Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
حضرت پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد علی نورانی قادری اشری رضوی نور اللہ مرقدہٗ متین کاشمیری
ولادت:
حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد علی نورانی قادری اشرفی رضوی نور اللہ مرقدہٗ جن کی ولادت با سعادت یکم اکتبور سن ۱۹۵۹ء کو لاہور میں ہوئی ـ
آپ کے والدِ گرامی پروفیسر سید یعقوب علی رضوی المتوفٰی ۱۹۸۱ء مدفون قبرستان بدھودا آوا ریٹائرڈ پرنسپل گورنمنٹ کینٹ پبلک کالج مردان اور جدِ امجد حضرت علامہ سید ایوب علی رضوی بریلوی المتوفٰی ۱۹۷۰ء مدفون قبرستان میانی صاحب (مرید و خلیفہ اعلٰی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان محدث و مجدد بریلوی) جنہوں نے آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا۔
انہوں نے قرآن مجید ناظرہ مسجد بغد ادہ مردان صوبہ خبیر پختو نخوا میں پڑھا اور گورنمنٹ ہائی ۔ اسکول نمبر ۱ مردان سے میٹرک کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا اسی دوران آپ لاہور منتقل ہوگئے جہاں گورنمنٹ دیال سنگھ کالج سے ایف اے گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنر سے بی۔اے،کالج ایجوکیشن سے بی۔ایڈ۔ اور میٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے ایم ۔اے، ایم ۔او۔ایل ،ایم۔ایڈ(TER)شعبہ ایجوکیشن پنجاب یونیرسٹی نیو کیمپس لاہور سنہ ۲۰۰۴ ء میں پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر کی زیر نگرانی عربی میں پی۔ ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ جس کا عنوان الشیخ اھإد رضا خان شاعراً عربیاً مع تدوین دیوان العربی تھا اور اسی سلسلے میں ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی سے گولڈ میڈل اور ایو ارڈ وصول کیے آپ عرصہ ۴ سال تک مدینہ یونیورسٹی فیصل آباد میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ علوم اسلامیہ میں ایم۔فل اور پی۔ایچ ڈی کی کلاسز کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتےرہے۔اسی دوران محی الدین غزنوی اسلامک یونیورسٹی نیر یان شریف آزاد کشمیر اور ٹیکسلاینیورسٹی سے ایسوسی ایٹ پروفیسر علوم اسلامیہ کلیے بھی آفر آچکی تھی دور حاضر میں گورنمٹ بائر سیکنڈری سکول و کالج فاروق آباد ضلع شیخو پورہ میں بطور بجیکٹ اسپیشلسٹ اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہے تھے۔
لاہور میں انہوں نے اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کو عام کرنے کےلیے ایک تبلیغی اور اشاعتی ادارہ معارفِ رضا قائم کیا۔ جس کے سرپر ست حضرت مولانا سید ریاست علی قادری علیہ الرحمۃ صدرو بانیا ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا (کراچی ) تھے۔ جس کے ڈائر یکٹر کی حیثیت سے آپ اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔حضرت علامہ مفتی اختر رضا الازہری بریلوی کے پنجاب کے تمام تبلیغی دوروں کا شیڈول اسی ادارے کے تحت ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں علی پبلک ہائی اسکول و کالج آل رول منزل گلی نمبر ۱۰ پاک نگر اکرام روڈ مصری شاہ میں پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے۔
بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مصطفٰی رضا نوری علیہ الرحمۃ سے تھی ۔ اور آپ حضرت تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا الازہری بریلوی دامت فیوضہم کے خلیفہ مجاز تھے ۔ علاوہ ازیں حضرت پیر سید مسعود احمد اشرفی نے بھی سلسلۂ اشرفیہ کی خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
آپ نے ہمیشہ ہر اس تنظیم میں بخوشی شمولیت اختیار کی جس کا تعلق اعلیٰ حضرت مجدد دمأتہ حاضرہ بریلوی سے تھا ۔ ۱۹۸۶ء میں جب حضرت حکیم محمد موسٰی امر تسری نے چند ناگزیر وجوہ کی بنا پر مرکزی مجلس رضا سے علیحدگی کا اعلان کیا تو اس وقت آپ مجلس کی عاملہ کمیٹی کے رکن تھے ۔ جس کا آپ کو شدید صدمہ ہوا ۔ انہوں نے بعض دیگر مقتدر شخصیات کے ساتھ مل کر معاملات کو سُدھارنے کی کوشش کی؎
مگر اے بسا ارزو کہ خاک شدہ!
ان کے وصال کے بعد اب تک جناب سید منیر ضا خان قادری مدظلہ یہ خدمت سر انجام دے رہےہیں۔جناب ڈاکٹر سید شاہد علی نورانی تصنیف و تالیف بھی پیچھے نہ رہے۔انہوں نے متعدد کتب پہ مقدمے ، دیباچے اور تبصرے تحریر فرمائے۔ آپ کی تصانیف میں امام احمد رضا کی علمی خدمات پر تحقیقی جائزہ مقالہ ایم ایڈ، مطبوعہ ۱۹۹۲ ء ، حالات مفتی اعظم ہند مولانا محمد مصطفٰی رضا خان بریلوی ، مطبوعہ ، حالات مولانا محمد ابراہیم رضا خان بریلوی ، مطبوعہ ، مختصر سوانح مفتی اعظم علامہ محمد اختر رضا خان الازہری بریلوی، مطبوعہ سوانح حیات حضرت حاجی محمد عثمان الرضا قادری رضوی بریلوی، مطبوعہ ، قابل ذکر ہیں۔
آپ کی شادہ خانہ آبادی ماہ اپریل ۱۹۹۳ء میں امام اہلِ سنت حضرت پیر دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی پڑپوتی مفتی اعظم پاکستان سید ابو البرکات رحمۃ اللہ علیہ کی پوت، شارح بخاری شریف علامہ سید محمود احمدرضوی رحمۃ اللہ علیہ کی بھتیجی اور حضرت پیر سید مسعود احمداشرفی المتوفیٰ ۲۰۱۵ء کی صاحبزادہ سے ہوئی۔ جن سے آپ کے دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تولد ہوئے جو کالجز اور اسکولز میں زیر تعلیم ہیں ۔
ولادت:
حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد علی نورانی قادری اشرفی رضوی نور اللہ مرقدہٗ جن کی ولادت با سعادت یکم اکتبور سن ۱۹۵۹ء کو لاہور میں ہوئی ـ
آپ کے والدِ گرامی پروفیسر سید یعقوب علی رضوی المتوفٰی ۱۹۸۱ء مدفون قبرستان بدھودا آوا ریٹائرڈ پرنسپل گورنمنٹ کینٹ پبلک کالج مردان اور جدِ امجد حضرت علامہ سید ایوب علی رضوی بریلوی المتوفٰی ۱۹۷۰ء مدفون قبرستان میانی صاحب (مرید و خلیفہ اعلٰی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان محدث و مجدد بریلوی) جنہوں نے آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا۔
انہوں نے قرآن مجید ناظرہ مسجد بغد ادہ مردان صوبہ خبیر پختو نخوا میں پڑھا اور گورنمنٹ ہائی ۔ اسکول نمبر ۱ مردان سے میٹرک کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا اسی دوران آپ لاہور منتقل ہوگئے جہاں گورنمنٹ دیال سنگھ کالج سے ایف اے گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنر سے بی۔اے،کالج ایجوکیشن سے بی۔ایڈ۔ اور میٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے ایم ۔اے، ایم ۔او۔ایل ،ایم۔ایڈ(TER)شعبہ ایجوکیشن پنجاب یونیرسٹی نیو کیمپس لاہور سنہ ۲۰۰۴ ء میں پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر کی زیر نگرانی عربی میں پی۔ ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ جس کا عنوان الشیخ اھإد رضا خان شاعراً عربیاً مع تدوین دیوان العربی تھا اور اسی سلسلے میں ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی سے گولڈ میڈل اور ایو ارڈ وصول کیے آپ عرصہ ۴ سال تک مدینہ یونیورسٹی فیصل آباد میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ علوم اسلامیہ میں ایم۔فل اور پی۔ایچ ڈی کی کلاسز کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتےرہے۔اسی دوران محی الدین غزنوی اسلامک یونیورسٹی نیر یان شریف آزاد کشمیر اور ٹیکسلاینیورسٹی سے ایسوسی ایٹ پروفیسر علوم اسلامیہ کلیے بھی آفر آچکی تھی دور حاضر میں گورنمٹ بائر سیکنڈری سکول و کالج فاروق آباد ضلع شیخو پورہ میں بطور بجیکٹ اسپیشلسٹ اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہے تھے۔
لاہور میں انہوں نے اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کو عام کرنے کےلیے ایک تبلیغی اور اشاعتی ادارہ معارفِ رضا قائم کیا۔ جس کے سرپر ست حضرت مولانا سید ریاست علی قادری علیہ الرحمۃ صدرو بانیا ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا (کراچی ) تھے۔ جس کے ڈائر یکٹر کی حیثیت سے آپ اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔حضرت علامہ مفتی اختر رضا الازہری بریلوی کے پنجاب کے تمام تبلیغی دوروں کا شیڈول اسی ادارے کے تحت ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں علی پبلک ہائی اسکول و کالج آل رول منزل گلی نمبر ۱۰ پاک نگر اکرام روڈ مصری شاہ میں پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے۔
بیعت و خلافت:
آپ کی بیعت مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مصطفٰی رضا نوری علیہ الرحمۃ سے تھی ۔ اور آپ حضرت تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا الازہری بریلوی دامت فیوضہم کے خلیفہ مجاز تھے ۔ علاوہ ازیں حضرت پیر سید مسعود احمد اشرفی نے بھی سلسلۂ اشرفیہ کی خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
آپ نے ہمیشہ ہر اس تنظیم میں بخوشی شمولیت اختیار کی جس کا تعلق اعلیٰ حضرت مجدد دمأتہ حاضرہ بریلوی سے تھا ۔ ۱۹۸۶ء میں جب حضرت حکیم محمد موسٰی امر تسری نے چند ناگزیر وجوہ کی بنا پر مرکزی مجلس رضا سے علیحدگی کا اعلان کیا تو اس وقت آپ مجلس کی عاملہ کمیٹی کے رکن تھے ۔ جس کا آپ کو شدید صدمہ ہوا ۔ انہوں نے بعض دیگر مقتدر شخصیات کے ساتھ مل کر معاملات کو سُدھارنے کی کوشش کی؎
مگر اے بسا ارزو کہ خاک شدہ!
