This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شاعروں اور ادیبوں کے اصل نام
قلمی نام .............. اصل نام
آثم فردوسی میاں عبدلحمید
آرزو لکھنوی سید انور حسین
اختر شیرانی محمد داود خان
اختر کاشمیری محمد طفیل
اختر ہاشمی محمد جلیل
اختر وارثی عبدالعزیز
آئی آئی قاضی امداد امام علی قاضی
ابن انشاء شیر محمد خان
انشاء سید انشاءاللہ خان
اسلم راہی محمد اسلم ملک
افسر ماہ پوری ظہیر عالم صدیقی
تبسم کاشمیری ڈاکٹر محمد صالحین
انور سدید محمد انورالدین
انیس ناگی یعقوب علی
جاذب قریشی محمد صابر
پطرس بخاری سید احمد شاہ
تبسم رضوانی حبیب اللہ
تنویر بخاری فقیر محمد
ثاقب حزیں محمد غلام مصطفیٰ
ثمر جالندھری محمد شریف
جان کاشمیری محمد نصیر
بہزاد لکھنوی سردار حسن خان
جعفر بلوچ غلام بلوچ
جلیل قدوائی جلیل احمد
جمال پانی پتی گلزار احمد
جوش ملیح آبادی شبیر حسن
تابش دہلوی مسعودالحسن
حافظ امرتسری محمد شریف
حبیب جالب حبیب احمد
حفیظ جالندھری ابوالاثر حفیظ
خاطر غزنوی محمد ابراہیم بیگ
سہیل بخاری محمود نقوی
شاعر لکھنوی حسین پاشا
شکیب جلالی حسن رضوی
شوکت تھانوی محمد عمر
صبا اکبر آبادی محمد امیر
قتیل شفائی اورنگزیب
جمیل جالبی محمد جمیل خان
حافظ لدھیانوی محمد منظور حسین
رئیس امروہوی سعید محمد مہدی
حسن عسکری محمد حسن
ن م راشد نذر محمد
صہبا اختر اختر علی رحمت
قمر جلالوی محمد حسین
کوثر نیازی محمد حیات
محسن بھوپالی عبدالرحمٰن
محسن نقوی غلام عباس
محشر بدایونی فاروق احمد
نسیم حجازی محمد شریف
منو بھائی منیر احمد
ناسخ شیخ امام بخش
ذوق محمد ابراہیم
راسخ شیخ غلام علی
داغ نواب مرزا خان
دبیر مرزا سلامت علی
درد سید خواجہ میر
سرشار پنڈت رتن ناتھ
ساحر لدھیانوی عبدالحئ
سودا مرزا محمد رفیع
ماجد صدیقی عاشق حسین
ماہر القادری منظور حسین
مجنوں گورکھپوری احمد صدیق
مومن حکیم مومن خان
آتش خواجہ حیدر علی
آرزو محمد حسین
حسرت موہانی فضل الحسن
ابوالکلام آزاد محی الدین
اصغر گونڈوی اصغر حسین
افسوس میر شیر علی
فراق گورکھپوری رگھو پتی سہائے
فانی بدایونی شوکت علی
مصحفی غلام ہمدانی
میرا جی ثناءاللہ ڈار
حسن میر غلام حسن
میر محمد تقی
نظیر اکبرآبادی شیخ محمد ولی
نظم طباطبائی سید حیدر علی
ناصرکاظمی ناصر رضا کاظمی
مرزا غالب اسداللہ خان
نسیم پنڈت دیا شنکرم
یاس یگانہ چنگیزی مرزاواجد حسین
ولی دکنی شمس الدین محمدولی
محروم تلوک چند
امیر خسرو ابوالحسن یمین الدین
عمر خیام غیاث الدین ابوالفتح
اشرف صبوحی ولی اشرف
امانت لکھنوی سید اکبر حسین
امیر مینائی امیر احمد
انیس میر ببر علی
بےخود دہلوی سیدوحیدالدین
بےدل مرزا عبدلقادر
پریم چند دھیت رائے
تاباں غلام ربانی
جوش ملیسانی پنڈت لبھو رام
جرأت یحیٰ امان
جگر مرادآبادی علی سکندر
حالی مولاناالطاف حسین
چکبست پنڈت برج نارائن
امام غزالی ابوحامدمحمدبن غزالی
شیخ سعدی مصلح الدین
بلھے شاہ سید عبداللہ
سچل سرمست عبدالوہاب
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
قلمی نام .............. اصل نام
آثم فردوسی میاں عبدلحمید
آرزو لکھنوی سید انور حسین
اختر شیرانی محمد داود خان
اختر کاشمیری محمد طفیل
اختر ہاشمی محمد جلیل
اختر وارثی عبدالعزیز
آئی آئی قاضی امداد امام علی قاضی
ابن انشاء شیر محمد خان
انشاء سید انشاءاللہ خان
اسلم راہی محمد اسلم ملک
افسر ماہ پوری ظہیر عالم صدیقی
تبسم کاشمیری ڈاکٹر محمد صالحین
انور سدید محمد انورالدین
انیس ناگی یعقوب علی
جاذب قریشی محمد صابر
پطرس بخاری سید احمد شاہ
تبسم رضوانی حبیب اللہ
تنویر بخاری فقیر محمد
ثاقب حزیں محمد غلام مصطفیٰ
ثمر جالندھری محمد شریف
جان کاشمیری محمد نصیر
بہزاد لکھنوی سردار حسن خان
جعفر بلوچ غلام بلوچ
جلیل قدوائی جلیل احمد
جمال پانی پتی گلزار احمد
جوش ملیح آبادی شبیر حسن
تابش دہلوی مسعودالحسن
حافظ امرتسری محمد شریف
حبیب جالب حبیب احمد
حفیظ جالندھری ابوالاثر حفیظ
خاطر غزنوی محمد ابراہیم بیگ
سہیل بخاری محمود نقوی
شاعر لکھنوی حسین پاشا
شکیب جلالی حسن رضوی
شوکت تھانوی محمد عمر
صبا اکبر آبادی محمد امیر
قتیل شفائی اورنگزیب
جمیل جالبی محمد جمیل خان
حافظ لدھیانوی محمد منظور حسین
رئیس امروہوی سعید محمد مہدی
حسن عسکری محمد حسن
ن م راشد نذر محمد
صہبا اختر اختر علی رحمت
قمر جلالوی محمد حسین
کوثر نیازی محمد حیات
محسن بھوپالی عبدالرحمٰن
محسن نقوی غلام عباس
محشر بدایونی فاروق احمد
نسیم حجازی محمد شریف
منو بھائی منیر احمد
ناسخ شیخ امام بخش
ذوق محمد ابراہیم
راسخ شیخ غلام علی
داغ نواب مرزا خان
دبیر مرزا سلامت علی
درد سید خواجہ میر
سرشار پنڈت رتن ناتھ
ساحر لدھیانوی عبدالحئ
سودا مرزا محمد رفیع
ماجد صدیقی عاشق حسین
ماہر القادری منظور حسین
مجنوں گورکھپوری احمد صدیق
مومن حکیم مومن خان
آتش خواجہ حیدر علی
آرزو محمد حسین
حسرت موہانی فضل الحسن
ابوالکلام آزاد محی الدین
اصغر گونڈوی اصغر حسین
افسوس میر شیر علی
فراق گورکھپوری رگھو پتی سہائے
فانی بدایونی شوکت علی
مصحفی غلام ہمدانی
میرا جی ثناءاللہ ڈار
حسن میر غلام حسن
میر محمد تقی
نظیر اکبرآبادی شیخ محمد ولی
نظم طباطبائی سید حیدر علی
ناصرکاظمی ناصر رضا کاظمی
مرزا غالب اسداللہ خان
نسیم پنڈت دیا شنکرم
یاس یگانہ چنگیزی مرزاواجد حسین
ولی دکنی شمس الدین محمدولی
محروم تلوک چند
امیر خسرو ابوالحسن یمین الدین
عمر خیام غیاث الدین ابوالفتح
اشرف صبوحی ولی اشرف
امانت لکھنوی سید اکبر حسین
امیر مینائی امیر احمد
انیس میر ببر علی
بےخود دہلوی سیدوحیدالدین
بےدل مرزا عبدلقادر
پریم چند دھیت رائے
تاباں غلام ربانی
جوش ملیسانی پنڈت لبھو رام
جرأت یحیٰ امان
جگر مرادآبادی علی سکندر
حالی مولاناالطاف حسین
چکبست پنڈت برج نارائن
امام غزالی ابوحامدمحمدبن غزالی
شیخ سعدی مصلح الدین
بلھے شاہ سید عبداللہ
سچل سرمست عبدالوہاب
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
