🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت شیخ شاہ بلاول لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی: شاہ بلاول ـ والد کا نام: سیّد عثمان بن عیسیٰ ۔ آپ کے آباؤ اجداد ہمایوں بادشاہ کے ہمراہ ہرات سے ہندوستان میں آئے اور موضع شیخوپورہ میں آباد ہوگئے۔ شاہ بلاول کی ولادت بھی یہیں ہوئی۔
تعلیم:
لاہور میں علومِ ظاہر و باطن کی تحصیل کی۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ قادریہ میں شاہ شمس الدین قادری لاہوری قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔
متاخرینِ مشائخ میں بڑے پایہ کے بزرگ گزرے ہیں۔ اپنے عہد کے عالم و فاضل، متقی و متشرع صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ کتاب محبوب الواصلین جو خاص آپ کے ذکر میں لکھی گئی ہے۔ اس میں مرقوم ہے کہ آپ مادر زاد ولی تھے سات برس کا سن تھا کہ ان کا ایک ہم عمر لڑکا فوت ہوگیا۔ آپ یہ سن کر اس کے سرہانے گئے اور کہا اے یار بے وقت سونا اچھا نہیں ہے آؤ چل کر کھیلیں۔ لڑکے نے اسی وقت آنکھیں کھول دیں اور اٹھ کر ساتھ چلا گیا۔
آپ کے دادا سید عیسیٰ نے جب یہ سنا تو آپ کو شیخ فتح محمد لاہوری جو اپنے عہد کے جیّد علما سے تھے، کے حلقۂ درس بھیج دیا۔ آپ نے تھوڑی ہی مدت میں علوم ظاہری میں بھی کمال حاصل کرلیا۔
ایک روز آپ دریائے راوی کے کنارے جارہے تھے کہ حضرت شاہ شمس الدین قادری لاہوری کشتی سے اُترے۔ آپ نے فوراً شیخ بلاول کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ذات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے۔ میری صحبت میں رہو اور فیضِ باطن جو میرے پاس تمہاری امانت ہے اسے حاصل کرو۔ شیخ بلاول یہ سنتے ہی آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں حاضر رہ کر بے اندازہ ظاہری و باطنی کمالات اکتساب کرکے خرقۂ خلافت پایا۔ مرجع خلائق تھے۔ خاص[1] و عام آپ کے خدمت میں حاضر ہونا باعثِ فخر و افتخار سمجھتے تھے۔ استغنا اور فقرو غنا میں ممتاز الوقت تھے۔
ایک روز آپ کے مرشد دریا کے ایک درخت کے سایہ میں آرام فرما رہے تھے اور آپ حاضرِ خدمت تھے کہ ایک جاٹ نے آکر درخت سے لکڑیاں کاٹنی شروع کردیں۔ آپ نے ہر چند اسے منع فرمایا مگر وُہ باز نہ آیا۔ آپ نے اس کی جانب نگاہِ غضب سے دیکھا وُہ اسی وقت گِر کر مرگیا۔ حضرت شیخ شمس الدین نے بیدار ہوکر فرمایا: ہم فقیروں کے لیے ایسا جلال و غضب رو انہیں ہے اب مناسب یہی ہے کہ حضرت شاہ ابواسحاق کے ایک حجرے میں خلوت نشین ہوکر تلاوتِ قرآن میں مشغول ہوجاؤ۔ چنانچہ بلاول کئی سال وہاں رہے اور یہ مدت تلاوت اور نماز روزہ میں گزار دی۔
صاحبِ محبوب الوصلین لکھتے ہیں کہ محلہ شیخ ابواسحاق میں آپ کے ہمسایہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور رسم کے مطابق بھانڈ مبارک باد لینے کے لیے آئے وہ بڑا تنگ دست اور مفلس تھا۔ آپ اس کے حال سے واقف تھے۔ آپ ایک مٹی کا لوٹا لے کر حجرے سے باہر آئے اور اُسے دیوارِ ہمسایہ پر مار کر توڑ ڈالا۔ تمام ٹکڑے زرِ خالص بن گئے جنہیں نقال اٹھا کر لے گئے۔ اور ہمسایہ کو ان سے خلاصی ہوئی۔
آپ کی خانقاہ میں لنگر عام جاری تھا۔ دونوں وقت لوگوں کو کھانا ملتا تھا۔ آپ خود بھی بڑے خوش پوشاک تھے لنگر خانہ میں ہر قسم کا سامان موجود رہتا تھا۔ ایک رات ایک چور سامان چرانے کی غرض سے باورچی خانہ میں داخل ہوا مگر حکم الٰہی سے اندھا ہوگیا اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھ رہا۔ صبح آپ نے خادمِ باورچی خانہ کو بلایا اور کہا باورچی خانہ میں ایک اندھا بیٹھا ہوا ہے اُسے بُلا کر دُگنا کھانا دو وہ رات سے بھوکا ہے۔ داروغہ باورچی خانہ میں اسے کھانا دینا چاہا۔ اس نے کہا مجھے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔ مجھے حضرت شاہ بلاول کے پاس لے چلو۔
