🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-08-1444 ᴴ | 12-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-08-1444 ᴴ | 12-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت علامہ عبدالکافی ناروی الہ آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
والد کا نام مولانا عبد الرحمٰن، کسی دو شنبہ کو ربیع الاول ۱۲۵۸ھ میں اپنے وطن قصبہ نارہ ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
پانچ برس کی عمر میں تعلیم کی ابتدا کرائی گئی، ۱۲۸۵ھ میں اپنے چچا مولانا محمد عبد السبحان کے پاس قصبہ کڑا ضلع الہ آباد چلے گئے، اوّلاً قرآن پاک حفظ کیا، ۱۲۹۱ھ میں چچا کے ہمراہ الہ آباد پہونچے، درس نظامی کی کتابوں کا درس از ابتداء تا انتہاء انہیں سے لیا، ۱۳۰۰ھ میں سند فراغ حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
حضرت مولانا حکیم فخر الدین الہ آبادی کے مرید و خلیفہ تھے، حکیم صاحب کو آپ پر فخر تھا ۔

درس و تدریس:
محلہ یاقوت گنج میں مولوی عبد الحمید صاحب کے مکان سے تدریس کا آغاز کیا، شروع میں طلب کا رجوع آپ کی طرف کم تھا، جس سے آپ کبیدہ خاطر رہتے، ایک بار اپنے مرشد زادہ مولوی حکیم مسیح الدین سے اس کا شکوہ کیا، انہوں‌نے تسلی دی اور آئندہ کے لیے روشن امکانات کی خوش خبری سنائی، چند دنوں بعد حاجی صوبہ دار خاں جو پنجاب کے ساکن اور آپ کے مرید تھے انہوں نے آپ کو جامع مسجد کی امامت و خطابت کی پیش کش کی، اور درس کی بھی گذارش کی، ۱۳۱۶ھ سے جامع مسجد میں با قاعدہ آپ کا درس شروع ہوا، اور آپ کی درس گاہ مدرسہ سبحانیہ کے نام سے مشہور ہوئی، اور باذوق طلبہ نے آپ کے درس میں شرکت کرکے متبحر علماء میں اپنا ممتاز مقام بنایا، جامع مسجد کی موجودہ وسیع اور شاندار عمارت آپ ہی کی توجہ سے ۱۹۰۵ھ میں بنائی گئی ۔

اکبر آلہ آبادی جن کو آپ سے بیعت کا تعلق تھا مسجد کے بارے میں ان کا یہ شعر بہت مشہور ؎

مسجد کافی کی شانِ آسمانی دیکھئے
خاکساوں کی بلندی کی نشانی دیکھئے

آپ نے درس و تدریس کے ساتھ بیعت کا سلسلہ بھی قائم کر رکھا تھا تھا، بکثرت مجرمین اور بد کرداروں نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی، مشرکین بھی بکثرت آپ کی توجہ سے مسلمان ہوئے، مشہور انگریزی ادیب و انشاء پرداز برنا یا ڈشا کے بھتیجے نے ۱۹۲۱ھ میں آپ کے ہاتھ اسلام قبول کیا، آج کل ان کا قیام ناظم آباد کراچی میں ہے ۔

۱۳۱۸ھ کے مشہور جلسہ اصلاح ندوہ پٹنہ میں آپ نے شرکت فرمائی اور تقریباً ۱۳۴۸ھ میں ایک اشتہار کے ذریعہ دیوبندیوں کی تکفیر کا علانِ عام کیا ـ

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں حضرت مولانا فرخند علی صاحب بانئ مدرسہ خیریہ نظامیہ سہسرام، اور مولوی محمد سجاد بہت مشہور ہوئے ـ

اولاد:
قاری ولی محمد المتوفی ۱۹۶۸ھ اور حکیم ولی احمد المتوفی ۱۹۵۷ھ آپ کے صاحبزادے تھے ـ

وصال:
۱۳۵۰ھ مطابق ۳۲ دسمبر ۱۹۳۰ء میں آپ کا وصال ہوا ۔ آپ کا مزارِ مبارک یحییٰ پور میں ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abdul-kafi-narvi-allahabadi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت سلطان شمس الدین التمش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ ایک رحم دل بادشاہ عادل سلطان کامل تھے ۔ حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے منظورِ نظر تھے ۔ مگر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے مریدِ خاص اور خلیفۂ اعظم تھے ۔

حضرات اہل چشت سے بڑی ارادت رکھتے تھے ۔ اگرچہ ظاہری فرمان روائے سلطنت ہندوستان تھے ۔ مگر باطنی طور پر فقیروں اور درویشوں کے زمرے میں تھے ۔ کم کھاتے، تھوڑا سوتے، لمبی راتیں جاگ کر گزارتے، چند لمحے سوتے تو فوراً بیدار ہو جاتے، کسی کام کے لیے ملازمین کو تکلیف نہ دیتےتھے ۔

رات کے جس حصہ میں بیدار ہوتے کسی کو کہنے کی بجائے خود کنویں سے پانی کھینچتے اور وضو فرما لیتے انہیں یہ بات گوارا نہ تھی کہ ان کے کسی کام کے لیے کسی دوسرے کو تکلیف ہو ـ آدھی رات ہوتی تو شاہی لباس اتار کر گدڑی پہن لیتے اور رعایا کی خبر گیری کے لیے نکل پڑتے ـ

