Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ،بن مولانا سعد الدین صادق ،بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ، 24 / شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 / دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعدشیخ رحمت اللہ اور ملامقیم السنۃ ٹوپی گر،اور اخوند نورالہدیٰ ٹوپی گر،کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور کم عمر ی میں تمام علوم وفنون حاصل کرلیے۔حدیث وقرأت کی اجازت میر قاری ،تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی،اور زمانے کے علماء میں ممتازہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24سال تک ان سے فیض حاصل کر تے رہے۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علوم ِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل ،جیدفقیہ،جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔بہت قلیل عرصے میں تمام علوم ِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہوگئے،بلکہ ان سے سبقت لے گئے۔اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا۔بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے۔علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،اورپھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصب ِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔لیکن درس وتدریس،افتاء وقضاء اوردیگر مصروفیات کے باوجود ذکرواذکار مراقبہ ومجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔حضرت نے ایک کتاب "صحائف ِسلطانی " تصنیف فرمائی ہے،جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک،9/ذوالقعدہ 1216ھ، بمطابق ۔12/مارچ 1802کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ،بن مولانا سعد الدین صادق ،بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ، 24 / شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 / دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعدشیخ رحمت اللہ اور ملامقیم السنۃ ٹوپی گر،اور اخوند نورالہدیٰ ٹوپی گر،کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور کم عمر ی میں تمام علوم وفنون حاصل کرلیے۔حدیث وقرأت کی اجازت میر قاری ،تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی،اور زمانے کے علماء میں ممتازہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24سال تک ان سے فیض حاصل کر تے رہے۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علوم ِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل ،جیدفقیہ،جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔بہت قلیل عرصے میں تمام علوم ِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہوگئے،بلکہ ان سے سبقت لے گئے۔اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا۔بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے۔علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،اورپھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصب ِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔لیکن درس وتدریس،افتاء وقضاء اوردیگر مصروفیات کے باوجود ذکرواذکار مراقبہ ومجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔حضرت نے ایک کتاب "صحائف ِسلطانی " تصنیف فرمائی ہے،جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک،9/ذوالقعدہ 1216ھ، بمطابق ۔12/مارچ 1802کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
scholars.pk
Hazrat Molana Qawwamuddin Kashmiri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کااسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخرالدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتاہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کےخاندان کےایک اوربزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت ، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ، مطابق آخر ماہ اکتوبر /1872ء کو " امروہہ " ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہےکہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ با یزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض و اثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:47)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے آپ کو خلافت و اجازت کا شرف عطا فرمایا ۔
آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کو اجازت و خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت:127)
سیرت و خصائص:
صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل، جامع فضائل و خصائص، بحرِ طریقت، حبرِ شریعت، امام العلماء، سید الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس الحکماء، حامیِ دین مصطفیٰ ﷺ، ماحیِ اہل بدع والہواء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے، اپنے خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث اور اہلِ حق اہل سنت و جماعت کے سچے نقیب تھے ۔ بچپن میں ہی چہرے سے بزرگی و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے، بہت جلد علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کرلی، اور دینِ متین کے فروغ و ترقی کے لئے کوشاں ہو گئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام و خواص میں بہت مقبول ہو گئے ۔ آپ قابل رشک شخصیت کے مالک تھے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کا ایک اہم مقصد تھا ۔ اس کے لئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء و مشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے ۔
اعلیٰ حضرت سے محبت:
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سے خصوصی محبت تھی ۔ مجدد وقت کی زیارت کے لئے 24 / رمضان المبارک 1331ھ، مطابق اگست / 1913ء کو بارگاہ اعلیٰ حضرت میں پہنچے ۔ مغرب کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز ادا کی، امام اہلسنت کی نگاہ لطف و عنایت سلام پھیرتے ہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور " تاج الفیوض " کے نام سے فی البدیہہ تاریخ فرما کر عزت بخشی ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا خواجہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ لقب: شیخ المشائخ، امام العلماء ۔ والد کااسم گرامی: شیخ المشائخ حضرت خواجہ حافظ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب بہ واسطہ حضرت مولانا سید شاہ فخرالدین احمد، حضرت حکیم بادشاہ الہ آبادی، و مولانا سید محمد عاشق ، ومولانا شاہ ابو الحسن نصیر آبادی، و مولانا مراد اللہ تھانیسری ، ومولانا نعیم اللہ بہرائچی ،حضرت مرزا جان جاناں تک پہنچتاہے ۔ یہ وہی مولانا نعیم اللہ ہیں جن کو حضرت مرزا صاحب نے مکتوبات شریف دے کر فرمایا تھا: "لو امانت حضرت مجدد علیہ الرحمہ آپ کو تفویض کر دی گئی ہے، یہ تمام خزانوں سے بڑا خزانہ ہے" ۔ (جواہر مجددیہ:7) ۔
