🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-08-1444 ᴴ | 23-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-08-1444 ᴴ | 23-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
ماہ رمضان اور روزہ قِسط❶↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12984
ماه رمضان اور روزه قِسط❷↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12985
ماہ رمضان اور روزہ قِسط❸↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12986
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
چاند 📚 رویت ہلال | رؤیت ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13321
ماہ رمضان اور نماز تراویح ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13071
فضائل شب قدر | لیلۃ القدر ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13262
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
زکٰوة سے متعلق فتاوے 📜 ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11285
زکٰوۃ سے متعلق کتابیں 📚 ↶
زکٰوۃ صدقہ صدقات صدقۂ فطر
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11403
عشر سے متعلق کتابیں 📚 ↶
زمین کی پیدا وار پر زکٰوۃ 📜
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11300
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیسوں کی زکٰوۃ نکالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس قدر بھی رقم ہو اسے چالیس پر تقسیم کر دیں پھر جو حاصلِ جواب ہوگا وہ اس رقم کی زکوۃ ہوگی ـ جیسے: 100000÷40=2500
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ @islaamic_Knowledge
❷ @Aalaa_Hazrat_Library
❸ @Maslake_Aalaa_Hazrat
❹ @AhleSunnat_HindiBooks
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12984
ماه رمضان اور روزه قِسط❷↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12985
ماہ رمضان اور روزہ قِسط❸↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12986
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
چاند 📚 رویت ہلال | رؤیت ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13321
ماہ رمضان اور نماز تراویح ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13071
فضائل شب قدر | لیلۃ القدر ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13262
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
زکٰوة سے متعلق فتاوے 📜 ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11285
زکٰوۃ سے متعلق کتابیں 📚 ↶
زکٰوۃ صدقہ صدقات صدقۂ فطر
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11403
عشر سے متعلق کتابیں 📚 ↶
زمین کی پیدا وار پر زکٰوۃ 📜
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11300
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیسوں کی زکٰوۃ نکالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس قدر بھی رقم ہو اسے چالیس پر تقسیم کر دیں پھر جو حاصلِ جواب ہوگا وہ اس رقم کی زکوۃ ہوگی ـ جیسے: 100000÷40=2500
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❶ @islaamic_Knowledge
❷ @Aalaa_Hazrat_Library
❸ @Maslake_Aalaa_Hazrat
❹ @AhleSunnat_HindiBooks
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
❤4👍2👌1
