🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت سید اکبر علی شاہ سنگھوئی والا علیہ‌الرحمہ

آپ کا نام محمد اکبر المشہور اکبر علی شاہ ۔ الملقب بہ صاحبزادہ تھا ۔ آپ سیّد حیدر شاہ بن سید محمد نیک ہاشمی رنملوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر تھے ۔

آپ کے بیعت طریقت اپنے چچا سیّد غلام حسین رحمۃ اللہ علیہ سے تھی ۔ وہ مرید اپنے والد سیّد محمد نیک رحمۃ اللہ علیہ کے تھے ۔ وہ مُرید اپنے والد سید عبد الرسول ہاشمی رحمۃ اللہ علیہ کے ۔

فیض صحبت آپ سیّد احمد بخش بن سیداللہ دتہ برخورداری ڈھلوالہ رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل ہو ا تھا۔ اکثراُن کی خدمت میں جایاکرتے۔

خلوت گزینی:
منقول ہے کہ آپ نے بارہ سال تک چلّے کئے۔ریاضات ومجاہدات بجالائے۔جسم کے ایک حصّہ کو دیمک لگ گئی تھی۔

سنگھوئی میں ورود:
آپ رَن مل سے چل کر موضع سنگھوئی ضلع جہلم میں تشریف لے گئے۔ وہاں رہائش اختیارکی۔صاحب یمن وبرکت و کرامت وجلالت تھے۔

کتابی شوق:
آپ کو کتابوں سے بھی دلچسپی تھی۔کسی کاتب غلام علی نام نے کتاب گُل بہار آپ کے واسطےلکھی۔اس کادستخط یہ ہے۔

"تم تمام شدکتاب گُل بہاربعون اللہ تعالےٰ بوقت چاشت تحریریافت۔تحریر بتاریخ ۱۳ماہ شوال بدستخط غلام علی برائے صاحبزادہ سجادہ نشین اولاد احفاد حضرت گنج بخش تحریریافت؂

ہرکہ خوانددعاطمع دارم
زانکہ من بندۂ گنہ گارم

ہرچہ دیدم من نوشتم درکتاب

"واللّٰہ اعلم بالصواب"

اولاد
آپ کے ایک ہی فرزند سیّد سلطان علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ تھے۔

یارانِ طریقت:
آپ کا فیضان پوٹھوہارکے علاقہ میں بہت تھا۔خواص احباب یہ تھے۔

۱۔سیّد سلطان علی شاہ فرزند آنجناب رحمتہ اللہ علیہم سنگھوئی شریف

۲۔سائیں محمد علی بن مَلک عمربخش کشمیری راولپنڈی

۳۔مرزاطلامحمدگاذر پشاورشہر

مدح شریف:
حکیم نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ ساکن ڈھوک للھال ضلع راولپنڈی نے کتاب قفس العشق المعروف بانی گلزارنوشاہی میں ۱؎ آپ کی صفات پنجابی میں نظم کی ہے؂

