🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت شیخ شاہ بلاول لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی: شاہ بلاول ـ والد کا نام: سیّد عثمان بن عیسیٰ ۔ آپ کے آباؤ اجداد ہمایوں بادشاہ کے ہمراہ ہرات سے ہندوستان میں آئے اور موضع شیخوپورہ میں آباد ہوگئے۔ شاہ بلاول کی ولادت بھی یہیں ہوئی۔
تعلیم:
لاہور میں علومِ ظاہر و باطن کی تحصیل کی۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ قادریہ میں شاہ شمس الدین قادری لاہوری قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔
متاخرینِ مشائخ میں بڑے پایہ کے بزرگ گزرے ہیں۔ اپنے عہد کے عالم و فاضل، متقی و متشرع صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ کتاب محبوب الواصلین جو خاص آپ کے ذکر میں لکھی گئی ہے۔ اس میں مرقوم ہے کہ آپ مادر زاد ولی تھے سات برس کا سن تھا کہ ان کا ایک ہم عمر لڑکا فوت ہوگیا۔ آپ یہ سن کر اس کے سرہانے گئے اور کہا اے یار بے وقت سونا اچھا نہیں ہے آؤ چل کر کھیلیں۔ لڑکے نے اسی وقت آنکھیں کھول دیں اور اٹھ کر ساتھ چلا گیا۔
آپ کے دادا سید عیسیٰ نے جب یہ سنا تو آپ کو شیخ فتح محمد لاہوری جو اپنے عہد کے جیّد علما سے تھے، کے حلقۂ درس بھیج دیا۔ آپ نے تھوڑی ہی مدت میں علوم ظاہری میں بھی کمال حاصل کرلیا۔
ایک روز آپ دریائے راوی کے کنارے جارہے تھے کہ حضرت شاہ شمس الدین قادری لاہوری کشتی سے اُترے۔ آپ نے فوراً شیخ بلاول کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ذات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے۔ میری صحبت میں رہو اور فیضِ باطن جو میرے پاس تمہاری امانت ہے اسے حاصل کرو۔ شیخ بلاول یہ سنتے ہی آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں حاضر رہ کر بے اندازہ ظاہری و باطنی کمالات اکتساب کرکے خرقۂ خلافت پایا۔ مرجع خلائق تھے۔ خاص[1] و عام آپ کے خدمت میں حاضر ہونا باعثِ فخر و افتخار سمجھتے تھے۔ استغنا اور فقرو غنا میں ممتاز الوقت تھے۔
ایک روز آپ کے مرشد دریا کے ایک درخت کے سایہ میں آرام فرما رہے تھے اور آپ حاضرِ خدمت تھے کہ ایک جاٹ نے آکر درخت سے لکڑیاں کاٹنی شروع کردیں۔ آپ نے ہر چند اسے منع فرمایا مگر وُہ باز نہ آیا۔ آپ نے اس کی جانب نگاہِ غضب سے دیکھا وُہ اسی وقت گِر کر مرگیا۔ حضرت شیخ شمس الدین نے بیدار ہوکر فرمایا: ہم فقیروں کے لیے ایسا جلال و غضب رو انہیں ہے اب مناسب یہی ہے کہ حضرت شاہ ابواسحاق کے ایک حجرے میں خلوت نشین ہوکر تلاوتِ قرآن میں مشغول ہوجاؤ۔ چنانچہ بلاول کئی سال وہاں رہے اور یہ مدت تلاوت اور نماز روزہ میں گزار دی۔
صاحبِ محبوب الوصلین لکھتے ہیں کہ محلہ شیخ ابواسحاق میں آپ کے ہمسایہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور رسم کے مطابق بھانڈ مبارک باد لینے کے لیے آئے وہ بڑا تنگ دست اور مفلس تھا۔ آپ اس کے حال سے واقف تھے۔ آپ ایک مٹی کا لوٹا لے کر حجرے سے باہر آئے اور اُسے دیوارِ ہمسایہ پر مار کر توڑ ڈالا۔ تمام ٹکڑے زرِ خالص بن گئے جنہیں نقال اٹھا کر لے گئے۔ اور ہمسایہ کو ان سے خلاصی ہوئی۔