مخلوط تعلیم (Co-Education)
تعلیم ضروری ہے لیکن تعلیم و تعلم کا جو طریقہ اسکولوں اور کالجوں میں آج کل رائج ہے وہ بالکل درست نہیں ہے۔ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ساتھ بٹھایا جاتا ہے، پردہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، دیکھنے اور بات کرنے کی آزادی ہوتی ہے؛ یہ سب باتیں فتنوں کی جڑ ہیں۔
افسوس ہے ان مسلمانوں پر جو اپنی بیٹیوں کو اسکولوں اور کالجوں کے گندے ماحول میں بھیج کر ان کی زندگیوں کو تباہ کرتے ہیں۔
بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم (Co-Education) سراسر ناجائز و حرام ہے کیوں کہ بالغ لڑکیوں کا اجنبی مرد سے پردہ ہے اگرچہ وہ استاد ہی ہو اور اسی طرح بالغ لڑکوں کا بالغہ اجنبیہ عورت سے پردہ ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مومن کا عورت کے محاسن کی طرف نظر کرنا شیطان کے زہر سے بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو اللہ عزوجل کے خوف اور ثواب کی امید سے عورت کی طرف دیکھنے سے باز رہا تو اللہ عزوجل اسے ایسی عبادت عطا فرمائے جس کی لذت وہ پائے گا۔
(حلیۃ الاولیاء، ج6، ص101 بہ حوالہ فتاوی یورپ و برطانیہ، ص474)
عبد مصطفی
تعلیم ضروری ہے لیکن تعلیم و تعلم کا جو طریقہ اسکولوں اور کالجوں میں آج کل رائج ہے وہ بالکل درست نہیں ہے۔ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ساتھ بٹھایا جاتا ہے، پردہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، دیکھنے اور بات کرنے کی آزادی ہوتی ہے؛ یہ سب باتیں فتنوں کی جڑ ہیں۔
افسوس ہے ان مسلمانوں پر جو اپنی بیٹیوں کو اسکولوں اور کالجوں کے گندے ماحول میں بھیج کر ان کی زندگیوں کو تباہ کرتے ہیں۔
بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم (Co-Education) سراسر ناجائز و حرام ہے کیوں کہ بالغ لڑکیوں کا اجنبی مرد سے پردہ ہے اگرچہ وہ استاد ہی ہو اور اسی طرح بالغ لڑکوں کا بالغہ اجنبیہ عورت سے پردہ ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مومن کا عورت کے محاسن کی طرف نظر کرنا شیطان کے زہر سے بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو اللہ عزوجل کے خوف اور ثواب کی امید سے عورت کی طرف دیکھنے سے باز رہا تو اللہ عزوجل اسے ایسی عبادت عطا فرمائے جس کی لذت وہ پائے گا۔
(حلیۃ الاولیاء، ج6، ص101 بہ حوالہ فتاوی یورپ و برطانیہ، ص474)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 📚تحقیقات📚
📚امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت
آپ کے افکار و نظریات
پر مشتمل علماء اہلسنت
اور
آپ کی لکھی ہوئی
تقریباً 500 کتب
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%DB%81%D9%84%D8%B3%D9%86%D8%AA&m=1
👥صدقہ جاریہ کے لیے دوسروں کو بھی شئیر کریں
آپ کے افکار و نظریات
پر مشتمل علماء اہلسنت
اور
آپ کی لکھی ہوئی
تقریباً 500 کتب
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%DB%81%D9%84%D8%B3%D9%86%D8%AA&m=1
👥صدقہ جاریہ کے لیے دوسروں کو بھی شئیر کریں
{{ataunnabi }}Islamic PDF Books
Search results for امام اہلسنت
YOUR DESCRIPTION HERE
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Aaj 11 Safar al-Muzaffar, Huzoor k Waalid-e-Girami, Sarkar Mufassir-e-Azam Hadrat Allama Mawlana Ibrahim Raza Khan Jilani Miyan Alaihir raHma ka URS Sharif hay. Hazrat Unki Seerat wa Khidmaat par kch Irshaad farmaen aur ye bhi Irshad farmaen k wo Silsila Aaliya Qadiriya mein kinn se Bay'at thay? JazakAllahu Khairah
http://jamiaturraza.com/session/16Jan11/1.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
http://jamiaturraza.com/session/16Jan11/1.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
11 Safar al-Muzaffar Hazrat k Walid-e-Girami Hazrat Mufassir-e-Azam Mawlana Ibrahim Raza Khan Sahab Jilani Miyan Alaihir raHmah ka URS Sharif guzra. Hazrat Mufassir e Azam ki Khidmat-e-Deeniyah k sath sath ba hesiyat walid unki Seerat Sharif par kch irshaad farmaen. JazakALLAH Kher
http://jamiaturraza.com/session/8Jan12/1.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
http://jamiaturraza.com/session/8Jan12/1.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
Huzoor Mufassir-e-Aazam Hazrat Allamah Mawlana Ibrahim Raza Khan (Jeelani MiyaN) Huzoor ke Walid e Majid ne kabhi Africa tableege deen keliye gaye hai? Huzoor Jeelani MiyaN ke India ke bahar Dawro ke baare me humme bata ke musharraf farmaye
http://jamiaturraza.com/session/18Mar13/5.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
http://jamiaturraza.com/session/18Mar13/5.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
Huzoor Jilani Miyan Alaihir raHma k baray mein Internet par parrha jiss mein unki likhi hui kch Kutb k baray mein bhi maloom hua jin mein Zikrullah, Nematullah, Hujjatullah, Fazail-e-Durood Sharif, Tafseer Surah Balad aur Tashreeh Qasida Nau'mania shamil hain. Kia ye kutb abhi dastiyab hain? Aur agar koi Inn Kitabon ko Publish karna chahay tou inn kutb ki copy kahan se hasil kar sakta hay?
http://jamiaturraza.com/session/16Jan11/2.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
http://jamiaturraza.com/session/16Jan11/2.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
Hazrat Taajush Shariah ke Waalid-e-Maajid Mufassir e Azam Mawlana Ibrahim Raza Khan Jilani Miyan Alayhir Rahmah ki Seerat o Kirdar ke chand goshay.