قطب العالم حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مسعود ۔ لقب: فرید ، گنج شکر ، قطب العالم ، زہد الانبیاء ۔
والد کا اسمِ گرامی:
شیخ جمال الدین سلیمان ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت فاروقِ اعظم رضی الله عنه سے جاکر ملتا ہے ۔ " سیر المصنفین " کے مطابق آپ کے والدِ گرامی سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے ۔ (بہارِ چشت ص:87)
تاریخِ ولادت:
آپ کی والادت باسعادت 574ھ ، بمطابق 1179ء کو موضع کوتوال (موجودہ نام کوٹھے والا) ضلع ملتان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔ جب زمانۂ طالب علمی میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی، اور عبادت و ریاضت کی خواہش ظاہر کی تو حضرت نے فرمایا! "علم میں کمال حاصل کرو، بے علم عابد مسخرۂ شیطان ہوتا ہے " ۔ (اکابرینِ چشت ص:83)
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی الله تعالیٰ عنه کے حکم سے خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔ اس کے علاوہ آپ حضرت سلطان الہند اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے فیوض سے بھی مستفید ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ ریاضت، عبادت، معاہدہ، فقر اور ترک و تجرید میں بے نظیر تھے ۔ شہرت پسند نہ فرماتے تھے، آپ کو استغراق بہت پسند تھا، تحمل، بردباری، قناعت، توکل، تقویٰ، ورع، عشق، ذوق و شوق کا مجسمہ تھے ۔
آپ ہمیشہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی کتاب "عوارف المعارف" کا درس دیا کرتے تھے ۔ طبیعت میں لطافت و پاکیزگی کا عنصر غالب تھا۔ رزق حلال کی پابندی پر ہمیشہ زور دیتے ۔ بلکہ رزق حلال کر اسلام کا چھٹا رکن گردانتے تھے ۔
عشق رسول ﷺ اور اتباع سنت رسول پاک علیہ الصلوۃ والسلام میں مکمل طور پر مستغرق رہتے ۔ ہمیشہ صوم و صلوۃ کے پابند رہتے اور مریدین کو اس کی تلقین کرتے اور فرماتے کہ شریعت مطہرہ کی اقتدا کے بغیر روحانی منازل طے نہیں ہو سکتیں ـ
جب کبھی رسالت مآب آقائے نامدار سرور دو عالم ﷺ کا ذکر مبارک آتا تو زار و قطار روتے ۔ ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ کے وصال مبارک کا ذکر سنا ہی تھا کہ ایسی آہ بھری کہ بے ہوشی کا عالم طاری ہو گیا ۔ بڑی دیر کے بعد ہوش آیا کہ جب فخرِ انسانیت نبی بحر و بر ﷺ اس دارِ فانی سے تشریف لے گے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے؟ کہ زندگی کی خواہش بھی کریں ۔ ہمیں غفلت کے پردے کو اٹھا دینا چاہیے ۔ اور زادِ راہ کی فکر کرنی چاہیے ۔
مولانا بدر الدین اسحاق فرماتے ہیں:
میں حضرت کا خادمِ خاص تھا، جو بات کہنا ہوتی مجھ سے فرماتے تھے ۔ میں نے ساری زندگی حضرت کی خدمت میں گزاری، لیکن خلوت و جلوت ، ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں دیکھا ۔ ( سیر الاولیاء ص:65)
وصال:
آپ کا وصال بروز منگل 5 محرم الحرام 664ھ، بمطابق اکتوبر 1265ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پاکپتن میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اکابرینِ چشت ۔ بہارِ چشت ۔ سیرالعارفین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-fareeduddin-ganj-shakar-history
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مسعود ۔ لقب: فرید ، گنج شکر ، قطب العالم ، زہد الانبیاء ۔
والد کا اسمِ گرامی:
شیخ جمال الدین سلیمان ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت فاروقِ اعظم رضی الله عنه سے جاکر ملتا ہے ۔ " سیر المصنفین " کے مطابق آپ کے والدِ گرامی سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے ۔ (بہارِ چشت ص:87)
تاریخِ ولادت:
آپ کی والادت باسعادت 574ھ ، بمطابق 1179ء کو موضع کوتوال (موجودہ نام کوٹھے والا) ضلع ملتان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔ جب زمانۂ طالب علمی میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی، اور عبادت و ریاضت کی خواہش ظاہر کی تو حضرت نے فرمایا! "علم میں کمال حاصل کرو، بے علم عابد مسخرۂ شیطان ہوتا ہے " ۔ (اکابرینِ چشت ص:83)
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی الله تعالیٰ عنه کے حکم سے خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔ اس کے علاوہ آپ حضرت سلطان الہند اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے فیوض سے بھی مستفید ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ ریاضت، عبادت، معاہدہ، فقر اور ترک و تجرید میں بے نظیر تھے ۔ شہرت پسند نہ فرماتے تھے، آپ کو استغراق بہت پسند تھا، تحمل، بردباری، قناعت، توکل، تقویٰ، ورع، عشق، ذوق و شوق کا مجسمہ تھے ۔
آپ ہمیشہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی کتاب "عوارف المعارف" کا درس دیا کرتے تھے ۔ طبیعت میں لطافت و پاکیزگی کا عنصر غالب تھا۔ رزق حلال کی پابندی پر ہمیشہ زور دیتے ۔ بلکہ رزق حلال کر اسلام کا چھٹا رکن گردانتے تھے ۔
عشق رسول ﷺ اور اتباع سنت رسول پاک علیہ الصلوۃ والسلام میں مکمل طور پر مستغرق رہتے ۔ ہمیشہ صوم و صلوۃ کے پابند رہتے اور مریدین کو اس کی تلقین کرتے اور فرماتے کہ شریعت مطہرہ کی اقتدا کے بغیر روحانی منازل طے نہیں ہو سکتیں ـ
جب کبھی رسالت مآب آقائے نامدار سرور دو عالم ﷺ کا ذکر مبارک آتا تو زار و قطار روتے ۔ ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ کے وصال مبارک کا ذکر سنا ہی تھا کہ ایسی آہ بھری کہ بے ہوشی کا عالم طاری ہو گیا ۔ بڑی دیر کے بعد ہوش آیا کہ جب فخرِ انسانیت نبی بحر و بر ﷺ اس دارِ فانی سے تشریف لے گے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے؟ کہ زندگی کی خواہش بھی کریں ۔ ہمیں غفلت کے پردے کو اٹھا دینا چاہیے ۔ اور زادِ راہ کی فکر کرنی چاہیے ۔
مولانا بدر الدین اسحاق فرماتے ہیں:
میں حضرت کا خادمِ خاص تھا، جو بات کہنا ہوتی مجھ سے فرماتے تھے ۔ میں نے ساری زندگی حضرت کی خدمت میں گزاری، لیکن خلوت و جلوت ، ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں دیکھا ۔ ( سیر الاولیاء ص:65)
وصال:
آپ کا وصال بروز منگل 5 محرم الحرام 664ھ، بمطابق اکتوبر 1265ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پاکپتن میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اکابرینِ چشت ۔ بہارِ چشت ۔ سیرالعارفین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-fareeduddin-ganj-shakar-history
scholars.pk
Fariduddin Ganjshakar -Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali Hajveri,Shrine of baba farid,
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
Ziaetaiba please to share the true Biography of Hazrat Baba Farid Ganj Shakar, Books, History, Quotes and Poetry
👍2❤1
