🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت سید اکبر علی شاہ سنگھوئی والا علیہ‌الرحمہ

آپ کا نام محمد اکبر المشہور اکبر علی شاہ ۔ الملقب بہ صاحبزادہ تھا ۔ آپ سیّد حیدر شاہ بن سید محمد نیک ہاشمی رنملوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر تھے ۔

آپ کے بیعت طریقت اپنے چچا سیّد غلام حسین رحمۃ اللہ علیہ سے تھی ۔ وہ مرید اپنے والد سیّد محمد نیک رحمۃ اللہ علیہ کے تھے ۔ وہ مُرید اپنے والد سید عبد الرسول ہاشمی رحمۃ اللہ علیہ کے ۔

فیض صحبت آپ سیّد احمد بخش بن سیداللہ دتہ برخورداری ڈھلوالہ رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل ہو ا تھا۔ اکثراُن کی خدمت میں جایاکرتے۔

خلوت گزینی:
منقول ہے کہ آپ نے بارہ سال تک چلّے کئے۔ریاضات ومجاہدات بجالائے۔جسم کے ایک حصّہ کو دیمک لگ گئی تھی۔

سنگھوئی میں ورود:
آپ رَن مل سے چل کر موضع سنگھوئی ضلع جہلم میں تشریف لے گئے۔ وہاں رہائش اختیارکی۔صاحب یمن وبرکت و کرامت وجلالت تھے۔

کتابی شوق:
آپ کو کتابوں سے بھی دلچسپی تھی۔کسی کاتب غلام علی نام نے کتاب گُل بہار آپ کے واسطےلکھی۔اس کادستخط یہ ہے۔

"تم تمام شدکتاب گُل بہاربعون اللہ تعالےٰ بوقت چاشت تحریریافت۔تحریر بتاریخ ۱۳ماہ شوال بدستخط غلام علی برائے صاحبزادہ سجادہ نشین اولاد احفاد حضرت گنج بخش تحریریافت؂

ہرکہ خوانددعاطمع دارم
زانکہ من بندۂ گنہ گارم

ہرچہ دیدم من نوشتم درکتاب

"واللّٰہ اعلم بالصواب"

اولاد
آپ کے ایک ہی فرزند سیّد سلطان علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ تھے۔

یارانِ طریقت:
آپ کا فیضان پوٹھوہارکے علاقہ میں بہت تھا۔خواص احباب یہ تھے۔

۱۔سیّد سلطان علی شاہ فرزند آنجناب رحمتہ اللہ علیہم سنگھوئی شریف

۲۔سائیں محمد علی بن مَلک عمربخش کشمیری راولپنڈی

۳۔مرزاطلامحمدگاذر پشاورشہر

مدح شریف:
حکیم نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ ساکن ڈھوک للھال ضلع راولپنڈی نے کتاب قفس العشق المعروف بانی گلزارنوشاہی میں ۱؎ آپ کی صفات پنجابی میں نظم کی ہے؂

تاج فقرداعلی اکبرنوں کیتاخوب انعامی
ہراک تائیں خبراس گل دی کیاخاصے کیاعامی

علی اکبرشاہ تاج لگایاخبرہوئی جگ سارے
جَگ پرایسیاں دُھماں پیاں کی نظام بیچارے

وچہ سنگھوئی روشن ہوئی واہ واہ شمع رسول
لاکھ پتنگاں آن شمع پرکیتی موت قبول

آشمع دی لوئی یاردہرکوئی آن کھلویا
شاہ اکبردانانظاماں جگ پر روشن ہویا

آن سوالی جان نہ خالی بھربھرکا سے جاندے
ایس ملنگ نکارےجیسے اسدالنگرکھاندے

ہردی حاجت پوری کرداجوکوئی درپر آندا
روندارونداآوے جہڑا خوشیاں کرداجاندا

خلقت پامراداں جاندی کوئی نہ رہیاخالی
ایہہ پاپی درزنیرے حضرت بَن کے کھلاسوالی

نکے وڈے آساں درتھیں پاگئے لوک تمامی
میری آس دیویاحضرت دعویٰ کراں غلامی

یاحضرت جو لعل تساڈا شاہ سلطان علی ہے
دین ایمان جہان اساڈاکامل پیرولی ہے

ایہوعرض کریں منظوری یا سرصاحب میرے شوق
انہاندامینوں ہووے لعل سچےجو تیرے

آپ تساں پھربیٹے تائیں دتی عظمت بھاری
کی کجھ کراں تعریف میں عاجزطاقت نہیں ہماری

عظمت والاتاج فقر دا بیٹے دے سردھر کے
بیٹھے آپ کتھےیا حضرت مخفی پردہ کرکے

تاریخ وفات

سیّد اکبرعلی شاہ کی وفات اتواریکم رمضان المبارک ۱۳۰۵ھ؁ میں ہوئی۔آپ کا مزارشریف موضع سنگھوئی شریف ضلع جہلم میں ہے۔روضہ گنبدداربناہواہے۔

