🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-08-1444 ᴴ | 13-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-08-1444 ᴴ | 13-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہدایت
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہدایت
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-08-1444 ᴴ | 13-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-08-1444 ᴴ | 13-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سجدۂ تلاوت
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سجدۂ تلاوت
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
سوانح حضرت لعل شہباز قلندر
یومِ وصال: 21 شعبان المعظم
حافظ سید محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید محمد عثمان مروندی ۔ لقب: لعل شہباز قلندر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حافظ سید محمد عثمان بن سید کبیر الدین بن سید شمس الدین الیٰ آخرہِ ۔علیہم الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ با سعادت مشہور قول کے مطابق 538ھ بمطابق 1143ء کو آذر بائیجان کے ایک قصبہ " مروند " میں ہوئی ۔ علاقے کی نسبت سے " مروندی " کہلاتے ہیں ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ حاصل ہوئی، گھر کے قریبی مسجد میں سات سال کی عمر میں حفظِ قرآن مکمل کر لیا ۔ پھر اس کے بعد دیگر علومِ دینیہ کے حصول میں مصروف ہو گئے ۔ بہت جلد ہی علومِ نقلیہ و عقلیہ اور عربی و فارسی ادب میں مہارتِ تامہ حاصل کر لی، آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علمائے کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
صحیح قول کے مطابق آپ حضرت ابو اسحاق محمد ابراہیم قادری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے ۔ بعض مؤلفین کے قول کے مطابق آپ شیخ الاسلام غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔ اس میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ حضرت بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ نے آپ کو خلافت سے نوازا ہو جیسا کہ مشائخ کا طریقہ ہے ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء والعارفین، رئیس المدرسین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین ، عارف بااللہ، فنا فی اللہ ، بقا بااللہ حضرت سید حافظ محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی ولادت کی بشارت حضرت شیر خدا علی المر تضیٰ رضی اللہ عنہ نے بایں الفاظ ارشاد فرمائی: اے احمد کبیر: اللہ تعالیٰ تم کو بیٹا عطا فرمائےگا! مگر میری ایک بات یاد رکھنا کہ جب فرزند تولد ہو تو اس کا نام محمد عثمان رکھنا اور جب وہ تین سو چوراسی دن کا ہو جائے تو اس کولے کر مدینہ منورہ حاضری دینا اور حضور ﷺ کے حضور سلام کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی ذو النورین رضی اللہ عنہ کے مزار پر لے جانا اور سلام عرض کرنا، چنانچہ والد صاحب نے حسبِ وصیت ایسا ہی کیا (شہبازِ ولایت ، صفحہ: 8) ۔
آپ بہت ہی حسین و جمیل تھے ۔ آپ کا چہرۂ انور ایسے چمکتا تھا جیسے "لعل" اس لئے آپ کو لعل شہباز کہتے ہیں ۔
حضرت لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ جس پایہ کے صاحب علم و فضل اور صاحب تصوف و معر فت تھے، اسی پایہ کے معلم و مقرر اور ادیب و شاعر بھی تھے، عربی و فارسی علوم و ادبیات پر کامل دسترس رکھتے تھے، قرآن و حدیث و فقہ کا وسیع مطالعہ تھا، ماہر لسانیات اور ماہر قواعد زبان بھی تھے، آپ صاحبِ تصانیف بزرگ تھے، اور بالخصوص صرف و نحو اور عربی ادب کے شائقین دور دراز علاقوں سے سفر کر کے آپ کے ہاں تحصیلِ علم کے لئے حاضر ہوتے ۔
آپ شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ کے مدرسہ جو حقیقۃً اس وقت ایشیاء کی عظیم یونیورسٹی تھی، میں صدر المدرسین کے منصب پر فائز تھے ۔
یومِ وصال: 21 شعبان المعظم
