اللہ بلگرامی ۔ حنفی المذہب ۔ قادری المشرب ۔
سلسلۂ نسب:
آپ سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
21 جمادی الاول 1248ھ، بمطابق 1832ء ، " قصبہ بلگرام " میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
سید عبد اللہ بلگرامی علیہ الرحمہ نے 12 سال کی قلیل عمر میں ناظرہ قرآنِ پاک اور فارسی کی مروجہ کتب مکمل فرمالیں تھیں ۔ صرف و نحو اور منطق کی ابتدائی کتابیں جناب مولانا محمد سلامت اللہ بدایونی کانپوری کے بعض شاگردوں سے پڑھیں، اس کے بعد قطبی سے شرح سلم حمد اللہ تک، خاص مولانا سلامت اللہ بدایونی سے پڑھیں، منطق و فلسفہ کی بقیہ کتابیں، عربی قصائد، استاذ الکل مجاہدِ جنگِ آزادی مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے رام پور اور لکھنؤ میں پڑھیں، اس کے بعد فقہ، حدیث اور تفسیر کی دوسری درسی کتابیں ریاست الور میں مولوی نور الحسن کا ندھلوی سے پڑھیں ۔ شیخ الاسلام سید احمد زینی دحلان مفتیِ مکۃ المکرمہ و مدرس مدرسہ بیت الحرام سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی اسناد حاصل کیں، اور ماہ شوال 1276ھ بمطابق 1860ء میں سندِ فر اغ حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
حاٖفظ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ خلیفہ سید شاہ آل احمد مارہری علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
معقولات میں سلسلہ خیر آبادیت ، منقولات میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، طریقت میں " مارہرہ مطہرہ " کی جامع الکمال شخصیت ، جامع المعقولِ والمنقول، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محسنِ اسلام، قاطعِ بدعت، شمشیر بر رفض و وہابیت، آلِ نبی اولادِ علی حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ ہندوستان کے ان مشائخ میں سے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی مشکل وقت میں صحیح راہنمائی فرمائی ہے ۔ اس وقت فتنۂ وہابیت نے عالمِ اسلام میں " شرک و بدعت " کی مہم کو برطانوی پشت پناہی اور فنڈز کی قوت سے بڑے زور و شور سے برپا کر رکھا تھا ۔
آپ نے اس فتنے کے سدِ باب کے لئے کئی رسائل تحریر فرمائے ۔ اسی وجہ سے تاج الفحول شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔
آپ کو عربی و فارسی ادب ، نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا ۔ خاص کر عربی قصائد میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کا رنگ نظر آتا تھا ۔ آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی تدریس و تحریر کی صورت میں دینِ اسلام کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔
وصال:
بروز ہفتہ یکم رمضان المبارک ، 1305ھ، بمطابق 1888ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار کانپور میں ہے ۔
؎ نکو سیرت چو عبد اللہ
حافظ ہوئے ملک بقا ناگاہ رفتہ
بسال رحلتش ہاتف ندا
داد بجنت پاک عبد اللہ رفتہ (۱۳۰۵)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdullah-bilgrami
❤1👍1
حضرت شیخ محمد بن فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کے دادا کا نام شیخ محمد صدر ہے آپ کے بزرگوں کا نسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے آپ کے بزرگ جون پور میں رہتے تھے مگر شہر گجرات میں پیدا ہوئے چھوٹے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا نوجوانی میں حضرت شیخ گجراتی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خرقہ اجازت پایا مگر مکہ معظمہ چلے گئے وہاں بارہ سال مشائخ متقین کی خدمت میں رہے واپس ہندوستان آئے اور احمد آباد میں قیام کیا وہاں ہی آپ کی شادی ہوئی شیخ الدین گجراتی کی مجلس میں بیٹھ کر ظاہری علم حاصل کیے پھر حضرت شیخ خان جون پوری کی خدمت میں گجرات چلے گئے شیخ خاں نے اُن کے والد ماجد کی زبان سے سناتھا کہ ہمارا بیٹا قطب الوقت ہوگا آپ نے شیخ محمد کی بڑی ہی عزت کی شیخ ابو