علماء صلحاء اور صوفیاء کو بے پناہ دولت بخشتے تھے، کبھی ایسا ہوتا کہ مٹی کے برتن میں سونا رکھ کر اوپر گندم کے دانے رکھ کر بند کر دیتے اور مسافروں کو بخش دیتے تھے تاکہ سخاوت کی شہرت نہ ہو ۔

ایک بار آپ نے حوض بنانے کا اِرادہ کیا، دہلی میں حوضِ شمسی کلاں آپ نے ہی تعمیر کیا تھا، یہ حوض بنانے سے پہلے انہیں بڑی فِکر تھی ۔ رات کو حضرت رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، آپ نے دیکھا کہ حضور ﷺ حوض کی جگہ گھوڑے پر سوار جلوہ فرما ہیں اور مخاطب کرکے فرما رہے ہیں! شمس الدین یہاں حوض بناؤ، اس وقت حضور ﷺ کے گھوڑے نے اپنے پاؤں زمین پر مارے جس سے پانی کا چشمہ جاری ہو گیا، حضور نے الملک الاکبر کہہ کر فرمایا اس جگہ سے اچھا پانی سارے دہلی میں کہیں بھی نہیں ہوگا ـ

صبح ہوئی بادشاہ التمش اٹھے اور اس مقررہ جگہ پر جا پہنچے دیکھا کہ جہاں جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کے سم لگے تھے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا بادشاہ اپنے گھوڑے سے اُترا تھوڑا سا پانی پیا اپنے ساتھیوں کو بھی پِلایا اور اسی وقت اپنے اہل کاروں کو حکم دیا کہ حوض کھودنا شروع کر دیں ۔

یاد رہے کہ حضرت سلطان شمس الدین ترکی بزرگان دین کی اولاد میں سے تھے حوادثِ زمانہ کے پیش نظر گرفتار ہوکر ہندوستان پہنچے صدر جہاں نے انہیں خرید کر اپنے غلاموں میں رکھ لیا پھر سلطان شہاب الدین غوری کو دے دیا وہاں ہی قطب الدین ایبک سے جو خود بھی ایک غلام کی حیثیت سے بادشاہ کے پاس رہتے تھے ملاقات ہوئی، قطب الدین ایبک جن دنوں دہلی کے حکمران مقرر کیے گئے تو آپ نے حضرت سلطان التمش کو بدایوں کا گورنر لگا دیا، آپ ایک عرصہ تک گورنر رہے ۔

جب سلطان قطب الدین ایبک لاہور میں پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر فوت ہوئے آرام شاہ قطب الدین کا بیٹا ہندوستان کا حکمران بنا دیا گیا ۔ ان دِنوں امیر علی اسماعیل افواج ہند کا سپہ سالار تھا، اور امیر داود دیلمی رکن سلطنت تھا، یہ دونوں آرام شاہ سے ناراض ہو گئے، اور سلطان شمس الدین کو بدایوں سے دہلی طلب کر لیا گیا اور کچھ دنوں بعد دہلی کے تخت پر بِٹھا دیا، آپ ۶۰۷ھ میں تخت نشین ہوئے ۔ تخت نشینی کے بعد آپ کو پے درپے فتوحات حاصل ہوئیں آپ کو تخت نشین ہوئے ابھی دس سال گزرے تھے کہ شاہ خوارزم چنگیز خان تاتاری کے حملوں سے تنگ آکر ہندوستان آپہنچا تھا ۔ اور ہندوستان کے کئی علاقے فتح کرتا ہوا، آگے بڑھا مگر التمش کے ہاتھوں شکست کھا گیا ۔ حضرت التمش نے تعاقب میں آنے والے تاتاری لشکر کو بھی مار کر بھگا دیا ۔

حضرت سلطان التمش نے گوالیار کو فتح کیا، پھر اوجین شہر پر قبضہ کر لیا، اور بت خانہ مہاکل کو جو ایک ہزار دو سو سال سے آباد چلا آ رَہا تھا، ویران کرکے رکھ دیا، یہاں سے بے شمار خزانہ اور مالِ غنیمت ملا، راجہ بکر ما جیت کا ایک بڑا بت دہلی لایا گیا اسے توڑ پھوڑ کر اپنی مسجد قوت الاسلام کے دروازے کے سامنے لاکر اوندھا پھینک دیا ۔

فخر الملک بغدادی اور نظام الملک سلطان التمش کے نامور وزراء تھے ان کی خدمات تاریخ کے صفحات پر نمایاں نظر آتی ہیں ۔

وصال:
سلطان التمش رحمۃ اللہ علیہ بتاریخ بستم (۲۰) ماہ شعبان ۶۳۴ھ کو فوت ہو گئے [۱] ۔ مراۃ ہند کے مولف نے آپ کا سالِ وصال ۶۳۳ھ لکھا ہے ۔

آپ پورے ستائیس سال تختِ ہندوستان پر جلوہ فرما رہے آپ کا مزار مسجد قوت الاسلام دہلی کے عقب میں ہے ۔

[ ۱۔ اسی سال آپ کے پیر و مرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہ کا بھی وصال ہوا تھا ] ـ

شمس دین آں بادشاہ ملک ہند
شد جو از دنیا با قلیم جناں

شمس دین حق گو بگو تاریخ او ۶۳۴
ہم بفرما شمس دین قطب جہاں [۱] ۶۳۴

[۱۔ فاضل مؤلف نے یہ تواریخ وفات بھی لکھی ہیں: ماہ زیب جمال شمس الدین (۶۳۴ھ) یار حق ولی دیندار (۶۳۴ھ) ] ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sultan-shamsuddin-altamash
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1