http://jamiaturraza.com/session/15Dec13/41.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
http://jamiaturraza.com/session/15Dec13/41.mp3
🌹 حضور مفسر اعظم ہند
حـضـرت عـلامـہ مفتی الـشـاہ
محمد ابراہیم رضا خان قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
مسئلہ
امام فرض نماز کے بعد دعا مانگتا ہے اور اس دعا میں یہ آیت کریمہ ( لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین ) پڑھتا ہے اور مقتدی حضرات پیچھے آمین پکارتے ہیں - زید کہتا ہے کہ یہ آیت کریمہ نماز فرض کے بعد بطور دعا پڑھنا اور مقتدیوں کا پیچھے آمین کہنا جائز نہیں
کیا یہ صحیح ہے ؟
جواب زید کا کہنا صحیح و درست ہے
فتاویٰ فقیہ ملت جِلد اوّل صَـ¹⁰⁷
امام فرض نماز کے بعد دعا مانگتا ہے اور اس دعا میں یہ آیت کریمہ ( لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین ) پڑھتا ہے اور مقتدی حضرات پیچھے آمین پکارتے ہیں - زید کہتا ہے کہ یہ آیت کریمہ نماز فرض کے بعد بطور دعا پڑھنا اور مقتدیوں کا پیچھے آمین کہنا جائز نہیں
کیا یہ صحیح ہے ؟
جواب زید کا کہنا صحیح و درست ہے
فتاویٰ فقیہ ملت جِلد اوّل صَـ¹⁰⁷
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*کیا کشمیر میں سب ٹھیک ہے؟*
فریب وتضاد کی تجربہ گاہ بنے کشمیر کے موجودہ حالات پر تجزیاتی تحریر
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
روشن مستقبل دہلی
gmnaimi@gmail.com
سنسان سڑکیں اور دور تک پھیلا ہوا سنّاٹا، فوجی بوُٹوں کی آواز اور گھروں میں سسکتی آہیں !! یہ نظارہ ہے کشمیر کا، جہاں دو مہینے گزر جانے کے بعد بھی کسی کو 80 لاکھ کی آبادی پر رحم نہیں آرہا ہے۔ بھوک سے بلکتے بچے اور دواؤں کو ترستے مریضوں پر کسی کا دل نہیں پسیج رہا ہے۔ ایک طرف حکومتی مشنری اور بھونپو میڈیا ہے جو "آل اِز ویل" کی گردان میں مصروف ہے۔ لیکن دوسری طرف فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ، کشمیر گئے CPM لیڈر سیتا رام ییچوری کا بیانیہ یا پھر سپریم کورٹ کے دخل کے بعد کشمیر گئے غلام نبی آزاد کی چشم دید منظر کشی ایک الگ ہی کہانی ہے۔ انہیں افراد کی آنکھوں دیکھی کے اہم نکات پڑھیں اور کشمیر کی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کریں:
🔹پچھلے پچاس دنوں کے اندر 10 سے 22 سال کی عمر کے 13 ہزار بچوں کو گھروں سے اٹھایا گیا ہے۔
🔹کھانے پینے کی اشیا کی شدید ترین قلت ہے، غلام نبی آزاد کے مطابق کئی علاقوں میں لوگ دوسروں سے مانگنے پر مجبور ہیں۔
🔹آزاد صاحب کا کہنا کہ مجھ سےملنے والوں کو ڈرایا جاتا تھا تاکہ وہ مجھے صحیح صورت حال نہ بتاسکیں۔ملنے والوں سے کہا گیا کہ ان کے چہرے کیمروں میں قید ہیں اگر کچھ بتایا تو بعد میں انہیں اٹھا لیا جائے گا۔
🔹سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود انتظامیہ نے مجھے دس فیصد مقامات پر بھی نہیں جانے دیا۔ ان کے مطابق کشمیر کا ماحول بے حد ڈراؤنا اور خراب ہے،لوگ نہایت کس مپرسی میں جی رہے ہیں !!
17 سے 21 ستمبر کے درمیان خواتین تنظیموں کے پانچ رکنی وفد نے کشمیر کا دورہ کیا تھا، اس وفد میں اینی راجا،پنکھڑی ظہیر، کمل جیت کَور،پونم کوشک اور سعیدہ حمید شامل تھیں. کشمیر کے مختلف علاقوں میں دورہ کرنے کے بعد اس ٹیم نے دہلی پریس کلب میں اپنی جانچ رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کی اسی کے چند نکات یہ ہیں:
🔸کشمیری بچوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے لیکن اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جارہی ہے۔
🔸وکیلوں کو پی ایس اے (پبلک سیفٹی ایکٹ) کے تحت گرفتار کیا جارہا ہے۔بارکونسل اور عدالتیں مکمل بند ہیں۔
🔸اسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔مریض دوائوں کے لیے پریشان ہیں۔
🔸خوف کی وجہ سے لوگ رات آٹھ بجے کے بعد لائٹ تک بجھا دیتے ہیں۔ایک کشمیری خاتون کا کہنا تھا کہ رات کو بچے کو پیشاب بھی لگے تو لائٹ نہیں جلاتی کیوں کہ لائٹ جلانے پرحفاظتی دستے ہم پر سختی کرتے ہیں !!
ایک طرف کشمیر جانے والے سماجی کارکنان ، سی پی ایم اور کانگریس کے لیڈران کشمیر کی یہ صورت حال سامنے رکھتے ہیں تو دوسری جانب وزیر داخلہ نے ایک دم متضاد صورت حال بیان کرتے ہوئے 29 ستمبر کو بیان دیا:
"وادی میں اب کوئی پابندی نہیں ہے.پابندی کہاں ہے؟پابندی آپ (اپوزیشن)کے دماغ میں ہے،کشمیر میں سب ٹھیک ہے"
وزیرداخلہ کے اس بیان پر اعتراض کرتے کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا:
"اگرکشمیر میں کوئی پابندی نہیں ہے تو ابھی تک 10سے 15 ہزار نوجوان اور سیاسی لیڈران کس لئے قید ہیں،موبائل فون اور انٹرنیٹ کیوں بند ہے،کالجز اور یونیورسٹی کیوں بند ہے۔"
یہاں مزید کچھ سوال ہیں جو حکومت سے جواب چاہتے ہیں:
📍اگر کشمیر میں پابندیاں نہیں ہیں تو لوگوں کو آزادانہ نقل و حمل کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
📍کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو 8؍اگست کوپہلی مرتبہ اور 20؍اگست کو دوسری مرتبہ کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیاگیا اور ہوائی اڈے سے ہی واپس دہلی لوٹا دیا گیا۔غلام نبی آزاد خود کشمیری ہیں،سابق وزیراعلیٰ اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہیں اگر اتنا سینئر لیڈر بھی اپنے گھر نہیں جاسکتا تو اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ صورت حال کتنی سنگین ہوگی۔
📍سابق آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل کو دہلی ائیرپورٹ پر اس وقت روک دیا گیاجب وہ کسی تعلیمی پروجیکٹ کے سلسلے میں جرمنی جانا چاہتے تھے لیکن انہیں ائیرپورٹ سے واپس لاکر کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔آخر ایک آئی اے ایس ٹاپر کو اس غیر قانونی طریقے سے کیوں گرفتار کیا؟
📍5؍اکتوبر کو امریکی سینیڑ اور کشمیر امور کے ماہر کِرِس وان ہَالین کشمیر جاکر وہاں کے حالات دیکھنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے ان کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی،اگر کشمیر میں سب ٹھیک ہے تو کرس وان کوجانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟
انڈین ایکس پریس سے بات کرتے ہوئے کِرِس وان ہالین نے کہا :