محمد صفر تیمی آپ کے والد کے مرید تھے اور قلعہ عیسر میں رہتے تھے آپ نے شیخ وحید الدین اور شیخ ماہ کولکھا کہ آپ کا شہباز ابھی پرواز نہیں کر ہا انہوں نے جوب میں لکھا کہ اُس کی پرواز آپ کے ہاتھ میں ہے چنانچہ شیخ محمد کو عیسر بھیج دیا گیا وہاں جاکر وہ روحانی نعمتیں حاصل کیں جو آپ کے والد بزرگوار نے شیخ حضر تیمی کے سپرد کی تھیں وہاں سے واپس آکر برہان پور میں قیام کیا ظاہری اور باطنی علم کا سلسلہ جاری کیا اور چشتیوں کے مشہور بزرگوں میں شمار ہونے لگے شیخ محمد کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اِتنی اِدرت محبت اور اخلاص تھا کہ ہر سال بے اختیار ہوکر مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوجاتے اور کئی منزلیں طے کرنے کے بعد حضور کے حکم سے واپس آتے آپ کی صبح شام سنتِ نبوی اور شریعت محمدی کے مطابق گزرتی تھی جتنے نذرانے آتے اُس کے تین حصے کرلیتے ایک حصہ بیوی بچوں کو دیتے ایک حصہ درویشوں اور مسکینون میں تقسیم کردیتے اور ایک حصہ سارا سال جمع کرکے مدینہ پاک بھیج دیتے۔
سفینۃ الاولیاء کے مصنف نے آپ کی وفات بروز سوموار ۲؍ ماہ رمضان ۱۰۲۵ء (۱۰۲۹) لکھی ہے خواجہ ہاشم رحمۃ اللہ علیہ آپ کی تاریخ وفات ابن فضل اللہ آپ کی عمر ۸۶ سال تھی اور آپ کا مزار مبارک برہان پور میں ہے۔
خزینۃ الصفیاء چشتیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-fazlullah
آپ کے دادا کا نام شیخ محمد صدر ہے آپ کے بزرگوں کا نسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے آپ کے بزرگ جون پور میں رہتے تھے مگر شہر گجرات میں پیدا ہوئے چھوٹے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا نوجوانی میں حضرت شیخ گجراتی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خرقہ اجازت پایا مگر مکہ معظمہ چلے گئے وہاں بارہ سال مشائخ متقین کی خدمت میں رہے واپس ہندوستان آئے اور احمد آباد میں قیام کیا وہاں ہی آپ کی شادی ہوئی شیخ الدین گجراتی کی مجلس میں بیٹھ کر ظاہری علم حاصل کیے پھر حضرت شیخ خان جون پوری کی خدمت میں گجرات چلے گئے شیخ خاں نے اُن کے والد ماجد کی زبان سے سناتھا کہ ہمارا بیٹا قطب الوقت ہوگا آپ نے شیخ محمد کی بڑی ہی عزت کی شیخ ابو محمد صفر تیمی آپ کے والد کے مرید تھے اور قلعہ عیسر میں رہتے تھے آپ نے شیخ وحید الدین اور شیخ ماہ کولکھا کہ آپ کا شہباز ابھی پرواز نہیں کر ہا انہوں نے جوب میں لکھا کہ اُس کی پرواز آپ کے ہاتھ میں ہے چنانچہ شیخ محمد کو عیسر بھیج دیا گیا وہاں جاکر وہ روحانی نعمتیں حاصل کیں جو آپ کے والد بزرگوار نے شیخ حضر تیمی کے سپرد کی تھیں وہاں سے واپس آکر برہان پور میں قیام کیا ظاہری اور باطنی علم کا سلسلہ جاری کیا اور چشتیوں کے مشہور بزرگوں میں شمار ہونے لگے شیخ محمد کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اِتنی اِدرت محبت اور اخلاص تھا کہ ہر سال بے اختیار ہوکر مدینہ شریف کی طرف روانہ ہوجاتے اور کئی منزلیں طے کرنے کے بعد حضور کے حکم سے واپس آتے آپ کی صبح شام سنتِ نبوی اور شریعت محمدی کے مطابق گزرتی تھی جتنے نذرانے آتے اُس کے تین حصے کرلیتے ایک حصہ بیوی بچوں کو دیتے ایک حصہ درویشوں اور مسکینون میں تقسیم کردیتے اور ایک حصہ سارا سال جمع کرکے مدینہ پاک بھیج دیتے۔
سفینۃ الاولیاء کے مصنف نے آپ کی وفات بروز سوموار ۲؍ ماہ رمضان ۱۰۲۵ء (۱۰۲۹) لکھی ہے خواجہ ہاشم رحمۃ اللہ علیہ آپ کی تاریخ وفات ابن فضل اللہ آپ کی عمر ۸۶ سال تھی اور آپ کا مزار مبارک برہان پور میں ہے۔
خزینۃ الصفیاء چشتیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-bin-fazlullah
