🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-08-1444 ᴴ | 15-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-08-1444 ᴴ | 15-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اسٹیج پر چائے اور پان کھانا کیسا
منبر رسول پر چائے اور پان کھانا
انگریزی زبان میں محمد کی اسپیلِنگ
2👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
حضرت مولانا غلام رسول کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مولانا غلام رسول ، جنت نظیر وادی کشمیر کے ایک گاوٗ ں پر تاب پورہ ( قصبہ شوپیاں تحصیل کو لگام ) ضلع اسلام آباد ( اننت ناگ ) کے ایک معزز و متمول ’’بٹ ‘‘ خاندان میں ۱۹۳۵ء کو تولد ہوئے۔ آپ کے والد عبدالعزیز گاوٗ ں کے نمبر دار تھے ۔

تعلیم و تربیت :
اپنے علاقہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد ۱۹۴۸ ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے سفر اختیار کیا ۔ تبلیغی جماعت ‘‘ کے ظاہر کو دیکھ کر چھ ماہ اس کے ساتھ رہے جب باطن نظر آیا توالگ ہو گئے بلکہ متنفر ہو گئے ۔

۱۹۵۱ء میں پاکستان تشریف لائے، کراچی میں قاری احمد حسین فیروز پوری ثم گجراتی کی دل کش تقریروں اور روح پر ور نعتوں نے دل کو گرمایا ، عشق کو جگایا، قاری صاحب سے تعلق خاطر ہو گیا ، تبلیغی جماعت کے اثرات زائل ہو گئے۔ مولانا نے ابتدائی دینی کتابیں حضرت مولانا قاری مصلح الدین صدیقی سے پڑھیں پھر دار العلو م مظہریہ ( جامع مسجد آرام باغ کراچی ) میں مولانا مفتی عبد الحفیظ حقانی ( مفتی آگرہ ) سے اور علامہ خادم رسول ( تلمیذ حافظ الملت علامہ عبدالعزیز مراد آبادی شیخ الحدیث مدرسہ مصباح العلوم جامعہ اشرفیہ مبارکپور انڈیا) سے ایک سال پڑھا،

اس کے بعد ۱۹۵۴ء ، سے ۱۹۵۹ء تک تقریبا چھ سال دارالعلوم امجد یہ کراچی میں ممتاز اساتذہ سے پڑھتے پڑھتے آخر میں مدرسہ مخزن بحر العلوم کراچی میں تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی سے دورہ حدیث کی تکمیل کی اور ۲۵، ذوالحجہ ۱۳۸۶ھ بمطابق ۱۷، اپریل ۱۹۶۶ء کو تاج العلماء کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد اطہر نعیمی نے سند جاری فرمائی ۔

آپ کو محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد صاحب فیصل آبادی ( رحلت ۱۳۸۱ھ؍ ۱۹۶۱ئ) سے مشکوٰۃ شریف کے کچھ اسباق پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

بیعت و خلافت :
آپ ۱۹۵۳ء میں حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان بریلوی سے غائبانہ بیعت ہوئے ، پھر ۱۹۶۲ء میں بریلی شریف حاضر ہو کر تجدید بیعت فرمائی ۔اسی وقت مفتی اعظم ہند نے اجازت و خلافت جاری فرمائی اور ۱۹۸۰ء میں احباب کے اصرار پر بیعت کا آغاز کیا۔

خانقاہ کی بنیاد:
آپ نے کورنگی نمبر ۵ کراچی میں ’’خانقاہ ایمانیہ قادریہ رضویہ ‘‘قائم کی، آخر میں ۱۹۹۳ء میں ’’دعوت ایمانیہ رضویہ ‘‘ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم ہوا، جس کے آپ چیئر مین ہوئے۔

عادات و خصائل :
مولانا نہایت خاموشی اور لگن کے ساتھ کراچی میں دین و مسلک کی خدمت کرتے رہے نام و نمود اور شہرت سے بچتے رہے ، دنیا کی ہوس کو دل سے دور رکھا ، مجاہد انہ اور فقیر انہ زندگی بسر کی۔ معمولات کی محفلوں کے علاوہ گھر گھر محفلوں میں شریک ہوئے ، مسلک اہل سنت و جماعت کی حقانیت کو اجاگر کیا، عقیدوں کو سنبھالا ، گمراہی سے بچایا۔ آپ ایک شعلہ بیان مقرر اور حق گو خطیب تھے۔ امام احمد رضا خان بریلوی ؒ اور آپ کے مسلک مستقیم سے مولانا کو والہانہ لگاوٗ تھا، زندگی بھر اسی مسلک کی اشاعت کرتے رہے، آپ علماء اہل سنت کو بہت پسند فرماتے تھے اور ملاقات کے وقت انہیں تحفہ ضرور نذر کرتے تھے۔

خطابت و امامت :
۱۹۵۷ء سے تادم وصال امامت و خطابت سے وابستہ رہے ۔ غوثیہ مسجد لیاقت آباد ، تاج مسجد وغیرہ ۔

