🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-08-1444 ᴴ | 23-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-08-1444 ᴴ | 23-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-08-1444 ᴴ | 23-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-08-1444 ᴴ | 23-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
ماہ رمضان اور روزہ قِسط❶↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12984
ماه رمضان اور روزه قِسط❷↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12985
ماہ رمضان اور روزہ قِسط❸↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12986
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
چاند 📚 رویت ہلال | رؤیت ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13321
ماہ رمضان اور نماز تراویح ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13071
فضائل شب قدر | لیلۃ القدر ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/13262
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
زکٰوة سے متعلق فتاوے 📜
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11285
زکٰوۃ سے متعلق کتابیں 📚
زکٰوۃ صدقہ صدقات صدقۂ فطر
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11403
عشر سے متعلق کتابیں 📚
زمین کی پیدا وار پر زکٰوۃ 📜
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11300
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پیسوں کی زکٰوۃ نکالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس قدر بھی رقم ہو اسے چالیس پر تقسیم کر دیں پھر جو حاصلِ جواب ہوگا وہ اس رقم کی زکوۃ ہوگی ـ جیسے: 100000÷40=2500
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@islaamic_Knowledge
@Aalaa_Hazrat_Library
@Maslake_Aalaa_Hazrat
@AhleSunnat_HindiBooks
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
4👍2👌1
قطب العالم حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مسعود ۔ لقب: فرید ، گنج شکر ، قطب العالم ، زہد الانبیاء ۔

والد کا اسمِ گرامی:
شیخ جمال الدین سلیمان ہے ۔

آپ کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت فاروقِ اعظم رضی الله عنه سے جاکر ملتا ہے ۔ " سیر المصنفین " کے مطابق آپ کے والدِ گرامی سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے ۔ (بہارِ چشت ص:87)

تاریخِ ولادت:
آپ کی والادت باسعادت 574ھ ، بمطابق 1179ء کو موضع کوتوال (موجودہ نام کوٹھے والا) ضلع ملتان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔ جب زمانۂ طالب علمی میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی، اور عبادت و ریاضت کی خواہش ظاہر کی تو حضرت نے فرمایا! "علم میں کمال حاصل کرو، بے علم عابد مسخرۂ شیطان ہوتا ہے " ۔ (اکابرینِ چشت ص:83)

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی الله تعالیٰ عنه کے حکم سے خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔ اس کے علاوہ آپ حضرت سلطان الہند اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے فیوض سے بھی مستفید ہوئے ۔

سیرتِ مبارکہ:
آپ ریاضت، عبادت، معاہدہ، فقر اور ترک و تجرید میں بے نظیر تھے ۔ شہرت پسند نہ فرماتے تھے، آپ کو استغراق بہت پسند تھا، تحمل، بردباری، قناعت، توکل، تقویٰ، ورع، عشق، ذوق و شوق کا مجسمہ تھے ۔

آپ ہمیشہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی کتاب "عوارف المعارف" کا درس دیا کرتے تھے ۔ طبیعت میں لطافت و پاکیزگی کا عنصر غالب تھا۔ رزق حلال کی پابندی پر ہمیشہ زور دیتے ۔ بلکہ رزق حلال کر اسلام کا چھٹا رکن گردانتے تھے ۔

عشق رسول ﷺ اور اتباع سنت رسول پاک علیہ الصلوۃ والسلام میں مکمل طور پر مستغرق رہتے ۔ ہمیشہ صوم و صلوۃ کے پابند رہتے اور مریدین کو اس کی تلقین کرتے اور فرماتے کہ شریعت مطہرہ کی اقتدا کے بغیر روحانی منازل طے نہیں ہو سکتیں ـ

