Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-08-1444 ᴴ | 19-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-08-1444 ᴴ | 19-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسٹیج پر تقریر و نعت خوانی کے دوران پان یا چائے شغل کرنا بُرا ہے اور تلاوت کے دوران تالی کو خلاف اولیٰ ہے اور سامع کو ناجائز و حرام ہے، خطبہ و وعظ بھی مثل دیگر خطبات کے سننا ضروری ہے اس کے دوران بھی سامعین کو چائے وغیرہ پینا ناجائز ہے ـ والله تعالیٰ اعلم
فتاوی تاج الشریعہ جلد 9 صفحہ ¹⁴⁷
✍ فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری
قادری غفرلہ ۲۲ جمادی الثانی ۱۳۹۸ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسٹیج پر تقریر و نعت خوانی کے دوران پان یا چائے شغل کرنا بُرا ہے اور تلاوت کے دوران تالی کو خلاف اولیٰ ہے اور سامع کو ناجائز و حرام ہے، خطبہ و وعظ بھی مثل دیگر خطبات کے سننا ضروری ہے اس کے دوران بھی سامعین کو چائے وغیرہ پینا ناجائز ہے ـ والله تعالیٰ اعلم
فتاوی تاج الشریعہ جلد 9 صفحہ ¹⁴⁷
✍ فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری
قادری غفرلہ ۲۲ جمادی الثانی ۱۳۹۸ھ
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت شیخ بہرام چشتی صابری
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ بہرام چشتی ۔ بقول صاحبِ ’’ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام ‘‘ آپ حضرت جلال الدین کبیر الاولیاء پانی پتی کے فرزندِارجمند ہیں، تو پھر سلسلہ ٔ نسب اس طرح ہے:حضرت شیخ بہرام چشتی بن شیخ محمد جلال الدین کبیر الاولیاء بن خواجہ محمود بن کریم الدین بن جمیل الدین عیسیٰ بن شرف الدین بن محمود بن بدر الدین بن ابو بکر بن صدر الدین بن علی بن شمس الدین عثمان بن نجم الدین عبدا للہ الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی ذالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ شیخ جلال الدین کے والد ماجد شیخ محمود امرائےپانی پت سے تھے ۔ (تذکرہ اولیائے برصغیر:221)
تاریخ ولادت:
729ھ کو پانی پت (ہند) میں پیدا ہوئے۔
تحصیل علم:
بچپن سے ہی آثارِ ولایت آپ میں نمایاں تھے۔بعد علوم ظاہریہ کی تکمیل کے آپ نے اپنے عالی قدر والد گرامی کی صحبت فیض سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور ان کی سرپرستی میں عبادت و ریاضت اور مجاہدہ کی تکمیل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت جلال الدین کبیرالاولیاء پانی پتی کے مرید و خلیفہ ہیں۔
سیرت و خصائص:
پیشوائے عارفاں، مقتدائے سالکاں، حضرت شیخ بہرام چشتی صابری ۔ آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کے نامور شیخ گزرے ہیں ۔ آپ انتہائی خوبصورت نیک سیرت باکردار، پابند صوم و صلوٰۃ و تہجد ترک و تفرید میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔تمام عمر اپنے خواجگان کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے۔ محفل سماع سماع کے دلدادہ اور صاحب حال و وجد تھے۔سوز وگریہ میں نہایت کے درجہ کو پہنچے ہوئے تھے۔آپ سیف اللسان اور صاحب کشف و کرامات تھے۔ آپ کے زمانہ کے تمام شیخ شیوخ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ آپ کی ذات سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا۔اس لئے سلسلہ عالیہ میں آپ کابڑا نام و احترام ہے ۔
دریا کا رخ بدل دیا:
حضرت شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء چشتی صابری کی خدمت میں قصبہ بیدولی صوبہ پنجاب کے کچھ مریدین حاضر ہوکرعرض گزار ہوئے کہ ہمارا قصبہ دریائے جمنا کے کنارے پر واقع ہے۔ اتفاقاً دریائے جمنا کا پانی سیلابی موسم میں قصبہ کی طرف ہوگیا ہے۔ حضور اگریہ قصبہ پانی کی زد میں آیا تو ہمارے گھر تباہ و برباد ہوجائیں گے اور ہماری زمینیں کاشت کاری کے قابل نہ رہیں گی۔حضرت شیخ نے ان کی بات سن کر آپ کے نام ایک خط لکھا اور فرمایا کہ یہ لوگ فریادی ہوئے ہیں، لہٰذا آپ ان کے ساتھ چلے جائیں،اور دریا کو حکم دیں کہ یہاں سے سے دور چلا جائے اور جب تک دریا اپنا رخ نہیں بدلتا آپ وہیں قیام کریں۔آپ اپنے شیخ کا حکم ملتے ہی اس قصبہ میں پہنچے اور دریائے جمنا کے کنارے کھڑے ہوکر اپنا عصا زمین میں گاڑدیا اور فرمایا کہ یہاں سے ہٹ جا۔آپ کا حکم ملتے ہی دریا کا پانی آہستہ آہستہ اپنا رخ بدلتا گیا،اور دو میل دور پیچھے چلا گیا۔آپ اسی قصبہ میں قیام فرمارہے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کا خطرہ نہ رہے۔ پھر آپ زندگی جگہ اور قصبہ میں قیام پذیر رہے حتیٰ کے آپ کا وصال ہوگیا۔
متعصب ہندو کو سزا:
1257ھ کو ظفر بیگ حاکم دہلی نے ایک ہندو کو اس علاقے میں افسرِ ارضیات مقرر کردیا۔ وہ ہندو مسلمانوں کے حق میں سخت متعصب تھا۔ عام زمینوں کو سرکاری کھاتے میں لاتا جاتا۔جب وہ اس قصبہ میں پہنچا تو خانقاہ کی زمین کے لیے بھی سرکاری کارندوں کو حکم دیا کہ اس رقبہ کو ناپ کر سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ سرکاری کارندے دربار شریف کے تقدس کی بناء پر ہچکچاہٹ سے کام لے رہے تھے۔
بالآخر وہ خود گھوڑے پر سوار ہوا۔اور خود پاس کھڑے ہو کر کارندوں کو حکم دیا کہ اس کو ناپو۔ جب اس نے یہ حکم دیا اور پیمائش شروع کرانے گلا تو آپ کے دربار کا مجاور(خادم) دربار شریف میں حاضر ہو کر فریادی ہوا اور عرض کی حضور اس ظالم نے آپ کی دی ہوئی زمینیں قبضہ میں لے لی ہیں۔ اب خانقاہ کی خاص زمین بھی لینے کے درپے ہے۔ حضور ہماری امداد اور دستگیری فرمائیے اور اس ظالم کو ظلم سے روکیں ۔ وہ مجاور دربار کے اندر قبر مبارک سے لپٹ کر فریادکررہا تھا کہ باہر شور و غل ہوا۔اس نے باہر نکل کر دیکھا کہ ہند و گھوڑے سےا چھلا اور ہوا میں معلق ہو کےرہ گیا۔
لوگ اس کی بے بسی پر ہنس بھی رہے تھے۔ اور شور بھی مچارہے تھے کہ یہ مجاور دوبارہ دربار شریف کے اندر داخل ہوا۔اورعرض کرنے لگا حضور اس بے ایمان کو زمین پر گرائیں ۔یہ کہہ کر وہ باہر آیا تو کیا دیکھا کہ وہ خبیث زمین پر گرا اور اس کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ اور باز و پشت سے بندھے ہوئے ہیں اور وہ زمین پر پڑا ہو تڑپ رہا تھا۔ گردن بھی ٹوٹ گئی۔ اس کے رشتہ دار پہنچے اس مجاور کے پاس آئے اور معافی مانگنے لگے ۔ مجاور کو ان کی حالت پر رحم آگیا اور دوبارہ اندر مزر شریف پر حاضری دے کر عرض کرنے لگا کہ حضور اس بد بخت کو معاف فرمادیں یہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ چنانچہ اسے افاقہ شروع ہو گیا۔ اور چند ہی دنوں میں شفایاب ہوگیا۔ مگر پھر پوری دوبارہ کبھی دربار شریف یا اس کے مجاوروں کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھا۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شیخ بہرام چشتی ۔ بقول صاحبِ ’’ انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام ‘‘ آپ حضرت جلال الدین کبیر الاولیاء پانی پتی کے فرزندِارجمند ہیں، تو پھر سلسلہ ٔ نسب اس طرح ہے:حضرت شیخ بہرام چشتی بن شیخ محمد جلال الدین کبیر الاولیاء بن خواجہ محمود بن کریم الدین بن جمیل الدین عیسیٰ بن شرف الدین بن محمود بن بدر الدین بن ابو بکر بن صدر الدین بن علی بن شمس الدین عثمان بن نجم الدین عبدا للہ الیٰ آخرہ ۔
