Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2
حضرت میر سیّد محمد کالپوی علیہالرحمہ
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: میر اور کالپی شریف کی نسبت سے’’ کالپوی ‘‘ کہلاتے ہیں ۔
نسب:
آپ نسباً سیّد ہیں، آپ کا تعلق ترمذی ساداتِ کرام سے ہے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
میر سیّد محمد بن حضرت ابو سعید بن بہاء الدین بن عماد الدین بن اللہ بخش بن سیف الدین بن مجید الدین بن شمس الدین بن شہاب الدین بن عمر بن حامد بن احمد الزاہد الحسینی الترمذی ثم الکالپوی۔(رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)
خاندانی پس منظر:
آپ کی ولادت سے قبل ہی حضرت ابو سعید قُدِّسَ سِرُّہٗ شہر دکن کی جانب تشریف لے گئے اور مفقود الخبر ہو گئے۔ آپ کا آبائی وطن ترمذ تھا، آپ کے آبا و اَجداد ترمذ سے ہجرت کر کے جالندھر تشریف لائے۔ آپ کے والدِ ماجد سیّد ابو سعید قُدِّسَ سِرُّہٗ نے وہاں سے کالپی کو اپنا وطن بنایا ۔ آپ کاخاندان علما وصلحا و اَتقیا کا خاندان ہے۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص315)
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 1006ھ مطابق 1598ء کو کالپی شریف (ہند) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ اپنی والدۂ ماجدہ کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھے، یہاں تک کہ جب آپ کی عمر شریف سات برس کی ہوئی تو حضرت شیخ محمد یونس قُدِّسَ سِرُّہٗ (جو اپنے وقت کے عظیم محدث تھے) کی بارگاہ میں پہنچے اور ان سے کسبِ عُلوم فرمایا، ان کی خدمت میں آپ نے مطوّل تک کی تعلیم حاصل فرمائی اور احادیث کی سندیں بھی مرحمت ہوئیں۔ استاذ موصوف کی متشرع زندگی کا آپ پر گہرا اثر پڑا، بَعْدَہٗ کچھ کتابیں حضرت عمر جاجموئی سے بھی پڑھیں، پھر اس کے بعد آپ نے کوڑہ جہان آباد کا سفر فرمایا اور حضرت شیخ جمال بن مخدوم جہاں نیاں ثانی قُدِّسَ سِرُّہُمَا کاکوروی کی بارگاہ میں تمام کتبِ درسیہ کا اختتام فرمایا۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص315)
بیعت و خلافت:
آپ جب حضرت جمال الاولیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمتِ با برکت میں کسبِ علم کے واسطے تشریف لے گئے تو آپ کی عالی ظرافت و صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اپنے سلسلۂ بیعت میں داخل فرمایا اور تمام سلاسلِ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ، نقشبندیہ، مداریہ کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔ حضرت خواجہ ابوالعلیٰ نقشبندی نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں خلافت و اجازت عطا فرمائی، اور حضرت شاہِ نقشبند خواجہ بہاؤالدین نقشبند کی تسبیح بھی عطا فرمائی۔ (تذکرۂ اولیائے پاک وہند، ص272 ۔ خزینۃ الاصفیاء، ص405)
سیرت و خصائص:
سیّد الاولیا، سندالاتقیا، برہان الاصفیا ، رئیس العلما، صاحب فضائلِ کثیرہ، جامعِ سلاسلِ اربعہ، عارفِ اسرارِ ربانی حضرت سیّد شاہ میر محمد کالپوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے تیسویں امام و شیخِ طریقت ہیں ۔ آپ کی ذات بڑی با کرامت تھی۔ ہر طالبِ حق کی طلب کو پورا فرماتے اور آنِ واحد میں عقدۂ لاینحل کو کھول دیتے، آپ کی زبانِ پاک گویا بحرِ عرفان تھی۔ شریعت کی گتھیوں کے سلجھانے میں آپ کے ہم عصر وں میں کوئی آپ کامدِّ مقابل نہ تھا اور آپ ایسے صاحبِ کمال تھے کہ لعل و گہر کی کوئی حقیقت آپ کی نظر میں نہ تھی، آپ کی توجہ احیائے قلوب کی ضامن ہوتی تھی، آپ درجۂ قطبیتِ کبریٰ پر متمکن تھے۔آپ کے فیضان سے بڑے بڑے صاحب ِکمال اولیاء ِعصر پیدا ہوئے، عبادت وریاضت ، تقویٰ وطہارت کے ساتھ اعلیٰ درجے کے مدرّس تھے، بے شمار طالبانِ علم نے آپ کے فیضِ صحبت سے علم کے آفتاب و ماہتاب بن کر شریعتِ مطہرہ کی اشاعت فرمائی۔ آپ علمائے ربّانیین میں سے تھے۔ آپ اپنے اَسلاف کےنقشِ قدم پر مکمل کار بند تھے۔شریعت و طریقت میں نا بالغۂ روز گار تھے۔
آپ اَغیار کی صحبت سے ہمیشہ پرہیز فرماتے اور فقراء کے ساتھ نہایت تواضع و انکساری سے پیش آتے۔ اگر بادشاہِ وقت آپ کی زیارت کو آتے تو آپ کبھی بھی اس کی تعظیم نہ فرماتے۔آپ کی عبادت و ریاضت کا عالم بھی ایک عجیب اہمیت کا حامل ہے ، ہر وقت آپ پر ایک کیفیت طاری رہتی دلِ حزین رکھتے تھے،اکثر آنسوؤں سے کئی رومال تر ہوجاتے۔ نمازِ پنج وقتہ باجماعت ادا فرماتےکہ سات سال کی عمر سے نمازِ با جماعت آپ کی کبھی قضا نہیں ہوئی۔ آخرِ عمر میں 26 سال تک متصل صائم رہے سوائے ان دنوں کے جن میں روزہ حرام ہے باقی تمام دنوں میں روزہ دار رہتے۔
مسند درس و تدریس:
آپ اپنے مرشِدِ کامل سے اکتسابِ فیض کے بعد ان کی اجازت و حکم کے مطابق اپنے وطن کالپی شریف تشرف لائےا ور درس و تدریس کا آغاز فرمایا، جو ایک زمانے تک جاری رہا۔ بے شمارا افراد آپ سے فیض یاب ہوئے اور یہ قدیم اسلامی درسگاہیں انہیں مشائخِ کرام سے آباد تھیں،جن درس گاہوں سے بڑے بڑے ادیب عابد زاہد اور اپنے وقت کے تجربے کار محقق پیدا ہوتے تھے اور جن کا رعب ِعلم ایک عالم کی ہدایت و رہبری کا کام انجام دیتا تھا۔آپ کےفیضانِ علم سےایک جہاں نے اپنے قلوب واذہان منوّر فرمائے۔
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: میر اور کالپی شریف کی نسبت سے’’ کالپوی ‘‘ کہلاتے ہیں ۔
نسب:
آپ نسباً سیّد ہیں، آپ کا تعلق ترمذی ساداتِ کرام سے ہے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
میر سیّد محمد بن حضرت ابو سعید بن بہاء الدین بن عماد الدین بن اللہ بخش بن سیف الدین بن مجید الدین بن شمس الدین بن شہاب الدین بن عمر بن حامد بن احمد الزاہد الحسینی الترمذی ثم الکالپوی۔(رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)
خاندانی پس منظر:
آپ کی ولادت سے قبل ہی حضرت ابو سعید قُدِّسَ سِرُّہٗ شہر دکن کی جانب تشریف لے گئے اور مفقود الخبر ہو گئے۔ آپ کا آبائی وطن ترمذ تھا، آپ کے آبا و اَجداد ترمذ سے ہجرت کر کے جالندھر تشریف لائے۔ آپ کے والدِ ماجد سیّد ابو سعید قُدِّسَ سِرُّہٗ نے وہاں سے کالپی کو اپنا وطن بنایا ۔ آپ کاخاندان علما وصلحا و اَتقیا کا خاندان ہے۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص315)
ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 1006ھ مطابق 1598ء کو کالپی شریف (ہند) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ اپنی والدۂ ماجدہ کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھے، یہاں تک کہ جب آپ کی عمر شریف سات برس کی ہوئی تو حضرت شیخ محمد یونس قُدِّسَ سِرُّہٗ (جو اپنے وقت کے عظیم محدث تھے) کی بارگاہ میں پہنچے اور ان سے کسبِ عُلوم فرمایا، ان کی خدمت میں آپ نے مطوّل تک کی تعلیم حاصل فرمائی اور احادیث کی سندیں بھی مرحمت ہوئیں۔ استاذ موصوف کی متشرع زندگی کا آپ پر گہرا اثر پڑا، بَعْدَہٗ کچھ کتابیں حضرت عمر جاجموئی سے بھی پڑھیں، پھر اس کے بعد آپ نے کوڑہ جہان آباد کا سفر فرمایا اور حضرت شیخ جمال بن مخدوم جہاں نیاں ثانی قُدِّسَ سِرُّہُمَا کاکوروی کی بارگاہ میں تمام کتبِ درسیہ کا اختتام فرمایا۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص315)