جب کبھی رسالت مآب آقائے نامدار سرور دو عالم ﷺ کا ذکر مبارک آتا تو زار و قطار روتے ۔ ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ کے وصال مبارک کا ذکر سنا ہی تھا کہ ایسی آہ بھری کہ بے ہوشی کا عالم طاری ہو گیا ۔ بڑی دیر کے بعد ہوش آیا کہ جب فخرِ انسانیت نبی بحر و بر ﷺ اس دارِ فانی سے تشریف لے گے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے؟ کہ زندگی کی خواہش بھی کریں ۔ ہمیں غفلت کے پردے کو اٹھا دینا چاہیے ۔ اور زادِ راہ کی فکر کرنی چاہیے ۔

مولانا بدر الدین اسحاق فرماتے ہیں:
میں حضرت کا خادمِ خاص تھا، جو بات کہنا ہوتی مجھ سے فرماتے تھے ۔ میں نے ساری زندگی حضرت کی خدمت میں گزاری، لیکن خلوت و جلوت ، ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں دیکھا ۔ ( سیر الاولیاء ص:65)

وصال:
آپ کا وصال بروز منگل 5 محرم الحرام 664ھ، بمطابق اکتوبر 1265ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پاکپتن میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
اکابرینِ چشت ۔ بہارِ چشت ۔ سیرالعارفین ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-fareeduddin-ganj-shakar-history
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
سرکار غوث الاعظم ، محبوب سبحانی، قطب ربانی شہباز لا مکانی، حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی ثم بغدادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ عبد القادر جیلانی۔کنیت: ابو محمد ۔ اَلقاب: محبوبِ سبحانی، پیرانِ پیر ، محی الدین ۔ عامۃ المسلمین میں آپ ’’غوث الاعظم‘‘ کے نام سے مشہور ہیں ۔ والدِ ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ ہے۔

سلسلۂ نسب:
سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی بن سیّد ابو صالح موسیٰ بن سیّد عبداللہ جیلانی بن سیّد یحییٰ زاہد بن سیّد محمد بن سیّد داؤد بن سیّد موسیٰ بن سیّد عبد اللہ بن سیّد موسیٰ الجون بن سیّد عبد اللہ محض بن سیّدحسن مُثنیّٰ بن سیّدنا امام حسن بن امیر المومنین سیّدنا علی المرتضیٰ ۔

سلسلۂ مادری: کنیت:ام الخیر۔ لقب: اَمَۃُ الْجَبَّار۔اسم مبارک: ’’ فاطمہ بنتِ عبد اللہ صومعی الحسنی‘‘۔سلسلۂ نسب: فاطمہ بنتِ سیّد عبد اللہ صومعی بن سیّد ابو جمال بن سیّد محمد بن سیّد محمود بن سیّد طاہر بن سیّد ابو عطار بن سیّد عبداللہ بن سیّدابو کمال بن سیّد عیسیٰ بن سیّد علاء الدین بن سیّد محمد بن سیّدنا امام علی رضا بن سیّدنا امام موسیٰ کاظم بن سیّدنا امام جعفر صادق بن سیّدنا امام محمد باقر بن سیّدنا امام زین العابدین بن سیّدنا امام حسین بن سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنھم۔ آپ ’’نجیب الطرفین‘‘ سیّد ہیں۔(تذکرہ قادریّہ، ص 129، از پیر سیّد طاہر علاؤ الدین گیلانی﷫)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت یکم رمضان المبارک 470ھ مطابق 15؍مارچ 1078ء کو شمالی ایران میں’’بحیرۂ کیسپین‘‘کے جنوبی ساحل پر’’گیلان‘‘ نامی قصبے میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم: بچپن میں والدِ محترم کا وصال ہوگیا تھا۔والدۂ ماجدہ کی آغوش میں تربیت پائی؛ اور انہوں نے تربیت کا حق ادا کردیا۔ دس سال کی عمر میں مکتب میں پڑھنے جاتےتو فرشتے فرماتے: ’’اِفْسَحُوْا لِوَلِیِّ اللہ‘‘ (اللہ کےولی کےلیے جگہ چھوڑ دو)۔ اپنے قصبہ جیلان میں ہی حفظ کرلیا تھا۔ جب عمراٹھارہ سال ہوئی تو تحصیل ِعلم کےلیے بغداد کاقصد کیا۔چھ سو (600) کلومیٹر سےزائد، تکلیف دہ اور خطرناک سفر طےکرکے 488ھ میں بغداد پہنچے۔ بغداد میں علم تجوید اور قراءتِ سبعہ میں مہارت حاصل کی۔ اسی طرح علمِ فقہ و اُصولِ فقہ؛ عرصۂ دراز تک بہت بڑے فقہاء مثلاً ابوالوفا علی بن عقیل حنبلی، ابوالخطاب محفوظ الکلوازنی الحنبلی، قاضی ابویعلیٰ، محمد بن الحسین بن محمدالفراء الحنبلی، قاضی ابوسعید؛ اور علمِ حدیث؛ محمد بن الحسن الباقلائی، ابو سعید محمد بن عبد الکریم بن حشیشا، محمد بن محمد الفرسی وغیرہ سے جب کہ علم ِادب ابو زکریا یحییٰ بن علی التبریزی سے حاصل فرمایا۔(قلائدالجواہر، ص4)

