🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-08-1444 ᴴ | 07-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-08-1444 ᴴ | 08-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-08-1444 ᴴ | 08-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-08-1444 ᴴ | 08-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from Urdu Tahrir (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
حضرت بابا ذہین شاہ تاجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مولانا محمد طاسین فاروقی المعروف بابا ذہین شاہ تاجی بن پیر زادہ دیدار بخش فاروقی 1904ء کو کھنڈیلہ، ضلع توڑاوائی ، ریاست جے پور ( راجستھان ، انڈیا) میں حضرت سلطان التارکین صوفی حمید الدین ناگوری ؒ کی اولاد اناس میں سے ہیں ۔ صوفی حمید الدین ،سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز سید معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ الاقدس کے خلیفہ اول ہیں ۔ صوفی حمید الدین کی زیر نگرانی میں دربار خواجہ غریب نواز تعمیر ہوا ۔ اور آپ نے وصیت فرمائی کہ اس مزار پاک سے جو پتھر چھٹن بچتی ہے اس سے میری قبر تعمیر کی جائے ۔ حضرت صوفی حمیدالدین کی مزار شریف ناگور (ریاست جودھپور) میں ہے ۔
تعلیم و تربیت :
بابا ذہین شاہ بہترین فارسی دان تھے انہوں نے جے پور میں اپنے والد اور دیگر علماء سے فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ 1922ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور سے میٹرک پاس کیا جب میٹرک پاس کیا تو ان کی قابلیت گریجویٹ کی تھی انگریزی پر مہارت رکھتے تھے دہلی میں رہ کر محبوب المطابع مچھلی دالان ( اردو بازار ) میں ملازمت کرکے خوشنویسی سیکھی ۔ آپ بہترین خوش نویس تھے ۔
بعد فراغت جے پور واپس آگئے ریاسے جے پور میں جاڈیشن کلرک کی ملازمت اختیار کرلی ۔ اور ریاست کے مختلف اضلاع کی عدالتوں میں بحیثیت سر شیدار ( جوڈیشن کلرک )ملازمت کی 1942ء کو ذہین شاہ کو محکم سول سپلائی میں چیف انسپکٹر لے لیا گیا۔
بابا یوسف ، ذہین شاہ کو بعد بیعت اپنے ساتھ مارہرہ شریف لے کر گئے جہاں ان کو فصوص الحکم اور درس نظامی کی اہم کتابوں کی تعلیم دی پڑھایا اور پڑھوایا اس تعلیم کی وجہ سے انہیں عربی پر دسترس حاصل ہو گئی کہ بعد میں عربی میں شعر بھی کہے۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا عبدالکریم قادری المعروف بابایوسف تاجی ؒ 19 سال کی عمر میں جامعہ رضویہ منطر الاسلام بریلی شریف میں داخلہ لیا اور 18سال تک بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادریؒ کے گھر میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور 1888ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت کے حکم سے اپنے وطن مالوف جے پور واپس تشریف لے گئے اور تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہو گئے۔
1900 ء کو حضرت صوفی عبدالحکیملکھنوی ثم کا مٹوی سے سلسلہ عالیہ قادریہ رزاقیہ میں بیعت ہوئے ۔ ایک سال بعد خلافت دی گئی اور آپ نے بیعت لینی شروع کر دی تھی ۔ حکم مرشد سے جے پور سے اجمیر شریف مستقل سکونت اختیار کی۔ درگاہ معینیہ اجمیر شریف کے ’’تڑپولیہ دروازہ ‘‘کے قریب مکان دیا گیا۔ حضرت بابا خوش الحان ، بہترین میلاد خوان ، مٹھاس و سوزوگداز سے جب مثنوی شریف کی تلاوت فرماتے تھے ایک کیفیت و سکوت طاری ہو جاتا۔
حضرت صوفی عبدالحکیم جامٹوی نے 1916ء کوبابا یوسف کو نا گپور شریف ( سی پی)جانے کا حکم دیا۔ آپ وہاں پہنچے وہاں پہنچتے ہی آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہوگئی ۔ تاج الاولیاء حضرت بابا تاج الدین گپوری ؒ ( متوفی 1925ء آستانہ تاج الالیاء ناگپور ضلع خود ( سی پی ) انڈیا) سے سلسلہ عالیہ چشتیہ تاجیہ میں بیعت ہوئے انہیں یوسف شاہ کا نام دیا اور بارہ سلسلوں میں اجازت عطا فرمائی ۔