چنانچہ جب آپ کی خدمت میں حاضر تو سر قدموں پر رکھ کر معافی مانگی۔ حلقۂ ارادت میں داخل اور آپ کی دعا سے بینا ہوگیا۔ صاحب محبوب الواصلین نے آپ کی روزانہ تقسیمِ اوقات اس طرح تحریر کی ہے: صبح سے چاشت تک مصروفِ مراقبہ و عبادت رہتے۔ پھر اپنے ہاتھ سے کھانا تقسیم فرماتے۔ دوپہر کے بعد ایک گھنٹہ قیلولہ کرتے پھر ظہر کی نماز باجماعت ادا کرتے۔ پھر حلقۂ مریداں میں تشریف لاتے اور ذکر و فکر میں مشغول ہوجاتے۔ اس اثناء میں لوگ بیماروں کو شفایاب کرانے کے لیے پانی کے کوزے لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ شیخ دعا پڑھ کر اس پر دم کرتے۔
اس طرح سینکڑوں بیمار شفایاب ہوجاتے۔ اس کے بعد دو منشی حاضر ہوتے جو حاجت مندوں کے لیے بادشاہ اور امراء کی طرف آپ کی جانب سے سفارشی رقعے لکھتے ان پر صرف ‘‘اللہ بس باقی ہوس’’ ہی لکھا ہوتا۔ بادشاہ اور امیر آپ کی سفارش منظور کرتے اور حاجت مندوں کی غرض پوری ہوجاتی۔ نمازِ عصر کے بعد پھر مراقبہ اور ذکر و فکر شروع ہوجاتا۔ شام کو پانی کے گھونٹ سے روزہ افطار کرتے۔ پھر کھانا تقسیم کرنے کے لیے باہر تشریف لاتے۔ تقسیمِ طعام کے بعد خود جَو کی روٹی چولائی کے ساگ کے ساتھ تناول فرماتے وہ بھی چند نوالے۔ پھر عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر حجرۂ خاص میں تشریف لے جاتے اور نمازِ تہجد تک تین قرآن ختم کرتے۔
اسمِ گرامی: شاہ بلاول ـ والد کا نام: سیّد عثمان بن عیسیٰ ۔ آپ کے آباؤ اجداد ہمایوں بادشاہ کے ہمراہ ہرات سے ہندوستان میں آئے اور موضع شیخوپورہ میں آباد ہوگئے۔ شاہ بلاول کی ولادت بھی یہیں ہوئی۔
تعلیم:
لاہور میں علومِ ظاہر و باطن کی تحصیل کی۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ قادریہ میں شاہ شمس الدین قادری لاہوری قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔
متاخرینِ مشائخ میں بڑے پایہ کے بزرگ گزرے ہیں۔ اپنے عہد کے عالم و فاضل، متقی و متشرع صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ کتاب محبوب الواصلین جو خاص آپ کے ذکر میں لکھی گئی ہے۔ اس میں مرقوم ہے کہ آپ مادر زاد ولی تھے سات برس کا سن تھا کہ ان کا ایک ہم عمر لڑکا فوت ہوگیا۔ آپ یہ سن کر اس کے سرہانے گئے اور کہا اے یار بے وقت سونا اچھا نہیں ہے آؤ چل کر کھیلیں۔ لڑکے نے اسی وقت آنکھیں کھول دیں اور اٹھ کر ساتھ چلا گیا۔
آپ کے دادا سید عیسیٰ نے جب یہ سنا تو آپ کو شیخ فتح محمد لاہوری جو اپنے عہد کے جیّد علما سے تھے، کے حلقۂ درس بھیج دیا۔ آپ نے تھوڑی ہی مدت میں علوم ظاہری میں بھی کمال حاصل کرلیا۔
ایک روز آپ دریائے راوی کے کنارے جارہے تھے کہ حضرت شاہ شمس الدین قادری لاہوری کشتی سے اُترے۔ آپ نے فوراً شیخ بلاول کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ذات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے۔ میری صحبت میں رہو اور فیضِ باطن جو میرے پاس تمہاری امانت ہے اسے حاصل کرو۔ شیخ بلاول یہ سنتے ہی آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں حاضر رہ کر بے اندازہ ظاہری و باطنی کمالات اکتساب کرکے خرقۂ خلافت پایا۔ مرجع خلائق تھے۔ خاص[1] و عام آپ کے خدمت میں حاضر ہونا باعثِ فخر و افتخار سمجھتے تھے۔ استغنا اور فقرو غنا میں ممتاز الوقت تھے۔