حافظ سید محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: حافظ سید محمد عثمان مروندی ۔ لقب: لعل شہباز قلندر ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حافظ سید محمد عثمان بن سید کبیر الدین بن سید شمس الدین الیٰ آخرہِ ۔علیہم الرحمہ ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادتِ با سعادت مشہور قول کے مطابق 538ھ بمطابق 1143ء کو آذر بائیجان کے ایک قصبہ " مروند " میں ہوئی ۔ علاقے کی نسبت سے " مروندی " کہلاتے ہیں ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم و تربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ حاصل ہوئی، گھر کے قریبی مسجد میں سات سال کی عمر میں حفظِ قرآن مکمل کر لیا ۔ پھر اس کے بعد دیگر علومِ دینیہ کے حصول میں مصروف ہو گئے ۔ بہت جلد ہی علومِ نقلیہ و عقلیہ اور عربی و فارسی ادب میں مہارتِ تامہ حاصل کر لی، آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علمائے کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
صحیح قول کے مطابق آپ حضرت ابو اسحاق محمد ابراہیم قادری علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے ۔ بعض مؤلفین کے قول کے مطابق آپ شیخ الاسلام غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ کے مرید تھے ۔ اس میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ حضرت بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ نے آپ کو خلافت سے نوازا ہو جیسا کہ مشائخ کا طریقہ ہے ۔
سیرت و خصائص:
امام العلماء والعارفین، رئیس المدرسین، قدوۃ السالکین، برہان الواصلین ، عارف بااللہ، فنا فی اللہ ، بقا بااللہ حضرت سید حافظ محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی ولادت کی بشارت حضرت شیر خدا علی المر تضیٰ رضی اللہ عنہ نے بایں الفاظ ارشاد فرمائی: اے احمد کبیر: اللہ تعالیٰ تم کو بیٹا عطا فرمائےگا! مگر میری ایک بات یاد رکھنا کہ جب فرزند تولد ہو تو اس کا نام محمد عثمان رکھنا اور جب وہ تین سو چوراسی دن کا ہو جائے تو اس کولے کر مدینہ منورہ حاضری دینا اور حضور ﷺ کے حضور سلام کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی ذو النورین رضی اللہ عنہ کے مزار پر لے جانا اور سلام عرض کرنا، چنانچہ والد صاحب نے حسبِ وصیت ایسا ہی کیا (شہبازِ ولایت ، صفحہ: 8) ۔
آپ بہت ہی حسین و جمیل تھے ۔ آپ کا چہرۂ انور ایسے چمکتا تھا جیسے "لعل" اس لئے آپ کو لعل شہباز کہتے ہیں ۔
حضرت لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ جس پایہ کے صاحب علم و فضل اور صاحب تصوف و معر فت تھے، اسی پایہ کے معلم و مقرر اور ادیب و شاعر بھی تھے، عربی و فارسی علوم و ادبیات پر کامل دسترس رکھتے تھے، قرآن و حدیث و فقہ کا وسیع مطالعہ تھا، ماہر لسانیات اور ماہر قواعد زبان بھی تھے، آپ صاحبِ تصانیف بزرگ تھے، اور بالخصوص صرف و نحو اور عربی ادب کے شائقین دور دراز علاقوں سے سفر کر کے آپ کے ہاں تحصیلِ علم کے لئے حاضر ہوتے ۔
آپ شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ کے مدرسہ جو حقیقۃً اس وقت ایشیاء کی عظیم یونیورسٹی تھی، میں صدر المدرسین کے منصب پر فائز تھے ۔
👍2
قلندری طریقت:
بعض مؤلفین کا خیال ہے کہ آپ "قلندری طریقت" رکھتے تھے ملنگوں نے قلندروں کو شریعت سے آزاد سمجھ رکھا ہے اور قلندری طریقے کو بے نمازی اور غیر شرعی کاموں سے روشناس کراتے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ قلندری طریقت پر وضاحت پیش کی جائے ـ
تارک الدنیا، تہجد گزار اور نفسانی لذتوں سے پاک شخص کو قلندر کہتے ہیں ۔ صوفی اور قلندر ایک ہی ذات کا نام ہے ۔
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار (متوفی 895ھ) نے فرمایا: اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات سے مجرد رکھنے اور نفس کو معبود (اللہ تعالیٰ) کے تابع کر دینے کو قلندری طریقت کہا جاتا ہے ۔
علامہ اقبال کے نزدیک قلندر وہ ہے جس کے دل میں دنیا کے مضرات اور مشکلات کا خوف و ہراس بِالکل نہ ہو ۔
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
عرس کی آڑ میں بدعات کا فروغ:
عرس شریف کے مبارک و مقدس پروگرام کو اخلاق و کردار سے آزاد لوگوں کا میلہ، ناچ گانا، کھیل و تماشا، خواتین کا بے پردہ ہونا، محفلِ موسیقی، دھمال اور دھمال پر عورتوں کا رقص، رنڈیوں کا تماشا، طوائفوں کی بھر مار، شور و ہنگامہ، بھنگ و چرس کا دھندا، مزار میں مہندی لے جانا، قلندر کی شادی کرانا ۔ ملنگوں کی عجیب و غریب حرکتیں، شیعہ روافض کا عَلَم کو پوجنا ان پر منتیں مانگنا اور اصحابِ کرام کی شان میں گستاخی اور خلفائے ثلاثہ پر تبرا بازی سمیت حیا سوز خرافات اور بَد رسموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ ان تمام خرافات کا حضرت شہباز قلندر کے عقیدہ و مسلک سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، نفس کے غلاموں، شیطان کے پیرو کاروں اور خدا کے نا فرمانوں نے اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے ان بے ہودہ رسموں اور حیا سوز حرکات کو رواج دیا ہے ۔
اگر ملنگوں کو حضرت لعل شہباز قلندر کی پیروی کرنے کا شوق ہے تو پرہیز گاری کریں، پنج وقتہ نماز کی پابندی معمول بنا لیں، شب بیداری کی عادت ڈالیں، ذکر شریف و درود شریف کا کثرت سے وِرد کریں، اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں، حرام سے اجتناب اور شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہوں ۔
حضرت لعل شہباز قلندر فرماتے ہیں:
؎ عثمان چو شد غلامِ نبی و چہار یار
امید شاز مکارم عربی محمد ﷺ است
وصال:
آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673ھ بمطابق 1274ء کو ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار سیہون شریف میں مرجعِ خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-lal-shahbaz-qalandar
بعض مؤلفین کا خیال ہے کہ آپ "قلندری طریقت" رکھتے تھے ملنگوں نے قلندروں کو شریعت سے آزاد سمجھ رکھا ہے اور قلندری طریقے کو بے نمازی اور غیر شرعی کاموں سے روشناس کراتے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ قلندری طریقت پر وضاحت پیش کی جائے ـ
تارک الدنیا، تہجد گزار اور نفسانی لذتوں سے پاک شخص کو قلندر کہتے ہیں ۔ صوفی اور قلندر ایک ہی ذات کا نام ہے ۔
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار (متوفی 895ھ) نے فرمایا: اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات سے مجرد رکھنے اور نفس کو معبود (اللہ تعالیٰ) کے تابع کر دینے کو قلندری طریقت کہا جاتا ہے ۔
علامہ اقبال کے نزدیک قلندر وہ ہے جس کے دل میں دنیا کے مضرات اور مشکلات کا خوف و ہراس بِالکل نہ ہو ۔
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
عرس کی آڑ میں بدعات کا فروغ:
عرس شریف کے مبارک و مقدس پروگرام کو اخلاق و کردار سے آزاد لوگوں کا میلہ، ناچ گانا، کھیل و تماشا، خواتین کا بے پردہ ہونا، محفلِ موسیقی، دھمال اور دھمال پر عورتوں کا رقص، رنڈیوں کا تماشا، طوائفوں کی بھر مار، شور و ہنگامہ، بھنگ و چرس کا دھندا، مزار میں مہندی لے جانا، قلندر کی شادی کرانا ۔ ملنگوں کی عجیب و غریب حرکتیں، شیعہ روافض کا عَلَم کو پوجنا ان پر منتیں مانگنا اور اصحابِ کرام کی شان میں گستاخی اور خلفائے ثلاثہ پر تبرا بازی سمیت حیا سوز خرافات اور بَد رسموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ ان تمام خرافات کا حضرت شہباز قلندر کے عقیدہ و مسلک سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، نفس کے غلاموں، شیطان کے پیرو کاروں اور خدا کے نا فرمانوں نے اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے ان بے ہودہ رسموں اور حیا سوز حرکات کو رواج دیا ہے ۔
اگر ملنگوں کو حضرت لعل شہباز قلندر کی پیروی کرنے کا شوق ہے تو پرہیز گاری کریں، پنج وقتہ نماز کی پابندی معمول بنا لیں، شب بیداری کی عادت ڈالیں، ذکر شریف و درود شریف کا کثرت سے وِرد کریں، اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں، حرام سے اجتناب اور شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہوں ۔
حضرت لعل شہباز قلندر فرماتے ہیں:
؎ عثمان چو شد غلامِ نبی و چہار یار
امید شاز مکارم عربی محمد ﷺ است
وصال:
آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673ھ بمطابق 1274ء کو ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار سیہون شریف میں مرجعِ خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-lal-shahbaz-qalandar
❤1👍1