🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-08-1444 ᴴ | 11-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-08-1444 ᴴ | 11-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
حضرت شاہ عبد العلیم آسی سکندر پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: شاہ عبد العلیم ۔ لقب: آسی ۔ سکندر پور علاقے کی نسبت سے "سکندر پوری" کہلاتے ہیں ۔ والد کا اسمِ گرامی: شیخ قنبر حسین ۔ مفتی احسان علی علیہ الرحمہ آپ کے نانا تھے ۔ آپ حضرت شیخ مظفر بلخی علیہ الرحمہ کی اولاد میں سے تھے ۔ حضرت شیخ مظفر بلخی ۔ بلخ کے تارکِ سلطنت سلطان، اور اقلیم معرفت الٰہیہ کے بادشاہ حضرت مخدوم شرف الدین منیری قدس سرہ کے چمنستان کی بہار تھے ۔ بحکم پیر و مرشد "عدن" تشریف لے گئے ۔ وہیں 3 / رمضان المبارک 788ھ میں وفات پائی ۔

تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 19 شعبان المکرم 1250ھ / مطابق ماہِ دسمبر 1834ء کو "سکندر پور" میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
ابتدائی کتب اپنے نانا سے پڑھنے کے بعد خانقاہ رشیدیہ جون پور حاضر ہوئے اور حضرت شاہ غلام معین الدین قدس سرہ سے میر قطبی تک پڑھا ۔ حاجی امام بخش جون پوری المتوفی 1277ھ نے اپنی آمدنی سے چار آنہ وقف کر کے مدرسہ حنفیہ کی بنیاد ڈالی اور حضرت علامہ عبد الحلیم فرنگی محلی کو بلا کر صدر مدرس مقرر کیا تو آپ حضرت مولانا سے پڑھنے لگے ۔ پڑھنے میں بہت محنت فرماتے، رات گذر جاتی مگر خبر نہ ہوتی، ایک صفحہ سے زیادہ کسی کتاب کو سبقاً نہیں پڑھا، مولانا عبد الحلیم فرماتے کتاب ختم ہو گئی، اب دوسروں کو پڑھاؤ ۔

مولانا عبد الحلیم صاحب کے جانے کے بعد ان کی جگہ پر مولانا مفتی محمد یوسف فرنگی محلی آئے، آپ ہدایہ لے کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے، مفتی صاحب نے فرمایا، فقیر کا شمس بازغہ کے بعد ہدایہ پڑھانے کا معمول ہے ۔ حضرت آسی نے عرض کیا، تین سطروں کا مطالعہ کرکے آیا ہوں، میں نے جو باتیں اخذ کی ہیں، ان کو سُن لیجئے، تین گھنٹہ تقریر کی ۔ مفتی صاحب دم بخود سنتے رہے ۔ جب انہوں نے سبق کی تقریر مکمل فرمائی ۔ تو مفتی صاحب نے فرمایا: صاحبزادے میں آپ کی تعریف مولوی عبد الحلیم سے سُن چکا ہوں ۔ مجھے ایسے شاگرد کی جب تلاش تھی تو کوئی ملا نہیں، اب بوڑھا ہو چکا ہوں، پڑھانے کے لائق نہیں رہا ۔ آپ مطالعہ کرکے کتاب خود ختم کر لیجئے اور دوسروں کو پڑھائیے، جہاں شبہ ہو پوچھ لیجئے ۔

بیعت و خلافت:
حضرت شاہ قیام الحق حیدری رشیدی سے بیعت و خلافت حاصل تھی ۔ شیخ کے وصال کے بعد درگاہ رشیدیہ کے سجادہ نشین ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
بحرالعلوم، عالمِ ربانی، فاضلِ اکمل، حضرت علامہ مولانا مفتی عبد العلیم آسی سکندر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ نہایت ہی ذہین و فطین تھے ۔ کسی مضمون اور کتاب کو ایک نظر دیکھتے ہی ذہن میں کمپیوٹر کی طرح محفوظ ہو جاتا تھا ۔ تمام علوم پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔ بالخصوص فقہ کے اندر اللہ جل شانہ نے خاص ملکہ عطا فرمایا تھا ۔کتبِ فقہ کی مختصر عبارتوں سے کئی مسائل استنباط کر لیتے تھے ۔ جنہیں دیکھ کر آپ کے اساتذہ بھی حیران ہو جاتے تھے ۔ آپ کشیدہ قامت، گداز بدن، کتابی چہر، سیاہ آنکھیں، گھنی اور گول داڑھی، خندہ رو، سڈول بدن، سراپا حسن و جمال تھے ۔ حسنِ ظاہری کے ساتھ حسنِ باطنی میں بھی باکمال تھے ۔

