فضائل ماہ شعبان و شب براءت ❶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11151
فضائل ماہ شعبان و شب برأت ❷
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11152
ماہِ شعبان اور شب براءت پر کتابیں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11151
فضائل ماہ شعبان و شب برأت ❷
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/11152
ماہِ شعبان اور شب براءت پر کتابیں
❤1👍1
سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی: طیفور ۔ کنیت: بایزید ۔ لقب: سلطان العارفین ۔ علاقہ "بسطام " کی نسبت سے بسطامی کہلاتے ہیں ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: طیفور بن عیسیٰ بن شروسان بسطامی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 188ھ بمطابق 804ء "خراسان "کے ایک شہر "بسطام " میں پیدا ہوئے ۔ بسطام ایران کا علاقہ ہے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریبی مکتب میں حاصل کی ،بچپن ہی سے آپ کا قلبی لگاؤ تصوف کی طرف ہوگیاتھا ۔اس وقت مساجد میں تمام علوم کی مجالس منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ آپ نے مختلف شہروں میں کئی شیوخ سے علمی استفادہ کیا، اور جملہ علوم میں کمال حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ کی روحانی تربیت باطنی طور پر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے۔
سیرت و خصائص:
آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔
آپ کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں: کہ جب آپ میرے پیٹ میں تھے، تو جب کبھی میں مشتبہ لقمہ کھا بیٹھتی، تو آپ میرے پیٹ میں تڑپنا شروع کر دیتے۔ جب تک قے نہ کرتی اور وہ لقمہ دور نہ ہو جاتا آپ آرام نہ کرتے۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بایزید ہماری جماعت (جماعتِ صوفیاء) میں ایسے ہیں جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں میں، دیگر سالکین کے مقام کی نہایت با یزید کے مقام کی بدایت ہے۔ ایک دفعہ آپ حج کے لیے روانہ ہوئے اور بارہ سال میں کعبہ میں پہنچے۔ راستے میں چند قدم چلتے اور جائے نماز بچھا کر دو رکعت نماز پڑھتے، فرما تے کہ یہ دنیا کے بادشاہوں کا دربار نہیں کہ یک بارگی وہاں پہنچ سکیں۔ اس دفعہ آپ حج سے فارغ ہو کر واپس آ گئے اور مدینہ منورہ میں حاضر نہ ہوئے۔ فرمایا کہ زیارتِ روضہ منورہ کو حج کے تابع بنانا خلاف ادب ہے۔ اس لیے آئندہ سال آپ نے روضہ منورہ کی زیارت کے لیے علیحدہ احرام باندھا۔
شیخ ابو سعید ابو الخیر آپ کی زیارت کے لئے آئے تو فرمانے لگے: یہ وہ جگہ ہے کہ دنیا میں جس شخص کی کوئی چیز گم ہوئی ہو وہ یہاں ڈھونڈے۔
ریاضت و مجاہدہ:
آپ بسطام سے نکلے اور تیس سال تک بادیۂ شام میں ریاضت و مجاہدہ کرتے رہے۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ سخت سے سخت مجاہدہ کون سا ہے؟ جو آپ نے راہِ خدا میں کیا ہے، فرمایا کہ اس کا بیان ممکن نہیں، اس نے عرض کیا کہ آسان سے آسان تکلیف تو بتادیجیے جو آپ کے نفس نے اٹھائی ہے، فرمایا ہاں یہ تو سن لو، ایک دفعہ میں نے اپنے نفس کو کسی طاعت کی طرف بلایا اس نے میرا کہا نہ مانا، اس پر میں نے اسے ایک سال پیاسا رکھا۔
(اسی طرح حضرت غوث الاعظم و خواجہ غریب نواز و دیگر مشائخ علیہم الرحمہ طویل مشقتیں اور مجاہدے فرمایا کرتے تھے۔ اس کے با وجود وہ ولایت کے دعوے نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارے زمانے میں ان کی ولایت کی دھوم مچی ہوئی ہے۔
