اس اعزاز و اکرام کا سبب یہ ہوا کہ دورانِ جماعت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ نے مولانا کی رفعتِ مرتبت کے باعث اجازت و خلافت عطاء کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔(تذکرہ علماء اہل سنت ص:47 / خلفائے اعلی حضرت ص:127)
آپ نے 1894ء کو "مطبع انتظامی" کے نام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور "گلدستۂ نسیم چمن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدر آباد دکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے، اور تبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔ شیخ طریقت اور جید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی اشاعت اہل سنت پر احسانِ عظیم ہوگا۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہوسکتےہیں۔
تاریخِ وصال:
27 / رجب المرجب 1361ھ، مطابق 11 / اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہراللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
آپ نے 1894ء کو "مطبع انتظامی" کے نام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور "گلدستۂ نسیم چمن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدر آباد دکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے، اور تبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔ شیخ طریقت اور جید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی اشاعت اہل سنت پر احسانِ عظیم ہوگا۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہوسکتےہیں۔
تاریخِ وصال:
27 / رجب المرجب 1361ھ، مطابق 11 / اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہراللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
scholars.pk
Hazrat Molana Khawaja Ahmed Hussain Amrohi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1444 ᴴ | 16-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-08-1444 ᴴ | 17-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-08-1444 ᴴ | 17-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-08-1444 ᴴ | 17-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1