ان کے وصال کے بعد اب تک جناب سید منیر ضا خان قادری مدظلہ یہ خدمت سر انجام دے رہےہیں۔جناب ڈاکٹر سید شاہد علی نورانی تصنیف و تالیف بھی پیچھے نہ رہے۔انہوں نے متعدد کتب پہ مقدمے ، دیباچے اور تبصرے تحریر فرمائے۔ آپ کی تصانیف میں امام احمد رضا کی علمی خدمات پر تحقیقی جائزہ مقالہ ایم ایڈ، مطبوعہ ۱۹۹۲ ء ، حالات مفتی اعظم ہند مولانا محمد مصطفٰی رضا خان بریلوی ، مطبوعہ ، حالات مولانا محمد ابراہیم رضا خان بریلوی ، مطبوعہ ، مختصر سوانح مفتی اعظم علامہ محمد اختر رضا خان الازہری بریلوی، مطبوعہ سوانح حیات حضرت حاجی محمد عثمان الرضا قادری رضوی بریلوی، مطبوعہ ، قابل ذکر ہیں۔
آپ کی شادہ خانہ آبادی ماہ اپریل ۱۹۹۳ء میں امام اہلِ سنت حضرت پیر دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی پڑپوتی مفتی اعظم پاکستان سید ابو البرکات رحمۃ اللہ علیہ کی پوت، شارح بخاری شریف علامہ سید محمود احمدرضوی رحمۃ اللہ علیہ کی بھتیجی اور حضرت پیر سید مسعود احمداشرفی المتوفیٰ ۲۰۱۵ء کی صاحبزادہ سے ہوئی۔ جن سے آپ کے دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تولد ہوئے جو کالجز اور اسکولز میں زیر تعلیم ہیں ۔
❤1👍1
آپ نے جن شخصیات سے علمی استفادہ کیا اُن میں حضرت حکیم محمد موسیٰ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ حضرت علامہ پیر زادہ اقبال احمد فاروقی رحمۃ اللہ علیہ اور ڈاکٹر پروفیسر سید محمد قمر علی زیدی دامت فیوضہم قابل ذکر ہیں۔آپ کے احبابِ خاص میں پروفیسر سید محمد سرفراز قادری صاحب، جناب اسرار الحسنین قادری صاحب،جناب پروفیسر محمد نواز نوشاہی صاحب، جنا ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب ، جناب ڈاکٹر حافظ ذو الفقار علی صاحب، جناب پروفیسر ضیاء المصطفٰی قصوری صاحب، جناب طاہر رضا بخاری صاحب، جناب صاحبزادہ توصیف النبی صاحب، جناب ڈاکٹر سلیم اللہ جندران صاحب، پروفیسر دلاور خان صاحب جیسی علمی شخصیات شامل ہیں ۔
آپ کا ذاتی کتب خانہ جو ہزاروں نادر و نایاب کتب پر مشتمل ہے جس میں مرکزی مجلس رضا لاہور اور ادارۂ تحقیات امام احمد رضا کراچی کی مطبوعات اور اعلٰی حضرت مجدد بریلوی کی تصانیف کثیر تعداد میں موجود ہیں جو بالخصوص اعلیٰ حضرت محدث بریلوی پر تحقیق کرنے والے صاحب علم حضرات کے لیے بہت مفید اور کارآمد ثابت ہوں گی ۔
آپ کے ایم۔ایڈ ایک مقالے بعنوان "امام احمد رضا فاضل بریلوی کی علمی خدمات کا جائزہ" کے حوالے سے پروفیسر گلام سرور انا شعبہ سیاسیات گورنمنٹ کالج لاہور تحریر فرماتے ہیں:
"ہمارے ایک فاضل عزیزی سید شاہد علی نورانی کا مقالہ قابلِ ستائش ہے۔موصوف نے اس سلسلے میں کافی محنت کی ہے۔ حوالہ جات اور متن ہر لحاظ سے مستند ہیں۔ کیوں نہ ہو۔ جبکہ عزیز محترم کو مواد حکیم محمد موسٰی امر تسری نے مہیا کیا اور وہ خود نبیرہ سید ایوب علی رضوی مرید خلیفہ اعلیٰ حضرت ہوں اسی حوالے سے جناب ڈاکٹر ظہور احمد اظہر صدر شعبہ عربی اور ینٹل کلج پنجاب یونیورسٹی لاہور رقمطراز ہیں کہ مجھے بڑی خوشی ہے کہ عزیزی محترم سید شاہد علی نورانی جن کے جدِ امجد سید ایوب علی رضوی نے امام احمد رضا سے بیعت و خلافت کا شرف حاصل کیا۔۔۔۔
غالباً یہی علمی پس منظر تھا۔ جس نے عزیزی سید شاہد علی نورانی کو امام احمد رضا پر تحقیق وریسرچ کی طرف مائل کیا اور شاہد صاحب نے امام احمد رضا کی علمی خدمات کا جائزہ پیش کیا۔ "
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سکھر سندھ نے بھی تحریر فرمایا اور رم سید شاہد علی نورانی ایک علمی خانوادے کے چشم چراغ ہیں۔جنہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ چیئرمین شعبہ تعلیم و تحقیق پروفیسر خواجہ فوزیہ ناہید کی نگرانی مکمل کیا اور رکن مجلس پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی صاحب ان کے معاون رہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر میز ادلین چغتائی صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ امام احمد رضا پر کام کرنے والےفضلاء کی ہمت افزائی فرمارہے ہیں اور شعبہ تعلیم کے ڈار یکٹر احسان اللہ خان صاحب لائق صدتبریک ہیں۔ کہ ان کے شعبے سے سید شاہد علی نورانی نے امام احمد رضا پر اپنا تحقیقی مقالہ قلمبند کیا۔۔۔"
آپ نے بشمول راقم الحروف کے جن حضرات کو سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی خلافت سے سرفراز فرمایا ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔
جناب سید واصف علی رحمانی مقیم حیدر آباد سندھ ، جناب سید مجاہد علی نعمانی مقیم دبئی، جناب ڈاکٹر وکیل احمد داتائی اشرفی رضوی مقیم کراچی، بانی حلقہ داتائی ، مصنف "تجلیات داتا" مجاہدِ اہل سنت حضرت احمد حنیف قادری رضوی جنرل سیکریٹری ادارہ معارفِ رضا جن کا ۲۸ اگسر سنہ ۲۰۰۰ ء میں انتقال ہوگیا ان کی نماز جنازہ حضرت علامہ منیر احمد یوسفی مدظلہ العالی نے پڑھائی انہیں بدھو دا آوا کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ سیدی و مرشدی ڈاکٹر شاہد علی نورانی مرحوم و مغفور کا معمول تھا کہ وہ حضرت داتا گنج بخش فیضِ عالم قدس سرہ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوتے رہتے۔انہوں نے اس درگاہ عالیہ سے جو فیض حاصل کیا۔ اس کے بارے میں یوں بیان فرماتے ہیں:
حضرت داتا گنج بخش فیض عالم قدس سرہ کا آستانہ مرکز انوار و تجلیات و منبع فیوض و برکات ہے اس خانقاہ عالیہ پر حاضر ہونے والا زائر اپنی استعداد سے زیادہ مستفید و مستفیض ہوتا ہے۔مجھے بار ہا اس درگاہ حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔میں جب بھی وہاں حاضر ہوا خالی نہ لوٹا ۔
آپ کا ذاتی کتب خانہ جو ہزاروں نادر و نایاب کتب پر مشتمل ہے جس میں مرکزی مجلس رضا لاہور اور ادارۂ تحقیات امام احمد رضا کراچی کی مطبوعات اور اعلٰی حضرت مجدد بریلوی کی تصانیف کثیر تعداد میں موجود ہیں جو بالخصوص اعلیٰ حضرت محدث بریلوی پر تحقیق کرنے والے صاحب علم حضرات کے لیے بہت مفید اور کارآمد ثابت ہوں گی ۔
آپ کے ایم۔ایڈ ایک مقالے بعنوان "امام احمد رضا فاضل بریلوی کی علمی خدمات کا جائزہ" کے حوالے سے پروفیسر گلام سرور انا شعبہ سیاسیات گورنمنٹ کالج لاہور تحریر فرماتے ہیں:
"ہمارے ایک فاضل عزیزی سید شاہد علی نورانی کا مقالہ قابلِ ستائش ہے۔موصوف نے اس سلسلے میں کافی محنت کی ہے۔ حوالہ جات اور متن ہر لحاظ سے مستند ہیں۔ کیوں نہ ہو۔ جبکہ عزیز محترم کو مواد حکیم محمد موسٰی امر تسری نے مہیا کیا اور وہ خود نبیرہ سید ایوب علی رضوی مرید خلیفہ اعلیٰ حضرت ہوں اسی حوالے سے جناب ڈاکٹر ظہور احمد اظہر صدر شعبہ عربی اور ینٹل کلج پنجاب یونیورسٹی لاہور رقمطراز ہیں کہ مجھے بڑی خوشی ہے کہ عزیزی محترم سید شاہد علی نورانی جن کے جدِ امجد سید ایوب علی رضوی نے امام احمد رضا سے بیعت و خلافت کا شرف حاصل کیا۔۔۔۔
غالباً یہی علمی پس منظر تھا۔ جس نے عزیزی سید شاہد علی نورانی کو امام احمد رضا پر تحقیق وریسرچ کی طرف مائل کیا اور شاہد صاحب نے امام احمد رضا کی علمی خدمات کا جائزہ پیش کیا۔ "