حضرت بابا ذہین شاہ 1930ء کو دربار اجمیر شریف میں حضرت بابا یوسف شاہ سے سلسلہ عالیہ چشتیہ تاجیہ یوسفیہ میں بیعت ہوئے اور فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ جو کہ سید المکاشفین شیخ اکبرمحی الدین محمد بن علی طائی اندلسی المعروف شیخ ابن عربی قدس سرہ ( متوفی 638ھ ) کی تصوف پر بے مثل و معرکۃ الآرا تصانیف کا درس لیا۔
تصنیف و تالیف:
بابا ذہین تاجی کو کئی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ عربی ، فارسی ، انگریزی اور سنسکرت کے عالم تھے ۔ اردو کے صاحب طرز غزل گوشاعر تھے ۔ آپ نے کراچی سے ماہنامہ ’’تاج ‘‘ جاری کیا جو دینی و ادبی رسائل و جرائد میں اہمیت کا حامل ہے ۔ کئی کتابیں آپ کی یاد گار ہیں:
٭آیات جمال اردوغزلیات کا مجموعہ ہے ۔
٭جمال آیات : فارسی کلام پر مبنی ہے۔
٭اجمال جمال رباعیات و قطعات اردو، فارسی کا مجموعہ ہے۔
٭لمعات جمال نعتیہ شاعری کا مجموعہ ہے۔
٭فصوص الحکم سید الکاشفین شیخ اکبرمحی الدین محمد بن علی طائی اندلسی المعروف ابن عربی قدس سرہ الاقدس ( متوفی 638ھ) کی
تصوف و معرفت پر عظیم تصنیف ہے ۔ جس پر آپ نے تالیقات لکھی ہے ۔
٭فتوحات مکیہ : ایک پارہ کا اردو ترجمہ کیا
٭جمالستان : اردو منظومات
٭کتاب الطواسین : خواجہ منصور حلاج کی کتاب ’’الطاسین ‘‘کا ترجمہ و شرح
٭تاج الاولیائ: تاریخ و تذکرہ بابا تاج الدین ناگپوری
٭ماہنامہ تاج : کراچی سے 1956ء سے بہارکالونی آگرہ تاج کالونی لیاری سے جاری کیا جو کہ اب تک جاری ہے۔
٭وہابیت اور اسلام
آپ نے کئی دینی علمی اور تصوف کے موضوع پر بلند پایہ مضامین تحریرفرمائے جو کہ ماہنامہ تاج میں شائع ہوئے۔
ردوہابیہ:
ایک مضمون میں وہ دیوبندی اہلحدیث وہابیوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
وہابیہ ایاک نستعین (آیت ) سے استدلال کرتے ہیں کہ غیر اللہ سے استعا
حضرت مولانا محمد طاسین فاروقی المعروف بابا ذہین شاہ تاجی بن پیر زادہ دیدار بخش فاروقی 1904ء کو کھنڈیلہ، ضلع توڑاوائی ، ریاست جے پور ( راجستھان ، انڈیا) میں حضرت سلطان التارکین صوفی حمید الدین ناگوری ؒ کی اولاد اناس میں سے ہیں ۔ صوفی حمید الدین ،سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز سید معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ الاقدس کے خلیفہ اول ہیں ۔ صوفی حمید الدین کی زیر نگرانی میں دربار خواجہ غریب نواز تعمیر ہوا ۔ اور آپ نے وصیت فرمائی کہ اس مزار پاک سے جو پتھر چھٹن بچتی ہے اس سے میری قبر تعمیر کی جائے ۔ حضرت صوفی حمیدالدین کی مزار شریف ناگور (ریاست جودھپور) میں ہے ۔
تعلیم و تربیت :
بابا ذہین شاہ بہترین فارسی دان تھے انہوں نے جے پور میں اپنے والد اور دیگر علماء سے فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ 1922ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور سے میٹرک پاس کیا جب میٹرک پاس کیا تو ان کی قابلیت گریجویٹ کی تھی انگریزی پر مہارت رکھتے تھے دہلی میں رہ کر محبوب المطابع مچھلی دالان ( اردو بازار ) میں ملازمت کرکے خوشنویسی سیکھی ۔ آپ بہترین خوش نویس تھے ۔
بعد فراغت جے پور واپس آگئے ریاسے جے پور میں جاڈیشن کلرک کی ملازمت اختیار کرلی ۔ اور ریاست کے مختلف اضلاع کی عدالتوں میں بحیثیت سر شیدار ( جوڈیشن کلرک )ملازمت کی 1942ء کو ذہین شاہ کو محکم سول سپلائی میں چیف انسپکٹر لے لیا گیا۔