"میں کشمیر جاکر دیکھنا چاہتا تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے ؟ لیکن بھارت حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی، ہم نے ایک ہفتہ پہلے جانے کی اجازت مانگی تھی، لیکن بتایا گیا کہ ابھی وہاں جانے کے لئے حالات صحیح نہیں ہیں۔ اگر آپ کے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو صوبے میں کسی کو جانے کی اجازت دینے میں ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اس معاملے سے میں یہ ن
فریب وتضاد کی تجربہ گاہ بنے کشمیر کے موجودہ حالات پر تجزیاتی تحریر
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
روشن مستقبل دہلی
gmnaimi@gmail.com
سنسان سڑکیں اور دور تک پھیلا ہوا سنّاٹا، فوجی بوُٹوں کی آواز اور گھروں میں سسکتی آہیں !! یہ نظارہ ہے کشمیر کا، جہاں دو مہینے گزر جانے کے بعد بھی کسی کو 80 لاکھ کی آبادی پر رحم نہیں آرہا ہے۔ بھوک سے بلکتے بچے اور دواؤں کو ترستے مریضوں پر کسی کا دل نہیں پسیج رہا ہے۔ ایک طرف حکومتی مشنری اور بھونپو میڈیا ہے جو "آل اِز ویل" کی گردان میں مصروف ہے۔ لیکن دوسری طرف فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ، کشمیر گئے CPM لیڈر سیتا رام ییچوری کا بیانیہ یا پھر سپریم کورٹ کے دخل کے بعد کشمیر گئے غلام نبی آزاد کی چشم دید منظر کشی ایک الگ ہی کہانی ہے۔ انہیں افراد کی آنکھوں دیکھی کے اہم نکات پڑھیں اور کشمیر کی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کریں:
🔹پچھلے پچاس دنوں کے اندر 10 سے 22 سال کی عمر کے 13 ہزار بچوں کو گھروں سے اٹھایا گیا ہے۔
🔹کھانے پینے کی اشیا کی شدید ترین قلت ہے، غلام نبی آزاد کے مطابق کئی علاقوں میں لوگ دوسروں سے مانگنے پر مجبور ہیں۔
🔹آزاد صاحب کا کہنا کہ مجھ سےملنے والوں کو ڈرایا جاتا تھا تاکہ وہ مجھے صحیح صورت حال نہ بتاسکیں۔ملنے والوں سے کہا گیا کہ ان کے چہرے کیمروں میں قید ہیں اگر کچھ بتایا تو بعد میں انہیں اٹھا لیا جائے گا۔
🔹سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود انتظامیہ نے مجھے دس فیصد مقامات پر بھی نہیں جانے دیا۔ ان کے مطابق کشمیر کا ماحول بے حد ڈراؤنا اور خراب ہے،لوگ نہایت کس مپرسی میں جی رہے ہیں !!
17 سے 21 ستمبر کے درمیان خواتین تنظیموں کے پانچ رکنی وفد نے کشمیر کا دورہ کیا تھا، اس وفد میں اینی راجا،پنکھڑی ظہیر، کمل جیت کَور،پونم کوشک اور سعیدہ حمید شامل تھیں. کشمیر کے مختلف علاقوں میں دورہ کرنے کے بعد اس ٹیم نے دہلی پریس کلب میں اپنی جانچ رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کی اسی کے چند نکات یہ ہیں:
🔸کشمیری بچوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے لیکن اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جارہی ہے۔
🔸وکیلوں کو پی ایس اے (پبلک سیفٹی ایکٹ) کے تحت گرفتار کیا جارہا ہے۔بارکونسل اور عدالتیں مکمل بند ہیں۔
🔸اسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔مریض دوائوں کے لیے پریشان ہیں۔
🔸خوف کی وجہ سے لوگ رات آٹھ بجے کے بعد لائٹ تک بجھا دیتے ہیں۔ایک کشمیری خاتون کا کہنا تھا کہ رات کو بچے کو پیشاب بھی لگے تو لائٹ نہیں جلاتی کیوں کہ لائٹ جلانے پرحفاظتی دستے ہم پر سختی کرتے ہیں !!
ایک طرف کشمیر جانے والے سماجی کارکنان ، سی پی ایم اور کانگریس کے لیڈران کشمیر کی یہ صورت حال سامنے رکھتے ہیں تو دوسری جانب وزیر داخلہ نے ایک دم متضاد صورت حال بیان کرتے ہوئے 29 ستمبر کو بیان دیا:
"وادی میں اب کوئی پابندی نہیں ہے.پابندی کہاں ہے؟پابندی آپ (اپوزیشن)کے دماغ میں ہے،کشمیر میں سب ٹھیک ہے"
وزیرداخلہ کے اس بیان پر اعتراض کرتے کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا:
"اگرکشمیر میں کوئی پابندی نہیں ہے تو ابھی تک 10سے 15 ہزار نوجوان اور سیاسی لیڈران کس لئے قید ہیں،موبائل فون اور انٹرنیٹ کیوں بند ہے،کالجز اور یونیورسٹی کیوں بند ہے۔"
یہاں مزید کچھ سوال ہیں جو حکومت سے جواب چاہتے ہیں:
📍اگر کشمیر میں پابندیاں نہیں ہیں تو لوگوں کو آزادانہ نقل و حمل کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
📍کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو 8؍اگست کوپہلی مرتبہ اور 20؍اگست کو دوسری مرتبہ کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیاگیا اور ہوائی اڈے سے ہی واپس دہلی لوٹا دیا گیا۔غلام نبی آزاد خود کشمیری ہیں،سابق وزیراعلیٰ اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہیں اگر اتنا سینئر لیڈر بھی اپنے گھر نہیں جاسکتا تو اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ صورت حال کتنی سنگین ہوگی۔
📍سابق آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل کو دہلی ائیرپورٹ پر اس وقت روک دیا گیاجب وہ کسی تعلیمی پروجیکٹ کے سلسلے میں جرمنی جانا چاہتے تھے لیکن انہیں ائیرپورٹ سے واپس لاکر کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔آخر ایک آئی اے ایس ٹاپر کو اس غیر قانونی طریقے سے کیوں گرفتار کیا؟
📍5؍اکتوبر کو امریکی سینیڑ اور کشمیر امور کے ماہر کِرِس وان ہَالین کشمیر جاکر وہاں کے حالات دیکھنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے ان کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی،اگر کشمیر میں سب ٹھیک ہے تو کرس وان کوجانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟
انڈین ایکس پریس سے بات کرتے ہوئے کِرِس وان ہالین نے کہا :
"میں کشمیر جاکر دیکھنا چاہتا تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے ؟ لیکن بھارت حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی، ہم نے ایک ہفتہ پہلے جانے کی اجازت مانگی تھی، لیکن بتایا گیا کہ ابھی وہاں جانے کے لئے حالات صحیح نہیں ہیں۔ اگر آپ کے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو صوبے میں کسی کو جانے کی اجازت دینے میں ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اس معاملے سے میں یہ ن
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
تیجہ نکالتا ہوں کہ بھارت سرکار نہیں چاہتی کہ ہم دیکھ سکیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟"
ایک طرف حکومت بین الاقوامی فورم پر یہ اعلان کرتی پھرتی ہے کہ "کشمیر میں سب ٹھیک ہے" دوسری جانب ایک غیر ملکی مبصر اور امریکی ایم پی تک کو جانے سے روک دیتی ہے،آخر کشمیر میں ایسا کیا ہے جسے دکھانے سے حکومت کو کوئی خوف ہے۔کیا وادی سے آنے والی حقوق انسانی کی پامالی کی خبریں درست ہیں؟
*حکومت کی تضاد بیانیاں*
کشمیر معاملے پر جس طرح حکومت نے متضاد باتیں کی ہیں وہ فریب کاری سیاست کا بدترین نمونہ ہیں۔