تاج فقرداعلی اکبرنوں کیتاخوب انعامی
ہراک تائیں خبراس گل دی کیاخاصے کیاعامی

علی اکبرشاہ تاج لگایاخبرہوئی جگ سارے
جَگ پرایسیاں دُھماں پیاں کی نظام بیچارے

وچہ سنگھوئی روشن ہوئی واہ واہ شمع رسول
لاکھ پتنگاں آن شمع پرکیتی موت قبول

آشمع دی لوئی یاردہرکوئی آن کھلویا
شاہ اکبردانانظاماں جگ پر روشن ہویا

آن سوالی جان نہ خالی بھربھرکا سے جاندے
ایس ملنگ نکارےجیسے اسدالنگرکھاندے

ہردی حاجت پوری کرداجوکوئی درپر آندا
روندارونداآوے جہڑا خوشیاں کرداجاندا

خلقت پامراداں جاندی کوئی نہ رہیاخالی
ایہہ پاپی درزنیرے حضرت بَن کے کھلاسوالی

نکے وڈے آساں درتھیں پاگئے لوک تمامی
میری آس دیویاحضرت دعویٰ کراں غلامی

یاحضرت جو لعل تساڈا شاہ سلطان علی ہے
دین ایمان جہان اساڈاکامل پیرولی ہے

ایہوعرض کریں منظوری یا سرصاحب میرے شوق
انہاندامینوں ہووے لعل سچےجو تیرے

آپ تساں پھربیٹے تائیں دتی عظمت بھاری
کی کجھ کراں تعریف میں عاجزطاقت نہیں ہماری

عظمت والاتاج فقر دا بیٹے دے سردھر کے
بیٹھے آپ کتھےیا حضرت مخفی پردہ کرکے

تاریخ وفات

سیّد اکبرعلی شاہ کی وفات اتواریکم رمضان المبارک ۱۳۰۵ھ؁ میں ہوئی۔آپ کا مزارشریف موضع سنگھوئی شریف ضلع جہلم میں ہے۔روضہ گنبدداربناہواہے۔

مادۂ تاریخ ہے "صدرِ اعظم"۔

۱؎یہ کتاب جمعہ ۱۳صفر۱۳۱۹ھ؁ کی تصنیف ہے۔۱۲ سیّد شرافت

( سریف التواریخ جلد نمبر ۲ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-akbar-ali-shah-sanghoi-wala
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
فقیہِ اعظم علامہ مفتی پیر محمد قاسم مشوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی محمد قاسم مشوری علیہ الرحمۃ۔ لقب: فقیہِ اعظم سندھ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری بن حاجی محمد عثمان بن نہال خان بن اللہ بخش بن یار محمد بن پیارو خان بن شاہ محمد مشوری (علیہم الرحمۃ)۔ آپ کا خاندانی تعلّق: ’’ رندبلوچ‘‘ کی شاخ ’’مشوری‘‘سے ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر، 12؍ربیع الاوّل 1316ھ مطابق یکم اگست 1898ء کو درگاہِ عالیہ مشوری شریف ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی۔

تحصیل علم:
آپ نہایت ہی ذہین وفطین تھے ۔ اپنی والدہ محترمہ سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا ۔ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ ، زاہدہ اور شب خیز اور قرآن مجید کی عاملہ خاتون تھیں ۔ اس کے بعد قریب ہی ’’گوٹھ ملا ابڑا‘‘ میں صوفیِ باصفا حضرت مولانا محمد عالم ابڑو سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔بَعْدَہٗ بارہ سال کی عمر میں اس وقت کی سندھ کی مشہور دینی درس گاہ ’’مدرسہ دارالفیض‘‘ گوٹھ سونہ جتوئی (ضلع لاڑکانہ ) میں داخلہ لیا۔ حضرت علامہ مفتی غلام محمد جتوئی اور سراج الفقہاء استاذ الاساتذہ عارف باللہ علامہ مولانا مفتی ابوالفیض غلام عمر جتوئی (علیہما الرحمۃ) سے 1339ھ/ 1920ء میں تحصیل علم کرکے سندِ فراغ حاصل فرمائی۔ آپ کی دستارِ فضیلت میں اس وقت کےجیّد علما ومشائخ نےشرکت فرمائی تھی۔

بیعت و خلافت:
امام العرفا،رئیس الصلحا، عارف باللہ حضرت خواجہ سیّد محمد امام الدین شاہ راشدی قادری علیہ الرحمۃ (درگاہِ ٹھلا شریف لاڑکانہ) کے دستِ حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیّہ میں بیعت ہوئے اور 1931ء میں خلافت واجازت اورتبرکات سےسرفراز ہوئے۔

