ریف لے جا چکے ہیں جب وہاں گیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ سیالکوٹ میں تشریف لے گئے ہیں چنانچہ میں سیالکوٹ پہنچا اور آپ کی زیارت کی سعادت حاصل کرکے بیعت سے مشرف ہوکر اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا۔
حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بیعت کے واقعہ کے ضمن میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اُن دِنوں میں حضرت بابا فقیر محمد چوراہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اوراد و وظائف سے فراغت کے بعد قبلہ رُخ ہوکر بیٹھا کرتے تھے ایک دن کسی نے اس طرح بیٹھنے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ میں ایک شہباز کو پکڑنا چاہتا ہوں چنانچہ اسی دن حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوکر بیعت سے مشرف ہوئے چنانچہ فرمایا یہی وہ شہباز ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ آپ کے بارے میں حضرت بابا جی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے تم چراغ اور تیلی گھر سے ہی لے کر آئے تھے اس لیے یہاں آکر نور علی نور ہوگئے اپنے مرشد کے زیر سایہ آپ نے عرفان و سلوک کی منازل طے کیں اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے تھوڑی ہی مدت میں باطنی علوم کی تحصیل کرلی مرشد نے آپ کو خرقہ خلافت سے نوازا اور خلق خدا کی روحانی تربیت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
لاثانی کی وجہ تسمیہ:
آپ کے لقب ثانی اور لاثانی کا شہرہ ہر چار سُو عالم میں خوب پھیلا آپ کو یہ لقب مرشد پاک حضرت قبلہ عالم بابا فقیر محمد چوراہی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عطا فرمایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ علی پور سیداں میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دو بزرگ جو کہ ہم نام تھے یعنی دونوں کا نام سید جماعت علی شاہ تھا اور دونوں حضرت بابا فقیر محمد چوراہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید کامل تھے مرشد پاک نے اپنے دونوں مریدین کے ناموں کے ناموں میں امتیاز کی غرض سے آپ کو ثانی کا لقب عطا فرمایا اور پھر جب مرشد نے آپ کی روحانی پرواز کو دیکھا تو آپ کو ثانی سے لاثانی کا لقب مرحمت فرمایا چنانچہ اس لقب سے آپ کو خوب شہرت ہوئی اور ہر خاص ع عام اور ہر اہل فکر و نظر کے حلقوں میں اس لقب کا شہرہ ہوگیا۔
عبادت و ریاضت:
آپ زہد و ورع، تقوی ع عبادت و ریاضت میں مشہور زمانہ تھے جوانی کے ایام میں بھی اپنا زیادہ تر وقت عبادت الٰہی میں گزارا کرتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ باتوں میں فرمانے لگے کہ ذکر میں بہت سستی کرتے ہیں شروع شروع میں رات کے وقت شمار کرکے حبس دم لیا کرتا تھا جب کہ جوانی میں یہاں تک حبس دم کیا کرتا تھا کہ سینے سے خون آنا شروع ہوگیا ایک حکیم صاحب کو دکھایا گیا تو اس نے کہا کہ شاہ جی؛ اگر آپ حبس دم کو ترک کردیں تو شفا ہوجائے گی میں نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔
انکساری:
آپ کی طبیعت عالیہ میں انکساری کا پہلو نمایاں تھا نمود و نمائش اور ریا کاری کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور ہر کسی کو اس سے بچنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اگر کوئی آپ کے سامنے آپ کی تعریف کرتا تو سخت ناراض ہوتے اور اسے دانٹ دیتے کبھی محفل میں تکیہ لگا کر نہیں بیٹھتے تاکہ سب سے نمایاں نظر نہ آئیں دوران سفر ساتھیوں کے ساتھ چلتے تو کبھی آگے ہوجاتے اور کبھی پیچھے تاکہ کسی بھی وجہ سے کوئی امتیاز دکھائی نہ دے کہ جس سے پتہ چلے کہ ساتھیوں میں برتر کون ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ علماء اور خلفاء تو بہترین گھوڑوں پر سوار ہوتے لیکن آپ خچر پر سوار ہوتے اگر کسی خانقاہ یا مزار پر تشریف لے جاتے تو اپنے ساتھیوں کو سختی سے منع کرتے کہ ان کا تعارف نہ کرائیں آپ کے ساتھی یہاں تک اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ علی پور سیداں کا نام بھی نہ لے سکتے تھے۔
لوگوں سے معاملات:
لوگوں سے معاملات کے ضمن میں ہر ایک سے مساوی برتاؤ کرتے تھے آپ کی خدمت میں بلند مرتبہ رکھنے والے اکثر سرکاری عہدیدار بھی حاضری دیا کرتے تھے لیکن آپ کے فقر و استغفاء کی ہیبت سے لب کشائی نہ کرسکتے تھے اور خاموش مؤدب ہوکر بیٹھتے تھے جب کہ اس کے برعکس مفلس و عاجز و مسکین لوگ جس طرح چاہتے آپ سے گفتگو کرتے تھے اور آپ خفا نہ ہوتے تھے آپ کے ہاں تمام مہمانوں کے لیے ایک ہی طرح کا کھانا پکتا تھا اس معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روانہ رکھا جاتا تھا ایسے لاعلاج مریض جب کے پاس بیٹھتے ہوئے دوسرے لوگ اچھا محسوس نہیں کرتے آپ ان کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا کرتے تھے اور ان کی دلجوئی فرماتے تھے آپ کے لنگر سے ہر آنے والے کو کھانا ملتا بہت سادہ قسم کاہوتا تھا اور آپ اکثر یہ بات فرمایا کرتے تھے کہ اس لنگر میں تو صرف دال روٹی ہے اور محلّہ شرقی میں میرے پیر بھائی حضرت سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے لنگر میں طرح طرح کے لذیذ کھانے ہوتے ہیں۔
قیاضی و دریا دلی:
حضرت سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت فیاض اور دریا دل رکھنے والے ولی اللہ تھے آپ کی فیاضی کا یہ عالم تھا کہ کئی مرتبہ آپ نے اپنے گھر کا تمام مال و اسباب نکال کر باہر رکھا اور غریبوں میں تقس
حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بیعت کے واقعہ کے ضمن میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اُن دِنوں میں حضرت بابا فقیر محمد چوراہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اوراد و وظائف سے فراغت کے بعد قبلہ رُخ ہوکر بیٹھا کرتے تھے ایک دن کسی نے اس طرح بیٹھنے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ میں ایک شہباز کو پکڑنا چاہتا ہوں چنانچہ اسی دن حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوکر بیعت سے مشرف ہوئے چنانچہ فرمایا یہی وہ شہباز ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ آپ کے بارے میں حضرت بابا جی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے تم چراغ اور تیلی گھر سے ہی لے کر آئے تھے اس لیے یہاں آکر نور علی نور ہوگئے اپنے مرشد کے زیر سایہ آپ نے عرفان و سلوک کی منازل طے کیں اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے تھوڑی ہی مدت میں باطنی علوم کی تحصیل کرلی مرشد نے آپ کو خرقہ خلافت سے نوازا اور خلق خدا کی روحانی تربیت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
لاثانی کی وجہ تسمیہ:
آپ کے لقب ثانی اور لاثانی کا شہرہ ہر چار سُو عالم میں خوب پھیلا آپ کو یہ لقب مرشد پاک حضرت قبلہ عالم بابا فقیر محمد چوراہی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عطا فرمایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ علی پور سیداں میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دو بزرگ جو کہ ہم نام تھے یعنی دونوں کا نام سید جماعت علی شاہ تھا اور دونوں حضرت بابا فقیر محمد چوراہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید کامل تھے مرشد پاک نے اپنے دونوں مریدین کے ناموں کے ناموں میں امتیاز کی غرض سے آپ کو ثانی کا لقب عطا فرمایا اور پھر جب مرشد نے آپ کی روحانی پرواز کو دیکھا تو آپ کو ثانی سے لاثانی کا لقب مرحمت فرمایا چنانچہ اس لقب سے آپ کو خوب شہرت ہوئی اور ہر خاص ع عام اور ہر اہل فکر و نظر کے حلقوں میں اس لقب کا شہرہ ہوگیا۔
عبادت و ریاضت:
آپ زہد و ورع، تقوی ع عبادت و ریاضت میں مشہور زمانہ تھے جوانی کے ایام میں بھی اپنا زیادہ تر وقت عبادت الٰہی میں گزارا کرتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ باتوں میں فرمانے لگے کہ ذکر میں بہت سستی کرتے ہیں شروع شروع میں رات کے وقت شمار کرکے حبس دم لیا کرتا تھا جب کہ جوانی میں یہاں تک حبس دم کیا کرتا تھا کہ سینے سے خون آنا شروع ہوگیا ایک حکیم صاحب کو دکھایا گیا تو اس نے کہا کہ شاہ جی؛ اگر آپ حبس دم کو ترک کردیں تو شفا ہوجائے گی میں نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔
انکساری:
آپ کی طبیعت عالیہ میں انکساری کا پہلو نمایاں تھا نمود و نمائش اور ریا کاری کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور ہر کسی کو اس سے بچنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اگر کوئی آپ کے سامنے آپ کی تعریف کرتا تو سخت ناراض ہوتے اور اسے دانٹ دیتے کبھی محفل میں تکیہ لگا کر نہیں بیٹھتے تاکہ سب سے نمایاں نظر نہ آئیں دوران سفر ساتھیوں کے ساتھ چلتے تو کبھی آگے ہوجاتے اور کبھی پیچھے تاکہ کسی بھی وجہ سے کوئی امتیاز دکھائی نہ دے کہ جس سے پتہ چلے کہ ساتھیوں میں برتر کون ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ علماء اور خلفاء تو بہترین گھوڑوں پر سوار ہوتے لیکن آپ خچر پر سوار ہوتے اگر کسی خانقاہ یا مزار پر تشریف لے جاتے تو اپنے ساتھیوں کو سختی سے منع کرتے کہ ان کا تعارف نہ کرائیں آپ کے ساتھی یہاں تک اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ علی پور سیداں کا نام بھی نہ لے سکتے تھے۔
لوگوں سے معاملات:
لوگوں سے معاملات کے ضمن میں ہر ایک سے مساوی برتاؤ کرتے تھے آپ کی خدمت میں بلند مرتبہ رکھنے والے اکثر سرکاری عہدیدار بھی حاضری دیا کرتے تھے لیکن آپ کے فقر و استغفاء کی ہیبت سے لب کشائی نہ کرسکتے تھے اور خاموش مؤدب ہوکر بیٹھتے تھے جب کہ اس کے برعکس مفلس و عاجز و مسکین لوگ جس طرح چاہتے آپ سے گفتگو کرتے تھے اور آپ خفا نہ ہوتے تھے آپ کے ہاں تمام مہمانوں کے لیے ایک ہی طرح کا کھانا پکتا تھا اس معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روانہ رکھا جاتا تھا ایسے لاعلاج مریض جب کے پاس بیٹھتے ہوئے دوسرے لوگ اچھا محسوس نہیں کرتے آپ ان کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا کرتے تھے اور ان کی دلجوئی فرماتے تھے آپ کے لنگر سے ہر آنے والے کو کھانا ملتا بہت سادہ قسم کاہوتا تھا اور آپ اکثر یہ بات فرمایا کرتے تھے کہ اس لنگر میں تو صرف دال روٹی ہے اور محلّہ شرقی میں میرے پیر بھائی حضرت سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے لنگر میں طرح طرح کے لذیذ کھانے ہوتے ہیں۔
قیاضی و دریا دلی:
حضرت سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت فیاض اور دریا دل رکھنے والے ولی اللہ تھے آپ کی فیاضی کا یہ عالم تھا کہ کئی مرتبہ آپ نے اپنے گھر کا تمام مال و اسباب نکال کر باہر رکھا اور غریبوں میں تقس
❤1👍1
یم فرمادیا۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا کہ جب کبھی بیمار ہوتے اور حکیم صاحب کوئی نسخہ تجویز کرتے تو آپ اس کی قیمت کا اندازہ لگاتے اور اس رقم کو غربا میں بانٹ دیتے ایک مرتبہ آپ نے اپنے ولی عہد اور سجادہ نشین مدظلہ العالی سے فرمایا کہ میں تجھے ایک بات بتاتا ہوں تیرا سادہ اور کچا گھر بہتر ہے لیکن مسافر بھوکا نہیں جانا چاہیے تیرا سادہ اور کچا گھر شیش محل سے بہت اچھا ہے جہاں سے مسافر پیٹ بھر کر نکلتے ہیں۔ آپ جب بھی کبھی سفر پر جاتے اور اثنائے راہ میں کسی کی دل جوئی کی خاطر اس سے کوئی نذرانہ قبول فرمالیتے تو اگلے گاؤں میں جاکر اسے تقسیم فرمادیتے۔
سادگی و پرہیزگاری:
آپ ن ساری زندگی سادگی سے گزاری ہر معاملے میں سادگی و پرہیزگاری کو مدنظر رکھا آپ کی گفتگو کا انداز بھی سادہ تھا خاموشی کو پسند کرتے تھے خاص طور پر نماز عصر سے لیکر مغرب تک تو اپنے گھر والوں کو بھی بلا وجہ بولنے کی اجازت نہ دیتے تھے لباس کے معاملے میں بھی سادگی آپ کا وطیرہ تھا آپ نے کبھی قیمتی اور عالی شان لباس زین تن نہیں کیا کبھی کوٹ، واسکٹ نہیں پہنا ساری زندگی آپ کا لباس کھدر کا تہبند اور ململ کی دستار مبارک رہی کھانے بھی سادہ ہی پسند فرماتے تھے۔ مرغن غذاؤں کو مرغوب نہ رکھتے تھے اکثر خشک روٹی کے ساتھ ساگ یا چٹنی شوق سے تناول فرماتے کبھی مرغن شوربہ پیش کیا جاتا تو اس میں ٹھنڈا پانی شامل کرکے روٹی تناول فرماتے۔ عالی شان عمارتوں میں رہنا آپ کو پسند نہ تھا سادہ اور صاف ستھرے گھر میں رہتے تھے۔
اولاد و اطہار:
حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شادی علی پور سیداں سے تقریباً ساڑھے تین کلو میٹر کے فاصلے پر واقع چک قریشیاں کے ایک نہایت ہی معزز اور اچھے خاندان میں ہوئی آپ کی زوجہ مطہرہ نہایت پاکباز، عابدہ زاہدہ اور صوم و صلوٰۃ کی پابند صالحہ خاتون تھیں ان کے بطن اطہر سے آپ کے ہاں تین بیٹوں کی ولادت باسعادت ہوئی جن کے نام سید فدا حسین شاہ، سید خادم حسین شاہ اور سید غلام رسول شاہ ہیں۔ تینوں صاحبزادے آپ کی حیات مبارکہ میں ہی وصال فرما گئے تھے ان کی اولاد باقی رہی۔
خلفاء عظام:
حضرت سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لاتعداد طالبانِ حق کو روحانی فیض سے نوازا آپ کے خلفاء کافی تعداد میں ہیں ذیل میں چند خلفاء کے نام پیش کیے جاتے ہیں۔
۱۔ عالی الالقاب میاں محمد شریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع فتو وال مضافات گوردا سپور۔
۲۔ حضرت سید امیر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع و ڈالہ امر تسر۔
۳۔ حضرت مولانا عبد الغنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پسرور۔
۴۔ حضرت صوفی محمد دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع رام داس۔
۵۔ حضرت پیر محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ موضع بھڑتھ۔
۶۔ حضرت مولانا حافظ ظفر علی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پسرور۔
۷۔ حضرت سید امیر حسین شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تعالیٰ علیہ نار و وال۔
۸۔ حضرت محمد اسماعیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع بھڑتھ۔
۹۔ حضرت سید محمد شریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع رام داس۔
۱۰۔ حضرت میاں احمد دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع لنگاہ۔
۱۱۔ شمس العلماء حاجی محمد غوث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع سکھو۔
۱۲۔ الحاج سید چراغ علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع مراڑہ۔
۱۳۔ حضرت سید ہاشم علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع تخت پور۔
۱۴۔ حضرت سید محمد اسماعیل شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع کوہالی۔
حکمت کی باتیں:
آپ کی باتیں و گفتگو حکمت سے خالی نہ ہوتی تھیں چنانچہ اپنے مریدوں سے فرماتے کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کرو اگر تم نے نماز چھوڑ دی تو تمہاری بیعت خود بخود ساقط ہوجائے گی۔
حقہ نوشی سے نفرت کرتے تھے اور حقہ پینے والے کو ختم کواجگان میں شریک نہیں ہونے دیتے تھے اور نہ ہی ان کو کوئی تبرک دیا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کے پاس ایک شخص تسبیح پہنے ہوئے آیا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تم کیا پڑھتے ہو؟ اس نے کہا میں روزانہ آٹھ ہزار مرتبہ درود پاک پڑھتا ہوں یہ سُن کر آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ تمہارے منہ سے حقہ کی بُو آتی ہے۔ پھر فرمایا حقہ پینے والے کی مثال یوں ہے کہ جیسے خوشبودار چاولوں کا تھال بھر کر اوپر راکھ ڈال دی جائے۔
آپ فرمایا کرتے کہ نماز پنجگانہ وقت پر ادا کیا کرو اور میٹھا بول بولو۔ نماز روح کی غذا ہے مومن کی معراج ہے دل کی راحت ہے، قبر اور حشر میں ساتھی ہے قیامت کے دن پہلا لازمی پرچہ ہے۔ روحانیت کی ابتداء ہے اور آخری منزل یہی نماز ہے۔ بے نمازی کبھی ولی اللہ نہیں بن سکتا بلکہ وہ جنت کی خوشبو سے بھی محروم ہے اور مسلمانوں کی صف سے باہر ہے۔ بے نماز کی ہر نیکی نا مقبول ہے اور اس کا حشر فرعون، ہامان، نمرود اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔
وصال مبارک:
اپنے وصال سے تین یوم پیشتر حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علیل ہوگئے اور جمعرات کے دن یکایک فرمایا ایک دو تین یہ الفاظ آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائے اور پھر خاموشی اختیار ک
سادگی و پرہیزگاری:
آپ ن ساری زندگی سادگی سے گزاری ہر معاملے میں سادگی و پرہیزگاری کو مدنظر رکھا آپ کی گفتگو کا انداز بھی سادہ تھا خاموشی کو پسند کرتے تھے خاص طور پر نماز عصر سے لیکر مغرب تک تو اپنے گھر والوں کو بھی بلا وجہ بولنے کی اجازت نہ دیتے تھے لباس کے معاملے میں بھی سادگی آپ کا وطیرہ تھا آپ نے کبھی قیمتی اور عالی شان لباس زین تن نہیں کیا کبھی کوٹ، واسکٹ نہیں پہنا ساری زندگی آپ کا لباس کھدر کا تہبند اور ململ کی دستار مبارک رہی کھانے بھی سادہ ہی پسند فرماتے تھے۔ مرغن غذاؤں کو مرغوب نہ رکھتے تھے اکثر خشک روٹی کے ساتھ ساگ یا چٹنی شوق سے تناول فرماتے کبھی مرغن شوربہ پیش کیا جاتا تو اس میں ٹھنڈا پانی شامل کرکے روٹی تناول فرماتے۔ عالی شان عمارتوں میں رہنا آپ کو پسند نہ تھا سادہ اور صاف ستھرے گھر میں رہتے تھے۔
اولاد و اطہار:
حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شادی علی پور سیداں سے تقریباً ساڑھے تین کلو میٹر کے فاصلے پر واقع چک قریشیاں کے ایک نہایت ہی معزز اور اچھے خاندان میں ہوئی آپ کی زوجہ مطہرہ نہایت پاکباز، عابدہ زاہدہ اور صوم و صلوٰۃ کی پابند صالحہ خاتون تھیں ان کے بطن اطہر سے آپ کے ہاں تین بیٹوں کی ولادت باسعادت ہوئی جن کے نام سید فدا حسین شاہ، سید خادم حسین شاہ اور سید غلام رسول شاہ ہیں۔ تینوں صاحبزادے آپ کی حیات مبارکہ میں ہی وصال فرما گئے تھے ان کی اولاد باقی رہی۔
خلفاء عظام:
حضرت سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لاتعداد طالبانِ حق کو روحانی فیض سے نوازا آپ کے خلفاء کافی تعداد میں ہیں ذیل میں چند خلفاء کے نام پیش کیے جاتے ہیں۔
۱۔ عالی الالقاب میاں محمد شریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع فتو وال مضافات گوردا سپور۔
۲۔ حضرت سید امیر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع و ڈالہ امر تسر۔
۳۔ حضرت مولانا عبد الغنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پسرور۔
۴۔ حضرت صوفی محمد دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع رام داس۔
۵۔ حضرت پیر محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ موضع بھڑتھ۔
۶۔ حضرت مولانا حافظ ظفر علی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پسرور۔
۷۔ حضرت سید امیر حسین شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تعالیٰ علیہ نار و وال۔
۸۔ حضرت محمد اسماعیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع بھڑتھ۔
۹۔ حضرت سید محمد شریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع رام داس۔
۱۰۔ حضرت میاں احمد دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع لنگاہ۔
۱۱۔ شمس العلماء حاجی محمد غوث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع سکھو۔
۱۲۔ الحاج سید چراغ علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع مراڑہ۔
۱۳۔ حضرت سید ہاشم علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع تخت پور۔
۱۴۔ حضرت سید محمد اسماعیل شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ موضع کوہالی۔
حکمت کی باتیں:
آپ کی باتیں و گفتگو حکمت سے خالی نہ ہوتی تھیں چنانچہ اپنے مریدوں سے فرماتے کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کرو اگر تم نے نماز چھوڑ دی تو تمہاری بیعت خود بخود ساقط ہوجائے گی۔
حقہ نوشی سے نفرت کرتے تھے اور حقہ پینے والے کو ختم کواجگان میں شریک نہیں ہونے دیتے تھے اور نہ ہی ان کو کوئی تبرک دیا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کے پاس ایک شخص تسبیح پہنے ہوئے آیا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تم کیا پڑھتے ہو؟ اس نے کہا میں روزانہ آٹھ ہزار مرتبہ درود پاک پڑھتا ہوں یہ سُن کر آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ تمہارے منہ سے حقہ کی بُو آتی ہے۔ پھر فرمایا حقہ پینے والے کی مثال یوں ہے کہ جیسے خوشبودار چاولوں کا تھال بھر کر اوپر راکھ ڈال دی جائے۔
آپ فرمایا کرتے کہ نماز پنجگانہ وقت پر ادا کیا کرو اور میٹھا بول بولو۔ نماز روح کی غذا ہے مومن کی معراج ہے دل کی راحت ہے، قبر اور حشر میں ساتھی ہے قیامت کے دن پہلا لازمی پرچہ ہے۔ روحانیت کی ابتداء ہے اور آخری منزل یہی نماز ہے۔ بے نمازی کبھی ولی اللہ نہیں بن سکتا بلکہ وہ جنت کی خوشبو سے بھی محروم ہے اور مسلمانوں کی صف سے باہر ہے۔ بے نماز کی ہر نیکی نا مقبول ہے اور اس کا حشر فرعون، ہامان، نمرود اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔
وصال مبارک:
اپنے وصال سے تین یوم پیشتر حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علیل ہوگئے اور جمعرات کے دن یکایک فرمایا ایک دو تین یہ الفاظ آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائے اور پھر خاموشی اختیار ک
❤1👍1
رلی جس روز آپ کا وصال ہونا تھا اُس روز آپ کچھ دن چڑھے کھیتوں کی طرف تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آگئے اپنے کمرے میں داخل ہوکر فرمایا کہ کوئی مجھے نہ بلائے اس کے بعد آپ ذکر بالحجر میں مشغول ہوگئے جب دوپہر کا وقت ہوا تو آپ پر عجیب کیفیت طاری تھی نماز ظہر کے وقت آپ کو نماز کے لیے کہا گیا تو آپ نے تیمّم کرکے نماز ادا فرمائی اس کے بعد آپ پر استغراقی کیفیت طاری ہوگئی مغرب کے بعد استغراق میں اضافہ ہوتا گیا آخر کار سولہ ذیقعدہ ۱۳۵۷ء بمطابق یکم اکتوبر ۱۹۳۹ء اتوار کے دن رات کو نو بج کر پاچ منٹ پر آپ اسم ذات کا ورد کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کا مزار مبارک علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں واقع ہے جہاں روزانہ لاتعداد عقیدت مند حاضری کی سعادت حاصل کرکے روحانی سکون پاتے ہیں۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-jamat-ali-shah-lasani
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-jamat-ali-shah-lasani
scholars.pk
Hazrat Peer Syed Jamat Ali Shah Lasani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت علامہ مولانا محمد بوستان قادری (برطانیہ)
حضرت مولانا محمد بوستان قادری نے برطانیہ میں دینی ترویج و اشاعت 1962 میں حضرت پیر سید معروف حسین شاہ عارف قادری نوشاہی مد ظلہ کی راہنمائی اور معیت میں شروع کی۔
آپ جمعیت تبلیغ الاسلام بریڈفورڈ اور ورلڈ اسلامک مشن کے بانی اراکین میں سے تھے۔
بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں آپ نے حضرت قبلہ پیر سید معروف حسین شاہ صاحب کے ساتھ اہل سنت کی تنظیم سازی اور مساجد کے قیام میں انتھک محنت کی-
آپ برمنگھم منتقل ہوئے تو وہاں اہل سنت کا تشخص اجاگر فرمایا۔
آپ نے گذشتہ 55 سال دن رات دین اسلام کی اشاعت میں صرف کیے۔
حضرت مولانا محمد بوستان قادری کو ورلڈ اسلامک مشن کے قیام اور پاکستان میں قادیانیوں کے غیر مسلم قرار دینے کے بعد قائدین اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی ،مولانا عبد الستار خان نیازی، علامہ ارشد القادری، علامہ شاہ فرید الحق اور جناب ظہور الحسن بھوپالی کے ساتھ دینی کام کرنے کا بھی موقع ملا۔
طریقت میں آپ امام اہل سنت کے خلیفہ قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی کےمرید تھے۔
وصال:
حضرت علامہ مولانا محمد بوستان قادری (برطانیہ) بروز منگل ۱۶ شعبان المعظم ۱۴۳۷ سن ہجری بمطابق ۲۴ مئی ۲۰۱۶ء کو قضائے الہی سے وصال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
برمنگھم کی جامع مسجد گھمگول شریف میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں برطانیہ بھر سے علماء و مشائخ کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-boostan-qadri
حضرت مولانا محمد بوستان قادری نے برطانیہ میں دینی ترویج و اشاعت 1962 میں حضرت پیر سید معروف حسین شاہ عارف قادری نوشاہی مد ظلہ کی راہنمائی اور معیت میں شروع کی۔
آپ جمعیت تبلیغ الاسلام بریڈفورڈ اور ورلڈ اسلامک مشن کے بانی اراکین میں سے تھے۔
بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں آپ نے حضرت قبلہ پیر سید معروف حسین شاہ صاحب کے ساتھ اہل سنت کی تنظیم سازی اور مساجد کے قیام میں انتھک محنت کی-
آپ برمنگھم منتقل ہوئے تو وہاں اہل سنت کا تشخص اجاگر فرمایا۔
آپ نے گذشتہ 55 سال دن رات دین اسلام کی اشاعت میں صرف کیے۔
حضرت مولانا محمد بوستان قادری کو ورلڈ اسلامک مشن کے قیام اور پاکستان میں قادیانیوں کے غیر مسلم قرار دینے کے بعد قائدین اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی ،مولانا عبد الستار خان نیازی، علامہ ارشد القادری، علامہ شاہ فرید الحق اور جناب ظہور الحسن بھوپالی کے ساتھ دینی کام کرنے کا بھی موقع ملا۔
طریقت میں آپ امام اہل سنت کے خلیفہ قطب مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی کےمرید تھے۔
وصال:
حضرت علامہ مولانا محمد بوستان قادری (برطانیہ) بروز منگل ۱۶ شعبان المعظم ۱۴۳۷ سن ہجری بمطابق ۲۴ مئی ۲۰۱۶ء کو قضائے الہی سے وصال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
برمنگھم کی جامع مسجد گھمگول شریف میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں برطانیہ بھر سے علماء و مشائخ کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-boostan-qadri
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Muhammad Boostan Qadri (U.K)
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1
حضرت علامہ مولانا مفتی مظہر اللہ سیالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مُفتی مظہرُ اللہ سیالوی علیہ الرحمہ کا خطاب دلنشیں حُضور پُرنور علیہ السلام کے عشق و محبت کے تذکرے سے لبریز ہوتا تھا
آپ کو صحابہ کرام علیھم الرضوان اور اسلاف بزرگان دین کے قصائد جو مدح نبی علیہ السلام میں لکھے گئے سینکڑوں اشعار از بر تھے۔
اپنے خطاب میں احادیث مُبارکہ کا عربی متن اور اسلاف کی کُتب کے عربی حوالہ جات اتنی روانی سے ادا فرماتے کہ لگتا جیسے عربی نہیں بلکہ اپنی مادری زبان میں کوئی کلام روانی سے ادا فرما رہے ہیں۔
آہ ایک لاجواب بے مثال حافظے اور سید عالم علیہ السلام کے عشق و محبت سے سرشار باکردار مُتقی سنجیدہ ذہین اور منکسرُ المزاج ہستی۱۶، شعبان المعظم ، ۱۴۳۳ہجری کو ہم سے جُدا ہوگئی۔
خُدا رحمت کُند ایں
عاشقانِ پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-mazharullah-sialvi
حضرت مُفتی مظہرُ اللہ سیالوی علیہ الرحمہ کا خطاب دلنشیں حُضور پُرنور علیہ السلام کے عشق و محبت کے تذکرے سے لبریز ہوتا تھا
آپ کو صحابہ کرام علیھم الرضوان اور اسلاف بزرگان دین کے قصائد جو مدح نبی علیہ السلام میں لکھے گئے سینکڑوں اشعار از بر تھے۔
اپنے خطاب میں احادیث مُبارکہ کا عربی متن اور اسلاف کی کُتب کے عربی حوالہ جات اتنی روانی سے ادا فرماتے کہ لگتا جیسے عربی نہیں بلکہ اپنی مادری زبان میں کوئی کلام روانی سے ادا فرما رہے ہیں۔
آہ ایک لاجواب بے مثال حافظے اور سید عالم علیہ السلام کے عشق و محبت سے سرشار باکردار مُتقی سنجیدہ ذہین اور منکسرُ المزاج ہستی۱۶، شعبان المعظم ، ۱۴۳۳ہجری کو ہم سے جُدا ہوگئی۔
خُدا رحمت کُند ایں
عاشقانِ پاک طینت را
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-mazharullah-sialvi
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Mufti Mazharullah Sialvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-08-1444 ᴴ | 08-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-08-1444 ᴴ | 09-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1