مادۂ تاریخ ہے "صدرِ اعظم"۔

۱؎یہ کتاب جمعہ ۱۳صفر۱۳۱۹ھ؁ کی تصنیف ہے۔۱۲ سیّد شرافت

( سریف التواریخ جلد نمبر ۲ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-akbar-ali-shah-sanghoi-wala
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
فقیہِ اعظم علامہ مفتی پیر محمد قاسم مشوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا مفتی محمد قاسم مشوری علیہ الرحمۃ۔ لقب: فقیہِ اعظم سندھ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری بن حاجی محمد عثمان بن نہال خان بن اللہ بخش بن یار محمد بن پیارو خان بن شاہ محمد مشوری (علیہم الرحمۃ)۔ آپ کا خاندانی تعلّق: ’’ رندبلوچ‘‘ کی شاخ ’’مشوری‘‘سے ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر، 12؍ربیع الاوّل 1316ھ مطابق یکم اگست 1898ء کو درگاہِ عالیہ مشوری شریف ضلع لاڑکانہ سندھ میں ہوئی۔

تحصیل علم:
آپ نہایت ہی ذہین وفطین تھے ۔ اپنی والدہ محترمہ سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا ۔ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ ، زاہدہ اور شب خیز اور قرآن مجید کی عاملہ خاتون تھیں ۔ اس کے بعد قریب ہی ’’گوٹھ ملا ابڑا‘‘ میں صوفیِ باصفا حضرت مولانا محمد عالم ابڑو سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔بَعْدَہٗ بارہ سال کی عمر میں اس وقت کی سندھ کی مشہور دینی درس گاہ ’’مدرسہ دارالفیض‘‘ گوٹھ سونہ جتوئی (ضلع لاڑکانہ ) میں داخلہ لیا۔ حضرت علامہ مفتی غلام محمد جتوئی اور سراج الفقہاء استاذ الاساتذہ عارف باللہ علامہ مولانا مفتی ابوالفیض غلام عمر جتوئی (علیہما الرحمۃ) سے 1339ھ/ 1920ء میں تحصیل علم کرکے سندِ فراغ حاصل فرمائی۔ آپ کی دستارِ فضیلت میں اس وقت کےجیّد علما ومشائخ نےشرکت فرمائی تھی۔

بیعت و خلافت:
امام العرفا،رئیس الصلحا، عارف باللہ حضرت خواجہ سیّد محمد امام الدین شاہ راشدی قادری علیہ الرحمۃ (درگاہِ ٹھلا شریف لاڑکانہ) کے دستِ حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیّہ میں بیعت ہوئے اور 1931ء میں خلافت واجازت اورتبرکات سےسرفراز ہوئے۔

