قلندری طریقت:
بعض مؤلفین کا خیال ہے کہ آپ "قلندری طریقت" رکھتے تھے ملنگوں نے قلندروں کو شریعت سے آزاد سمجھ رکھا ہے اور قلندری طریقے کو بے نمازی اور غیر شرعی کاموں سے روشناس کراتے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ قلندری طریقت پر وضاحت پیش کی جائے ـ
تارک الدنیا، تہجد گزار اور نفسانی لذتوں سے پاک شخص کو قلندر کہتے ہیں ۔ صوفی اور قلندر ایک ہی ذات کا نام ہے ۔
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار (متوفی 895ھ) نے فرمایا: اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات سے مجرد رکھنے اور نفس کو معبود (اللہ تعالیٰ) کے تابع کر دینے کو قلندری طریقت کہا جاتا ہے ۔
علامہ اقبال کے نزدیک قلندر وہ ہے جس کے دل میں دنیا کے مضرات اور مشکلات کا خوف و ہراس بِالکل نہ ہو ۔
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
عرس کی آڑ میں بدعات کا فروغ:
عرس شریف کے مبارک و مقدس پروگرام کو اخلاق و کردار سے آزاد لوگوں کا میلہ، ناچ گانا، کھیل و تماشا، خواتین کا بے پردہ ہونا، محفلِ موسیقی، دھمال اور دھمال پر عورتوں کا رقص، رنڈیوں کا تماشا، طوائفوں کی بھر مار، شور و ہنگامہ، بھنگ و چرس کا دھندا، مزار میں مہندی لے جانا، قلندر کی شادی کرانا ۔ ملنگوں کی عجیب و غریب حرکتیں، شیعہ روافض کا عَلَم کو پوجنا ان پر منتیں مانگنا اور اصحابِ کرام کی شان میں گستاخی اور خلفائے ثلاثہ پر تبرا بازی سمیت حیا سوز خرافات اور بَد رسموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ ان تمام خرافات کا حضرت شہباز قلندر کے عقیدہ و مسلک سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، نفس کے غلاموں، شیطان کے پیرو کاروں اور خدا کے نا فرمانوں نے اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے ان بے ہودہ رسموں اور حیا سوز حرکات کو رواج دیا ہے ۔
اگر ملنگوں کو حضرت لعل شہباز قلندر کی پیروی کرنے کا شوق ہے تو پرہیز گاری کریں، پنج وقتہ نماز کی پابندی معمول بنا لیں، شب بیداری کی عادت ڈالیں، ذکر شریف و درود شریف کا کثرت سے وِرد کریں، اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں، حرام سے اجتناب اور شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہوں ۔
حضرت لعل شہباز قلندر فرماتے ہیں:
؎ عثمان چو شد غلامِ نبی و چہار یار
امید شاز مکارم عربی محمد ﷺ است
وصال:
آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673ھ بمطابق 1274ء کو ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار سیہون شریف میں مرجعِ خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-lal-shahbaz-qalandar
بعض مؤلفین کا خیال ہے کہ آپ "قلندری طریقت" رکھتے تھے ملنگوں نے قلندروں کو شریعت سے آزاد سمجھ رکھا ہے اور قلندری طریقے کو بے نمازی اور غیر شرعی کاموں سے روشناس کراتے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ قلندری طریقت پر وضاحت پیش کی جائے ـ
تارک الدنیا، تہجد گزار اور نفسانی لذتوں سے پاک شخص کو قلندر کہتے ہیں ۔ صوفی اور قلندر ایک ہی ذات کا نام ہے ۔
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار (متوفی 895ھ) نے فرمایا: اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات سے مجرد رکھنے اور نفس کو معبود (اللہ تعالیٰ) کے تابع کر دینے کو قلندری طریقت کہا جاتا ہے ۔
علامہ اقبال کے نزدیک قلندر وہ ہے جس کے دل میں دنیا کے مضرات اور مشکلات کا خوف و ہراس بِالکل نہ ہو ۔
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
عرس کی آڑ میں بدعات کا فروغ:
عرس شریف کے مبارک و مقدس پروگرام کو اخلاق و کردار سے آزاد لوگوں کا میلہ، ناچ گانا، کھیل و تماشا، خواتین کا بے پردہ ہونا، محفلِ موسیقی، دھمال اور دھمال پر عورتوں کا رقص، رنڈیوں کا تماشا، طوائفوں کی بھر مار، شور و ہنگامہ، بھنگ و چرس کا دھندا، مزار میں مہندی لے جانا، قلندر کی شادی کرانا ۔ ملنگوں کی عجیب و غریب حرکتیں، شیعہ روافض کا عَلَم کو پوجنا ان پر منتیں مانگنا اور اصحابِ کرام کی شان میں گستاخی اور خلفائے ثلاثہ پر تبرا بازی سمیت حیا سوز خرافات اور بَد رسموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ ان تمام خرافات کا حضرت شہباز قلندر کے عقیدہ و مسلک سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، نفس کے غلاموں، شیطان کے پیرو کاروں اور خدا کے نا فرمانوں نے اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے ان بے ہودہ رسموں اور حیا سوز حرکات کو رواج دیا ہے ۔
اگر ملنگوں کو حضرت لعل شہباز قلندر کی پیروی کرنے کا شوق ہے تو پرہیز گاری کریں، پنج وقتہ نماز کی پابندی معمول بنا لیں، شب بیداری کی عادت ڈالیں، ذکر شریف و درود شریف کا کثرت سے وِرد کریں، اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں، حرام سے اجتناب اور شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہوں ۔
حضرت لعل شہباز قلندر فرماتے ہیں:
؎ عثمان چو شد غلامِ نبی و چہار یار
امید شاز مکارم عربی محمد ﷺ است
وصال:
آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673ھ بمطابق 1274ء کو ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار سیہون شریف میں مرجعِ خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-lal-shahbaz-qalandar
❤1👍1
سوانح حضرت مولانا شاہ محمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ برادر و تلمیذِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ
نام و نسب:
محمد رضا خان بن نقی علی خان، بن رضا علی خان، بن کاظم علی خان ـ علیہم الرحمہ ۔
ولادت:
آپ مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ کے سب سے چھوٹے فرزندِ ارجمند تھے ۔
تعلیم و تربیت:
اِبتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی ۔ کم سِنی کے عالم میں والدِ ماجد داغِ مفارقت دے گئے اور آپ فیض و کرمِ پدری سے محروم، حالتِ یتیمی میں پروان چڑھے ـ
لیکن مشفق بھائی کی بہترین تعلیم و تربیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ ایک بالغ نظر فاضل اور پختہ فکر عالم بن کر منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
علومِ معقول و منقول خصوصاً علم الفرائض میں آپ مہارتِ تامہ اور یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔
دار الافتاء بریلی شریف کا جب عالمِ اسلام میں شہرہ ہوا، اور کثرت سے اِستفتاء آنے شروع ہو گئے تو فرائض و میراث سے متعلق فتاوٰی مولانا محمد رضا خان علیہ الرحمہ ہی لکھا کرتے تھے ۔
سیرت و کردار:
آپ علم و فضل میں ممتاز ہونے کے ساتھ خانگی معاملات اور حسنِ انتظامات میں بھی اپنی مثال آپ تھے ۔
جب برادرِ اکبر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو آپ نے علمی مشاغل اور فقہ و فتاوٰی میں ہمہ تن مصروف دیکھا تو ان کی خانگی اور جاگیری ذمّے داریوں کو اپنے ذمّۂ کرم پر لے لیا ۔
اس طرح آپ قوتِ بازوئے اعلیٰ حضرت بن کر اپنی جاگیر کے علاوہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی جاگیر کا انتظام و انصرام بھی کرنے لگے اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو بس خدمتِ دین اور فروغِ علمِ مبین کے لیے آزاد کر دیا ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بھی جملہ امور میں آپ پر کلی اعتماد فرماتے تھے ۔
تحریکِ پاکستان میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات ۲۱ شعبان المعظّم ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۵ اکتوبر ۱۹۳۹ء کو آپ کا وصال پر ملال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-raza-khan-barelvi
نام و نسب:
محمد رضا خان بن نقی علی خان، بن رضا علی خان، بن کاظم علی خان ـ علیہم الرحمہ ۔
ولادت:
آپ مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ کے سب سے چھوٹے فرزندِ ارجمند تھے ۔
تعلیم و تربیت:
اِبتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی ۔ کم سِنی کے عالم میں والدِ ماجد داغِ مفارقت دے گئے اور آپ فیض و کرمِ پدری سے محروم، حالتِ یتیمی میں پروان چڑھے ـ
لیکن مشفق بھائی کی بہترین تعلیم و تربیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ ایک بالغ نظر فاضل اور پختہ فکر عالم بن کر منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔
علومِ معقول و منقول خصوصاً علم الفرائض میں آپ مہارتِ تامہ اور یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔
دار الافتاء بریلی شریف کا جب عالمِ اسلام میں شہرہ ہوا، اور کثرت سے اِستفتاء آنے شروع ہو گئے تو فرائض و میراث سے متعلق فتاوٰی مولانا محمد رضا خان علیہ الرحمہ ہی لکھا کرتے تھے ۔
سیرت و کردار:
آپ علم و فضل میں ممتاز ہونے کے ساتھ خانگی معاملات اور حسنِ انتظامات میں بھی اپنی مثال آپ تھے ۔
جب برادرِ اکبر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو آپ نے علمی مشاغل اور فقہ و فتاوٰی میں ہمہ تن مصروف دیکھا تو ان کی خانگی اور جاگیری ذمّے داریوں کو اپنے ذمّۂ کرم پر لے لیا ۔
اس طرح آپ قوتِ بازوئے اعلیٰ حضرت بن کر اپنی جاگیر کے علاوہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی جاگیر کا انتظام و انصرام بھی کرنے لگے اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو بس خدمتِ دین اور فروغِ علمِ مبین کے لیے آزاد کر دیا ۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بھی جملہ امور میں آپ پر کلی اعتماد فرماتے تھے ۔
تحریکِ پاکستان میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے ۔
وصال:
بروز جمعرات ۲۱ شعبان المعظّم ۱۳۵۸ھ / بمطابق ۵ اکتوبر ۱۹۳۹ء کو آپ کا وصال پر ملال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-raza-khan-barelvi
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-08-1444 ᴴ | 13-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-08-1444 ᴴ | 14-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1