تمام علوم کے جامع ہونے کے ساتھ اعلیٰ درجہ کے شاعر بھی تھے ۔ "آسی" تخلص فرماتے تھے ۔ شاہ غلام افضل الہ آبادی سے تلمذ تھا ۔ دیوان " عین المعارف " حقائق و معارف کا گنجینہ ہے ۔ حضرت آسی بحرِ ذخار ہونے کے باوجود طریقت سے خاص شغف رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ سفر و حضر میں مرشد گرامی کی خدمت میں حاضر رہتے ۔ علم کے ساتھ معرفت، عبادت و ریاضت، اور تقویٰ و صداقت، غریب پروری، ہمدردی و غمگساری، خدمتِ خلق، وغیرہ جیسی اعلیٰ صفات سے متصف تھے ۔ ابتداء میں ذریعۂ معاش کے لیے طبات کی ۔ درس و تدریس فی سبیل اللہ کرتے تھے ۔ آخری عمر میں طبیعت ناساز رہنے لگی ۔ بالآخر صرف چائے نوش فرماتے تھے ۔ اس کے علاوہ کوٖئی اور غذا نہ تھی ۔

تاریخِ وصال:
85 سال کی عمر میں 3 جمادی الاخریٰ 1335ھ / مطابق 1971ء کو ہوا ۔ مزار مبارک محلہ " نور الدین پورہ" غازی پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-aleem-aasi-sikandarpuri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
رئیس الفضلاء حضرت علامہ مولانا عبد الکریم درس رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت علامہ مولانا عبد الکریم درس علیہ الرحمہ ۔ لقب: رئیس الفضلاء ۔ تخلص: درس ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ عبد الکریم درس بن شیخ التفسیر علامہ عبد اللہ درس بن مولانا خیر محمد درس بن مولانا عبد الرحیم درس ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1276ھ، مطابق 1860ء کو کراچی میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم شیخ التفسیر سے حاصل کی (جنہوں نے 113 برس کی عمر پائی اور اخیر عمر میں بزبان فارسی قرآن مجید کی مکمل تفسیر رقم فرمائی ۔ جس کا قلمی نسخہ مدرسہ درسیہ صدر کراچی کی لائبریری میں محفوظ ہے) ۔ اپنے والد صاحب سے تمام مروجہ علوم و فنون میں فراغت حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ملک سے باہر سفر کیا ۔ پہلے ایران اور پھر جامعۃ الازہر قاہرہ (مصر) تشریف لئے گئے جہاں انہوں نے مصری یمنی اور عراقی علماء سے استفادہ کیا ۔ آپ نے سند حدیث حضرت شیخ حسین بن محسن الخزرجی السعدی الانصاری الیمانی سے حاصل کی ۔ آپ کی یہ سند اجازت حدیث کتب خانہ درسیہ میں محفوظ ہے ۔ آپ کا شمار اس وقت کے اکابر علماء سندھ میں ہوتا تھا ۔ آپ کی دینی و ملی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا ۔

بیعت و خلافت:
آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ میں نقیب الاشراف السید آغا عبد السلام گیلانی قادری بن السید علی گیلانی علیہ الرحمۃ (۱۳۴۰ھ) سے بغداد شریف کی حاضری کے موقع پر بیعت فرمائی ۔ انہوں نے آپ کو اپنی خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا ۔ جس کا تذکرہ "شیخ الاسلام سیدنا عبد القادر گیلانی و اولادہ " نامی کتاب کے صفحہ 435 مطبوعہ بغداد شریف میں بھی درج ہے ۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ: 438)