اسی طرح آپ کےخاندان کےایک اوربزرگ حضرت شیخ جان محمد خان قادری بلخی علیہ الرحمہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے ۔ یہ خاندان صاحب تقویٰ و طہارت ، علمی و روحانی دولت سے مالا مال، اور بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی روحانی و علمی امانتوں کا حامل خاندان ہے ۔ اس خاندان میں بڑے بڑے صوفیاء کرام گزرے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 24 شعبان المعظم 1289ھ، مطابق آخر ماہ اکتوبر /1872ء کو " امروہہ " ضلع مراد آباد میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت علمی و روحانی ماحول میں ہوئی ۔ آپ بے حد ذہین تھے، آپ کے چہرے سے ہی ذہانت و فطانت کے آثار نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہےکہ مولوی احمد حسن امروہوی شاگرد خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت سے متاثر ہو کر از خود آپ کو اپنے مدرسہ میں داخل کر لیا ۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن آپ کو "علامہ با یزید" کے لقب سے پکارتے تھے، اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے ۔ مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاد کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے تھے ۔ یہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہما کا فیض و اثر تھا، کہ وہابیہ میں رہ کر چھوٹی سی عمر میں ان سے متأثر نہ ہوئے، اور اپنے عقائد و نظریات پر نہ صرف قائم رہے بلکہ ان کے باطل عقائد کا رد بھی کرتے رہے ۔ جامع المعقولات حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی اور حضرت مولانا انوار اللہ حیدر آبادی (مصنف انوار احمدی) سے بھی استفادہ کیا ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:47)
بیعت و خلافت:
آپ اپنے والد گرامی حضرت شیخ المشائخ خواجہ محمد عباس علی خان علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور خلافت سے سرفراز کیے گئے، حضرت سید محمد معروف علی شاہ قادری حیدر آبادی نے بھی اجازت دی تھی ۔
اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی الله تعالیٰ عنه نے آپ کو خلافت و اجازت کا شرف عطا فرمایا ۔
آپ کی رفعتِ شان کی بدولت متعدد مشائخ نےآپ کو اجازت و خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا ۔ (خلفائے اعلیٰ حضرت:127)
سیرت و خصائص:
صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل، جامع فضائل و خصائص، بحرِ طریقت، حبرِ شریعت، امام العلماء، سید الاتقیاء، سند الاصفیاء، رئیس الحکماء، حامیِ دین مصطفیٰ ﷺ، ماحیِ اہل بدع والہواء، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ، محبوبِ ربِ کونین حضرت مولانا خواجہ شاہ احمد حسین نقشبندی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور شیخِ طریقت تھے، اپنے خاندان کی علمی و روحانی امانتوں کے وارث اور اہلِ حق اہل سنت و جماعت کے سچے نقیب تھے ۔ بچپن میں ہی چہرے سے بزرگی و فطانت کے آثار نمایاں تھے۔مدرسے میں ہمیشہ نمایاں نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے، بہت جلد علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کرلی، اور دینِ متین کے فروغ و ترقی کے لئے کوشاں ہو گئے ۔
حضرت مولانا شاہ احمد حسین امروہوی رحمۃ اللہ علیہ علم تقویٰ کی بدولت بہت جلد عوام و خواص میں بہت مقبول ہو گئے ۔ آپ قابل رشک شخصیت کے مالک تھے ۔ احقاق حق اور ابطال باطل آپ کی زندگی کا ایک اہم مقصد تھا ۔ اس کے لئے کسی کی رو رعایت کے قائل نہیں تھے۔اسی وجہ سے علماء و مشائخِ اہل سنت کی عقیدتوں کا محور تھے ۔
اعلیٰ حضرت سے محبت:
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سے خصوصی محبت تھی ۔ مجدد وقت کی زیارت کے لئے 24 / رمضان المبارک 1331ھ، مطابق اگست / 1913ء کو بارگاہ اعلیٰ حضرت میں پہنچے ۔ مغرب کا وقت تھا، اعلیٰ حضرت کی اقتداء میں نماز ادا کی، امام اہلسنت کی نگاہ لطف و عنایت سلام پھیرتے ہی آپ پر پڑی، اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور " تاج الفیوض " کے نام سے فی البدیہہ تاریخ فرما کر عزت بخشی ۔
👍1
اس اعزاز و اکرام کا سبب یہ ہوا کہ دورانِ جماعت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ نے مولانا کی رفعتِ مرتبت کے باعث اجازت و خلافت عطاء کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔(تذکرہ علماء اہل سنت ص:47 / خلفائے اعلی حضرت ص:127)
آپ نے 1894ء کو "مطبع انتظامی" کے نام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور "گلدستۂ نسیم چمن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدر آباد دکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے، اور تبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔ شیخ طریقت اور جید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی اشاعت اہل سنت پر احسانِ عظیم ہوگا۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہوسکتےہیں۔
تاریخِ وصال:
27 / رجب المرجب 1361ھ، مطابق 11 / اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہراللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
آپ نے 1894ء کو "مطبع انتظامی" کے نام سے امروہہ میں ایک پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی اور "گلدستۂ نسیم چمن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا۔اسی طرح حیدر آباد دکن میں بسلسلہ ملازمت ایک عرصے تک مقیم رہے، اور تبلیغِ دین کی خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔ شیخ طریقت اور جید عالم دین کے ساتھ بلندپایہ سخن گوبھی تھے۔اردو کےعلاوہ عربی اورفارسی شعروادب میں خاصا عبور حاصل تھا۔"احمد"تخلص فرماتے۔آپ نےمختلف موضوعات تقریباً تیرہ بہترین اورضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "جواہر مجددیہ" ادارہ مسعودیہ کراچی نےشائع کی ہے۔آپ کی تمام کتب ایک ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی اشاعت اہل سنت پر احسانِ عظیم ہوگا۔کیونکہ بعد میں آنے والے ان کی کتب سے ہی مستفید ہوسکتےہیں۔
تاریخِ وصال:
27 / رجب المرجب 1361ھ، مطابق 11 / اگست 1942ء، بروز منگل داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپ کے محب صادق حضرت مولانا شاہ مفتی محمد مظہراللہ دہلوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔والد ماجد کے پہلو میں مدفون ہوئے، آپ کا مزار دہلی میں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ خلفائے اعلیٰ حضرت ۔ جواہر مجددیہ ۔ تذکرۃ الکرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-khawaja-ahmed-hussain-amrohi
scholars.pk
Hazrat Molana Khawaja Ahmed Hussain Amrohi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1444 ᴴ | 16-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-08-1444 ᴴ | 17-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-08-1444 ᴴ | 17-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-08-1444 ᴴ | 17-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1