شیخ عبد الوہاب شعرانی اور شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی﷫ فرماتے ہیں: ’’یتکلم فی ثلاثۃ عشر علماء‘‘ غوث الاعظم تیرہ علموں میں بیان فرماتے تھے۔(سیرتِ غوث الثقلین، ص64)

شیخ عبدالوہاب شعرانی ﷫ فرماتے ہیں: ’’مدرسۂ عالیہ میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم کلام پڑھتے،دوپہر سے پہلےاور بعددونوں وقت تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول،صرف و نحو؛ اوربعد نمازِ ظہر قرأتِ سبعہ کےساتھ قرآن مجید پڑھاتے تھے۔‘‘(طبقات الکبریٰ ، ج1، ص127)

علم ادب، لغت، اور نحو کےمشہور امام ابو محمد الخشاب نحوی فرماتے ہیں: ’’میں عالم شباب میں علم نحو پڑھتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں حاضر ہوا۔آپ نےمجھےدیکھ کر فرمایا تم ہمارے پاس رہو، ہم تمہیں زمانے کا سیبویہ بنادیں گے، آپ کےپاس پڑھنے لگا، بہت قلیل عرصے میں آپ سےوہ سیکھا جوگزشتہ عمر میں حاصل نہ کرسکا تھا۔مسائل ِ نحویہ و علوم عقلیہ و نقلیہ کےاصول و قواعد مجھے اچھی طرح ذہن نشین ہوگئے۔‘‘(قلائد الجواہر، ص32)

اسی طرح شیخ الاسلام شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ الاسلام علامہ ابن قدامہ حنبلی، قطب الاقطاب شیخ علی بن ہیتی وغیرہم﷢؛ آپ کےشاگرد اور تربیت یافتہ ہیں۔

آپ کےصاحبزادے سیّد عبدالوہاب ﷫فرماتے ہیں: ’’آپ نے 528ھ تا 561ھ تینتیس سال درس و تدریس اور فتاوٰی نویسی کےفرائض سرانجام دیے۔‘‘(قلائد الجواہر، ص18)

علامہ شعرانی﷫ فرماتے ہیں: ’’کانت فتواہ تعرض علی العلماء باالعراق فتعجبھم اشدا الاعجاب فیقولون سبحان من انعم علیہ‘‘ یعنی علمائے عراق کےسامنے آپ کےفتاوٰی پیش کیے جاتےتھے،تو ان کو آپ کی علمی قابلیت و صلاحیت پر سخت تعجب ہوتا تھا؛ اور وہ یہ پکار اٹھتے تھے کہ وہ ذات پاک ہے جس نےان کوایسی علمی نعمت سےنوازا ہے۔(طبقات الکبرٰی، ج1، ص127)
👍21