آپ کا سلسلہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی ذالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے ۔ شیخ جلال الدین کے والد ماجد شیخ محمود امرائےپانی پت سے تھے ۔ (تذکرہ اولیائے برصغیر:221)
تاریخ ولادت:
729ھ کو پانی پت (ہند) میں پیدا ہوئے۔
تحصیل علم:
بچپن سے ہی آثارِ ولایت آپ میں نمایاں تھے۔بعد علوم ظاہریہ کی تکمیل کے آپ نے اپنے عالی قدر والد گرامی کی صحبت فیض سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور ان کی سرپرستی میں عبادت و ریاضت اور مجاہدہ کی تکمیل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت جلال الدین کبیرالاولیاء پانی پتی کے مرید و خلیفہ ہیں۔
سیرت و خصائص:
پیشوائے عارفاں، مقتدائے سالکاں، حضرت شیخ بہرام چشتی صابری ۔ آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ صابریہ کے نامور شیخ گزرے ہیں ۔ آپ انتہائی خوبصورت نیک سیرت باکردار، پابند صوم و صلوٰۃ و تہجد ترک و تفرید میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔تمام عمر اپنے خواجگان کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے۔ محفل سماع سماع کے دلدادہ اور صاحب حال و وجد تھے۔سوز وگریہ میں نہایت کے درجہ کو پہنچے ہوئے تھے۔آپ سیف اللسان اور صاحب کشف و کرامات تھے۔ آپ کے زمانہ کے تمام شیخ شیوخ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ آپ کی ذات سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا۔اس لئے سلسلہ عالیہ میں آپ کابڑا نام و احترام ہے ۔
دریا کا رخ بدل دیا:
حضرت شیخ جلال الدین محمد کبیر الاولیاء چشتی صابری کی خدمت میں قصبہ بیدولی صوبہ پنجاب کے کچھ مریدین حاضر ہوکرعرض گزار ہوئے کہ ہمارا قصبہ دریائے جمنا کے کنارے پر واقع ہے۔ اتفاقاً دریائے جمنا کا پانی سیلابی موسم میں قصبہ کی طرف ہوگیا ہے۔ حضور اگریہ قصبہ پانی کی زد میں آیا تو ہمارے گھر تباہ و برباد ہوجائیں گے اور ہماری زمینیں کاشت کاری کے قابل نہ رہیں گی۔حضرت شیخ نے ان کی بات سن کر آپ کے نام ایک خط لکھا اور فرمایا کہ یہ لوگ فریادی ہوئے ہیں، لہٰذا آپ ان کے ساتھ چلے جائیں،اور دریا کو حکم دیں کہ یہاں سے سے دور چلا جائے اور جب تک دریا اپنا رخ نہیں بدلتا آپ وہیں قیام کریں۔آپ اپنے شیخ کا حکم ملتے ہی اس قصبہ میں پہنچے اور دریائے جمنا کے کنارے کھڑے ہوکر اپنا عصا زمین میں گاڑدیا اور فرمایا کہ یہاں سے ہٹ جا۔آپ کا حکم ملتے ہی دریا کا پانی آہستہ آہستہ اپنا رخ بدلتا گیا،اور دو میل دور پیچھے چلا گیا۔آپ اسی قصبہ میں قیام فرمارہے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کا خطرہ نہ رہے۔ پھر آپ زندگی جگہ اور قصبہ میں قیام پذیر رہے حتیٰ کے آپ کا وصال ہوگیا۔
متعصب ہندو کو سزا:
1257ھ کو ظفر بیگ حاکم دہلی نے ایک ہندو کو اس علاقے میں افسرِ ارضیات مقرر کردیا۔ وہ ہندو مسلمانوں کے حق میں سخت متعصب تھا۔ عام زمینوں کو سرکاری کھاتے میں لاتا جاتا۔جب وہ اس قصبہ میں پہنچا تو خانقاہ کی زمین کے لیے بھی سرکاری کارندوں کو حکم دیا کہ اس رقبہ کو ناپ کر سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ سرکاری کارندے دربار شریف کے تقدس کی بناء پر ہچکچاہٹ سے کام لے رہے تھے۔