بابا یوسف ، ذہین شاہ کو بعد بیعت اپنے ساتھ مارہرہ شریف لے کر گئے جہاں ان کو فصوص الحکم اور درس نظامی کی اہم کتابوں کی تعلیم دی پڑھایا اور پڑھوایا اس تعلیم کی وجہ سے انہیں عربی پر دسترس حاصل ہو گئی کہ بعد میں عربی میں شعر بھی کہے۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا عبدالکریم قادری المعروف بابایوسف تاجی ؒ 19 سال کی عمر میں جامعہ رضویہ منطر الاسلام بریلی شریف میں داخلہ لیا اور 18سال تک بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادریؒ کے گھر میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور 1888ء کو فارغ التحصیل ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت کے حکم سے اپنے وطن مالوف جے پور واپس تشریف لے گئے اور تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہو گئے۔
1900 ء کو حضرت صوفی عبدالحکیملکھنوی ثم کا مٹوی سے سلسلہ عالیہ قادریہ رزاقیہ میں بیعت ہوئے ۔ ایک سال بعد خلافت دی گئی اور آپ نے بیعت لینی شروع کر دی تھی ۔ حکم مرشد سے جے پور سے اجمیر شریف مستقل سکونت اختیار کی۔ درگاہ معینیہ اجمیر شریف کے ’’تڑپولیہ دروازہ ‘‘کے قریب مکان دیا گیا۔ حضرت بابا خوش الحان ، بہترین میلاد خوان ، مٹھاس و سوزوگداز سے جب مثنوی شریف کی تلاوت فرماتے تھے ایک کیفیت و سکوت طاری ہو جاتا۔
حضرت صوفی عبدالحکیم جامٹوی نے 1916ء کوبابا یوسف کو نا گپور شریف ( سی پی)جانے کا حکم دیا۔ آپ وہاں پہنچے وہاں پہنچتے ہی آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہوگئی ۔ تاج الاولیاء حضرت بابا تاج الدین گپوری ؒ ( متوفی 1925ء آستانہ تاج الالیاء ناگپور ضلع خود ( سی پی ) انڈیا) سے سلسلہ عالیہ چشتیہ تاجیہ میں بیعت ہوئے انہیں یوسف شاہ کا نام دیا اور بارہ سلسلوں میں اجازت عطا فرمائی ۔
حضرت بابا ذہین شاہ 1930ء کو دربار اجمیر شریف میں حضرت بابا یوسف شاہ سے سلسلہ عالیہ چشتیہ تاجیہ یوسفیہ میں بیعت ہوئے اور فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ جو کہ سید المکاشفین شیخ اکبرمحی الدین محمد بن علی طائی اندلسی المعروف شیخ ابن عربی قدس سرہ ( متوفی 638ھ ) کی تصوف پر بے مثل و معرکۃ الآرا تصانیف کا درس لیا۔
تصنیف و تالیف:
بابا ذہین تاجی کو کئی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ عربی ، فارسی ، انگریزی اور سنسکرت کے عالم تھے ۔ اردو کے صاحب طرز غزل گوشاعر تھے ۔ آپ نے کراچی سے ماہنامہ ’’تاج ‘‘ جاری کیا جو دینی و ادبی رسائل و جرائد میں اہمیت کا حامل ہے ۔ کئی کتابیں آپ کی یاد گار ہیں:
٭آیات جمال اردوغزلیات کا مجموعہ ہے ۔
٭جمال آیات : فارسی کلام پر مبنی ہے۔
٭اجمال جمال رباعیات و قطعات اردو، فارسی کا مجموعہ ہے۔
٭لمعات جمال نعتیہ شاعری کا مجموعہ ہے۔
٭فصوص الحکم سید الکاشفین شیخ اکبرمحی الدین محمد بن علی طائی اندلسی المعروف ابن عربی قدس سرہ الاقدس ( متوفی 638ھ) کی
تصوف و معرفت پر عظیم تصنیف ہے ۔ جس پر آپ نے تالیقات لکھی ہے ۔
٭فتوحات مکیہ : ایک پارہ کا اردو ترجمہ کیا
٭جمالستان : اردو منظومات
٭کتاب الطواسین : خواجہ منصور حلاج کی کتاب ’’الطاسین ‘‘کا ترجمہ و شرح
٭تاج الاولیائ: تاریخ و تذکرہ بابا تاج الدین ناگپوری
٭ماہنامہ تاج : کراچی سے 1956ء سے بہارکالونی آگرہ تاج کالونی لیاری سے جاری کیا جو کہ اب تک جاری ہے۔
٭وہابیت اور اسلام
آپ نے کئی دینی علمی اور تصوف کے موضوع پر بلند پایہ مضامین تحریرفرمائے جو کہ ماہنامہ تاج میں شائع ہوئے۔
ردوہابیہ:
ایک مضمون میں وہ دیوبندی اہلحدیث وہابیوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
وہابیہ ایاک نستعین (آیت ) سے استدلال کرتے ہیں کہ غیر اللہ سے استعا
❤1👍1