سیرت و خصائص:
رئیس الفضلاء، مرجع العلماء، رئیس الاولیاء، سند الاصفیاء، صاحبِ اوصافِ کثیرہ، دافع وہابیہ والدیابنہ، محسن اہل سنت، محب اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ مولانا شیخ عبد الکریم درس قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ ایک متحرک اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ خطہ سندھ میں اہل سنت و جماعت کی ترقی و فروغ میں آپ کا اہم کردار ہے ۔ آپ اپنے وقت کے جید عالم دین اور کہنہ مشق مفتی تھے ۔ آپ سے کثیر مخلوقِ خدا نے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔ آپ کے فتوے اس وقت کے اہم جرائد و رسائل میں شائع ہوتے تھے ۔ عالم اسلام کے جید علماء کرام سے گہرے روابط تھے ۔ جن میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری، شیخ الاسلام خواجہ محمد حسن فاروقی، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان، عالمی مبلغ اسلام حضرت مولانا شاہ عبد العلیم صدیقی اور ان کے برادر اکبر مولانا نذیر احمد خجندی، مولانا سید دیدار علی شاہ، مولانا بشیر احمد کوٹلوی، مولانا ابو البرکات، مولانا ابو الحسنات، مولانا ہدایت رسول قادری، پیر سید جماعت علی شاہ، وغیرہ ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔

1911ء میں علم غیب مصطفیٰ اور حیات النبی ﷺ کے مسائل پر سندھ کے علماء میں بحث و مناظر ےکا آغاز ہوا تو ایک جانب مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ (لیاری کراچی ) اور مدرسہ دار الرشاد گوٹھ پیر جھنڈا (ضلع حیدر آباد ) کے دیو بندی وہابی مولوی تھے ۔ جب کہ دوسری جانب اکثر اکابر علماء و مشائخ اہلسنت تھے ۔ ان دنوں مخدوم حسن اللہ صدیقی نے نبی کریم ﷺ کے علم غیب شریف پر دلائل و برہان پر مشتمل عالی شان کتاب " نور العینین فی اثبات علم الغیب لسید الثقلین " تحریر فرمائی ۔ اسد ملت علامہ مولانا سید اسد اللہ شاہ نے کتا ب " ہدایہ اسدیہ " ( ۳ حصے ) لکھی اور افتخار علمائے احناف علامہ عبد الکریم درس نے عظیم الشان تصنیف ایضاح الحق ( سندھی لکھ کر شائع کی ۔

ڈاکٹر مجید اللہ قادری رقمطراز ہیں:
علامہ عبد الکریم درس کے علماء دیوبند کے ساتھ شہر کراچی میں مسئلہ علم غیب عطائی پر کئی منا ظرے اور مباحثے ہوئے ۔ مولانا عبد الکریم درس کا حضور بنی کریم ﷺ کے علم غیب عطائی پر وہی عقیدہ تھا جو چودہ سو سال سے اہلسنت و جماعت کا چلا آ رہا ہے چنانچہ انہوں نے اس موقف کی تائید فرمائی اور دیوبندی حضرات سے مناظرے بھی کئے اس سلسلے میں آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی سے رجوع بھی کیا اور ان سے مدد بھی طلب کی چنانچہ اعلیٰ حضرت نے اپنے تصنیف شدہ کئی رسائل کے ساتھ ساتھ علامہ عبد الکریم درس کی مدد کے لئے ان کے خط کے جواب میں اپنے شاگرد و خلیفہ مناظر اسلام حضرت علامہ ہدایت رسول قادری لکھنوی کو 1911ء میں چند علماء کے ساتھ کراچی بھیجا ۔ آپ نے کراچی پہنچ کر مولانا عبد الکریم درس کے ساتھ مل کر دیوبندی حضرات کو علم غیب کے مناظرے میں شکست سے دو چار کیا ۔ (انوار علمائے اہلسنت سندھ ص: 440 / امام احمد رضا اور علماء سندھ ص: 17)
👍21
خلیفہ اعلیٰ حضرت، مجاہد ملت حضرت علامہ احمد مختار صدیقی نے اپنے برادر گرامی قدر مولانا نذیر احمد خجندی کے نام خط لکھا ہے ۔ اس سے آپ کی عظمت و مقبولیت کا پتہ لگتا ہے ۔ رقم طراز ہیں:

برادرم السلام علیکم !
تم سے رخصت ہو کر نہایت آرام کے ساتھ بحری سفر طے ہوا ، سمندر بالکل ساکن ہے تلاطم مطلق نہیں ۔ آج صبح آٹھ بجے کے قریب کراچی پہنچے ، "رسالت کمیٹی " کراچی کے ارکان و جملہ اکابر اہل سنت نے مع اپنے مریدین و معتقدین کی بڑی جماعت کے ساتھ استقبال کیا اور نہایت شاندار جلوس نکالا متعدد موٹریں اور گھوڑا گاڑیاں جلوس میں تھیں اور ہزاروں نفوس پا پیادہ ، سب سے پہلی گاڑی پر دو بڑے بڑے ہلالی علم (جھنڈے) پہلی اور دوسری گاڑی میں قصیدہ خوانوں کی جماعت ترنم ریزی کرتی جاتی تھی دس دس پانچ پانچ قدم پر مسلمانانِ اہل سنت اپنے اپنے مکانوں اور دوکانوں کے سامنے جلوس کو روک کر اور ارکان وفد اور اکابر کو مکلف بڑے بڑے ہار پہناتے اور گلاب پاشی کرتے ۔ کراچی میں حضر ت مولانا عبد الکریم درس کا وجود مسعود اہلسنت میں ایک خاص جوش پایا جاتا ہے مگر وہابیہ کی جماعت " خلافت کمیٹی " کے روپیہ کی مدد سے فتنہ کا جال پھیلا رہی ہے ۔ مولیٰ تعالیٰ حق کو غالب فرمائے ۔ (ایضاً: 441)

امام احمد رضا خان قادری اور علامہ عبد الکریم درس: یہ دونوں بزرگ ہم عصر، ہم مسلک و مشرب اور خیر خواہ تھے ۔ دونوں کے آپس میں گہرے مراسم اور قلبی تعلقات تھے ۔ مولانا اصغر درس بتاتے ہیں: دادا جان کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے بڑی محبت تھی اور اکثر و بیشتر ان کی زبان پر اعلیٰ حضرت کا ذکر خیر رہتا ۔ آپ عربی فارسی سندھی اور اردو کے بڑے اچھے شاعر بھی تھے ۔ چنانچہ آپ نے اپنی ایک نظم میں اعلیٰ حضر ت سے عقیدت و محبت کا اظہار اس طرح فرمایا:

شعروں میں میرے اکثر انداز رضا کا ہے
سچ کہتے ہیں یہ جھوٹے یہ "درس" رضائی ہے

جب مولانا امام احمد رضا خان 1905ء میں دوسری بار حج سے واپس ہوئے تو کراچی میں مولانا عبد الکریم درس کے ہاں قیام فرمایا ، اور یہیں سے واپس بمبئی تشریف گئے ۔ آپ کے خاندانی کتب خانہ میں اب بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے خطوط موجود ہیں ۔ اعلیٰ حضرت کے وصال کے بعد آپ کے صاحبزادے حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ کے آپ کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے تیسرے عرس کے موقع پر آپ خصوصی طور پر مدعو تھے ۔

آپ نے ملت اسلامیہ کے لئے عظیم خدمات انجام دیں، جنگ طرابلس، بلقان، اور ترکی کی جنگ میں خطیر رقم پہنچائی ۔ تحریکِ خلافت میں انگریزوں کے خلاف بھر پور کردار ادا کیا، اور اہم خدمات انجام دیں ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 19 شعبان 1344ھ / مطابق 4 مارچ 1924ء، بروز جمعرات کراچی میں ہوا ۔ آپ کا مزار شریف دھوبی گھاٹ لیاری کراچی کے قبرستان میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہل سنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-karim-dars
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-08-1444 ᴴ | 11-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-08-1444 ᴴ | 12-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1