ایک روز آپ کے مرشد دریا کے ایک درخت کے سایہ میں آرام فرما رہے تھے اور آپ حاضرِ خدمت تھے کہ ایک جاٹ نے آکر درخت سے لکڑیاں کاٹنی شروع کردیں۔ آپ نے ہر چند اسے منع فرمایا مگر وُہ باز نہ آیا۔ آپ نے اس کی جانب نگاہِ غضب سے دیکھا وُہ اسی وقت گِر کر مرگیا۔ حضرت شیخ شمس الدین نے بیدار ہوکر فرمایا: ہم فقیروں کے لیے ایسا جلال و غضب رو انہیں ہے اب مناسب یہی ہے کہ حضرت شاہ ابواسحاق کے ایک حجرے میں خلوت نشین ہوکر تلاوتِ قرآن میں مشغول ہوجاؤ۔ چنانچہ بلاول کئی سال وہاں رہے اور یہ مدت تلاوت اور نماز روزہ میں گزار دی۔
صاحبِ محبوب الوصلین لکھتے ہیں کہ محلہ شیخ ابواسحاق میں آپ کے ہمسایہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور رسم کے مطابق بھانڈ مبارک باد لینے کے لیے آئے وہ بڑا تنگ دست اور مفلس تھا۔ آپ اس کے حال سے واقف تھے۔ آپ ایک مٹی کا لوٹا لے کر حجرے سے باہر آئے اور اُسے دیوارِ ہمسایہ پر مار کر توڑ ڈالا۔ تمام ٹکڑے زرِ خالص بن گئے جنہیں نقال اٹھا کر لے گئے۔ اور ہمسایہ کو ان سے خلاصی ہوئی۔
آپ کی خانقاہ میں لنگر عام جاری تھا۔ دونوں وقت لوگوں کو کھانا ملتا تھا۔ آپ خود بھی بڑے خوش پوشاک تھے لنگر خانہ میں ہر قسم کا سامان موجود رہتا تھا۔ ایک رات ایک چور سامان چرانے کی غرض سے باورچی خانہ میں داخل ہوا مگر حکم الٰہی سے اندھا ہوگیا اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھ رہا۔ صبح آپ نے خادمِ باورچی خانہ کو بلایا اور کہا باورچی خانہ میں ایک اندھا بیٹھا ہوا ہے اُسے بُلا کر دُگنا کھانا دو وہ رات سے بھوکا ہے۔ داروغہ باورچی خانہ میں اسے کھانا دینا چاہا۔ اس نے کہا مجھے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔ مجھے حضرت شاہ بلاول کے پاس لے چلو۔
چنانچہ جب آپ کی خدمت میں حاضر تو سر قدموں پر رکھ کر معافی مانگی۔ حلقۂ ارادت میں داخل اور آپ کی دعا سے بینا ہوگیا۔ صاحب محبوب الواصلین نے آپ کی روزانہ تقسیمِ اوقات اس طرح تحریر کی ہے: صبح سے چاشت تک مصروفِ مراقبہ و عبادت رہتے۔ پھر اپنے ہاتھ سے کھانا تقسیم فرماتے۔ دوپہر کے بعد ایک گھنٹہ قیلولہ کرتے پھر ظہر کی نماز باجماعت ادا کرتے۔ پھر حلقۂ مریداں میں تشریف لاتے اور ذکر و فکر میں مشغول ہوجاتے۔ اس اثناء میں لوگ بیماروں کو شفایاب کرانے کے لیے پانی کے کوزے لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ شیخ دعا پڑھ کر اس پر دم کرتے۔
اس طرح سینکڑوں بیمار شفایاب ہوجاتے۔ اس کے بعد دو منشی حاضر ہوتے جو حاجت مندوں کے لیے بادشاہ اور امراء کی طرف آپ کی جانب سے سفارشی رقعے لکھتے ان پر صرف ‘‘اللہ بس باقی ہوس’’ ہی لکھا ہوتا۔ بادشاہ اور امیر آپ کی سفارش منظور کرتے اور حاجت مندوں کی غرض پوری ہوجاتی۔ نمازِ عصر کے بعد پھر مراقبہ اور ذکر و فکر شروع ہوجاتا۔ شام کو پانی کے گھونٹ سے روزہ افطار کرتے۔ پھر کھانا تقسیم کرنے کے لیے باہر تشریف لاتے۔ تقسیمِ طعام کے بعد خود جَو کی روٹی چولائی کے ساگ کے ساتھ تناول فرماتے وہ بھی چند نوالے۔ پھر عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر حجرۂ خاص میں تشریف لے جاتے اور نمازِ تہجد تک تین قرآن ختم کرتے۔
👍2❤1
ایک روز شیخ ابو طالب جو وہ ہزاری منصب دار اور آپ کا مرید تھا۔ حاضرِ خدمت ہوا۔ عرض کیا کہ میرے دیہات کی جاگیر میں بارش نہیں ہوئی ۔ دعا فرمایئے آپ نے آسمان کی طرف منہ کرکے دُعا کی۔ فوراً ابر نمودار ہوا۔ آپ نے فرمایا: جا اور ابو طالب کی جاگیر پر برس۔ بادل وہاں سے اُڑا اور اس کی جاگیر پر جا کر برسا۔
وصال:
دو شنبہ ۲۸ شعبان ۱۰۴۶ھ کو بعہدِ شاہ جہان ستّر برس کی عمر میں وفات پائی۔
ز دنیا شد چو در خلدِ معلّٰی
بگو مقبولِ سرمست تاریخ ۱۰۴۶ھ
جنابِ شہ بلاول شاہِ شاہاں
دگر کامل مہ فضل است اے جاں ۱۰۴۶ھ
نیز حدیقۃ الاولیا میں اردو میں قطعۂ تاریخ درج ہے۔
شاہ بلاول شاہِ عالی جاہ تھے
اُن کا نُورِ معرفت ہے خاتمہ ۱۰۴۶ھ
حضرتِ حق سے مِلا اُن کو بہشت
دوسری تاریخ ہے نیکو سرشت ۱۰۴۶ھ
مزار مبارک:
مزار گھوڑے شاہ اور باغ راجہ دینا ناتھ کے نزدیک واقع ہے۔ پہلے آپ کا مقبرہ دریائے راوی کے قریب تھا۔ ۱۲۵۲ھ میں دریائے راوی مقبرے کے بالکل قریب بہنا شروع ہوگیا تو اس خدشہ سے کہیں مزار کو نقصان نہ پہنچے۔ آپ کی نعشِ مبارک کو وہاں سے نکال کر اس جگہ دفن کیا گیا۔
[1]۔ ملا عبدالحمید لاہوری اپنی کتاب بادشاہ نامہ میں رقم طراز ہیں: شاہجہان بادشاہ تخت نشینی کے بعد ۱۰۳۸ھ کو لاہور آیا ۱۵؍رمضان کو جہانگیر کے مزار کی زیارت کی وہاں دس ہزار روپیہ غربا میں تقسیم کیا۔ حضرت میاں میر کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔ کچھ رقم حضرت میاں میر کی خدمت میں نذر کی مگر آپ نے قبول نہ فرمائی۔ ۱۹ تاریخ کو شیخ بلاول کو دو ہزار روپیہ نذر کیا جو انہوں نے کچھ تو درویشوں میں تقسیم کردیا باقی خادمِ مطبخ کے حوالے کردیا کہ درویشوں اور مسافروں پر خرچ ہو۔ وہ زاہد و پرہیز گار درویش تھے اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے تھے۔ بادشاہ نے حضرت بلاول سے پوچھا حضرت میاں میر نے میرا نذرانہ قبول نہ کیا اور آپ نے کرلیا۔ فرمایا حضرت میاں میر کلی صفات کے حامل ہیں ان کی توجہ دنیا کی طرف نہیں ہے۔ ہمارے ہاں درویش اور مسافر آرام پاتے ہیں اور لنگر خانہ موجود ہے جہاں سے ان کو کھانا ملتا ہے اس لیے ہمیں روپیہ کی بھی ضرورت رہتی ہے۔
واپسی پر بادشاہ و رعایا حضرت میاں میر کے پاس گئے۔ عرض کیا آپ نے میری پیش کش قبول نہ فرمائی مگر حضرت شاہ بلاول نے قبول فرمالی۔ فرمایا: وہ بزرگ ولی کامل در یاکی مانند ہیں۔ میں اُن کے سامنے ایک معمولی تالاب ہُوں۔ دریا میں اگر کوئی پلید چیز پڑجائے تو وہ پلید نہیں ہوتا لیکن تالاب پلید ہوجاتا ہے۔ بادشاہ یہ سُن کر جب قلعہ میں گیا تو سجدہ شکر بجالایا اور کہا الحمداللہ میرے زمانے میں ایسے بزرگ بھی ہیں، جن کا رضائے الٰہی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں۔
دارا شکوہ سفینۃ الاولیاء میں لکھتا ہے: یہ فقیر بھی آپ کی خدمت میں حاضر دے چکا ہے۔ آپ کے چہرے پر ریاضت و مجاہد کے نشانات ظاہر تھے۔ روزانہ کافی لوگ آپ کی خدمت میں آتے جاتے تھے۔
حضرت شاہ بلاول (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت شاہ بلاول قبلہ، اہل تحقیق ہیں۔
خاندانی حالات:
آپ کے آباؤ اجداد ہرات کے رہنے والے تھے ۔ شہنشاہ ہمایوں کے ہمراہ ہرات سے ہندوستان آئے، وہ شیخو پورہ میں آباد ہوئے۔ آپ کے دادا سید عیسیٰ ایک باکمال بزرگ تھے ۔
والد:
آپ کے والد کابنام سید عثمان ہے ۔
ولادت:
آپ ۹۷۶ھ میں شیخوپورہ میں پیداہوئے۔
نام:
آپ کا نام سید بلاول ہے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے دادا نے تعلیم حاصل کرنے کے واسطے آپ کو لاہور بھیجا ۔ لاہور میں آپ نے شیخ فتح محمد سے تعلیم حاصل کی ۔ تھوڑے عرصے میں آپ تحصیل علوم ظاہری سےفارغ ہوئے۔
بیعت و خلافت:
ایک دن دریاکےکنارےآپ کی حضرت شیخ شمس الدین سے ملاقات ہوئی، انہوں نے فرط محبت سے آپ کا ہاتھ پکڑا اور آپ کو صحبت میں رہنے کی تاکید کی اور آپ سے فرمایا کہ ۔
"تمہارا حصہ میرے پاس ہے،
وہ امانت ہے، اس کو مجھ سے لو"۔
آپ حضرت شیخ شمس الدین کے مرید ہوئے، وہ مرید اور خلیفہ حضرت شیخ ابو اسحٰق کے تھے اور حضرت شیخ ابو اسحاق مرید اور خلیفہ حضرت شیخ داؤد جہنی وال کے تھے، ۲؎ کچھ دن بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
وفات:
آپ نے ۲۸ شعبان ۱۰۴۶ھ کو وفات پائی اور آپ کا مزار اسی موضع میں لاہور کے قریب ہے، جس میں آپ رہتے تھے ۔ ۳؎
سیرت:
آپ صائم الدہر اور قائم الیل تھے اور زہد و ورع میں امتیازی شان رکھتے تھے ۔ آپ کے چہرے سے آثار ریاضت نمایاں تھے ۔ ابتداء میں آپ کو جلال بہت تھا ۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کے پیر و مرشد دریا کے کنارے ایک پیڑ کے نیچے سو رہے تھے اور آپ برابر میں کھڑے تھے، ایک شخص آیا اور لکڑیاں توڑنے لگا ۔ آپ نے منع کیا کہ جب ان کے پیر و مرشد جاگ جائیں، تب پیڑ پر چڑھنا اور لکڑیاں توڑنا، وہ شخص پیڑ پر سے نیچے گرا اور فوراً مر گیا ۔
تھوڑی دیر کے بعد آپ کے پیر و مرشد بیدار ہوئے، اس شخص کو مرا ہوا دیکھ کر سب حال پوچھا، آپ نے جو کچھ ہوا تھا، وہ سب اپنے پیر و مرشد کے گوش گزار کیا۔
وصال:
دو شنبہ ۲۸ شعبان ۱۰۴۶ھ کو بعہدِ شاہ جہان ستّر برس کی عمر میں وفات پائی۔
ز دنیا شد چو در خلدِ معلّٰی
بگو مقبولِ سرمست تاریخ ۱۰۴۶ھ
جنابِ شہ بلاول شاہِ شاہاں
دگر کامل مہ فضل است اے جاں ۱۰۴۶ھ
نیز حدیقۃ الاولیا میں اردو میں قطعۂ تاریخ درج ہے۔
شاہ بلاول شاہِ عالی جاہ تھے
اُن کا نُورِ معرفت ہے خاتمہ ۱۰۴۶ھ
حضرتِ حق سے مِلا اُن کو بہشت
دوسری تاریخ ہے نیکو سرشت ۱۰۴۶ھ
مزار مبارک:
مزار گھوڑے شاہ اور باغ راجہ دینا ناتھ کے نزدیک واقع ہے۔ پہلے آپ کا مقبرہ دریائے راوی کے قریب تھا۔ ۱۲۵۲ھ میں دریائے راوی مقبرے کے بالکل قریب بہنا شروع ہوگیا تو اس خدشہ سے کہیں مزار کو نقصان نہ پہنچے۔ آپ کی نعشِ مبارک کو وہاں سے نکال کر اس جگہ دفن کیا گیا۔
[1]۔ ملا عبدالحمید لاہوری اپنی کتاب بادشاہ نامہ میں رقم طراز ہیں: شاہجہان بادشاہ تخت نشینی کے بعد ۱۰۳۸ھ کو لاہور آیا ۱۵؍رمضان کو جہانگیر کے مزار کی زیارت کی وہاں دس ہزار روپیہ غربا میں تقسیم کیا۔ حضرت میاں میر کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔ کچھ رقم حضرت میاں میر کی خدمت میں نذر کی مگر آپ نے قبول نہ فرمائی۔ ۱۹ تاریخ کو شیخ بلاول کو دو ہزار روپیہ نذر کیا جو انہوں نے کچھ تو درویشوں میں تقسیم کردیا باقی خادمِ مطبخ کے حوالے کردیا کہ درویشوں اور مسافروں پر خرچ ہو۔ وہ زاہد و پرہیز گار درویش تھے اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے تھے۔ بادشاہ نے حضرت بلاول سے پوچھا حضرت میاں میر نے میرا نذرانہ قبول نہ کیا اور آپ نے کرلیا۔ فرمایا حضرت میاں میر کلی صفات کے حامل ہیں ان کی توجہ دنیا کی طرف نہیں ہے۔ ہمارے ہاں درویش اور مسافر آرام پاتے ہیں اور لنگر خانہ موجود ہے جہاں سے ان کو کھانا ملتا ہے اس لیے ہمیں روپیہ کی بھی ضرورت رہتی ہے۔
واپسی پر بادشاہ و رعایا حضرت میاں میر کے پاس گئے۔ عرض کیا آپ نے میری پیش کش قبول نہ فرمائی مگر حضرت شاہ بلاول نے قبول فرمالی۔ فرمایا: وہ بزرگ ولی کامل در یاکی مانند ہیں۔ میں اُن کے سامنے ایک معمولی تالاب ہُوں۔ دریا میں اگر کوئی پلید چیز پڑجائے تو وہ پلید نہیں ہوتا لیکن تالاب پلید ہوجاتا ہے۔ بادشاہ یہ سُن کر جب قلعہ میں گیا تو سجدہ شکر بجالایا اور کہا الحمداللہ میرے زمانے میں ایسے بزرگ بھی ہیں، جن کا رضائے الٰہی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں۔
دارا شکوہ سفینۃ الاولیاء میں لکھتا ہے: یہ فقیر بھی آپ کی خدمت میں حاضر دے چکا ہے۔ آپ کے چہرے پر ریاضت و مجاہد کے نشانات ظاہر تھے۔ روزانہ کافی لوگ آپ کی خدمت میں آتے جاتے تھے۔
حضرت شاہ بلاول (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت شاہ بلاول قبلہ، اہل تحقیق ہیں۔
خاندانی حالات:
آپ کے آباؤ اجداد ہرات کے رہنے والے تھے ۔ شہنشاہ ہمایوں کے ہمراہ ہرات سے ہندوستان آئے، وہ شیخو پورہ میں آباد ہوئے۔ آپ کے دادا سید عیسیٰ ایک باکمال بزرگ تھے ۔
والد:
آپ کے والد کابنام سید عثمان ہے ۔
ولادت:
آپ ۹۷۶ھ میں شیخوپورہ میں پیداہوئے۔
نام:
آپ کا نام سید بلاول ہے ۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے دادا نے تعلیم حاصل کرنے کے واسطے آپ کو لاہور بھیجا ۔ لاہور میں آپ نے شیخ فتح محمد سے تعلیم حاصل کی ۔ تھوڑے عرصے میں آپ تحصیل علوم ظاہری سےفارغ ہوئے۔
بیعت و خلافت:
ایک دن دریاکےکنارےآپ کی حضرت شیخ شمس الدین سے ملاقات ہوئی، انہوں نے فرط محبت سے آپ کا ہاتھ پکڑا اور آپ کو صحبت میں رہنے کی تاکید کی اور آپ سے فرمایا کہ ۔
"تمہارا حصہ میرے پاس ہے،
وہ امانت ہے، اس کو مجھ سے لو"۔
آپ حضرت شیخ شمس الدین کے مرید ہوئے، وہ مرید اور خلیفہ حضرت شیخ ابو اسحٰق کے تھے اور حضرت شیخ ابو اسحاق مرید اور خلیفہ حضرت شیخ داؤد جہنی وال کے تھے، ۲؎ کچھ دن بعد خرقہ خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
وفات:
آپ نے ۲۸ شعبان ۱۰۴۶ھ کو وفات پائی اور آپ کا مزار اسی موضع میں لاہور کے قریب ہے، جس میں آپ رہتے تھے ۔ ۳؎
سیرت:
آپ صائم الدہر اور قائم الیل تھے اور زہد و ورع میں امتیازی شان رکھتے تھے ۔ آپ کے چہرے سے آثار ریاضت نمایاں تھے ۔ ابتداء میں آپ کو جلال بہت تھا ۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کے پیر و مرشد دریا کے کنارے ایک پیڑ کے نیچے سو رہے تھے اور آپ برابر میں کھڑے تھے، ایک شخص آیا اور لکڑیاں توڑنے لگا ۔ آپ نے منع کیا کہ جب ان کے پیر و مرشد جاگ جائیں، تب پیڑ پر چڑھنا اور لکڑیاں توڑنا، وہ شخص پیڑ پر سے نیچے گرا اور فوراً مر گیا ۔
تھوڑی دیر کے بعد آپ کے پیر و مرشد بیدار ہوئے، اس شخص کو مرا ہوا دیکھ کر سب حال پوچھا، آپ نے جو کچھ ہوا تھا، وہ سب اپنے پیر و مرشد کے گوش گزار کیا۔
❤1👍1
آپ کے پیر و مرشد نے سُن کر فرمایا کہ اچھی بات نہیں کہ جو اپنے کو فقیر کہتے ہیں، وہ غصہ کریں، جلالی کیفیت سے باز آنے کی یہ ترکیب ہے کہ ایک حجرے میں تنِ تنہا رہ کر قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہو ۔ چنانچہ کئی سال آپ ایک حجرے میں رہے اور تلاوت قرآن پاک میں مصروف رہے"۔
آپ کی پوشاک مکلّف ہوتی تھی، آپ کا لنگر عام تھا، آپ کی مرغوب غذا چولائی کا ساگ تھا ۔ رات کو تین قرآن ختم کرتے، لوگ پانی کا کوزہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔ آپ اس پر کچھ پڑھ کر دم کرتے ۔ وہ پانی مریضوں کو پلایا جاتا، بہت سے مریض اس کی برکت سے اچھے ہوتے ۔ ۴؎
کرامات:
ایک چور بہ نیت چوری آپ کے باورچی خانے میں داخل ہوا ۔ داخل ہوتے ہی اندھا ہو گیا ۔ صبح ہونے پر آپ نے داروغہ باورچی خانے سے فرمایا کہ ایک شخص باورچی خانہ میں چھپا بیٹھا ہے، اس کو دونا حصہ دو کہ وہ رات سے بھوکا ہے ۔جب وہ شخص آپ کے سامنے لایا گیا، معافی کا خواستگار ہوا، مرید ہوا اور اس کو دکھائی دینے لگا ۔
ایک مرتبہ آپ کا ایک مرید شیخ ابو طالب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ بارش نہ ہونے سے فصل خراب ہونے کا اندیشہ ہے، وہ دعا کا طالب ہوا، آپ نے دعا کی، اس کے علاقے میں خوب بارش ہوئی ۔
حواشی:
۱؎ محبوب الواصلین
۲؎ سفینۃ الاولیاء (فارسی) ص۱۹۸
۳؎ سفینۃ الاولیاء (فارسی) ص۱۹۹
۴؎ سفینة الاولياء (فارسی) ص۱۹۹
۵؎ سفینۃ الاولیاء (فارسی) ص۱۹۹
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-shah-bilawal-lahori
آپ کی پوشاک مکلّف ہوتی تھی، آپ کا لنگر عام تھا، آپ کی مرغوب غذا چولائی کا ساگ تھا ۔ رات کو تین قرآن ختم کرتے، لوگ پانی کا کوزہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔ آپ اس پر کچھ پڑھ کر دم کرتے ۔ وہ پانی مریضوں کو پلایا جاتا، بہت سے مریض اس کی برکت سے اچھے ہوتے ۔ ۴؎
کرامات:
ایک چور بہ نیت چوری آپ کے باورچی خانے میں داخل ہوا ۔ داخل ہوتے ہی اندھا ہو گیا ۔ صبح ہونے پر آپ نے داروغہ باورچی خانے سے فرمایا کہ ایک شخص باورچی خانہ میں چھپا بیٹھا ہے، اس کو دونا حصہ دو کہ وہ رات سے بھوکا ہے ۔جب وہ شخص آپ کے سامنے لایا گیا، معافی کا خواستگار ہوا، مرید ہوا اور اس کو دکھائی دینے لگا ۔
ایک مرتبہ آپ کا ایک مرید شیخ ابو طالب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ بارش نہ ہونے سے فصل خراب ہونے کا اندیشہ ہے، وہ دعا کا طالب ہوا، آپ نے دعا کی، اس کے علاقے میں خوب بارش ہوئی ۔
حواشی:
۱؎ محبوب الواصلین
۲؎ سفینۃ الاولیاء (فارسی) ص۱۹۸
۳؎ سفینۃ الاولیاء (فارسی) ص۱۹۹
۴؎ سفینة الاولياء (فارسی) ص۱۹۹
۵؎ سفینۃ الاولیاء (فارسی) ص۱۹۹
( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-shah-bilawal-lahori
scholars.pk
Hazrat Sheikh Shah Bilawal Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت مولانا سید اختصاص حسین پھپھوندوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید اختصاص حسین ۔ علاقہ "پھپھوند" کی نسبت سے پھپھوندوی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید اختصاص حسین بن مولانا سید شاہ اختصاص حسین بن سید شاہ انوار حسین علیم الرحمہ ۔ آپ کا تعلق خاندانِ ساداتِ کے عظیم خانوادے سے ہے۔شاہ صاحب کا پورا خاندان علم و فضل ،تقویٰ و طہارت میں مشہور زمانہ تھا ۔ بالخصوص آپ کے والد گرامی مولانا سید شاہ انوار حسین صاحب سہسوانی علیہ الرحمہ جامع علوم نقلیہ وعقلیہ ،جامع شریعت و طریقت اور مرجع الخلائق تھے۔عالم ربانی حضرت علامہ مولانا خواجہ عبدالصمد سہسوانی علیہ الرحمہ مولانا سید اختصاص حسین علیہ الرحمہ کےنانا محترم ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ جمادی الاول/1318ھ کو پھپھوند ضلع اٹاوہ میں ہوئی۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، قرآن مجید اپنے نانا کے محبوب و مخصوص مرید مولانا حکیم مومن سجاد سے ختم کیا۔ کچھ دنوں تک مدرسہ مسعودیہ بہرائج شریف میں تعلیم پائی، پھر مدرسہ قادریہ اور شمس العلوم بد ایوں کے علماء مولانا سید دیانت حسین وغیرہ سے پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔آپ نےکم سنی میں ہی مرتبۂ کمال کوپہنچے،علم وفضل میں اپنی مثال آپ بنے۔
بیعت وخلافت:
اپنے ماموں حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندوی سے بیعت ہوئے، اور اپنے والد گرامی سے اجازت و خلافت پائی ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، سند الصلحاء، صاحبِ اوصافِ کثیرہ ،جامع شریعت طریقت حضرت علامہ مولانا سید شاہ اختصاص حسین رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجید عالم دین ،حامی سنت اور ماحیِ بدعت تھے۔آپ کاپوراخاندان علم وفضل میں پورےہندوستان میں معروف تھا۔آپ کی ذات عوام وخواص میں مرجع الخلائق تھی۔اللہ جل شانہ نےکئی خوبیوں سے متصف فرمایا تھا۔آپ کابیان مرتب ومسلسل ہوتا تھا۔جو ایک مرتبہ آپ کابیان سن لیتاتھا پھر وہ آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔بیان میں رد وہابیہ ودیابنہ پر خصوصی توجہ تھی۔عقائد و معمولات اہل سنت ایسے حسین اندازمیں بیان کرتے کہ سامعین عش عش کر اٹھتے،اور ردوہابیہ میں ایسے دلائل قاہرہ سےرد کرتے کہ مجلس وعظ میں ہی کئی بدمذہب تائب ہوجاتے،اور ان کی شقاوت سعادت میں تبدیل ہوجاتی تھی۔
آپ علیہ الرحمہ اخلاص و دفا کا نمونہ، حسن اخلاق میں ممتاز،غم گساری، درد مندی خصوصی اوصاف ومحاسن کےمالک تھے، شعر گوئی کا خصوصی ملکہ تھا،نہایت زودگو اور پر گو تھے،کلام زیادہ تر نعتیہ ہوتا تھا،بندہ،شاذ اور نادر تخلص رکھتے تھے۔وصال سے ایک سال قبل اپنی تقریروں میں فرمایا کرتے کہ میں نے اپنے وقت معینہ سے زیادہ تقریر کی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ موقع پھر نہ ملے۔یعنی باتوں باتوں میں اپنے وصال کی خبردےدیتے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 28/شعبان المعظم 1364ھ، مطابق 8 اگست 1945ء، بروز بدھ، بوقت غروب ِآفتاب، علم کا آفتاب ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ikhtisas-hussain-phaphondvi
نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا سید اختصاص حسین ۔ علاقہ "پھپھوند" کی نسبت سے پھپھوندوی کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا سید اختصاص حسین بن مولانا سید شاہ اختصاص حسین بن سید شاہ انوار حسین علیم الرحمہ ۔ آپ کا تعلق خاندانِ ساداتِ کے عظیم خانوادے سے ہے۔شاہ صاحب کا پورا خاندان علم و فضل ،تقویٰ و طہارت میں مشہور زمانہ تھا ۔ بالخصوص آپ کے والد گرامی مولانا سید شاہ انوار حسین صاحب سہسوانی علیہ الرحمہ جامع علوم نقلیہ وعقلیہ ،جامع شریعت و طریقت اور مرجع الخلائق تھے۔عالم ربانی حضرت علامہ مولانا خواجہ عبدالصمد سہسوانی علیہ الرحمہ مولانا سید اختصاص حسین علیہ الرحمہ کےنانا محترم ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت ماہ جمادی الاول/1318ھ کو پھپھوند ضلع اٹاوہ میں ہوئی۔
تحصیل علم:
ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، قرآن مجید اپنے نانا کے محبوب و مخصوص مرید مولانا حکیم مومن سجاد سے ختم کیا۔ کچھ دنوں تک مدرسہ مسعودیہ بہرائج شریف میں تعلیم پائی، پھر مدرسہ قادریہ اور شمس العلوم بد ایوں کے علماء مولانا سید دیانت حسین وغیرہ سے پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔آپ نےکم سنی میں ہی مرتبۂ کمال کوپہنچے،علم وفضل میں اپنی مثال آپ بنے۔
بیعت وخلافت:
اپنے ماموں حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن پھپھوندوی سے بیعت ہوئے، اور اپنے والد گرامی سے اجازت و خلافت پائی ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء، سند الصلحاء، صاحبِ اوصافِ کثیرہ ،جامع شریعت طریقت حضرت علامہ مولانا سید شاہ اختصاص حسین رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کےجید عالم دین ،حامی سنت اور ماحیِ بدعت تھے۔آپ کاپوراخاندان علم وفضل میں پورےہندوستان میں معروف تھا۔آپ کی ذات عوام وخواص میں مرجع الخلائق تھی۔اللہ جل شانہ نےکئی خوبیوں سے متصف فرمایا تھا۔آپ کابیان مرتب ومسلسل ہوتا تھا۔جو ایک مرتبہ آپ کابیان سن لیتاتھا پھر وہ آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔بیان میں رد وہابیہ ودیابنہ پر خصوصی توجہ تھی۔عقائد و معمولات اہل سنت ایسے حسین اندازمیں بیان کرتے کہ سامعین عش عش کر اٹھتے،اور ردوہابیہ میں ایسے دلائل قاہرہ سےرد کرتے کہ مجلس وعظ میں ہی کئی بدمذہب تائب ہوجاتے،اور ان کی شقاوت سعادت میں تبدیل ہوجاتی تھی۔
آپ علیہ الرحمہ اخلاص و دفا کا نمونہ، حسن اخلاق میں ممتاز،غم گساری، درد مندی خصوصی اوصاف ومحاسن کےمالک تھے، شعر گوئی کا خصوصی ملکہ تھا،نہایت زودگو اور پر گو تھے،کلام زیادہ تر نعتیہ ہوتا تھا،بندہ،شاذ اور نادر تخلص رکھتے تھے۔وصال سے ایک سال قبل اپنی تقریروں میں فرمایا کرتے کہ میں نے اپنے وقت معینہ سے زیادہ تقریر کی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ موقع پھر نہ ملے۔یعنی باتوں باتوں میں اپنے وصال کی خبردےدیتے۔
تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 28/شعبان المعظم 1364ھ، مطابق 8 اگست 1945ء، بروز بدھ، بوقت غروب ِآفتاب، علم کا آفتاب ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-syed-ikhtisas-hussain-phaphondvi
scholars.pk
Hazrat Molana Syed Ikhtisas Hussain Phaphondvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1