سیرت و خصائص:
فقیہ العصر، مفتیِ اعظم سندھ، عالم و عارف، استاذ العلما، رئیس الصلحا، محققِ دوراں، قاسم العلمِ والعرفاں، فقیہِ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی محمد قاسم مشوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمۃ اُن نفوسِ قدسیّہ میں سے ہیں جنہوں نے باب الاسلام سرزمینِ اولیا سندھ میں دینِ اسلام کی آبیاری فرمائی، مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کی ساری زندگی درس وتدریس تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت اور مسلکِ حق اہلِ سنّت و جماعت کی ترویج واشاعت میں گزری۔ مفتی صاحب کا فیضان عام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے اکثر علما بلا واسطہ یابالواسطہ آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں۔ آپ نے تحصیلِ علم کے بعد اپنےاستاذِ محترم سراج الفقہا حضرت علامہ مولانا غلام عمر جتوئی کےارشاد پر،مدرسۂ جامعہ عربیہ قاسم العلوم قائم کیا۔ دیگر مدارس کے برعکس آپ کا طریقۂ کاریکسر منفرد تھا۔ آپ کے ہاں طلبہ کے داخلے کا رجسٹر تھا اور نہ ہی روزانہ حاضری کا معمول ، طلبہ کاشش ماہی یا سالانہ امتحان ہوتا تھا اور فارغ ہونے والے فضلا کو سند بھی نہیں دی جاتی تھی، اس کے باوجود نتیجہ سو فیصد ہوتا، وہاں سے فارغ ہونے والا ہر فاضل تدریس کے قابل ہوتا۔ دور دراز علاقوں سے طلبہ سفر کرکے حاضرِ خدمت ہوتے اورعلم کی لازوال دولت سےمشرف ہوکراپنے علاقوں کی طرف لوٹتے تھے۔اس درس گاہ سے آج تک علم و عرفان کی نہریں جاری ہیں جن سے بے شمار تشنگان ِعلمِ ظاہری و باطنی اپنی پیاس بجھا رہے ہیں۔ بے شمار علما فارغ التحصیل ہوئے اور اس جامعہ کی سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں کئی شاخیں سرگرم ہیں۔ جب آپ نے فارسی کی تعلیم مکمّل کی تو آپ کے والدِ ماجد حاجی محمد عثمان مشوری اپنے صاحبزادے کو اپنے خاندانی مُرشِد، عارف باللہ، سراج العارفین حضرت خواجہ سیّد امام الدین شاہ راشدی کے حضور دعا کے واسطے لے آئے اور عرض کیا: ’’قبلۂ من! میں اپنے بچے کو عالم دین بنانا چاہتا ہوں آپ اجازت بھی عنایت فرمائیں اور دعا بھی فرمائیں۔‘‘ حضرت قبلہ نے آپ کی طرف نظر کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’بیٹا!علم دین پڑھ،لیکن خشک ملا نہ ہونا‘‘یعنی علم دین کے ساتھ ساتھ راہِ سلوک بھی طے کرنا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ علم کےساتھ عرفان کی دولت سےبھی مالا مال تھے۔قدرت نےحُسنِ ظاہری کے ساتھ ساتھ جمال ِ باطنی سےبھی خوب نوازا تھا۔ آپ کے حسن و جمال میں ایسی کشش تھی جس سے دنیا کے صاحبِ حسن و جمال میں آپ ممتاز و منفرد نظر آتے تھے، گفتگو و تبسم میں چہرے پر ایسانور چمکتا تھا کہ دلوں کی تاریکیاں دھل جاتی تھیں۔ روحانی طور پر ایسا جلال و جمال ، آنکھوں میں حشمت وہیبت تھی کہ بڑے سے بڑے جاگیردار، وزیر،مشیر، بیورو کریٹ بھی سامنے بات کرنے سے پہلے بار بار سوچتے تھے کہ کوئی ناگوار بات منہ سے نہ نکل جائے ، اور بات کرنے کی ہمت نہ پاتے تھے اور بولنے میں ان کی زبان ان کا ساتھ نہ دیتی تھی، وہ لڑکھڑاتے اور ڈرتے ڈرتے بات کرتے تھے۔ آپ کا سینۂ اطہر تجلیاتِ الٰہیہ کامرکز تھا۔ آپ کا قلبِ مبارک معارفِ خدا وندی کا گنجینہ تھا۔ نگاہوں میں حُسنِ یار کے جلوے تھے، دل میں محبّتِ خدا وندی اور عشقِ نبوی کا دریا موجزن تھا۔ غرض یہ کہ آپ کا ہر عمل تسلیم ورضا کا گوہرِ نایاب تھا۔ آپ رحم و کرم اور عفوو
1👍1
درگذر کا پیکرِ جمیل تھے۔ وعظ و نصیحت ، درس و تدریس ، فتویٰ نویسی ، دعا و تعویذ، تلقین و ارشاد ، اوراد و وظائف اور شب بیداری وغیرہ مشاغل آپ کے ہاں نہایت وسیع وسعت رکھتے ہیں ۔ اتنے مشاغل کثیرہ کے باوجود آپ نے تیس سےزائددینی،تحقیقی و ادبی تصانیف تحریر فرمائیں جو کہ اسلام کا عظیم سرمایہ ہیں۔آپ کی کتب ورسائل کوعام کرنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کی صورت میں جوآپ نے ایک مشن دیا تھا اس کو آباد کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رمضان المبارک 1410ھ، مطابق 28؍ مارچ 1990ء بروز بدھ، صبح تقریباً چھ بجے روزے کی حالت میں اِس طرح ہوا کہ آپ اسم ذات ’’ اللہ اللہ ‘‘ کا ورد کرتے ہوئے روح ربّ العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہو گئی ۔درگاہِ عالیہ مشوری شریف میں تدفین ہوئی، مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔

ماٰخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-muhammad-qasim-mashoori
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
ادیب رائے پوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: سیّد حسین علی۔ لقب: ادیبِ اہلسنّت ۔ آپ ’’ادیب رائے پوری‘‘ سے معروف تھے۔

سلسلۂ نسب:
سیّد حسین علی المعروف ادیب رائے پوری بن حکیم سیّد یعقوب علی۔ رحمۃ اللہ علیہما۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 1928ء مطابق 1346ھ کو ’’رائے پور‘‘ مدھیہ پردیش، ہند میں ہوئی۔

تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم رائے پور میں حاصل کی۔ فارسی آپ کے گھر کی زبان تھی اور خاندانی پیشہ طب تھا۔ اس لیے بچپن سے ہی فارسی سے گہرا تعلق رہا۔ فارسی زبان کے دو قابلِ قدر اُستاد مولانا عبدالرحمٰن الٰہ آبادی اور ماسٹر شیو پرشاد سے آپ نے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔فنِ شاعری میں آپ کو دہلی کے عظیم شاعر حضرت بے خوؔد دہلوی کے شاگردِ رشید حضرت فدؔا خالد دہلوی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ وہ ایم اے (اردو) تھے۔ ا ِس کے علاوہ علمائے اہلِ سنّت کی صحبت سے کبھی رو گردانی نہیں کی، ہمیشہ ان کی صحبت میں رہ کر استفادہ کرتے رہے۔

بیعت:
آپ سلسلۂ عالیہ سہروردیّہ میں حضرت پیر آفاق سہروردی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست پر بیعت تھے۔ حضرت آفاق کا مزارِ مبارک دہلی سے قریب ایک مقام ’’رٹول‘‘ میں ہے، جہاں کے آم ’’انور رٹول‘‘ مشہور ہیں۔

پاکستان آمد:
سر زمینِ پاک پر آپ کی آمد کی تاریخ بھی یادگار ہے۔ قیامِ پاکستان سے صرف ایک رات قبل یعنی 13؍ اگست 1947ء کو پاکستان تشریف لائے اور کراچی (سندھ) میں مستقل سکونت اختیار کی۔

نعتیہ خدمات:
جہانِ حمد و نعت کی مایۂ ناز شخصیت ادیب رائے پوری کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ آپ نے نعت گوئی کے علاوہ نعت خوانی اور فروغِ نعت کے لیے شان دار و یادگار خدمات انجام دی ہیں۔ یہ نعتیہ خدمات ان خطوط پر استوار ہیں جنہیں ہر زمانے اور ہر دور میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

(1) ماہ نامہ نوائے نعت کراچی:
ادیب رائے پوری کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے نعتیہ ادب کو فروغ دینے کے لیے1980ء میں کراچی سے سب سے پہلا ماہ نامہ ’’نوائے نعت‘‘ جاری کیا۔ آپ کی ادارت میں اِس ماہ نامے نے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے 8 سال مکمّل کیے۔ اپنوں کی لاتعلقی و عدم دل چسپی کی وجہ سے یہ ماہ نامہ بند ہوگیا،لیکن ادیب رائے پوری صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اردو زبان میں نعت کےلیے یہ پہلاماہ نامہ ہے۔ بعد میں پورے ملک میں جہاں بھی یہ سلسلہ شروع ہوایہ سب اسی سلسلے کی مبارک کڑیاں ہیں۔

(2) پاکستان نعت کونسل:
1970ء کو پاکستان نعت کونسل کی بنیاد رکھی گئی۔ اس ادارے کے تحت عظیم الشان نعتیہ خدمات انجام دی گئیں۔ یادگار تقریبات کا اہتمام ہوتا رہا۔ اس ادارے کے زیرِ اہتمام ہونے والی تقریبات نے وطنِ عزیز میں فروغِ نعت کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا۔

(3) نعت اکیڈمی کا قیام:
1980ء کو ’’پاکستان نعت اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک نئے ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پاکستان نعت اکیڈمی کے بانی و صدر ادیب رائے پوری نے 1982ءمیں کراچی میں اس اکیڈمی کے تحت برِّصغیر (پاک و ہند و بنگلہ دیش) کی تاریخ میں سب سے پہلی ’’عالمی نعت کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا۔ اپنی نوعیت کے حوالے سے ہونے والی اس منفرد کانفرنس میں امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، ساؤتھ ایشیا، افریقہ اور برِّ صغیر کی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ 1984ءمیں پاکستان نعت اکیڈمی کے زیرِ اہتمام برطانیہ کے تین شہروں لندن، برمنگھم اور بریڈ فورڈ میں عالمی نعت کانفرنس کے تین یادگار اجتماعات منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ دسمبر 1984ء ہی میں ویسٹ انڈیز کے شہر ’’ٹرینی ڈاڈ‘‘ میں ’’نعت کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ اس شہر کی پہلی نعت کانفرنس تھی جسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ سلور جوبلی ایوارڈ 1992ء برِّصغیر میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی نعتیہ ایوارڈ تقریب تھی، جس میں ایک سو ایوارڈ تقسیم کیے گئے۔ پہلی مرتبہ کسی ایک چھت کے نیچے دنیائے نعت کے تقریباً تمام ملکی وغیر ملکی سرکردہ حضرات موجود تھے۔ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی دوسری تقریب ایسی منعقد ہوسکی۔ برِّصغیر میں نعت کے موضوع پر، پی ۔ ایچ۔ڈی کرنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ شعرائے کرام ، نعت خواں حضرات، ریڈیو، ٹی وی کے پروڈیوسرز، مختلف انجمنوں کے صدور سربراہ اور دیگر معززین کو چیئرمین سینٹ آف پاکستان جناب وسیم سجاد صاحب نے انعامات تقسیم کیے۔ دنیائے نعت میں ادیب رائے پوری کی اس نمایاں نعتیہ خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

نعتیہ شاعری:
شاعری تازگی، توانا لہجہ، موثر انداز، وسیع مطالعہ اور قدیم و جدید اسالیب پر گرفت آپ کی شاعری کے بنیادی اوصاف ہیں۔ آپ کے کلام کو شعر و ادب کے حلقوں میں بے اتنہا پسند کیا جاتا ہے۔ آپ کی زیادہ تر نعتیں مقبولیت کے مقام پر فائز ہیں۔ ادیب ایک پختہ گو اور کہنہ مشق نعت گو شاعر کی حیثیت رکھتے تھے۔