سرکار غوث الاعظم ، محبوب سبحانی، قطب ربانی شہباز لا مکانی، حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی ثم بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ عبد القادر جیلانی۔کنیت: ابو محمد ۔ اَلقاب: محبوبِ سبحانی، پیرانِ پیر ، محی الدین ۔ عامۃ المسلمین میں آپ ’’غوث الاعظم‘‘ کے نام سے مشہور ہیں ۔ والدِ ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ ہے۔
سلسلۂ نسب:
سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی بن سیّد ابو صالح موسیٰ بن سیّد عبداللہ جیلانی بن سیّد یحییٰ زاہد بن سیّد محمد بن سیّد داؤد بن سیّد موسیٰ بن سیّد عبد اللہ بن سیّد موسیٰ الجون بن سیّد عبد اللہ محض بن سیّدحسن مُثنیّٰ بن سیّدنا امام حسن بن امیر المومنین سیّدنا علی المرتضیٰ ۔
سلسلۂ مادری: کنیت:ام الخیر۔ لقب: اَمَۃُ الْجَبَّار۔اسم مبارک: ’’ فاطمہ بنتِ عبد اللہ صومعی الحسنی‘‘۔سلسلۂ نسب: فاطمہ بنتِ سیّد عبد اللہ صومعی بن سیّد ابو جمال بن سیّد محمد بن سیّد محمود بن سیّد طاہر بن سیّد ابو عطار بن سیّد عبداللہ بن سیّدابو کمال بن سیّد عیسیٰ بن سیّد علاء الدین بن سیّد محمد بن سیّدنا امام علی رضا بن سیّدنا امام موسیٰ کاظم بن سیّدنا امام جعفر صادق بن سیّدنا امام محمد باقر بن سیّدنا امام زین العابدین بن سیّدنا امام حسین بن سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنھم۔ آپ ’’نجیب الطرفین‘‘ سیّد ہیں۔(تذکرہ قادریّہ، ص 129، از پیر سیّد طاہر علاؤ الدین گیلانی)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ مطابق 15؍مارچ 1078ء کو شمالی ایران میں’’بحیرۂ کیسپین‘‘کے جنوبی ساحل پر’’گیلان‘‘ نامی قصبے میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم: بچپن میں والدِ محترم کا وصال ہوگیا تھا۔والدۂ ماجدہ کی آغوش میں تربیت پائی؛ اور انہوں نے تربیت کا حق ادا کردیا۔ دس سال کی عمر میں مکتب میں پڑھنے جاتےتو فرشتے فرماتے: ’’اِفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللہ‘‘ (اللہ کےولی کےلیے جگہ چھوڑ دو)۔ اپنے قصبہ جیلان میں ہی حفظ کرلیا تھا۔ جب عمراٹھارہ سال ہوئی تو تحصیل ِعلم کےلیے بغداد کاقصد کیا۔چھ سو (600) کلومیٹر سےزائد، تکلیف دہ اور خطرناک سفر طےکرکے 488ھ میں بغداد پہنچے۔ بغداد میں علم تجوید اور قراءتِ سبعہ میں مہارت حاصل کی۔ اسی طرح علمِ فقہ و اُصولِ فقہ؛ عرصۂ دراز تک بہت بڑے فقہاء مثلاً ابوالوفا علی بن عقیل حنبلی، ابوالخطاب محفوظ الکلوازنی الحنبلی، قاضی ابویعلیٰ، محمد بن الحسین بن محمدالفراء الحنبلی، قاضی ابوسعید؛ اور علمِ حدیث؛ محمد بن الحسن الباقلائی، ابو سعید محمد بن عبد الکریم بن حشیشا، محمد بن محمد الفرسی وغیرہ سے جب کہ علم ِادب ابو زکریا یحییٰ بن علی التبریزی سے حاصل فرمایا۔(قلائدالجواہر، ص4)
شیخ عبد الوہاب شعرانی اور شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ’’یتکلم فی ثلاثۃ عشر علماء‘‘ غوث الاعظم تیرہ علموں میں بیان فرماتے تھے۔(سیرتِ غوث الثقلین، ص64)
شیخ عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں: ’’مدرسۂ عالیہ میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم کلام پڑھتے،دوپہر سے پہلےاور بعددونوں وقت تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول،صرف و نحو؛ اوربعد نمازِ ظہر قرأتِ سبعہ کےساتھ قرآن مجید پڑھاتے تھے۔‘‘(طبقات الکبریٰ ، ج1، ص127)