سفر حرمین شریفین :
۱۴۰۷ھ ؍ ۱۹۸۷ء کو آپ زیارت روضہ رسول اکرم ﷺ اور حج بیت اللہ کی سعادت سے سر فراز ہوئے ۔

شادی و اولاد :
آپ نے خاندان سے باہر شادی کی اس میں سے ایک بیٹا اورایک بیٹی تولد ہائے۔

وصال :
بروز بدھ ۲۳ ، شعبان المعظم ۱۴۱۵ھ؍ ۲۵، جنوری ۱۹۹۵ء کی شام اچانک آپ کو درد قلب کی شکایت ہوئی اور ہم سے جدا ہو گئے ۔ وصال کے وقت عمر ۶۳ سال تھی ۔ آپ کی نماز جنازہ دوسرے روز صبح ۱۰ بج کر ۵۰ منٹ پر جامع مسجد بسم اللہ لانڈھی نمبر ۶ کراچی سے متصل مرکزی شاہراہ پر علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کی امامت میں ادا کی گئی ۔ کراچی کے ناگفتہ نہ حالات اور اس روز خوف و دہشت کے باوجود عوام الناس جوق شریک ہوئے، جلوس جنازہ دیدنی تھا، کورنگی کراچی کے قبرستان میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔

آپ کے وصال کے بعد اتفاق رائے سے آپ کے جواں سال خلیفہ مولانا زاہد سراج قادری کو آپ کا جانشین نا مزد کیا گیا۔ ( ماخوذ: کتابچہ ماہ حق مطبوعہ دعوت ایمانیہ رضویہ کورنگی کراچی ۱۹۹۵ء )

حضرت صابر براری نے قطعہ تاریخ وصال استخراج فرمایا وہ درج ذیل ہے:

چل دیئے آج سوئے خلد بریں
اہل سنت کے واعظ مقبول

تھے وہ شیدائی اعلیٰ حضرت کے
دوستی کی نہ دشمنوں سے قبول

کی ہے تبلیغ دیں میں عمر بسر
کبھی چھوڑے نہیں ہیں اپنے اصول

سال رحلت ہے ان کا یہ ’’صابر‘‘
شان اہل ارم غلام رسول

( ۱۹۹۵ء )


( انوارِ علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-ghulam-rasool-kashmiri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
برادر قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا حامد صدیقی ربانی میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!

منگل ، ۲۳؍ شعبان المعظّم ۱۴۳۷ھ مطابق ۳۱؍ مئی ۲۰۱۶ء کی صبح، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں مُحدّث بریلوی کے جلیل القدر خلیفہ مبلغِ اعظم حضرت علّامہ شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی میرٹھی مدنی کے فرزندِ ارجمند اور قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت امام شاہ احمد نورانی صدّیقی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم) کے برادر یعنی نذرِ فرید حضرت مولانا حامد ربّانی صدّیقی میرٹھی مدنی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال فرما گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!

مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے انجمن ضیائے طیبہ کے دفتر میں فاتحہ خوانی کی گئی۔

اُسی شام بعدِ نمازِ مغرب، قائدِ ملّتِ اسلامیّہ حضرت علّامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمۃ کے دولت کدے ’’بیت الرضوان‘‘ واقع کہکشاں، کلفٹن (کراچی) پر،علمائے کرام سمیت مُتعدّد اہم شخصیات کے علاوہ، بے شمار محبّین و مخلصین نے نمازِ جنازہ میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔ انجمن ضیائے طیبہ کا وفد بھی بیت الرضوان پہنچ کر، آخری دیدار سے فیض یاب ہوا؛نیز، شریکِ نمازِ جنازہ بھی ہوا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنے حبیبِ پاک صاحبِ لولاک حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم کے طُفیل، مرحوم کی بخشش و مغفرت فرمائے! اعلیٰ علّیین اور جنّت الفردوس میں بلندیِ درجات سے نوازے اور آپ کے تمام لَوَاحقین ، مخلصین اور محبین کو صبرِ جمیل سے نوازے! آمین!

انجمن ضیائے طیبہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-rabbani-siddiqui-meerthi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت سیدنا قاسم بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت قاسم بن محمد بن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم ۔ آپ امیر المؤمنین خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے تھے ۔

حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں:
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں شاہِ فارس " یزد جرد " کی تین بیٹیاں مالِ غنیمت میں آئیں ۔ جن میں سے شہر بانو، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں، جن سے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ دوسری حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، جن سے حضرت سالم رضی اللہ عنہ متولد ہوئے ۔ اور تیسری حضرت محمد بن ابو بکر صدیق کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت قاسم نے جنم لیا ۔ اس طرح حضرت زین العابدین، حضرت سالم اور حضرت قاسم تینوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔

ولادت:
حضرت قاسم کی ولادت 23 شعبان 24ھ کو ہوئی۔

سیرت و خصائص:
حضرت قاسم اپنے وقت کی بے نظیر ہستی اور امام الوقت تھے ۔ فقیہ بے مثل، عالم بے بدل اور کثیر الحدیث تھے ۔چھوٹی عمر میں ہی داغِ یتیمی لے کر اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوشِ شفقت میں آ گئے ۔ آپ نے علمِ باطن کا اکتساب حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا اور یوں اپنے جدّ امجد حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باطنی نعمت اُن کے وسیلہ سے حاصل کی ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش اور حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ نتیجتاً آپ تابعین کبار اور فقہائے سبعہ میں سے ہوئے ۔ زہد و عبادت، تقویٰ و طہارت میں اپنی مثل آپ تھے ۔

یحییٰ بن سعید انصاری فرماتے ہیں:
" کہ ہم نے مدینہ منورہ میں کسی شخص کو بھی ایسا نہیں پایا جسے حضرت قاسم پر فضیلت دے سکیں " ۔

ایوب سختیانی کا بیان ہے:
"کہ میں نے کسی کو بھی حضرت قاسم سے افضل نہیں دیکھا " ۔

حضرت امام بخاری کا قول ہے:
" آپ اپنے زمانہ میں سب سے افضل تھے"۔

ابو الزناد کا قول ہے:
کہ " اُن سے بڑھ کر کسی کو سنّت کا عالمِ باعمل نہیں پایا اور نہ کسی فقیہ کو آپ سے زیادہ اعلم دیکھا " ۔

حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں:
" کہ اگر امرِ خلافت میرے اختیار میں ہوتا تو میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیتا " ۔

ابنِ اسحاق کا بیان ہے:
کہ " میں نے حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ ایک اعرابی آیا، اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اور سالم میں کون زیادہ عالم ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اعرابی (صحرانشین) نے پھر وہی سوال کیا، آپ نے فرمایا: سالم وہ ہیں اُن سے پوچھ لے ۔ ابن اسحاق نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ حضرت قاسم نے اپنے آپ کو اَعلم (زیادہ علم والا) کہنا پسند نہ کیا کیونکہ یہ تزکیۂ نفس ہے اور یہ بھی نہ کہا کہ سالم ۔ اعلم ہیں کیونکہ یہ جھوٹ ہے ۔

خاندانِ نبوت سے رشتے داری:
حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن صدیق اکبر رضی اللہ عنہم کی خاندانِ اہلِ بیت سے قریبی رشتے داری ہے ۔ حضرت قاسم کے والد محمد بن صدیق اکبر اور حضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ ہم زلف ہیں ۔

اس لحاظ سے حضرت سیدنا قاسم اور حضرت سیدنا امام زین العابدین خالہ زاد بھائی ہوئے ۔
1👍1
حضرت امام جعفر صادق کا نسب:
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت سیدنا ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔ جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد گرامی کا اسم مبارک حضرت سیدنا امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی المرتضٰی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہے ۔

یوں آپ رضی اللہ تعالیٰ والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ کی طرف سے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے جا ملتے ہیں ۔ یعنی آپ والدہ کی طرف سے " صدیقی " اور والد کی طرف سے " علوی و فاطمی " ہیں ۔ اپنے آپ کو امام جعفر صادق کی نسبت سے " جعفری " کہلانے والے، اور دن رات خلفاء راشدین پر تبراء کرنے والے، صرف ان کی آپس میں رشتے داریاں دیکھ لیں ۔ جو حسینی ساداتِ کرام ہیں، خاندانِ صدیقِ اکبر ان کا ننھیال ہے ۔

مزید تفصیل کے لئے فقیر کا مضمون " حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلِ بیت سے رشتے داری " مفید رہےگا ۔ (تونسوی غفرلہ) ۔

حضرتِ قاسم اور امام جعفر صادق:
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے نانا جان ہیں ۔

وصال:
جب آپ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ مجھے اُن کپڑوں میں کفنانا جن کپڑوں مِیں مَیں نماز پڑھا کرتا تھا ۔ یعنی قمیض، تہبند اور چادر ۔ آپ کے صاحبزادے نے عرض کیا: ابا جان! کیا ہم دو کپڑے اور زیادہ کر دیں؟ ارشاد فرمایا: جانِ پدر! حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کفن بھی تین کپڑوں پر مشتمل تھا ۔ مردے کی نسبت زندہ کو نئے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ آپ کی رحلت مکہ و مدینہ کے درمیان " قدید " میں ہوئی اور وہاں سے تین میل دور " مثلّل " میں آخری آرام گاہ بنی ۔

تاریخِ وصال:
جدید تحقیق کے مطابق آپ نے 81 سال کی عمر میں 24 جمادی الثانی 108ھ مطابق ستمبر 726ء کو رحلت فرمائی ۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ مشائخِ نقشبند ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qasim-bin-muhammad-bin-abu-bakr-siddiq
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-08-1444 ᴴ | 15-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-08-1444 ᴴ | 16-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1