🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1444 ᴴ | 16-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1444 ᴴ | 16-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-08-1444 ᴴ | 16-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1444 ᴴ | 16-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ،بن مولانا سعد الدین صادق ،بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ، 24 / شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 / دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعدشیخ رحمت اللہ اور ملامقیم السنۃ ٹوپی گر،اور اخوند نورالہدیٰ ٹوپی گر،کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور کم عمر ی میں تمام علوم وفنون حاصل کرلیے۔حدیث وقرأت کی اجازت میر قاری ،تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی،اور زمانے کے علماء میں ممتازہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24سال تک ان سے فیض حاصل کر تے رہے۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علوم ِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل ،جیدفقیہ،جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔بہت قلیل عرصے میں تمام علوم ِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہوگئے،بلکہ ان سے سبقت لے گئے۔اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا۔بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے۔علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،اورپھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصب ِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔لیکن درس وتدریس،افتاء وقضاء اوردیگر مصروفیات کے باوجود ذکرواذکار مراقبہ ومجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔حضرت نے ایک کتاب "صحائف ِسلطانی " تصنیف فرمائی ہے،جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک،9/ذوالقعدہ 1216ھ، بمطابق ۔12/مارچ 1802کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی قوام الدین محمد ۔لقب: شیخ الاسلام، قاضیِ کشمیر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ الاسلام مفتی قوام الدین محمد ،بن مولانا سعد الدین صادق ،بن مولانا معز الدین امان اللہ شہید، بن مولانا خیر الدین ابو الخیر کشمیری ۔ (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ بروز ہفتہ، 24 / شعبان المعظم 1252ھ، بمطابق 3 / دسمبر 1836ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حفظِ قرآن مجید کے بعدشیخ رحمت اللہ اور ملامقیم السنۃ ٹوپی گر،اور اخوند نورالہدیٰ ٹوپی گر،کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور کم عمر ی میں تمام علوم وفنون حاصل کرلیے۔حدیث وقرأت کی اجازت میر قاری ،تلمیذ شیخ القراء اور حاجی عبد الولی طرخانی ، تلمیذ شیخ ابو الحسن سندھی مدنی اور حاجی نعمت اللہ نوشہری اور بابا محمد محسن پلچمری تلمیذ مولوی امان اللہ شہید سے حاصل کی،اور زمانے کے علماء میں ممتازہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے ان کاملین سے روحانی استفادہ فرمایا: شاہ زین العابدین قادری ، میاں زکریا لاہوری، شیخ الاسلام احمد اکہرلی وغیرہ سے بہت سے فوائد حاصل کر کے خواجہ عبد الرحیم پنچکمان کی خدمت میں حاضرہوکر بیعت ہوئے اور 24سال تک ان سے فیض حاصل کر تے رہے۔
سیرت و خصائص:
قاضیِ اسلام، فقیہ الاسلام، جامع علوم ِ اسلامیہ، مفتیِ کشمیر حضرت علامہ مولانا مفتی قوام الدین محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے عالم، فاضل، محدثِ کامل ،جیدفقیہ،جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔بہت قلیل عرصے میں تمام علوم ِ مروجہ کی تکمیل کرکے اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہوگئے،بلکہ ان سے سبقت لے گئے۔اور اشارۂ غیبی سے خانقاہ سید محمد امین اویسی علیہ الرحمہ میں ہنگامۂ درس و تدریس گرم کیا۔بہت سے لوگ آپ سے مستفید ہوئے۔علاقۂ کشمیر کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،اورپھر وہاں کے شیخ الاسلام کے منصب ِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔لیکن درس وتدریس،افتاء وقضاء اوردیگر مصروفیات کے باوجود ذکرواذکار مراقبہ ومجاہدہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔حضرت نے ایک کتاب "صحائف ِسلطانی " تصنیف فرمائی ہے،جس میں ساٹھ علوم کا بیان ہے۔
وصال:
بروز جمعۃ المبارک،9/ذوالقعدہ 1216ھ، بمطابق ۔12/مارچ 1802کو وصال ہوا۔
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-qawwamuddin-kashmiri
scholars.pk
Hazrat Molana Qawwamuddin Kashmiri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1