علم ادب، لغت، اور نحو کےمشہور امام ابو محمد الخشاب نحوی فرماتے ہیں: ’’میں عالم شباب میں علم نحو پڑھتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں حاضر ہوا۔آپ نےمجھےدیکھ کر فرمایا تم ہمارے پاس رہو، ہم تمہیں زمانے کا سیبویہ بنادیں گے، آپ کےپاس پڑھنے لگا، بہت قلیل عرصے میں آپ سےوہ سیکھا جوگزشتہ عمر میں حاصل نہ کرسکا تھا۔مسائل ِ نحویہ و علوم عقلیہ و نقلیہ کےاصول و قواعد مجھے اچھی طرح ذہن نشین ہوگئے۔‘‘(قلائد الجواہر، ص32)
اسی طرح شیخ الاسلام شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ الاسلام علامہ ابن قدامہ حنبلی، قطب الاقطاب شیخ علی بن ہیتی وغیرہم؛ آپ کےشاگرد اور تربیت یافتہ ہیں۔
آپ کےصاحبزادے سیّد عبدالوہاب فرماتے ہیں: ’’آپ نے 528ھ تا 561ھ تینتیس سال درس و تدریس اور فتاوٰی نویسی کےفرائض سرانجام دیے۔‘‘(قلائد الجواہر، ص18)
علامہ شعرانی فرماتے ہیں: ’’کانت فتواہ تعرض علی العلماء باالعراق فتعجبھم اشدا الاعجاب فیقولون سبحان من انعم علیہ‘‘ یعنی علمائے عراق کےسامنے آپ کےفتاوٰی پیش کیے جاتےتھے،تو ان کو آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت پر سخت تعجب ہوتا تھا؛ اور وہ یہ پکار اٹھتے تھے کہ وہ ذات پاک ہے جس نےان کوایسی علمی نعمت سےنوازا ہے۔(طبقات الکبرٰی، ج1، ص127)
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ عبد القادر جیلانی۔کنیت: ابو محمد ۔ اَلقاب: محبوبِ سبحانی، پیرانِ پیر ، محی الدین ۔ عامۃ المسلمین میں آپ ’’غوث الاعظم‘‘ کے نام سے مشہور ہیں ۔ والدِ ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ ہے۔
سلسلۂ نسب:
سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی بن سیّد ابو صالح موسیٰ بن سیّد عبداللہ جیلانی بن سیّد یحییٰ زاہد بن سیّد محمد بن سیّد داؤد بن سیّد موسیٰ بن سیّد عبد اللہ بن سیّد موسیٰ الجون بن سیّد عبد اللہ محض بن سیّدحسن مُثنیّٰ بن سیّدنا امام حسن بن امیر المومنین سیّدنا علی المرتضیٰ ۔
سلسلۂ مادری: کنیت:ام الخیر۔ لقب: اَمَۃُ الْجَبَّار۔اسم مبارک: ’’ فاطمہ بنتِ عبد اللہ صومعی الحسنی‘‘۔سلسلۂ نسب: فاطمہ بنتِ سیّد عبد اللہ صومعی بن سیّد ابو جمال بن سیّد محمد بن سیّد محمود بن سیّد طاہر بن سیّد ابو عطار بن سیّد عبداللہ بن سیّدابو کمال بن سیّد عیسیٰ بن سیّد علاء الدین بن سیّد محمد بن سیّدنا امام علی رضا بن سیّدنا امام موسیٰ کاظم بن سیّدنا امام جعفر صادق بن سیّدنا امام محمد باقر بن سیّدنا امام زین العابدین بن سیّدنا امام حسین بن سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنھم۔ آپ ’’نجیب الطرفین‘‘ سیّد ہیں۔(تذکرہ قادریّہ، ص 129، از پیر سیّد طاہر علاؤ الدین گیلانی)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ مطابق 15؍مارچ 1078ء کو شمالی ایران میں’’بحیرۂ کیسپین‘‘کے جنوبی ساحل پر’’گیلان‘‘ نامی قصبے میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم: بچپن میں والدِ محترم کا وصال ہوگیا تھا۔والدۂ ماجدہ کی آغوش میں تربیت پائی؛ اور انہوں نے تربیت کا حق ادا کردیا۔ دس سال کی عمر میں مکتب میں پڑھنے جاتےتو فرشتے فرماتے: ’’اِفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللہ‘‘ (اللہ کےولی کےلیے جگہ چھوڑ دو)۔ اپنے قصبہ جیلان میں ہی حفظ کرلیا تھا۔ جب عمراٹھارہ سال ہوئی تو تحصیل ِعلم کےلیے بغداد کاقصد کیا۔چھ سو (600) کلومیٹر سےزائد، تکلیف دہ اور خطرناک سفر طےکرکے 488ھ میں بغداد پہنچے۔ بغداد میں علم تجوید اور قراءتِ سبعہ میں مہارت حاصل کی۔ اسی طرح علمِ فقہ و اُصولِ فقہ؛ عرصۂ دراز تک بہت بڑے فقہاء مثلاً ابوالوفا علی بن عقیل حنبلی، ابوالخطاب محفوظ الکلوازنی الحنبلی، قاضی ابویعلیٰ، محمد بن الحسین بن محمدالفراء الحنبلی، قاضی ابوسعید؛ اور علمِ حدیث؛ محمد بن الحسن الباقلائی، ابو سعید محمد بن عبد الکریم بن حشیشا، محمد بن محمد الفرسی وغیرہ سے جب کہ علم ِادب ابو زکریا یحییٰ بن علی التبریزی سے حاصل فرمایا۔(قلائدالجواہر، ص4)
شیخ عبد الوہاب شعرانی اور شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ’’یتکلم فی ثلاثۃ عشر علماء‘‘ غوث الاعظم تیرہ علموں میں بیان فرماتے تھے۔(سیرتِ غوث الثقلین، ص64)
شیخ عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں: ’’مدرسۂ عالیہ میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم کلام پڑھتے،دوپہر سے پہلےاور بعددونوں وقت تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول،صرف و نحو؛ اوربعد نمازِ ظہر قرأتِ سبعہ کےساتھ قرآن مجید پڑھاتے تھے۔‘‘(طبقات الکبریٰ ، ج1، ص127)
علم ادب، لغت، اور نحو کےمشہور امام ابو محمد الخشاب نحوی فرماتے ہیں: ’’میں عالم شباب میں علم نحو پڑھتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں حاضر ہوا۔آپ نےمجھےدیکھ کر فرمایا تم ہمارے پاس رہو، ہم تمہیں زمانے کا سیبویہ بنادیں گے، آپ کےپاس پڑھنے لگا، بہت قلیل عرصے میں آپ سےوہ سیکھا جوگزشتہ عمر میں حاصل نہ کرسکا تھا۔مسائل ِ نحویہ و علوم عقلیہ و نقلیہ کےاصول و قواعد مجھے اچھی طرح ذہن نشین ہوگئے۔‘‘(قلائد الجواہر، ص32)
اسی طرح شیخ الاسلام شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ الاسلام علامہ ابن قدامہ حنبلی، قطب الاقطاب شیخ علی بن ہیتی وغیرہم؛ آپ کےشاگرد اور تربیت یافتہ ہیں۔
آپ کےصاحبزادے سیّد عبدالوہاب فرماتے ہیں: ’’آپ نے 528ھ تا 561ھ تینتیس سال درس و تدریس اور فتاوٰی نویسی کےفرائض سرانجام دیے۔‘‘(قلائد الجواہر، ص18)
علامہ شعرانی فرماتے ہیں: ’’کانت فتواہ تعرض علی العلماء باالعراق فتعجبھم اشدا الاعجاب فیقولون سبحان من انعم علیہ‘‘ یعنی علمائے عراق کےسامنے آپ کےفتاوٰی پیش کیے جاتےتھے،تو ان کو آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت پر سخت تعجب ہوتا تھا؛ اور وہ یہ پکار اٹھتے تھے کہ وہ ذات پاک ہے جس نےان کوایسی علمی نعمت سےنوازا ہے۔(طبقات الکبرٰی، ج1، ص127)
👍2❤1
نے فرمایا ہے:
قم بِاذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
.
خود غوث الاعظم فرماتے ہیں:
’’دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتَّى صِرْتُ قُطْبًا
وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَى الْمَوَالِيْ‘‘
ترجمہ: ’’میں نے علم حاصل کیا یہاں تک کہ قطبیت کےمرتبے پر فائز ہوا، میں نے استاذالاساتذہ شیخ کامل کے حضور حاضر ہوکر سعادت کی منزلوں کو پایا۔‘‘(قصیدۂ غوثیہ)
بیعت وخلافت: سیّدنا ابو سعید مبارک مخزومی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔
سیرت و خصائص: محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، محی الدین، شیخ الاسلام، غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی ۔آپ کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف وتوصیف میں تمام متأخرین اولیائے ِ کاملین کے تذکرے بےشمار ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق ومحامد سے متصف فرمایاتھاکہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔اپنے تواپنے غیرمسلم بھی آپ کےحسن ِسلوک کےگرویدہ تھے۔