آپ کی خانقاہ میں لنگر عام جاری تھا۔ دونوں وقت لوگوں کو کھانا ملتا تھا۔ آپ خود بھی بڑے خوش پوشاک تھے لنگر خانہ میں ہر قسم کا سامان موجود رہتا تھا۔ ایک رات ایک چور سامان چرانے کی غرض سے باورچی خانہ میں داخل ہوا مگر حکم الٰہی سے اندھا ہوگیا اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھ رہا۔ صبح آپ نے خادمِ باورچی خانہ کو بلایا اور کہا باورچی خانہ میں ایک اندھا بیٹھا ہوا ہے اُسے بُلا کر دُگنا کھانا دو وہ رات سے بھوکا ہے۔ داروغہ باورچی خانہ میں اسے کھانا دینا چاہا۔ اس نے کہا مجھے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔ مجھے حضرت شاہ بلاول کے پاس لے چلو۔
چنانچہ جب آپ کی خدمت میں حاضر تو سر قدموں پر رکھ کر معافی مانگی۔ حلقۂ ارادت میں داخل اور آپ کی دعا سے بینا ہوگیا۔ صاحب محبوب الواصلین نے آپ کی روزانہ تقسیمِ اوقات اس طرح تحریر کی ہے: صبح سے چاشت تک مصروفِ مراقبہ و عبادت رہتے۔ پھر اپنے ہاتھ سے کھانا تقسیم فرماتے۔ دوپہر کے بعد ایک گھنٹہ قیلولہ کرتے پھر ظہر کی نماز باجماعت ادا کرتے۔ پھر حلقۂ مریداں میں تشریف لاتے اور ذکر و فکر میں مشغول ہوجاتے۔ اس اثناء میں لوگ بیماروں کو شفایاب کرانے کے لیے پانی کے کوزے لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ شیخ دعا پڑھ کر اس پر دم کرتے۔
اس طرح سینکڑوں بیمار شفایاب ہوجاتے۔ اس کے بعد دو منشی حاضر ہوتے جو حاجت مندوں کے لیے بادشاہ اور امراء کی طرف آپ کی جانب سے سفارشی رقعے لکھتے ان پر صرف ‘‘اللہ بس باقی ہوس’’ ہی لکھا ہوتا۔ بادشاہ اور امیر آپ کی سفارش منظور کرتے اور حاجت مندوں کی غرض پوری ہوجاتی۔ نمازِ عصر کے بعد پھر مراقبہ اور ذکر و فکر شروع ہوجاتا۔ شام کو پانی کے گھونٹ سے روزہ افطار کرتے۔ پھر کھانا تقسیم کرنے کے لیے باہر تشریف لاتے۔ تقسیمِ طعام کے بعد خود جَو کی روٹی چولائی کے ساگ کے ساتھ تناول فرماتے وہ بھی چند نوالے۔ پھر عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر حجرۂ خاص میں تشریف لے جاتے اور نمازِ تہجد تک تین قرآن ختم کرتے۔
اسمِ گرامی: شاہ بلاول ـ والد کا نام: سیّد عثمان بن عیسیٰ ۔ آپ کے آباؤ اجداد ہمایوں بادشاہ کے ہمراہ ہرات سے ہندوستان میں آئے اور موضع شیخوپورہ میں آباد ہوگئے۔ شاہ بلاول کی ولادت بھی یہیں ہوئی۔
تعلیم:
لاہور میں علومِ ظاہر و باطن کی تحصیل کی۔
بیعت و خلافت:
سلسلۂ قادریہ میں شاہ شمس الدین قادری لاہوری قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔
متاخرینِ مشائخ میں بڑے پایہ کے بزرگ گزرے ہیں۔ اپنے عہد کے عالم و فاضل، متقی و متشرع صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ کتاب محبوب الواصلین جو خاص آپ کے ذکر میں لکھی گئی ہے۔ اس میں مرقوم ہے کہ آپ مادر زاد ولی تھے سات برس کا سن تھا کہ ان کا ایک ہم عمر لڑکا فوت ہوگیا۔ آپ یہ سن کر اس کے سرہانے گئے اور کہا اے یار بے وقت سونا اچھا نہیں ہے آؤ چل کر کھیلیں۔ لڑکے نے اسی وقت آنکھیں کھول دیں اور اٹھ کر ساتھ چلا گیا۔
آپ کے دادا سید عیسیٰ نے جب یہ سنا تو آپ کو شیخ فتح محمد لاہوری جو اپنے عہد کے جیّد علما سے تھے، کے حلقۂ درس بھیج دیا۔ آپ نے تھوڑی ہی مدت میں علوم ظاہری میں بھی کمال حاصل کرلیا۔
ایک روز آپ دریائے راوی کے کنارے جارہے تھے کہ حضرت شاہ شمس الدین قادری لاہوری کشتی سے اُترے۔ آپ نے فوراً شیخ بلاول کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ذات کی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے۔ میری صحبت میں رہو اور فیضِ باطن جو میرے پاس تمہاری امانت ہے اسے حاصل کرو۔ شیخ بلاول یہ سنتے ہی آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں حاضر رہ کر بے اندازہ ظاہری و باطنی کمالات اکتساب کرکے خرقۂ خلافت پایا۔ مرجع خلائق تھے۔ خاص[1] و عام آپ کے خدمت میں حاضر ہونا باعثِ فخر و افتخار سمجھتے تھے۔ استغنا اور فقرو غنا میں ممتاز الوقت تھے۔