تصنیف و تالیف:
آپ نے تصنیف و تحقیق کے حوالے سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ اِن میں سے بعض کے نام درجِ ذیل ہیں:
1👍1
1۔ اس قدم کے نشاں: آپ کا سب سے پہلا مجموعۂ نعت ہے ۔ 1977ء کو آپ نے خود شائع کیا۔ مدینۂ منوّرہ کی حاضری کے موقع پر جب ادیب نے یہ کتاب حضرت قطبِ مدینہ ﷫ کی خدمت میں پیش کی تو انھوں نے فرمایا:’’نعت گوئی ایک مقدّس فن ہے، جس سے وہی شاعر حقیقی طور پر عہدہ برآ ہوسکتا ہے جس کے دل میں عشقِ رسالت مآبﷺ کار فرما ہو۔ ’’ایمان‘‘ سرکارِ دو عالَم ﷺ کی محبّت کا نام ہے۔ جب تک دل میں ایمان کی روشنی نہ ہو، طبیعت اس طرف مائل نہیں ہوسکتی۔ وہ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جو اس وقت مشعلِ نعت ہاتھوں میں اٹھائے تاریکیوں کو روشنیوں میں بدل رہے ہیں۔ الحاد، بے دینی اور بے یقینی نے روحانی اَقدار پر قبضہ جمائے رکھا ہے، اِس شر کا مقابلہ کرنے کے لیے شہنشاہِ کون و مکاں ﷺ کی سیرت کے پہلو، اور حُبِّ رسول ﷺکی تبلیغ ، وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔عزیز اَدیب رائے پوری سَلَّمَہٗ اِس فریضے کو نہایت عقیدت، جذبے اور محبّت سے انجام دے رہے ہیں۔ مجھے جس قدر بھی اِن کا کلام دیکھنے اور سننے کا موقع ملا، اُس میں والہانہ عقیدت، ذوق و شوق، سوزو گداز ، اور جذبات کی گہرائی پائی جاتی ہے، وہ اپنے ان پاکیزہ جذبات کے ساتھ ساتھ زبان و بیان پر پوری دسترس رکھتے ہیں اور شعری محاسن سے بھی خوب واقف ہیں۔ میری دعا ہے کہ مولائے کریم از طفیلِ سرورِ کونین، صاحبِ قَابَ قَوْسَیْن ﷺ ادیب کے ذوق و شوق میں ترقی عطا فرمائے اور ان کا کلام مقبولِ بارگاہ ِرسالت مآب ہو۔آمین ثم آمین۔‘‘
2۔ تصوّرِ کمالِ محبّت:دوسرا مجموعۂ نعت جو کہ 1979ء کو شائع ہوا۔

3۔ مَدارج النعت: اِس میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عہدِ حاضر تک نعت کا تدریجی ارتقا ہے، جس میں قرآنِ حکیم کے علاوہ دیگر کتبِ سماوی کے حوالوں نے موضوع کی اہمیت میں چار چاندلگادیے ہیں۔ عبرانی زبان کے نمونے، چینی زبان کے وہ نایاب نمونے جو اب تک نظر سے نہیں گزرے اور دیگر معلومات پر مشتمل یہ کتاب 1986ء میں شائع ہوئی۔
4۔ مشکوٰۃ النعت: ادیب کی یہ دوسری علمی و تحقیقی کاوش ہے جس میں عربی کی نعتیہ شاعری کا تاریخی و تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے اور یہ 1993ء کو اشاعت پذیر ہوئی۔
5۔ دُرودِ تاج (تحقیق و تشریح): نام سے موضوع ظاہر ہے۔ یہ ضخیم کتاب 1997ء کو کراچی سے شائع ہوئی۔
6۔ مقصود کائنات: آپ کا تیسرا نعتیہ کلام ہے۔ اس میں نئے کلام کے علاوہ ادیب کے اس سے پہلے شائع ہونے والے دو نعتیہ شعری مجموعے ’’اس قدم کے نشاں‘‘ اور ’’تصورِ کمالِ محبت‘‘ کا بھی تمام تر کلام موجود ہے۔
7۔نعتیہ ادب میں تنقید اور مشکلاتِ تنقید (تنقیدی کتاب) مطبوعہ 1999ء
8۔ موجِ اِضطراب (قرآنی مضامین کا انتخاب 2004ء)
9۔ اردو زبان و ادب کا ارتقا، تصوف کی روشنی میں
10۔ مرزا غالب کی نعتیہ شاعری
11۔ مقالاتِ ادیب رائے پوری (مختلف موضوعات پر فکر انگیز مضامین)
12۔ ستاروں سے آگے جہاں (نعتیہ اسٹیج ڈرامہ)
13۔ خاک آلود ستارے (ظلم و جبر کے خلاف قلمی بغاوت)

