نے فرمایا ہے:
قم بِاذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
.
خود غوث الاعظم فرماتے ہیں:
’’دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتَّى صِرْتُ قُطْبًا
وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَى الْمَوَالِيْ‘‘
ترجمہ: ’’میں نے علم حاصل کیا یہاں تک کہ قطبیت کےمرتبے پر فائز ہوا، میں نے استاذالاساتذہ شیخ کامل کے حضور حاضر ہوکر سعادت کی منزلوں کو پایا۔‘‘(قصیدۂ غوثیہ)
بیعت وخلافت: سیّدنا ابو سعید مبارک مخزومی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔
سیرت و خصائص: محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، محی الدین، شیخ الاسلام، غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی ۔آپ کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف وتوصیف میں تمام متأخرین اولیائے ِ کاملین کے تذکرے بےشمار ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق ومحامد سے متصف فرمایاتھاکہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔اپنے تواپنے غیرمسلم بھی آپ کےحسن ِسلوک کےگرویدہ تھے۔آپ اسلامی اخلاق اورانسانی اوصاف کے پیکر تھے۔شیخ حراوہ فرماتے ہیں: ’’میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا‘‘۔آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع وانکساری کے ساتھ پیش آتے،لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا توآپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کیے۔مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مُروَّت سے پیش آتے۔سچائی اور حق گوئی کادامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔آپ معروف(نیکی) کا حکم دیتے اور منکرات(برائی) سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ بپاکردیا تھا۔ سیّدنا غوثِ اعظممجسمہ ایثاروسخاوت تھے۔دریا دلی کا یہ عالم تھاکہ جوکچھ پاس ہوتاسب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرمادیتے۔عفووکرم کے پیکر جمیل تھے۔کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصّہ نہیں آتا۔لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔ امام ابو عبداللہ محمد یوسف البرزالی لکھتے ہیں: ’’آپ مستحبات الدعوات تھے، ہمیشہ اللہ کے ذکر وفکر میں مشغول رہتے اور کثرتِ ذکراورخوفِ خدا سے آپ کی آنکھیں اشک باررہتیں ۔ آپ انتہائی رقیق القلب، شگفتہ رو، کریم النفس ، فراخ دست، ذی علم، بلند اخلاق اور عالی نسب تھے۔ عبادات اور مجاہدے میں آپ سب سے رفیع الشان تھے اور آپ کانورانی چہرہ ہمیشہ بشّاش اور تبسُّم آمیز نظر آتا۔‘‘ مفتی عراق محمد بن حامد البغدادی لکھتے ہیں: ’’آپ فحش باتوں سے کوسوں دورتھے، اپنی ذات کے معاملے میں آپ کو نہ کبھی کسی پر غصّہ آیا اور نہ ہی آپ نے کسی سے انتقام لیا، سوائے اس کےکہ کسی نے ایسا کام کیاہو جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہو، تو آپ غضب ناک ہوجاتے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحیدکےحوالےسےکسی رُو رعایت کےقائل نہ تھے۔‘‘ کرامات کےعلاوہ ہم نےصرف آپ کی سیرتِ مبارکہ کی ایک مختصر جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔جس طرح رسول اللہﷺ کےمعجزات بےشمار ہیں، اسی طرح آپ کی کرامات بھی بےشمار ہیں۔آپ خود فرماتے ہیں: ’’ہر ولی کسی نہ کسی مُقتد ا کے نقشِ قدم پرگامزن رہتا ہے اور میں بَدرُ الکمال یعنی سیّدالمرسلین ﷺکے نقش قدم پر ہوں۔‘‘
شریعت کی پابندی: آپ اپنے مریدین اور شاگردوں کوقرآن و حدیث،اور فقہ و تصوف کی تلقین فرمایا کرتے اور خصوصی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے تھے کہ جو تصوف، فقہ کے تابع نہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا نہیں ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے: ’’شریعت جس حقیقت کی گواہی نہ دے وہ زندیقیت ہے۔ اپنے رب کی بارگاہ کی طرف کتاب و سنّت کے دو پروں کےساتھ پروازکرو۔ اپنا ہاتھ رسول اللہﷺکے دستِ مبارک میں دےکراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دو۔ فرض عبادتوں کا ترک زندیقیت اور گناہوں کا ارتکاب معصیت ہے۔‘‘ (الفتح الربانی، 145)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 11؍یا 17؍ ربیع الآخر561ھ کو 91سال کی عمر مبارک میں بغدادمیں ہوا۔(تذکرۂمشائخِ قادریّہ رضویہ، ص256؛ سیرتِ غوث اعظم، ص247)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-qadir-jilani-ghous-pak
قم بِاذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
.