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Bin Fazlullah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔لقب: استاذالاساتذہ۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا حکیم احمد الدین چشتی بن مولانا غلام حسین چشتی چکوالی بن قاضی محمد احسن بن محمد حنیف بن محمد بن نور محمد۔علیہم الرحمہ۔خاندانی تعلق قطب شاہی اعوان سے ہے۔آپ کے والد گرامی حضرت مولانا غلام حسین چکوالی اپنے زمانےکےامام الفضلاء تھے۔انہوں نے علوم متداولہ کی تحصیل وتکمیل حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسےکی۔علاوہ ازیں حضرت شیخ احمد سعید مجددی دہلوی،شیخ عبدالغنی مجددی دہلوی اور مفتی صدرالدین سےبھی علمی استفادہ کیا۔بیعت حضرت شمس العارفین سیالویسےتھی۔آپ کاوصال 28/جمادی الثانی 1305ھ کو چکوال میں ہوا۔مزار شریف چکوال میں ہے۔(فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول :570)
تاریخِ ولادت: 2/رمضان المبارک 1268ھ مطابق 8/جولائی 1852ء کوموضع’’بولہ‘‘ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔بعد میں آبائی گاؤں سے منتقل ہوکر چکوال شہر میں مقیم ہوگئے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)
تحصیلِ علم: 24/ محرم الحرام 1274ھ کو باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔تمام علوم اپنے والد گرامی سےحاصل کرکےسند فراغ حاصل کی۔1298ھ میں حرمین شریفین کا قصد کیا۔وہاں پر اپنے والد ماجد کےاستاد حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسے علم التوقیت حاصل کیا۔علاوہ ازیں شیخ عبداللہ سراج مفتیِ مکہ اور شیخ احمد بن زینی دحلان محدث مکہ سے حدیث قرأت، ہئیت، ریبع مجیب اور ربع مقظر وغیرہ علوم وہاں کے جید اساتذہ سے حاصل کرکے تعلیم و تدریس کی اعلیٰ سندیں حاصل کرکے واپس ہوئے۔1872ء کو (یعنی بیس سال کی عمر میں) انگریز حکومت نے علماء کا انٹر ویو لیا، جس میں اول آنے پر آپ کو پچاس روپے(50) نقد اور پندرہ روپے ماہانہ کا وظیفہ مقرر کیا تاکہ اورینٹل کالج لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں لیکن آپ کالج پہنچ کر واپس آگئے کیوں کہ وہاں کا معیار تعلیم بہت پست تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے کہ ایک عربی خاتون نے فرمایا کہ یہ پنجابی قرآن کتنا غلط پڑھ رہاہے۔اس خاتون کے انتباہ پر آپ نےحضرت قاری عبداللہ مکی سے قرات وتجوید حاصل کی۔فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کادرس غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑویسےلیا۔(فوزالمقال: 571)
بیعت و خلافت: 1280ھ کو والد ماجد کے ہمراہ شیخ طریقت حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔ 1310ھ کو بلاد مقدسہ کی زیارت کیلئے سفر کیا اور بغداد شریف میں حضرت نقیب سلمان کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص: استاذا لاساتذہ،مرجع الفضلاء،امام المعقول والمنقول،عالم، حکیم،شاعر،مدرس ،مفکر،منتظم،حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔آپ کا خاندانی تعلق ایک علمی وروحانی خانوادے سے ہے۔آپ خلفِ رشید تھے۔تمام علوم وفنون پر مہارت رکھتے تھے۔اولیاء کرام اور بالخصوص حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی سےنہایت عقیدت رکھتےتھے۔ایک مرتبہ مسجد میں بوقت اشراق اوراد وظائف میں مشغول تھےکہ کسی نے پوچھ لیا کہ حضرت شمس العارفین کےحسن وجمال اور حلیہ کے بارے میں دریافت کیا۔آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ میرے شمس اس آسمانی شمس سے زیادہ نورانی ومنور ہیں۔دیرتک آپ پر کیف ووجدان کی حالت طاری رہی۔(فوزالمقال)
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی دراز قامت،درمیانی جسامت،سرخ وسفید رنگت،صورت وسیرت میں بے حد حسین وجمیل تھے۔اسی طرح لباس بھی نفیس استعمال کرتےتھے۔کرتا شلوار،کندھے پر چادر،سر پر عمامہ ۔لباس سفید رنگ کا استعمال کرتےتھے۔غذاقلیل استعمال کرتےتھے۔
آپ کےروز مرہ معمولات میں درس وتدریس،امامت فتویٰ نویسی،وعظ ونصیحت،اور اوراد و وظائف چشتیہ کی تلاوت وغیرہ شامل تھی۔جمعۃ المبارک کا خطبے میں مسلمانوں کو عمل ِ صالح کی ترغیب دیتےتھے۔