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سکھر سندھ نے بھی تحریر فرمایا اور رم سید شاہد علی نورانی ایک علمی خانوادے کے چشم چراغ ہیں۔جنہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ چیئرمین شعبہ تعلیم و تحقیق پروفیسر خواجہ فوزیہ ناہید کی نگرانی مکمل کیا اور رکن مجلس پروفیسر ڈاکٹر اکبر علی صاحب ان کے معاون رہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر میز ادلین چغتائی صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ امام احمد رضا پر کام کرنے والےفضلاء کی ہمت افزائی فرمارہے ہیں اور شعبہ تعلیم کے ڈار یکٹر احسان اللہ خان صاحب لائق صدتبریک ہیں۔ کہ ان کے شعبے سے سید شاہد علی نورانی نے امام احمد رضا پر اپنا تحقیقی مقالہ قلمبند کیا۔۔۔"
آپ نے بشمول راقم الحروف کے جن حضرات کو سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کی خلافت سے سرفراز فرمایا ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔
جناب سید واصف علی رحمانی مقیم حیدر آباد سندھ ، جناب سید مجاہد علی نعمانی مقیم دبئی، جناب ڈاکٹر وکیل احمد داتائی اشرفی رضوی مقیم کراچی، بانی حلقہ داتائی ، مصنف "تجلیات داتا" مجاہدِ اہل سنت حضرت احمد حنیف قادری رضوی جنرل سیکریٹری ادارہ معارفِ رضا جن کا ۲۸ اگسر سنہ ۲۰۰۰ ء میں انتقال ہوگیا ان کی نماز جنازہ حضرت علامہ منیر احمد یوسفی مدظلہ العالی نے پڑھائی انہیں بدھو دا آوا کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ سیدی و مرشدی ڈاکٹر شاہد علی نورانی مرحوم و مغفور کا معمول تھا کہ وہ حضرت داتا گنج بخش فیضِ عالم قدس سرہ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوتے رہتے۔انہوں نے اس درگاہ عالیہ سے جو فیض حاصل کیا۔ اس کے بارے میں یوں بیان فرماتے ہیں:
حضرت داتا گنج بخش فیض عالم قدس سرہ کا آستانہ مرکز انوار و تجلیات و منبع فیوض و برکات ہے اس خانقاہ عالیہ پر حاضر ہونے والا زائر اپنی استعداد سے زیادہ مستفید و مستفیض ہوتا ہے۔مجھے بار ہا اس درگاہ حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔میں جب بھی وہاں حاضر ہوا خالی نہ لوٹا ۔
❤1👍1
والدین کے انتقال کے بعد ایف اے سے آگے تعلیم جاری نہ رکھا سکا ۔گھریلو ذمہ داریوں کی بنا پر مختلف اداروں میں ملازمت کرتا رہا۔ سلسلۂ تعلیم منقطع ہونے کے ازحد دکھ تا۔ اسی دوران کرتا رہا۔ سلسلہ تعلیم منقطع ہونے کے ازحد دکھا تھا۔ اسی دوران حضرت حکیم محمد موسٰی امر تسری علیہ الرحمۃ کی خدمد میں حاضر ہوا۔ جن کا حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ سے قلبیو روحانی تعلق تھا۔
جو سادات پر بڑی شفقت فرمایا کرتے ۔ بالخصوص طالب علموں کو اپنا تعلیمی معیار بلند و بہتر کرنے کی ترغیب دلایا کرتے۔اور ان کی دینی، علمی اور روحانی تربیت بھی فرمایا کرتے تھے۔انہوں نے میری ڈھارس بند ھائی اور حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ کے آستانے پر بھیج دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ میں نے داتا جی سرکار میں حاضرہو کر عرض کی کہ مجھے اجازت دیں۔ کہ مزید اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں اور آپ میرے حق میں خصوصی دعا فرمائیں۔
چند دنوں بعد اس دعا کی مقبولیت کے آثار نظر آنے لگے اور میرے تمام مسائل حل ہوتے گئے۔آخر کار میں نے بی اے کےلیے کالج میں داخلہ لے لیا ۔ اور ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم پرائیوٹ ملازمت بھی کرتا رہا۔اسی طرح بی۔ ایڈ، ایم ۔اے ، ایم ۔ایڈ اور پی۔ایچ ۔ڈی تک تعلیم حاصل کی اس اثناء میں مجھے محکمہ ایجوکیشن میں گورنمنٹ کی ملازمت مل گئی۔ اس وقت متعدد طلبہ کو ایم فل اور پی ۔ایچ ڈی۔کرواچکاہوں۔عرصہ چار سال تک مدینہ یونیورسٹی فیصل آباد ایسوسی ایٹ پروفیسر رہا دوسرا معاملہ کچھ اس طرح کا تھا۔کہ میری دلی خواہش تھی کہ کسی طرح بھی حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے مزار مقدسہ پر حاضری کا شرف حاصل ہوجائے اس سلسے میں حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر یہ استدعا کی کہہ مجھے بریلوی شریف جانے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔
روحانی دنیا میں بھی سلف صالحین اولیاء واصفیاء کا معمول رہا ہے کہ اپنے علاقے کی روحانی شخصیت سے اجازت لے کر باہر جانا چاہیے اور جہاں پر بھی جائیں۔وہاں کی روحانی شخصیت کے مزار پر حاضر ہو کر آنے کی اجازت حاصل کریں۔ ایسا کرنے سے نقصان کا احتمال نہیں رہتا۔ کیونکہ ہر علاقہ میں کسی نہ کسی صاحب حال کا تعرف ہوتا ہے۔
بس پھر کیا تھا۔میرے تمام معاملات بآسانی حل ہوگئے۔ پاسپورٹ اور زادِ راہ ویزہ یں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئی۔اور میں باخیر یت و عافیت خانقاہِ بریلی شریف کی زیارت سے مشرف ہوکر واپس لوٹا اور آتے ہوئے مجھے تاج الشریعت مفتی اختر رضا الازہری مدظلہ نے خلافت سے نوازا ۔ جو میرے لیے نعمتِ عظمٰی سے کم نہیں۔مندرجہ بالا یہ چند آخری کلمات انہوں نے بیان فرمائے:
جو بروز منگل بمورخہ ۲۵ مئی راقم الحروف کی ان سے موبائل فون پر آخری بات چیت ہوئی۔ گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا۔ کہ آپ بلالکل تندرست اور صحت مند ہیں۔راقم الحروف نے انہیں بتایا کہ وہ کتاب "تجلیات داتا"پر مقدمہ یادیباچہ لکھ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا:"زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اپنے آباؤ اجداد کے خاندانی حالات و واقعات پر ایک کتاب تحریر کرنی ہے۔" اس کے بعد کافی دیر تک حضرت داتا گنج بخش نور اللہ مرقدہٗ کے حوالے سے گفتگو کرتے رہے۔میری حوصلہ افزائی فرمائی اور کچھ مفید باتیں بتائیں۔اگلے دن بروز بدھ بمورخہ ۲۵ مئی ۲۰۱۶ء بمطابق ۱۸، شعبان المعظم ۱۴۳۷ ھ بوقت مغرب نماز کےلیے وضو کرنے کے بعد حالت غیر ہوگئی ۔ اور اسی دوران کلمہ طیبہ درود شریف کا ورد کرنے لگے انہیں جناح ہسپتال لے جایا گیا۔ کچھ دیع بعد خالقِ حقیقی سےجاملے آپ کے جسدِنورانی کو برادرِ اکبر سید محمد علی سبحانی صاحب کی رہائش گاہ واقع سادات اسٹریٹ نزدیادگار اسکول شیلر چوک باغبا نپورہ لایا گیا۔کیونکہ آپ عرصہ دراز تک یہیں پر مقیم رہے۔ آپ کے انتقال کی خبر سنتے ہی دور و نزدیک سے عوام و خواص پہنچنا شروع کردیا پل بھر میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔لوڈ شیڈنگ، شدید گرمی اور جگہ کی تنگی کی بنا پر اس علاقے کی مشہور و معروف روحانی شخصیت اور حضرت داتا گنج بخش کے فیض یافتہ پیر طریقت حضرت سید مسکین حسین شاہ بخاری مدظلہ العالی نے تین دن تک تعزیت کےلیے آنے والے حضرات کےلیے اپنے آستانے اور رہائش گاہ کے دروازے کھول دئیے۔اور خاطر خواہ انتظام کیا۔پیر طریقت حضرت صوفی محمد صدیق نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز محب و محبوب سادات حضرت صوفی رانا محمد اعجاز نقشبندی مجددی بھی تشریف لائے انہوں نے تجہیز و تکفین کےسلسلہ میں بہت اہم کرداراداکیا۔
