حضرت شیخ علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ علیہ الرحمہ کا اصل نام علی بن حسین بن ابراہیم مالکی تھا، لیکن محمد علی کے نام سے شہرت پائی۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
شیخ محمد علی مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت رمضان المبارک 1287 ھ کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
شیخ محمد علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بڑے بھائی العلامہ والقدوۃ الفہامہ شیخ عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں مختلف علوم دینیہ، عربی لغت اور فقہ مالکیہ کی تعلیم حاصل کرکے سند حاصل کی، خاتمۃ الفقہاء والمحدثین فی بدل اللہ الامین سید ابو بکر شطا شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے فقہ شافعی، علامہ شیخ عبد الحق الہٰ آبادی مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے تفسیر،فقہ حنفی ،اور شیخ عبد اللہ قدومی حنبلی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ سے صحیح بخاری وفقہ حنبلی پڑھی۔ اور ان کے علاوہ دیگر اساتذہ سے مختلف علوم وفنون حاصل کئے۔
سیرت و خصائص:
شیخ علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مشہور و معروف عالم و مفتی مکہ مکرمہ تھے ۔ جواد، سخی، زاہد ، عابد اور عالمِ شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کو حکومتی سطح پر کئی عہدوں کی پیشکش آئی لیکن آپ نے کچھ عہدوں کو قبول کیااور کچھ عہدوں سے معذرت کی۔مقصد آپ کا فقط دین کی خدمت تھاچاہے آپ کسی عہدے پر فائز ہوں یا نہ ہوں۔جب بھی کوئی شخص علماء کا لبادہ اوڑھ کر دین کی غلط ترجمانی کرتا تو آپ دین کی درست ترجمانی کرکے لوگوں کے ذہنوں میں موجود خلش کو دور فرماتے۔ آپ کی مواعظِ حسنہ سے خلقِ کثیر فیض یاب ہوئی۔ شیخ علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عقائد ومعمولاتِ اہلسنت کی توضیح وتشریح اور دفاع میں متعدد کتابیں لکھی۔
تاریخِ وصال:
شیخ علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے28 شعبان 1367 ھ پیر کے دن طائف میں وفات پائی۔طائف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے مزار کے قریب آسودۂ خاک ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہٍ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ali-bin-hussain-maliki-makki
اسمِ گرامی:
آپ علیہ الرحمہ کا اصل نام علی بن حسین بن ابراہیم مالکی تھا، لیکن محمد علی کے نام سے شہرت پائی۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
شیخ محمد علی مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت رمضان المبارک 1287 ھ کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
شیخ محمد علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بڑے بھائی العلامہ والقدوۃ الفہامہ شیخ عابد بن حسین مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں مختلف علوم دینیہ، عربی لغت اور فقہ مالکیہ کی تعلیم حاصل کرکے سند حاصل کی، خاتمۃ الفقہاء والمحدثین فی بدل اللہ الامین سید ابو بکر شطا شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے فقہ شافعی، علامہ شیخ عبد الحق الہٰ آبادی مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے تفسیر،فقہ حنفی ،اور شیخ عبد اللہ قدومی حنبلی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ سے صحیح بخاری وفقہ حنبلی پڑھی۔ اور ان کے علاوہ دیگر اساتذہ سے مختلف علوم وفنون حاصل کئے۔
سیرت و خصائص:
شیخ علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مشہور و معروف عالم و مفتی مکہ مکرمہ تھے ۔ جواد، سخی، زاہد ، عابد اور عالمِ شریعت و طریقت تھے ۔ آپ کو حکومتی سطح پر کئی عہدوں کی پیشکش آئی لیکن آپ نے کچھ عہدوں کو قبول کیااور کچھ عہدوں سے معذرت کی۔مقصد آپ کا فقط دین کی خدمت تھاچاہے آپ کسی عہدے پر فائز ہوں یا نہ ہوں۔جب بھی کوئی شخص علماء کا لبادہ اوڑھ کر دین کی غلط ترجمانی کرتا تو آپ دین کی درست ترجمانی کرکے لوگوں کے ذہنوں میں موجود خلش کو دور فرماتے۔ آپ کی مواعظِ حسنہ سے خلقِ کثیر فیض یاب ہوئی۔ شیخ علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عقائد ومعمولاتِ اہلسنت کی توضیح وتشریح اور دفاع میں متعدد کتابیں لکھی۔
تاریخِ وصال:
شیخ علی بن حسین مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے28 شعبان 1367 ھ پیر کے دن طائف میں وفات پائی۔طائف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے مزار کے قریب آسودۂ خاک ہوئے۔
ماخذ و مراجع:
امام احمد رضا محدث بریلوی اور علماء مکہ مکرمہٍ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-ali-bin-hussain-maliki-makki
scholars.pk
Hazrat Sheikh Ali Bin Hussain Maliki Makki
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت علامہ مولانا محمدعالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: علامہ مولانا محمد عالم آسی ۔ لقب: آسی ۔ امرتسر علاقے کی نسبت سے"امرتسری" کہلائے۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ محمد عالم امرتسری بن حضرت مولانا عبدا لحمید بن عارف باللہ مولانا غلام احمد علیہم الرحمہ والرضوان۔آپ کاخاندان علم وفضل اور زہدوتقویٰ کی بدولت مرجع الخلائق تھا۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8/شعبان المعظم 1298ھ،مطابق ماہ جولائی/1881ء کوموضع راگھو سیدن ضلع گوجرانولہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے دار العلوم نعمانیہ کے اساتذہ حضرت مولانا غلام احمد صدر المدرسین،حضرت مولانا ابو الفیض محمد حسن فیضی، حضرت مولانا غلام محمد بگوی، مولانا مفتی عبید اللہ ٹونکی، مفتی اعظم پنجاب حضرت علامہ مولانا غلام قادر بھیروی سے علوم متعارفہ کی تحصیل کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرکے وظیفہ کے مستحق قرار پائے۔علم طب میں حکیم حاذق اور زبدۃ الحکماء کی سندیں حاصل کیں۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت شاہ عبد اللہ ابوالخیر مجددی سےبیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ بعد شاہ صاحب نے آپ کو خلافت واجازت سے مشرف فرمایا۔
سیرت و خصائص:
ادیب، اریب، فاضلِ جلیل، عالم نبیل، محقق، جامع علوم جدیدہ وقدیمہ، فاضل، حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید اور کامل عالمِ دین تھے۔پورے ہندوستان میں آپ کا شہرہ تھا۔تحصیلِ علم سےفراغت کے بعد دار العلوم نعمانیہ کے صدر مدرس مقرر ہوئے، اس کے علاوہ لاہور کے چند مدارس میں پڑھایا،لاہور سے امر تسر پہنچے اور مدرسہ نصرۃ الحق میں ادب کے استاذ مقرر ہوئے۔مدرسہ نصرۃ الحق جب ایم ۔اے۔او۔کالج ہوا،توآپ عربی کے پروفیسر مقرر ہوگئے، اورپھر یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔
اس وقت طلباء آپ سےشرف تلمذ کوسعادت خیال کرتے،اور اس پر فخر کرتےتھے۔آپ کےشاگردوں میں بڑی نامی گرامی شخصیات ہیں۔ تلامذہ میں حضرت صاحبزادہ محمد عمر صاحب پیربل شریف، ڈاکٹر محمد حسن،پی۔ایچ۔ڈی سابق شیخ الادب جامعہ اسلامیہ بہاول پور، علامہ غلام محمد ترنم،فخر الاطباء علامہ فقیر محمد چشتی نظامی امر تسری (والد حکیم محمد موسی امرتسری)،محقق عصر محسن اہل سنت مولانا حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہم الرحمہ۔مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری احراری،مفتی محمد حسن خلیفہ تھانوی ۔ آزادوں میں ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ پروفیسر پنجاب یونیورسٹی،علامہ حکیم فیروز الدین طغرائی وغیرہ نامور ہوئے۔
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں "الکادیہ علی الغاویہ"(رد مرزائیت میں بزبان اردو مطبوع) (عربی غیر مطبوع) الجثجاث علی السلام فی الذب عن حریم الاسلام مرزائی مبلغ غلام رسول آف راجکی کے رد میں ،"المیلانی فی القرآن" اور رسائل صرف ونحو مشہور و معروف ہیں ۔
آپ کو اپنے مذہب ومسلک سے گہری وابستگی تھی،اخبار الفقیہ امرتسر کے خصوصی معاون تھے۔خطاطی میں بے مثل کمال حاصل تھا۔ خط نسخ میں آپ جیسا لکھنے والے لوگ کم ہوں گے۔عربی شعر ونثر کی تحریر پر آپ کو بے پناہ قدرت حاصل تھی۔علم وفن اور بالخصوص عربی ادب میں دور دور تک آپ کی نظیرنہ تھی۔ آپ نہایت نیک نفس،متقی،متورع وصوفی بزرگ تھے۔سادگی،منکسرالمزاجی،اور تواضع پسند تھے۔حسنِ اَخلاق کےمالک تھے۔پروفیسر تھے،لیکن اپنےطلباء کےذہن میں اسلامی تہذیب وثقافت اوردین سےمحبت،اور اطاعتِ خداورسولﷺ کا جذبہ بیدار کرتےتھے۔
تاریخِ وصال:
28/شعبان المعظم 1363ھ،مطابق 18/اگست 1944ءبعد نماز جمعہ واصل باللہ ہوئے۔امرتسر کےمقامی قبرستان میں ابدی راحت فرماہیں۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-alam-aasi-amartasri
نام و نسب:
اسم گرامی: علامہ مولانا محمد عالم آسی ۔ لقب: آسی ۔ امرتسر علاقے کی نسبت سے"امرتسری" کہلائے۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ محمد عالم امرتسری بن حضرت مولانا عبدا لحمید بن عارف باللہ مولانا غلام احمد علیہم الرحمہ والرضوان۔آپ کاخاندان علم وفضل اور زہدوتقویٰ کی بدولت مرجع الخلائق تھا۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 8/شعبان المعظم 1298ھ،مطابق ماہ جولائی/1881ء کوموضع راگھو سیدن ضلع گوجرانولہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے دار العلوم نعمانیہ کے اساتذہ حضرت مولانا غلام احمد صدر المدرسین،حضرت مولانا ابو الفیض محمد حسن فیضی، حضرت مولانا غلام محمد بگوی، مولانا مفتی عبید اللہ ٹونکی، مفتی اعظم پنجاب حضرت علامہ مولانا غلام قادر بھیروی سے علوم متعارفہ کی تحصیل کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کرکے وظیفہ کے مستحق قرار پائے۔علم طب میں حکیم حاذق اور زبدۃ الحکماء کی سندیں حاصل کیں۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت شاہ عبد اللہ ابوالخیر مجددی سےبیعت ہوئے،اور کچھ عرصہ بعد شاہ صاحب نے آپ کو خلافت واجازت سے مشرف فرمایا۔
سیرت و خصائص:
ادیب، اریب، فاضلِ جلیل، عالم نبیل، محقق، جامع علوم جدیدہ وقدیمہ، فاضل، حضرت علامہ مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید اور کامل عالمِ دین تھے۔پورے ہندوستان میں آپ کا شہرہ تھا۔تحصیلِ علم سےفراغت کے بعد دار العلوم نعمانیہ کے صدر مدرس مقرر ہوئے، اس کے علاوہ لاہور کے چند مدارس میں پڑھایا،لاہور سے امر تسر پہنچے اور مدرسہ نصرۃ الحق میں ادب کے استاذ مقرر ہوئے۔مدرسہ نصرۃ الحق جب ایم ۔اے۔او۔کالج ہوا،توآپ عربی کے پروفیسر مقرر ہوگئے، اورپھر یہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔
اس وقت طلباء آپ سےشرف تلمذ کوسعادت خیال کرتے،اور اس پر فخر کرتےتھے۔آپ کےشاگردوں میں بڑی نامی گرامی شخصیات ہیں۔ تلامذہ میں حضرت صاحبزادہ محمد عمر صاحب پیربل شریف، ڈاکٹر محمد حسن،پی۔ایچ۔ڈی سابق شیخ الادب جامعہ اسلامیہ بہاول پور، علامہ غلام محمد ترنم،فخر الاطباء علامہ فقیر محمد چشتی نظامی امر تسری (والد حکیم محمد موسی امرتسری)،محقق عصر محسن اہل سنت مولانا حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہم الرحمہ۔مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری احراری،مفتی محمد حسن خلیفہ تھانوی ۔ آزادوں میں ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ پروفیسر پنجاب یونیورسٹی،علامہ حکیم فیروز الدین طغرائی وغیرہ نامور ہوئے۔
تصنیفات:
آپ کی تصانیف میں "الکادیہ علی الغاویہ"(رد مرزائیت میں بزبان اردو مطبوع) (عربی غیر مطبوع) الجثجاث علی السلام فی الذب عن حریم الاسلام مرزائی مبلغ غلام رسول آف راجکی کے رد میں ،"المیلانی فی القرآن" اور رسائل صرف ونحو مشہور و معروف ہیں ۔
آپ کو اپنے مذہب ومسلک سے گہری وابستگی تھی،اخبار الفقیہ امرتسر کے خصوصی معاون تھے۔خطاطی میں بے مثل کمال حاصل تھا۔ خط نسخ میں آپ جیسا لکھنے والے لوگ کم ہوں گے۔عربی شعر ونثر کی تحریر پر آپ کو بے پناہ قدرت حاصل تھی۔علم وفن اور بالخصوص عربی ادب میں دور دور تک آپ کی نظیرنہ تھی۔ آپ نہایت نیک نفس،متقی،متورع وصوفی بزرگ تھے۔سادگی،منکسرالمزاجی،اور تواضع پسند تھے۔حسنِ اَخلاق کےمالک تھے۔پروفیسر تھے،لیکن اپنےطلباء کےذہن میں اسلامی تہذیب وثقافت اوردین سےمحبت،اور اطاعتِ خداورسولﷺ کا جذبہ بیدار کرتےتھے۔
تاریخِ وصال:
28/شعبان المعظم 1363ھ،مطابق 18/اگست 1944ءبعد نماز جمعہ واصل باللہ ہوئے۔امرتسر کےمقامی قبرستان میں ابدی راحت فرماہیں۔
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-alam-aasi-amartasri
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Muhammad Alam Aasi Amartasri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
رد ہنود ، رد وہابیہ ، رد دیابنہ ، رد روافض رد تفضیلیہ ، رد خوارج اور تمام باطل فرقوں کا رد دلائل کی روشنی میں ... کم وقت میں زیادہ معلومات ... حاصل کرنے کے لئے، آپ حضرت مولانا حسن نوری گونڈوی صاحب قبلہ کے سوشل میڈیا پر موجود گروپ و چینل کو ضرور جوئن کریں ... ازالہ شبہات فرض اعظم ہے ـ دین و ایمان پر حملے ہو رہے ہیں، عقائد و نظریات کے تحفظ کے لئے ... آپ حضرت مولانا حسن نوری گونڈوی صاحب قبلہ سے ضرور جڑے رہیں ...
YouTube ↷
https://youtube.com/@HasanNooriOfficial
FaceBook ↷
https://www.facebook.com/noorul.hasan.75054689?mibextid=ZbWKwL
Telegram ↷
https://t.me/Sada_E_Haq_Noori
WhatsApp ↷
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
Twitter ↷
https://twitter.com/00HasanNoori?t=c3UgAC5TgjOXlJ2bLY3LAA&s=09
instagram ↷
https://instagram.com/hasan_noori_gondvi?igshid=MGU3ZTQzNzY=
YouTube ↷
https://youtube.com/@HasanNooriOfficial
FaceBook ↷
https://www.facebook.com/noorul.hasan.75054689?mibextid=ZbWKwL
Telegram ↷
https://t.me/Sada_E_Haq_Noori
WhatsApp ↷
https://chat.whatsapp.com/AconCs9kuOH2uSnOAexYPf
Twitter ↷
https://twitter.com/00HasanNoori?t=c3UgAC5TgjOXlJ2bLY3LAA&s=09
instagram ↷
https://instagram.com/hasan_noori_gondvi?igshid=MGU3ZTQzNzY=
❤1👌1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-08-1444 ᴴ | 21-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-08-1444 ᴴ | 21-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-08-1444 ᴴ | 21-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1