ایک روز آپ کے مرشد دریا کے ایک درخت کے سایہ میں آرام فرما رہے تھے اور آپ حاضرِ خدمت تھے کہ ایک جاٹ نے آکر درخت سے لکڑیاں کاٹنی شروع کردیں۔ آپ نے ہر چند اسے منع فرمایا مگر وُہ باز نہ آیا۔ آپ نے اس کی جانب نگاہِ غضب سے دیکھا وُہ اسی وقت گِر کر مرگیا۔ حضرت شیخ شمس الدین نے بیدار ہوکر فرمایا: ہم فقیروں کے لیے ایسا جلال و غضب رو انہیں ہے اب مناسب یہی ہے کہ حضرت شاہ ابواسحاق کے ایک حجرے میں خلوت نشین ہوکر تلاوتِ قرآن میں مشغول ہوجاؤ۔ چنانچہ بلاول کئی سال وہاں رہے اور یہ مدت تلاوت اور نماز روزہ میں گزار دی۔
صاحبِ محبوب الوصلین لکھتے ہیں کہ محلہ شیخ ابواسحاق میں آپ کے ہمسایہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور رسم کے مطابق بھانڈ مبارک باد لینے کے لیے آئے وہ بڑا تنگ دست اور مفلس تھا۔ آپ اس کے حال سے واقف تھے۔ آپ ایک مٹی کا لوٹا لے کر حجرے سے باہر آئے اور اُسے دیوارِ ہمسایہ پر مار کر توڑ ڈالا۔ تمام ٹکڑے زرِ خالص بن گئے جنہیں نقال اٹھا کر لے گئے۔ اور ہمسایہ کو ان سے خلاصی ہوئی۔
آپ کی خانقاہ میں لنگر عام جاری تھا۔ دونوں وقت لوگوں کو کھانا ملتا تھا۔ آپ خود بھی بڑے خوش پوشاک تھے لنگر خانہ میں ہر قسم کا سامان موجود رہتا تھا۔ ایک رات ایک چور سامان چرانے کی غرض سے باورچی خانہ میں داخل ہوا مگر حکم الٰہی سے اندھا ہوگیا اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھ رہا۔ صبح آپ نے خادمِ باورچی خانہ کو بلایا اور کہا باورچی خانہ میں ایک اندھا بیٹھا ہوا ہے اُسے بُلا کر دُگنا کھانا دو وہ رات سے بھوکا ہے۔ داروغہ باورچی خانہ میں اسے کھانا دینا چاہا۔ اس نے کہا مجھے کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔ مجھے حضرت شاہ بلاول کے پاس لے چلو۔
چنانچہ جب آپ کی خدمت میں حاضر تو سر قدموں پر رکھ کر معافی مانگی۔ حلقۂ ارادت میں داخل اور آپ کی دعا سے بینا ہوگیا۔ صاحب محبوب الواصلین نے آپ کی روزانہ تقسیمِ اوقات اس طرح تحریر کی ہے: صبح سے چاشت تک مصروفِ مراقبہ و عبادت رہتے۔ پھر اپنے ہاتھ سے کھانا تقسیم فرماتے۔ دوپہر کے بعد ایک گھنٹہ قیلولہ کرتے پھر ظہر کی نماز باجماعت ادا کرتے۔ پھر حلقۂ مریداں میں تشریف لاتے اور ذکر و فکر میں مشغول ہوجاتے۔ اس اثناء میں لوگ بیماروں کو شفایاب کرانے کے لیے پانی کے کوزے لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ شیخ دعا پڑھ کر اس پر دم کرتے۔
اس طرح سینکڑوں بیمار شفایاب ہوجاتے۔ اس کے بعد دو منشی حاضر ہوتے جو حاجت مندوں کے لیے بادشاہ اور امراء کی طرف آپ کی جانب سے سفارشی رقعے لکھتے ان پر صرف ‘‘اللہ بس باقی ہوس’’ ہی لکھا ہوتا۔ بادشاہ اور امیر آپ کی سفارش منظور کرتے اور حاجت مندوں کی غرض پوری ہوجاتی۔ نمازِ عصر کے بعد پھر مراقبہ اور ذکر و فکر شروع ہوجاتا۔ شام کو پانی کے گھونٹ سے روزہ افطار کرتے۔ پھر کھانا تقسیم کرنے کے لیے باہر تشریف لاتے۔ تقسیمِ طعام کے بعد خود جَو کی روٹی چولائی کے ساگ کے ساتھ تناول فرماتے وہ بھی چند نوالے۔ پھر عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر حجرۂ خاص میں تشریف لے جاتے اور نمازِ تہجد تک تین قرآن ختم کرتے۔
👍2❤1