بیعت و خلافت:
آپ جب حضرت جمال الاولیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمتِ با برکت میں کسبِ علم کے واسطے تشریف لے گئے تو آپ کی عالی ظرافت و صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اپنے سلسلۂ بیعت میں داخل فرمایا اور تمام سلاسلِ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ، نقشبندیہ، مداریہ کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔ حضرت خواجہ ابوالعلیٰ نقشبندی نے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں خلافت و اجازت عطا فرمائی، اور حضرت شاہِ نقشبند خواجہ بہاؤالدین نقشبند کی تسبیح بھی عطا فرمائی۔ (تذکرۂ اولیائے پاک وہند، ص272 ۔ خزینۃ الاصفیاء، ص405)
سیرت و خصائص:
سیّد الاولیا، سندالاتقیا، برہان الاصفیا ، رئیس العلما، صاحب فضائلِ کثیرہ، جامعِ سلاسلِ اربعہ، عارفِ اسرارِ ربانی حضرت سیّد شاہ میر محمد کالپوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے تیسویں امام و شیخِ طریقت ہیں ۔ آپ کی ذات بڑی با کرامت تھی۔ ہر طالبِ حق کی طلب کو پورا فرماتے اور آنِ واحد میں عقدۂ لاینحل کو کھول دیتے، آپ کی زبانِ پاک گویا بحرِ عرفان تھی۔ شریعت کی گتھیوں کے سلجھانے میں آپ کے ہم عصر وں میں کوئی آپ کامدِّ مقابل نہ تھا اور آپ ایسے صاحبِ کمال تھے کہ لعل و گہر کی کوئی حقیقت آپ کی نظر میں نہ تھی، آپ کی توجہ احیائے قلوب کی ضامن ہوتی تھی، آپ درجۂ قطبیتِ کبریٰ پر متمکن تھے۔آپ کے فیضان سے بڑے بڑے صاحب ِکمال اولیاء ِعصر پیدا ہوئے، عبادت وریاضت ، تقویٰ وطہارت کے ساتھ اعلیٰ درجے کے مدرّس تھے، بے شمار طالبانِ علم نے آپ کے فیضِ صحبت سے علم کے آفتاب و ماہتاب بن کر شریعتِ مطہرہ کی اشاعت فرمائی۔ آپ علمائے ربّانیین میں سے تھے۔ آپ اپنے اَسلاف کےنقشِ قدم پر مکمل کار بند تھے۔شریعت و طریقت میں نا بالغۂ روز گار تھے۔
آپ اَغیار کی صحبت سے ہمیشہ پرہیز فرماتے اور فقراء کے ساتھ نہایت تواضع و انکساری سے پیش آتے۔ اگر بادشاہِ وقت آپ کی زیارت کو آتے تو آپ کبھی بھی اس کی تعظیم نہ فرماتے۔آپ کی عبادت و ریاضت کا عالم بھی ایک عجیب اہمیت کا حامل ہے ، ہر وقت آپ پر ایک کیفیت طاری رہتی دلِ حزین رکھتے تھے،اکثر آنسوؤں سے کئی رومال تر ہوجاتے۔ نمازِ پنج وقتہ باجماعت ادا فرماتےکہ سات سال کی عمر سے نمازِ با جماعت آپ کی کبھی قضا نہیں ہوئی۔ آخرِ عمر میں 26 سال تک متصل صائم رہے سوائے ان دنوں کے جن میں روزہ حرام ہے باقی تمام دنوں میں روزہ دار رہتے۔
مسند درس و تدریس:
آپ اپنے مرشِدِ کامل سے اکتسابِ فیض کے بعد ان کی اجازت و حکم کے مطابق اپنے وطن کالپی شریف تشرف لائےا ور درس و تدریس کا آغاز فرمایا، جو ایک زمانے تک جاری رہا۔ بے شمارا افراد آپ سے فیض یاب ہوئے اور یہ قدیم اسلامی درسگاہیں انہیں مشائخِ کرام سے آباد تھیں،جن درس گاہوں سے بڑے بڑے ادیب عابد زاہد اور اپنے وقت کے تجربے کار محقق پیدا ہوتے تھے اور جن کا رعب ِعلم ایک عالم کی ہدایت و رہبری کا کام انجام دیتا تھا۔آپ کےفیضانِ علم سےایک جہاں نے اپنے قلوب واذہان منوّر فرمائے۔