سیرت و خصائص:
فقیہ العصر، مفتیِ اعظم سندھ، عالم و عارف، استاذ العلما، رئیس الصلحا، محققِ دوراں، قاسم العلمِ والعرفاں، فقیہِ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی محمد قاسم مشوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمۃ اُن نفوسِ قدسیّہ میں سے ہیں جنہوں نے باب الاسلام سرزمینِ اولیا سندھ میں دینِ اسلام کی آبیاری فرمائی، مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کی ساری زندگی درس وتدریس تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت اور مسلکِ حق اہلِ سنّت و جماعت کی ترویج واشاعت میں گزری۔ مفتی صاحب کا فیضان عام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے اکثر علما بلا واسطہ یابالواسطہ آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں۔ آپ نے تحصیلِ علم کے بعد اپنےاستاذِ محترم سراج الفقہا حضرت علامہ مولانا غلام عمر جتوئی کےارشاد پر،مدرسۂ جامعہ عربیہ قاسم العلوم قائم کیا۔ دیگر مدارس کے برعکس آپ کا طریقۂ کاریکسر منفرد تھا۔ آپ کے ہاں طلبہ کے داخلے کا رجسٹر تھا اور نہ ہی روزانہ حاضری کا معمول ، طلبہ کاشش ماہی یا سالانہ امتحان ہوتا تھا اور فارغ ہونے والے فضلا کو سند بھی نہیں دی جاتی تھی، اس کے باوجود نتیجہ سو فیصد ہوتا، وہاں سے فارغ ہونے والا ہر فاضل تدریس کے قابل ہوتا۔ دور دراز علاقوں سے طلبہ سفر کرکے حاضرِ خدمت ہوتے اورعلم کی لازوال دولت سےمشرف ہوکراپنے علاقوں کی طرف لوٹتے تھے۔اس درس گاہ سے آج تک علم و عرفان کی نہریں جاری ہیں جن سے بے شمار تشنگان ِعلمِ ظاہری و باطنی اپنی پیاس بجھا رہے ہیں۔ بے شمار علما فارغ التحصیل ہوئے اور اس جامعہ کی سندھ ، بلوچستان اور پنجاب میں کئی شاخیں سرگرم ہیں۔ جب آپ نے فارسی کی تعلیم مکمّل کی تو آپ کے والدِ ماجد حاجی محمد عثمان مشوری اپنے صاحبزادے کو اپنے خاندانی مُرشِد، عارف باللہ، سراج العارفین حضرت خواجہ سیّد امام الدین شاہ راشدی کے حضور دعا کے واسطے لے آئے اور عرض کیا: ’’قبلۂ من! میں اپنے بچے کو عالم دین بنانا چاہتا ہوں آپ اجازت بھی عنایت فرمائیں اور دعا بھی فرمائیں۔‘‘ حضرت قبلہ نے آپ کی طرف نظر کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’بیٹا!علم دین پڑھ،لیکن خشک ملا نہ ہونا‘‘یعنی علم دین کے ساتھ ساتھ راہِ سلوک بھی طے کرنا۔ یہی وجہ ہےکہ آپ علم کےساتھ عرفان کی دولت سےبھی مالا مال تھے۔قدرت نےحُسنِ ظاہری کے ساتھ ساتھ جمال ِ باطنی سےبھی خوب نوازا تھا۔ آپ کے حسن و جمال میں ایسی کشش تھی جس سے دنیا کے صاحبِ حسن و جمال میں آپ ممتاز و منفرد نظر آتے تھے، گفتگو و تبسم میں چہرے پر ایسانور چمکتا تھا کہ دلوں کی تاریکیاں دھل جاتی تھیں۔ روحانی طور پر ایسا جلال و جمال ، آنکھوں میں حشمت وہیبت تھی کہ بڑے سے بڑے جاگیردار، وزیر،مشیر، بیورو کریٹ بھی سامنے بات کرنے سے پہلے بار بار سوچتے تھے کہ کوئی ناگوار بات منہ سے نہ نکل جائے ، اور بات کرنے کی ہمت نہ پاتے تھے اور بولنے میں ان کی زبان ان کا ساتھ نہ دیتی تھی، وہ لڑکھڑاتے اور ڈرتے ڈرتے بات کرتے تھے۔ آپ کا سینۂ اطہر تجلیاتِ الٰہیہ کامرکز تھا۔ آپ کا قلبِ مبارک معارفِ خدا وندی کا گنجینہ تھا۔ نگاہوں میں حُسنِ یار کے جلوے تھے، دل میں محبّتِ خدا وندی اور عشقِ نبوی کا دریا موجزن تھا۔ غرض یہ کہ آپ کا ہر عمل تسلیم ورضا کا گوہرِ نایاب تھا۔ آپ رحم و کرم اور عفوو
1👍1
درگذر کا پیکرِ جمیل تھے۔ وعظ و نصیحت ، درس و تدریس ، فتویٰ نویسی ، دعا و تعویذ، تلقین و ارشاد ، اوراد و وظائف اور شب بیداری وغیرہ مشاغل آپ کے ہاں نہایت وسیع وسعت رکھتے ہیں ۔ اتنے مشاغل کثیرہ کے باوجود آپ نے تیس سےزائددینی،تحقیقی و ادبی تصانیف تحریر فرمائیں جو کہ اسلام کا عظیم سرمایہ ہیں۔آپ کی کتب ورسائل کوعام کرنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کی صورت میں جوآپ نے ایک مشن دیا تھا اس کو آباد کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال یکم رمضان المبارک 1410ھ، مطابق 28؍ مارچ 1990ء بروز بدھ، صبح تقریباً چھ بجے روزے کی حالت میں اِس طرح ہوا کہ آپ اسم ذات ’’ اللہ اللہ ‘‘ کا ورد کرتے ہوئے روح ربّ العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہو گئی ۔درگاہِ عالیہ مشوری شریف میں تدفین ہوئی، مزار شریف مرجعِ خلائق ہے ۔

ماٰخذ و مراجع:
اَنوارِ علمائے اہلِ سنّت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-muhammad-qasim-mashoori
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1