آپبڑے پارسا،پابندِ شریعت، اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔بڑے مستجاب الدعوات،خود دار،اور صابر وشاکر تھے۔جید عالم کےساتھ حاذق حکیم بھی تھے۔مریضوں کا علاج مفت کرتےتھے۔شاعری اور تاریخ گوئی میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔بڑے ذہین وفطین تھے۔پہلے حافظ نہیں تھے بعد میں شوق ہوا تو قرآن کریم حفظ کرکےتراویح میں سنایا کرتےتھے۔بڑی بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔چکوال میں رہتےہوئے اپنی پوری زندگی نہ بازار گئے اور نہ ہی بازار دیکھا۔بڑے حق گو اور بےباک عالم دین تھے۔فقہ،تصوف اور علوم اسلامی سے ان کا سینہ منور تھا۔اکابرین شہر اور حکام آپ کی بہت قدر ومنزلت کرتےتھے۔فرق ِ باطلہ کے سخت مخالف تھے۔ساری زندگی درس وتدریس وعظ ونصیحت اور ذکر الہی میں بسر کی۔قدرت نے آپ کو شاعرانہ طبیعت ودیعت فرمائی تھی۔عربی،فارسی،اور اردو،پنجابی میں بے تکلف شاعرکہتے تھے۔لیکن زیادہ توجہ شاعری ک
نام ونسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔لقب: استاذالاساتذہ۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے:مولانا حکیم احمد الدین چشتی بن مولانا غلام حسین چشتی چکوالی بن قاضی محمد احسن بن محمد حنیف بن محمد بن نور محمد۔علیہم الرحمہ۔خاندانی تعلق قطب شاہی اعوان سے ہے۔آپ کے والد گرامی حضرت مولانا غلام حسین چکوالی اپنے زمانےکےامام الفضلاء تھے۔انہوں نے علوم متداولہ کی تحصیل وتکمیل حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسےکی۔علاوہ ازیں حضرت شیخ احمد سعید مجددی دہلوی،شیخ عبدالغنی مجددی دہلوی اور مفتی صدرالدین سےبھی علمی استفادہ کیا۔بیعت حضرت شمس العارفین سیالویسےتھی۔آپ کاوصال 28/جمادی الثانی 1305ھ کو چکوال میں ہوا۔مزار شریف چکوال میں ہے۔(فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول :570)
تاریخِ ولادت: 2/رمضان المبارک 1268ھ مطابق 8/جولائی 1852ء کوموضع’’بولہ‘‘ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔بعد میں آبائی گاؤں سے منتقل ہوکر چکوال شہر میں مقیم ہوگئے۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)
تحصیلِ علم: 24/ محرم الحرام 1274ھ کو باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔تمام علوم اپنے والد گرامی سےحاصل کرکےسند فراغ حاصل کی۔1298ھ میں حرمین شریفین کا قصد کیا۔وہاں پر اپنے والد ماجد کےاستاد حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویسے علم التوقیت حاصل کیا۔علاوہ ازیں شیخ عبداللہ سراج مفتیِ مکہ اور شیخ احمد بن زینی دحلان محدث مکہ سے حدیث قرأت، ہئیت، ریبع مجیب اور ربع مقظر وغیرہ علوم وہاں کے جید اساتذہ سے حاصل کرکے تعلیم و تدریس کی اعلیٰ سندیں حاصل کرکے واپس ہوئے۔1872ء کو (یعنی بیس سال کی عمر میں) انگریز حکومت نے علماء کا انٹر ویو لیا، جس میں اول آنے پر آپ کو پچاس روپے(50) نقد اور پندرہ روپے ماہانہ کا وظیفہ مقرر کیا تاکہ اورینٹل کالج لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں لیکن آپ کالج پہنچ کر واپس آگئے کیوں کہ وہاں کا معیار تعلیم بہت پست تھا۔(تذکرہ اکابر اہل سنت:44)مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے کہ ایک عربی خاتون نے فرمایا کہ یہ پنجابی قرآن کتنا غلط پڑھ رہاہے۔اس خاتون کے انتباہ پر آپ نےحضرت قاری عبداللہ مکی سے قرات وتجوید حاصل کی۔فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کادرس غوث الاسلام حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑویسےلیا۔(فوزالمقال: 571)
بیعت و خلافت: 1280ھ کو والد ماجد کے ہمراہ شیخ طریقت حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔ 1310ھ کو بلاد مقدسہ کی زیارت کیلئے سفر کیا اور بغداد شریف میں حضرت نقیب سلمان کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔
سیرت وخصائص: استاذا لاساتذہ،مرجع الفضلاء،امام المعقول والمنقول،عالم، حکیم،شاعر،مدرس ،مفکر،منتظم،حضرت علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔آپ کا خاندانی تعلق ایک علمی وروحانی خانوادے سے ہے۔آپ خلفِ رشید تھے۔تمام علوم وفنون پر مہارت رکھتے تھے۔اولیاء کرام اور بالخصوص حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی سےنہایت عقیدت رکھتےتھے۔ایک مرتبہ مسجد میں بوقت اشراق اوراد وظائف میں مشغول تھےکہ کسی نے پوچھ لیا کہ حضرت شمس العارفین کےحسن وجمال اور حلیہ کے بارے میں دریافت کیا۔آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ میرے شمس اس آسمانی شمس سے زیادہ نورانی ومنور ہیں۔دیرتک آپ پر کیف ووجدان کی حالت طاری رہی۔(فوزالمقال)
مولانا حکیم احمد الدین چکوالی دراز قامت،درمیانی جسامت،سرخ وسفید رنگت،صورت وسیرت میں بے حد حسین وجمیل تھے۔اسی طرح لباس بھی نفیس استعمال کرتےتھے۔کرتا شلوار،کندھے پر چادر،سر پر عمامہ ۔لباس سفید رنگ کا استعمال کرتےتھے۔غذاقلیل استعمال کرتےتھے۔
آپ کےروز مرہ معمولات میں درس وتدریس،امامت فتویٰ نویسی،وعظ ونصیحت،اور اوراد و وظائف چشتیہ کی تلاوت وغیرہ شامل تھی۔جمعۃ المبارک کا خطبے میں مسلمانوں کو عمل ِ صالح کی ترغیب دیتےتھے۔
آپبڑے پارسا،پابندِ شریعت، اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔بڑے مستجاب الدعوات،خود دار،اور صابر وشاکر تھے۔جید عالم کےساتھ حاذق حکیم بھی تھے۔مریضوں کا علاج مفت کرتےتھے۔شاعری اور تاریخ گوئی میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔بڑے ذہین وفطین تھے۔پہلے حافظ نہیں تھے بعد میں شوق ہوا تو قرآن کریم حفظ کرکےتراویح میں سنایا کرتےتھے۔بڑی بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔چکوال میں رہتےہوئے اپنی پوری زندگی نہ بازار گئے اور نہ ہی بازار دیکھا۔بڑے حق گو اور بےباک عالم دین تھے۔فقہ،تصوف اور علوم اسلامی سے ان کا سینہ منور تھا۔اکابرین شہر اور حکام آپ کی بہت قدر ومنزلت کرتےتھے۔فرق ِ باطلہ کے سخت مخالف تھے۔ساری زندگی درس وتدریس وعظ ونصیحت اور ذکر الہی میں بسر کی۔قدرت نے آپ کو شاعرانہ طبیعت ودیعت فرمائی تھی۔عربی،فارسی،اور اردو،پنجابی میں بے تکلف شاعرکہتے تھے۔لیکن زیادہ توجہ شاعری ک
❤1👍1
ی طرف نہ تھی۔اسی طرح تاریخی مادے بحساب ابجد نکالنے میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔عربی فارسی کلاموں میں تضمین آپ کےلئے کوئی مشکل کام نہ تھا۔’’الداعی‘‘ تخلص تھا۔زیادہ تر کلام فارسی میں ہے۔
درس وتدریس: جب آپ نے چکوال میں مسند تدریس بچھائی تو آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی۔کشمیر،سرحد،اور کابل وقندھار تک کےطلبہ تعلیم حاصل کرتےتھے۔خاص طور پر مثنوی شریف،ربع مجیب،اور ربع مقنطرہ وغیرہ علوم پڑھنے کےلئے دور دراز سے علماء حاضر ہوتے اور شرفِ تلمذ حاصل کرتے۔قدوۃ المحققین حضرت علامہ غلام محمود پپلانوی(محشی تکملہ ومصنف نجم الرحمن) آپ کے ارشد تلامذہ میں سےتھے۔حضرت مفتی دین محمد رتوی نے فقہ، اصول فقہ،طب کی تعلیم آپ سے حاصل کی۔حضرت مولانا عبداللہ کھڈہ مارکیٹ کراچی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم کراچی۔مولوی محمد صادق دیوبندی کانگریسی کھڈہ کراچی۔نامور تلامذہ ہیں۔جنات بھی آپ کے درس میں شریک ہوتےتھے۔
مدرسہ مظہر العلوم کا بانی کون؟: کھڈہ مارکیٹ لیاری کراچی کے دارالعلوم مظہر العلوم کا بانی کون اور قبضہ کس کا؟ کے متعلق درج ذیل مضمون میں اختصار کے ساتھ دلائل درج کئے جارہے ہیں تاکہ تاریخ کے طالب علم پراصل حقائق واضح ہوں۔ مولانا اشرف صاحب لکھتے ہیں: ’’مولانا حمد دین چکوالی1298ھ کو حرمین شریفین سے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرکے واپسی پر کراچی کے محلہ کھڈہ میں مولاناعبداللہ کے پاس کچھ عرصہ قیام کیا اور وہاں ایک دینی مدرسہ مظہر العلوم قائم کیا جو آج بھی موجود ہے‘‘ (تذکرہ اکابر اہل سنت :44)
مولانا عبداللہ سنی حنفی صحیح العقیدہ تھے، مولانا احمد دین کے دوست اور ایک روایت کے مطابق شاگرد بھی تھے اور کراچی کے مشہور قاری حافظ غلام رسول قادری (متوفی1391ھ) کی نماز جنازہ جہانگیر پارک صدر میں مولانا عبداللہ نے پڑھائی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے علماء و مشائخ بھی شریک تھے ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی دیوبندی یا وہابی سے اہل سنت کے عالم و پیر کے جنازے کی امامت جانتے بوجھتے کرائی جائے۔ معلوم یہ ہوا کہ حضرت مولانا عبداللہ اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے تھے مگر آپ کے صاحبزادے اہل سنت سے منحرف ہو کر دیو بندی ہوگئے۔ حضرت مولانا عبداللہ کا لڑکا ’’مولوی محمد صادق‘‘نے والد ماجد کے عقیدے و نظریے سے غداری کرکے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے پکے دیوبندی وہابی بنے، سندھ واپس آکر دیوبندیت کا نگریسیت سے شہرت حاصل کی، متحدہ قومیت(ہندو مسلم اتحاد) کے مبلغ بنے، تحریک ہجرت و کانگریس میں بھر پور کام کیا۔ اس طرح اہل سنت کے مدرسہ پر وہابیت کا نہ فقط قبضہ ہوا بلکہ آج تک مرکز بنا ہوا ہے۔ مولوی صادق کی نسبت سے مدرسے سے پرچہ ’’الصادق‘‘ آج تک جاری ہے۔
ایک اور اہم انشاف یہ سامنے آیا کہ 1907ء کو مدرسہ مظہر العلوم میں ’’دارالافتاء‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کے صدر مفتی مولانا عبداللہ مرحوم تھے اور اس کے نائب مفتی حضرت علامہ عبدالکریم درس تھے جب کہ کراچی کے متعدد مفتی صاحبان مولانا محمد صدیق، مولانا عبدالحق ہالائی، مولانا احمد بخاری وغیرہ اس کے باضابطہ ممبر تھے۔مولانا حکیم احمد الدین کے دو صاحبزادے ان کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے۔۱۔ مولانا حافظ علاء الدین 21 سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔2۔ مولانا حافظ قاضی ضیاء الدین ایم ۔ اے بی ایڈ۔ ڈسٹرکٹ انسپکٹر اسکولز، صحیح العقیدہ سنی تھے، ملازمت کے دوران ایک حادثہ کا شکار ہوگئے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:107)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 / ذوالقعدہ 1347ھ مطابق 8 / مئی 1929ء کو صبح صادق سے پہلےہوا ۔ چکوال میں آبائی قبرستان میں مدفون ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-ahmeduddin-chishti
درس وتدریس: جب آپ نے چکوال میں مسند تدریس بچھائی تو آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی۔کشمیر،سرحد،اور کابل وقندھار تک کےطلبہ تعلیم حاصل کرتےتھے۔خاص طور پر مثنوی شریف،ربع مجیب،اور ربع مقنطرہ وغیرہ علوم پڑھنے کےلئے دور دراز سے علماء حاضر ہوتے اور شرفِ تلمذ حاصل کرتے۔قدوۃ المحققین حضرت علامہ غلام محمود پپلانوی(محشی تکملہ ومصنف نجم الرحمن) آپ کے ارشد تلامذہ میں سےتھے۔حضرت مفتی دین محمد رتوی نے فقہ، اصول فقہ،طب کی تعلیم آپ سے حاصل کی۔حضرت مولانا عبداللہ کھڈہ مارکیٹ کراچی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم کراچی۔مولوی محمد صادق دیوبندی کانگریسی کھڈہ کراچی۔نامور تلامذہ ہیں۔جنات بھی آپ کے درس میں شریک ہوتےتھے۔
مدرسہ مظہر العلوم کا بانی کون؟: کھڈہ مارکیٹ لیاری کراچی کے دارالعلوم مظہر العلوم کا بانی کون اور قبضہ کس کا؟ کے متعلق درج ذیل مضمون میں اختصار کے ساتھ دلائل درج کئے جارہے ہیں تاکہ تاریخ کے طالب علم پراصل حقائق واضح ہوں۔ مولانا اشرف صاحب لکھتے ہیں: ’’مولانا حمد دین چکوالی1298ھ کو حرمین شریفین سے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کرکے واپسی پر کراچی کے محلہ کھڈہ میں مولاناعبداللہ کے پاس کچھ عرصہ قیام کیا اور وہاں ایک دینی مدرسہ مظہر العلوم قائم کیا جو آج بھی موجود ہے‘‘ (تذکرہ اکابر اہل سنت :44)