جو سادات پر بڑی شفقت فرمایا کرتے ۔ بالخصوص طالب علموں کو اپنا تعلیمی معیار بلند و بہتر کرنے کی ترغیب دلایا کرتے۔اور ان کی دینی، علمی اور روحانی تربیت بھی فرمایا کرتے تھے۔انہوں نے میری ڈھارس بند ھائی اور حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ کے آستانے پر بھیج دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ میں نے داتا جی سرکار میں حاضرہو کر عرض کی کہ مجھے اجازت دیں۔ کہ مزید اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں اور آپ میرے حق میں خصوصی دعا فرمائیں۔
چند دنوں بعد اس دعا کی مقبولیت کے آثار نظر آنے لگے اور میرے تمام مسائل حل ہوتے گئے۔آخر کار میں نے بی اے کےلیے کالج میں داخلہ لے لیا ۔ اور ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم پرائیوٹ ملازمت بھی کرتا رہا۔اسی طرح بی۔ ایڈ، ایم ۔اے ، ایم ۔ایڈ اور پی۔ایچ ۔ڈی تک تعلیم حاصل کی اس اثناء میں مجھے محکمہ ایجوکیشن میں گورنمنٹ کی ملازمت مل گئی۔ اس وقت متعدد طلبہ کو ایم فل اور پی ۔ایچ ڈی۔کرواچکاہوں۔عرصہ چار سال تک مدینہ یونیورسٹی فیصل آباد ایسوسی ایٹ پروفیسر رہا دوسرا معاملہ کچھ اس طرح کا تھا۔کہ میری دلی خواہش تھی کہ کسی طرح بھی حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے مزار مقدسہ پر حاضری کا شرف حاصل ہوجائے اس سلسے میں حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر یہ استدعا کی کہہ مجھے بریلوی شریف جانے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔
روحانی دنیا میں بھی سلف صالحین اولیاء واصفیاء کا معمول رہا ہے کہ اپنے علاقے کی روحانی شخصیت سے اجازت لے کر باہر جانا چاہیے اور جہاں پر بھی جائیں۔وہاں کی روحانی شخصیت کے مزار پر حاضر ہو کر آنے کی اجازت حاصل کریں۔ ایسا کرنے سے نقصان کا احتمال نہیں رہتا۔ کیونکہ ہر علاقہ میں کسی نہ کسی صاحب حال کا تعرف ہوتا ہے۔
بس پھر کیا تھا۔میرے تمام معاملات بآسانی حل ہوگئے۔ پاسپورٹ اور زادِ راہ ویزہ یں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئی۔اور میں باخیر یت و عافیت خانقاہِ بریلی شریف کی زیارت سے مشرف ہوکر واپس لوٹا اور آتے ہوئے مجھے تاج الشریعت مفتی اختر رضا الازہری مدظلہ نے خلافت سے نوازا ۔ جو میرے لیے نعمتِ عظمٰی سے کم نہیں۔مندرجہ بالا یہ چند آخری کلمات انہوں نے بیان فرمائے:
جو بروز منگل بمورخہ ۲۵ مئی راقم الحروف کی ان سے موبائل فون پر آخری بات چیت ہوئی۔ گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا۔ کہ آپ بلالکل تندرست اور صحت مند ہیں۔راقم الحروف نے انہیں بتایا کہ وہ کتاب "تجلیات داتا"پر مقدمہ یادیباچہ لکھ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا:"زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اپنے آباؤ اجداد کے خاندانی حالات و واقعات پر ایک کتاب تحریر کرنی ہے۔" اس کے بعد کافی دیر تک حضرت داتا گنج بخش نور اللہ مرقدہٗ کے حوالے سے گفتگو کرتے رہے۔میری حوصلہ افزائی فرمائی اور کچھ مفید باتیں بتائیں۔اگلے دن بروز بدھ بمورخہ ۲۵ مئی ۲۰۱۶ء بمطابق ۱۸، شعبان المعظم ۱۴۳۷ ھ بوقت مغرب نماز کےلیے وضو کرنے کے بعد حالت غیر ہوگئی ۔ اور اسی دوران کلمہ طیبہ درود شریف کا ورد کرنے لگے انہیں جناح ہسپتال لے جایا گیا۔ کچھ دیع بعد خالقِ حقیقی سےجاملے آپ کے جسدِنورانی کو برادرِ اکبر سید محمد علی سبحانی صاحب کی رہائش گاہ واقع سادات اسٹریٹ نزدیادگار اسکول شیلر چوک باغبا نپورہ لایا گیا۔کیونکہ آپ عرصہ دراز تک یہیں پر مقیم رہے۔ آپ کے انتقال کی خبر سنتے ہی دور و نزدیک سے عوام و خواص پہنچنا شروع کردیا پل بھر میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔لوڈ شیڈنگ، شدید گرمی اور جگہ کی تنگی کی بنا پر اس علاقے کی مشہور و معروف روحانی شخصیت اور حضرت داتا گنج بخش کے فیض یافتہ پیر طریقت حضرت سید مسکین حسین شاہ بخاری مدظلہ العالی نے تین دن تک تعزیت کےلیے آنے والے حضرات کےلیے اپنے آستانے اور رہائش گاہ کے دروازے کھول دئیے۔اور خاطر خواہ انتظام کیا۔پیر طریقت حضرت صوفی محمد صدیق نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز محب و محبوب سادات حضرت صوفی رانا محمد اعجاز نقشبندی مجددی بھی تشریف لائے انہوں نے تجہیز و تکفین کےسلسلہ میں بہت اہم کرداراداکیا۔
❤1👍1
حضرت ڈاکٹر سید اشہد علی نوارانی نور اللہ مرقدہٗ کے جسدِ نوری کو غسل دینے کی سعادت جناب ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی دامت فیوضہم کے دست راست اور پرنسپل اسلامک انسٹی ٹیوٹ حضرت علامہ قاری محمد یونس جلالی مدظلہ العالی، صاحبزادہ سید عابد حسین شاہ بخاری علی عثمان، صاحبزادہ حبیب علی نورانی اور برادر اکبر سید محمد علی سبحانی صاحب کو حاصل ہوئی ۔
غسل کے بعد آپ کے جسد نوری کو پہلے دار العلوم جامعیہ جذبِ الاحناف میں اس کے بعد آستانے پر لے جایا گیا۔ جہاں بعد از نماز ظہر نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ جو آپ کے برادرِ نستبی حضرت علامہ صاحبزادہ سید نثار اشرف رضوی مد ظلہ نے پڑھائی اور ایصالِ ثواب کےلیے صاحبزادہ مصطفٰی اشرف رضوی مدظلہ نے دعائے خیر کی ۔
نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں علماء مشائخ مدارس اسکول کالج ، یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ کے علاوہ آپ کے عزیز و اقارب نے شرکت کی ۔ انہیں اپنے جدِ امجد حضرت سید ایوب علی رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (مرید و خلیفہ اعلیٰ حضرت مجدد بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ) کے پہلو میں میانی صاحب قبرستان میں دفن کیا گیا ۔
ایصالِ ثواب کےلیے مورخہ۲۷ مئی بروز جمعۃ المبارک بعد از نماز جمعہ تا مغرب جامع مسجد نماز سادات سٹریٹ نزد یادگارِ سکول میں قل خوانی کی گئی جس میں کثیر تعداد علمائے مشائخ اور عوام و خصواص نے شرکت کی ۔
؎ خدا رحمت کنند ایں عاشقانِ پاک طینت را
مادے و قطعہ تاریخ ارتحال:
" آہ پاکباز ، مقرب بندہ ، عالی نسب ، سید شاہد علی نورانی " ۱۴۳۷ھ
" انعمت علیھم ، خصال" ۱۴۳۷ھ
" گنج حلم ، اشرفی ، رضوی بریلوی "، ۲۰۱۶ء
" باایمان محقق ، ماہر رضویات " ۲۰۱۵ء
صدمہ ، ہادی، مہربان ، محب اعلیٰ حضرت ۲۰۱۶ء
سیدی شاہد علی تھے بے مثال
سال رحلت پہ متن آئی ندا
صاحبِ اقبال تھے وہ لازوال
"آہ عالی قدر رضوی"باکمال
۱۴۳۷ھ
( معارفِ رضا )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-shahid-ali-noorani
غسل کے بعد آپ کے جسد نوری کو پہلے دار العلوم جامعیہ جذبِ الاحناف میں اس کے بعد آستانے پر لے جایا گیا۔ جہاں بعد از نماز ظہر نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ جو آپ کے برادرِ نستبی حضرت علامہ صاحبزادہ سید نثار اشرف رضوی مد ظلہ نے پڑھائی اور ایصالِ ثواب کےلیے صاحبزادہ مصطفٰی اشرف رضوی مدظلہ نے دعائے خیر کی ۔
نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں علماء مشائخ مدارس اسکول کالج ، یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ کے علاوہ آپ کے عزیز و اقارب نے شرکت کی ۔ انہیں اپنے جدِ امجد حضرت سید ایوب علی رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (مرید و خلیفہ اعلیٰ حضرت مجدد بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ) کے پہلو میں میانی صاحب قبرستان میں دفن کیا گیا ۔
ایصالِ ثواب کےلیے مورخہ۲۷ مئی بروز جمعۃ المبارک بعد از نماز جمعہ تا مغرب جامع مسجد نماز سادات سٹریٹ نزد یادگارِ سکول میں قل خوانی کی گئی جس میں کثیر تعداد علمائے مشائخ اور عوام و خصواص نے شرکت کی ۔
؎ خدا رحمت کنند ایں عاشقانِ پاک طینت را
مادے و قطعہ تاریخ ارتحال:
" آہ پاکباز ، مقرب بندہ ، عالی نسب ، سید شاہد علی نورانی " ۱۴۳۷ھ
" انعمت علیھم ، خصال" ۱۴۳۷ھ
" گنج حلم ، اشرفی ، رضوی بریلوی "، ۲۰۱۶ء
" باایمان محقق ، ماہر رضویات " ۲۰۱۵ء
صدمہ ، ہادی، مہربان ، محب اعلیٰ حضرت ۲۰۱۶ء
سیدی شاہد علی تھے بے مثال
سال رحلت پہ متن آئی ندا
صاحبِ اقبال تھے وہ لازوال
"آہ عالی قدر رضوی"باکمال
۱۴۳۷ھ
( معارفِ رضا )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-syed-shahid-ali-noorani
scholars.pk
Syed Shahid Ali Noorani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
شرف ملت ، حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری لاہوری علیہ الرحمہ
ولادت:
میدانِ تحریر و تدریس کے شاہسوار حضرت علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری بن مولانا اللہ دتہ بن نواز بخش ۱۳۶۴ھ/ ۱۹۴۴ء میں بمقام مرزا پور ضلع ہوشیار پیدا ہوئے۔
آپ کے والد ماجد ایک متقی اور پابند شریعت بزرگ ہیں۔ حضور پرنور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور اولیاء کرام سے محبت ان کے افعال اور اعمال میں نمایاں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی اولاد کی صحیح تربیت اسی نہج پر فرمائی ہے، چنانچہ ان کی دین سے والہانہ محبت کا نتیجہ ہے کہ حضرت علامہ شرف قادری کو خاص طور پر علومِ اسلامیہ کی تعلیم سے آراستہ کیا جن کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔
قیامِ پاکستان کے وقت آپ کا خاندان ہجرت کرکے لاہور پہنچا۔ آپ کے والد ماجد مستقل طور پر یہیں مقیم ہوگئے۔ اس وقت آپکی عمر تقریباً چار سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ نے پرائمری تک تعلیم لاہور میں حاصل کی اور پھر علومِ اسلامیہ کی تعلیم کے لیے آپ کو والد ماجد نے جامعہ رضویہ فیصل آباد میں داخل کرادیا، جہاں آپ نے حضرت محدث اعظم مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ کی نگرانی میں درس نظامی کا نصاب شروع کیا۔ خود ان سےبھی منطق کا ابتدائی رسالہ صغریٰ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
فیصل آباد میں آپ نے مولانا حافظ احسان الحق، سیّد منصور شاہ، مولانا حاجی محمد حنیف، مولانا حاجی محمد امین اور مولانا محمد عبداللہ جھنگوی رحمہ اللہ (م۲۵ ذوالحجہ ۱۳۹۳ھ) کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔
۲۹؍جمادی الاولیٰ، ۲؍جنوری (۱۳۷۶ھ/ ۱۹۵۷ء) کو آپ سیال شریف پہنچے اور وہاں حضرت مولانا صوفی حامد علی رحمہ اللہ (م۱۹؍رجب المرجب، ۱۶؍جولائی ۱۳۹۶ھ/ ۱۹۷۶ء) مہتمم مدرسہ نعمانیہ رضویہ لیہ (مظفر گڑھ) سے نحومیر پڑھی۔ علاوہ ازیں حضرت مولانا محمد اشرف سیالوی حال شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سےبھی کچھ اسباق پڑھے۔
متوسط کتب کی تعیم کے لیے آپ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں حضرت مولانا غلام رسول حال شیخ الحدیث جامعہ رضویہ فیصل آباد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے علمی استفادہ کیا۔ اس دارالعلوم میں اگرچہ آپ نے مولانا نور محمد، مولانا شمس الزماں، مولانا محمد ایوب اور مولانا غلام مصطفےٰ سے بھی چند کتابیں پڑھیں، لیکن اکثر و بیشتر کتب کی تعلیم حضرت مولانا غلام رسول اور حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی ناظمِ اعلیٰ تنظیم المدارس (اہل سنت پاکستان) سے حاصل کی۔
بعد ازاں آخری کتب پڑھنے کے لیے مولانا شرف قادری، بندیال میں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا عطا محمد (بندیالوی) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہاں آپ نے تقریباً ہر فن میں استفادہ کیا۔ نحو میں عبدالغفور و تکملہ، بلاغت میں مختصر المعانی و مطول، منطق میں ملا جلال، رسالہ قطبیہ، قاضی اور حمداللہ، فلسفہ میں میبذی، صدر اور شمس بازغہ، علم ہیئت میں تصریح ہندسہ میں اقلیدس، فقہ میں ہدایہ مکمل، اصول فقہ میں حسامی و مسلم الثبوت، حدیث میں مشکوٰۃ و ترمذی اور تفسیر میں بیضاوی پڑھی۔ اس کے علاوہ بعض کتب کا سماع بھی کیا جن میں بدیع المیزان، مرقاۃ، قال اقوال، شرح تہذیب، قطبی مع میر، ملا حسن اور رشیدیہ شامل ہیں۔
علامہ شرف قادری نے تدریسی زندگی کاآغاز ۱۹۶۵ء میں جامعہ نعیمیہ لاہور سے کیا۔ ۱۹۶۶ء میں حضرت استاذ العلماء مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی نے انہیں جامعہ نظامیہ رضویہ میں بلالیا۔ جہاں انہوں نے ۱۹۶۷ء تک تدریسی فرائض انجام دیے۔
۱۹۶۸ء میں پیرِ طریقت حضرت صاحبزادہ محمد طیب الرحمان چھوہروی، آپ کو حضرت مفتی صاحب کی اجازت سے دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور لے گئے، جہاں آپ نے صدر مدرس اور مفتی کی حیثیت سے چار سال تک کام کیا۔
دسمبر ۱۹۷۱ء میں مدرسہ اسلامیہ اشاعت العلوم چکوال کے منتظمین کی دعوت اور شدید اصرار پر چکوال آگئے۔ یہاں دو سال تک فرائضِ تدریس انجام دیے۔
۱۹۷۳ءمیں آپ لاہور آئےا ور دوبارہ جامعہ نظامیہ رضویہ میں صدرمدرس اور استاذ الحدیث مقرر ہوئے۔
ہری پور میں قیام کے دوران آپ نے وہاں کے بکھرے ہوئے سنی علماء کو جمع کیا اور جمعیت علماء سرحد، پاکستان کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، آپ ہی کو جمعیت کا ناظمِ اعلیٰ مقرر کیا گیا اور دیگر تبلیغی امور کے علاوہ پہلی مرتبہ آپ کی قیادت میں ہری پور کے سنیوں نے امامِ اہلِ سنت مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے یومِ رضا منایا۔
چکوال میں بھی آپ نے نوجوان اور فعال کارکنوں کو اکٹھا کرکے جماعت اہل سنت قائم کی اور وہاں کے لوگوں میں سنیت اور رضویت کی روح پھونک دی اور بڑی دھوم دھام سے یومِ رضا منایا گیا۔
مولانا عبدالحکیم شرف قادری نے ہری پور قیام کے دوران اپنی اشاعتی زندگی کا باضابطہ طور پر آغاز کیا۔ نیز مکتبہ رضویہ لاہور قائم کرکے آپ نے حاشیہ مولانا احمد حسن برحمداللہ، اقامۃ القیامہ، ایذان الاجر، الکافی، شرح ایساغوجی، نامِ حق مع حاشیہ فضل حق، شرح کریما اور سیف الجبار ایسے مفید رسائل
ولادت:
میدانِ تحریر و تدریس کے شاہسوار حضرت علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری بن مولانا اللہ دتہ بن نواز بخش ۱۳۶۴ھ/ ۱۹۴۴ء میں بمقام مرزا پور ضلع ہوشیار پیدا ہوئے۔