آپ اسلامی اخلاق اورانسانی اوصاف کے پیکر تھے۔شیخ حراوہ فرماتے ہیں: ’’میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا‘‘۔آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع وانکساری کے ساتھ پیش آتے،لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا توآپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کیے۔مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مُروَّت سے پیش آتے۔سچائی اور حق گوئی کادامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔آپ معروف(نیکی) کا حکم دیتے اور منکرات(برائی) سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ بپاکردیا تھا۔ سیّدنا غوثِ اعظممجسمہ ایثاروسخاوت تھے۔دریا دلی کا یہ عالم تھاکہ جوکچھ پاس ہوتاسب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرمادیتے۔عفووکرم کے پیکر جمیل تھے۔کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصّہ نہیں آتا۔لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔ امام ابو عبداللہ محمد یوسف البرزالی لکھتے ہیں: ’’آپ مستحبات الدعوات تھے، ہمیشہ اللہ کے ذکر وفکر میں مشغول رہتے اور کثرتِ ذکراورخوفِ خدا سے آپ کی آنکھیں اشک باررہتیں ۔ آپ انتہائی رقیق القلب، شگفتہ رو، کریم النفس ، فراخ دست، ذی علم، بلند اخلاق اور عالی نسب تھے۔ عبادات اور مجاہدے میں آپ سب سے رفیع الشان تھے اور آپ کانورانی چہرہ ہمیشہ بشّاش اور تبسُّم آمیز نظر آتا۔‘‘ مفتی عراق محمد بن حامد البغدادی لکھتے ہیں: ’’آپ فحش باتوں سے کوسوں دورتھے، اپنی ذات کے معاملے میں آپ کو نہ کبھی کسی پر غصّہ آیا اور نہ ہی آپ نے کسی سے انتقام لیا، سوائے اس کےکہ کسی نے ایسا کام کیاہو جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہو، تو آپ غضب ناک ہوجاتے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحیدکےحوالےسےکسی رُو رعایت کےقائل نہ تھے۔‘‘ کرامات کےعلاوہ ہم نےصرف آپ کی سیرتِ مبارکہ کی ایک مختصر جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔جس طرح رسول اللہﷺ کےمعجزات بےشمار ہیں، اسی طرح آپ کی کرامات بھی بےشمار ہیں۔آپ خود فرماتے ہیں: ’’ہر ولی کسی نہ کسی مُقتد ا کے نقشِ قدم پرگامزن رہتا ہے اور میں بَدرُ الکمال یعنی سیّدالمرسلین ﷺکے نقش قدم پر ہوں۔‘‘
شریعت کی پابندی: آپ اپنے مریدین اور شاگردوں کوقرآن و حدیث،اور فقہ و تصوف کی تلقین فرمایا کرتے اور خصوصی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے تھے کہ جو تصوف، فقہ کے تابع نہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا نہیں ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے: ’’شریعت جس حقیقت کی گواہی نہ دے وہ زندیقیت ہے۔ اپنے رب کی بارگاہ کی طرف کتاب و سنّت کے دو پروں کےساتھ پروازکرو۔ اپنا ہاتھ رسول اللہﷺکے دستِ مبارک میں دےکراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دو۔ فرض عبادتوں کا ترک زندیقیت اور گناہوں کا ارتکاب معصیت ہے۔‘‘ (الفتح الربانی، 145)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 11؍یا 17؍ ربیع الآخر561ھ کو 91سال کی عمر مبارک میں بغدادمیں ہوا۔(تذکرۂمشائخِ قادریّہ رضویہ، ص256؛ سیرتِ غوث اعظم، ص247)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-qadir-jilani-ghous-pak
قم بِاذنِ اللہ کہہ سکتے تھے جو، رُخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن
.