🔸3؍ اگست کومرکزی حکومت اور کشمیر کے گورنر نے صوبے میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی اور امرناتھ یاترا درمیان میں ختم کرنے نیز سیاحوں کو ایمرجنسی وہاں سے نکالنے پر صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی دستوں کی تعیناتی صرف حفاظتی نقطہ سے کی جارہی ہے۔ایجنسیوں کو اطلاع تھی کہ امرناتھ یاترا پر حملہ ہو سکتا ہے اس لیے یہ اضافی فوج لگائی گئی ہے۔حالانکہ 5؍اگست کو آرٹیکل 370؍کی منسوخی اور کشمیری عوام پر تھوپے گئے کرفیو نے اس بیان کو جھوٹا ثابت کر دیا۔فوج صرف کشمیری عوام کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے لگائی گئی تھی۔
🔸عید الاضحی کے موقع پر دعویٰ کیا گیا کہ پورے کشمیر میں لوگوں نے جوش وخروش کے ساتھ نماز عید ادا کی اور قربانی کا فریضہ انجام دیا گیا ہے۔لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ کشمیر کی اکثر مساجد میں نماز ادانہیں کرنے دی گئی اور لوگوں نے اپنے ہی گھروں میں عید کی نماز ادا کی۔
🔸370؍ کی منسوخی کے دو دن بعد7؍ اگست کوقومی سلامتی صلاح کار نے کشمیر جاکر لب سڑک چند کشمیری لوگوں کے ساتھ بریانی کھاتے ہوئے تصاویر وائرل کراکے دعویٰ کیا کہ "کشمیر میں سب ٹھیک ہے". لوگ آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں۔حالانکہ جس سڑک پر وہ کھانا کھا رہے تھے وہاں کی بند دکانیں ہی ان کے بیان کو
جھٹلا رہی تھیں اور بعد میں ثابت ہوگیا کہ وہ محض ایک دکھاوا تھا۔
*کرفیو کے درمیان کیسا الیکشن؟*
اس درمیان حکومت نے کشمیر میں بی ڈی سی (Block Development Council) الیکشن کا اعلان کرکے کشمیریوں کی بے چارگی کا مذاق اڑایا ہے۔ زخموں پر نمک چھڑکنا اسی کو کہتے ہیں۔ جس صوبے میں 80 لاکھ لوگ فوجی بندوقوں کے سایے میں قید ہیں وہاں الیکشن کرانے کا کیا مطلب ہے ؟
اس وقت زیادہ تر سیاسی کارکنان گرفتار ہیں یا گرفتاری کے خوف سے روپوش ہیں۔ تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں( کانگریس ،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی) کی تقریباً ساری اعلی قیادت نظربند ہے۔قصبات ودیہات کے کارکنان جیلوں میں بند ہیں،ایسے وقت میں الیکشن کرانا کشمیری عوام کے جمہوری حقوق چھیننا اور سیاسی لیڈران وکارکنان کی غیر موجودگی میں اپنا سیاسی دائرہ بڑھانا ہے۔بی ڈی سی الیکشن میں پَنچ اور سَر پَنچ ہی ووٹر ہوا کرتے ہیں جب یہی لوگ گرفتار اور روپوش ہیں تو الیکشن لڑے گا کون ،ووٹ ڈالے گا کون؟
جواب سادہ ہے، بس بی جے پی کے لوگ!!
حکومتی اعلان پر غصہ کرتے ہوئے شوپیان ضلع کے ایک سَر پَنچ کا کہنا ہے:
"کس الیکشن کی بات کر رہے ہیں وہ لوگ! یہ جمہوریت کو شرمندہ کرنے والا قدم ہے۔ہم پر دوہری مصیبت پڑی ہے،پہلے انتہا پسند ہمارے دشمن تھے اور اب پولیس ہمارے پیچھے پڑی ہے۔ ہم انتہا پسند اور پولیس دونوں سے چھپتے پھر رہے ہیں۔"
حکومت کے اعلان کے بعد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے جموں علاقہ کے سیاسی لیڈران اور کارکنان کو رہا کر دیا ہے لیکن وادی کے لوگوں کی رہائی پر انتظامیہ خاموش ہے۔صوبے میں بی جے پی کو چھوڑ کر جملہ سیاسی قیادت اور کارکنان قید ہیں ایسے میں یہ الیکشن اپنے سیاسی دائرہ کو بڑھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ایسے میں یہ بات ایک دم صاف ہوجاتی ہے کہ بی جے پی حکومت تاناشاہی کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے جو سراسر جمہوری قدروں کی پامالی ہے.
مؤرخہ 11 صفرالمظفر 1441ھ
11 اکتوبر 2019 بروز جمعہ
ایک طرف حکومت بین الاقوامی فورم پر یہ اعلان کرتی پھرتی ہے کہ "کشمیر میں سب ٹھیک ہے" دوسری جانب ایک غیر ملکی مبصر اور امریکی ایم پی تک کو جانے سے روک دیتی ہے،آخر کشمیر میں ایسا کیا ہے جسے دکھانے سے حکومت کو کوئی خوف ہے۔کیا وادی سے آنے والی حقوق انسانی کی پامالی کی خبریں درست ہیں؟
*حکومت کی تضاد بیانیاں*
کشمیر معاملے پر جس طرح حکومت نے متضاد باتیں کی ہیں وہ فریب کاری سیاست کا بدترین نمونہ ہیں۔
🔸3؍ اگست کومرکزی حکومت اور کشمیر کے گورنر نے صوبے میں اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی اور امرناتھ یاترا درمیان میں ختم کرنے نیز سیاحوں کو ایمرجنسی وہاں سے نکالنے پر صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی دستوں کی تعیناتی صرف حفاظتی نقطہ سے کی جارہی ہے۔ایجنسیوں کو اطلاع تھی کہ امرناتھ یاترا پر حملہ ہو سکتا ہے اس لیے یہ اضافی فوج لگائی گئی ہے۔حالانکہ 5؍اگست کو آرٹیکل 370؍کی منسوخی اور کشمیری عوام پر تھوپے گئے کرفیو نے اس بیان کو جھوٹا ثابت کر دیا۔فوج صرف کشمیری عوام کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے لگائی گئی تھی۔
🔸عید الاضحی کے موقع پر دعویٰ کیا گیا کہ پورے کشمیر میں لوگوں نے جوش وخروش کے ساتھ نماز عید ادا کی اور قربانی کا فریضہ انجام دیا گیا ہے۔لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ کشمیر کی اکثر مساجد میں نماز ادانہیں کرنے دی گئی اور لوگوں نے اپنے ہی گھروں میں عید کی نماز ادا کی۔
🔸370؍ کی منسوخی کے دو دن بعد7؍ اگست کوقومی سلامتی صلاح کار نے کشمیر جاکر لب سڑک چند کشمیری لوگوں کے ساتھ بریانی کھاتے ہوئے تصاویر وائرل کراکے دعویٰ کیا کہ "کشمیر میں سب ٹھیک ہے". لوگ آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں۔حالانکہ جس سڑک پر وہ کھانا کھا رہے تھے وہاں کی بند دکانیں ہی ان کے بیان کو
جھٹلا رہی تھیں اور بعد میں ثابت ہوگیا کہ وہ محض ایک دکھاوا تھا۔
*کرفیو کے درمیان کیسا الیکشن؟*
اس درمیان حکومت نے کشمیر میں بی ڈی سی (Block Development Council) الیکشن کا اعلان کرکے کشمیریوں کی بے چارگی کا مذاق اڑایا ہے۔ زخموں پر نمک چھڑکنا اسی کو کہتے ہیں۔ جس صوبے میں 80 لاکھ لوگ فوجی بندوقوں کے سایے میں قید ہیں وہاں الیکشن کرانے کا کیا مطلب ہے ؟
اس وقت زیادہ تر سیاسی کارکنان گرفتار ہیں یا گرفتاری کے خوف سے روپوش ہیں۔ تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں( کانگریس ،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی) کی تقریباً ساری اعلی قیادت نظربند ہے۔قصبات ودیہات کے کارکنان جیلوں میں بند ہیں،ایسے وقت میں الیکشن کرانا کشمیری عوام کے جمہوری حقوق چھیننا اور سیاسی لیڈران وکارکنان کی غیر موجودگی میں اپنا سیاسی دائرہ بڑھانا ہے۔بی ڈی سی الیکشن میں پَنچ اور سَر پَنچ ہی ووٹر ہوا کرتے ہیں جب یہی لوگ گرفتار اور روپوش ہیں تو الیکشن لڑے گا کون ،ووٹ ڈالے گا کون؟
جواب سادہ ہے، بس بی جے پی کے لوگ!!
حکومتی اعلان پر غصہ کرتے ہوئے شوپیان ضلع کے ایک سَر پَنچ کا کہنا ہے:
"کس الیکشن کی بات کر رہے ہیں وہ لوگ! یہ جمہوریت کو شرمندہ کرنے والا قدم ہے۔ہم پر دوہری مصیبت پڑی ہے،پہلے انتہا پسند ہمارے دشمن تھے اور اب پولیس ہمارے پیچھے پڑی ہے۔ ہم انتہا پسند اور پولیس دونوں سے چھپتے پھر رہے ہیں۔"
حکومت کے اعلان کے بعد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے جموں علاقہ کے سیاسی لیڈران اور کارکنان کو رہا کر دیا ہے لیکن وادی کے لوگوں کی رہائی پر انتظامیہ خاموش ہے۔صوبے میں بی جے پی کو چھوڑ کر جملہ سیاسی قیادت اور کارکنان قید ہیں ایسے میں یہ الیکشن اپنے سیاسی دائرہ کو بڑھانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ایسے میں یہ بات ایک دم صاف ہوجاتی ہے کہ بی جے پی حکومت تاناشاہی کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے جو سراسر جمہوری قدروں کی پامالی ہے.
مؤرخہ 11 صفرالمظفر 1441ھ
11 اکتوبر 2019 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*افواہوں سے بچیں،این آر سی اور شہریت قانون کو سمجھیں !!*
غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
روشن مستقبل دہلی
gmnaimi@gmail.com
پورے ملک میں اس وقت این آر سی اور شہریت قانون کو لیکر افراتفری کا ماحول ہے. بی جے پی کے سیاسی لیڈروں کے گمراہ کن بیانات مسلسل کنفیوزن پیدا کر رہے. اسی وجہ سے عوام کے ایک بڑے طبقے میں بے چینی اور خوف کا عالم ہے. اس لئے آئیے افواہوں سے بچتے ہوئے این آر سی اور شہریت قانون کو سمجھ لیں تاکہ خوف وہراس دور ہو اور آپ سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں.
*این آر سی NRC*
این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزن) ایک ایسا رجسٹر ہے جس میں بھارت کے شہریوں کے نام درج کئے جاتے ہیں. جس کا نام اس رجسٹر میں ہوگا وہ بھارت کا شہری کہلائے گا ورنہ اسے غیر ملکی مانا جائے گا. ابھی یہ رجسٹر صرف آسام کے لئے ہی منظور ہے پورے ملک کے لئے نہیں، اس لئے پورے ملک کے مسلمان قطعاً پریشان نہ ہوں کیوں کہ اگر اسے ملک کے دیگر حصوں میں نافذ کیا گیا تو پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے.
🔹ایک بات اور ذہن میں رکھیں آسام کے لئے این آر سی کا معاہدہ 1985ء میں ہوا تھا اور اس کی فائنل لسٹ 2019 میں آئی یعنی پورے پروگرام میں قریب 33 سال لگ گئے اور معاملہ ابھی تک بھی فائنل نہیں ہوا. جن 19 لاکھ لوگوں کے نام رجسٹر سے باہر ہیں. ان میں 13 لاکھ غیر مسلم اور 6 لاکھ مسلم ہیں. ان لوگوں کو فَارَن ٹربیونل کے سامنے اپنے کاغذات کی درستی ثابت کرنے کا موقع دیا جارہا ہے. اس طرح یہ تعداد اور گھٹے گی. ممکن ہے کہ آٹے میں نمک جتنی رہ جائے کیوں کہ ملک میں غیر قانونی افراد کا شور زیادہ ہے حقیقت کم! اس لئے مسلمان ہرگز پریشان نہ ہوں.
🔹یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ آسام میں این آر سی کے لئے تین پیمانے(لیول) رکھے گئے تھے. جو ان تین پیمانوں میں سے کسی ایک کو پورا کرے وہی بھارتی شہری ہے. لیکن ابھی چونکہ کسی دیگر صوبے کے لئے این آر سی منظور نہیں ہوا ہے اس لئے باقی صوبوں میں این آر سی کا کیا پیمانہ ہوگا،یہ بھی طے نہیں ہے. اس لئے زیادہ فکر مند نہ ہوں ، "شہریت ثابت کرنے کے لئے اگر عبدالرحیم کو بھاگ دوڑ کرنا پڑی تو اِیشوَر چَند کو بھی دوڑ لگانا پڑے گی."
*شہریت قانون citizenship act*
سٹیزن شپ ایکٹ یعنی بھارتی شہریت قانون کو بھی سمجھ لیں تاکہ آپ کو اچھی طرح معلوم رہے کہ آپ کی شہریت مضبوط ہے کوئی غُبّارہ نہیں جو ہوا کے جھونکے کے ساتھ اڑ جائے.
"سٹیزن شپ ایکٹ" یعنی شہریت قانون 1955ء میں بنایا گیا تھا ، اس قانون کی اہم دفعات درج ذیل ہیں:
*1- جو شخص 26 جنوری 1950ء یا اس کے بعد بھارت میں پیدا ہوا وہ بھارتی شہری ہے.*
*2- جو شخص 26 جنوری 1950 یا اس کے بعد بھارت سے باہر پیدا ہوا لیکن اس ماں باپ میں سے کوئی ایک بھارتی شہری ہے تو وہ بچہ بھی بھارتی شہری مانا جائے گا.*
*اس کے بعد 1986ء میں اس قانون میں درج ذیل ترمیم کی گئی:*
*3- 26جنوری 1950 سے 1,جولائی 1987 سے پہلے تک بھارت میں پیدا ہونے والا ہر شخص بھارتی شہری ہے.*
*4- یکم جولائی 1987 کے بعد پیدا ہونے بچے کے والدین میں سے کوئی ایک بھی بھارتی شہری ہے تو بچہ بھی بھارتی شہری مانا جائے گا.*
*5- سات جولائی 2004 کے بعد پیدا ہونے والا بچہ اس وقت بھارتی شہری مانا جائے گا جب اس کے ماں باپ دونوں ہی بھارتی شہری ہوں، یا کوئی ایک بھارتی شہری اور دوسرا غیر قانونی طریقے سے بھارت میں داخل نہ ہوا ہو.*
یہ ساری تفصیلات Indian citizenship act 1955 کے تحت دستور ہند میں شامل ہیں. اس لئے آپ قطعاً پریشان نہ ہوں بس اپنے پاس موجود کاغذات وغیرہ سنبھال کر رکھیں تاکہ وقت ضرورت کام آسکیں ،کاغذات جو کام آسکتے ہیں:
1- ووٹر آئی ڈی کارڈ 2-بینک پاس بک.
3- پاس پورٹ 4- زمین کے کاغذات 5- مقدمہ کے کاغذات 6-بیمہ کمپنی کے کاغذات7-برتھ سرٹیفکیٹ 8- رہائشی کاغذات 9- بجلی کا بل 10-راشن کارڈ 11- ڈاک خانہ کے کاغذات
12- گیس کنکشن کاغذات
13-آدھار کارڈ 14- پین کارڈ
15- ڈرائیونگ لائسنس وغیرہ
*ایک زاویہ یہ بھی*
مذکورہ کاغذات بنوانے/درست کرانے کو زحمت نہ سمجھیں بلکہ اس زاویہ سے بھی سوچیں کہ اگر ووٹر کارڈ نہ ہو ووٹ نہیں ڈال سکتے ، راشن کارڈ نہ ہو تو راشن نہیں مل سکتا، زمین کے کاغذات نہ ہوں تو کسی بھی حکومتی اسکیم میں فائدہ نہیں مل سکتا، اس لئے دیگر حکومتی فوائد کے لئے بھی کاغذات کا ہونا/درست ہونا ضروری ہے. جب درست کاغذات گھر میں ہوں گے تو کہیں بھی، کسی بھی معاملہ میں آپ پیش کر سکتے ہیں.
*این پی آر (NPR)*
حکومت ایک پروگرام این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹر) بھی اپڈیٹ کرانے جارہی ہے. جس کا سلسلہ اپریل 2020 سے شروع ہوگا. یہ نارمل مردم شماری کا پروگرام ہے اس میں آپ اپنے گھر کے جملہ افراد بالغ ہوں یا نابالغ، سب کا اندراج کرائیں. اس کے لئے آپ کو کسی خاص دستاویز کی ضرورت نہیں ہے بس آپ کو ذمہ داری کے ساتھ اپنے گھر کے تمام افراد کا نام درج کرانا ہے. یہاں چند ہدایات کا خاص خیال رکھیں:
🔹گھر کا کوئی ف
غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
روشن مستقبل دہلی
gmnaimi@gmail.com
پورے ملک میں اس وقت این آر سی اور شہریت قانون کو لیکر افراتفری کا ماحول ہے. بی جے پی کے سیاسی لیڈروں کے گمراہ کن بیانات مسلسل کنفیوزن پیدا کر رہے. اسی وجہ سے عوام کے ایک بڑے طبقے میں بے چینی اور خوف کا عالم ہے. اس لئے آئیے افواہوں سے بچتے ہوئے این آر سی اور شہریت قانون کو سمجھ لیں تاکہ خوف وہراس دور ہو اور آپ سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں.
*این آر سی NRC*
این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزن) ایک ایسا رجسٹر ہے جس میں بھارت کے شہریوں کے نام درج کئے جاتے ہیں. جس کا نام اس رجسٹر میں ہوگا وہ بھارت کا شہری کہلائے گا ورنہ اسے غیر ملکی مانا جائے گا. ابھی یہ رجسٹر صرف آسام کے لئے ہی منظور ہے پورے ملک کے لئے نہیں، اس لئے پورے ملک کے مسلمان قطعاً پریشان نہ ہوں کیوں کہ اگر اسے ملک کے دیگر حصوں میں نافذ کیا گیا تو پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے.
🔹ایک بات اور ذہن میں رکھیں آسام کے لئے این آر سی کا معاہدہ 1985ء میں ہوا تھا اور اس کی فائنل لسٹ 2019 میں آئی یعنی پورے پروگرام میں قریب 33 سال لگ گئے اور معاملہ ابھی تک بھی فائنل نہیں ہوا. جن 19 لاکھ لوگوں کے نام رجسٹر سے باہر ہیں. ان میں 13 لاکھ غیر مسلم اور 6 لاکھ مسلم ہیں. ان لوگوں کو فَارَن ٹربیونل کے سامنے اپنے کاغذات کی درستی ثابت کرنے کا موقع دیا جارہا ہے. اس طرح یہ تعداد اور گھٹے گی. ممکن ہے کہ آٹے میں نمک جتنی رہ جائے کیوں کہ ملک میں غیر قانونی افراد کا شور زیادہ ہے حقیقت کم! اس لئے مسلمان ہرگز پریشان نہ ہوں.
🔹یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ آسام میں این آر سی کے لئے تین پیمانے(لیول) رکھے گئے تھے. جو ان تین پیمانوں میں سے کسی ایک کو پورا کرے وہی بھارتی شہری ہے. لیکن ابھی چونکہ کسی دیگر صوبے کے لئے این آر سی منظور نہیں ہوا ہے اس لئے باقی صوبوں میں این آر سی کا کیا پیمانہ ہوگا،یہ بھی طے نہیں ہے. اس لئے زیادہ فکر مند نہ ہوں ، "شہریت ثابت کرنے کے لئے اگر عبدالرحیم کو بھاگ دوڑ کرنا پڑی تو اِیشوَر چَند کو بھی دوڑ لگانا پڑے گی."
*شہریت قانون citizenship act*
سٹیزن شپ ایکٹ یعنی بھارتی شہریت قانون کو بھی سمجھ لیں تاکہ آپ کو اچھی طرح معلوم رہے کہ آپ کی شہریت مضبوط ہے کوئی غُبّارہ نہیں جو ہوا کے جھونکے کے ساتھ اڑ جائے.