آپ کے والد ماجد ایک متقی اور پابند شریعت بزرگ ہیں۔ حضور پرنور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور اولیاء کرام سے محبت ان کے افعال اور اعمال میں نمایاں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی اولاد کی صحیح تربیت اسی نہج پر فرمائی ہے، چنانچہ ان کی دین سے والہانہ محبت کا نتیجہ ہے کہ حضرت علامہ شرف قادری کو خاص طور پر علومِ اسلامیہ کی تعلیم سے آراستہ کیا جن کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔
قیامِ پاکستان کے وقت آپ کا خاندان ہجرت کرکے لاہور پہنچا۔ آپ کے والد ماجد مستقل طور پر یہیں مقیم ہوگئے۔ اس وقت آپکی عمر تقریباً چار سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ نے پرائمری تک تعلیم لاہور میں حاصل کی اور پھر علومِ اسلامیہ کی تعلیم کے لیے آپ کو والد ماجد نے جامعہ رضویہ فیصل آباد میں داخل کرادیا، جہاں آپ نے حضرت محدث اعظم مولانا محمد سردار احمد رحمہ اللہ کی نگرانی میں درس نظامی کا نصاب شروع کیا۔ خود ان سےبھی منطق کا ابتدائی رسالہ صغریٰ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
فیصل آباد میں آپ نے مولانا حافظ احسان الحق، سیّد منصور شاہ، مولانا حاجی محمد حنیف، مولانا حاجی محمد امین اور مولانا محمد عبداللہ جھنگوی رحمہ اللہ (م۲۵ ذوالحجہ ۱۳۹۳ھ) کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔
۲۹؍جمادی الاولیٰ، ۲؍جنوری (۱۳۷۶ھ/ ۱۹۵۷ء) کو آپ سیال شریف پہنچے اور وہاں حضرت مولانا صوفی حامد علی رحمہ اللہ (م۱۹؍رجب المرجب، ۱۶؍جولائی ۱۳۹۶ھ/ ۱۹۷۶ء) مہتمم مدرسہ نعمانیہ رضویہ لیہ (مظفر گڑھ) سے نحومیر پڑھی۔ علاوہ ازیں حضرت مولانا محمد اشرف سیالوی حال شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سےبھی کچھ اسباق پڑھے۔
متوسط کتب کی تعیم کے لیے آپ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں حضرت مولانا غلام رسول حال شیخ الحدیث جامعہ رضویہ فیصل آباد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے علمی استفادہ کیا۔ اس دارالعلوم میں اگرچہ آپ نے مولانا نور محمد، مولانا شمس الزماں، مولانا محمد ایوب اور مولانا غلام مصطفےٰ سے بھی چند کتابیں پڑھیں، لیکن اکثر و بیشتر کتب کی تعلیم حضرت مولانا غلام رسول اور حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی ناظمِ اعلیٰ تنظیم المدارس (اہل سنت پاکستان) سے حاصل کی۔
بعد ازاں آخری کتب پڑھنے کے لیے مولانا شرف قادری، بندیال میں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا عطا محمد (بندیالوی) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہاں آپ نے تقریباً ہر فن میں استفادہ کیا۔ نحو میں عبدالغفور و تکملہ، بلاغت میں مختصر المعانی و مطول، منطق میں ملا جلال، رسالہ قطبیہ، قاضی اور حمداللہ، فلسفہ میں میبذی، صدر اور شمس بازغہ، علم ہیئت میں تصریح ہندسہ میں اقلیدس، فقہ میں ہدایہ مکمل، اصول فقہ میں حسامی و مسلم الثبوت، حدیث میں مشکوٰۃ و ترمذی اور تفسیر میں بیضاوی پڑھی۔ اس کے علاوہ بعض کتب کا سماع بھی کیا جن میں بدیع المیزان، مرقاۃ، قال اقوال، شرح تہذیب، قطبی مع میر، ملا حسن اور رشیدیہ شامل ہیں۔
علامہ شرف قادری نے تدریسی زندگی کاآغاز ۱۹۶۵ء میں جامعہ نعیمیہ لاہور سے کیا۔ ۱۹۶۶ء میں حضرت استاذ العلماء مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی نے انہیں جامعہ نظامیہ رضویہ میں بلالیا۔ جہاں انہوں نے ۱۹۶۷ء تک تدریسی فرائض انجام دیے۔
۱۹۶۸ء میں پیرِ طریقت حضرت صاحبزادہ محمد طیب الرحمان چھوہروی، آپ کو حضرت مفتی صاحب کی اجازت سے دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور لے گئے، جہاں آپ نے صدر مدرس اور مفتی کی حیثیت سے چار سال تک کام کیا۔
دسمبر ۱۹۷۱ء میں مدرسہ اسلامیہ اشاعت العلوم چکوال کے منتظمین کی دعوت اور شدید اصرار پر چکوال آگئے۔ یہاں دو سال تک فرائضِ تدریس انجام دیے۔
۱۹۷۳ءمیں آپ لاہور آئےا ور دوبارہ جامعہ نظامیہ رضویہ میں صدرمدرس اور استاذ الحدیث مقرر ہوئے۔
ہری پور میں قیام کے دوران آپ نے وہاں کے بکھرے ہوئے سنی علماء کو جمع کیا اور جمعیت علماء سرحد، پاکستان کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، آپ ہی کو جمعیت کا ناظمِ اعلیٰ مقرر کیا گیا اور دیگر تبلیغی امور کے علاوہ پہلی مرتبہ آپ کی قیادت میں ہری پور کے سنیوں نے امامِ اہلِ سنت مولانا الشاہ احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے یومِ رضا منایا۔
چکوال میں بھی آپ نے نوجوان اور فعال کارکنوں کو اکٹھا کرکے جماعت اہل سنت قائم کی اور وہاں کے لوگوں میں سنیت اور رضویت کی روح پھونک دی اور بڑی دھوم دھام سے یومِ رضا منایا گیا۔
مولانا عبدالحکیم شرف قادری نے ہری پور قیام کے دوران اپنی اشاعتی زندگی کا باضابطہ طور پر آغاز کیا۔ نیز مکتبہ رضویہ لاہور قائم کرکے آپ نے حاشیہ مولانا احمد حسن برحمداللہ، اقامۃ القیامہ، ایذان الاجر، الکافی، شرح ایساغوجی، نامِ حق مع حاشیہ فضل حق، شرح کریما اور سیف الجبار ایسے مفید رسائل
❤1👍1
، شروح اور حواشی شائع کیے۔
جمعیت علماء پاکستان (سرحد) کی طرف سے فضائل اذکار، الحجۃ الفاتحہ، بذل الجوائز، نور الانوار، یاد اعلیٰ حضرت، شرح الحقوق، مسائلِ اہل سنت، عقد الجیر اور ذکر بالجہر ایسی عقائد اہل سنّت پر مشتمل کتابیں شائع کیں۔
تبلیغ و اشاعت کو وسعت دینے کے ارادے سے آپ نے دسمبر ۱۹۷۳ء میں دارالعلوم جامعہ نطامیہ رضویہ میں حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی، مولانا الحاج محمد منشا تابش قصوری اور مولانا الحاج محمد جعفر ضیائی کے تعاون سے مکتبہ قادریہ قائم کیا۔
قلیل عرصہ میں مکتبہ قادریہ لاہور کی طرف سے مندرجہ ذیل کتب شائع ہوئیں:
۱۔ النیرۃ الوضیہ، امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ
۲۔ ہمارا اسلام (پانچ حصے) مولانا مفتی محمد خلیل خان برکاتی
۳۔ باغی ہندوستان، مولانا عبدالشاہد شروانی
۴۔ تاریخ تناولیاں (سو سالہ پرانی تاریخ)
۵۔ کوثر الخیرات، مولانا محمد اشرف سیالوی
۶۔ تذکرۃ المحدثین، مولانا غلام رسول سعیدی
۷۔ مقامِ سنت، مولانا محمد مشتاق احمد چشتی
۸۔ محمد نور، مولانا محمد منشا تابش قصوری
۹۔ اغثنی یا رسول اللہ، مولانا محمد منشا تابش قصوری
۱۰۔ ذکر بالجہر (ہر دو حصّہ) مولانا غلام رسول سعیدی
۱۱۔ المبین، مولانا سیّد سلیمان اشرف
مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری جہاں تدریسی و تقریری صلاحیتوں سے بہرہ ور ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے فنِ تحریر کا بھی ملکہ ودیعت فرمایا ہے؛ چنانچہ مختلف رسائل و جرائد میں آپ کے تحقیقی مضامین اس بات پر شاہد عدل ہیں۔
الحدیقۃ الندیہ، حاشیہ امام فضل حق خیرآبادی، دو اہم فتوے، سیف الجبار اور باغی ہندوستان پر نہایت تحقیقی اور مبسوط مقدمے آپ کی تحریر خوبیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ آپ نے تدریس کی ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونے کے ساتھ ساتھ مدرجہ ذیل کتب تصنیف فرمائیں:
۱۔ یادِ اعلیٰ حضرت (اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ کی سوانح) ۲۔ فضِ حق حاشیہ نامِ حق، ۳۔حاشیہ کریما، ۴۔ احسن الکلام فی مسئلۃ القیام ۵۔مسائل اہل سنّت، ۶۔ غایۃ الاحتیاط فی جواز حیلۃ الاسقاط، ۷۔سوانح سراج الفقہاء[۱] (یہ مقالہ امام احمد رضا نمبر اور انوارِ رضا میں شائع ہوچکا ہے) ۸۔ تذکرہ اکابر اہل سنت (پاکستان) ۹۔ حاشیہ مرقاۃ(عربی) ۱۰۔ حواشی قاضی مبارک (غیر مطبوعہ) ۱۱۔ ترجمہ کشف النور عن اصحاب القبور (از علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی)
[۱۔ شائع کردہ مرکزی مجلسِ رضا لاہور]
۲۵؍ مارچ ۱۹۷۰ء کو آپ نے حضرت مفتیٔ اعظم پاکستان ابوالبرکات سیّد احمد رحمہ اللہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیااور تبرکاً سندِ حدیث بھی حاصل کی۔
۱۹۶۳ء میں آپ کی شادی ہوئی۔ اس وقت آپ کے تین صاحبزادے ممتاز احمد، مشتاق احمد، اور نثار احمد اور دو صاحبزادیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو اسلاف کا نمونہ بنائے (آمین)
آپ کی تدریسی زندگی میں سے بے شمار طلباء نے اکتسابِ فیض کیا، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا حافظ عطا محمد مہتمم مدرسہ خوشاب
۲۔ مولانا عزیز اللہ، ڈسٹرکٹ خطیب لاڑکانہ (سندھ)
۳۔ مولانا غلام نبی، صدر مدرس مدرسہ حنفیہ سراج العلوم گوجرانوالہ
۴۔ مولانا احمد دین، صدر مدرس توگیرہ شریف
۵۔ قاری عبدالرشید، ناظمِ اعلیٰ مدرسہ شیراکوٹ لاہور
۶۔ قاری عبدالرسول، کوٹ اُدّو
۷۔ مولانا محمد رفیق چشتی، مؤلف شرح کریما
۸۔ مولانا محمد عصمت اللہ، آزاد کشمیر
۹۔ صاحبزادہ حمید الدین، دورریاں، آزاد کشمیر[۱]
[۱۔ غلام رسول سعیدی، مولانا: تعارف، مؤلف تذکرہ اہل سنّت، مولفہ شرف قادری ص۱۴ تا ۱۸]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-hakeem-sharf-qadri
جمعیت علماء پاکستان (سرحد) کی طرف سے فضائل اذکار، الحجۃ الفاتحہ، بذل الجوائز، نور الانوار، یاد اعلیٰ حضرت، شرح الحقوق، مسائلِ اہل سنت، عقد الجیر اور ذکر بالجہر ایسی عقائد اہل سنّت پر مشتمل کتابیں شائع کیں۔
تبلیغ و اشاعت کو وسعت دینے کے ارادے سے آپ نے دسمبر ۱۹۷۳ء میں دارالعلوم جامعہ نطامیہ رضویہ میں حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی، مولانا الحاج محمد منشا تابش قصوری اور مولانا الحاج محمد جعفر ضیائی کے تعاون سے مکتبہ قادریہ قائم کیا۔
قلیل عرصہ میں مکتبہ قادریہ لاہور کی طرف سے مندرجہ ذیل کتب شائع ہوئیں:
۱۔ النیرۃ الوضیہ، امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ
۲۔ ہمارا اسلام (پانچ حصے) مولانا مفتی محمد خلیل خان برکاتی
۳۔ باغی ہندوستان، مولانا عبدالشاہد شروانی
۴۔ تاریخ تناولیاں (سو سالہ پرانی تاریخ)
۵۔ کوثر الخیرات، مولانا محمد اشرف سیالوی
۶۔ تذکرۃ المحدثین، مولانا غلام رسول سعیدی
۷۔ مقامِ سنت، مولانا محمد مشتاق احمد چشتی
۸۔ محمد نور، مولانا محمد منشا تابش قصوری
۹۔ اغثنی یا رسول اللہ، مولانا محمد منشا تابش قصوری
۱۰۔ ذکر بالجہر (ہر دو حصّہ) مولانا غلام رسول سعیدی
۱۱۔ المبین، مولانا سیّد سلیمان اشرف
مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری جہاں تدریسی و تقریری صلاحیتوں سے بہرہ ور ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے فنِ تحریر کا بھی ملکہ ودیعت فرمایا ہے؛ چنانچہ مختلف رسائل و جرائد میں آپ کے تحقیقی مضامین اس بات پر شاہد عدل ہیں۔
الحدیقۃ الندیہ، حاشیہ امام فضل حق خیرآبادی، دو اہم فتوے، سیف الجبار اور باغی ہندوستان پر نہایت تحقیقی اور مبسوط مقدمے آپ کی تحریر خوبیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ آپ نے تدریس کی ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونے کے ساتھ ساتھ مدرجہ ذیل کتب تصنیف فرمائیں:
۱۔ یادِ اعلیٰ حضرت (اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ کی سوانح) ۲۔ فضِ حق حاشیہ نامِ حق، ۳۔حاشیہ کریما، ۴۔ احسن الکلام فی مسئلۃ القیام ۵۔مسائل اہل سنّت، ۶۔ غایۃ الاحتیاط فی جواز حیلۃ الاسقاط، ۷۔سوانح سراج الفقہاء[۱] (یہ مقالہ امام احمد رضا نمبر اور انوارِ رضا میں شائع ہوچکا ہے) ۸۔ تذکرہ اکابر اہل سنت (پاکستان) ۹۔ حاشیہ مرقاۃ(عربی) ۱۰۔ حواشی قاضی مبارک (غیر مطبوعہ) ۱۱۔ ترجمہ کشف النور عن اصحاب القبور (از علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی)
[۱۔ شائع کردہ مرکزی مجلسِ رضا لاہور]
۲۵؍ مارچ ۱۹۷۰ء کو آپ نے حضرت مفتیٔ اعظم پاکستان ابوالبرکات سیّد احمد رحمہ اللہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیااور تبرکاً سندِ حدیث بھی حاصل کی۔
۱۹۶۳ء میں آپ کی شادی ہوئی۔ اس وقت آپ کے تین صاحبزادے ممتاز احمد، مشتاق احمد، اور نثار احمد اور دو صاحبزادیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو اسلاف کا نمونہ بنائے (آمین)
آپ کی تدریسی زندگی میں سے بے شمار طلباء نے اکتسابِ فیض کیا، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا حافظ عطا محمد مہتمم مدرسہ خوشاب
۲۔ مولانا عزیز اللہ، ڈسٹرکٹ خطیب لاڑکانہ (سندھ)
۳۔ مولانا غلام نبی، صدر مدرس مدرسہ حنفیہ سراج العلوم گوجرانوالہ
۴۔ مولانا احمد دین، صدر مدرس توگیرہ شریف
۵۔ قاری عبدالرشید، ناظمِ اعلیٰ مدرسہ شیراکوٹ لاہور
۶۔ قاری عبدالرسول، کوٹ اُدّو
۷۔ مولانا محمد رفیق چشتی، مؤلف شرح کریما
۸۔ مولانا محمد عصمت اللہ، آزاد کشمیر
۹۔ صاحبزادہ حمید الدین، دورریاں، آزاد کشمیر[۱]
[۱۔ غلام رسول سعیدی، مولانا: تعارف، مؤلف تذکرہ اہل سنّت، مولفہ شرف قادری ص۱۴ تا ۱۸]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-hakeem-sharf-qadri
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Abdul Hakeem Sharf Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
زبدۃُ السالکین صوفی مولانا خالد علی خاں قادری رضوی
مھتمم دار العلوم مظہر اسلام مسجد بی بی جی صاحبہ بریلی
ولادت:
حضرت مولانا صوفی خالد علی خاں رضوی بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی محلہ گڑھیار بریلی شریف میں ۱۸؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی کرائی۔
خاندانی حالات:
مولانا صوفی خالد علی خاں بریلوی کے والد ماجد مولانا ساجد علی خاں علیہ الرحمہ بڑے ہی متورع شخصیت تھے ان کے انتظام نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کو بامِ عروج تک پہنچادیا، جد امجد وادجد علیخاں بن بخش اللہ خاں بہت بڑے زمیندار تھے۔ امستیاھر ضلع بدایوں شریف میں تقریباً چار سوبیگہ زمین کے مالک تھے۔
تعلیم و تربیت:
مولانا خالد علی رضوی نے قران پاک اپنے والد ماجد اور والدہ محترمہ سے گھر ہی پر پڑھا اور اسکول کی بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے والد ماجد نے اپنے مدرسہ (مظہر اسلام) میں داخل کردیا اور ابتداء سے لیکر انتہا تک مظہر اسلام بریلی کے ماہر زمانہ اساتذہ سے اکتساب فیض کرتے رہے۔ ۱۹۸۹ء میں مظہر اسلام سے سند فراغت حاصل کی علماء و مشائخ کے علاوہ حضور مفتی اعظم نے دستار باندھی۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی رضوی اعظمی
۲۔ حضرت مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی
۳۔ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد چشتی رضوی فیصل آباد
۴۔ شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی
۵۔ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری
۶۔ حکیم العلماء حضرت مولانا حسنین رضا خاں قادری بریلوی
۷۔ بقیۃ السلف مولانا حاجی مبین الدین رضوی محدث امروہوی
۸۔ سید الاتقیاء علامہ تحسین رضا خاں قادری بریلوی محدث جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی
۹۔ حضرت مولانا مجیب الاسلام نسیم رضوی اعظمی
۱۰۔ حضرت مولانا غلام یزدانی رضوی
۱۱۔ حضرت مولانا ثناء اللہ رضوی اعظمی
۱۲۔ حضرت مولانا مفتی شریف الحق رضوی امجدی اشرفیہ مبارکپور
عقد مسنون:
مولانا صوفی خالد علی کی پہلی شادی ۱۹۶۵ء میں حکیم مولوی محمد صالح خاں شاہجہانپوری کی دختر سے ہوئی۔ دوسری شادی ۱۹۷۳ء میں مولانا ادریس رضا خاں عرف لالہ میاں کی صاحبزادی یعنی حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی نواسی سے ہوئی۔ جن سے آپ کی پانچ اولاد ہوئیں۔ صاحبزادگان کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ مجاہد رضا خاں رضوی
۲۔ سیفی رضا خاں رضوی
۳۔ انس رضا خاں رضوی
اور دو۲ لڑکیاں
خدمات:
حضرت مولانا خالد علی خاں نے والد ماجد کے انتقال کے بعد حضرت مفتی اعظم کے حکم پر دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کے اہتمام کی باگ ڈور سنبھالی۔ تادمِ تحریر اسی ادارہ مظہر اسلام جو کہ حضرت مفتی اعظم نے قائم فرمایا تھا اُس کے مہتمم اور ناظمِ اعلیٰ ہیں۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اداروں کے سر پرست بھی ہیں۔
۱۔ انجمن رضائے مصطفیٰ موضع بلاری ضلع مراد آباد
۲۔ رضوی دارالعلوم سٹی بریلی شریف
۳۔رضائے مصطفیٰ طندوسی ضلع مراد آباد
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا خالد علی خاں حضور مفتئ اعظم قدس سرہٗ کے دستِ حق پرست پر زمانہ طفلی میں بیعت وارادت حاصل کر چکے تھے،۱۹۲۶ء میں مولانا مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرے نے سلسلہ نقشبندیہ، چشتیہ، سہروردیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں اجازت وخلافت عطا فرمائی نیز تعویذات کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔
خلفاء:
۱۔ مولانا محمد فاروق رضوی اندوردی
۲۔ مخدوم گرامی مولانا جمال رضا خاں قادری، محلہ سودا گران بریلی شریف
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sufi-khalid-ali-barelvi
مھتمم دار العلوم مظہر اسلام مسجد بی بی جی صاحبہ بریلی
ولادت:
حضرت مولانا صوفی خالد علی خاں رضوی بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی محلہ گڑھیار بریلی شریف میں ۱۸؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی کرائی۔
خاندانی حالات:
مولانا صوفی خالد علی خاں بریلوی کے والد ماجد مولانا ساجد علی خاں علیہ الرحمہ بڑے ہی متورع شخصیت تھے ان کے انتظام نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کو بامِ عروج تک پہنچادیا، جد امجد وادجد علیخاں بن بخش اللہ خاں بہت بڑے زمیندار تھے۔ امستیاھر ضلع بدایوں شریف میں تقریباً چار سوبیگہ زمین کے مالک تھے۔
تعلیم و تربیت:
مولانا خالد علی رضوی نے قران پاک اپنے والد ماجد اور والدہ محترمہ سے گھر ہی پر پڑھا اور اسکول کی بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے والد ماجد نے اپنے مدرسہ (مظہر اسلام) میں داخل کردیا اور ابتداء سے لیکر انتہا تک مظہر اسلام بریلی کے ماہر زمانہ اساتذہ سے اکتساب فیض کرتے رہے۔ ۱۹۸۹ء میں مظہر اسلام سے سند فراغت حاصل کی علماء و مشائخ کے علاوہ حضور مفتی اعظم نے دستار باندھی۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی رضوی اعظمی
۲۔ حضرت مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی
۳۔ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد چشتی رضوی فیصل آباد
۴۔ شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی
۵۔ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری
۶۔ حکیم العلماء حضرت مولانا حسنین رضا خاں قادری بریلوی
۷۔ بقیۃ السلف مولانا حاجی مبین الدین رضوی محدث امروہوی
۸۔ سید الاتقیاء علامہ تحسین رضا خاں قادری بریلوی محدث جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی
۹۔ حضرت مولانا مجیب الاسلام نسیم رضوی اعظمی
۱۰۔ حضرت مولانا غلام یزدانی رضوی
۱۱۔ حضرت مولانا ثناء اللہ رضوی اعظمی
۱۲۔ حضرت مولانا مفتی شریف الحق رضوی امجدی اشرفیہ مبارکپور
عقد مسنون:
مولانا صوفی خالد علی کی پہلی شادی ۱۹۶۵ء میں حکیم مولوی محمد صالح خاں شاہجہانپوری کی دختر سے ہوئی۔ دوسری شادی ۱۹۷۳ء میں مولانا ادریس رضا خاں عرف لالہ میاں کی صاحبزادی یعنی حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی نواسی سے ہوئی۔ جن سے آپ کی پانچ اولاد ہوئیں۔ صاحبزادگان کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ مجاہد رضا خاں رضوی
۲۔ سیفی رضا خاں رضوی
۳۔ انس رضا خاں رضوی
اور دو۲ لڑکیاں
خدمات:
حضرت مولانا خالد علی خاں نے والد ماجد کے انتقال کے بعد حضرت مفتی اعظم کے حکم پر دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کے اہتمام کی باگ ڈور سنبھالی۔ تادمِ تحریر اسی ادارہ مظہر اسلام جو کہ حضرت مفتی اعظم نے قائم فرمایا تھا اُس کے مہتمم اور ناظمِ اعلیٰ ہیں۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اداروں کے سر پرست بھی ہیں۔
۱۔ انجمن رضائے مصطفیٰ موضع بلاری ضلع مراد آباد
۲۔ رضوی دارالعلوم سٹی بریلی شریف
۳۔رضائے مصطفیٰ طندوسی ضلع مراد آباد
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا خالد علی خاں حضور مفتئ اعظم قدس سرہٗ کے دستِ حق پرست پر زمانہ طفلی میں بیعت وارادت حاصل کر چکے تھے،۱۹۲۶ء میں مولانا مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرے نے سلسلہ نقشبندیہ، چشتیہ، سہروردیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں اجازت وخلافت عطا فرمائی نیز تعویذات کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔
خلفاء:
۱۔ مولانا محمد فاروق رضوی اندوردی
۲۔ مخدوم گرامی مولانا جمال رضا خاں قادری، محلہ سودا گران بریلی شریف
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-sufi-khalid-ali-barelvi
scholars.pk
Hazrat Molana Sufi Khalid Ali Barelvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-08-1444 ᴴ | 10-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-08-1444 ᴴ | 11-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1