مولانا عبداللہ سنی حنفی صحیح العقیدہ تھے، مولانا احمد دین کے دوست اور ایک روایت کے مطابق شاگرد بھی تھے اور کراچی کے مشہور قاری حافظ غلام رسول قادری (متوفی1391ھ) کی نماز جنازہ جہانگیر پارک صدر میں مولانا عبداللہ نے پڑھائی تھی جس میں اہل سنت کے بہت سارے علماء و مشائخ بھی شریک تھے ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی دیوبندی یا وہابی سے اہل سنت کے عالم و پیر کے جنازے کی امامت جانتے بوجھتے کرائی جائے۔ معلوم یہ ہوا کہ حضرت مولانا عبداللہ اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے تھے مگر آپ کے صاحبزادے اہل سنت سے منحرف ہو کر دیو بندی ہوگئے۔ حضرت مولانا عبداللہ کا لڑکا ’’مولوی محمد صادق‘‘نے والد ماجد کے عقیدے و نظریے سے غداری کرکے دارالعلوم دیوبند سے تعلیم حاصل کرکے پکے دیوبندی وہابی بنے، سندھ واپس آکر دیوبندیت کا نگریسیت سے شہرت حاصل کی، متحدہ قومیت(ہندو مسلم اتحاد) کے مبلغ بنے، تحریک ہجرت و کانگریس میں بھر پور کام کیا۔ اس طرح اہل سنت کے مدرسہ پر وہابیت کا نہ فقط قبضہ ہوا بلکہ آج تک مرکز بنا ہوا ہے۔ مولوی صادق کی نسبت سے مدرسے سے پرچہ ’’الصادق‘‘ آج تک جاری ہے۔
ایک اور اہم انشاف یہ سامنے آیا کہ 1907ء کو مدرسہ مظہر العلوم میں ’’دارالافتاء‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کے صدر مفتی مولانا عبداللہ مرحوم تھے اور اس کے نائب مفتی حضرت علامہ عبدالکریم درس تھے جب کہ کراچی کے متعدد مفتی صاحبان مولانا محمد صدیق، مولانا عبدالحق ہالائی، مولانا احمد بخاری وغیرہ اس کے باضابطہ ممبر تھے۔مولانا حکیم احمد الدین کے دو صاحبزادے ان کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے۔۱۔ مولانا حافظ علاء الدین 21 سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔2۔ مولانا حافظ قاضی ضیاء الدین ایم ۔ اے بی ایڈ۔ ڈسٹرکٹ انسپکٹر اسکولز، صحیح العقیدہ سنی تھے، ملازمت کے دوران ایک حادثہ کا شکار ہوگئے۔(انوار علمائے اہل سنت سندھ:107)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 / ذوالقعدہ 1347ھ مطابق 8 / مئی 1929ء کو صبح صادق سے پہلےہوا ۔ چکوال میں آبائی قبرستان میں مدفون ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابر اہل سنت ۔ انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔ فوز المقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hakeem-ahmeduddin-chishti
scholars.pk
Hazrat Molana Hakeem Ahmeduddin Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
بیہقیِ وقت حضرت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رحمۃ اللۃ تعالیٰ علیہ
اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔
اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:
’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘
جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘
تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔
سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔
آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
اسم گرامی:
محمدمنظور احمد فیضی۔
اَلقاب:
بیہقیِ وقت، مفتی، مُناظرِ اعظم، شیخ القرآن، شیخ الحدیث وغیرہ۔
سلسلۂ نسب اِس طرح ہے:
بیہقیِ وقت علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی بن علامہ محمد ظریف فیضی بن علامہ الٰہی بخش قادری بن حاجی پیر بخش رحمھم اللہ تعالٰی تعالٰی۔
آپ ایک علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنےوقت کے جیّد عالم اور قبلہ شاہ جمالی کریم کے منظورِ نظر خلیفہ تھے۔ جدِّ امجد علامہ الٰہی بخش قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عالم و عارف، اور صاحبِ تقویٰ بزرگ تھے۔
تاریخِ ولادت:
پیر کی شب، بوقتِ صبح صادق ،2؍ رمضان المبارک 1358ھ مطابق 16؍ اکتوبر 1939ء کو بستی فیض آباد اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پاکستان میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔
عطائے مصطفیٰ ﷺ:
مولانا محمد ظریف فیضی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ فیضِ مجسم حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے اولاد کے لیے عرض کیا، تو انہوں نے فرمایا:
’’تم رات ہمارے ہاں گزارو، تمہاری درخواست امام الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیں گے۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ قبول ہو جائے گی۔‘‘
جب صبح ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
’’ تمہاری درخواست منظور ہو گئی ہے اور تمہیں منظور احمد عطا ہوگا ۔ ‘‘
تحصیلِ علم:
آغاز بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ 6؍ محرم الحرام 1362ھ بروز پیر جامع مسجد سندیلہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خاں میں قبلہ شاہ جمالی کریم نے کرائی اور قرآنِ مجید شروع کرا دیا۔ پھر آپ نے تعلیمِ قرآنِ پاک، فارسی، صرف، نحو، فقہ، اصولِ فقہ، منطق، مشکوٰۃ شریف، جلالین تک کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں ۔ جملہ علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اور علمِ حدیث کے حصول کے لیے غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے 17؍ شوّال المکرم 1378ھ بمطابق 26؍ اپریل 1959ء کو جامعہ اَنوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل فرمائی ۔ پھر آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فاضلِ عربی کا امتحان پاس کیا ۔ جس سال آپ نے جامعہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی اُسی سال جامعہ انوار العلوم کے سالانہ جلسۂ دستارِ فضیلت میں حضور نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ جلوہ افروز تھے ۔ اہلِ نظر دیدار سے مستفیض ہوئے۔ الحمد للہ حمداً کثیرا۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں پیکرِ علم و عرفان حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری اور حضور قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، اور حضور غزالیِ زماں علامہ سیّد احمد سعید کاظمی، سلطان العارفین حضرت خواجہ غلام یاسین شاہ جمالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے تمام علوم اور تمام سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازا ۔ آپ زیادہ تر سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں لوگوں کو بیعت کیا کرتے تھے۔
سیرتِ وخصائص:
شیخ القرآن، شیخ الحدیثِ والتفسیر، مُناظرِ اعظم، فقیہ العصر، بیہقیِ وقت، جامعِ شریعت وطریقت، حاوی الفروعِ والاصول، عاشقِ رسول، فنافی الرسول، عارف باللہ حضرت علامہ مولانا مفتی منظور احمد فیضی نوّر اللہ تعالٰی مرقدہ۔آپ کا شمار ماضیِ قریب کے جیّد علمائے حق کی صف میں ہوتا تھا ۔ مطالعے میں ایسی وسعت کہ تمام فنون پر گہری نظر تھی ۔ حافظہ ایسا غضب کا تھا کہ ذہن میں کتب کے صفحات کے ساتھ سطریں تک محفوظ تھیں ۔ تمام موضوعات پر مناظرے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا یہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی کا حصہ تھا۔پورے پاکستان میں بدمذہبوں کے چیلنج قبول کرنا اور ان کو ہر جگہ ذلّت آمیز شکست دینا یہ آپ ہی کا خاصہ تھا ۔ علمائے اہلِ سنّت آپ کو ’’ مُناظرِ اعظم ‘‘ کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔ اس فن میں کمال کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19؍ جون 2002ء کو آپ نے انٹرنیٹ پر چار مجتہدینِ رَوافض سے دس گھنٹے کامیاب مناظرہ کیا ۔ حضرت بیہقیِ وقت اکیلے اور رَوافض مُناظرین کی تعداد چار تھی ۔ اِس مناظرے میں روافض کو ذلّت آمیز شکست سے دو چار کیا ۔
آپ کی سب سےبڑی خوبی یہ تھی کہ علم کے ساتھ تقویٰ و روحانیت اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت سے مالا مال تھے۔حدیث شریف پڑھاتے ہوئے ہوئےخود بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں تڑپتے اور سامعین کو بھی تڑپاتے تھے ۔ جب اسمِ گرامی لیتے یا کسی کی زبان سے سنتے تو آنکھیں پر نم ہو جایا کرتیں تھیں اور کافی دیر تک ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی تھی۔
👍2❤1