بالآخر وہ خود گھوڑے پر سوار ہوا۔اور خود پاس کھڑے ہو کر کارندوں کو حکم دیا کہ اس کو ناپو۔ جب اس نے یہ حکم دیا اور پیمائش شروع کرانے گلا تو آپ کے دربار کا مجاور(خادم) دربار شریف میں حاضر ہو کر فریادی ہوا اور عرض کی حضور اس ظالم نے آپ کی دی ہوئی زمینیں قبضہ میں لے لی ہیں۔ اب خانقاہ کی خاص زمین بھی لینے کے درپے ہے۔ حضور ہماری امداد اور دستگیری فرمائیے اور اس ظالم کو ظلم سے روکیں ۔ وہ مجاور دربار کے اندر قبر مبارک سے لپٹ کر فریادکررہا تھا کہ باہر شور و غل ہوا۔اس نے باہر نکل کر دیکھا کہ ہند و گھوڑے سےا چھلا اور ہوا میں معلق ہو کےرہ گیا۔
لوگ اس کی بے بسی پر ہنس بھی رہے تھے۔ اور شور بھی مچارہے تھے کہ یہ مجاور دوبارہ دربار شریف کے اندر داخل ہوا۔اورعرض کرنے لگا حضور اس بے ایمان کو زمین پر گرائیں ۔یہ کہہ کر وہ باہر آیا تو کیا دیکھا کہ وہ خبیث زمین پر گرا اور اس کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ اور باز و پشت سے بندھے ہوئے ہیں اور وہ زمین پر پڑا ہو تڑپ رہا تھا۔ گردن بھی ٹوٹ گئی۔ اس کے رشتہ دار پہنچے اس مجاور کے پاس آئے اور معافی مانگنے لگے ۔ مجاور کو ان کی حالت پر رحم آگیا اور دوبارہ اندر مزر شریف پر حاضری دے کر عرض کرنے لگا کہ حضور اس بد بخت کو معاف فرمادیں یہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ چنانچہ اسے افاقہ شروع ہو گیا۔ اور چند ہی دنوں میں شفایاب ہوگیا۔ مگر پھر پوری دوبارہ کبھی دربار شریف یا اس کے مجاوروں کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھا۔
❤2👍1
تاریخ وصال:
آپ کا وصال 27 شعبان المعظم 854ھ بمطابق 1450ء کو 125 سال کی عمر شریف میں ہوا ۔ مزار پُر انوار قصبہ بیدولی انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ تذکرہ اولیائے برصغیر ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام، ج3 ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-behram-chishti
آپ کا وصال 27 شعبان المعظم 854ھ بمطابق 1450ء کو 125 سال کی عمر شریف میں ہوا ۔ مزار پُر انوار قصبہ بیدولی انڈیا میں مرجع خاص و عام ہے۔
ماخذ و مراجع:
اقتباس الانوار ۔ تذکرہ اولیائے برصغیر ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام، ج3 ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-behram-chishti
scholars.pk
Hazrat Shah Behram Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
شیخ المحدثین، حضرت علامہ غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول رضوی ۔ لقب: شیخ الحدیث، استاذ العلماء، نائبِ محدث اعظم پاکستان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا غلام رسول رضوی بن چوہدری نبی بخش علیہ الرحمہ، آپ علاقے کے معروف زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں صاحبِ مجاز بھی تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1338ھ، مطابق 1920ء کو قصبہ "سیسنہ" ضلع امرتسر (انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیل علم:
شیخ الحدیث مولانا غلام رسول کے والد ِماجد کا پیشہ زمینداری تھا ،لیکن وہ اپنے بیٹے کو ایک جید عالم دین کی حیثیت سے دیکھنے کے متمنی تھے۔ آپ نے اسکول کی مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ قران مجید صرف ونحو اور اصول فقہ کی ابتدائی کتب امر تسر کی مسجد خیر الدین سےمتصل مدرسہ نعمانیہ میں پڑھیں۔ بعد ازاں جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں علامہ مولانا مہر محمد سے فنون کی بقیہ کتب پڑھیں، اور یہیں سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد سند فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ پھر صحاح ستہ کی تکرار کی غرض سے لاہور سے بریلی شریف پہنچے اور حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ سے دوبارہ کتب احادیث مکمل طور پر پڑھیں ۔ اسی طرح مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ سے بھی علمی استفادہ کرنے کا موقع ملا ۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں مفتی اعظم ہند شہزادہ اعلیٰ حضرت مولانا مصطفیٰ رضاخان علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے، اور انہوں نے آپ کوتمام اوراد و وظائف، اور سلسلہ عالیہ رضویہ کی خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا ۔ حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد علیہ الرحمہ نے بھی اجازت وخلافت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
شیخ الحدیثِ و التفسیر، استاذ العلماء و الفضلاء، امام المدرسین، جامع العلوم، جامع شریعت و حقیقت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ
آپ علیہ الرحمہ کاشمار اکابرین علماء اہل سنت میں ہوتاہے۔ آپ نے تقریباً ستر سال حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کی ہے۔ آپ علیہ الرحمہ ایک کہنہ مشق مدرس، اور عظیم محقق تھے ۔ آپ نے ساری زندگی محنت و لگن سے دینِ مصطفیٰ ﷺ کی آبیاری فرمائی، فروغِ مسلک حق اہل سنت وجماعت میں آپ کا بہت اہم کردار ہے۔ کثیر طلباء نےآپ سے علمی استفادہ کیا، جو بعد میں آسمانِ علم کے نیر تاباں بن کر چمکے،فیصل آباد میں دینی خدمات اور بالخصوص دورۂ حدیث شریف میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ کےبعد آپ کا اسم گرامی آتا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے زندگی اسلام کی وقف کر دی تھی یہی وجہ ہے کہ تاحیات درس ووتدریس، تالیف و تصنیف، وعظ و نصیحت، اور علم دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔
دینی مدارس و مساجد کے قیام پر خصوصی توجہ تھی، آج بھی آپ کا فیضان علمی و روحانی جاری وساری ہے۔ جامعہ نظامیہ لاہور، جامعہ سراجیہ رسولیہ فیصل آباد، تفہیم البخاری شرح صحیح البخاری، تفسیر رضوی، ترجمہ جامع کرامات اولیاء، تذکرہ غوث اعظم، حبیب اعظم، شرح مسلم الثبوت، حاشیہ کنز الدقائق، حاشیہ سلم العلوم، ترجمہ جواہر البحار، اور ہزاروں تلامذہ، جن میں شرف ملت مولانا عبدالحکیم شرف قادری، مفتی اعظم پاکستان مفتی عبدالقیوم ہزاروی، فقیہ العصر مولانا مفتی محمد امین، مولانا مفتی گل احمد عتیقی، مولانا غلام محمد سیالوی، و دیگر علماء آپ کا عظیم علمی صدقہ جاریہ ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 27 شعبان المعظم 1422ھ / مطابق 14 نومبر 2001ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار جامعہ سراجیہ رسولیہ فیصل آباد میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ محدث اعظم پاکستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ghulam-rasool-rizvi
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول رضوی ۔ لقب: شیخ الحدیث، استاذ العلماء، نائبِ محدث اعظم پاکستان ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا غلام رسول رضوی بن چوہدری نبی بخش علیہ الرحمہ، آپ علاقے کے معروف زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں صاحبِ مجاز بھی تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1338ھ، مطابق 1920ء کو قصبہ "سیسنہ" ضلع امرتسر (انڈیا) میں ہوئی۔
تحصیل علم:
شیخ الحدیث مولانا غلام رسول کے والد ِماجد کا پیشہ زمینداری تھا ،لیکن وہ اپنے بیٹے کو ایک جید عالم دین کی حیثیت سے دیکھنے کے متمنی تھے۔ آپ نے اسکول کی مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ قران مجید صرف ونحو اور اصول فقہ کی ابتدائی کتب امر تسر کی مسجد خیر الدین سےمتصل مدرسہ نعمانیہ میں پڑھیں۔ بعد ازاں جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں علامہ مولانا مہر محمد سے فنون کی بقیہ کتب پڑھیں، اور یہیں سے دورۂ حدیث کرنے کے بعد سند فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی ۔ پھر صحاح ستہ کی تکرار کی غرض سے لاہور سے بریلی شریف پہنچے اور حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ علیہ سے دوبارہ کتب احادیث مکمل طور پر پڑھیں ۔ اسی طرح مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ سے بھی علمی استفادہ کرنے کا موقع ملا ۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں مفتی اعظم ہند شہزادہ اعلیٰ حضرت مولانا مصطفیٰ رضاخان علیہ الرحمہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوئے، اور انہوں نے آپ کوتمام اوراد و وظائف، اور سلسلہ عالیہ رضویہ کی خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا ۔ حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد علیہ الرحمہ نے بھی اجازت وخلافت عطاء فرمائی۔
سیرت و خصائص:
شیخ الحدیثِ و التفسیر، استاذ العلماء و الفضلاء، امام المدرسین، جامع العلوم، جامع شریعت و حقیقت شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول رضوی رحمۃ اللہ علیہ
آپ علیہ الرحمہ کاشمار اکابرین علماء اہل سنت میں ہوتاہے۔ آپ نے تقریباً ستر سال حدیثِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کی ہے۔ آپ علیہ الرحمہ ایک کہنہ مشق مدرس، اور عظیم محقق تھے ۔ آپ نے ساری زندگی محنت و لگن سے دینِ مصطفیٰ ﷺ کی آبیاری فرمائی، فروغِ مسلک حق اہل سنت وجماعت میں آپ کا بہت اہم کردار ہے۔ کثیر طلباء نےآپ سے علمی استفادہ کیا، جو بعد میں آسمانِ علم کے نیر تاباں بن کر چمکے،فیصل آباد میں دینی خدمات اور بالخصوص دورۂ حدیث شریف میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ کےبعد آپ کا اسم گرامی آتا ہے۔ آپ علیہ الرحمہ نے زندگی اسلام کی وقف کر دی تھی یہی وجہ ہے کہ تاحیات درس ووتدریس، تالیف و تصنیف، وعظ و نصیحت، اور علم دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔
دینی مدارس و مساجد کے قیام پر خصوصی توجہ تھی، آج بھی آپ کا فیضان علمی و روحانی جاری وساری ہے۔ جامعہ نظامیہ لاہور، جامعہ سراجیہ رسولیہ فیصل آباد، تفہیم البخاری شرح صحیح البخاری، تفسیر رضوی، ترجمہ جامع کرامات اولیاء، تذکرہ غوث اعظم، حبیب اعظم، شرح مسلم الثبوت، حاشیہ کنز الدقائق، حاشیہ سلم العلوم، ترجمہ جواہر البحار، اور ہزاروں تلامذہ، جن میں شرف ملت مولانا عبدالحکیم شرف قادری، مفتی اعظم پاکستان مفتی عبدالقیوم ہزاروی، فقیہ العصر مولانا مفتی محمد امین، مولانا مفتی گل احمد عتیقی، مولانا غلام محمد سیالوی، و دیگر علماء آپ کا عظیم علمی صدقہ جاریہ ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 27 شعبان المعظم 1422ھ / مطابق 14 نومبر 2001ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار جامعہ سراجیہ رسولیہ فیصل آباد میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تعارف علمائے اہل سنت ۔ تذکرہ محدث اعظم پاکستان ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ghulam-rasool-rizvi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Ghulam Rasool Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-08-1444 ᴴ | 19-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-08-1444 ᴴ | 20-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1