خود غوث الاعظم فرماتے ہیں:
’’دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتَّى صِرْتُ قُطْبًا
وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَى الْمَوَالِيْ‘‘
ترجمہ: ’’میں نے علم حاصل کیا یہاں تک کہ قطبیت کےمرتبے پر فائز ہوا، میں نے استاذالاساتذہ شیخ کامل کے حضور حاضر ہوکر سعادت کی منزلوں کو پایا۔‘‘(قصیدۂ غوثیہ)
بیعت وخلافت: سیّدنا ابو سعید مبارک مخزومی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔
سیرت و خصائص: محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، محی الدین، شیخ الاسلام، غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی ۔آپ کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف وتوصیف میں تمام متأخرین اولیائے ِ کاملین کے تذکرے بےشمار ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق ومحامد سے متصف فرمایاتھاکہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔اپنے تواپنے غیرمسلم بھی آپ کےحسن ِسلوک کےگرویدہ تھے۔آپ اسلامی اخلاق اورانسانی اوصاف کے پیکر تھے۔شیخ حراوہ فرماتے ہیں: ’’میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا‘‘۔آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع وانکساری کے ساتھ پیش آتے،لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا توآپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کیے۔مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مُروَّت سے پیش آتے۔سچائی اور حق گوئی کادامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔آپ معروف(نیکی) کا حکم دیتے اور منکرات(برائی) سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ بپاکردیا تھا۔ سیّدنا غوثِ اعظممجسمہ ایثاروسخاوت تھے۔دریا دلی کا یہ عالم تھاکہ جوکچھ پاس ہوتاسب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرمادیتے۔عفووکرم کے پیکر جمیل تھے۔کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصّہ نہیں آتا۔لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔ امام ابو عبداللہ محمد یوسف البرزالی لکھتے ہیں: ’’آپ مستحبات الدعوات تھے، ہمیشہ اللہ کے ذکر وفکر میں مشغول رہتے اور کثرتِ ذکراورخوفِ خدا سے آپ کی آنکھیں اشک باررہتیں ۔ آپ انتہائی رقیق القلب، شگفتہ رو، کریم النفس ، فراخ دست، ذی علم، بلند اخلاق اور عالی نسب تھے۔ عبادات اور مجاہدے میں آپ سب سے رفیع الشان تھے اور آپ کانورانی چہرہ ہمیشہ بشّاش اور تبسُّم آمیز نظر آتا۔‘‘ مفتی عراق محمد بن حامد البغدادی لکھتے ہیں: ’’آپ فحش باتوں سے کوسوں دورتھے، اپنی ذات کے معاملے میں آپ کو نہ کبھی کسی پر غصّہ آیا اور نہ ہی آپ نے کسی سے انتقام لیا، سوائے اس کےکہ کسی نے ایسا کام کیاہو جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہو، تو آپ غضب ناک ہوجاتے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحیدکےحوالےسےکسی رُو رعایت کےقائل نہ تھے۔‘‘ کرامات کےعلاوہ ہم نےصرف آپ کی سیرتِ مبارکہ کی ایک مختصر جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔جس طرح رسول اللہﷺ کےمعجزات بےشمار ہیں، اسی طرح آپ کی کرامات بھی بےشمار ہیں۔آپ خود فرماتے ہیں: ’’ہر ولی کسی نہ کسی مُقتد ا کے نقشِ قدم پرگامزن رہتا ہے اور میں بَدرُ الکمال یعنی سیّدالمرسلین ﷺکے نقش قدم پر ہوں۔‘‘
شریعت کی پابندی: آپ اپنے مریدین اور شاگردوں کوقرآن و حدیث،اور فقہ و تصوف کی تلقین فرمایا کرتے اور خصوصی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے تھے کہ جو تصوف، فقہ کے تابع نہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا نہیں ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے: ’’شریعت جس حقیقت کی گواہی نہ دے وہ زندیقیت ہے۔ اپنے رب کی بارگاہ کی طرف کتاب و سنّت کے دو پروں کےساتھ پروازکرو۔ اپنا ہاتھ رسول اللہﷺکے دستِ مبارک میں دےکراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دو۔ فرض عبادتوں کا ترک زندیقیت اور گناہوں کا ارتکاب معصیت ہے۔‘‘ (الفتح الربانی، 145)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 11؍یا 17؍ ربیع الآخر561ھ کو 91سال کی عمر مبارک میں بغدادمیں ہوا۔(تذکرۂمشائخِ قادریّہ رضویہ، ص256؛ سیرتِ غوث اعظم، ص247)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-qadir-jilani-ghous-pak
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani Ghous Pak
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-08-1444 ᴴ | 23-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1