لیکن فی زمانہ حالات اس کے برعکس ہیں۔مجاہدے تو دور احکامِ اسلام اور شرعِ محمدی ﷺ کی پاسداری بھی نہیں ہے۔
اگر القاب کی طرف نظر کریں! تو غوث اور قطب کے مرتبے سے کم کسی مرتبے پر راضی نہیں ہیں۔
حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں:
قال: إذا رأيتم الرجل قد أعطي من الكرامات حتى يرتفع في الهواء فلا تغتروا به حتى تنظروا كيف تجدونه عند الأمر والنهي، وحفظ الحدود والوقوف عند الشريعة۔
ترجمہ:
اگر تم کسی شخص میں کرامات دیکھو یہاں تک کہ وہ ہوا میں اڑتا ہو ۔ تو اس سے دھوکہ مت کھاؤ ۔ جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ وہ امر و نہی ۔ حفظِ حدود اور آدابِ شریعت میں کیسا ہے ۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن۔
وصال:
آپ نے 15 شعبان 261ھ بمطابق 874ء میں انتقال فرمایا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sultan-ul-arifeen-hazrat-syedna-bayazid-bastami
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی: طیفور ۔ کنیت: بایزید ۔ لقب: سلطان العارفین ۔ علاقہ "بسطام " کی نسبت سے بسطامی کہلاتے ہیں ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: طیفور بن عیسیٰ بن شروسان بسطامی ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 188ھ بمطابق 804ء "خراسان "کے ایک شہر "بسطام " میں پیدا ہوئے ۔ بسطام ایران کا علاقہ ہے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریبی مکتب میں حاصل کی ،بچپن ہی سے آپ کا قلبی لگاؤ تصوف کی طرف ہوگیاتھا ۔اس وقت مساجد میں تمام علوم کی مجالس منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ آپ نے مختلف شہروں میں کئی شیوخ سے علمی استفادہ کیا، اور جملہ علوم میں کمال حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ کی روحانی تربیت باطنی طور پر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے۔
سیرت و خصائص:
آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔
آپ کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں: کہ جب آپ میرے پیٹ میں تھے، تو جب کبھی میں مشتبہ لقمہ کھا بیٹھتی، تو آپ میرے پیٹ میں تڑپنا شروع کر دیتے۔ جب تک قے نہ کرتی اور وہ لقمہ دور نہ ہو جاتا آپ آرام نہ کرتے۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بایزید ہماری جماعت (جماعتِ صوفیاء) میں ایسے ہیں جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں میں، دیگر سالکین کے مقام کی نہایت با یزید کے مقام کی بدایت ہے۔ ایک دفعہ آپ حج کے لیے روانہ ہوئے اور بارہ سال میں کعبہ میں پہنچے۔ راستے میں چند قدم چلتے اور جائے نماز بچھا کر دو رکعت نماز پڑھتے، فرما تے کہ یہ دنیا کے بادشاہوں کا دربار نہیں کہ یک بارگی وہاں پہنچ سکیں۔ اس دفعہ آپ حج سے فارغ ہو کر واپس آ گئے اور مدینہ منورہ میں حاضر نہ ہوئے۔ فرمایا کہ زیارتِ روضہ منورہ کو حج کے تابع بنانا خلاف ادب ہے۔ اس لیے آئندہ سال آپ نے روضہ منورہ کی زیارت کے لیے علیحدہ احرام باندھا۔
شیخ ابو سعید ابو الخیر آپ کی زیارت کے لئے آئے تو فرمانے لگے: یہ وہ جگہ ہے کہ دنیا میں جس شخص کی کوئی چیز گم ہوئی ہو وہ یہاں ڈھونڈے۔
ریاضت و مجاہدہ:
آپ بسطام سے نکلے اور تیس سال تک بادیۂ شام میں ریاضت و مجاہدہ کرتے رہے۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ سخت سے سخت مجاہدہ کون سا ہے؟ جو آپ نے راہِ خدا میں کیا ہے، فرمایا کہ اس کا بیان ممکن نہیں، اس نے عرض کیا کہ آسان سے آسان تکلیف تو بتادیجیے جو آپ کے نفس نے اٹھائی ہے، فرمایا ہاں یہ تو سن لو، ایک دفعہ میں نے اپنے نفس کو کسی طاعت کی طرف بلایا اس نے میرا کہا نہ مانا، اس پر میں نے اسے ایک سال پیاسا رکھا۔