"سٹیزن شپ ایکٹ" یعنی شہریت قانون 1955ء میں بنایا گیا تھا ، اس قانون کی اہم دفعات درج ذیل ہیں:
*1- جو شخص 26 جنوری 1950ء یا اس کے بعد بھارت میں پیدا ہوا وہ بھارتی شہری ہے.*
*2- جو شخص 26 جنوری 1950 یا اس کے بعد بھارت سے باہر پیدا ہوا لیکن اس ماں باپ میں سے کوئی ایک بھارتی شہری ہے تو وہ بچہ بھی بھارتی شہری مانا جائے گا.*
*اس کے بعد 1986ء میں اس قانون میں درج ذیل ترمیم کی گئی:*
*3- 26جنوری 1950 سے 1,جولائی 1987 سے پہلے تک بھارت میں پیدا ہونے والا ہر شخص بھارتی شہری ہے.*
*4- یکم جولائی 1987 کے بعد پیدا ہونے بچے کے والدین میں سے کوئی ایک بھی بھارتی شہری ہے تو بچہ بھی بھارتی شہری مانا جائے گا.*
*5- سات جولائی 2004 کے بعد پیدا ہونے والا بچہ اس وقت بھارتی شہری مانا جائے گا جب اس کے ماں باپ دونوں ہی بھارتی شہری ہوں، یا کوئی ایک بھارتی شہری اور دوسرا غیر قانونی طریقے سے بھارت میں داخل نہ ہوا ہو.*
یہ ساری تفصیلات Indian citizenship act 1955 کے تحت دستور ہند میں شامل ہیں. اس لئے آپ قطعاً پریشان نہ ہوں بس اپنے پاس موجود کاغذات وغیرہ سنبھال کر رکھیں تاکہ وقت ضرورت کام آسکیں ،کاغذات جو کام آسکتے ہیں:
1- ووٹر آئی ڈی کارڈ 2-بینک پاس بک.
3- پاس پورٹ 4- زمین کے کاغذات 5- مقدمہ کے کاغذات 6-بیمہ کمپنی کے کاغذات7-برتھ سرٹیفکیٹ 8- رہائشی کاغذات 9- بجلی کا بل 10-راشن کارڈ 11- ڈاک خانہ کے کاغذات
12- گیس کنکشن کاغذات
13-آدھار کارڈ 14- پین کارڈ
15- ڈرائیونگ لائسنس وغیرہ
*ایک زاویہ یہ بھی*
مذکورہ کاغذات بنوانے/درست کرانے کو زحمت نہ سمجھیں بلکہ اس زاویہ سے بھی سوچیں کہ اگر ووٹر کارڈ نہ ہو ووٹ نہیں ڈال سکتے ، راشن کارڈ نہ ہو تو راشن نہیں مل سکتا، زمین کے کاغذات نہ ہوں تو کسی بھی حکومتی اسکیم میں فائدہ نہیں مل سکتا، اس لئے دیگر حکومتی فوائد کے لئے بھی کاغذات کا ہونا/درست ہونا ضروری ہے. جب درست کاغذات گھر میں ہوں گے تو کہیں بھی، کسی بھی معاملہ میں آپ پیش کر سکتے ہیں.
*این پی آر (NPR)*
حکومت ایک پروگرام این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹر) بھی اپڈیٹ کرانے جارہی ہے. جس کا سلسلہ اپریل 2020 سے شروع ہوگا. یہ نارمل مردم شماری کا پروگرام ہے اس میں آپ اپنے گھر کے جملہ افراد بالغ ہوں یا نابالغ، سب کا اندراج کرائیں. اس کے لئے آپ کو کسی خاص دستاویز کی ضرورت نہیں ہے بس آپ کو ذمہ داری کے ساتھ اپنے گھر کے تمام افراد کا نام درج کرانا ہے. یہاں چند ہدایات کا خاص خیال رکھیں:
🔹گھر کا کوئی ف
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
رد اندراج سے چھوٹنے نہ پائے. بھلے ہی پردیس میں رہتا ہو.
🔹مذہب کے کالم میں اسلام لکھوائیں اور زبان کے کالم میں اردو ہی لکھوائیں.
🔹ساری معلومات اپنی آنکھوں کے سامنے لکھوائیں ،یا خود لکھیں یا کسی تعلیم یافتہ پڑوسی/دوست وغیرہ سے لکھوائیں، افسران پر ہرگز نہ چھوڑیں.
🔹 لکھنے میں کچی پینسل کا استعمال نہ کریں وال پین کا استعمال کریں.
کسی طرح کی افواہوں میں آئیں نہ افواہیں پھیلائیں. گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں آپ اس ملک کے ہیں ، یہ ملک آپ کا ہے. دوسروں کو جلانے والے اپنی لگائی آگ میں خود جل جائیں گے.
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
مؤرخہ 14 صفرالمظفر 1441ھ
14 اکتوبر 2019 بروز پیر
🔹مذہب کے کالم میں اسلام لکھوائیں اور زبان کے کالم میں اردو ہی لکھوائیں.
🔹ساری معلومات اپنی آنکھوں کے سامنے لکھوائیں ،یا خود لکھیں یا کسی تعلیم یافتہ پڑوسی/دوست وغیرہ سے لکھوائیں، افسران پر ہرگز نہ چھوڑیں.
🔹 لکھنے میں کچی پینسل کا استعمال نہ کریں وال پین کا استعمال کریں.
کسی طرح کی افواہوں میں آئیں نہ افواہیں پھیلائیں. گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں آپ اس ملک کے ہیں ، یہ ملک آپ کا ہے. دوسروں کو جلانے والے اپنی لگائی آگ میں خود جل جائیں گے.
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
مؤرخہ 14 صفرالمظفر 1441ھ
14 اکتوبر 2019 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اچھا لکھیے
جو لکھنا جانتے ہیں انھیں کوشش کرنی چاہیے کہ اچھا لکھیں تاکہ دوسرے بھی اسے پڑھ کر سمجھ سکیں۔ کچھ لوگ ایسا لکھتے ہیں کہ خود سمجھ سکیں، بس کاغذ پر قلم کو جیسے تیسے رگڑ دیتے ہیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کا خط موصول ہوا جس میں "بسم اللہ" کا "سین" رہ گیا تھا۔ حضرت عمر نے جوابی خط میں لکھا کہ "اپنے کاتب کو کوڑے لگاؤ" چناں چہ حضرت عمرو بن عاص نے اسے کوڑے لگائے۔
(مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب، ص125)
حضرت عمر فرماتے کہ سب سے خراب تحریر وہ ہے جو لمبی ترچھی ہو اور سب سے بہترین لکھائی وہ ہے جو بالکل واضح ہو۔
(الجامع الاخلاق الراوی، ج1، ص262 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم)
ویسے آج کل تو ٹائپنگ کا دور ہے، کاغذ اور قلم کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے، سب آن لائن ہی ہو جاتا ہے، اس میں لکھائی لمبی ترچھی تو نہیں ہوتی لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی حرف رہ نہ جائے۔
عبد مصطفی
جو لکھنا جانتے ہیں انھیں کوشش کرنی چاہیے کہ اچھا لکھیں تاکہ دوسرے بھی اسے پڑھ کر سمجھ سکیں۔ کچھ لوگ ایسا لکھتے ہیں کہ خود سمجھ سکیں، بس کاغذ پر قلم کو جیسے تیسے رگڑ دیتے ہیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کا خط موصول ہوا جس میں "بسم اللہ" کا "سین" رہ گیا تھا۔ حضرت عمر نے جوابی خط میں لکھا کہ "اپنے کاتب کو کوڑے لگاؤ" چناں چہ حضرت عمرو بن عاص نے اسے کوڑے لگائے۔
(مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب، ص125)
حضرت عمر فرماتے کہ سب سے خراب تحریر وہ ہے جو لمبی ترچھی ہو اور سب سے بہترین لکھائی وہ ہے جو بالکل واضح ہو۔
(الجامع الاخلاق الراوی، ج1، ص262 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم)
ویسے آج کل تو ٹائپنگ کا دور ہے، کاغذ اور قلم کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے، سب آن لائن ہی ہو جاتا ہے، اس میں لکھائی لمبی ترچھی تو نہیں ہوتی لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی حرف رہ نہ جائے۔
عبد مصطفی