👍1
خواجہ غریب نواز سے روحانی نسبت:
آپ نے سلطان الہند حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزارِ مبارک پر بھی حاضری کاشرف حاصل فرمایا۔ جب آپ مزارِ مقدس پر گئے تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ ظاہر ہوئے اور آپ سے یہ ارشاد فرمایا:
’’ جب تم میرے مُلک میں آئے ہو تو تمہیں چاہیے کہ میرے طریقے کو اپناؤ۔‘‘
چناں چہ حضرت خواجہ رضی اللہ تعالٰی عنہنے فیضانِ چشتیہ سے نواز کر دیگر سلاسل کی اجازت بھی مرحمت فرمائی جس سے آپ مراتبِ عُلیا پر فائز ہوئے یہاں تک کہ آپ کا معمول تھا کہ ہر سال سلطان الہند رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزارِ پُر اَنوار کی زیارت کے لیے اجمیر تشریف لے جاتے، ایک روز آپ مزارِ مبارک کے رو بَہ و و حاضر تھے کہ یکایک آپ پر حالت طاری ہوئی اور بےہوش ہوگئے۔ بَعْدَہٗ حضرت خواجہ غریب نواز عالمِ باطن میں تشریف لائے اور آپ کے مُنھ میں پان رکھا۔ آپ جب اپنی حالت پر آئے تو آپ کےمُنھ میں پان موجود تھا۔حضرت خواجہ کی بارگاہ سےاتنی قربت ہوگئی تھی کہ جس جگہ بھی آپ چاہتے روحانی ملاقات و زیارت سے مشرف ہوجاتے اور فُیوض و برکات سے ہم کنار ہوتے۔(خزینۃ الاصفیاء، ص405)
بدکار کو نیک بنا دیا:
منقول ہے کہ ایک شخص صاحب ِثروت تھا اور متعدد گناہوں میں مبتلا رہتا تھا۔ اُس کی عادت تھی کہ جس درویش کا شہرہ سنتا ان کی صحبت میں جاتا۔ بالآخر ایک مرتبہ اس نے سوچا کہ کالپی شریف حضرت میر سیّد محمد قَدَّسَ اللہُ سِرَّہُ الْعَزِیْز کی بارگاہ میں چلنا چاہیے اور اپنے دل میں یہ خیال باندھا کہ اگر پہلی بار دیکھنے کے ساتھ ہی میرے اوپر کوئی کیفیت طاری ہو گئی تومیں اپنے تمام گناہوں سے تائب ہو جاؤں گا اور اگر کوئی کیفیت ظاہرنہیں ہو گی تو علی الاعلان شراب نوشی کروں گا۔ جب وہ حضرت کی بارگاہ میں پہنچا تو دیکھتے ہی بے ہوش ہو گیا اور کافی دیر تک عالمِ بے ہوشی میں پڑا رہا ۔جب اِفاقہ ہو ا تو اپنے گریبان کو چاک کر دیا اور فقر اختیار کر کے تارکُ الدنیا ہو گیا۔ آپ نے اپنے کشف سے اس کے آئندہ حالات کا مشاہدہ فرمایا اور ایک عمدہ جوڑا مع خادم کے اس کے پاس روانہ فرمایا۔ اس نے خلعت کو قبول نہ کیا۔ خادم نے ہر چند کوشش کی مگر وہ انکار ہی کرتا رہا۔
آخر کار حضرت خود تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:
’’تم میری اِرادت کی وجہ سے مرجعِ اَربابِ سعادت ہو چکے ہو ، اس لیے جو کچھ بھی تمہیں دیا جا رہا ہے اسے قبول کر لو، تم کیا جانتے ہو کہ اس میں کیا راز ہے؟‘‘
یہاں تک کہ اُس نے خلعت کو پہنا اور پھر اُس پر رازِ سر بستہ منکشف ہوئے اور وہ آپ کے درکا خادم ہو گیا۔
فرزندِ ارجمند:
واقفِ اَسرارِ حقائق حضرت سیّد احمد کالپوی علیہ الرحمہ آپ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔
تصانیف:
آپ کی مختلف موضوعات پر عربی و فارسی میں کثیر تصانیف ہیں ۔
شعرِ اعلیٰ حضرت علیہالرحمہ:
شجرۂ قادریہ رضویہ شریف میں آپ کا ذکر اس طرح ہے:
دے محمد کے لیے ، روزی کر احمد کے لیے
خوانِ فضل اللہ سے حصّہ گدا کے واسطے
وصال:
آپ کاوصال 26؍ شعبان المعظّم 1071ھ، مطابق 25؍ اپریل 1661ء کو ہوا ۔
مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزارِ پُر انوار ’’ کالپی شریف ‘‘ ہند میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع :
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-muhammad-kalpwi
آپ نے سلطان الہند حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزارِ مبارک پر بھی حاضری کاشرف حاصل فرمایا۔ جب آپ مزارِ مقدس پر گئے تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالٰی عنہ ظاہر ہوئے اور آپ سے یہ ارشاد فرمایا:
’’ جب تم میرے مُلک میں آئے ہو تو تمہیں چاہیے کہ میرے طریقے کو اپناؤ۔‘‘
چناں چہ حضرت خواجہ رضی اللہ تعالٰی عنہنے فیضانِ چشتیہ سے نواز کر دیگر سلاسل کی اجازت بھی مرحمت فرمائی جس سے آپ مراتبِ عُلیا پر فائز ہوئے یہاں تک کہ آپ کا معمول تھا کہ ہر سال سلطان الہند رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزارِ پُر اَنوار کی زیارت کے لیے اجمیر تشریف لے جاتے، ایک روز آپ مزارِ مبارک کے رو بَہ و و حاضر تھے کہ یکایک آپ پر حالت طاری ہوئی اور بےہوش ہوگئے۔ بَعْدَہٗ حضرت خواجہ غریب نواز عالمِ باطن میں تشریف لائے اور آپ کے مُنھ میں پان رکھا۔ آپ جب اپنی حالت پر آئے تو آپ کےمُنھ میں پان موجود تھا۔حضرت خواجہ کی بارگاہ سےاتنی قربت ہوگئی تھی کہ جس جگہ بھی آپ چاہتے روحانی ملاقات و زیارت سے مشرف ہوجاتے اور فُیوض و برکات سے ہم کنار ہوتے۔(خزینۃ الاصفیاء، ص405)
بدکار کو نیک بنا دیا:
منقول ہے کہ ایک شخص صاحب ِثروت تھا اور متعدد گناہوں میں مبتلا رہتا تھا۔ اُس کی عادت تھی کہ جس درویش کا شہرہ سنتا ان کی صحبت میں جاتا۔ بالآخر ایک مرتبہ اس نے سوچا کہ کالپی شریف حضرت میر سیّد محمد قَدَّسَ اللہُ سِرَّہُ الْعَزِیْز کی بارگاہ میں چلنا چاہیے اور اپنے دل میں یہ خیال باندھا کہ اگر پہلی بار دیکھنے کے ساتھ ہی میرے اوپر کوئی کیفیت طاری ہو گئی تومیں اپنے تمام گناہوں سے تائب ہو جاؤں گا اور اگر کوئی کیفیت ظاہرنہیں ہو گی تو علی الاعلان شراب نوشی کروں گا۔ جب وہ حضرت کی بارگاہ میں پہنچا تو دیکھتے ہی بے ہوش ہو گیا اور کافی دیر تک عالمِ بے ہوشی میں پڑا رہا ۔جب اِفاقہ ہو ا تو اپنے گریبان کو چاک کر دیا اور فقر اختیار کر کے تارکُ الدنیا ہو گیا۔ آپ نے اپنے کشف سے اس کے آئندہ حالات کا مشاہدہ فرمایا اور ایک عمدہ جوڑا مع خادم کے اس کے پاس روانہ فرمایا۔ اس نے خلعت کو قبول نہ کیا۔ خادم نے ہر چند کوشش کی مگر وہ انکار ہی کرتا رہا۔
آخر کار حضرت خود تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:
’’تم میری اِرادت کی وجہ سے مرجعِ اَربابِ سعادت ہو چکے ہو ، اس لیے جو کچھ بھی تمہیں دیا جا رہا ہے اسے قبول کر لو، تم کیا جانتے ہو کہ اس میں کیا راز ہے؟‘‘
یہاں تک کہ اُس نے خلعت کو پہنا اور پھر اُس پر رازِ سر بستہ منکشف ہوئے اور وہ آپ کے درکا خادم ہو گیا۔
فرزندِ ارجمند:
واقفِ اَسرارِ حقائق حضرت سیّد احمد کالپوی علیہ الرحمہ آپ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔
تصانیف:
آپ کی مختلف موضوعات پر عربی و فارسی میں کثیر تصانیف ہیں ۔
شعرِ اعلیٰ حضرت علیہالرحمہ:
شجرۂ قادریہ رضویہ شریف میں آپ کا ذکر اس طرح ہے:
دے محمد کے لیے ، روزی کر احمد کے لیے
خوانِ فضل اللہ سے حصّہ گدا کے واسطے
وصال:
آپ کاوصال 26؍ شعبان المعظّم 1071ھ، مطابق 25؍ اپریل 1661ء کو ہوا ۔
مزارِ پُر اَنوار:
آپ کا مزارِ پُر انوار ’’ کالپی شریف ‘‘ ہند میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع :
تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-muhammad-kalpwi
scholars.pk
Hazrat Meer Syed Muhammad Kapori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Meer Syed Muhammad Kalpwi
❤1👍1
حضرت ذوالنو ن مصری رحمتہ اللہ علیہ
طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ، سفینہ تحقیق و کرامت، صمصامِ شرف و ولایت حضرت ذوالنون ابن ابر اہیم مصری رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔
آپ کا نام ثوبان تھا ۔ اہل معرفت اور مشائخ طریقت میں آپ بڑے برگزیدہ تھے۔ آپ نے ریاضت و مشقت اور طریق ملامت کو پسند رکھا تھا ۔
انتظار رسول ﷺ:
مصر کے تمام رہنے والے آپ کے مرتبہ کی عظمت کو پہنچاننے میں عاجز رہے اور اہل زمانہ آپ کے حال سے نا واقف رہے، یہاں تک کہ مصر میں کسی نے بھی آپ کے حال و جمال کو انتقال کے وقت تک نہ پہنچانا، جس رات آپ نے رحلت فرمائی تو اس رات ستر لوگوں نے حضور سید عالم ﷺ کی خواب میں زیارت کی، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: خدا کا ایک محبوب بندہ دنیا سے رخصت ہو کر آرہا ہے۔ میں اس کے استقبال کے لئے آیا ہوں۔
بوقتِ وفات:
جب حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے وفات پائی تو ان کی پیشانی پر یہ لکھا تھا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ قتیل اللہ ۔ یہ اللہ کا محبوب ہے ۔ اللہ کی محبت میں فوت ہوا، یہ خدا کا شہید ہے۔
پرندوں کا سایہ کرنا:
لوگوں نے جب آپ کا جنازہ کند ھوں پر اٹھایا تو فضا کے پرندوں نے پر باندھ کر جنازہ پر سایہ کیا، ان واقعات کو دیکھ کر اپنے کئے ہوئے ظلم و جفا پر لوگ پشیمان ہو ئے اور صدق دل سے توبہ کرنے لگے ۔
عارف کی ہر گھڑی:
طریقت و حقیقت اور علوم معرفت میں آپ کے کلمات نہایت اہم ہیں، آپ نے فرمایا: العارف کل یوم اخشع لانہ فی کل ساعتہ من الرب اَلاقرب ۔ یعنی خیثت الہیٰ میں عارف کا ہر لمحہ بڑھ کر ہے، اس لئے کہ اس کی ہر گھڑی رب سے زیادہ قریب ہے ۔ کیو نکہ بندہ جتنا زیادہ قریب ہوگا اس کی حیرت و خشوع اور زیادہ ہوگی، چو نکہ وہ بارگاہ حق کے دبدبہ کا زیادہ آشنا ہوتا ہے اور اس کے دل پر جلال حق غالب ہوتا ہے، جب وہ خود کو اس سے دور دیکھے گا تو اس کے وصال میں اور کوشِش کرےگا اس طرح خشوع پر خشوع کی حالت میں اضافہ ہوتا رہے گا، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مکالمہ کے وقت عرض کیا: یا رب این اطلبک ۔ خدایا؟ تجھے کہاں تلاش کروں؟ حق تعالیٰ نے فرمایا: عند المنکسرۃ قلو بھم ۔ شکستہ دل اور اپنے صفائے قلب سے مایوس شدہ لوگوں کے پاس ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب ۔ مجھ سے زیادہ شکستہ دل اور نا امید شخص اور کون ہوگا؟ ارشاد فرمایا: میں وہیں ہو جہاں تم ہو ۔ معلوم ہوا کہ اسیا مدعی معرفت جو بے خوف و خشوع ہو وہ جاہل ہے، عارف نہیں ہے، کیو نکہ معر فت کی حقیقت کی سب سے بڑی علامت صدقِ ارادت ہے صدقِ ارادت خدا کے سوا سبب کے فنا کرنے والی اور تمام نسبتو ں کو قطع کرنے والی ہوتی ہے۔
اسم اعظم:
یو سف بن حسین کہتے ہیں مجھے بتا یا گیا کہ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ اسم اعظم جانتے تھے۔میں مصر گیا اور ایک سال ان کی خدمت کی، پھر گزارش کی: استاذِ محترم! میں نے ایک سال آپ کی خدمت کی ہے، اب میرا آپ پر ایک حق ہے ۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسم اعظم جانتے ہیں ۔ آپ نے اچھی طرح میری جانچ پڑتال کرلی ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بھی اس امانت کا حق دار نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اسم اعظم سِکھا دیں ۔ حضرت ذوالنون رحمتہ اللہ علیہ کچھ دیر خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ گویا انہوں نے مجھے یہ اشارہ کیا کہ عنقریب بتا دیں گے، چھ مہینے کے بعد انہوں نے مجھے ایک برتن دیا جو رومال سے ڈھانپا ہوا تھا، حضرت ذوالنون حیرہ میں رہتے تھے، آپ نے فرمایا: فطاط میں ہمارے فلاں دوست کے پاس لے جاؤ اور یہ برتن انہیں دے دینا۔ میں نے وہ برتن اٹھایا اور چلتا رہا، اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ حضرت ذوالنون جیسا شخص فلاں کو تحفہ بھیج رہا ہے، ؟ یہ کیا چیز ہو سکتی ہے، مجھ سےصبر نہ ہو سکا۔ اس دوران میں دریائے نیل کے پل پر پہنچ گیا تھا، میں نے ڈھکن اٹھایا تو ایک چو ہے نے چھلانگ لگائی اور بھاگ گیا ۔ مجھے سخت غصہ آیا۔ میں نے کہا: حضرت ذوالنون بھی عجیب آدمی ہیں ۔ مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔ میں غصہ سے بھرا ہوا واپس آیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے چہرے کو دیکھ کر سب کچھ سمجھ گئے ۔ آپ نے فرمایا: احمق؟ ہم نے ایک چوہا بطور امانت دے کر تمہیں آزمایا لیکن تم آزمائش میں پورے نہ اترے، اسم اعظم جیسی امانت کی حفاظت کیسے کروگے؟
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-faiz-soban-bin-ibrahim-zunnoon-misri
طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ، سفینہ تحقیق و کرامت، صمصامِ شرف و ولایت حضرت ذوالنون ابن ابر اہیم مصری رحمتہ اللہ علیہ ہیں ۔
آپ کا نام ثوبان تھا ۔ اہل معرفت اور مشائخ طریقت میں آپ بڑے برگزیدہ تھے۔ آپ نے ریاضت و مشقت اور طریق ملامت کو پسند رکھا تھا ۔
انتظار رسول ﷺ:
مصر کے تمام رہنے والے آپ کے مرتبہ کی عظمت کو پہنچاننے میں عاجز رہے اور اہل زمانہ آپ کے حال سے نا واقف رہے، یہاں تک کہ مصر میں کسی نے بھی آپ کے حال و جمال کو انتقال کے وقت تک نہ پہنچانا، جس رات آپ نے رحلت فرمائی تو اس رات ستر لوگوں نے حضور سید عالم ﷺ کی خواب میں زیارت کی، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: خدا کا ایک محبوب بندہ دنیا سے رخصت ہو کر آرہا ہے۔ میں اس کے استقبال کے لئے آیا ہوں۔
بوقتِ وفات:
جب حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے وفات پائی تو ان کی پیشانی پر یہ لکھا تھا: ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ قتیل اللہ ۔ یہ اللہ کا محبوب ہے ۔ اللہ کی محبت میں فوت ہوا، یہ خدا کا شہید ہے۔
پرندوں کا سایہ کرنا:
لوگوں نے جب آپ کا جنازہ کند ھوں پر اٹھایا تو فضا کے پرندوں نے پر باندھ کر جنازہ پر سایہ کیا، ان واقعات کو دیکھ کر اپنے کئے ہوئے ظلم و جفا پر لوگ پشیمان ہو ئے اور صدق دل سے توبہ کرنے لگے ۔
عارف کی ہر گھڑی:
طریقت و حقیقت اور علوم معرفت میں آپ کے کلمات نہایت اہم ہیں، آپ نے فرمایا: العارف کل یوم اخشع لانہ فی کل ساعتہ من الرب اَلاقرب ۔ یعنی خیثت الہیٰ میں عارف کا ہر لمحہ بڑھ کر ہے، اس لئے کہ اس کی ہر گھڑی رب سے زیادہ قریب ہے ۔ کیو نکہ بندہ جتنا زیادہ قریب ہوگا اس کی حیرت و خشوع اور زیادہ ہوگی، چو نکہ وہ بارگاہ حق کے دبدبہ کا زیادہ آشنا ہوتا ہے اور اس کے دل پر جلال حق غالب ہوتا ہے، جب وہ خود کو اس سے دور دیکھے گا تو اس کے وصال میں اور کوشِش کرےگا اس طرح خشوع پر خشوع کی حالت میں اضافہ ہوتا رہے گا، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مکالمہ کے وقت عرض کیا: یا رب این اطلبک ۔ خدایا؟ تجھے کہاں تلاش کروں؟ حق تعالیٰ نے فرمایا: عند المنکسرۃ قلو بھم ۔ شکستہ دل اور اپنے صفائے قلب سے مایوس شدہ لوگوں کے پاس ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب ۔ مجھ سے زیادہ شکستہ دل اور نا امید شخص اور کون ہوگا؟ ارشاد فرمایا: میں وہیں ہو جہاں تم ہو ۔ معلوم ہوا کہ اسیا مدعی معرفت جو بے خوف و خشوع ہو وہ جاہل ہے، عارف نہیں ہے، کیو نکہ معر فت کی حقیقت کی سب سے بڑی علامت صدقِ ارادت ہے صدقِ ارادت خدا کے سوا سبب کے فنا کرنے والی اور تمام نسبتو ں کو قطع کرنے والی ہوتی ہے۔
اسم اعظم:
یو سف بن حسین کہتے ہیں مجھے بتا یا گیا کہ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ اسم اعظم جانتے تھے۔میں مصر گیا اور ایک سال ان کی خدمت کی، پھر گزارش کی: استاذِ محترم! میں نے ایک سال آپ کی خدمت کی ہے، اب میرا آپ پر ایک حق ہے ۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسم اعظم جانتے ہیں ۔ آپ نے اچھی طرح میری جانچ پڑتال کرلی ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بھی اس امانت کا حق دار نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اسم اعظم سِکھا دیں ۔ حضرت ذوالنون رحمتہ اللہ علیہ کچھ دیر خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ گویا انہوں نے مجھے یہ اشارہ کیا کہ عنقریب بتا دیں گے، چھ مہینے کے بعد انہوں نے مجھے ایک برتن دیا جو رومال سے ڈھانپا ہوا تھا، حضرت ذوالنون حیرہ میں رہتے تھے، آپ نے فرمایا: فطاط میں ہمارے فلاں دوست کے پاس لے جاؤ اور یہ برتن انہیں دے دینا۔ میں نے وہ برتن اٹھایا اور چلتا رہا، اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ حضرت ذوالنون جیسا شخص فلاں کو تحفہ بھیج رہا ہے، ؟ یہ کیا چیز ہو سکتی ہے، مجھ سےصبر نہ ہو سکا۔ اس دوران میں دریائے نیل کے پل پر پہنچ گیا تھا، میں نے ڈھکن اٹھایا تو ایک چو ہے نے چھلانگ لگائی اور بھاگ گیا ۔ مجھے سخت غصہ آیا۔ میں نے کہا: حضرت ذوالنون بھی عجیب آدمی ہیں ۔ مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔ میں غصہ سے بھرا ہوا واپس آیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے چہرے کو دیکھ کر سب کچھ سمجھ گئے ۔ آپ نے فرمایا: احمق؟ ہم نے ایک چوہا بطور امانت دے کر تمہیں آزمایا لیکن تم آزمائش میں پورے نہ اترے، اسم اعظم جیسی امانت کی حفاظت کیسے کروگے؟
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-faiz-soban-bin-ibrahim-zunnoon-misri
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abul Faiz Soban Bin Ibrahim Zunnoon Misri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-08-1444 ᴴ | 18-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-08-1444 ᴴ | 19-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-08-1444 ᴴ | 19-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-08-1444 ᴴ | 19-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1