سفرِ حرمینِ شریفین:
آپ نے کئی بار حج و عمرہ کی سعادت حاصل کی۔

شادی و اولاد:
شادی ہوئی، مگر کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

وصال:
یکم رمضان المبارک 1425ھ مطابق 16؍ اکتوبر 2004ء بروز ہفتہ 76 سال کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رحلت فرما گئے میوہ شاہ قبرستان (کراچی) میں اپنے خاندانی اَفراد کے برابر مدفون ہوئے۔(ماخذ: ارمغانِ ادیب (انتخابِ کلام) مرتّبہ شہزاد احمد، مطبوعۂ قطبِ مدینہ پبلشرز، کراچی، 2002ء)

https://scholars.pk/ur/scholar/adeeb-e-ahlesunnat-adeeb-raipuri
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حافظ سید عبد اللہ بلگرامی ۔ حنفی المذہب ۔ قادری المشرب ۔

سلسلۂ نسب:
آپ سید آل احمد واسطی بلگرامی کے بیٹے تھے ۔ آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
21 جمادی الاول 1248ھ، بمطابق 1832ء ، " قصبہ بلگرام " میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
سید عبد اللہ بلگرامی علیہ الرحمہ نے 12 سال کی قلیل عمر میں ناظرہ قرآنِ پاک اور فارسی کی مروجہ کتب مکمل فرمالیں تھیں ۔ صرف و نحو اور منطق کی ابتدائی کتابیں جناب مولانا محمد سلامت اللہ بدایونی کانپوری کے بعض شاگردوں سے پڑھیں، اس کے بعد قطبی سے شرح سلم حمد اللہ تک، خاص مولانا سلامت اللہ بدایونی سے پڑھیں، منطق و فلسفہ کی بقیہ کتابیں، عربی قصائد، استاذ الکل مجاہدِ جنگِ آزادی مولانا فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ سے رام پور اور لکھنؤ میں پڑھیں، اس کے بعد فقہ، حدیث اور تفسیر کی دوسری درسی کتابیں ریاست الور میں مولوی نور الحسن کا ندھلوی سے پڑھیں ۔ شیخ الاسلام سید احمد زینی دحلان مفتیِ مکۃ المکرمہ و مدرس مدرسہ بیت الحرام سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی اسناد حاصل کیں، اور ماہ شوال 1276ھ بمطابق 1860ء میں سندِ فر اغ حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
حاٖفظ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ خلیفہ سید شاہ آل احمد مارہری علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
معقولات میں سلسلہ خیر آبادیت ، منقولات میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، طریقت میں " مارہرہ مطہرہ " کی جامع الکمال شخصیت ، جامع المعقولِ والمنقول، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محسنِ اسلام، قاطعِ بدعت، شمشیر بر رفض و وہابیت، آلِ نبی اولادِ علی حافظ سید عبد اللہ بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ ہندوستان کے ان مشائخ میں سے ہیں جنہوں نے ملتِ اسلامیہ کی مشکل وقت میں صحیح راہنمائی فرمائی ہے ۔ اس وقت فتنۂ وہابیت نے عالمِ اسلام میں " شرک و بدعت " کی مہم کو برطانوی پشت پناہی اور فنڈز کی قوت سے بڑے زور و شور سے برپا کر رکھا تھا ۔

آپ نے اس فتنے کے سدِ باب کے لئے کئی رسائل تحریر فرمائے ۔ اسی وجہ سے تاج الفحول شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے ۔

آپ کو عربی و فارسی ادب ، نظم اور نثر میں کمال حاصل تھا ۔ خاص کر عربی قصائد میں مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کا رنگ نظر آتا تھا ۔ آپ علیہ الرحمہ ساری زندگی تدریس و تحریر کی صورت میں دینِ اسلام کی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔

وصال:
بروز ہفتہ یکم رمضان المبارک ، 1305ھ، بمطابق 1888ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار کانپور میں ہے ۔

؎ نکو سیرت چو عبد اللہ
حافظ ہوئے ملک بقا ناگاہ رفتہ
بسال رحلتش ہاتف ندا
داد بجنت پاک عبد اللہ رفتہ (۱۳۰۵)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-abdullah-bilgrami
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1