خود غوث الاعظم فرماتے ہیں:
’’دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتَّى صِرْتُ قُطْبًا
وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَى الْمَوَالِيْ‘‘
ترجمہ: ’’میں نے علم حاصل کیا یہاں تک کہ قطبیت کےمرتبے پر فائز ہوا، میں نے استاذالاساتذہ شیخ کامل کے حضور حاضر ہوکر سعادت کی منزلوں کو پایا۔‘‘(قصیدۂ غوثیہ)
بیعت وخلافت: سیّدنا ابو سعید مبارک مخزومی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔
سیرت و خصائص: محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، محی الدین، شیخ الاسلام، غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی ۔آپ کے اخلاقِ حسنہ اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف وتوصیف میں تمام متأخرین اولیائے ِ کاملین کے تذکرے بےشمار ہیں۔ قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق ومحامد سے متصف فرمایاتھاکہ آپ کے معاصرین آپ کی تحسین کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔اپنے تواپنے غیرمسلم بھی آپ کےحسن ِسلوک کےگرویدہ تھے۔آپ اسلامی اخلاق اورانسانی اوصاف کے پیکر تھے۔شیخ حراوہ فرماتے ہیں: ’’میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا‘‘۔آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع وانکساری کے ساتھ پیش آتے،لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا توآپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کیے۔مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مُروَّت سے پیش آتے۔سچائی اور حق گوئی کادامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔ حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔آپ معروف(نیکی) کا حکم دیتے اور منکرات(برائی) سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ بپاکردیا تھا۔ سیّدنا غوثِ اعظممجسمہ ایثاروسخاوت تھے۔دریا دلی کا یہ عالم تھاکہ جوکچھ پاس ہوتاسب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرمادیتے۔عفووکرم کے پیکر جمیل تھے۔کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصّہ نہیں آتا۔لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔ امام ابو عبداللہ محمد یوسف البرزالی لکھتے ہیں: ’’آپ مستحبات الدعوات تھے، ہمیشہ اللہ کے ذکر وفکر میں مشغول رہتے اور کثرتِ ذکراورخوفِ خدا سے آپ کی آنکھیں اشک باررہتیں ۔ آپ انتہائی رقیق القلب، شگفتہ رو، کریم النفس ، فراخ دست، ذی علم، بلند اخلاق اور عالی نسب تھے۔ عبادات اور مجاہدے میں آپ سب سے رفیع الشان تھے اور آپ کانورانی چہرہ ہمیشہ بشّاش اور تبسُّم آمیز نظر آتا۔‘‘ مفتی عراق محمد بن حامد البغدادی لکھتے ہیں: ’’آپ فحش باتوں سے کوسوں دورتھے، اپنی ذات کے معاملے میں آپ کو نہ کبھی کسی پر غصّہ آیا اور نہ ہی آپ نے کسی سے انتقام لیا، سوائے اس کےکہ کسی نے ایسا کام کیاہو جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہو، تو آپ غضب ناک ہوجاتے۔ آپ اللہ تعالیٰ کی توحیدکےحوالےسےکسی رُو رعایت کےقائل نہ تھے۔‘‘ کرامات کےعلاوہ ہم نےصرف آپ کی سیرتِ مبارکہ کی ایک مختصر جھلک پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔جس طرح رسول اللہﷺ کےمعجزات بےشمار ہیں، اسی طرح آپ کی کرامات بھی بےشمار ہیں۔آپ خود فرماتے ہیں: ’’ہر ولی کسی نہ کسی مُقتد ا کے نقشِ قدم پرگامزن رہتا ہے اور میں بَدرُ الکمال یعنی سیّدالمرسلین ﷺکے نقش قدم پر ہوں۔‘‘
شریعت کی پابندی: آپ اپنے مریدین اور شاگردوں کوقرآن و حدیث،اور فقہ و تصوف کی تلقین فرمایا کرتے اور خصوصی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے تھے کہ جو تصوف، فقہ کے تابع نہیں وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا نہیں ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے: ’’شریعت جس حقیقت کی گواہی نہ دے وہ زندیقیت ہے۔ اپنے رب کی بارگاہ کی طرف کتاب و سنّت کے دو پروں کےساتھ پروازکرو۔ اپنا ہاتھ رسول اللہﷺکے دستِ مبارک میں دےکراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری دو۔ فرض عبادتوں کا ترک زندیقیت اور گناہوں کا ارتکاب معصیت ہے۔‘‘ (الفتح الربانی، 145)
تاریخِ وصال: آپ کاوصال 11؍یا 17؍ ربیع الآخر561ھ کو 91سال کی عمر مبارک میں بغدادمیں ہوا۔(تذکرۂمشائخِ قادریّہ رضویہ، ص256؛ سیرتِ غوث اعظم، ص247)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdul-qadir-jilani-ghous-pak
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani Ghous Pak
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-08-1444 ᴴ | 23-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-09-1444 ᴴ | 24-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1