(اسی طرح حضرت غوث الاعظم و خواجہ غریب نواز و دیگر مشائخ علیہم الرحمہ طویل مشقتیں اور مجاہدے فرمایا کرتے تھے۔ اس کے با وجود وہ ولایت کے دعوے نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارے زمانے میں ان کی ولایت کی دھوم مچی ہوئی ہے۔
لیکن فی زمانہ حالات اس کے برعکس ہیں۔مجاہدے تو دور احکامِ اسلام اور شرعِ محمدی ﷺ کی پاسداری بھی نہیں ہے۔
اگر القاب کی طرف نظر کریں! تو غوث اور قطب کے مرتبے سے کم کسی مرتبے پر راضی نہیں ہیں۔
حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں:
قال: إذا رأيتم الرجل قد أعطي من الكرامات حتى يرتفع في الهواء فلا تغتروا به حتى تنظروا كيف تجدونه عند الأمر والنهي، وحفظ الحدود والوقوف عند الشريعة۔
ترجمہ:
اگر تم کسی شخص میں کرامات دیکھو یہاں تک کہ وہ ہوا میں اڑتا ہو ۔ تو اس سے دھوکہ مت کھاؤ ۔ جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ وہ امر و نہی ۔ حفظِ حدود اور آدابِ شریعت میں کیسا ہے ۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن۔
وصال:
آپ نے 15 شعبان 261ھ بمطابق 874ء میں انتقال فرمایا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/sultan-ul-arifeen-hazrat-syedna-bayazid-bastami
scholars.pk
Sultan-ul-Arifeen Hazrat Syedna Bayazid Bastami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1
شہزادۂ غوث الاعظم ، حضرت شیخ ابو بکر زکریا یحییٰ بن غوثِ اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
چھٹی ربیع الاول ۵۵۰ھ میں متولد ہوئے ـ
تعلیم:
اپنے والد ماجد اور محمد بن عبد الباقی رحمۃ اللہ علیہ سے تفقہ حاصل کیا اور حدیث سنی ـ
حسنِ سیرت و مکارمِ اخلاق میں یگانہ اور انکسار و ایثار نفس میں منفرد تھے۔
بہت سے لوگ اِن سے مستفید ہوئے ۔
صغر سنی میں ہی مصر چلے گئے ۔ پھر کبر سنی میں معہ اپنے فرزند سید عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ کے واپس بغداد تشریف لائے ـ
وصال:
اور شبِ برات ۶۰۰ھ میں انتقال کیا اور اپنے برادر مکرم سید عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-zakariya-yahya-bin-ghous-e-azam
Telegram Channel Link ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/46507
ولادت:
چھٹی ربیع الاول ۵۵۰ھ میں متولد ہوئے ـ
تعلیم:
اپنے والد ماجد اور محمد بن عبد الباقی رحمۃ اللہ علیہ سے تفقہ حاصل کیا اور حدیث سنی ـ
حسنِ سیرت و مکارمِ اخلاق میں یگانہ اور انکسار و ایثار نفس میں منفرد تھے۔
بہت سے لوگ اِن سے مستفید ہوئے ۔
صغر سنی میں ہی مصر چلے گئے ۔ پھر کبر سنی میں معہ اپنے فرزند سید عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ کے واپس بغداد تشریف لائے ـ
وصال:
اور شبِ برات ۶۰۰ھ میں انتقال کیا اور اپنے برادر مکرم سید عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔
( شریف التواریخ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-abu-zakariya-yahya-bin-ghous-e-azam
Telegram Channel Link ↷
https://t.me/islaamic_Knowledge/46507
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-08-1444 ᴴ | 07-03-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-08-1444 ᴴ | 08-03-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍1